Surat ut Tariq
Surah: 86
Verse: 7
سورة الطارق
یَّخۡرُجُ مِنۡۢ بَیۡنِ الصُّلۡبِ وَ التَّرَآئِبِ ؕ﴿۷﴾
Emerging from between the backbone and the ribs.
جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے ۔
یَّخۡرُجُ مِنۡۢ بَیۡنِ الصُّلۡبِ وَ التَّرَآئِبِ ؕ﴿۷﴾
Emerging from between the backbone and the ribs.
جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے ۔
Proceeding from between the backbone and the ribs. meaning, the backbone (or loins) of the man and the ribs of the woman, which is referring to her chest. Shabib bin Bishr reported from Ikrimah who narrated from Ibn Abbas that he said, يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَايِبِ (Proceeding from between the backbone and the ribs). "The backbone of the man and the ribs of the woman. It (the fluid) is yellow and fine in texture. The child will not be born except from both of them (i.e., their sexual fluids)." Concerning Allah's statement, إِنَّهُ عَلَى رَجْعِهِ لَقَادِرٌ
7۔ 1 کہا جاتا ہے کہ پیٹھ مرد کی اور سینہ عورت کا، ان دونوں کے پانی سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔ لیکن اسے ایک پانی اس لیے کہا کہ یہ دونوں مل کر ایک ہی بن جاتا ہے۔
[٥] مادہ منویہ کہاں اور کیسے پیدا ہوتا ہے ؟:۔ صُلْبْ ۔ صَلَبَ الْعَظْمِ بمعنی ہڈی سے مغز یا گودا نکالنا اور صلب بمعنی ریڑھ کی ہڈی کا گودا۔ اور چونکہ یہ ہڈی انسان کی پشت کے درمیان ہوتی ہے۔ لہذا اس ریڑھ کی ہڈی کو اور پشت کو بھی صلب ہی کہہ دیا جاتا ہے۔ اور ترائب۔ تریبۃ کی جمع ہے بمعنی سینہ کی ہڈیاں اور پسلیاں۔ اس آیت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ نطفہ ان اعضاء سے نکلتا ہے جو صلب اور سینہ کی پسلیوں کے درمیان ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ مرد کا نطفہ تو صلب سے نکلتا ہے اور عورت کا سینہ کی پسلیوں سے۔ لیکن یہ خیال کچھ درست معلوم نہیں ہوتا۔ اطباء کا یہ خیال ہے کہ منی خواہ مرد کی ہو یا عورت کی، عمل انہضام کے چوتھے مرحلہ پر پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کی تخلیق میں اعضائے رئیسہ یعنی دل & جگر اور دماغ کا خاصا عمل دخل ہوتا ہے۔ اور یہ انہضام چونکہ انسان کے دھڑ کے اندرونی حصے میں واقع ہوتا ہے۔ لہذا اسے صلب اور ترائب کے مابین سے ذکر کردیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ انسان کا دماغ تو دھڑ میں نہیں ہوتا تو غالباً اسی نسبت سے یہاں صلب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ریڑھ کی ہڈیوں کے درمیان جو مغز یا گودا ہوتا ہے یہ دماغ ہی کا حصہ ہوتا ہے۔
يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَاۗىِٕبِ ٧ ۭ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے صلب والصَّلَبُ والاصْطِلَابُ : استخراج الودک من العظم، والصَّلْبُ الذي هو تعلیق الإنسان للقتل، قيل : هو شدّ صُلْبِهِ علی خشب، وقیل : إنما هو من صَلْبِ الوَدَكِ. قال تعالی: وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ [ النساء/ 157] ، وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ [ الشعراء/ 49] والصَّلِيبُ : أصله الخشب الذي يُصْلَبُ عليه، والصَّلِيبُ : الذي يتقرّب به النّصاری، هو لکونه علی هيئة الخشب الّذي زعموا أنه صُلِبَ عليه عيسى عليه السلام، ( ص ل ب ) الصلب الصلب والاصطلاب کے معنی ہڈیوں سے چکنائی نکالنا کے ہیں اور صلب جس کے معنی قتل کرنے کے لئے لٹکا دینا کے ہیں ۔ بقول بعض اسے صلب اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں اس شخص کی پیٹھ لکڑی کے ساتھ باندھ دی جاتی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ صلب الودک سے ہے جس کے معنی ہڈیوں سے چکنائی نکالنا گے ہیں قرآن میں ہے : وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ [ النساء/ 157] اور انہوں نے عیسٰی کو قتل نہیں کیا اور نہ سول پر چڑ ھایا ۔ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ [ الشعراء/ 49] اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوادوں گا ۔ ۔ الصلیب اصل میں سوئی کی لکڑی کو کہتے ہیں نیز صلیب اس لکڑی کو بھی کہتے ہیں جو عیسائی بطور عبادت کے گلے میں اس خیال پر باندھ لیتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس پر سولی لٹکایا گیا تھا ۔ اور جس کپڑے پر صلیب کے نشانات بنے ہوئے ہوں اسے مصلب کہاجاتا ہے ۔ صالب سخت بخار جو پیٹھ کو چور کردے یا پسینہ کے ذریعہ انسان کی چربی نکال لائے ۔ ترب التُّرَاب معروف، قال تعالی: أَإِذا كُنَّا تُراباً [ الرعد/ 5] ، وقال تعالی: خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] ، الَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] . وتَرِبَ : افتقر، كأنه لصق بالتراب، قال تعالی: أَوْ مِسْكِيناً ذا مَتْرَبَةٍ [ البلد/ 16] ، أي : ذا لصوق بالتراب لفقره . وأَتْرَبَ : استغنی، كأنه صار له المال بقدر التراب، والتَّرْبَاء : الأرض نفسها، والتَّيْرَب واحد التَّيَارب، والتَّوْرَب والتَّوْرَاب : التراب، وریح تَرِبَة : تأتي بالتراب، ومنه قوله عليه السلام : «عليك بذات الدّين تَرِبَتْ يداك» تنبيها علی أنه لا يفوتنّك ذات الدین، فلا يحصل لک ما ترومه فتفتقر من حيث لا تشعر . وبارح تَرِبٌ: ريح فيها تراب، والترائب : ضلوع الصدر، الواحدة : تَرِيبَة . قال تعالی: يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرائِبِ [ الطارق/ 7] ، وقوله : أَبْکاراً عُرُباً أَتْراباً [ الواقعة/ 36- 37] ، وَكَواعِبَ أَتْراباً [ النبأ/ 33] ، وَعِنْدَهُمْ قاصِراتُ الطَّرْفِ أَتْرابٌ [ ص/ 52] ، أي : لدات، تنشأن معا تشبيها في التساوي والتماثل بالترائب التي هي ضلوع الصدر، أو لوقوعهنّ معا علی الأرض، وقیل : لأنهنّ في حال الصبا يلعبن بالتراب معا . ( ت ر ب ) التراب کے معنی منی کے ہیں ۔ قرآن میں ہے خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] کہ اس نے تمہیں منی سے پیدا کیا ۔ الَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] کہ اے کاش کے میں مٹی ہوتا ۔ ترب کے معنی فقیر ہونے کے ہیں کیونکہ فقر بھی انسان کو خاک آلودہ کردیتا ہے ۔ فرمایا :۔ أَوْ مِسْكِيناً ذا مَتْرَبَةٍ [ البلد/ 16] یا فقیر خاکسار کو ۔ یعنی جو بوجہ فقر و فاقہ کے خاک آلودہ رہتا ہے ۔ اترب ( افعال ) کے معنی مال دار ہونے کے ہیں ۔ گویا اس کے پاس مٹی کی طرح مال ہے نیز تراب کے معنی زمین کے بھی آتے ہیں اور اس میں التیراب ( ج) تیارب اور التوراب والتورب والتوراب وغیرہ دس لغات ہیں ۔ ریح تربۃ خاک اڑانے والی ہو ۔ اسی سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے (50) علیک بذاب الدین تربت یداک کہ شادی کے لئے دیندار عورت تلاش کرو ۔ تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں ۔ اس میں تنبیہ ہے کہ دیندار عورت تیرے ہاتھ سے نہ جانے پائے ورنہ تمہارا مقصد حاصل نہیں ہوگا اور تم غیر شعوری طورپر فقیر ہوجاو گے ۔ بارح ترب خاک اڑانے والی ہو ۔ ترائب سینہ کی پسلیاں ( مفرد ت ربیۃ ) قرآن میں ہے ۔ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرائِبِ [ الطارق/ 7] جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ أَبْکاراً عُرُباً أَتْراباً [ الواقعة/ 36- 37] کنواریاں اور شوہروں کی پیاریاں اور ہم عمر ۔ اور ہم نوجوان عورتیں ۔ اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی ( اور ) ہم عمر ( عورتیں ) ہوں گی ۔ میں اتراب کے معنی ہیں ہم عمر جنہوں اکٹھی تربیت پائی ہوگی گو یا وہ عورتیں اپنے خاوندوں کے اس طرح مساوی اور مماثل یعنی ہم مزاج ہوں گی جیسے سینوں کی ہڈیوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے اور ریا اس لئے کہ گو یا زمین پر بیک وقت واقع ہوئی ہیں اور بعض نے یہ وجہ بھی بیان کی ہے کہ وہ اکٹھی مٹی میں ایک ساتھ کھیلتی رہی ہیں ۔
آیت ٧{ یَّخْرُجُ مِنْم بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ ۔ } ” جو نکلتا ہے پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے۔ “ مرد کے مادہ منویہ کا اصل منبع ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہے۔ یہاں سے پیدا ہو کر یہ مادہ ان غدودوں تک پہنچتا ہے جو اس کے لیے مخصوص ہیں۔
3 "Sulb" is the backbone and "tara'ib"the breast- bones, i.e. the ribs. Since the procreative fluid in both man and woman is discharged from that part of the body which is between the back and the breast, it is said that tnan has been created from the fluid issuing out froth between the back and the breast. This fiuid is produced even in case the hands and feet are cut off. Therefore, it is not correct to say that it issues out from the whole body of man. In fact, the principal organs of the body are its source and all these are located in the trunk. The brain has not been mentioned separately because the back-bone is that part of the brain through which connection between the body and the brain is established. (Also see Appendix I) .
سورة الطَّارِق حاشیہ نمبر :3 اصل میں صلب اور ترائب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ صلب ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں ، اور ترائب کے معنی ہیں سینے کی ہڈی ، یعنی پسلیاں ، چونکہ عورت اور مرد دونوں کے مادہ تولید انسان کے اس دھڑ سے خارج ہوتے ہیں جو صلب اور سینے کےدرمیان واقع ہے ، اس لیے فرمایا گیا ہے کہ انسان اس پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے ۔ یہ مادہ اس صورت میں بھی پیدا ہوتا ہے جبکہ ہاتھ اور پاؤں کٹ جائیں ، اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ یہ انسان کے پورے جسم سے خارج ہوتا ہے ۔ درحقیقت جسم کے اعضاء ریئسہ اس کے ماخذ ہیں اور وہ سب آدمی کے دھڑ میں واقع ہیں ۔ دماغ کا الگ ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ صلب دماغ کا وہ حصہ ہے جس کی بدولت ہی جسم کے ساتھ دماغ کا تعلق قائم ہوتا ہے ۔ ( نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 4 ، صفحہ نمبر 583 ) ۔
2: اس سے مراد وہ مادّہ منویہ ہے جس سے اِنسان کی تخلیق ہوتی ہے، اور اُس کے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ اِنسان کے دھڑ کا یہ درمیانی حصہ ہی اس مادّے کا اصل مرکز ہے۔
(86:7) یخرج من بین الصلب والترائب : یخرج من ضمیر فاعل ماء کی طرف راجع ہے۔ جملہ ماء کی صفت ہے۔ جو پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے۔ الصلب : صلب کا معنی ہے مضبوط۔ اور مضبوطی کی وجہ سے ہی (اعضاء انسانی میں سے) پشت کو صلب کہا جاتا ہے۔ اور مراد اس سے مرد کی پشت ہے۔ الترائب چھاتیاں تریبۃ کی جمع ہے جس کے معنی چھاتی کی ہڈی اور سینہ کی پسلی کے ہیں۔ یہاں مراد عورت کے سینہ کی ہڈیاں ہیں ترجمہ ہوگا :۔ جو پیٹھ اور سینہ کے بیچ میں سے نکلتا ہے۔
