Surat ul Burooj
Surah: 85
Verse: 12
سورة البروج
اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ۱۲﴾
Indeed, the vengeance of your Lord is severe.
یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔
اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ۱۲﴾
Indeed, the vengeance of your Lord is severe.
یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔
Verily, the punishment of your Lord is severe and painful. meaning, indeed His punishment and His vengeance upon His enemies, who have rejected His Messengers, and opposed His command, is severe, great and strong. For verily, He is the Owner of power, Most Strong. He is the One that whatever He wants, then it will be however He wants it to be, in the matter of a blinking of an eye, or even swifter. Thus, Allah says, إِنَّهُ هُوَ يُبْدِيُ وَيُعِيدُ
12۔ 1 یعنی جب وہ اپنے ان دشمنوں کی گرفت پر آئے جو اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے اور اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر اس کی گرفت سے انہیں کوئی نہیں بچا سکتا
[٨] ایسے مجرموں کو یہ بات خوب ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ گرفت کرنے پر آتا ہے تو یہ گرفت اتنی شدید ہوتی ہے کہ ایسے مجرموں کا صفحہ ئہستی سے نام و نشان تک مٹا دیتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ گرفت آتی ضرور ہے خواہ جلد آئے یا بدیر۔ اور اگر کوئی شخص اس دنیا میں ایسی گرفت سے بچ بھی جائے تو آخرت میں کبھی بچ نہیں سکے گا۔
(ان بطش ربک لشدید :” بطش “ وہ پکڑ جس میں تیزی اور سختی پائی جائے۔ رب تعالیٰ کی بطش جسے وہ خود شدید بتارہا ہے، کس قدر سخت ہوگی ؟ اہل ایمان کو ایذا پہنچانے والوں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ رب تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے، اس سے بچ جاؤ۔ دوسری جگہ فرمایا :(وکذلک اخذربک اذا اخذ القری وھی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید “ (ھود : ١٠٢)” اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو اس حالت میں پکڑتا ہے کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، یقیناً اس کی پکڑ بڑی درد ناک ہے، بہت سخت ہے۔ “
اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ ١٢ ۭ بطش البَطْشُ : تناول الشیء بصولة، قال تعالی: وَإِذا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ [ الشعراء/ 130] ، يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] ، وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] ، إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] . يقال : يد بَاطِشَة . ( ب ط ش ) البطش کے معنی کوئی چیز زبردستی لے لینا کے ہیں قرآن میں : { وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ } ( سورة الشعراء 130) اور جب کسی کو پکڑتے تو ظالمانہ پکڑتے ہو ۔ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ۔ وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] اور لوط نے ان کو ہماری گرفت سے ڈرایا ۔ إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] بیشک تمہاری پروردگار کی گرفت بڑی سخت ہے ید کا طشۃ سخت گیر ہاتھ ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، وقال تعالی: عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] ، وقال : بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، فَأَلْقِياهُ فِي الْعَذابِ الشَّدِيدِ [ ق/ 26] . والشَّدِيدُ والْمُتَشَدِّدُ : البخیل . قال تعالی: وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] . ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] تندخواہ اور سخت مزاج ( فرشتے) بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔
(١٢۔ ١٥) آپ کے رب کی داروگیر کافر کے لیے بڑی سخت ہے وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور مرنے کے بعد بھی پیدا کرے گا وہی بڑا بخشنے والا اور بڑی محبت کرنے والا اور عرش کا مالک اور عظمت والا ہے اور جو چاہے سب کچھ کر گزرتا ہے۔
آیت ١٢{ اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ ۔ } ” یقینا تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ “ اللہ تعالیٰ حلیم بھی ہے ‘ وہ انسان کو ڈھیل بھی دیتا ہے اور اس کی رسّی دراز بھی کرتا ہے (اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ذکر اگلی سورت میں آئے گا) لیکن جب وہ کسی فرد یا قوم کی گرفت کرتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔
(85:12) ان بطش ربک لشدید : ان حرف مشبہ بالفعل۔ بطش مضاف اسم ان۔ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ بطش کا۔ لام تاکید کا شدید خبر ان کی۔ بیشک تیرے رب کی گرفت بڑی سخت ہے۔ فائدہ : اوپر ایمان داروں کا ستانے والوں اور دکھ دینے والوں کے لئے عذاب جہنم اور عذاب حریق کا اور مؤمنوں اور اعمال صالح کرنے والوں کے لئے باٖات اور ان میں جاری و ساری نہروں کا ذکر کیا۔ اس کے بعد ان کے مترادف اپنی صفات ارشاد فرمائیں۔ کفار کی سزا کے مقابلہ میں فرمایا کہ اس کی گرفت بڑی مضبوط ہے اس سے کسی صورت چھٹکارا نہیں مل سکے گا۔ اور ایمان والوں کی نعمتوں کے مقابلہ میں اپنی چند صفات ارشاد فرمائیں :۔ (1) اس نے مخلوقات کو پہلی نیست سے ہست کیا۔ (2) اسی قدرت کاملہ سے وہ مرنے کے بعد نئی زندگی عطا کرے گا۔ (3) وہ غفور اور ودود ہے۔ (4) وہ صاحب عرش ہے۔ (5) وہ مجید ہے۔ (6) وہ فعال لما یرید ہے۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے بلا تکلف کرسکتا ہے۔
فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں کفار کے ظلم اور مومنوں کے اجر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے دونوں صفات ذکر فرما کر واضح فرمایا ہے کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے انتقام لینا چاہے تو اس سے بڑھ کر کسی کی پکڑ نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ سخت ترین پکڑ کرنے والا ہے، اسی نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور ان کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے، بڑے عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے، جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے، اس کے فیصلوں کے سامنے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ وہ کسی کو پکڑنے پر آئے تو اس کی پکڑ سے کوئی چھوٹ نہیں سکتا، کسی کو معاف کرنا چاہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ (لَا یُسْءَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ہُمْ یُسْءَلُوْنَ ) (الانبیاء : ٢٣) ” وہ اپنے کاموں میں کسی کو جوابدہ نہیں باقی سب سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ “ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جبّار، قہّار اور انتقام لینے والا ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کو بار بار اصلاح کا موقع دیتا ہے کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر ہمیشہ غالب رہتی ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ الْخَلْقَ اِنَّ رَحْمَتِیْ سَبَقَتْ غَضَبِیْ فَھُوَ مَکْتُوْبٌ عِنْدَہٗ فَوْقَ الْعَرْشِ ) (رواہ مسلم : باب فِی سَعَۃِ رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالَی وَأَنَّہَا سَبَقَتْ غَضَبَہُ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پہلے لوح محفوظ میں تحریر فرمایا ” میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔ “ فرمایا کہ یہ اللہ کے عرش پر لکھا ہوا ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ )] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بیشک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے چکی ہے۔ “ (قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ قُلْ لِّلّٰہِ کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (الانعام : ١٢) ” فرما دیجیے کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ؟ فرما دیجیے اللہ کا ہے اس نے اپنے اوپر رحم کرنا لکھ دیا ہے وہ تمہیں قیامت کے دن کی طرف لے جا کر ضرور جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا سو وہی ایمان نہیں لاتے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کی سخت پکڑ کرنے والا اور اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے اور معاف فرمانے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ عظیم عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظالموں سے بدلہ لینے اور اپنے بندوں کو معاف فرمانے والا ہے ١۔ اے نبی ! میرے بندوں کو بتاؤ کہ میں بخشنے، رحم کرنے والا ہوں اور میرا عذاب بھی دردناک ہے۔ (الحجر : ٤٩) ٢۔ جو توبہ کرے اور اصلاح کرے تیرا رب بڑا غفور الرّحیم ہے۔ (النحل : ١١٩) ٣۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کر دے کیونکہ وہ غفور الرّحیم ہے۔ (النور : ٢٢) ٤۔ اللہ جلد پکڑنے والا اور غفور الرّحیم ہے۔ (الانعام : ١٦٦) ٥۔ اللہ اپنے بندوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا کیونکہ وہ غفور الرّحیم ہے۔ (التوبہ : ٩٩) ٦۔ اللہ سب گناہوں کو معاف کردینے والا اور غفور الرّحیم ہے۔ (الزمر : ٥٣) ٧۔ ظالموں کے لیے صرف تباہی ہے۔ (نوح : ٢٨) ٨۔ ظالموں کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ (الحشر : ١٧)
یہاں اللہ کی پکڑ کو اس لئے شدید کہا گیا کہ اس زیر بحث واقعہ میں ان سرکشوں نے اہل ایمان کو جو سزا دی وہ ان کے خیال میں شدید سزا تھی۔ لوگوں کے خیال میں بھی شدید تھی لیکن یہاں کہا جاتا ہے کہ حقیقی پکڑ کر اللہ جبار وقہار کی پکڑ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے ، ان لوگوں کی سزا کیا سزا ہوگی جو زمین سے ایک ٹکڑے پر ایک محدود سا اقتدار رکھتے ہوں اور جو خود بھی ضعیف اور حقیر ہیں اور ان کا اقتدار بھی محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ قائل رب تعالیٰ اور مخاطب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان تعلق کے اظہار کے لئے (ربک) کا لفظ لایا گیا ہے۔ یہ تمہارا رب ہے جس کی ربوبیت کی طرف آپ کی نسبت ہے اور جس کی امداد اور نصرت پر آپ کو بھروسہ ہے۔ اور جب فساق وفجار اہل ایمان پر تشدد کررہے ہوں تو ایسے حالات میں اللہ کے ساتھ تعلق ہی اہم سازوسامان ہوتا ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی چند صفات عالیہ بیان فرمائی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اقوام اور افراد تاخیر عذاب کی وجہ سے دھوکہ میں پڑے رہتے ہیں۔ عذاب اور ہلاکت کی میعاد اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنی حکمت کے مطابق مقرر فرما رکھی ہے اس کا وقت نہ آنے کی وجہ سے جو تاخیر اور ڈھیل ہوتی ہے اس کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ گرفت ہونے ہی کی نہیں۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اسے پکڑ لیتا ہے تو نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ نے سورة ٴ ہود کی آیت ﴿ وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ٠٠١٠٢﴾ تلاوت فرمائی۔ (صحیح بخاری صفحہ ٦٧٨) اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت بیان فرمائی ﴿ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ﴾ (بلاشبہ وہ پہلی بار بھی پیدا فرماتا ہے اور دوبارہ بھی پیدا فرمائے گا) ۔ اس میں منکرین بعث کا استبعاد دور فرما دیا جو کہتے تھے اور کہتے ہیں کہ مر کھپ کر مٹی ہو کر جب ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے ؟ ان کا جواب دے دیا کہ جس ذات پاک نے پہلے پیدا فرمایا وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا۔
8:۔ ” ان بطش “ یہ دوسرے شاہد سے متعلق ہے۔ آخرت میں مؤمنوں کو جنت میں داخل کیا جائیگا اور کافروں کو دوزخ میں۔ جس طرح قیامت کا وعدہ نہایت سخت ہے اسی طرح کافروں پر اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی نہایت سخت ہوگی وہ دنیا میں کفر و شرک بھی کرتے رہے۔ قیامت کے دن اس کا ان سے انتقام لیا جائے گا۔