Surat ul Aala
Surah: 87
Verse: 3
سورة الأعلى
وَ الَّذِیۡ قَدَّرَ فَہَدٰی ۪ۙ﴿۳﴾
And Who destined and [then] guided
اور جس نے ( ٹھیک ٹھاک ) اندازہ کیا اور پھر راہ دکھائی ۔
وَ الَّذِیۡ قَدَّرَ فَہَدٰی ۪ۙ﴿۳﴾
And Who destined and [then] guided
اور جس نے ( ٹھیک ٹھاک ) اندازہ کیا اور پھر راہ دکھائی ۔
And Who has measured; and then guided. Mujahid said, "He guided man to distress and happiness, and he guided the cattle to their pastures." This Ayah is similar to what Allah has said about Musa's statement to Fir`awn, رَبُّنَا الَّذِى أَعْطَى كُلَّ شَىءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى Our Lord is He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright. (20:50) meaning, He decreed a set measure and guided the creation to it. This is just as is confirmed in Sahih Muslim on the authority of Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah said, إِنَّ اللهَ قَدَّرَ مَقَادِيرَ الْخَلَيِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَواتِ وَالاَْرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء Verily, Allah ordained the measure of all creation fifty thousand years before He created the heavens and the earth, and His Throne was over the water. Concerning Allah's statement, وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَى
3۔ 1 یعنی نیکی اور بدی کی، ضروریات زندگی، اشیا کی جنسوں کی، ان کی انواع وصفات اور خصوصیات کا اندازہ فرما کر انسان کی بھی ان کی طرف رہنمائی فرما دی تاکہ انسان ان سے استفادہ حاصل کرے۔
[٣] تقدیر بمعنی اندازہ کرنا۔ بنانے سے پہلے کسی چیز کا مکمل نقشہ، اس کی شکل و صورت، اس کے مقاصد اور غرض وغایت کے متعلق پوری سکیم تیار کرنا۔ پھر اس کے متعلق یہ طے کرنا کہ اس چیز کے لیے کس قسم کا مواد درکار ہے۔ کتنی مقدار میں درکار ہے۔ اس چیز میں کیا کیا خصوصیات درکار ہیں۔ تاکہ جس مقصد کے لیے وہ بنائی گئی ہے اسے بطریق احسن انجام دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پیشتر اس کی تقدیر بنائی ہے۔ کائنات میں آج تک جو اشیا وجود میں آچکی ہیں اور جو کچھ بعد میں پیدا ہوں گی سب کچھ اللہ کی اس تقدیر یا اندازے یا اسکیم کے مطابق ہو رہا ہے جو اس نے پہلے سے طے کر رکھا ہے۔ [٤] یعنی جس چیز کو جس مقصد کے لیے بنایا، اس چیز کی فطرت میں وہ کام کرنے کا طریقہ بھی ودیعت کردیا۔ مثلاً ہر دودھ پلانے والے جاندار کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو پیدا ہوتے ہی وہ ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو دودھ چوسنے کا طریقہ فطرتاً سکھا دیا۔ اسی طرح کائنات کی ایک ایک چیز کو وہ راہ سجھا دی جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے۔ مثلاً اللہ نے دل کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ سارے جسم میں خون کو پہنچائے تو دل کی ساخت بھی ایسی ہی بنائی اور اسے یہ طریقہ بھی بتلا دیا کہ وہ کس طرح خون کو پمپ کرے گا۔ کسی جاندار کے ارادہ اور خواہش کے بغیر دل از خود ہی یہ کام کیے جاتا ہے۔ حتیٰ کہ کسی کو یہ محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے اندر کیا کیا چیزیں ہیں اور وہ کیا کیا کام سرانجام دے رہی ہیں۔ انسان چونکہ دوسری تمام مخلوق سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس کو دو قسم کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایک اضطراری جو اس کی طبعی زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ اور اس لحاظ سے وہ دوسرے جاندار سے مختلف نہیں اور دوسری ہدایت اختیاری ہے جو اس کے عقل و شعور اور اخلاقیات سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی دوسری قسم کی ہدایت کو اجاگر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں۔
