Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 10

سورة التوبة

لَا یَرۡقُبُوۡنَ فِیۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُعۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰﴾

They do not observe toward a believer any pact of kinship or covenant of protection. And it is they who are the transgressors.

یہ تو کسی مسلمان کے حق میں کسی رشتہ داری کا یا عہد کا مطلق لحاظ نہیں کرتے یہ ہیں ہی حد سے گزرنے والے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لااَ يَرْقُبُونَ فِي مُوْمِنٍ إِلااًّ وَلااَ ذِمَّةً ... evil indeed is that which they used to do, With regard to a believer, they respect not the ties, either of kinship or of covenant! ... وَأُوْلَـيِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ It is they who are the transgressors. We explained these meanings before, as well as, the meaning of, فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلَةَ وَاتَوُاْ الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الايَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 بار بار وضاحت سے مقصود مشرکین اور یہود کی اسلام دشمنی اور ان کے سینوں میں مخفی عداوت کے جذبات کو بےنقاب کرنا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً : ان کی مذمت کی تاکید کے لیے دوبارہ ان کے اس فعل بد کا تذکرہ فرمایا۔ بعض مفسرین نے پہلی آیات سے مراد تمام مشرکین اور ان آیات سے مراد یہود مدینہ لیے ہیں، کیونکہ اللہ کی کتاب انھی کے پاس تھی جس کی آیات پر عمل کر کے مسلمان ہونے کے بجائے وہ دنیا کے مفاد کو ترجیح دیتے تھے، اگرچہ اللہ کے احکام کو رد کر کے دنیا کے مفاد کو ترجیح دینا مشرکین و یہود سب کا وتیرہ ہے۔ اس صورت میں ” بِاٰيٰتِ اللّٰهِ “ سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی آیات ہوں گی۔ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ : یعنی عہد شکنی اور زیادتی جب بھی ہوئی انھی کی طرف سے ہوئی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ (Then, if they repent and establish salah and pay zakah, they are your brothers in faith). Here we are being told that once an enemy - no matter how deadly and no matter how hurtful he has been - becomes a Muslim, things change dramatically. Allah Ta` ala forgives his past sins, all of them. So, it becomes obligatory on Muslims too that they should forget the past, start afresh, take them as their brothers in faith and do whatev¬er it takes to fulfill the rights enjoined under such relationship. Three Conditions of Entry into the Islamic Brotherhood This verse makes it clear that there are three conditions of entry into the Islamic brotherhood: (1) Taubah or repentance from Kufr and Shirk, (2) establishment of Salah and (3) payment of Zakah - because, &Iman (faith) and Taubah (repentance) are concealed matters. Common Muslims cannot find out their reality. Therefore, two of their outward signs were mentioned, that is, Salah and Zakah. Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) said: ` This verse has made the blood of Muslims, who qualify as ` the people of Qiblah,& unlawful حرام (haram).& In other words, people who establish Sarah, pay Zak-ah and have said or done nothing against Islam as proved against them, shall be taken as Muslims in the matter of all religious injunctions - even though, they may not have true &Iman (faith) in their hearts, or have hypocrisy نفاق (nifaq). This is the verse Sayyidna Abu Bakr (رض) had quoted in support of his declaration of Jihad against those who had refused to pay Zakah after the passing away of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The noble Companions (رض) before whom he had made this assertion were satis¬fied with his approach. (Ibn Kathir)

