Surat ut Tariq

Surah: 86

Verse: 13

سورة الطارق

اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ ﴿ۙ۱۳﴾

Indeed, the Qur'an is a decisive statement,

بیشک یہ ( قرآن ) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, this is the Word that separates. Ibn `Abbas said (Fasl is), "True." Qatadah also said the same. Someone else said, "A just ruling." وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 یہ جواب قسم ہے، یعنی کھول کر بیان کرنے والا ہے جس سے حق اور باطل دونوں واضح ہوجاتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(انہ لقول فصل) بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ قرآن قول فصل ہے، اس میں شک نہیں کہ قرآن قول فصل ہے، مگر پچھلی آیت ا اور قسموں کی مناسبت کو مدنظر رکھیں تو یہاں مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ قول فصل سے مراد قیامت بپا کرنے اور انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے کی بات ہے، یعنی آسمان سے بار بار برسنے والی بارش اور اس کی نمی سے پھٹ کر بیج کو اگا کر باہر لے آنے والی زمین شاہد ہے کہ تمہارے دوبارہ زندہ کئے جانے کی بات دو ٹوک بات ہے۔ قیامت کے دن تم بھی اسی طرح زندہ ہو کر زمین سے نکل آؤ گے۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(مابین النفختین اربعون …ثم ینزل اللہ من السماء ماء فینبتون کما ینبت البقل، لیس من الانسان شیء الا یبلی الاعطماً واحداً و ھو عجب الذنب ومنہ یرکب الخلق یوم القیامۃ) (بخاری، التفسیر، باب : (یوم بنف، فی الصور…):(٣٩٣٥۔ مسلم ٢٩٥٥)” وہ نفخوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہوگا…پھر آسمان سے بارش بر سے گی تو لوگ اس طرح اگیں گے جس طرح سبزی اگتی ہے اور انسان کا کوئی حصہ نہیں جو بوسیدہ نہ ہو، سوائے ایک ہڈی کے اور وہ دم کی ہڈی ہے، قیامت کے دن اسی سے مخلوق کو جوڑا جائے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (this is a decisive word..86:13) In other words, the Qur&an is truly a Decisive Word that decides between truth and falsehood, and there is no room for any doubt in it. Sayyidna ` Ali (رض) says that he heard the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying about the Holy Qur&an: کتاب فیہ خبرما قبلکم و حکم مابعدکم وھو الفصل لیس بلھزل &[ It is ] a book which describes the stories of past communities and [ it contains ] injunctions for future generations. It is truly a Decisive Word. It is no joke.& Alhamdulillah The Commentary on Surah At-Tariq Ends here

انہ لقول فصل، یعنی قرآن کریم ایک فیصلہ کن قول ہے جو حق و باطل میں فیصلہ کرتا ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ قرآن کے متعلق فرمایا کتاب فیہ خبر ما قبلکم وحکم ما بعد کم وھو الفصل لیس بالھزل یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تم سے پہلی امتوں کے حالات واخبار ہیں اور تمہارے بعد آنیوالوں کے لئے احکام ہیں وہ فیصلہ کن قول ہے ہنسی مذاق نہیں۔ تمت سورة الطارق بحمد اللہ تعالیٰ ٧١ شوال ٩١٣١

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ۝ ١٣ ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] ( ف ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب قافلہ ( مصر سے ) روانہ ہوا ۔ اور یہ اقول اور اعمال دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن میں ہے : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن سب کے اٹھنے کا دن ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(86:13) انہ لقول فصل۔ جملہ جواب قسم ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے۔ (روح المعانی، الخازن ، بیضاوی) ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر اسم ان لقول فصل اس کی خبر، قول فصل موصوف و صفت فصل باطل سے حق کو الگ کرنے والا کلام۔ بلاشبہ یہ (قرآن ) حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا کلام ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی دو ٹوک کلام جس سے حق و باطل الگ الگ ہوجاتے ہیں اور کسی کو دن کے پہچاننے میں دقت نہیں رہتی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ٠٠١٣﴾ (بلاشبہ یہ قرآن ایک کلام ہے فیصلہ دینے والا) اس میں جو کچھ بتایا ہے سب صحیح ہے حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ ﴿ وَّ مَا هُوَ بالْهَزْلِؕ٠٠١٤﴾ (اور یہ کوئی لغو چیز نہیں) ۔ ﴿ اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًاۙ٠٠١٥﴾ (بلاشبہ یہ لوگ حق کو دبانے کے لیے قرآن سے خود دور رہنے اور دوسروں کو اس سے دور کرنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں آپ کو تکلیف بھی دے رہے ہیں مکہ معظمہ آنے والوں کے راستہ میں بیٹھ کر انہیں آپ کے پاس آنے سے روکتے ہیں۔ قرآن کو شعر اور اساطیر الاولین بتاتے ہیں اہل ایمان کو مارتے پیٹتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” انہ لقول “۔ انہ کی ضمیر کلام مذکور کی طرف راجع ہے جس میں بعث بعد الموت اور جزاء وسزا کا ذکر ہے یعنی یہ دعوی کہ تم سب دوبارہ اٹھائے جاؤ گے اور اپنے نیک و بد اعمال کی جزاء و سزا پاؤ گے حتمی اور فیصلہ کن بات ہے یہ ہزل اور یا وہ گوئی نہیں واقول و یجوز ان یعود الضمیر فی انہ علی الکلام الذی اخبر فیہ ببعث الانسان یوم القیامۃ وابتلاء سرائرہ ای ان ذلک القول قول جزم مطابق للواقع لاھزل فیہ (بحر ج 8 ص 456) ۔ یا یہ ضمیر قرآن سے کنایہ ہے جس میں مسئلہ توحید، حشر و نشر اور جزاء و سزا کا ذکر ہے (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) بے شک یہ دو ٹوک بات ہے۔