Surat ut Tariq
Surah: 86
Verse: 8
سورة الطارق
اِنَّہٗ عَلٰی رَجۡعِہٖ لَقَادِرٌ ؕ﴿۸﴾
Indeed, Allah , to return him [to life], is Able.
بیشک وہ اسے پھیر لانے پر یقیناً قدرت رکھنے والا ہے
اِنَّہٗ عَلٰی رَجۡعِہٖ لَقَادِرٌ ؕ﴿۸﴾
Indeed, Allah , to return him [to life], is Able.
بیشک وہ اسے پھیر لانے پر یقیناً قدرت رکھنے والا ہے
Verily, He is Able to bring him back (to life)! This means that He is able to return this man that is created from fluid gushed forth. In other words, He is able to repeat his creation and resurrect him to the final abode. This is clearly possible, because whoever is able to begin the creation then he surely is able to repeat it. Indeed Allah has mentioned this proof in more than one place in the Qur'an. On the Day of Judgement, Man will have no Power or Assistance In this regard Allah says, يَوْمَ تُبْلَى السَّرَايِرُ
8۔ 1 یعنی انسان کے مرنے کے بعد، اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ اس قطرہ آب کو دوبارہ شرمگاہ کے اندر لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا پہلے مفہوم کو امام شوکانی اور امام ابن جریر طبری نے زیادہ صحییح قرار دیا ہے۔
[٦] اللہ تعالیٰ نے ایک شہادت عالم بالا سے پیش فرمائی، دوسری انسان کی تخلیق سے اور یہ دونوں اس بات پر قوی دلیل ہیں جو ہستی ایسے عظیم الشان کارنامے سرانجام دے رہی ہے وہ یقیناً انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے اور اگر انسان سوچے تو یہ کارنامے انسان کی دوبارہ زندگی سے زیادہ حیرت انگیز اور معجز نما ہیں۔ اب جو شخص ان کارناموں کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتا ہے وہ آخر یہ کیوں نہیں کہتا کہ دنیا میں انسان کے ہاتھوں بنائے ہوئے جتنے کارخانے چل رہے ہیں یہ بھی بس اتفاقی حادثات کے نتیجہ میں سامنے آگئے اور کام کرنے لگے ہیں یا دنیا میں جو شہر آباد ہیں، سڑکیں ہیں اور دریا اور نہریں رواں ہیں یہ بھی سب اتفاقات ہی کا نتیجہ ہیں۔ ایسے سر پھروں کو اپنے دماغ کا علاج کرانا چاہیے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں کا علاج صرف ڈنڈا ہے۔
انہ علی رجعہ لقادر ، یوم تبلی السرآئر :” تبلی “ ” بلایبلو “ (ن) آزمائش کرنا، جانپ ڑتال کرنا، یہاں ظاہر کیا جانا مراد ہے، کیونکہ جان پڑتال تبھی ہوگ ی جب چھپے ہوئے اعمال ظاہر ہوں گے۔” السرآئر “ ” سریرۃ “ کی جمع ہے۔” سر “ اور ” سریرۃ “ اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپائی جایئ۔ (قاموس) اس سے مراد وہ ارادے، نیتیں اور عقائد ہیں جن کا علم خود آدمی کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا اور وہ اعمال بھی جن کا علم کسی دوسرے کو نہیں ہوسکتا۔ ” یوم تبلی السرآئر “ ” رجعہ “ کا ظرف ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو اس دن دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ (Surely He is Powerful to bring him back...86:8) The word raj means &to bring back&. The verse signifies that Allah Who has created him from a drop of seminal fluid is well able to bring him back to life after death a fortiori. يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ (on a day when all the secrets will be searched out.. 86:9). The word tubla literally means &to test/examine& and sara&ir means &secrets&. On the Day of Reckoning, the secrets will be tested and examined and laid bare. Man&s beliefs, his thoughts, and his motives and intentions that were hidden in this life, and no one knew about them, will be revealed in the Hereafter. Likewise, his deeds and actions that he had done secretly, and no one was aware of them in this world, all of them will be tested and scrutinised on the Plain of Gathering and will be laid bare. Said &Abdullah Ibn ` Umar (رض) has said that on the Day of Judgment Allah will disclose the secrets of all human beings. The sign of every good or bad belief and action will be displayed on man&s face, in the form of beauty or darkness or gloom [ depending on each individual&s situation ]. [ Qurtubi ].