(والذی قدر فھدیٰ : یعنی اس نے ہر چیز کے متعلق اندازہ لگا کر پہلے ہی لکھ دیا کہ وہ کیا کرے گا ؟ اس کا رزق عمر، سعادت یا شقاوت سب کچھ لکھ دیا۔ اسی کا نام تقدیر ہے، اللہ تعالیٰ کا اندازہ ہمارے اندازے کی طرح نہیں کہ غلط ہوجائے۔” فھدی “ پھر جس نے جو کچھ کرنا تھا اسے اس راہ پر لگا دیا۔ ایک معنی یہ ہے کہ ہر جاندار کو پیدا کر کے اس کی ضرورتوں کا اندازہ مقرر کردیا کہ اسے کیا کیا ضرورت ہوگی، پھر اسے اس کی ضروریات و مصالح حاصل کرنے کا راستہ بتادیا۔ مثلاً بچے کو پستان چوسنے کا اور نر و مادہ کو بقائے نسل کا راستہ بتادیا اور اس پر چلا دیا۔ پرندوں کو شام کے وقت اپنے گھونسلوں کی طرف واپسی کا اور شہد کی مکھی کو اپنے چھتے کا راستہ بتادیا اور اس پر چلا دیا۔
وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَہَدٰى ٣ قدر تَقْدِيرُ اللہ علی وجهين : أحدهما بالحکم منه أن يكون کذا أو لا يكون کذا، إمّا علی سبیل الوجوب، وإمّا علی سبیل الإمكان . وعلی ذلک قوله : قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً [ الطلاق/ 3] . والثاني : بإعطاء الْقُدْرَةِ عليه . وقوله : فَقَدَرْنا فَنِعْمَ الْقادِرُونَ [ المرسلات/ 23] ، تنبيها أنّ كلّ ما يحكم به فهو محمود في حكمه، ، ، تقدیرالہی ِ ، ، کی دوصورتیں ہیں اللہ تعالیٰ کا اشیاء کو قدرت بخشنا یا اللہ تعالیٰ کا اشیاء کو مقدار مخصوص اور طرز مخصوص پر بنانا جیسا کہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے اس لئے کہ فعل دوقسم پر ہے اول ایجاد بالفعل یعنی ابتداء سے کسی چیز کو ایسا کامل وجو عطا کرنا کی جب تک مشیت الہی اس کے فنا یا تبدیل کی مقتضی نہ ہو اس میں کمی بیشی نہ ہوسکے جیسے اجرام سماویہ اور ومافیما کی تخلیق ( کہ ان میں تاقیامت کسی قسم کا تغیر نہیں ہوگا ) دوم یہ کہ اصول اشیاء کو بالفعل اور ان کے اجزاء کو بالقوۃ وجو عطافرمانا اور ان کو اس ندازہ کے ساتھ مقدر کرنا کہ اس کی خلاف ظہور پزیر نہ ہوسکیں جیسا کہ خرما کی گھٹلی کے متعلق تقیدر الہٰی یہ ہے کہ اس سے خرما کا درخت ہی اگتا ہے اور سیب بازیتون کا درخت نہیں اگ سکتا اسی طرح انسان کی منی سے انسان پی پیدا ہوتا ہے دوسرے جانور پیدا نہیں ہوسکتے ۔ پس تقدیر الہی کے دو معنی ہوئے ایک یہ کہ کسی چیز کے متعلق نفی یا اثبات کا حکم لگانا کہ یوں ہوگا اور یوں نہیں ہوگا ۔ عام اس سے کم وہ حکم برسبیل وجوب ہو یا برسبیل امکان چناچہ آیت ؛ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً [ الطلاق/ 3] خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے ۔ میں یہی معنی مراد ہیں دوم کی چیز پر قدرت عطا کرنے کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛فَقَدَرْنا فَنِعْمَ الْقادِرُونَ [ المرسلات/ 23] پھر اندازہ مقرر کیا اور ہم ہی خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیں ۔ میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ اللہ کا ہر حکم قابل ستائش ہے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔
(٣۔ ٥) جس نے ہر جاندار کو بنایا اور پھر اس کے تمام اعضاء کو ٹھیک اور درست پیدا کیا اور جس نے ہر جاندار کے لیے اس کے مناسب تجویز کیا اور پھر اس کو باہم اختلاط کی رہنمائی کی، یا یہ کہ اس کو اچھا یا برا لمبا یا چھوٹا بنایا، یا یہ مطلب ہے کہ سعادت و شقاوت کو مخلوق کے لیے تجویز فرما کر پھر اس کو کفر و ایمان اور خیر و شر کی راہنمائی فرمائی اور جس نے سبز چارہ زمین سے نکالا پھر ایک سال کے بعد اس کو سیاہ کوڑا کردیا۔
