Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 100

سورة التوبة

وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ تَحۡتَہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾

And the first forerunners [in the faith] among the Muhajireen and the Ansar and those who followed them with good conduct - Allah is pleased with them and they are pleased with Him, and He has prepared for them gardens beneath which rivers flow, wherein they will abide forever. That is the great attainment.

اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Virtues of the Muhajirin, Ansar and Those Who followed Them in Faith Allah says; وَالسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالاَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الاَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ And the foremost to embrace Islam of the Muhajirin and the Ansar and also those who followed them exactly (in faith). Allah is well-pleased with them as they are well-pleased with Him. He has prepared for them Gardens under which rivers flow (Paradise), to dwell therein forever. That is the supreme success. Allah mentions that He is pleased foremost with the Muhajirin, Ansar and those who followed them in faith, and that they are well-pleased with Him, for He has prepared for them the gardens of delight and eternal joy. Ash-Sha`bi said that, وَالسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالاَنصَارِ (The foremost Muhajirin and Ansar) are those who conducted the pledge of Ar-Ridwan in the year of Hudaybiyyah. Abu Musa Al-Ash`ari, Sa`id bin Al-Musayyib, Muhammad bin Sirin, Al-Hasan and Qatadah said that; they are those who performed the prayer towards the two Qiblahs with the Messenger of Allah (first toward Jerusalem and later toward the Ka`bah). Allah, the Most Great, stated that He is pleased foremost with the Muhajirin, the Ansar and those who followed their lead with excellence. Therefore, woe to those who dislike or curse them, or dislike or curse any of them, especially their master after the Messenger, the best and most righteous among them, the Siddiq (the great truthful one) and the grand Khalifah, Abu Bakr bin Abi Quhafah, may Allah be pleased with him. The failure group, the Rafidah (a sect of Shiites), are the enemies of the best Companions, they hate and curse them, we seek refuge with Allah from such evil. This indicates that the minds of these people are twisted and their hearts turned upside down, for where are they in relation to believing in the Qur'an They curse those whom Allah stated He is pleased with! As for the followers of the Sunnah, they are pleased with those whom Allah is pleased with, curse whomever Allah and His Messenger curse, and give their loyalty to Allah's friends and show enmity to the enemies of Allah. They are followers not innovators, imitating (the Sunnah) they do not initiate it on their own. They are indeed the party of Allah, the successful, and Allah's faithful servants.

سابقوں کو بشارت اس مبارک آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ ان مہاجرین و انصار سے جو سبقت لے جانے والوں میں اولین تھے اور ان کی تابعداری کرنے کی وجہ سے انہیں اپنی رضامندی کا اظہار فرما رہا ہے کہ انہیں نعمتوں والی ابدی جنتیں اور ہمیشہ کی نعمتیں ملیں گی ۔ شعبی کہتے ہیں ان سے مراد وہ مہاجر و انصار ہیں جو حدیبیہ والے سال بیعت الرضوان میں شریک تھے ۔ لیکن حضرت موسیٰ اشعری وغیرہ سے مروی ہے کہ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر اس کا ہاتھ پکڑ کر دریافت فرمایا کہ تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ۔ آپ نے فرمایا تم میرے ساتھ ان کے پاس چلو ۔ جب ان کے پاس پہنچے تو آپ نے پوچھا تم نے اسے یہ آیت اسی طرح پڑھائی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں آپ نے پوچھا کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ۔ آپ نے فرمایا میرا تو خیال تھا کہ جس بلند درجے پر ہم پہنچے ہیں اس پر ہمارے بعد کوئی نہ پہنچے گا ۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آیت کی تصدیق سورہ جمعہ کی ( آیت واخرین منھم الخ ، ) سے اور سورہ حشر کی ( وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 10۝ۧ ) 59- الحشر:10 ) سے اور سورہ انفال کی ( وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ 74؀ ) 8- الانفال:74 ) سے بھی ہوتی ہے ۔ حضرت حسن والانصار پڑھتے تھے اور مذكوره آيت یعنی والسابقون ۔ الخ پر عطف ڈال کر پڑھتے ۔ اللہ تعالیٰ عظیم و کبیر خبردیتا ہے کہ وہ سابقین اولین مہاجر و انصار سے خوش ہے اور ان سے بھی خوش جو احسان کے ساتھ ان کے متبع ہیں ۔ افسوس ان پر ہے ، خانہ خراب وہ ہیں جو ان سے دشمنی رکھیں ، انہیں برا کہیں یا ان میں سے کسی ایک کو بھی برا کہیں یا اس سے دشمنی رکھیں ۔ خصوصاً صحابہ انصار و مہاجرین کے سردار سب سے بہتر و افضل صدیق اکبر خلیفہ عظیم حضرت ابو بکر بن ابی قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جو بھی بغض رکھے یا ان کی شان میں کوئی گستاخی کا کلمہ بولے اللہ اس سے ناراض ہے ۔ رسوائے مخلوق رافضیوں کا بدترین گروہ افضل صحابہ کو برا کہتا ہے ، ان سے دشمنی رکھتا ہے ۔ اللہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ یہی بات دلیل ہے اس پر کہ ان کی عقلیں الٹی ہیں اور ان کے دل اوندھے ہیں ۔ انہیں قرآن پر ایمان کہاں ہے؟ جب کہ یہ ان پر تبرا بھیجتے ہیں جن کی بابت قرآن میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا اظہار کھلے لفظوں میں بیان کرتا ہے ۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ہاں اہلسنت ان سے خوش ہیں جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہے اور ان کو برا کہتے ہی جنہیں اللہ تعالیٰ نے برا کہا ہے ۔ اللہ کے دوستوں سے وہ محبت کرتے ہیں ۔ اللہ کے دشمنوں کے وہ بھی دشمن ہیں ۔ وہ متبع ہیں مبتدع نہیں ۔ وہ پیروی اور اقتدا کرتے ہیں ۔ نافرمانی اور خلاف نہیں کرتے ۔ یہی جماعت اللہ تعالیٰ سے کامیابی حاصل کرنے والی ہے اور یہی اللہ کے سچے بندے ہیں کثرھم اللہ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

100۔ 1 اس میں تین گروہوں کا ذکر ہے ایک مہاجرین کا جنہوں نے دین کی خاطر، اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر مکہ اور دیگر علاقوں سے ہجرت کی اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ آگئے دوسرا انصار جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے انہوں نے ہر موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد اور حفاظت فرمائی اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی خوب پذیرائی اور تواضع کی۔ اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ تیسری قسم وہ ہے جو ان مہاجرین و انصار کے خلوص اور احسان کے ساتھ پیروکار ہیں۔ اس گروہ سے مراد بعض کے نزدیک اصطلاحی تابعین ہیں جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا لیکن صحابہ کرام کی صحبت سے مشرف ہوئے اور بعض نے اسے عام رکھا یعنی قیامت تک جتنے بھی انصار و مہاجرین سے محبت رکھنے والے اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے مسلمان ہیں، وہ اس میں شامل ہیں۔ ان میں اصطلاحی تابعین بھی آجاتے ہیں۔ 100۔ 2 اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا کا مطلب ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نیکیاں قبول فرما لیں، ان کی بشری لغزشوں کو معاف فرما دیا اور وہ ان پر ناراض نہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کے لئے جنت کی نعمتوں کی بشارت کیوں دی جاتی، جو اس آیت میں دی گئی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٢] اولین مہاجر و انصار صحابہ اور ان کے نام :۔ مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر (رض) ایمان لائے تھے۔ عورتوں میں سیدہ خدیجہ (رض) ۔ لڑکوں میں سیدنا علی اور غلاموں میں سیدنا زید بن حارثہ (رض) ان میں ماسوائے سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے باقی سب آپ کے گھر کے افراد تھے۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کی کوشش سے جو حضرات ایمان لائے ان کے نام یہ ہیں۔ سیدنا عثمان (رض) ، سیدنا زبیر بن عوام (رض) ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف (رض) ، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا طلحہ (رض) ۔ پھر ان کے بعد بہت سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ سب مہاجرین اولین اور سابقین ہیں۔ اور انصار میں سابقین و اولین وہ پانچ شخص ہیں جنہوں نے پہلے لیلۃ العقبہ میں بیعت کی تھی یعنی حضرات بن عوف (رض) ، رافع، قطبہ اور جابر (رض) ۔ پھر جنہوں نے دوسری دفعہ عقبہ میں بیت کی وہ بارہ اشخاص تھے۔ پھر تیسرے عقبہ میں ستر اشخاص نے بیعت کی۔ اور یہ سب ہجرت نبوی سے پہلے اسلام لائے تھے۔ السابقون الاولون سے مراد تو وہ ابتدائی مسلمان ہیں جنہوں نے ہر تنگی و ترشی کے وقت اسلام اور پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا تاآنکہ اللہ کا کلمہ بلند ہوگیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن مسلمانوں نے کفار اور مشرکین کے بےپناہ مظالم برداشت کیے تھے ان کا درجہ عام مسلمانوں سے بلند ہی ہونا چاہیے اور اسی لحاظ سے اللہ کے ہاں وہ اجر وثواب اور بلندی درجات کے بھی زیادہ مستحق ہیں۔ مگر ان کی تعیین میں علماء نے بہت اختلاف کیا ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے وہ مسلمان مراد ہیں جنہوں نے ہجرت نبوی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ) کی طرف نماز پڑھی۔ بعض کے نزدیک غزوہ بدر تک کے مسلمان سابقین اولین ہیں۔ بعض اس دائرہ کو صلح حدیبیہ تک وسیع کرتے ہیں اور بعض کے نزدیک تمام مہاجرین و انصار، اطراف کے مسلمانوں اور بعد میں آنے والی نسلوں کے اعتبار سے سابقین اولین ہیں۔ اور معنیٰ کے لحاظ سے ان تمام اقوال میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ سبقت اور اولیت اضافی چیزیں ہیں۔ لہذا ایک ہی شخص (یا جماعت) ایک اعتبار سے سابق اور دوسرے اعتبار سے لاحق ہوسکتا ہے۔ السابقون الاولوں کی تعیین :۔ ہمارے خیال میں سابقین اولین سے مراد غزوہ بدر تک کے مسلمان ہیں۔ اس لیے فتح بدر کے بعد اسلام ایک مقابلہ کی قوت بن گیا تھا اور دوسرے اموال غنائم سے مسلمانوں کی معیشت کو بھی تقویت پہنچی تھی۔ یا زیادہ سے زیادہ اس دائرہ کو فتح خیبر تک وسیع کیا جاسکتا ہے جبکہ حبشہ کے مہاجرین بھی واپس پہنچ گئے تھے اور مسلمانوں کی معاشی حالت اتنی سنبھل چکی تھی کہ انہوں نے انصار سے مستعار لیے ہوئے کھجوروں کے درخت بھی انہیں واپس کردیئے تھے۔ بعد کے مسلمانوں کو نہ پہلے مسلمانوں جیسے مصائب برداشت کرنا پڑے اور نہ معاشی تنگی۔ [١١٣] تابعین کی فضیلت :۔ سابقین اولین کی طرح متبعین کی تعین میں بھی اختلاف ہے کیونکہ جو بھی حد ہم سابقین اولین کی مقرر کریں گے اس کے بعد سے متبعین کا آغاز ہوجائے گا۔ بعض کے نزدیک ان سے مراد باقی صحابہ کرام (رض) ہیں بعض کے نزدیک تابعین بھی ان میں شامل ہیں اور بعض کے نزدیک تبع تابعین بھی اور قیامت تک کے مسلمان ان میں شامل ہیں۔ بشرطیکہ وہ سابقین اولین کے طریق پر قائم ہوں۔ یعنی کتاب و سنت کے پابند ہوں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہوں اور نہایت نیک نیتی کے ساتھ ان کی پیروی کرتے ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ : مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے ذکر کے بعد اس کے اردگرد رہنے والے بعض اعراب منافقین کا ذکر فرمایا، پھر بعض اعراب مومنوں کے اخلاص کا ذکر فرمایا اور انھیں اپنی رحمت کی خوش خبری سنائی، اب ان سے اعلیٰ مراتب والے خوش نصیبوں کا تذکرہ ہے۔ چناچہ اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے تین گروہوں کی تعریف فرمائی ہے، پہلا گروہ مہاجرین میں سے سبقت کرنے والے پہلے لوگ۔ ان کی تعیین میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں، وہ لوگ جنھوں نے مکہ میں اپنی جائدادیں، گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر ہجرت کی، بعض نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والے، بعض نے بدری صحابہ، بعض نے بیعت رضوان تک والے اور بعض نے فتح مکہ تک والے صحابہ مراد لیے ہیں۔ بہرحال ان سب کو دوسروں پر یقیناً ایک قسم کی سبقت حاصل ہے۔ دوسرا گروہ انصار میں سے سابقون وہ ہیں جنھوں نے مدینہ سے آکر ١١ نبوی میں مکہ میں حج کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر پہلی بیعت عقبہ کی۔ یہ سات افراد تھے، دوسری بیعت عقبہ جو ١٢ نبوی میں ہوئی اس میں ستر (٧٠) آدمی اور دو خواتین شامل تھیں، پھر وہ جو ان کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ ہجرت سے پہلے مصعب بن عمیر (رض) کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے، پھر وہ سب اہل مدینہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ آمد کے بعد مسلمان ہوئے، ان سب کو درجہ بدرجہ سبقت حاصل ہے۔ تیسرا گروہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سابقین مہاجرین و انصار کے بعد ایمان لاکر ہجرت یا نصرت کا شرف حاصل کیا، جیسا کہ سورة انفال میں مہاجرین و انصار کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ ) [ الأنفال : ٧٥ ] ” اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا۔ “ گویا صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ایمان لانے والے اور اس پر استقامت اختیار کرنے والے تمام صحابہ کرام (رض) اس تیسرے گروہ میں شامل ہیں۔ آلوسی صاحب روح المعانی نے فرمایا : ” بہت سے مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ ) سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام صحابہ کرام (رض) ہیں، کیونکہ انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت کے شرف کی بنا پر بعد والے تمام لوگوں پر سبقت حاصل ہے، جو پھر کسی کو نصیب نہ ہوسکی اور (وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ) (اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے) سے قیامت تک آنے والے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو صحابہ کرام (رض) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف قرآن اور سنت رسول پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہے۔ “ کیونکہ دوسرے کسی بھی فرقے کے لوگ اپنے امام کی تقلید کا دعویٰ تو کرسکتے ہیں، مگر تمام صحابہ کی اچھے طریقے اور نیکی سے پیروی کا دعویٰ نہیں کرسکتے، کیونکہ صحابہ کا عمل صرف قرآن و سنت پر تھا۔ اس وقت نہ فرقے تھے نہ وہ لوگ جن کے نام پر فرقے بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تفسیر بھی بالکل درست ہے، البتہ اس آیت سے صرف اصطلاحی تابعین مراد لینا کہ وہ لوگ جنھوں نے ایمان کی حالت میں صحابہ کی زیارت کی ہو ہرگز درست نہیں، کیونکہ احسان کے ساتھ مہاجرین و انصار کے پیچھے چلنے والے صرف وہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سبھی مسلمان ہیں جن کے اخلاص اور قول و عمل میں احسان پایا جاتا ہے۔ ہاں اصطلاحی تابعین بدرجۂ اولی ان میں شامل ہیں۔ صحابہ کرام (رض) میں سب سے افضل ابوبکر (رض) ہیں جو اسلام میں بھی اول ہیں اور ہجرت میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ہیں، پھر بالترتیب دوسرے خلفاء (رض) کے درجے ہیں، ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ جن میں طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبد الرحمن بن عوف اور ابوعبیدہ بن جراح (رض) شامل ہیں، پھر بدری اور عقبہ والے صحابہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے، پھر جو فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور ہجرت و نصرت کی۔ صحابہ کی فضیلت کی اس ترتیب پر اہل السنۃ والجماعہ متفق ہیں۔ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ : چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور جنت میں داخلے کی خو ش خبری کی جو وجہ بیان ہوئی ہے، یعنی ہجرت و نصرت وہ دائمی ہے۔ کوئی شخص ان سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا۔ اس لیے اس پر ملنے والی بشارت بھی دائمی اور ہمیشہ کے لیے ہے، لہٰذا ان صحابہ میں سے۔ (العیاذ باللہ) کسی کے مرتد ہونے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنی رضا اور جنت کی خوش خبری دے ہی نہیں سکتا جس کے متعلق اسے علم ہو کہ اس نے مرتد ہوجانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ حالات کا مکمل علم ہے آئندہ آنے والی ہر بات کا بھی اسی طرح مکمل علم ہے۔ وہ کفر پر مرنے والوں کو جنت اور رضا کی بشارت کیسے دے سکتا ہے ؟ پھر کتنے بدبخت اور لعنتی ہیں وہ لوگ جو ان حضرات کے خلاف عموماً اور ان میں سے افضل ترین اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبوب ترین ہستیوں ابوبکر و عمر (رض) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات امہات المومنین (رض) جو ہجرت و نصرت کا شرف بھی رکھتیں ہیں، ان کے خلاف زبان درازی، سب و شتم، تہمت تراشی اور تبرا بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The verse before this (99) carried a description of sincere and true Muslims among the Bedouins of the desert. The present verse men¬tions all sincere and true Muslims along with their relative degrees of excellence. Let us begin with the opening statement: السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِ‌ينَ وَالْأَنصَارِ‌ (the first and foremost of the Emigrants and the Supporters)._ Most commentators have taken the preposition مِن (min) for tab&id which denotes a part of something and may be translated as &out of) and thus have set up two categories of the noble Sahabah from among the Emi-grants (al-muhajirin) and the Supporters (al-ansar) - (1) ` the first and foremost,& then, (2) the rest of them. This interpretation implies that it is only first category that is re¬ferred to in the above verse, i.e. &the first and foremost&. Then, for iden¬tifying &the first and foremost& the commentators have different views. Some consider ` the first and foremost& from among the noble Compan¬ions to be those who have offered their Salah by turning to both the Qi¬blahs, that is, those who had embraced Islam before the change of Qiblab were ` the first and foremost.& This is the view of Said ibn al¬musayyab and Qatadah. &At-a& ibn Abi Rabah has said that ` the first and foremost& are the Sahabah who participated in the battle of Badr. Sha` bi said that the Sahabah who were a party to the Bai` atur-Ridwan (the pledge taken at the time of the expedition of Hudaibiyah) are ` the first and foremost.& And according to each view, after respective ` first and foremost,& the rest of the Sahabah - muhajir (emigrant) or ansar (supporter) - are in the second category. (Mahari, Qurtubi) All these views were based on the intrepretation that takes the preposition مِن (min) in this verse for tab&id as aforesaid. Tafsir Mazhari has however, reported another interpretation. According to this interpretation, the preposition مِن (min) is not for tab&id here. It is rather for bayan which explains the preceding words and stands for &that is&. The translation of the verse, in this case, would be as follows: |"As for the first and the foremost people, that is, all the Emigrants (the Muhajirin) and the supporters (the Ansar)...|" The sentence thus will mean that all the muhajirin and the Ansar are the first and foremost as compared to the rest of the Muslim community. To sum up, in accordance with the first Tafsir, there are two cate¬gories of Sahabah, being that of ` the first and foremost& and that of those who embraced Islam after the change of Qiblah or the battle of Badr or the Bai` atur-Ridwan. The substance of the last Tafsir is that the noble Sahabah, all of them, are but ` the first and the foremost& - because, their &Iman (faith) is first and foremost as compared to that of the rest of the Muslim Ummah. The second sentence of the verse: وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ has been translat¬ed as ` and those who followed them in goodness.& It means Muslims who followed the footsteps of ` the first and foremost& precisely and per¬fectly in all fields of deeds and morals. According to the first Tafsir of the first sentence, the first category belongs to those Emigrants and Supporters among Sahabah who embraced Islam after the change of Qiblah or the battle of Badr or the Bai&at of Hudaibiyah. After them, all Muslims fall in the second category, Muslims who followed the model set by the noble Sahabah in all matters of faith, deeds and mo¬rals honestly and staunchly right through the Last Day of Qiyamah. And according to the other Tafsir, the expression: الَّذِينَ اتَّبَعُوا (those who followed them) includes great people who came after the noble Sahabah and who are called Tabi` i in the Islamic terminology. After these technically specified Tabi` in or Successors of the Sahabah, included here are all Muslims who shall keep appearing right through the Last Day of Qiyamah and who shall follow the noble Sahabah precisely and perfectly in purity of faith and goodness of deeds (al-1man and al amal-as-salih). All the Sahabah are the people of Jannah and are blessed with the pleasure of Allah Someone asked Muhammad ibn Ka&b al-Qurazi, ` what do you say about the noble Companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said, ` the Sahabah, all of them, are in Jannah - irrespective of whether mistakes and sins may have been committed by some of them.& The man again asked him, ` on what basis did you say that?& He said, ` Read this verse of the Holy Qur&an: السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ (...the first and foremost...). Here, what has been said about all revered Sahabah, without any condition, is clear: رَّ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ (Allah is pleased with them and they are pleased with Allah). However, a condition has been placed in the case of the Tabi` in (the successor to the Sahabah), the condition of: اتباع باحسان (following with goodness). This tells us that the revered Sahabah, all of them, without any condition or restriction or exemption, stand in honor as recipients of Divine pleasure. After reporting this statement, the author of Tafsir Mazhari has said, ` in my view, the following verse carries a more solid proof of the fact that all revered Sahabah belong to Jannah: لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَ‌جَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّـهُ الْحُسْنَىٰ. It has been fully and clearly stated in this verse that all revered Sahabah, first or the last, have been promised al-husna, that is, Jannah or Paradise.& And in Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been reported to have said, ` the fire of Jahannam (hell) cannot touch the Muslim who has seen me or has seen those who have seen me,& (Tirmidhi from Sayyidna Jabir (رض) ) A note of warning People who criticize some revered Sahabah on the basis of what transpired during their mutual controversies with the aim of sowing seeds of suspicion and discord in the hearts of those who hold them in esteem are really treading a dangerous course. We seek the protection of Allah against it.

خلاصہ تفسیر اور جو مہاجرین اور انصار ( ایمان لانے میں سب امت سے) سابق اور مقدم ہیں اور ( بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ( ایمان لانے میں) ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا ( کہ ان کا ایمان قبول فرمایا جس پر ان کو جزا ملے گی) اور وہ سب اللہ سے راضی ہوئے ( کہ اطاعت اختیار کی جس کی جزاء سے یہ رضا اور زیادہ ہوگی) اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ( اور) یہ بڑی کامیابی ہے۔ معارف و مسائل اس سے پہلی آیت میں دیہاتی مؤمنین مخلصین کا ذکر تھا، اس آیت میں تمام مؤمنین مخلصین کا ذکر ہے، جن میں ان کے درجات فضیلت کا بھی بیان ہے۔ (آیت) وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ ، اس جملہ میں اکثر حضرات مفسرین نے حرف من کو تبعیض کے لئے قرار دے کر مہاجرین و انصار، صحابہ کرام کے دو طبقے قائم کئے ہیں، ایک سابقین اولین کا دوسرا دوسرے درجے کے حضرات صحابہ کرام کا۔ پھر اس میں اقوال مختلفہ ہیں، بعض حضرات نے صحابہ کرام میں سے سابقین اولین ان کو قرار دیا ہے جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے، یعنی تحویل قبلہ سے پہلے جو مسلمان ہوچکے تھے وہ سابقین اولین ہیں، یہ قول سعید بن مسیب اور قتادہ کا ہے، حضرت عطاء بن ابی رباح نے فرمایا کہ سابقین اولین وہ صحابہ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے، اور شبعی نے فرمایا کہ جو صحابہ حدیبیہ کی بیعت رضوان میں شریک ہوئے وہ سابقین اولین ہیں، اور ہر قول کے مطابق باقی صحابہ کرام مہاجر ہوں یا انصار سابقین اولین کے بعد دوسرے درجے میں ہیں ( مظہری۔ قرطبی ) ۔ اور تفسیر مظہری میں ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ حرف من کو اس آیت میں تبعیض کے لئے نہ لیا جائے بلکہ بیان کے معنی میں ہو تو مفہوم اس جملے کا یہ ہوگا کہ تمام صحابہ کرام بہ نسبت باقی امت کے سابقین اولین ہیں، اور مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ اس کا بیان ہے، بیان القرآن کا خلاصہ تفسیر جو اوپر نقل کیا گیا اس میں اسی تفسیر کو اختیار کیا گیا ہے۔ پہلی تفسیر کے مطابق صحابہ کرام میں دو طبقے ہوجاتے ہیں، ایک سابقین اولین کا، دوسرا وہ جو تحویل قبلہ یا غزوہ بدر یا بیعت رضوان کے بعد مسلمان ہوئے، اور آخری تفسیر کا حاصل یہ ہوا کہ صحابہ کرام سب کے سب سابقین اولین ہی ہیں کیونکہ ان کا ایمان باقی امت سے اول اور سابق ہے۔ (آیت) وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ، یعنی جن لوگوں نے اعمال و اخلاق میں سابقین اولین کا اتباع مکمل طریقہ پر کیا، پہلے جملے کی پہلی تفسیر کے مطابق ان لوگوں میں درجہ اول ان مہاجرین و انصار صحابہ کا ہے جو تحویل قبلہ یا غزوہ بدر یا بیعت حدیبیہ کے بعد مسلمان ہو کر صحابہ کرام میں داخل ہوئے، دوسرا درجہ ان کے بعد کے سب مسلمانوں کا ہے، جو قیامت تک ایمان اور اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ میں صحابہ کرام کے اسوہ پر چلے، اور ان کا مکمل اتباع کیا۔ اور دوسری تفسیر کے مطابق الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا میں صحابہ کرام کے بعد کے حضرات داخل ہیں جن کو اصطلاح میں تابعی کہا جاتا ہے، پھر ان اصطلاحی تابعین کے بعد قیامت تک آنے والے وہ سب مسلمان بھی اس میں شامل ہیں جو ایمان و عمل صالح میں صحابہ کرام کا مکمل اتباع کریں۔ صحابہ کرام سب کے سب بلا استثناء جنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضاء سے مشرف ہیں : محمد بن کعب قرظی سے کسی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں، انھوں نے کہا کہ صحابہ کرام سب کے سب جنت میں ہیں اگرچہ وہ لوگ ہوں جن سے دنیا میں غلطیاں اور گناہ بھی ہوئے ہیں، اس شخص نے دریا فت کیا کہ یہ بات آپ نے کہاں سے کہی، ( اس کی کیا دلیل ہے) انہوں نے فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت پڑھو : السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اس میں تمام صحابہ کرام کے متعلق بلا کسی شرط کے رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ارشاد فرمایا ہے البتہ تابعین کے معاملہ میں اتباع باحسان کی شرط لگائی گئی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بلا کسی قید و شرط کے سب کے سب بلا استثناء رضوان الہٰی سے سرفراز ہیں۔ تفسیر مظہری میں یہ قول نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ میرے نزدیک سب صحابہ کرام کے جنتی ہونے پر اس سے بھی زیادہ واضح استدلال اس آیت سے ہے : (آیت) لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْ آ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى، اس آیت میں پوری صراحت سے یہ بیان کردیا گیا ہے کہ صحابہ کرام اولین ہوں یا آخرین سب سے اللہ تعالیٰ نے حسنی یعنی جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جہنم کی آگ اس مسلمان کو نہیں چھو سکتی جس نے مجھے دیکھا ہے یا میرے دیکھنے والوں کو دیکھا ہے ( ترمذی عن جابر ) ۔ تنبیہ : جو لوگ صحابہ کرام کے باہمی مشاجرات اور ان میں پیش آنے والے واقعات کی بناء پر بعض صحابہ کرام کے متعلق ایسی تنقیدات کرتے ہیں جن کو پڑھنے والوں کے قلوب ان کی طرف سے بد گمانی میں مبتلا ہوسکیں، وہ اپنے آپ کو ایک خطرناک راستہ پر ڈال رہے ہیں، نعوذباللہ منہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِـاِحْسَانٍ۝ ٠ ۙ رَّضِيَ اللہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝ ٠ ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝ ١٠٠ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11][ أَنْ يَسْبِقُونَا } يَفُوتُونَا فَلَا نَنْتَقِم مِنْهُمْ ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے یعنی چھوٹ جائیں گے ، تو ہم ان سے انتقام نہ لے سکیں گے۔ هجر والمُهاجرَةُ في الأصل : مصارمة الغیر ومتارکته، من قوله عزّ وجلّ : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] ، وقوله : لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] ، وقوله : وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] ، فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] فالظاهر منه الخروج من دار الکفر إلى دار الإيمان کمن هاجر من مكّة إلى المدینة، وقیل : مقتضی ذلك هجران الشّهوات والأخلاق الذّميمة والخطایا وترکها ورفضها، وقوله : إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] أي : تارک لقومي وذاهب إليه . ( ھ ج ر ) الھجر المھاجر ۃ کے اصل معی) تو ایک دوسرے سے کٹ جانے اور چھوڑ دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور ۃ کفار سے ) جنگ کرتے رہے ۔ اور آیات قرآنیہ : ۔ لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] فے کے مال میں محتاج مہاجرین کا ( بھی ) حق ہے ۔ جو کافروں کے ظلم سے اپنے گھر اور مال سے بید خل کردیئے گئے ۔ وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے ۔ فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] تو جب تک یہ لوگ خدا کی راہ میں ( یعنی خدا کے لئے ) ہجرت نہ کر آئیں ان میں سے کسی کو بھی اپنا دوست نہ بنانا ۔ میں مہاجرت کے ظاہر معنی تو دار الکفر سے نکل کر وادلاسلام کی طرف چلے آنے کے ہیں جیسا کہ صحابہ کرام نے مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی لیکن بعض نے کہا ہے کہ ہجرت کا حقیقی اقتضاء یہ ہے کہ انسان شہوات نفسانی اخلاق ذمیمہ اور دیگر گناہوں کو کلیۃ تر ک کردے اور آیت : ۔ إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] اور ابراہیم نے کہا کہ میں تو دیس چھوڑ کر اپنے پروردگاع کی طرف ( جہاں کہیں اس کو منظور ہوگا نکل جاؤ نگا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی قوم کو خیر باد کہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف چلا جاؤں گا ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔ رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقال عزّ وجلّ : وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] ، والرِّضْوَانُ : الرّضا الکثير، ولمّا کان أعظم الرِّضَا رضا اللہ تعالیٰ خصّ لفظ الرّضوان في القرآن بما کان من اللہ تعالی: قال عزّ وجلّ : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] ، وقال تعالی: يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] ، وقال : يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ، وقوله تعالی: إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، أي : أظهر كلّ واحد منهم الرّضا بصاحبه ورَضِيَهُ. ( ر ض و ) رضی ( س ) رضا فھو مرضی و مرضو ۔ راضی ہونا ۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ قضائے الہیٰ سے اس پر وارد ہو وہ اسے خوشی سے بر داشت کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے اپنے اوامر کا بجا لانے والا اور منہیات سے رکنے والا پائے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] تو اللہ تعالیٰ ضرور ان مسلمانوں سے خوش ہوتا ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] اور ہم نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا : ۔ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] کیا آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر قناعت کر بیٹھے ہو ۔ يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] اپنی زبانی باتوں سے تو تم کو رضا مند کردیتے ہیں اور ان کے دل ہیں کہ ان باتوں سے انکار کرتے ہیں ۔ وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ ( بھی ) تم ان کو دوگے وہ ( لے کر سب ) راضی ہوجائیں گی ۔ الرضوان رضائے کثیر یعنی نہایت خوشنودی کو کہتے ہیں ۔ چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اس لئے قرآن پاک میں خاص کر رضا الہی ٰ کے لئے رضوان کا لفظ استعما ل ہوا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] اور ( لذت ) دنیا کا چھوڑ بیٹھنا جس کو انہوں نے از خود ایجاد کیا تھا ہم نے وہ طریق ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر ( ہاں ) انہوں نے اس کو خدا ( ہی ) کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایجاد کیا تھا ۔ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] اور خدا کے فضل اور خوشنودی کی طلب گاری میں لگے رہتے ہیں ۔ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضامندی کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔۔ : إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، جب جائز طور پر آپس میں وہ راضی ہوجائیں ۔ میں تراضوا باب تفاعل سے ہے جس کے معنی باہم اظہار رضامندی کے ہیں ، عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں الجَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ جَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ نهر النَّهْرُ : مَجْرَى الماءِ الفَائِضِ ، وجمْعُه : أَنْهَارٌ ، قال تعالی: وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، ( ن ھ ر ) النھر ۔ بافراط پانی بہنے کے مجری کو کہتے ہیں ۔ کی جمع انھار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔ ابد قال تعالی: خالِدِينَ فِيها أَبَداً [ النساء/ 122] . الأبد : عبارة عن مدّة الزمان الممتد الذي لا يتجزأ كما يتجرأ الزمان، وذلک أنه يقال : زمان کذا، ولا يقال : أبد کذا . وكان حقه ألا يثنی ولا يجمع إذ لا يتصور حصول أبدٍ آخر يضم إليه فيثنّى به، لکن قيل : آباد، وذلک علی حسب تخصیصه في بعض ما يتناوله، کتخصیص اسم الجنس في بعضه، ثم يثنّى ويجمع، علی أنه ذکر بعض الناس أنّ آباداً مولّد ولیس من کلام العرب العرباء . وقیل : أبد آبد وأبيد أي : دائم «2» ، وذلک علی التأكيد . وتأبّد الشیء : بقي أبداً ، ويعبّر به عما يبقی مدة طویلة . والآبدة : البقرة الوحشية، والأوابد : الوحشیات، وتأبّد البعیر : توحّش، فصار کالأوابد، وتأبّد وجه فلان : توحّش، وأبد کذلک، وقد فسّر بغضب . اب د ( الابد) :۔ ایسے زمانہ دراز کے پھیلاؤ کو کہتے ہیں ۔ جس کے لفظ زمان کی طرح ٹکڑے نہ کئے جاسکیں ۔ یعنی جس طرح زمان کذا ( فلا زمانہ ) کہا جا سکتا ہے ابدکذا نہیں بولتے ، اس لحاظ سے اس کا تنبیہ اور جمع نہیں بننا چا ہیئے ۔ اس لئے کہ ابد تو ایک ہی مسلسل جاری رہنے والی مدت کا نام ہے جس کے متوازی اس کی جیسی کسی مدت کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ کہ اسے ملاکر اس کا تثنیہ بنا یا جائے قرآن میں ہے { خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا } [ النساء : 57] وہ ابدالاباد ان میں رہیں گے ۔ لیکن بعض اوقات اسے ایک خاص مدت کے معنی میں لے کر آباد اس کی جمع بنا لیتے ہیں جیسا کہ اسم جنس کو بعض افراد کے لئے مختص کر کے اس کا تثنیہ اور جمع بنا لیتا جاتا ہے بعض علمائے لغت کا خیال ہے کہ اباد جمع مولّدہے ۔ خالص عرب کے کلام میں اس کا نشان نہیں ملتا اور ابدابد وابدابید ( ہمیشہ ) ہمیشہ کے لئے ) میں دوسرا لفظ محض تاکید کے لئے لایا جاتا ہے تابدالشئی کے اصل معنی تو کسی چیز کے ہمیشہ رہنے کے ہیں مگر کبھی عرصہ درازتک باقی رہنا مراد ہوتا ہے ۔ الابدۃ وحشی گائے ۔ والجمع اوابد وحشی جانور) وتأبّد البعیر) اونٹ بدک کر وحشی جانور کی طرح بھاگ گیا ۔ تأبّد وجه فلان وأبد ( اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے ) بعض کے نزدیک اس کے معنی غضب ناک ہونا بھی آتے ہیں ۔ فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار والذین اتیعوھم باحسان اور وہ مہاجر انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے۔ آیت میں اس بات کی دلالت موجود ہے کہ نیکی اور بھلائی کی طرف سبقت کر جانے والا بعد میں آنے والے سے افضل ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ سبقت کر کے وہ گویا اس نیکی کا داعی بن جاتا ہے اور بعد میں آنے والا اس کا تابع قرار پاتا ہے۔ اس طرح سابق تابع کا امام ہوتا ہے اور اسے تابع کے اجر کے برابر بھی اجر ملتا ہے ۔ جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ( من سن سنۃ حسنۃ فلہ اجوھا واجرمن عمل بھا الی یومالقیامۃ ومن سن سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرھا ووزدمن عمل بھا الی یوم القیمۃ ۔ جس شخص نے کسی نیکی کی بنیاد رکھی ۔ اسے اس کا اجر ملے گا اور قیامت تک اس نیکی پر عمل والوں کے اجر کے برابر بھی اسے اجرملتا رہے گا ۔ اور جس شخص نے کسی بدی کی بنیاد رکھی اس پر اس بدی کے گناہ کا بوجھ ہوگا اور قیامت تک اس بدی پرچلنے والے لوگوں کے گناہ کا بوجھ بھی اس پر ڈالا جائے گا ۔ اسی طرح بدی کی طرف سبقت کرنے والے کا حال بعد میں آنے والے کے حال سے بدتر ہوگا اس لیے کہ سبقت کرنے والے نے گویا بعد میں آنے والوں کے لیے اس بدی کی بنیاد رکھ دی ۔ قو ل باری ہے ولیحملن اثقالھم واثقالا ً مع اثقالھم اور یہ لوگ ضرور اپنے گناہوں کی بوجھ اٹھائیں اور ان کے ساتھ کئی اور بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ یعنی ان لوگوں کے گناہوں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہوں نے بدی کے اندر ان کی پیروی کی ہوگی ۔ ارشاد باری ہے ومن اجل ذلک کتبنا علی بنی اسرائیل انہ من قتل نفسا ً بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمعیا ً ۔ اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ما من قتیل ظلما الاد علی ابن آدم القا تل کفل من دمہ لانہ اول من سن القتل ۔ جو شخص بھی ظلما ً قتل کیا جائے گا اس کے خون کا ایک حصہ آدم کے قاتل بیٹے پر بھی ڈالا جائے گا اس لیے کہ اس نے ہی سب سے پہلے قتل کی ابتداء تھی۔ اس آیت کا نزون کن حضرات صحابہ کے بارے میں ہوا اس میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) ، سعید بن المسیب ، ابن سیرین اور قتادہ سے مروی ہے کہ اس کا نزول ان صحابہ کے بارے میں ہوا تھا۔ جنہیں قبلیتن یعنی بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ شعبی کا قول ہے کہ جو حضرت بیعت رضوان میں شامل تھے وہ مراد ہیں ۔ دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ ہجرت سے قبل مسلمان ہوجانے والے لوگ مراد ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٠) یعنی جو اولین ایمان لانے والے اور مقدم ہیں اور جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے، اور بدر میں شریک ہوئے ہیں اور قیامت کے فرض ادا کرنے اور گناہ سے بچنے میں جتنے لوگ ان کے پیرو ہیں، اللہ رب العزت ان سب سے راضی ہوئے اور وہ سب اللہ رب العزت سے اجروثواب کے ملنے سے راضی ہوئے اور رب العزت کی طرف سے ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے درختوں اور مکانات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گے، وہ جنت میں سدا رہیں گے، وہ موت وحیات کی کشمکش سے آزاد ہوں گے اور اللہ رب العزت کی خوشنودی اور باغات بہت بڑی کامیابی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب اہل ایمان کے مابین حفظ مراتب کا مضمون آ رہا ہے ‘ کیونکہ کسی بھی معاشرے میں تمام انسان برابر نہیں ہوتے : ؂ خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد ! مدینہ کے اس معاشرے میں بھی سب لوگ نظریاتی طور پر برابر نہیں تھے ‘ حتیٰ کہ جو منافقین تھے وہ بھی سب ایک جیسے منافق نہیں تھے۔ چونکہ انسانی فطرت تو تبدیل نہیں ہوتی اس لیے آئندہ بھی جب کبھی کسی مسلمان معاشرے میں کوئی دینی تحریک اٹھے گی تو اسی طرح کی صورت حال پیش آئے گی۔ تحریک کے ارکان کے درمیان درجہ بندی کا ایک واضح اور غیر مبہم ادراک نا گزیر ہوگا۔ لہٰذا یہ درجہ بندی حکمت قرآنی کا ایک بہت اہم موضوع ہے اور اس اعتبار سے یہ آیات بہت اہم ہیں۔ آیت ١٠٠ (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍلا) (رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط) (ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) اس درجہ بندی کے مطابق اہل ایمان کے یہ دو مراتب بلند ترین ہیں۔ یعنی سب سے اوپر السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اور اس کے بعد ان کے پیروکار۔ (اس سے پہلے ایک درجہ بندی ہم سورة النساء کی آیت ٦٩ میں انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کے مراتب میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ مگر وہ درجہ بندی کسی اور اعتبار سے ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں) ۔ بنیادی طور پر ان دونوں گروہوں کے لوگ نیک سیرت ہیں جو فطرت سلیمہ اور عقل سلیم سے نوازے گئے ہیں۔ البتہ ان کی آپس کی درجہ بندی میں جو فرق ہے وہ ان کی طبیعت اور ہمت کے فرق کے باعث ہے۔ ان میں سے درجہ اول (السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ) پر فائز دراصل وہ لوگ ہیں جو حق کو سامنے آتے ہی فوراً قبول کرلیتے ہیں۔ حق ان کے لیے اس قدر قیمتی متاع ہے کہ اس کی قبولیت میں ذرا سی تاخیر بھی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ وہ اتنے باہمت لوگ ہوتے ہیں کہ قبول حق کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ اس کے نتائج و عواقب کے بارے میں سوچ بچار میں نہیں پڑتے۔ وہ اس خیال کو خاطر میں نہیں لاتے کہ اس کے بعد انہیں کیا کچھ چھوڑنا ہوگا اور کیا کچھ بھگتنا پڑے گا۔ نہ وہ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے آگے اس راستے پر پہلے سے کوئی چل بھی رہا ہے یا نہیں ‘ اور اگر نہیں چل رہا تو کسی اور کے آنے کا انتظار کرلیں ‘ سب سے پہلے ‘ اکیلے وہ کیونکر اس پر خطر وادی میں کود پڑیں ! وہ ان سب پہلوؤں پر سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرتے ‘ حق کو قبول کرنے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ‘ کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے ‘ عقل کے دلائل کی منطق میں نہیں پڑتے اور ع ہرچہ باداباد ‘ ما کشی در آب اندا ختیم کے مصداق آتش ابتلا میں کود جاتے ہیں۔ بقول اقبالؔ : ؂ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے کہ محو تماشائے لب بام ابھی ! دوسرے درجہ میں وہ لوگ ہیں جو ان السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے اتباع میں داعئ حق کی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔ یہ بھی سلیم الفطرت لوگ ہوتے ہیں ‘ حق کو پہلی نظر میں پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کی قبولیت کے لیے آمادہ بھی ہوتے ہیں ‘ مگر ان میں ہمت قدرے کم ہوتی ہے۔ یہ ہرچہ بادا باد والا نعرہ بلند نہیں کرسکتے اور چاہتے ہیں کہ یہ نئی پگڈنڈی ذرا راستے کی شکل اختیار کرلے ‘ ہمارے آگے کوئی دو چار لوگ چلتے ہوئے نظر آئیں تو ہم بھی ان کے پیچھے چل پڑیں گے۔ یعنی اس میں معاملہ نیت کے کسی خلل کا نہیں ‘ صرف ہمت کی کمی کا ہے۔ اور وہ بھی اس لیے کہ ان کی طبائع ہی اس نہج پر بنائی گئی ہیں ‘ جیسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَلنَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الْفِضَّۃِ وَالذَّھَبِ ) (١) انسان (معدنیات کی) کانوں کی طرح ہیں ‘ جیسے چاندی اور سونے کی کانیں ہوتی ہیں۔ یعنی جس طرح معدنیات کی قسمیں ہوتی ہیں اسی طرح انسانوں کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ ظاہر ہے آپ سونے کی کچ دھات (ore) کو صاف کریں گے تو خالص سونا حاصل ہوگا۔ چاندی کی ore کو خواہ کتنا ہی صاف کرلیں وہ سونا نہیں بن سکتی۔ اسی طرح انسانوں کے طبائع میں جو بنیادی فرق ہوتا ہے اس کے سبب سب انسان برابر نہیں ہوسکتے۔ بہر حال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اور ان کے اتباع میں حق کو قبول کرنے والوں کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے ‘ کیونکہ ان متبعین نے بھی حق کو حق سمجھ کر قبول کیا ہے ‘ پوری نیک نیتی سے قبول کیا ہے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے قبول کیا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی اور غرض ‘ کوئی اور عامل ‘ کوئی اور مفاد ان کے پیش نظر نہیں تھا۔ بس تھوڑی سی ہمت کی کمی تھی جس کی وجہ سے وہ سبقت نہ لے سکے ‘ مگر دوسرے درجے پر فائز ہوگئے۔ اب یہاں ایک اہم بات یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مہاجرین میں سے بھی ہیں اور انصار میں سے بھی ‘ اور پھر ان میں ان کے اپنے اپنے متبعین ہیں۔ انصار چونکہ کہیں دس سال بعد ایمان لائے تھے ‘ اس لیے اگر زمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو گروہ مہاجرین میں سے جو اصحاب متبعین قرار پائے ہیں وہ انصار کے السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ سے بھی پہلے ایمان لائے تھے ‘ مگر اس درجہ بندی اور مراتب میں وہ ان سے پیچھے ہی رہے۔ اس لیے کہ یہاں پہلے یا بعد میں آنے کا اعتبار زمانی لحاظ سے نہیں ‘ بلکہ یہ مزاج کا معاملہ ہے اور اس پہلے رد عمل کا معاملہ ہے جو کسی کے مزاج سے اس وقت ظہور پذیر ہوا جب اس نے پہلی دفعہ حق کو پہچانا۔ لہٰذا اگرچہ اہل مدینہ (جو بعد میں انصار کہلائے) بہت بعد میں ایمان لائے تھے مگر ان میں بھی وہ لوگ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ہی قرار پائے تھے جنہوں نے حق کو پہچان کر فوراً لبیک کہا ‘ پھر نہ نتائج کی پروا کی اور نہ کوئی مصلحت ان کے آڑے آئی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠٠۔ گنواروں کے بعد اللہ جل شانہ شہر والوں کا ذکر فرمایا ہے اس مقام پر مفسرین کا اختلاف ہے کہ سابقین سے کون لوگ مراد ہیں لیکن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے شاگردوں میں جہاد مجاہد کا قول نہ ہو تو سعید بن المسیب کے قول کے موافق رفع اختلاف کیا جاتا ہے سعید بن مسیب کے قول کے موافق مہاجرین اور انصار میں سابقین وہ صحابہ ہیں جو بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں قبلوں کی نمازوں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شریک ١ ؎ تھے۔ عطاء بن ابی رباح کا قول ہے کہ جو صحابہ بدر کی لڑائی سے پہلے اسلام لائے اور اس لڑائی میں شریک ہوئے ان ہی کو سابقون فرمایا ٢ ؎ ہے۔ یہی قول شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں لیا ہے۔ دو قبلوں کی نماز اور بدر کی لڑائی یہ دونوں باتیں ایک ہی سال ٢؁ ہجری کی ہیں اس واسطے سعید بن المسیب اور عطاء بن ابی رباح کے قول میں کچھ اختلاف نہیں ہے اتبعو ھم باحسان سے باقی کے صحابہ مقصود ہونگے اور حاصل معنے یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے راضی ہے اور یہ لوگ خدا سے راضی ہیں ان کے لئے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اور خدا کا وعدہ جھوٹا نہیں ہے یہ لوگ قطعی جنتی ہیں جن کے دل میں ان کی طرف سے بعض ہے یا جو ان میں سے اور ان لوگوں کے لئے جنت مقرر کرچکا۔ حاصل یہ ٹھہرا کہ اس آیت میں فقط صحابہ کا ذکر ہے تابعین کا ذکر نہیں صحابہ کے ساتھ تابعین کا ذکر سورة حشر میں آویگا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید (رض) خدا ری کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے صحابہ کے حق میں کوئی شخص کسی طرح کی کوئی بری بات منہ سے نہ نکالے میرے اصحاب کا بڑا درجہ ہے ان کا تھوڑا نیک عمل اوروں کے تو عملوں سے بہتر ہے یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس سے صحابہ کی شان نور ان کی بدگوئی سے زبان کو روکنے کی تاکید معلوم ہوتی ہے۔ ١ ؎ تفسیر ابن جریر ص ٧ ج ١١ و تفسیر الدر المنثورص ٢٧١ ج ٣ تفسیر ابن کثیر ٣٤ /٢٨٣ ٢ ؎ تفسیر معالم التزیل ص ٢٢٨ ج ٤

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:100) السابقون۔ آگے پہنچنے والے۔ آگے بڑھنے والے۔ سبق سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ سابق کی جمع۔ الاولون۔ اول کی جمع۔ السابقون الاولون من المھجرین والانصار۔ (مہاجرین و انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے ایمان و اطاعت میں سبقت اور پہل کی) سے کون حضرات مراد ہیں۔ ان کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) شعبی کہتے ہیں ان سے مراد مہاجرین و انصار ہیں جنہوں نے جنگ حدیبیہ میں بیعت رضوان کا شرف حاصل کیا۔ (2) حضرت ابو موسیٰ اشعری۔ سعید بن المسیب۔ حسن اور قتادہ (رض) کا قول ہے کہ : ان سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قبلتین کی طرف نماز پڑھی ۔ (3) وہ لوگ جو جنگ بدر میں شہید ہوئے۔ اور اگر انصار کو مہاجرین سے الگ ایک طائفہ لیا جائے تو اس سے مراد وہ انصار ہوں گے جو (1) بیعت عقبہ اولیٰ اور عقبۃ الشانیہ سے مشرف ہوئے تھے۔ (2) جنہوں نے حضرت ابو ذرارہ۔ مصعب بن عمیر (رض) کی تبلیغ و تعلیم پر جب وہ مدینہ شریف آئے تھے ایمان و اسلام قبول کیا۔ بعض نے الانصار کو آراء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کو السابقون پر عطف قرار دیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا (رہے وہ لوگ) جو مہاجرین میں سے سابقون اولون ہیں اور انصار۔ اور جنہوں نے احسن طریقہ سے ان کی پیروی کی۔ تو راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ ان سے اور وہ راضٰ ہوگئے اللہ تعالیٰ سے۔ لیکن پہلی قرأت جمہور کے نزدیک اصح ہے۔ باحسان۔ عمدگی کے ساتھ احسن طریقہ سے۔ احسان کے معنی غیر کے ساتھ بھلائی کرنے اور کسی اچھی بات کے معلوم کرنے اور نیک کام کے انجام دینے کے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 بعض اعراب (گنواروں) کا اخلاص اور ان کو رحمت کی خوش خبری سنانے کے بعد ان سے اعلی مراتب کے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا یعنی مہاجرین اور انصار جنہوں نے ہجرت و نصرت دین میں پہل کی۔ ان کی تعیین میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اول سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی اور بعض نے بیعت رضوان (صلح حدیبیہ) میں شامل ہونے والے اور بعض نے بدری صحابہ مراد لیے ہیں۔ اور انصار سے مراد وہ لوگ ہیں جو بیعت عقبہ (اولی و ثانیہ) میں شریک ہوئے اور پھر وہ لوگ جو مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر کی آمد پر مسلمان ہوگئے تھے۔ مگر ہجرت و نصر کے اعتبار سے درجہ بدرجہ سبھی صحابہ مراد لیے جاسکتے ہیں۔ پھر صحابہ میں سب سے افضل حضرت ابوبکر کا درجہ ہے جو اسلام میں بھی اول ہیں اور ہجرت میں بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ہیں۔ پھر بالترتیب دوسرے خلفا کے درجے ہیں۔ ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ جن میں طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبدالرحمن بن عوف اور ابو عبیدہ بن جراح (رض) شامل ہیں۔ پھر بدری عقبی صحابہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد وہ جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے۔ صحابہ کی فضیلت کی اس ترتیب میں اہل السنت و الجماعۃ تقریبا متفق ہیں گو بعض علما حضرت علی کی افضیلت کے بھی قائل ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ حضرت نے حضرت ابوبکر کے بعد ہجرت کی تھی۔ (از کبیر و ابن کثیر) 2 ۔ ان سے مراد وہ صحابہ ہیں جو بعد میں ایمان لائے اور ہجرت بھی کی جیسا کہ سورة انفال آیت 75 میں مہاجرین اور انصار کا تزکرہ کرنے کے بعد فرمایا : والذین امنوا من بعد وھاجروا کہ جو ان کے بعد ایمان لائے اور پھر ہجرت بھی کی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " اتبعوھم باحسان " سے قیامت تک کے وہ تمام مسلمان مراد ہوں جو صحابہ کرام کے نقش قدم پر ہیں اور ان کے قول و عمل میں احسان پایا جاتا ہے۔ بہرحال ان سے اصطلاحی تابعین ہی مراد نہیں ہیں۔ (کبیر۔ شوکانی) 3 ۔ چونکہ رضائے الٰہی کے حصول اور جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری جس علت پر مترتب ہورہی ہے وہ دائمی ہے یعنی ہجرت و نصرت میں پہل، اس لیے یہ بشارت بھی دائمی ہے۔ لہذا ان صحابہ میں سے العیاذ باللہ کسی ایک کے متعلق ارتداد کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ پھر کتنے بدبخت اور لعنتی ہیں وہ لوگ جو ان حضرت کے خلاف عموما اور ان افضل ترین ہستیوں (حضرت ابوبکر و حضرت عمر) کے خلاف خصوصا زبان درازی، سب و شتم اور تبرا بازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔ از وحیدی

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١٠٠ تا ١١٠ اسرار و معارف سابقون الا ولون بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔ اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے اس کے علاوہ جو صحابہ رضو ان اللہ علیہم اجمعین بھی ہیں اگرچہ شرف صحابیت سے سب مزین ہیں اور سب کے لئے اللہ کی رضا اور جنت کی بشارت قرآن کریم میں موجود ہے مگر اس آیہ کریمہ کے اعتبار سے وہ تیسری جماعت ہیں اور پھر تابعین یا قیامت تک آنے والے مسلمان اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اسی تیسرہ جماعت میں شامل ہیں یعنی مہاجر انصار اور خلوص دل سے ان کے نقوش پاپہ چلنے والے ۔ چوتھا کوئی گروہ ہے نہ جماعت اور نہ اس کا کوئی تصور۔ فنافی الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقیقی کیفیت یہ پہلی دوجماعتیں اس قدربرکات حاصل کرپائی ہیں کہ باقی سب اہل اسلام کے لئے خلوص قلب سے ان کی پیروی ہی نجات کا واحد راستہ ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ مطاع اور متبوع صرف ہوتا ہے کہ نبی خطا سے پاک یعنی معصوم ہوتا ہے اور صحابی کو یہ درجہ حاصل نہیں مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے مہاجرین وانصار کو وہ برکات نبوی نصیب ہوئیں کہ انھیں فنافی الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا درجہ کامل نصیب ہواجس کی خصوصیت یہ ہے کہ اپنی سوچ اپنا ارادہ ہی نہ رہے اور ساری سوچ ہی یہ ہو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد کیا ہے ۔ بعض لوگوں نے سابقون الا ولون کے بھی جو امام اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلفاء تھے ان کی ذوات پر بھی اعتراض کئے ہیں مگر وہ ان کی حیثیت بھول کر شیعہ مئورخوں کی روایات پہ تکیہ کرکے اعتراض کرتے ہیں جن کی بات کتاب اللہ کے ارشادات کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی نیز تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جنتی ہونا اور اللہ کی رضا کو پالینا قرآن کریم سے ثابت ہے ۔ لہٰذا ان کی عظمت اور اس درجے کا انکار کتاب اللہ کا انکار ہے جو صریح کفر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کر ام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی قرآن کے مثالی مسلمان ہیں لہٰذا تینوں جماعتیں جو اللہ کی رضا کو پانے والی ہیں ان میں سابقین مہاجر اور انصار بھی اور ان کا اتباع خلوص دل دے کرنے والے بھی پھر قیامت تک کی انسانیت کے لئے ضروری ہے کہ خودکو تیسرے گروہ میں اپنی حیثیت کے مطابق داخل کرے یعنی عقیدہ ان جیسا ہو عمل انہی جیسا ہو اور خلوص دل سے ہو کہ شرط ہے ۔ والذین اتبعوا ھم باخسان جن لوگوں نے خلوص قلب کے ساتھ کی پیروی کرلی ۔ یہاں کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ بعض صحابہ (رض) سے واقعی قصور بھی ہوئے تو کیا غلطی میں بھی ان کا اتباع کیا جائے گا۔ مگر یہ سوال ہی بیجا ہے کہ صحابہ (رض) سے اگر لغزش ہوئی تو اللہ کی عط اسے وہ کبھی لغزش پر قائم نہیں رہے بلکہ ان کی توبہ بھی مثالی ہے جس کی متعددروایات موجود ہیں لہٰذا ایسے امور میں ان کا طریق توبہ لائق اتباع ہے اور یہی ارشاد کتاب اللہ میں بھی ہے کہ مومن سے خطا ہوجائے تو توبہ کرتا ہے اسے ہمیشہ کے لئے نہیں اپنا تا ۔ چنانچہ ارشاد ہے کہ خلوص سے ان کی پیروی کرنے والوں کو اللہ کی رضا نصیب ہوگی اور اتنے انعامات کہ وہ بھی جس کے نیچے نہریں رواں ہیں اور جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی میدان حیات اور عالم آب وگل سے کا میاب وکامران نکلنے کی دلیل ہے اور یہی بہت بڑی کا میابی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں منافقین کا اظہار کردیا گیا تھا یاد رہے جب جماعتیں ترقی کرتی ہیں اور ان میں دنیاوی منافع حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے تو منافقین کا گروہ بھی بظاہر اپنے کو مخلص ظاہر کرکے ساتھ شامل ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مکی عہد نبوت میں کوئی منافق ساتھ شامل نہ ہوا کہ وہاں قربانیاں دینے کا معاملہ تھا مگر مدنی عہد میں صورت بدل گئی اور اسلام کی ریاست کی بنیاد پڑی جس سے دنیا کے مفاد کی امیدیں وابستہ کرکے ایک گروہ مسلمان کہلانے لگا۔ ان کی ضرض صرف دنیاوی مفاد کا حصول تھا ورنہ دل سے مسلمان نہ تھے ۔ لہٰذا ارشاد ہوا کہ اکثر منافقین توگنوار اور دیہاتی ہیں جن کے شعور ہی ناپختہ اور عقل ہی نارسا ہے ۔ وہ دین جیسی عظیم نعمت کی قدرہی نہیں جان سکے اور بعض مدینہ کے رہنے والے بھی اپنی سیاہ بختی کے باعث نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اگرچہ آپ انھیں نہ جانتے ہوں یا آپ کو دھوکا ینے کتنا بھی سامان کرلیں اللہ کو تو دھوکا نہیں دے سکتے ہم تو انھیں خوب پہچانتے ہیں اور ہم انھیں دو بار عذاب دیں گے کہ دنیا میں ناکام ونامراد بھی رہیں گے اور نفاق بھی ظاہر ہوکرباعث رسوائی ہوگا ۔ چناچہ عہد نبوی میں منافقین کا اظہار اللہ کی طرف سے کردیا گیا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے جنازے پڑھنے سے روک دیا گیا تو یقینا یہ یہ بھی بتادیا ہوگا کہ وہ کون کون لوگ ہیں اور پھر دنیا کا شدید عذاب قلبی بےچینی اور اضطراب باطنی ہے جس سے وہ ساری عمر دوچار رہے جب قبر میں داخل ہوں گے تو اس سے شدید عذاب برزخ کا ان پر مسلط ہوجائے گا اور جب قیامت قائم ہوگی تو پھر جہنم کے بہت بڑے عذاب میں دھکیل دیئے جائیں گے ، لہٰذا یہ ڈھکے چھپے لوگ نہ تھے اور عہد صحابہ رجوان اللہ علیہم اجمعین میں یہ دین ودنیا کے اعتبار سے سوا ہی رہے ۔ اب بھی نفاق کی یہ سزابد ستور ہے کہ نہ اسے قرار نصیب ہوتا ہے نہ وقار خواہ حکومت بھی مل جائے اور یہ حکومت کاملناعام مسلمانوں کی عملی زندگی میں کمزوری کے باعث ہے اگر عامتہ المسلمین خود کو آج بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلاسکیں تو کبھی کوئی منافق ان پر مسلط نہ ہوسکے ۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو مخلص تھے مگر عمل منافقوں جیسا سرزد ہوا کہ جہاد پر یا غزوئہ تبوک میں آپ کے ساتھ نہ گئے ۔ چارقسم کے لوگوں کا تذکرہ ہے ایسے جو پہلی آواز پر لبیک کہہ کر تیار ہوگئے دوسرے جو کسی قدر مترددتو ہوئے مگر اللہ نے ہمت دی اور تیار ہوگئے تیسرے جو مسلمان نہ تھے منافق تھے اور بلا جواز عذرمعذرت کرکے گھر بیٹھ رہے چوتھے جو واقعی معذور تھے اور جانہ سکتے تھے ان سب کے علاوہ ایک پانچوں قسم بھی تھی کہ جو جاسکتے تھے جانی اور مالی اعتبار سے کوئی عذرنہ تھا محض سستی کی وجہ سے نہ گئے یا منافقین کے بہکانے سے شامل نہ ہو سکے مگر انھیں فورا اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور نادم ہو کر حاضر خدمت ہوگئے بلکہ بعض نے تو خود کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ دیا کہ جب تک اللہ کریم معاف نہیں کریں گے ہم خود کو نہیں کھولیں گے ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبرہوئی تو فرمایا اب انھیں اللہ ہی کے حکم سے کھولاجائے گا میں بھی نہیں کھولوں گا تین حضرات ایسے بھی تھے جنہوں نے خود کو باندھا تو نہیں مگر اپنے کئے پر سخت نادم تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے مقاطعہ کا حکم دیا چناچہ کوئی ان سے بات تک نہ کرتا تھا ۔ حتی کہ بیویاں تک الگ ہوگئیں کوئی کھانا پکاکر بھی نہ دیتا تو یہ حکم نازل ہوا ۔ چناچہ سب کی توبہ قبول ہوئی ، بندھے ہوئے بھی کھول دیئے گئے اور قطع تعلق بھی ختم کردیا گیا کہ ان لوگوں کی نیکیاں بھی تھیں مثلا اس سے قبل کے تمام امور میں خلوص دل سے حاضر اور شامل رہے اور غلطی بھی تھی کہ تبوک کے سفر میں کوتاہی کی اور حاضری نہ دی مگر انھوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور نادم ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ارشاد ہوا کہ اللہ کریم ان کی توبہ قبول فرمائیں گے کہ کون ہے جس کے دروازے پہ گناہ گار جائیں ۔ صرف اسی کی شان ہے کہ وہ معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے اور رحم کرنے والا بھی ۔ آپ ان کے اموال سے صدقہ بھی لیجئے کہ قبول توبہ پر انھوں نے اپناسارامال صدقہ میں حاضر کردیا تھا کہ اسی مال کی مصروفیات نے ہمیں روک لیا تھا مگر جب یہ حکم نازل ہواتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسراحصہ مال قبول فرمایا کہ خذمن اموالھم صدقۃ۔ یعنی مال کا کچھ حصہ قبول فرمائیے ۔ صدقات وصول کرنا مسلمان حاکم کی ذمہ داری ہے تا کہ انھیں درست مصارف پہ خرچ بھی کرسکے علماء کا ارشاد ہے کہ نزول خاص ہونے کے باوجود حکم عام ہے ہمیشہ کے لئے خطاکار مسلمان کے لئے توبہ کا دروازہ بھی کھلا ہے بلکہ اس آیہ کریمہ نے توگنا ہگاروں کو بخشش لوٹنے کا موقع بخشا ہے اور ساتھ یہ حکم بھی مسلمان حکمرانوں کے لئے عام ہے کہ زکٰوۃ وصدقات وصول کرکے انھیں ان کے صحیح مصارف پہ خرچ کرنے کا اہتمام کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ منکرین زکٰوۃ سے جہاد کیا گیا ، اگر چہ ان میں بھی دو طرح لوگ تھے بعض تو انکار کرکے مرتدہوگئے مگر ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس نے یہی حیلہ تلاش کیا کہ یہ حکم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خاص تھا ان کے بعد حکومت یا امیر کو زکٰوۃ نہ دیں گے چناچہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے بھی یہی خیال فرمایا اور پیش کیا کہ یہ انکار نہیں کرتے ایک آیت کے مفہوم میں اختلاف کرتے ہیں لہٰذا ان سے کفار کریں گے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تھی اب ضرورت نہیں جبکہ اکثر جگہ نماز اور زکوۃ کا حکم یکجا ہے اسلئے جو ان میں فرق کرے گا اس سے جہاد کیا جائے گا لہٰذا خلاف صدیق (رض) پر پہلا اجماع ہے اور منکرین زکوۃ سے جہاد پر دوسرا اجماع امت منعقد ہوا ۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان سے صدقات واجبہ ونا فلہ وصول کرنا ان کے لئے تزکیہ اور پاکیزگی مال کا سبب ہوگا یعنی ان کے دل بھی کدورت یا بہام چھٹ جانے سے منور ہوجائیں گے اور مال میں برکت بھی ہوگی اور آپ ان کے حق میں دعا بھی فرمائیے ۔ بزرگوں کی دعا کا اثر اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ نیک لوگوں کی خدمت کرنے سے مال بڑھتا ہے اور ان کی دعا کی برکات بھی دوعالم میں فلاح کا سبب ہیں ۔ اگرچہ کسی بزرگ کو زیبا نہیں کہ لوگوں سے کچھ لینے کی امیدپہ رہے بلکہ بلا امتیازسب کی تربیت اس کا فریضہ ہے مگر مال سے خدمت کرنا یہ استفادہ کرنے والوں پہ ہے کہ خود خیالرکھیں نیز ایسا کرنے سے دنیاوآخرت کی بہتری ہاتھ آتی ہے ۔ ایسے ہی شیخ پر بھی اور مسلمان حاکم پر بھی بعض کے نزدیک واجب اور بعض کے نزدیک مستحب ہے کہ رعایا یا مستفید ہونے والے لوگوں کے حق میں دعائے خاص کیا کرے ۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاہی آپ کے غلاموں کے حق میں سکینہ یا تسکین قلب ہے اور اللہ کریم تو سب کی سنتے بھی ہیں اور جانتے بھی ہیں یعنی دعا سے رب العزت کو یاددلانا مقصود نہیں ہوتا اپنی قلبی رضا مندی کا مظہرہوتی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوشنودی دوعالم کی فلاح کی سند ہے ۔ لوگوں کو یہ یقینا جان لینا چاہیئے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو اپنے بدوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اسی نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا ہے کہ مالدار اپنے مال سے صدقہ دے یعنی وہی ہے بندے کے پاس چندروز کے لئے ہے تو اللہ ہی کے حکم مطابق خرچ بھی کرنا ہے لہٰذا اسے تاوان یا بوجھ سمجھنا یا دین پر طعن کہ مسلمانوں پہ بھی جزیہ کی مانند ٹیکس لگ گیا ہرگز درست نہیں ۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا جو آپ کی اطاعت پہ ہی نصیب ہوسکتی ہے وہ حقیقی تسلی اور تسکین کا باعث ہے ظاہر ابھی اور باطنا بھی اس عالم میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اور شان باری ہے کہ غلطی یا قصور پر ندامت ہو تو اسے قبول فرماتا ہے کہ یہی اس کی شان کو زیبا ہے ۔ نیز اصل امتحان تو عملی زندگی ہی ہے آپ فرمادیجئے کہ زبانی صفائی دینے پہ زور نہ رکھیں عمل کریں جو دلی کیفیات کے اظہار کا سبب ہے ۔ اللہ کریم تو ہر حال سے واقف ہے ہی اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابعدار یعنی ایماندار بندے بھی تو تمہاری عملی زندگی کو دیکھیں ۔ نیک لوگوں کا گمان بھی اپنا اثررکھتا ہے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نیک لوگوں کا کسی کو نیک جاننا بھی اس کی عملی زندگی کی بہت بڑی شہادت ہے اور ان احادیث مبارکہ کی وضاحت ہوجاتی ہے جن کا مفہوم ہے کہ چالیس مومن کسی کے جنازے میں شامل ہوں تو نجات کے لئے کافی ہے یا یہ کہ مرنے والے کے محاسن اور اچھایاں بیان کیا کرو کہ تمہاری بات اس کے حق میں شہادت اور گواہی کا درجہ رکھتی ہے ۔ لہٰذا مسلمانوں کا اکرام اور ان سے بہتر تعلقات بھی عملی زندگی کا بہتاہم حصہ ہیں اور معاملہ تو پلٹ کر اسی ذات کے روبرو جائے گا جو ظاہر باطن حاضر غائب سب جانتا ہے اور اگر کرنے والا بعض کوتاہیوں کو فراموش بھی کرچکا ہوگا تو وہ اسے یاد دلادے گا یعنی اسے کسی کی گواہی کی ضرورت نہیں اس کے بغیر و ہ سب کچھ جانتا ہے مگر ایسا کریم ہے کہ ایماندار لوگ جسے اچھا کہہ دیں ۔ واقعہ میں ایسا نہ بھی ہو تو ان کی بات رکھنے کو بھی اسے معاف کردے گا۔ مسجد ضرار کا قصہ عمل کی بنیادتو نیت پر ہے اگر نیت صاف نہ ہو تو بظاہرنیک نظرآنے والا عمل بھی نہ صرف یہ کہ مقبول نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں بھی ذلت ورسوائی کا سبب بنتا ہے اور آخرت میں تو یقینا ہے ۔ جیسے کچھ لوگوں نے مسجد بنائی مگر درحقیقت وہ مسجد کے نام پر ایسا مرکزچاہتے تھے کہ جس میں جمع ہو کر مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بندی کرسکیں یا اسلحہ وغیرہ اس میں رکھ سکیں تاکہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں ۔ اس کا واقعہ ایسے پیش آیا کہ مشہور صحابی حنظلہ (رض) جن کو ملائکہ نے غسل دیا تھا لہٰذا غسیل ملائکہ مشہور ہوئے کا والدابو عامرزمانہ جاہلیت میں عیسائی ہوگیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری پر حاضر خدمت بھی ہوامگر بدنصیب کے دل میں برکات کو جگہ نہ ملی اور یہ کہہ کرچلا گیا کہ میں آپ کی مخالفت ہی کروں گا چناچہ ہر حال میں اور ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا۔ اور فتح مکہ کے بعد بھاگ کر شام چلا گیا اور قیصر کو مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کی ترغیب دینے میں اس کا بھی دخل تھا اسی سلسلہ میں اس نے منافقین مدینہ کو پیغام دیا کہ کوئی منظم گروہ اور مرکزبناؤ جو قیصر کی حملہ آور فوجوں کی اندر سے بھی مددکرے چناچہ انھوں نے قبا ہیں جہاں اسلام کی پہلی مسجد جس میں ہجرت کے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام فرمایا تھا موجود تھی ایک اور مکان کی بنیادر کھی جسے مسجد ظاہر کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے کہ بستی میں صرف ایک مسجد تھی لوگوں کو تکلیف تھی ، بوڑھے اور بیمارپہنچ نہیں پاتے تھے لہٰذاہم نے دوسری مسجد بنائی ہے ۔ آپ اس میں ایک نماز پڑھا دیجئے کہ برکت ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک کی تیاری فرما رہے تھے لیکن فرمایا واپسی پہ دیکھیں گے مگر واپسی سے پہلے یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چند خدام کو بھیج کر اسے تباہ کرادیا مکان گراکرسامان نذر آتش کردیا گیا اور یوں وہ نام ہو کر بدنام بھی ہوئے۔ یہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ نام کو تو انھوں نے مسجد بنائی مگر نیت کیا تھی ؟ مسلمانوں کو تکلیف دنیا ۔ ان میں تفریق پیدا کرنے کے لئے کوشش کرنا اور اللہ اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان دشمنوں کو جو عملا لڑ رہے ہیں ، اس میں چھپنے کی جگہ دینا اندر تو یہ کچھ ہے مگر قسمیں کھاتے پھر رہے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو دین کی خدمت اور نیکی کرنے کا ہے مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ جھوٹ بول رہے لہٰذا آپ کبھی اس میں قدم رنجہ نہ فرمائیے ۔ خلاف اسلام استعمال ہونے والی زمین کی نحوست جہاں اسلام کے خلاف اقدام کرنے کا منصوبہ بنا ، اس مکان کی نحوست سے وہ زمین بی متاثر ہوئی چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے ایک غریب صحابی (رض) نے وہاں مکان بنایا تو اولاد سے محروم رہے یا ہوئی نہیں اگر ہوئی تو زندہ نہ رہی بلکہ کہایہ جاتا ہے کہ وہاں کبھی کسی جانورنے بھی بسنے کی کوشش نہیں کی نہ کسی پرندے نے انڈے بچے دیئے چناچہ مسجد قبا کے مقابل اب تک وہ جگہ خالی ہی پڑی ہے ۔ ایسی منحوس جگہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قدم رکھنے سے روک دیا گیا لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کسی جگہ قدم رنجہ فرمانا بھی اس مکان کی مقبولیت کا باعث ہے تو روضہ اطہر کی شان کیا ہوگی جو پہلے سے جنت کی زمین پر ہے پھر کیا مقام ہوگا ان غلاموں کا جو پہلوئے اطہر میں آسودہ ہیں سبحان اللہ وبحمدہ۔ مسجد ضرار کسے کہاجائے گا ؟ چنانچہ آج بھی کوئی مسجد اس نیت سے بنائی جائے جس مذکورہ تین باتیں پائی جائیں اول اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے دوم مسلمانوں میں اختلاف بڑھا نے کے لئے اور تیسرے مسلمانوں کے دشمنوں کو پناہ دینے کے لئے تو وہ اسی مسجد کی رونق کم کرنے کے لئے بنائی جائے تو مسجد ضرارنہ ہوگی ہاں بنانا گناہ عظیم ہے اور حکومت کا کام ہے ایسے امور کا تدارک کرے اور ایسی تعمیرروک دے مگر اسے مسجد ہی کہا جائے گا اور نماز جائز ہوگی یہ بات بات پہ مسجد ضرارکا حکم لگادینا درست نہیں نیز ایسے حضرات کو بھی تنبیہہ ہے جو مسلمانوں میں گروہ بندی کو ہوا دیتے ہیں یہ منافقوں کا کام ہے ۔ اسی کے مقابل جو مسجد پہلے سے موجود ہے اور جو پہلے دن سے تقوی پہ استوار ہوئی وہ اس بات کی بہت زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں قیام فرمائیں اور نمازیں ادا کریں جس کے نمازی ظاہر اوباطنا پاکیزہ رہنے کو پسند کرتے ہیں ۔ اور اللہ بھی پاکیزہ رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبا کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا کہ تم کونسی پاکیزگی کا اہتمام کرتے ہو جس کے بارے میں اللہ کا ارشاد نازل ہواتوانھوں نے عرض کیا کہ ہم رفع حاجت کے بعد پانی سے طہارت کرتے ہیں ۔ نیک بندوں کے اثرات لہٰذا جہاں طہارت مطلوب ہو وضو کی بات نہ ہو تو یہ عمل کافی سمجھا جائے گا نیز نیک لوگوں کی نہ صرف صحبت بابرکت ہوتی ہے بلکہ جس مسجد میں نماز ادا کریں اس کے دوسرے نمازیوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے کہ نماز میں تو ہر شخص کی اپنی کیفیات ہوتی ہیں ۔ ان کے مطابق نزول برکات ہوتا ہے لہٰذاجتنے بلند منصب کا انسان ہوگا اتنی برکات زیادہ ہوں گی اور اسی قدرسب کو فائدہ بھی ہوگا اور یہ اندازہ تو انسان خودبھی کرسکتا ہے کہ بھلا جس عمارت کی بنیادی نیکی اور تقوی پر ہو اور جس سے مقصد ہی اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو اور بہتر ہے یا ایسا مکان جو کنار جہنم بنایا جائے جو اپنے مکینوں سمیت دوزخ جاگرے وہ یقینا پہلاہی بہت بہتر ہے مگر بعض گناہ قلبی استعداد کو تباہ کردیتے ہیں ۔ لہٰذا بدکار اور ظالم ایسی سیدہی بات سمجھنے سے بھی محروم رہتے ہیں ۔ اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کا وبال اور گناہ کا اثریا بعض گنا ہوں کا اثرتو اتنا شدید ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ حرکت کی اس اثران کے دلوں میں ہمیشہ رہے گا حتی کہ قلوب پھٹ جائیں گے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے مگر ان سے شبہ اور شک کی بیماری نہ جائے گی یعنی عملا گناہگار ہونا مگر اسلام کی مخالفت نہ کرنا بلکہ اپنے کو گناہگار سمجھنا الگ بات ہے اور عملا اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کرنا اتناشدید جرم ہے کہ دل میں منافقت گھرکر جاتی ہے جو کبھی وہاں سے نکلنے کا نام نہیں لیتی ٹکڑے ہو کر بکھر جائیں گے تو بھی ان میں منافقت کی بورچی ہوئی ہوگی کہ یہ بات اللہ کریم بتا رہے ہیں جو سب کچھ جانتے ہیں اور حکیم و دانا ہیں ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 100 السبقون الاولون (سب سے پہلے ایمان لانے میں جو آگے بڑھے) اتبغوا (انہوں نے اتباع کیا، پیروی کی) احسان (نیکی) (رض) (اللہ خوش ہوگیا، راضی ہوگیا) رضوا (وہ خوش ہوگئے۔ راضی ہوگئے) اعد (اس نے تیار کر رکھا ہے) تشریح :- آیت نمبر 100 عام اصطلاح میں صحابی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک مرتبہ دیکھا ہو۔ ایمان کی حالت پر قائم رہتے ہوئے ایمان ہی کی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہو۔ جس کو یہ مرتبہ و مقام حاصل ہوا کائنات میں نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انیباء کرام کے بعد اس سے بہتر و اعلیٰ مخلوق کوئی نہیں ہے صحابہ کرام بلاشک و شبہ تمام انسانوں میں ایک عظیم رتبہ اور مقام رکھتے ہیں۔ ان کے آپس میں جو خلوص اور محبت تھی وہ بھی بےمثال ہے۔ اگر ان میں بشری تقاضوں کے تحت کہیں اختلاف بھی ہوا ہے تو اس کو اختلاف اور بغض وعناد کا نام دینا انتہائی بد دیانتی اور کم فہمی ہے۔ اس لئے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ اس کو مشاجرات صحابہ کہا جائے۔ مشاجرت شجر سے بنا ہے یعنی درخت، جو اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ جب بہت تیز ہوا چلتی ہے تو جس طرح درخت کی شاخیں اور پتے اس ہوا کی وجہ سے آپس میں ٹکرانے لگتے ہیں اور جب تیز ہوا بند ہوجاتی ہے تو پھر ہر شاخ اور ہر پتہ اپنی اپنی جگہ اسی طرح ہرا بھرا نظر آنے لگتا ہے جیسے پہلے تھا۔ کچھ پتے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ تیز آندھی کی وجہ سے کچھ درخت گر بھی جاتے ہیں پتے بکھر بھی جاتے ہیں لیکن تیز ہوائیں رک جانے کے بعد وہ کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح بلاشبہ صحابہ کرام کی شان بھی یہی ہے کہ جب دشمنان اسلام کی پھیلائی گئی بد گمانیوں اور سازشوں سے اختلافات کی تیز آندھی چلی تو کچھ شاخیں اور پتے آپس میں ٹکرا گئے لیکن جب آندھیوں نے دم توڑ دیا تو یہ مقدس جماعت اپنے مشن اور مقصد میں سرگرم ہوگئی۔ مشاجرات صحابہ کرام کو لڑائی جھگڑے کا نام دینا ان کے عظیم جذبوں کی بہت بڑی توہین ہے۔ ان مشاجرات کی وجہ سے ان صحابہ کرام کو عام انسانوں کی سطح پر لا کر ان پر تنقید کو جائز قرار دینا یا کسی کو برا بھلا کہنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ یہ سب کے سب صحابہ کرام اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیارے ہیں جن کی محبت جز و ایمان ہے۔ یہ ستاروں کی مانند ہیں جن کی روشنی زندگی کے تاریک راستوں میں مشعل راہ ہے۔ یہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے ایثار و قربانی پر کائنات کو ناز و ہے۔ اگر وہ دین اسلام کے لئے بےمثال قربایاں نہ دیتے، اپنے گھر بار کو نہ لٹاتے ، اپنے مالوں اور جانوں پر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین اسلام کو برتر و اعلیٰ نہ سمجھتے تو آج ہم اہل ایمان نہ کہلاتے۔ جن کے لئے اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بالکل صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیا کہ دیکھو میرے بعد میرے صحابہ کو تنقید کا نشانہ مت بنا لینا ان کی محبت میری محبت ہے اور ان سے بغض وعناد مجھ سے بغض وعناد ہے۔ اگر تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام نے کفار، مشرکین اور منافقین کے ہاتھوں وہ اذیتیں برداشت کیں جن کے تصور سے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ مکہ مکرمہ کی زمن ان پر تنگ کردی گئی تو و مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ پہلے حبشہ اور مختلف مقامات کی طرف ہجرت فرمائی اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اللہ کے حکم سے مکہ مکرمہ چھوڑنا پڑا تو تمام صحابہ کرام مدینہ منورہ کی طرف سمٹنے اور جمع ہونا شروع ہوگئے۔ مدینہ منورہ کے وہ خوش نصیب جن کو ایمان کی دولت نصیب ہوچکی تھی ان کو نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کا میزبان اور انصار بننے کا شرف حاصل ہوا ان انصار و مہاجرین نے ایک دوسرے کے لئے وہ ایثار قربانی پیش کی جس کی مثال تاریخ انسانی میں مشکل سے مل سکے گی۔ ان بےسروسامان انصار و مہاجرین پر جنگیں مسلط کی گئیں تو انہوں نے اس زبردست امتحان میں بھی بےجگری کا عظیم مظاہرہ فرمایا۔ مکہ اور مدینہ میں انصار و مہاجرین نے جن مشکلات کو برداشت کیا اور کفار و مشرکین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا وہ درجہ اور مقام ان کو نہیں دیا جاسکتا جو ان کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے ان نیک اور مقدس ہستیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اسلام کی سربلندی کیلئے اپنا سب کچھ لٹا دیا اور جنگ و امن میں بھرپور کردار ادا کیا ان کا مقام ان سے بلند تر ہے جو ان کے بعد دین اسلام کی عظمت کو قبول کرنے والے تھے اور اسی طرح یہ سلسلہ ایک کے بعد دوسرے تک تاقیامت جاری رہے گا۔ ان کے درجات کی بلندی ان کے جذبوں اور ایثار کے مطابق متعین ہوتی جائے گی۔ مگر ایک بات میں سب شریک ہیں کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا ، ان کے ایمانی جذبوں کو قبول کرلیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے یعنی تقدیر کے ہر فیصلے کو انہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کے طور پر قبول کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان مخلصین کے لئے دنیا کی عزت اور جنت کی ابدی راحتوں کو مقدر فرما دیا ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ہم بات کو سمجھنے کے لئے ان مومنوں کو جنہوں نیا بتداء میں دین اسلام کو قبول کیا اور ان کے بعد آنے والوں نے ایمان کی روشنی کو حاصل کیا۔ دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ (1) سب سے پہلے ایمان والے (2) ان کے بعد ان کی تقلید کرتے ہوئے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان دونوں کے درجات میں واضح فرق موجود ہے۔ (1) ” السابقون الاولون من المھاجرین و الانصار “ انصار و مہاجرین میں سے دین اسلام کی سربلندی کے لئے سب سے پہلے آگے بڑھنے والے جاں نثار صحابہ کرام ان کا سب سے بڑا مقام ہے۔ (2) ” والذین اتبعوھم باحسان “ ان سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے دین اور اخلاق و اعمال کی بلندی میں ان لوگوں کی تقلید کی ہے جو ان کے راستے پر چلے ہیں جو ان سے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے لائے ہوئے دین پر یمان لا چکے تھے۔ ان دونوں کو اور ان لوگوں کو جو ان کے راستے پر ان کی طرح چلنے والے ہیں یہ اللہ کی رضا و خوشنودی میں دونوں برابر ہیں۔ جنہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات دنیوی میں دین اسلام کو قبول کرلیا تھا۔ یا ہو دوسرے لوگ جو ان صحابہ کرام کے راستے پر چلتے ہوئے قیامت تک آتے رہیں گے ان کے مقام کو سمجھنے کے لئے مفسرین کی رائے کو سامنے رکھا جائے تو اس آیت اور اس بات کو سمجھنے میں بہت سہولت ہوگی۔ (1) بعض مفسرین نے ” السابقون الاولون “ سے مراد ان صحابہ کرام کو لیا ہے جو غزوہ بدر سے پہلے ایمان لا چکے تھے۔ (2) بعض مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ ان سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جو صلح حدیبیہ تک ایمان لا چکے تھے۔ (3) بعض مفسرین کی رائہ یہ ہے کہ ان سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کی تھیں یعنی بیت المقدس اور مسجد الحرام کی طرف منہ کر کے جنہوں نے تحویل قبلہ سے پہلے پہلے نمازوں کو ادا کیا تھا۔ (4) بعض کے نزدیک ” السابقون الاولون “ وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے بیعت رضوان سے پہلے ایمان قبول کرلیا تھا اس طرح ” والذین اتبعوھم باحسان “ سے مراد کون لوگ ہیں اس میں بھی مفسرین سے مختلف اقوال نقل کئے گئے ہیں مگر وہ بات سب سے بہتر ہے کہ ان سے مراد اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرماں برداری کرنے والے صحابہ کرام اور مومنین، تابعین، تبع تابعین اور قیامت تک آنے والے اہل ایمان ہیں۔ یہ خوش خبری ان سب کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کی راہوں پر چلنے اور حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ سابقون الاولون میں سب مہاجر و انصار آگئے اور الذین التبعوھم میں بقیہ مومنین جن میں اول درجہ تو ان کا ہے جو صحابہ ہیں گو مہاجر و انصار نہیں کیونکہ اخیر میں ہجرت فرض نہ تھی مسلمان ہو کر اپنے اپنے گھررہنے کی اجازت تھی اور دوسرا درجہ تابعین بالمعنی الاصطلاحی کا ہے پھر غیر صحابہ وغیر تابعین کا پھر خود اس اخیر درجہ میں بھی تفاوت ہے کہ تبع تابعین فضل میں اوروں سے مقدم ہیں جس طرح صحابہ میں مہاجرین و انصار دوسرے صحابہ سے افضل ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافقت سے اجتناب کرنے، نیکی کا حکم دینے کے بعد نیکی میں سبقت اختیار کرنے کی ترغیب : دیہاتی مخلصین کے تذکرہ کے بعد اسلام میں سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار کی فضیلت و منقبت کا بیان کیا گیا ہے۔ جس میں ان کی حوصلہ افزائی اور دوسروں کے لیے نیکیوں میں سبقت کرنے کی تلقین پائی جاتی ہے۔ اب ان پاکباز ہستیوں کی خدمات کا تذکرہ شروع ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی خاطر سب کچھ قربان کیا اور اپنا وطن چھوڑ کر بےخانماں ہوئے۔ مہاجرین اور انصار میں سابقون الاولون کے بارے میں اہل علم کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں جن میں اکثریت کا خیال ہے کہ ” سابقون الاولون “ سے مراد وہ صحابہ کرام (رض) ہیں جو غزوہ بدر سے پہلے ایمان لائے۔ کیونکہ انہوں نے اسلام کے راستے میں وہ مصائب و آلام برداشت کیے جن کے ساتھ ان کے بعد آنے والے ایمان والوں کو واسطہ نہیں پڑا۔ اس لیے دیہاتی مخلصین کے تذکرہ کے بعد ضروری سمجھا گیا کہ ان لوگوں کی خدمات کا اعتراف کرکے قیامت تک کے لیے ان کے مرتبہ و مقام کو نمایاں اور ممتاز کردیا جائے۔ ان کے بعد ایمان لانے والے حضرات کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں بھی عظیم خوشخبری سے نوازا گیا ہے۔ قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام اس بات پر گواہ ہے کہ ” مردوں میں سابقون الاولون “ کے سرخیل حضرت ابوبکرصدیق (رض) ، خواتین میں یہ شان ام المومنین حضرت خدیجہ (رض) کو حاصل ہوئی، نو عمر لوگوں میں یہ مرتبہ حضرت علی (رض) کو ملا، مجبور اور غلاموں میں یہ شان حضرت زید بن حارثہ (رض) کو حاصل ہوئی۔ جہاں تک ” سابقون الاولون “ کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں کا تعلق ہے ان سے مراد وہ صحابہ (رض) ہیں جو غزوہ بدر کے بعد ایمان لائے قرآن مجید سب کے لیے انعام و اکرام کا اعلان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوا، وہ اپنے رب پر راضی ہوگئے۔ ایمان کا درجہ حاصل ہوجائے تو انسان بےانتہا تکلیف، حد درجے کے رنج و غم اور بےپناہ تنگی میں بھی اپنے رب پر راضی رہتا ہے۔ ایسے حضرات کے لیے اللہ تعالیٰ نے ابدی باغات اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہی دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ صحابہ (رض) کے بعد ان کی اولاد جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کا شرف نہ پاس کی، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بھی اعزاز بخشا ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ إِنِّیْ لَوَاقِفٌ فِیْ قَوْمٍ ، فَدَعَوُا اللَّہَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلَیْ سَرِیرِہِ ، إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِیْ قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَہُ عَلَیْ مَنْکِبِیْ ، یَقُوْلُ رَحِمَکَ اللَّہُ ، إِنْ کُنْتُ لأَرْجُوْ أَنْ یَجْعَلَکَ اللَّہُ مَعَ صَاحِبَیْکَ ، لأَنِّیْ کَثِیرًا مِمَّا کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُوْلَ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ کُنْتُ وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ ، وَفَعَلْتُ وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ ، وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَإِنْ کُنْتُ لأَرْجُوْ أَنْ یَجْعَلَکَ اللَّہُ مَعَہُمَا فَالْتَفَتُّ فَإِذَا ہُوَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب فضائل الصحابۃ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں میں کھڑا تھا، حضرت عمر (رض) کی چار پائی رکھی ہوئی تھی ان کے لیے دعائیں کی جا رہی تھیں۔ ایک آدمی نے پیچھے سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ کہہ رہا تھا اللہ تجھ پر رحم فرمائے یقیناً میں امید کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے ساتھیوں کی معیت عطا فرمائے گا۔ میں اکثر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کرتا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے میں، ابوبکر اور عمر وہاں تھے میں نے اور ابوبکر اور عمر (رض) نے یہ کام کیا۔ میں ابوبکر اور عمر وہاں گئے یقیناً میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تجھے تیرے ساتھیوں کا ساتھ عطا فرمائے گا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب (رض) تھے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَیْ امْرَأَۃٍ مَا غِرْتُ عَلَیْ خَدِیجَۃَ ، مِنْ کَثْرَۃِ ذِکْرِ رَسُوْلِ اللَّہِ ِ اِیَّاہَا قَالَتْ وَتَزَوَّجَنِیْ بَعْدَہَا بِثَلاَثِ سِنِینَ ، وَأَمَرَہُ رَبُّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ جِبْرِیلُ أَنْ یُبَشِّرَہَا بِبَیْتٍ فِیْ الْجَنَّۃِ مِنْ قَصَبٍ )[ رواہ البخاری : کتاب مناقب الأنصار، باب تزویج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ سے میں نے سیدہ خدیجہ (رض) سے بڑھ کر کسی عورت پر رشک نہیں کیا، آپ فرماتی ہیں کہ آپ نے میرے ساتھ ان کی وفات کے تین سال بعد شادی کی، آپ کو اللہ تعالیٰ نے برائے راست یا جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے حکم دیا کہ آپ خدیجہ کو جنت میں موتی کے گھر کی خوشخبری دے دیں۔ “ (عن عِمْرَانَ بن حُصَیْنٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُوْنَہُمْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ ] ” حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان کے بعد والوں کا اور پھر ان کے بعد والوں کا۔ “ مسائل ١۔ صحابہ (رض) اللہ پر اور اللہ تعالیٰ صحابہ پر راضی ہوا۔ ٢۔ صحابہ (رض) میں سابقون الاولون صحابہ افضل ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام (رض) کو دنیا میں جنت کا سرٹیفکیٹ عنایت فرمایا۔ ٤۔ مہاجرین اور انصار کے نقش قدم پر چلنے والوں سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ ٥۔ صحابہ (رض) کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ ٦۔ جنت نصیب ہونا مومن کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ صحابہ کرام (رض) پہ راضی ہوا اور صحابہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوگئے : ١۔ صحابہ اللہ پر راضی ہوئے اور اللہ ان سے راضی ہوا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (المائدۃ : ١١٩) ٢۔ صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والوں پر اللہ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ (التوبۃ : ١٠٠) ٣۔ اللہ اصحاب شجرہ پر راضی ہوگیا۔ (الفتح : ١٨) ٤۔ صحابہ اللہ کی جماعت ہیں اللہ ان سے راضی ہوا، اور وہ اپنے اللہ پر راضی ہوگئے۔ (مجادلۃ : ٢٢) ٥۔ صحابہ اللہ سے ڈرنے والے تھے اللہ ان سے راضی ہوگیا۔ (البینۃ : ٨) ٦۔ اللہ انہیں ایسی جگہ داخل فرمائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔ (الحج : ٥٩) ٧۔ اللہ انہیں اپنی رحمت، رضامندی اور جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ : التوبۃ : ٢١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بدوی معاشرے کے اس تجزیے کے بعد اب اگلی آیات میں اس وقت کے پورے اسلامی معاشرے کی پوزیشن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں چار طبقات تھے۔ انصار و مہاجرین کے سابقین اولین مسلمان اور وہ لوگ جو صحیح معنوں میں ان کے متبع تھے۔ دوسرے وہ منافقین جو مدینہ کے باشندوں میں سے بھی تھے اور مدینہ کی اردگرد کی آبادیوں میں بھی پھیلے ہوئے تھے اور عمل نفاق میں خوب طاق ہوگئے تھے ، تیسرے وہ لوگ تھے جن کے کچھ کام اچھے تھے اور کچھ برے تھے اور چہارم وہ تھے جن کے بارے میں اللہ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اس فیصلے کا انتظار تھا۔ پہلا گروہ : وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : " وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔ " دوسرا گروہ : وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ : تمہارے گردوپیش میں جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم انہیں جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزادیں گے ، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لئے واپس لائے جائیں گے۔ تیسرا گروہ : وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے ، کچھ نیک ہے اور کچھ بد۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو ، کیوں کہ تمہاری دعا ان کے لئے وجہ تسکین ہوگی ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے ؟ اور اے نبی تم ان لوگوں سے کہ دو کہ عمل کرو ، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے ، پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤگے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے ، اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ چوتھا گروہ : وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ: کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کے حکم پر ٹھرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے ان پر ازسرنو مہربان ہوجائے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم ودانا ہے۔ بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ اس وقت کے اسلامی معاشرے کے عناصر ترکیبی پر یہ تبصرہ تبوک کی واپسی کے بعد اور لوگوں کے عذرات سننے کے بعد نازل ہوا۔ یہ عذرات ان منافقین نے بھی پیش کیے تھے جو اس غزوے کے باوجود تاکیدی حکم کے پیچھے رہ گئے تھے اور بعض مخلص مومنین نے بھی پیش کیے تھے۔ ان میں بعض لوگ وہ تے جنہوں نے سچے عذرات پیش کیے ، بعض نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ لیا تھا اور وہ اس وقت تک بندھے رہنے پر مصر تھے جب تک رسول اللہ انہیں نہیں کھولتے۔ اور بعض ایسے تھے جنہوں نے کوئی عذر پیش نہیں کیا تھا اور امید رکھتے تھے کہ اللہ انہیں معاف کردے گا۔ اور یہ وہ تین افراد تھے جو پیچھے رہ گئے تھے تو ان کے بارے میں حضور نے کوئی فیصہ ہی نہ فرمایا تھا ، یہاں تک کہ ان کے بارے میں اللہ نے معافی نازل کردی اور ان کی توبہ قبول کرلی۔ جیسا کہ عنقریب ان کے بارے میں تفصیلات آجائیں گی۔ یہ لوگ اس وقت تحریک اسلامی میں شامل ہونے والے مختلف اصناف میں سے تھے اور غزوہ تبوک کے مابعد یہ سب قسم کے لوگ اسلامی صفوں میں شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت کی تحریکی صفوں سے اچھی طرح آگاہ فرما رہے تھے کہ اسلامی تحریک کے شب و روز کیا ہیں اور تحریک اسلامی کے اس پہلے مرحلے کے اختتام پر یعنی جزیرۃ العرب میں تکمیل انقلاب کے اختتام پر اور عالمی انقلاب کے مرحلے کے آغاز کے موقعہ پر آپ کو بتایا جا رہا تھا کہ اگلے مرحلے میں کم کے لوگ کون ہوں گے تاکہ اسلامی تحریک ان کو لے کر عالمی سطح پر اللہ وحدہ کی بندگی کا نظام قائم کردے اور اس طرح تمام کرہ ارض پر ہر انسان کو کسی بھی انسان کی غلامی سے آزاد کردے اور زمین پر کوئی انسان بھی کسی طرح کسی دوسرے انسان کا غلام نہ رہے۔ تحریک اسلامی کے لی اس بات کی شد ضرورت تھی کہ اسے اچھی طرح معلوم ہو کہ اسے کس گراؤنڈ پر کھیلنا ہے۔ ہر مرحلے اور ہر قدم پر اسے کیا کرنا ہے۔ اور یہ معلومات اس کے لیے ضروری تھیں تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ ان کی پوزیشن کیا ہے اور اگلے مرحلے کے لیے اس نے کیا اقدامات کرنے ہیں ؟ وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔ مسلمانوں کا یہ طبقہ جو تین عناصر پر مشتمل تھا ، سابقون اولون از ماہرجین ، سابقوں اولین از انصار اور وہ لوگ جو ان کے بعد راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آے ، یہ تین طبقات اس وقت کی تحریک اسلامی کی ریڑھ کی ہڈی تھے اور فتح مکہ کے بعد جزیرۃ العرب میں یہی لوگ حقیقی حاملین دعوت تھے۔ دسویں پارے میں اس سورت پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے اس کی تفصیلات دے دی ہیں۔ غرض یہی لوگ تھے جنہوں نے اس دعوت کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا اور اس سوسائٹی پر ان کو پورا کنٹرول حاصل تھا۔ اور ہی لوگ ہر اچھی حالت اور ہر بری حالت میں اس سوسائٹی کو تھامے ہوئے تھے اور یہ بات ہر تحریک کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہی کہ مشکلات کی ازمائشیں بمقابلہ خوشحالی اور فتح کی آزمائش کے بہت ہی آسان ہوتی ہیں۔ مہاجرین میں سے سابقون اولون کو لوگ ہیں ؟ ہماری رائے میں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر سے قبل ہجرت فرمائی۔ اسی طرح انصآر سے سابون اولون وہ لوگ ہیں جو جنگ بدر سے قبل ایمان لائے ، رہے وہ لوگ جو ان کے بعد راست بازی کے ساتھ ایمان لائے ، وہ وہی لوگ ہیں جو غزوہ تبوک کی آزمائش میں پورے اترے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلامی نظام زندگی اختیار کیا ، پوری طرح ایمان لائے اور اس کے بعد ایمانی تقاضے پورے کیے۔ اور اعلی ایمانی معیار تک پہنچ کیے۔ اگرچہ ان پر ان لوگوں کو سبقت حاصل ہے جنہوں نے نہایت ہی شدید حالات میں اسلام کے دامن کو تھاما۔ روایات اس بارے میں مختلف ہیں کہ انصار اور مہاجرین میں سے سابقون اولون کون ہیں ؟ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر سے قبل ہجرت کی اور نصرت کی۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اہل بدر ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ اہل بدر ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ سے قبل ہجرت کی اور نصرت کی۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ بیعت رضوان والے ہیں۔ ہماری رائے وہی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اور اس رائے کو ہم نے اسلامی معاشرے کی تشکیل مراحل اور اہل ایمان کے مختلف مراحل اور اہل ایمان کے مختلف طبقات کی تشکیل کے مراحل کے گہرے مطالعے کے بعد قائم کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ بہتر ہوگا کہ ہم یہاں دسویں پارے سے چند فقرے نقل کردیں جو ہم نے وہاں اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اس کے اندر اہل ایمان کے مراتب کے تعین کے بارے میں وہاں لکھے تھے تاکہ قارئین کے ذہن میں وہ نکات دوبارہ تازہ ہوجائیں اور اسے دوبارہ پارہ دہم کی ورق گردانی نہ کرنی پڑے۔ اور ان نکات کی روشنی میں قارئین اسلام معاشرے کی طبقاتی تقسیم (Classification) کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ یہ اسلامی معاشرے کی آخری تقسیم تھی کیونکہ زیر بحث آیات قرآن کریم کی آخری دور کی آیات ہیں۔ " تحریک اسلامی مکہ مکرمہ میں نہایت ہی شدید حالات میں ابھری ، اس کا مقابلہ قریش کے جاہلی معاشرے سے تھا۔ تحریک اسلامی کا کلمہ دعوت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کو قریش کے اس جاہلی معاشرے نے اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا ، اس لیے کہ یہ کلمہ درحقیقت ان تمام معاشروں اور ان کے اقتدار اعلی کے لیے ایک گونہ بغاوت کا اعلان تھا جن کا اقتدار اعلی اللہ کے اقتدار اعلی اور اللہ کی حکومت سے ماخوذ نہ تھا۔ یہ کلمہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ کلمہ گو نے تمام طاغوتی قوتوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا ہے اور وہ صرف اللہ کی حکومت اور اقتدار کا وفادار ہے۔ پھر قریش کے جاہلی معاشرے نے فوراً ہی محسوس کرلیا کہ یہ نئی دعوت ایک نئی قیادت ، قیادت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تحت ایک منظر تحریک کی شکل میں ابھر رہی ہے۔ اور اس نئی تحریک کا شعار پہلے دن سے یہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کی جائے اور قریش کی جاہلی اور سرکش اور ظالم قیادت کی اطاعت کا انکار کردیا جائے۔ جونہی قریش نے درج بالا خطرہ محسوس کیا کہ موجودہ نظام ، اس کے مفادات اور اصولوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے تو اس جاہلی معاشرے نے تحریک اسلامی کے افراد کے خلاف تشدد اور ظلم کا طوفان کھڑا کردیا۔ انہوں نے ایک جدید تحریک اور اس جدید سوسائٹی اور اس جدید قیادت کے خلاف وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیے جو ان کے بس میں تھے۔ جن میں ایذا رسانی ، سازشیں ، اوچھے ہتھیار اور فتنہ پردازیاں سب کچھ شامل تھے۔ قریش کا جاہلی معاشرہ یکلخت اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے اپنا دفاع شروع کردیا اور اس معاشرے نے بعینہ اسی طرح اپنا بچاؤ شروع کردیا جس طرح ایک زندہ انسان اپنے آپ کو موت کے خطرات سے بچانا چاہتا ہے۔ اور قریش کے اس جاہلی معاشرے کا یہ رد عمل بالکل فطری تھا ، اور جب بھی کوئی دعوت لوگوں کو صرف رب العالمین کی بندگی ، ربوبیت اور اقتدار اعلیٰ کی طرف بلانا شروع کرتی ہے ، اس وقت کی قائم جاہلی سوسائٹی کا رد عمل ایسا ہی ہوتا ہے ، کیونکہ جاہلی سوسائٹی میں انسان انسانوں کے غلام ہوتے ہیں اور اسلامی دعوت صرف رب العالمین کی بندگی کی طرف ہوتی ہے۔ جب بھی دعوت اسلامی ایک عضویاتی تحریک کی شکل میں اٹھے گی جاہلیت ، اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہوگی جس طرح نقیض نقیض کے مقابلے میں ہوتا ہے۔ اور اس قسم کی تحریک کا ہر کارکن جاہلی معاشرے کی زد میں آجاتا ہے اور اسے ہر قسم کے فتنوں اور مشقتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اور بسا اوقات اس تشدد کے نتیجے میں کارکنوں کا خون بھی بہایا جاتا ہے ، جب ایسے حالات ہوتے ہیں تو تحریک اسلامی کی صفوں میں آ کر شہادت حق دینے والے صرف وہی لوگ ہوتے ہیں ، جنہوں نے فیصلہ کرلیا ہو کہ وہ اللہ کی راہ میں جان تک کا نذرانہ پیش کریں گے۔ اس دعوت اور تحریک اور اس جدید سوسائٹی کی رکنیت ایسے سرفروش ہی اختیار کرتے ہیں جو اذیت ، فتنہ سامانیوں ، بھوک افلاس اور شدائد و مصائب برداشت کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات انہیں قید و بند اور موت کے لیے بھی تیار ہونا پڑتا ہے۔ مکہ مکرمہ کے عربی معاشرے میں ایسے ہی مضبوط ، طاقتور اور اولوالعزم لوگ ہی اسلامی قیادت کی بنیاد بنے۔ وہ لوگ جو مشکلات برداشت کرکے اور شدائد و مصائب انگیز نہ کرکے تحریک میں فوج در فوج داخل ہوگئے تھے وہ دوبارہ جاہلیت کی طرف مرتد ہوکر لوٹ گئے تھے۔ یہ اولوالعزم لوگ تعداد میں بہت ہی کم تھے اور یہ بات بالکل معروف اور کھلی ہے۔ اس لیے کہ ابتداء جاہلیت کو چھوڑ کر اسلام کی مشکل اور پر خطر راہ کو اپنانے کے لیے کوئی تیار نہ تھا ماسوائے ان ممتاز اور مختار اور برگزیدہ لوگوں کے جن کو اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا۔ سابقین مہاجرین ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جو نادرہ روزگار تھے اور یہ اس دین کا بنیادی اثاثہ تھے اور مضبوط بنیاد تھے اور انہوں نے ابتدائی مکی دور میں لبیک کہا۔ یہی لوگ جب مدینہ پہنچے تو یہ اس تحریک کے روح رواں اور دین کے مرکزی ستون تھے۔ ان کے ساتھ مدینہ میں انصار میں سے ایسے ہی اولوعزم افراد مل گئے۔ ان لوگوں نے اگرچہ وہ مشکلات برداشت نہ کی تھیں جو مہاجرین نے کیں لیکن ان لوگوں نے چونکہ نہایت ہی مشکل حالات میں عقبہ کے مقام پر حضور کے ساتھ بیعت کی تھی ، اس لیے یہ لوگ بھی پاک طینت اور اصلی مزاج کے لوگ تھے اور ان کے اندر وہ بنیادی اوصاف موجود تھے جو اس دین کے حاملین اولین میں ضروری تھے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں کہتے ہیں " محمد ابن کعب قرظی نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن رواحہ نے بیعت عقبہ کے موقعہ پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : آپ اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے جو شائط ہم پر عائد کرنا چاہیں ، عائد کردیں۔ تو اس پر حضور نے فرمایا میں رب کے لیے تو یہ شرائط عائد کرتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، اور اپنے لیے یہ شرط عائد کرتا ہوں کہ تم میری مدافعت اس طرح کروگے جس طرح تم اپنی جان و مال کی مدافعت کرتے ہو ، اس پر لوگوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمارے لیے کیا اجر ہوگا ؟ تو حضور نے فرمایا الجنۃ تو انہوں نے کہا یہ بہت ہی اچھا سودا ہے ، نہ ہم اقالہ کرتے ہیں اور نہ دوسرے فریق سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقالہ کرے۔ یہ لوگ جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے ، یہ جنت کے بغیر اور کچھ نہ چاہتے تھے۔ انہوں نے بڑے وثوق کے ساتھ یہ اعلان بھی کردیا کہ نہ تو وہ اس سودے کو واپس کریں گے اور نہ ہی فریق ددوئم کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ اس سودے وک ٹالیں۔ اور یہ جانتے تھے کہ یہ بیعت کوئی معمولی بیعت نہ تھی ، وہ جانتے تھے کہ اب قریش ان کے پیچھے پڑیں گے اور نہ صرف قریزش بلکہ تمام عرب ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور وہ اب جاہلیت کے ساتھ مل کر پرسکون زدنگی بسر نہ کرسکیں گے جو ان کے اردگرد خیمہ زن ہے اور جزیرۃ العرب اور مدینہ کے اطراف و اکناف پر حکمران ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ انصار کو یہ علم تھا اور یہ یقینی علم تھا کہ اس بیعت کے نتائج کیا ہوں گے اور انہوں نے یہ بات بھی اچھی طرح جان لی تھی کہ حضور نے ان کے ساتھ اس دنیا کے اندر کسی اجر و صلہ کا وعدہ نہیں فرمایا۔ یہاں تک کہ حضور نے ان کے ساتھ یہ وعدہ بھی نہیں کیا کہ تمہیں اس دنیا میں اس مقصد میں کامیابی نصیب ہوگی ماسوائے جنت کے۔ ان کے ساتھ کوئی اور وعدہ نہ تھا۔ یہ تھی ان کے فہم دین کی انتہا اور یہ تھی ان کی چاہت جو وہ اس دین کے ساتھ رکھتے تھے۔ لہذا یہ لوگ سابقوان اولن کے مقام بلند پر فائز ہوئے اور یہ لوگ مہارجین کے اولین ساتھیوں میں قرار پائے جنہوں نے تعمیر دین کی بنیادوں میں حصہ لیا اور اس عمارت کو تیار کیا۔ یہ لوگ مدینہ کی سوسائٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے تھے۔ لیکن مدینہ کا معاشرہ اور جماعت اسی طرح مخلص اور صاف رہی۔ اسلام کا ظہور مدینہ سے ہوا۔ وہ اس کے اندر دور تک پھیل گیا اور بہت سے لوگ خصوصا ان میں سے صاحب مرتبہ اور سربراہ قسم کے لوگوں نے بھی اپنی قوم کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کردیا تاکہ ان کی لیڈر شپ قائم رہے۔ جب جنگ بدر کا عظیم واقعہ پیش آگیا تو اس قسم کے لوگوں کے سرخیل عبد ابن ابی ابن سلول نے اس پر یہ تبصرہ کیا کہ یہ معاملہ تو اب بہت آگے نکل گیا ہے۔ اس لیے اس نے نفاق کے طور پر اسلام قبول کرلیا۔ یہ بات ضروری ہے کہ بعض لوگوں کو اسلام کا سیلاب بہا کرلے گیا اور انہوں نے دوسروں کی تقلید میں اسلام قبول کرلیا۔ اگرچہ یہ مقلد قسم کے لوگ منافق نہ تھے لیکن ان لوگوں نے اسلام کو ابھی تک اچھی طرح نہ سمجھا تھا اور نہ وہ اسلامی قالب میں اچھی طرح ڈھل گئے تھے ، اس کی وجہ سے مدینہ کی اسلامی سوسائٹی میں افراتفری تھی کیونکہ مختلف لوگ ایمان کے مختلف درجات پر فائز تھے۔ قرآن کریم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت میں اس قسم کے لوگوں کی تربیت شروع کی۔ چونکہ ایمان و اخلاق کے مختلف درجات کے لوگ اس سوسائٹی میں داخل ہوگئے تھے ، اس لیے ضروری تھا کہ ان مختلف عناصر کے اندر توازن اور توافق اور ہم آہنگی پیدا کی جائے اور جدید سوسائٹی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ جب ہم مدنی سورتوں کا مطالعہ ترتیب نزولی کے مطابق کریں (اگرچہ یہ ترتیب اندازا معلوم ہے) تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے اسلامی معاشرے میں مسلسل داخل ہونے والے جدید عناصر کی تربیت اور تطہیر کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی کیونکہ آنے والے لوگ مختلف عناصر کے اندر توازن اور توافق اور ہم آہنگی پیدا کی جائے اور جدید سوسائٹی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ جب ہم مدنی سورتوں کا مطالعہ ترتیب نزولی کے مطابق کریں (اگرچہ یہ ترتیب اندازاً معلوم ہے) تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے اسلامی معاشرے میں مسلسل داخل ہونے والے جدید عناصر کی تربیت اور تطہیر کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی کیونکہ آنے والے لوگ مختلف خاندانوں اور مزاجوں کے تھے اور مسلسل آ رہے تھے۔ قریش اگرچہ لوگوں کو دین اسلام میں داخل ہونے سے روکتے تھے اور تمام عرب قبائل کو وہ اس دین کے خلاف آمادہ جنگ کرتے تھے۔ اسی طرح یہودی بھی اس دین کی راہ میں رکاوٹ تھے اور وہ بھی رات دن لگے ہوئے تھے کہ تمام اقوام اس دین جدید پر حملہ آور ہوں اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اس لیے جدید آنے والے لوگوں کی تربیت کی بہت ضرورت تھی۔ تربیت اور تطہیر کی اس مسلسل جد و جہد کے باوجود کبھی کبھار خصوصاً مشکل اور شدید وقت میں اسلامی صفوں میں کمزوریوں کا ظہور ہوجاتا تھا۔ بعض گوشوں میں نفاق ابھرتا بعض میں تردد اور غیر یقینی صورت حال ہوتی۔ بعض لوگ دین جدید کی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل کرتے۔ بعض لوگ خطرات کا سامنا کرنے سے ڈرتے۔ بعض اوقات لوگ یہ نہ سمجھ سکتے کہ ان کے مابین اسلامی رابطے اور تعلق کا کیا مقام ہے اور ان کی سابقہ جاہلی رشتہ داریوں اور روابط کی حیثیت اب کیا ہے ؟ وہ اسلام بھائی چارے کو اچھی طرح نہ سمجھتے تھے۔ اس سورت کی آیات سے ہمیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ آیات قرآنیہ مختلف طریقوں سے اور مختلف زاویوں سے ایسے لوگوں کی تربیت کس طرح کرتی ہیں اور اس کے لیے کیا کیا اسلوب اختیار کرتی ہیں۔ ان آیات میں سے ہم بعض آیات کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ لیکن مدینہ طیبہ میں مسلم معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ درست تھا ، اس لیے کہ اس ڈھانچے میں بنیادی اہمیت صرف ان لوگوں کو حاصل تھی جو مہاجرین وانصار میں سے سابقین اولین تھے اور نہایت ہی مضبوط لوگ تھے۔ نیز اس معاشرے کی تعمیر و تربیت میں اتحاد و اتفاق اور اس کے ڈھانچے میں اس قدر پختگی تھی اس نے ان کمزوریوں اور عوارض اور انتشار پر قابو پا لیا تھا اور وہ عناصر جو خوف اور پریشانی سے متاثر ہوجاتے تھے اور جن کی ابھی تک پوری تربیت نہ ہوئی تھی اور وہ اس جدید معاشرے میں ابھی تک ڈھل نہ گئے اور ان کے اندر پوری ہم آہنگی پیدا نہ ہوئی تھی ان کو بھی اجتماعی معاشرتی نظام سنبھالا دیتا تھا۔ بہرحال آہستہ آہستہ یہ جدید عناصر تربیت پا رہے تھے۔ اس معاشرے میں ڈھل رہے تھے اور ان کی تطہیر مسلسل ہو رہی تھی اور وہ اسلامی معاشرے کی اصل قوت کے ساتھ ملتے رہتے تھے۔ اور ضعیف القلب ، نافرمانی کرنے والوں اور ڈھل مل یقین قسم کے لوگوں کی تعداد روز بروز کم ہو رہی تھی۔ مفادات سے ڈرنے والے اور ایسے لوگ جن کے دلوں میں ابھی تک اسلامی نظریہ حیات پوری طرح نہ بیٹھا تھا تاکہ وہ اپنے سوشل روابط بھی اسی نظریہ کی اساس پر استوار کریں۔ یہاں تک کہ فتح مکہ سے پہلے حالت یہ ہوگئی تھی کہ اسلامی معاشرہ تعلیم وتربیت اور اپنی ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے مقام کمال کے قریب پہنچ گیا تھا اور اکثر لوگ مہاجرین وانصار میں سے سابقین اولین کے نقش قدم پر چل پڑے تھے۔ اور یہ معاشرہ اس قدر پاک اور تربیت یافتہ ہوگیا تھا کہ وہ اسلامی نظام حیات کے پیش نظر مطلوبہ معیار کے قریب تر تھا۔ یہ بات درست ہے کہ ابھی تک اس معاشرے میں ایسی قدریں نشوونما پا چکی تھیں کہ جن کا تعلق براہ راست اسلامی نظریات کے ساتھ تھا۔ ان اقدار کی وجہ سے تحریک کے اندر کچھ لوگ زیادہ ممتاز تھے اور زیادہ ثابت قدم تھے اور تحریک کی صفوں میں اوروں سے آگے تھے۔ مثلاً مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین ، اہل بدر ، حدیبیہ میں بیعت رضوان کرنے والے۔ پھر جن لوگوں نے فتح مکہ سے قبل جہاد ، انفاق اور قتال میں حصہ لیا اور جنہوں نے بعد میں لیا۔ نصوص کتاب اللہ ، احادیث نبوی اور تحریک کے بعض عملی اقدامات سے یہ تفاوت مراتب اور اقدار کا ثبوت ماتا ہے۔ یہ اسلامی اقدار اور تفاوت اسلامی نظریہ حیات کو آگے بڑھانے کے نقطہ نظر سے متعین ہوئیں "۔ مذکورہ بالا اقتباسات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ انصار و مہاجرین میں سے جو لوگ سابقون اولون تھے ان کے ایمانی معیار اور ان کی تحریکی ازمائشوں نے انہیں کس مقام بلند تک پہنچایا اور اس سے ہمیں اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ تعمیر اسلام اور عملاً اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں صحابہ کرام کا کردار پوری انسانی تاریخ میں کس قدر اہم ہے اور مبنی بر حقیقت ہے۔ اور اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (رضی اللہ عنہم و رضو عنہ) کا حقیقی مفہوم کیا۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور اللہ کی رضا کا نتیجہ ہوتا ہے اللہ کی طرف اجر وثواب۔ اللہ کی رضا مندی بذات خود بھی بڑا انعام ہے۔ اور لوگوں کی طرف سے اللہ سے راضی ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اللہ سے مطمئن ہوتے ہیں ، اللہ کے فیصلوں پر راضی ہوتے ہیں اور اللہ کے فیصلوں کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں۔ اور اللہ نے انہیں جو انعامات دیے ہیں ان پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اگر اللہ کی جانب سے ان پر کوئی آزمائش آجائے تو اس پر صبر کرتے ہیں۔ لیکن یہاں جن الفاظ اور اور جس انداز میں رضا مندی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مختار زمانہ گروہ اور ذات باری کے درمیان ایک عمومی ، گہری ، دو طرفہ ، وسیع الاطراف اور دونوں جوانب سے رضامندی کا تبادلہ ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ نے اس برگزیدہ گروہ کو یہ مقام عطا فرمایا ہے کہ وہ بھی اس قابل ہوگئے کہ وہ اللہ سے راضی ہوں حالانکہ اللہ رب اور حاکم ہے اور یہ لوگ اس کی مخلوق اور بندے ہیں۔ فریقین کے درمیان یہ تعلق اس قدر گہرا اور اس قدر شاندار ہے کہ انانی الفاظ میں اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ صحابہ کرام کی یہ شان نصوص قرآنی کے بین السطور سے صرف اس شخص کے سامنے کھلتی ہے جو روحانی تڑپ رکھتا ہو اور جس کا سینہ معانی قرآن کے لیے کھلا ہو اور جس کا حس اور شعور عالم بالا کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔ یہ ہے ان کا دائمی اور مخصوص تعلق اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اللہ ان سے راضی ہوگیا اس رضامندی کی علامت کیا ہے ؟ یہ کہ ! وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : ان کے لیے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی عظیم الشان کامیابی ہ۔ یہ تو ہے ایک معیار اور اس کے مقابلے میں دوسری سطح کے لوگ بھی ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سبقت لے جانے والے مہاجرین اور انصار اور ان کا اتباع کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہے اس آیت میں حضرات مہاجرین اور انصار میں جو سابقین اولین تھے ان کی تعریف فرمائی۔ اور جنہوں نے احسان اور اخلاص کے ساتھ ان کا اتباع کیا ان کی بھی تعریف فرمائی، اور یہ اعلان فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ بھی اللہ سے راضی ہوئے۔ ان کی اخروی نعمتوں کا بھی تذکرہ فرمایا کہ ان کے لیے ایسے باغ تیار فرمائے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور آخر میں فرمایا کہ یہ بڑی کامیابی ہے۔ جن حضرات نے اسلام کی طرف سبقت کی مہاجرین میں سے ہوں یا انصار میں سے اور جن حضرات نے ان کا اتباع کیا اور یہ اتباع اخلاص کے ساتھ تھا ان سب کی فضیلت اور منقبت آیت بالا سے ظاہر ہو رہی ہے۔ جنہوں نے اخلاص کے ساتھ ان کا اتباع کیا ان میں وہ صحابہ بھی ہیں جو ان کے بعد مسلمان ہوئے اور وہ لوگ بھی ہیں جو صحابیت کے عظیم مرتبہ سے مشرف نہ ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد سابقین اولین مہاجرین و انصار کی راہ پر چلے۔ جنہیں تابعین کہا جاتا ہے۔ اس آیت سے واضح طور پر مہاجرین اور انصار کے بارے میں اللہ جل شانہٗ کی طرف سے اس بات کا اعلان ہے کہ یہ حضرات جنتی ہیں اور اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، سابقین اولین میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) بھی ہیں۔ روافض کی گمراہی : روافض کا جو یہ کہنا ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر مسلمان ہی نہیں تھے اور یہ کہ تین چار صحابہ کے علاوہ باقی سب مرتد ہوگئے تھے۔ (العیاذ باللہ) ان کی یہ بات آیت بالا کی تکذیب کر رہی ہے۔ جو شخص کسی آیت کی تکذیب کرے وہ خود کافر ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے راضی نہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سابقین اولین اور ان کے متبعین سے راضی ہونے کا اعلان فرما دیا لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اعلان صحیح نہیں ان کے عقیدہ میں تین چار صحابہ کے علاوہ باقی سب دوزخ میں ہیں اور خاص کر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے معذب ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان سے راضی ہونے کا اعلان فرما دیا اور ہمیشہ ہمیشہ ان کے جنت میں رہنے کی خوشخبری دے دی تو اس پر وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بدا گیا تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اس وقت معلوم نہیں تھا جب رضا مندی کا اعلان فرمایا کہ یہ لوگ مرتد ہوجائیں گے (العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ) اپنی بات کی پچ میں اللہ تعالیٰ کی طرف جہل کی نسبت کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے اعلان کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ملحدوں اور زندیقوں کی ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں۔ (مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَ یَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) (جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گمراہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑا ہے) آیت بالا میں مہاجرین و انصار میں جو سابقین اولین تھے وہ اور ان کا اتباع کرنے والوں کی منقبت بیان فرمائی۔ اور اس کے بعد والے رکوع میں مطلق مہاجرین و انصار کی تعریف فرمائی۔ اور سورة الفتح کی آیت (لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ ) میں ان سب حضرات سے راضی ہونے کا اعلان فرمایا جنہوں نے حدیبیہ کے موقعہ پر بیعت کی تھی جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) بھی تھے۔ پھر سورة الفتح کے ختم پر تمام صحابہ کی تعریف بیان فرمائی۔ اور فرمایا (مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ ) (الآیۃ) اور آخر میں ان کے لیے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ ان سب آیات کی تصریحات کے خلاف روافض کہتے ہیں کہ بجز تین چار صحابہ کے کوئی بھی مسلمان نہ رہا۔ انہیں حضرات صحابہ پر کفر چپکانے پر تو اصرار ہے لیکن اپنے مومن ہونے کی طرف ذرا دھیان نہیں۔ اپنی طرف بھی تو دیکھو قرآنی آیات کے منکر ہو کر تم کیسے مومن ہو ؟ کیا حضرات صحابہ کرام (رض) کو کافر کہہ دینے سے آخرت میں نجات ہوجائے گی۔ یوم آخرت میں خودمومن ہو کر پیش ہونے کو کیوں ضروری نہیں سمجھتے۔ (فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ ) حضرات مہاجرین و انصار اور ان کا اتباع کرنے والے جنتی ہیں فائدہ : (وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ) جو فرمایا ہے اس میں قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا اعلان ہوگیا اور یہ سب کو معلوم ہے کہ حضرات صحابہ کرام (رض) کا اتباع کرنے والے صرف وہی لوگ ہیں جنہیں اہل السنت والجماعت کہا جاتا ہے۔ بہت سے فرقے اسلام کے دعویدار ہیں لیکن ان میں جو بھی کوئی حضرات صحابہ (رض) کے دین پر نہیں ہیں وہ سب گمراہ ہیں۔ قرآن مجید بھی حضرات صحابہ کرام (رض) کے واسطہ سے ملا ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات بھی انہی حضرات کے ذریعہ پہنچے ہیں جو ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہیں۔ جو لوگ حضرات صحابہ کرام (رض) کو مسلمان نہیں مانتے ان کے پاس خود ان کے دعویٰ کے مطابق نہ تو وہ قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات ہیں۔ اور اسی لیے ان کی زندگی میں اسلامی اعمال نہیں ہیں آیت بالا میں اور سورة نساء کی آیت (وَ یَتَّبِعْ غَیْرَِ سَبِیْلِ الْمُوْمِنِیْنَ ) میں حضرات صحابہ اور ان کے متبعین کو اور اہل ایمان کو معیار حق قرار دیا ہے آپ نے یہ فرمایا کہ میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے اور اس کے ساتھ یہ بھی فرما دیا عَلَیکُمْ بِسُنَّتِیْ وَ سُنَّۃَ الْخُلَفَآء الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ تَمَسَّکُوْا بِھَا وَ عَضُّوْا عَلَیْھَا بالنَّوَاجِذِ (تمہارے لیے میری سنت اور میری خلفائے راشدین مھدیین کی سنت کو لازم پکڑنا ضروری ہے اس کو تھامے رہو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑو) (مشکوٰۃ المصابیح ص ٢٠) پھر جب تہتر فرقوں کا ذکر فرمایا اور یہ فرمایا کہ ان میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا تو اس پر حضرات صحابہ نے عرض کیا کہ وہ فرقہ کون سا ہے اس پر آپ نے فرمایا : مَا اَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ کہ جس طریقے پر میں اور میرے صحابہ ہیں جو جماعت اس طریقہ پر ہوگی وہ نجات والی ہے (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٠) اس میں بھی حضرات صحابہ کو معیار حق بتایا، اب ہر مدعی اسلام سوچ لے کہ وہ خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام کے راستہ پر ہے یا نہیں، اپنے افکار، عقائد و اعمال کا جائزہ لے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

96:“ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ الخ ” یہ مہاجرین و انصار اور ان کے نقش پر چلنے والوں کے لیے بشارتِ اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

100 اور وہ مہاجر اور ترک وطن کرنے والے اور مہاجرین کی مدد کرنے والے انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمانی کے قبول کرنے میں سبقت کی اور جنہوں نے اخلاص کے ساتھ دعوت ایمانی کو قبول کرنے میں مہاجروں و انصار کا اتباع کیا اور مہاجرین و انصار کی پیروی کی اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لئے ایسے باغ تیارکررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ انعامات کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یعنی وہ مہاجرین و انصار جو ایمان لانے میں مقدم اور سابق ہیں خواہ وہ مسلمان ہوں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نما ز پڑھی ہو خواہ وہ ہوں جو جنگِ بدر سے پہلے مسلمان ہوئے ہوں تمام امت میں یہی لوگ سابق اور قدیم ہیں اس کے بعد خواہ وہ صحابہ (رض) ہوں یعنی غیرمہاجرین و انصار یا تابعین اور تبع تابعین ہوں یا ان کے بعد کے لوگ ہوں علی فرقِ مراتب سب ہی کم و بیش اس بشارت میں شریک ہیں اگرچہ مراتب اور درجات کی نوعیت میں فرق ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جنگِ بدرتک جو مسلمان ہوئے وہ قدیم ہیں اور باقی ان کے تابع۔ 12