انہ علی رجعہ لقادر، رجع کے معنے لوٹا دینے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس خالق کائنات نے اول انسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے وہ اس کو دوبارہ لوٹا دینے یعنی مرنیکے بعد زندہ کردینے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے۔ یوم تبلی السرائر، تبلی کے لفظی معنے امتحان لینے اور آزمانے کے ہیں اور سرائر کے معنی ہیں مخفی امور مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز انسان کے تمام عقائد و خیالات اور نیت وعزم جو دل میں پوشیدہ تھی دنیا میں اس کو کوئی نہ جانتا تھا اسی طرح وہ اعمال و افعال جو اس نے چھپ کر کئے دنیا میں کسی کو ان کی خبر نہیں، محشر میں سب کا امتحان لیا جائے گا یعنی سب کو ظاہر کردیا جائے گا، حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز انسان کے ہر مخفی راز کو کھولدے گا۔ ہر اچھے برے عقیدے اور عمل کی علامت انسان کے چہرہ پر یا زینت ہو کر یا ظلمت وسیاہی کی صورت میں ظاہر کردی جائے گی۔ (قرطبی)
اِنَّہٗ عَلٰي رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ ٨ ۭ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے قادر الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه، ومحال أن يوصف غير اللہ بالقدرة المطلقة معنی وإن أطلق عليه لفظا، بل حقّه أن يقال : قَادِرٌ علی كذا، ومتی قيل : هو قادر، فعلی سبیل معنی التّقييد، ولهذا لا أحد غير اللہ يوصف بالقدرة من وجه إلّا ويصحّ أن يوصف بالعجز من وجه، والله تعالیٰ هو الذي ينتفي عنه العجز من کلّ وجه . ( ق د ر ) القدرۃ ( قدرت) اگر یہ انسان کی صنعت ہو تو اس سے مراد وہ قوت ہوتی ہے جس سے انسان کوئی کام کرسکتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے قادرہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ عاجز نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی معنوی طور پر قدرت کا ملہ کے ساتھ متصف نہیں ہوسکتی اگرچہ لفظی طور پر ان کیطرف نسبت ہوسکتی ہے اس لئے انسان کو مطلقا ھو قادر کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ تقیید کے ساتھ ھوقادر علی کذا کہاجائیگا لہذا اللہ کے سوا ہر چیز قدرت اور عجز دونوں کے ساتھ متصف ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ایسی ہے جو ہر لحاظ سے عجز سے پاک ہے
(٨۔ ١٠) اور اللہ تعالیٰ اس پانی کو شرمگاہ میں دوبارہ واپس کرنے پر قادر ہے، یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے جس روز سب کی مخفی باتیں ظاہر ہوجائیں گی پھر نہ اس انسان کو عذاب کی مدافعت کی خود قوت ہوگی اور نہ اس کا کوئی معین و مددگار ہوگا۔
آیت ٨{ اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ ۔ } ” یقینا وہ اسے لوٹانے پر بھی قادر ہے۔ “ جس اللہ نے پانی کی ایک بوند سے انسان کی تخلیق کی ہے وہ یقینا اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے اسے اپنے پاس واپس بلا لے۔ اور یقینا وہ اس کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کردینے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔
4 That is, His bringing tnan into existence and watching over him from the tithe conception takes place until death, is a clear proof that He can create him once again after death. If He had the power to create him in the first instance and man stays alive in the world by His power alone, what rational arguments can be presented for the conjecture that He dces not have the power to do the same thing a second time? To deny this power man will even have to deny that God has brought him into existence, and the one who denies this may well come out one day with the claim that aII books in the world have been printed accidentally, all cities of the world have been built accidentally, and there has occurred on the earth an explosion by chance which made aII the factories start functioning automatically. The fact is that the creation of man, the structure of his body, the existence of the powers and capabilities working within him, and his survival as a living being – all this is a much more complex process than all those works that have come to be accomplished through man, or are still in the process of being accomplished. If such a complex work with such wisdom, proportion and order could be accomplished just through a chance accident, what else could not be regarded as accidental by a mentally deranged person?
