Surat ul Burooj

Surah: 85

Verse: 22

سورة البروج

فِیۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ﴿۲۲﴾٪  10

[Inscribed] in a Preserved Slate.

لوح محفوظ میں ( لکھا ہوا ) ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

In Al-Lawh Al-Mahfuz! meaning, among the most high gathering, guarded from any increase, decrease, distortion, or change. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Buruj, and all praise and blessings are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، جہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہیں، اللہ تعالیٰ حسب ضرورت اسے نازل فرماتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] یہ لوگ جس قرآن کو جھٹلانے کے درپے ہو رہے ہیں وہ بڑی بلند شان والا ہے۔ جس کو جھٹلا دینا ان کے بس کا روگ نہیں۔ البتہ اپنی اس حرکت کی پاداش میں یہ خود تباہ ہوسکتے ہیں۔ قرآن کا لکھا ہوا اٹل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی اور ہر طرح کی دستبرد سے، رد و بدل اور ترمیم و تنسیخ سے پاک ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۝ ٢٢ ۧ لوح اللَّوْحُ : واحد أَلْوَاحِ السّفينة . قال تعالی: وَحَمَلْناهُ عَلى ذاتِ أَلْواحٍ وَدُسُرٍ [ القمر/ 13] وما يكتب فيه من الخشب ونحوه، وقوله تعالی: فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ [ البروج/ 22] فكيفيّته تخفی علینا إلا بقدر ما روي لنا في الأخبار، وهو المعبّر عنه بالکتاب في قوله : إِنَّ ذلِكَ فِي كِتابٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] واللُّوحُ : العَطَشُ ، ودابّة مِلْوَاحٌ: سریع العطش، واللُّوحُ أيضا، بضمّ اللام : الهواء بين السماء والأرض، والأکثرون علی فتح اللام إذا أريد به العطش، وبضمّه إذا کان بمعنی الهواء، ولا يجوز فيه غير الضّمّ. ولَوَّحَهُ الحرّ : غيّره، ولَاحَ الحرّ لَوْحاً : حصل في اللوح، وقیل : هو مثل لمح . ولَاحَ البرق، وأَلَاحَ : إذا أومض، وأَلَاحَ بسیفه : أشار به . ( ل و ح ) اللوح ۔ تختہ ( کشتی وغیرہ کا ) اس کی جمع الواح ہے ۔ قرآن میں ہے : وَحَمَلْناهُ عَلى ذاتِ أَلْواحٍ وَدُسُرٍ [ القمر/ 13] اور ہم نے نوح کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا ۔ اور لوح لکڑی وغیرہ کی اس تختی کو بھی کہتے ہیں جس پر کچھ لکھا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ [ البروج/ 22] لوح محفوظ میں ۔ میں لوح محفوظ کی اصل کیفیت کو ہم اسی قدر جان سکتے ہیں اور احادیث میں مروی ہے اسی کو دوسری آیت میں کتاب سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : إِنَّ ذلِكَ فِي كِتابٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] بیشک یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے بیشک یہ کسب خدا کو آسان ہے ۔ اللوح کے معنی پیاس کے ہیں ۔ اور جس جو پایہ کو جلدی پیاس لگتی ہوا سے دابۃ ملواح کہا جاتا ہے ۔ اور لوح ( ضمہ لام کے ساتھ ) آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھی کہتے ہیں لیکن اکثر علمائے لغت کے نزدیک فتحہ لام کے ساتھ بمعنی پیاس کے ہے اور ضمہ لام کے ساتھ زمین وآسمان کے درمیانی خلا کے معنی میں آتا ہے گو اس میں فتحہ لام بھی جائز ہے ۔ لوحہ الحرا سے گرمی نے جھلس دیا ۔ لاح الحرلوحا گرمی فضا میں پھیل گئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ لمح کی طرح ہے اورا لاح بسیفہ کے معنی ہیں اس نے تلوار سے اشارہ کیا ۔ حفظ الحِفْظ يقال تارة لهيئة النفس التي بها يثبت ما يؤدي إليه الفهم، وتارة لضبط الشیء في النفس، ويضادّه النسیان، وتارة لاستعمال تلک القوة، فيقال : حَفِظْتُ كذا حِفْظاً ، ثم يستعمل في كلّ تفقّد وتعهّد ورعاية، قال اللہ تعالی: وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] ( ح ف ظ ) الحفظ کا لفظ کبھی تو نفس کی اس ہیئت ( یعنی قوت حافظہ ) پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ جو چیز سمجھ میں آئے وہ محفوظ رہتی ہے اور کبھی دل میں یاد ررکھنے کو حفظ کہا جاتا ہے ۔ اس کی ضد نسیان ہے ، اور کبھی قوت حافظہ کے استعمال پر یہ لفظ بولا جاتا ہے مثلا کہا جاتا ہے ۔ حفظت کذا حفظا یعنی میں نے فلاں بات یاد کرلی ۔ پھر ہر قسم کی جستجو نگہداشت اور نگرانی پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢{ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ ۔ } ” لوحِ محفوظ میں (نقش ہے) ۔ “ یعنی اصل قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں ہے۔ جس مقام کا ذکر یہاں لوحٍ مَّحْفوظ کے نام سے ہوا ہے ‘ سورة الزخرف کی آیت ٤ میں اسے اُمُّ الْکِتٰب ‘ سورة الواقعہ کی آیت ٧٨ میں کِتٰبٍ مَّـکْنُوْن اور سورة عبس کی آیات ١٣ اور ١٤ میں اسے صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ کہا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 That is, "The writ of the Qur'an is unchangeable and imperishable. It is inscribed in the Preserved Tablet of God. which cannot he corrupted in any way Whatever is written in it, has to be fulfilled: even the whole world together cannot avert its fulfilment.

سورة الْبُرُوْج حاشیہ نمبر :9 مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کا لکھا امٹ ہے ، اٹل ہے ، خدا کی اس لوح محفوظ میں ثبت ہے جس کے اندر کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا ، جو بات اس میں لکھ دی گئی ہے وہ پوری ہو کر رہنے والی ہے ، تمام دنیا مل کر بھی اسے باطل کرنا چاہے تو نہیں کر سکتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(85:22) فی لوح محفوظ۔ صفت ہے لوح کی۔ جو ایسی لوح میں لکھا ہوا ہے جو محفوظ ہے یعنی شیطان کی دسترس اور کمی بیشی سے محفوظ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 جو ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ ہے۔ فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے اس سے قرآن نقل کر کے صاحب وحی تک پہنچاتے رہتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(22) جو لوح محفوظ ہوتے ہیں قرآن کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا یہ قرآن تو بڑا باعظمت اور بڑی شان والا ہے اس کی حفاظت اور نگرانی کا یہ حال ہے کہ یہ قرآن لوح محفوظ میں مندرج ہے اور اس کا جب کچھ حصہ وہاں سے جبرئیل (علیہ السلام) لاتے ہیں تو اول تو وہ خود امانت دار ہیں جیسا کہ سورة تکویر میں گزرا پھر ان کے ساتھ بہت سے فرشتے چوکیدار اور پہرہ دار ہوتے ہیں جو پیغمبر تک پہنچاتے ہیں جیسا کہ سورة جن میں گزرا۔ بہرحال قرآن کریم ہر اعتبار سے بلند وپایہ ہے اور ہر اعتبار سے محفوظ ہے جو لوگ اس کی تکذیب کررہے ہیں وہ ناسمجھ اور گمراہ ہیں اور مستوجب سزا ہیں۔ تم تفسیر سورة البروج