3۔ اس پانی سے منی مراد ہے خواہ صرف مرد کی یا مرد اور عورت دونوں کی ہو، اور عورت کی منی میں گواند فاق مرد کی منی کے برابر نہیں ہوتا لیکن کچھ اندفاق ضرور ہوتا ہے، اور دوسری تقدیر پر لفظ ماء کا مفرد لانا اس بنا پر ہے کہ دونوں مادے مخلوط ہو کر مثل شے واحد کے ہوجاتے ہیں اور پشت اور سینہ چونکہ بدن کی دو طرفیں ہیں اس لئے کفائیہ جمیع بدن سے ہوسکتا ہے، اور یہ اس لئے مراد لیا گیا کہ منی تمام بدن میں پیدا ہو کر پھر منفعل ہوتی ہے اور اس کذایہ میں تخصیص صلب و ترائب کی شاید اس لئے ہو کہ حصول مادہ منویہ میں اعضاء رئیسہ یعنی قلب و دماغ و کبد کو خاص دخل ہے اور کبد و قلب کا تعلق تلبس و ترائب سے اور دماغ کا تعلق بواسطہ نخاع کے صلب سے ظاہر ہے۔ حاصل یہ کہ نطفے سے انسان بنادینا دوبارہ پیدا کرنے سے عجیب ہے۔
﴿ يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِؕ٠٠٧﴾ (وہ پانی پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے) ۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ انسان نطفہ منی سے پیدا کیا گیا ہے جسے سورة ٴ الم سجدہ میں ماء مھین (ذلیل پانی) سے تعبیر فرمایا ہے۔ انسان جو قیامت کا منکر ہے اور یوں کہتا ہے کہ موت کے بعد کیسے اٹھائے جائیں گے اور مٹی میں ملے ہوئے ذرات آپس میں کیسے ملیں گے اس کا جواب دے دیا کہ تو دیکھ لے تیری اصل کیا ہے تجھے اپنی حقیقت اور نشوونما کا علم ہے پھر بھی ایسی باتیں کرتا ہے جس نے تجھے نطفہ سے پیدا فرمایا وہ دوبارہ بھی پیدا فرما سکتا ہے، اسی کو فرمایا : ﴿ اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ٠٠٨﴾ (بلاشبہ وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے) ۔ سورة القیامہ میں فرمایا ﴿اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ٠٠٣٧ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ٠٠٣٨ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ٠٠٣٩ اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (رح) ٠٠٤٠﴾ کیا انسان ایک قطرہ منی نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا، پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا پھر اس نے بنایا پھر اعضاء درست کیے پھر اس کی دو قسمیں کردیں، مرد اور عورت۔ کیا وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ نطفہ منی کو ﴿ مَّآءٍ دَافِقٍۙ﴾ (اچھلتے ہوئے پانی) سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ وہ پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے۔ عربی میں الصلب پشت کو کہتے ہیں اور الترائب جمع ہے تریبۃ کی، سینہ کی ہڈیوں کو ترائب کہا جاتا ہے۔ بچہ کی تخلیق مرد عورت دونوں کی منی کے امتزاج سے ہوتی ہے اور ماء دافق کا مفرد کا صیغہ لانا اس اعتبار سے ہے کہ مرد کا نطفہ ہی اصل ہے اور وہ دافق یعنی اچھلنے والا ہے اس کے بغیر تخلیق نہیں ہوتی۔ صاحب بیان القرآن نے یہ توجیہ کی ہے کہ دونوں نطفے مل کر چونکہ شئی واحد ہوجاتے ہیں اس لیے مفرد کا صیغہ لایا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ عورت کی منی میں بھی قدرت اندفاق یعنی اچھال ہوتا ہے۔ قال صاحب الروح و وصفہ بالدفق قیل باعتبار احد جزئیہ وھو منی الرجل وقیل باعتبار کلیھما ومنی المراة دافق ایضاً الی الرحم۔ عورت کی منی ہونا اور بچہ کی تخلیق میں اس کے مادہ منویہ کا شریک ہونا یہ تو حدیث شریف سے ثابت ہے۔ كما روی مسلم عن عائشة (رض) ان امراة قالت لرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ھل تغتسل المراہ اذا احتملت وابصرت الماء ؟ فقال ” نعم “ فقالت لھا عائشة : تربت یداک : قالت فقال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعیھا۔ وھل یکون الشبہ الامن قبل ذلك۔ اذا علا ماؤھا ماء الرجل اشبہ الولد اخوالہ واذا علاماء الرجل ماء ھا اشبہ اعمامہ۔ مادیہ منویہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ پشت اور سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے، یہاں اس طب جدید کی تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ اشکال کیا گیا ہے۔ اطباء کا کہنا ہے کہ نطفہ ہر عضو سے نکلتا ہے اور بچہ کا ہر عضو اس جزو نطفہ سے بنتا ہے جو مرد و عورت کے اسی عضو سے نکلا ہے۔ اگر اطباء کا کہنا صحیح ہو پھر بھی قرآن کی تصریح پر کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ قرآن مجید میں نہ مرد عورت کی کوئی تخصیص فرمائی ہے اور نہ کلام میں کوئی حرف حصر موجود ہے جو یہ بتاتا ہو کہ نطفہ صرف پشت اور سینہ سے ہی نکلتا ہے، اگر سارے بدن سے نکلتا ہو تو پشت اور سینہ کا ذکر اس کے معارض نہیں ہے۔ البتہ یہ سوال رہ جاتا ہے کہ تمام اعضاء میں سے صرف پشت اور سینہ ہی کو کیوں ذکر فرمایا اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سامنے اور نیچے کے اہم اعضاء کو ذکر کر کے سارے بدن سے تعبیر کردیا گیا۔ قال صاحب الروح وقیل لوجعل مابین الصلب والترائب کنایة عن البدن کلہ لم یبعد وکان تخصیصھا بالذکر لما انھا کالوعاء للقلب الذی ھو المضغة العظمی فیہ۔
(7) جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے اچھلتا ہوا پانی فرمایا نطفے کو جو مرد کے بدن سے کود کر نکلتا ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے جو پیٹھ اور ترائب سے نکلتا ہے بعض مفسرین نے صرف مرد کی منی مراد لی ہے اور بعض نے صلب سے مرد کا مادہ منویہ لیا ہے اور ترائب سے مراد عورت کا مادہ منویہ لیا ہے کیونکہ ترائب جو تریبہ کی جمع ہے عورت کے سینے کی ہڈیوں کو کہتے ہیں جو لوگ مرد اور عورت دونوں کا مادہ کہتے ہیں وہ دونوں جگہ دفق کے قائل ہیں مرد میں زیادہ اور عورت میں کم۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں مرد کی منی آتی ہے پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے ۔ وافق کو مفرد شاید اس لئے لائے کہ دونوں کے نطفے مل کر ایک ہی شکل اختیار کرلیتے ہیں حضرت حق تعالیٰ یہاں انسان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دیکھ جس پانی سے تو بنا ہے وہ کن دشوار اور سنگلاخ راستوں سے اور رگوں سے گزر کر یہاں تک یعنی عورت کے رحم تک پہنچتا ہے یا یوں سمجھو کہ نطفہ یا منی شریانی خون سے بنتی ہے اور شریان کا مخرج دل ہے اور دل صلب وترائب کے مابین واقع ہے۔ بہرحال ! قرآن کریم کو یہں کوئی طب کا مسئلہ بیان کرنا نہیں ہے جو یہ اعتراض کیا جائے کہ منی تمام بدن کانچوڑ ہے اور اس کا مرکز دماغ ہے وغیرہ وغیرہ۔ جن مقامات کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے ان دونوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ دونوں مقام یعنی پیٹھ اور سینہ تمام جسم انسان کے کنایہ ہیں اگر یہ تسلیم کرلیاجائے تو پھر کوئی شبہ نہیں رہتا اور اگر یہ بات نہ ہوتب بھی نخاع یعنی حرام مغز اس کے بہت سی شاخیں مقدم بدن کی طرف آئی ہوئی ہیں اور یہ دونوں مقام اس مادے کی جو دماغ سے چلتا ہے قابل ذکر گزرگاہ ہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ جسم انسانی کے نچوڑ سے آدمی کو پیدا کرتا ہے اور ایک پانی کے قطرے کو صفت حیات سے متصف کرسکتا ہے کیا وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرسکتا اسی لئے آگے کی آیت میں ارشاد فرماتے ہیں۔