سورة الطَّارِق حاشیہ نمبر :4 یعنی جس طرح وہ انسان کو وجود میں لاتا ہے اور استقرار حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی نگہبانی کرتا ہے ، یہی اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ وہ اسے موت کے بعد پلٹا کر پھر وجود میں لا سکتا ہے ۔ اگر وہ پہلی چیز پر قادر تھا اور اسی قدرت کی بدولت انسان دنیا میں زندہ موجود ہے ، تو آخر کیا معقول دلیل یہ گمان کرنے کے لیے پیش کی جا سکتی ہے کہ دوسری چیز پر وہ قادر نہیں ہے ۔ اس قدرت کا انکار کرنے کے لیے آدمی کو سرے سے اس بات ہی کا انکار کرنا ہو گا کہ خدا اسے وجود میں لایا ہے ، اور جو شخص اس کا انکار کرے اس سے کچھ بعید نہیں کہ ایک روز اس کے دماغ کی خرابی اس سے یہ دعوی بھی کرا دے کہ دنیا کی تمام کتابیں ایک حادثہ کے طور پر چھپ گئی ہیں ، دنیا کے تمام شہر ایک حادثہ کے طور پر بن گئے ہیں ، اور زمین پر کوئی اتفاقی حادثہ ایسا ہو گیا تھا جس سے تمام کارخانے بن کر خود بخود چلنے لگے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اور اس کے جسم کی بناوٹ اور اس کے اندر کام کرنے والی قوتوں اور صلاحیتوں کا پیدا ہونا اور اس کا ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے باقی رہنا ان تمام کاموں سے بدرجہا زیادہ پیچیدہ عمل ہے جو انسان کے ہاتھوں دنیا میں ہوئے اور ہو رہے ہیں ۔ اتنا بڑا پیچیدہ عمل اس حکمت اور تناسب اور تنظیم کے ساتھ اگر اتفاقی حادثہ کے طور پر ہو سکتا ہو تو پھر کونسی چیز ہے جسے ایک دماغی مریض حادثہ نہ کہہ سکے؟
(86:8) انہ علی رجعہ لقادر : انہ میں ضمیر ہ خالق کی طرف لوٹتی ہے گو لفظا مذکور نہیں ہے مگر خلق من ماء سے اس کا مفہوم سمجھ میں آرہا ہے۔ اور رجعہ میں ضمیر ہ کا مرجع الانسان ہے رجعہ میں رجع مصدر مضاف ہے اور ہ ضمیر مضاف الیہ ہے۔ لقادر میں لام تاکید کا ہے قادر : قدرۃ (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ اور مذکر ہے زبردست قدرت رکھنے والا۔ ترجمہ ہوگا :۔ وہ اس کے لوٹانے پر بھی قدرت کاملہ رکھتا ہے۔
ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کیونکہ عقل خود تسلیم کرتی ہے ؟ کہ کس چیز کو دوبارہ بنانا اسے ابتداء بنانے کی بہ نسبت کہیں آسان ہوتا ہے۔
یہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی نگہداشت کی۔ لہٰذا اس پر قادر ہے کہ موت کے بعد اسے زندگی بخشے اور مرکر مٹی میں مل جانے کے بعد اسے حیات جدید دے۔ اللہ کی پہلی تخلیق جس کا اوپر ذکر ہوا ، یہ شہادت دے رہی ہے کہ وہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ پہلی زندگی اللہ کی تدبیر اور اللہ کی قدرت پر شاہد عادل ہے کیونکہ پہلی تخلیق میں نہایت حکیمانہ ٹیکنالوجی پوشیدہ ہے۔ اگر انسان کو دوبارہ زندہ کرنے اور حساب و کتاب لینے کو تسلیم نہ کیا جائے تو پہلی تخلیق کا پورا نظام عبث ہوجائے گا۔
4:۔ ” انہ علی رجعہ “ جس طرح اللہ تعالیٰ ابتداءً انسان کو نطفہ سے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اسی طرھ وہ اس کو دوبارہ زندہ کرنے اور موت سے حیات کی طرف لوٹانے پر بھی قادر ہے۔ ” یوم تبلی السرائر “ ظرف ” رجعہ “ کی متعلق ہے۔ (کشاف) بعض نے کہا ہے اس کا متعلق ” یرجعہ “ محذوف ہے۔ جس پر ” رجعہ “ دلالت کرتا ہے۔ ” تبلی “ تکشف (مدارک) ۔ انسان کی دوبارہ حیات اس دن ہوگی جس میں تمام چھپے بھید بھی ظاہر کردئیے جائیں گے اس دن انسان کے پاس کوئی قوت نہیں ہوگی جس سے وہ اپنی جان کی حفاظت نہ کرسکے اور نہ کوئی اس کا مددگار ہی ہوگا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا لے۔
(8) بے شک وہ اللہ تعالیٰ اس انسان کے پھیرلانے پر قادر ہے یعنی دوبارا زندہ کرنے پر قادر ہے اور جب دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے تو قیامت کا وقوع مستبعد نہ رہا اب آگے قیامت کے وقوع اور اس کے حالات کا ذکر ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ پھیر لانے پر قادر ہے۔ بعض حضرات نے آیت کی اور طرح بھی تفسیر کی ہے لیکن ہم نے مشہور قول اختیار کی ہے۔