3 "Set a destiny": determined beforehand what would be the function of a certain thing in the world, and for that purpose what would be its size, its form and shape, its qualities, its place of location, and what opportunities and means should be provided for its survival, existence and functioning, when it should come into being, and when and how it should cease to be after completing its part of the work. Such a scheme for a thing is its "destiny" (taqdir) . And this destiny AIIah has set for everything in the universe and for the entire universe as a whole. This means that the creation has not come about without a pre-conceived plan, haphazardly, but for it the Creator had a full plan before Him, and everything is happening according to that plan. (For further explanation, see E.N.'s 13, 14 of Al-Hijr. E.N. 8 of AI-Furgan, E.N. 25 of AI-Qamar. E.N. 12 of 'Abasa) . 4 That is, nothing was just created and left to itself, but whatever was created to perform a certain function, it was also taught the method of performing that function. In other words, He is not merely the Creator but Guide too. He has taken the responsibility to give guidance to whatever He has created in a particular capacity to fit its nature and to guide it in the way suitable for it. One kind of guidance is for the earth, the moon, the sun, and the stars and planets, which they are following in performing their role. Another kind of guidance is for water, air, light and the solid and mineral elements, and they are performing the same services for which they have been created accordingly. Still another kind of guidance is for vegetables, according to which they take root and spread in the earth, sprout up from its layers, obtain food from wherever AIIah has created it for thetas, produce stem, branches, leaves, blossom and fruit, and fulfil the function which has been appointed for each of them. Still another kind of guidance is for the countless species of animals of the land, and water, and for each member of the species, the wonderful manifestations of which are clearly visible in the life of the animals and in their works, so much so that even an atheist is compelled to concede that different kinds of animals possess some sort of inspirational knowledge which man cannot obtain even through his instruments, not to speak of his senses. Then, there are two different kinds of guidance for man, which correspond to his two different capacities. One kind of guidance is for his animal life, by which each child learns to suck milk spontaneously on birth, by which the eyes of man, his nose, ear, heart, brain, lungs, kidney, liver, stomach, intestines, nerves, veins and arteries, all are performing their respective functions, without man's being conscious of it, or his will's having anything to do with the functions of these organs. This is the guidance under which all physical and mental changes pertaining to childhood, maturity, youth and old age go on taking