(آیت) فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۔ یعنی اگر یہ لوگ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو اب یہ بھی تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اس میں بتلا دیا کہ کوئی کیسا ہی دشمن ہو اور کتنی ہی ایذاء اس نے پہنچائی ہو جب وہ مسلمان ہوگیا تو جس طرح اللہ تعالیٰ اس کے سب پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں، مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ پچھلے سب معاملات کو دل سے بھلا دیں اور آج سے ان کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور برادرانہ تعلق کے حقوق ادا کریں۔ اسلام برادری میں داخل ہونے کی تین شرطیں : اس آیت نے واضح کردیا کہ اسلامی برادری میں داخل ہونے کے لئے تین شرطیں ہیں اول کفر و شرک سے توبہ دوسرے نماز تیسرے زکوٰة۔ کیونکہ ایمان و توبہ تو ایک امر مخفی ہے جس کی حقیقت کا عام مسلمانوں کو علم نہیں ہوسکتا اس لئے اس کی دو ظاہری علامتوں کو بیان کردیا گیا یعنی نماز اور زکوٰة۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس آیت نے اہل قبلہ مسلمانوں کے خون کو حرام کردیا، یعنی جو لوگ نماز، زکوٰة کے پابند ہوں اور اسلام کے خلاف کوئی قول و فعل ان کا ثابت نہ ہو وہ تمام احکام میں مسلمان سمجھے جائیں گے، اگرچہ ان کے دل میں صحیح ایمان نہ ہو، یا نفاق ہو۔ حضرت صدیق اکبر (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد زکوٰة سے انکار کرنیوالوں پر جہاد کرنے کے لئے اسی آیت سے استدلال فرما کر صحابہ کرام کو مطمئن کیا تھا ( ابن کثیر )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّۃً۝ ٠ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُعْتَدُوْنَ۝ ١٠ رقب الرَّقَبَةُ : اسم للعضو المعروف، ثمّ يعبّر بها عن الجملة، وجعل في التّعارف اسما للمماليك، كما عبّر بالرّأس وبالظّهر عنالمرکوب ، فقیل : فلان يربط کذا رأسا، وکذا ظهرا، قال تعالی: وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ [ النساء/ 92] ، وقال : وَفِي الرِّقابِ [ البقرة/ 177] ، أي : المکاتبین منهم، فهم الذین تصرف إليهم الزکاة . ورَقَبْتُهُ : أصبت رقبته، ورَقَبْتُهُ : حفظته . ( ر ق ب ) الرقبۃ اصل میں گردن کو کہتے ہیں پھر رقبۃ کا لفظ بول کر مجازا انسان مراد لیا جاتا ہے اور عرف عام میں الرقبۃ غلام کے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے جیسا کہ لفظ راس اور ظھر بول کر مجازا سواری مراد لی جاتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے :۔ یعنی فلاں کے پاس اتنی سواریاں میں ۔ قرآن ہیں ہے : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ [ النساء/ 92] کہ جو مسلمان کو غلطی سے ( بھی ) مار ڈالے تو ایک مسلمان بردہ آزاد کرائے۔ اور رقبۃ کی جمع رقاب آتی ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ وَفِي الرِّقابِ [ البقرة/ 177] اور غلام کو آزاد کرنے میں ۔ مراد مکاتب غلام ہیں ۔ کیونکہ مال زکوۃ کے وہی مستحق ہوتے ہیں اور رقبتہ ( ن ) کے معنی گردن پر مارنے یا کسی کی حفاظت کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلا ذِمَّةً [ التوبة/ 10] کسی مسلمان کے بارے میں نہ تو قرابت کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیمان کا ۔ ( ذمّة) اسم بمعنی العهد أو الضمان ! وقال بعضهم : سمّيت ذمّة لأن كل حرمة يلزمک من تضييعها الذّم يقال لها ذمّة۔ وقال الأزهريّ : الذمّة : الأمان، وزنه فعلة بکسر الفاء جاء عينه ولامه من حرف واحد . عدا والاعْتِدَاءُ : مجاوزة الحقّ. قال تعالی: وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِراراً لِتَعْتَدُوا[ البقرة/ 231] ، وقال : وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ [ النساء/ 14] ، ( ع د و ) العدو الاعتداء کے معنی حق سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِراراً لِتَعْتَدُوا[ البقرة/ 231] اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہیئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠) یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ کسی قرابت کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی قول وقرار کا اور اللہ سے ڈرتے نہیں ہیں۔ یہی لوگ بعدعہدی وغیرہ کے ذریعہ حرام کاموں کے مرتکب ہورہے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی عہد شکنی اور زیادتی جب بھی ہوئی ہے انہیں کی طرف سے ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ اوپر کی آیات تمام مشرکین کے بارے میں تھی اور یہ آیت خاص یہود کے حق میں ہے۔ ( وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لا یرقبون فی مومن الا ولا ذمۃ و لا ذمۃ والئک ھم المعتدون " یہ لوگ تمہارے بارے میں کسی قرابت داری اور کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا کو یئ لحاظ نہیں رکھتے اور یہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ ان کے اندر زیادتی کرنے کی صفت رچی بسی ہے۔ اور اس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایمان کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایمان سے لوگوں کو روکتے ہیں اور ایمان کی تحریک کے سامنے دیوار بن رہے ہیں۔ اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ مومنین پر وار کرنے کا موقعہ مل جائے۔ اور وہ اہل ایمان سے نہ رشتہ داری کا تعلق رکھتے ہیں اور نہ معاہدے کی پروا کرتے ہیں بشرطیکہ ان کو غلبہ نصیب ہوجائے اور موقع مل جائے اور ان کو یہ خطرہ نہ ہو کہ مسلمان ان پر حملہ کریں گے۔ اور اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کے اندر قوت نہیں ہے تو یہ ان کے ساتھ کیا کیا کر گزریں۔ صرف موقعہ ہاتھ آنے کی دیر ہے ، پھر نہ حقوق کا پاس ہے نہ رشتہ داری کا لحاظ ہے اور نہ کوئی معاہدہ ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بڑے سے بڑا فعل کرنے کے لی یہ لوگ تیار ہیں بشرطیکہ خود مامون ہوں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10: خواہشات و شہوات کے اتباع میں ایسے اندھے ہیں کہ کسی مؤمن سے تعلق قرابت اور عہد کا پاس نہیں کرتے “ فَاِنْ تَابوُا الخ ” ہاں اگر وہ صدق دل سے اسلام قبول کرلیں اور اسلامی احکام کے پابند ہوجائیں تو پھر وہ تمہارے بھائی بند ہیں اور ان کے حقوق تمہارے برابر ہیں۔ اب ان کا مال و جان محفوظ ہے۔ ان سے کسی قسم کا تعرض مت کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

10 یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ قرابت کا پاس اور لحا ظ کرتے ہیں اور نہ کسی قول وقرار اور عہدو پیمان کا اور یہ لوگ اس بارے میں بڑی زیادتی کرنے والے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کے بارے میں ان کا جارحانہ رویہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