place in man, independent of his will, choice, even his consciousness. The second kind of guidance is for his intellectual and conscious life, the nature of which is absolutely different from the guidance for unconscious life, for in this sphere of life a kind of freedom has been transferred to man, for which the mode of guidance meant for voluntary life is not suitable. For turning away from this last kind of guidance, man may offer whatever arguments and excuses he may like, it is not credible that the Creator Who has arranged guidance for everything in this universe according to its capacity, might have set for man the destiny that he may appropriate numerous things in His world freely, but might not have made any arrangement to show what is the right way of using his choice and what is the wrong way. (For further explanation, see E.N.'s 9, 10, 14, 56 of An-Nahl, E.N. 23 of Ta Ha, E.N.'s 2, 3 of Ar-Rahman, E.N. 5 of Ad-Dahr)
سورة الْاَعْلٰی حاشیہ نمبر :3 یعنی ہر چیز کے پیدا کرنے سے پہلے یہ طے کر دیا کہ اسے دنیا میں کیا کام کرنا ہے اور اس کام کے لیے اس کی مقدار کیا ہو ، اس کی شکل کیا ہو ، اس کی صفات کیا ہوں ، اس کا مقام کس جگہ ہو ، اس کے لیے بقاء اور قیام اور فعل کے لیے کیا مواقع اور ذرائع فراہم کیے جائیں ، کس وقت وہ وجود میں آئے ، کب تک اپنے حصے کا کام کرے اور کب کس طرح ختم ہو جائے ۔ اس پوری اسکیم کا مجموعی نام اس کی تقدیر ہے ، اور یہ تقدیر اللہ تعالی نے کائنات کی ہر چیز کے لیے اور مجموعی طور پر پوری کائنات کے لیے بنائی ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تخلیق کسی پیشگی منصوبے کے بغیر کچھ یونہی الل ٹپ نہیں ہو گئی ہے بلکہ اس کے لیے ایک پورا منصوبہ خالق کے پیش نظر تھا اور سب کچھ اس منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الحجر ، حواشی 13 ۔ 14 ۔ جلد سوم ، الفرقان ، حاشیہ 8 ۔ جلد پنجم ، القمر حاشیہ 25 ۔ جلد ششم ، عبس ، حاشیہ 12 ) ۔ سورة الْاَعْلٰی حاشیہ نمبر :4 یعنی کسی چیز کو بھی محض پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ، بلکہ جو چیز بھی جس کام کے لیے پیدا کی اسے اس کام کے انجام دینے کا طریقہ بتایا ۔ بالفاظ دیگر وہ محض خالق ہی نہیں ہے ، ھادی بھی ہے ۔ اس نے یہ ذمہ لیا ہے کہ جو چیز جس حیثیت میں اس نے پیدا کی ہے اس کو ویسی ہی ہدایت دے جس کے وہ لائق ہے اور اسی طریقہ سے ہدایت دے جو اس کے لیے موزوں ہے ۔ ایک قسم کی ہدایت زمین اور چاند سورج اور تاروں اور سیاروں کے لیے ہے جس پر وہ سب چل رہے ہیں اور اپنے حصے کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ ایک اور قسم کی ہدایت پانی اور ہوا اور روشنی اور جمادات و معدنیات کے لیے ہے جس کے مطابق وہ ٹھیک ٹھیک وہی خدمات بجا لا رہے ہیں جن کے لیے انہیں پیدا کیا گیا ہے ۔ ایک اور قسم کی ہدایت نباتات کے لیے ہے جس کی پیروی میں وہ زمین کے اندر اپنی جڑیں نکالتے اور پھیلاتے ہیں ، اس کی تہوں سے پھوٹ کر نکلتے ہیں ، جہاں جہاں اللہ نے ان کے لیے غذا پیدا کی ہے وہاں سے اس کو حاصل کرتے ہیں ، تنے شاخیں ، پتیاں ، پھل پھول لانے ہیں اور وہ کام پورا کرتے ہیں جو ان میں سے ہر ایک کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے ۔ ایک اور قسم کی ہدایت خشکی ، تری اور ہوا کے حیوانات کی بے شمار انواع اور ان کے ہر فرد کے لیے ہے جس کی حیرت انگیز مظاہر جانوروں کی زندگی اور ان کے کاموں میں علانیہ نظر آتے ہیں ، حتی کہ ایک دہریہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مختلف قسم کے جانوروں کو کوئی ایسا الہامی علم حاصل ہے جو انسان کو اپنے حواس تو درکنار ، اپنے آلات کے ذریعہ سے بھی حاصل نہیں ہو تا ۔ پھر انسان کے لیے دو الگ الگ نوعیتوں کی ہدایتیں ہیں جو اس کی دو الگ حیثیتوں سے مطابقت رکھتی ہیں ۔ ایک وہ ہدایت جو اس کی حیوانی زندگی کے لیے ہے ، جس کی بدولت ہر بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینا سیکھ لیتا ہے ، جس کے مطابق انسان کی آنکھ ، ناک ، کان ، دماغ ، پھیپھڑے ، گردے ، جگر ، معدہ ، آنتیں ، اعصاب ، رگیں اور شریانیں ، سب اپنا اپنا کام کیے جا رہے ہیں بغیر اس کے کہ انسان کو اس کا شعور ہو یا اس کے ارادے کا ان اعضاء کے کاموں میں کوئی دخل ہو ۔ یہی ہدایت ہے جس کے تحت انسان کے ا ندر بچپن ، بلوغ ، جوانی ، کہولت اور بڑھاپے کے وہ سب جسمانی اور ذہنی تغیرات ہوتے چلے جاتے ہیں جو اس کے ارادے اور مرضی ، بلکہ شعور کے بھی محتاج نہیں ہیں ۔ دوسری ہدایت انسان کی عقلی اور شعوری زندگی کے لیے ہے جس کی نوعیت غیر شعوری زندگی کی ہدایت سے قطعاً مختلف ہے ، کیونکہ اس شعبہ حیات میں انسان کی طرف ایک قسم کا اختیار منتقل کیا گیا ہے جس کے لیے ہدایت کا وہ طریقہ موزوں نہیں ہے جو بے اختیارانہ زندگی کے لیے موزوں ہے ۔ انسان اس آخری قسم کی ہدایت سے منہ موڑنے کے لیے خواہ کتنی ہی حجت بازیاں کرے ، لیکن یہ بات ماننے کے لائق نہیں ہے کہ جس خالق نے اس ساری کائنات میں ہر چیز کے لیے اس کی ساخت اور حیثیت کے مطابق ہدایت کا انتظام کیا ہے اس نے انسان کے لیے یہ تقدیر تو بنا دی ہو گی کہ وہ اس کی دنیا میں اپنے اختیار سے تصرفات کرے مگر اس کو یہ بتانے کا کوئی انتظام نہ کیا ہو گا کہ اس اختیار کے استعمال کی صحیح صورت کیا ہے اور غلط صورت کیا ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، النحل ، حواشی 9 ۔ 10 ۔ 14 ۔ 56 ۔ جلد سوم ، طٰہٰ ، حاشیہ 23 ۔ جلد پنجم ۔ الرحمن ، حواشی 2 ۔ 3 ۔ جلد ششم ، الدھر ، حاشیہ 5 ) ۔
1: اﷲ تعالیٰ نے کائنات میں ہرچیز ایک خاص انداز سے بنائی ہے، پھر ہر ایک کو اُس کے مناسب دُنیا میں رہنے کا طریقہ بھی بتادیا ہے۔
(87:3) والذی قدر فھدی (یہ بھی رب کی صفت ہے) اور رب تعالیٰ وہ ذات ہے کہ پیدا کرنے کے ساتھ ہی اپنی مشیت کے مطابق چیزوں کے اجناس، انواع، افراد، مقادیر، احوال، افعال، رزق اور مدت بقاء کو مقرر کردیا۔ قدر : تقدیر (تفعیل) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے سوچ کر۔ غور کرکے اندازہ کیا۔ مثلاً یہ اندازہ کرلیا کہ یہ حیوان تمام عمر میں اس قدر کھائے گا۔ اور اتنے دنوں جئے گا اور اتنے اندازہ کردہ ایام میں اتنی مقرر کردہ خوارک ہضم کرنے میں اس کو قوت ہضم کی یہ مقدار ضروری ہوگی۔ اپنی مدت العمر میں اس کا اتنا پھرنا ہوگا۔ اور اس مسافت کے طے کرنے کے لئے اس کی ٹانگوں اور پاؤں میں اس قدر قوت درکار ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ۔ فھدی : ف عاطفہ، ھدی فعل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب) مصدر سے ۔ اس نے رہنمائی کی۔ یعنی اس کی ضروریات کی تحصیل کے لئے اس کی رہنمائی کی۔ مجاہد نے کہا :۔ انسان کو اچھائی برائی۔ سعادت شقاوت کا راستہ بتادیا۔ حیوانات کو چراگاہوں کا ۔
ف 14 یعنی اول تقدیر لکھی پھر اسی کے موافق دنیا میں دای (موضح) گویا دنیا میں آنے کی راہ بتائی۔ عموماً مفسرین نے آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اس نے آدمی کو خیر و شر اور سعادت و شقاوت کی راہ بتائی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس نے تقدیر میں ہر ایک کی روزی لکھی اور پھر ہر ایک کو وہ راہ بتائی جس سے وہ اپنی روزی حاصل کرے۔ (کذافی ابن کثیر وغیرہ۔