Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 117

سورة التوبة

لَقَدۡ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ فِیۡ سَاعَۃِ الۡعُسۡرَۃِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا کَادَ یَزِیۡغُ قُلُوۡبُ فَرِیۡقٍ مِّنۡہُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّہٗ بِہِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾ۙ

Allah has already forgiven the Prophet and the Muhajireen and the Ansar who followed him in the hour of difficulty after the hearts of a party of them had almost inclined [to doubt], and then He forgave them. Indeed, He was to them Kind and Merciful.

اللہ تعالٰی نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی ۔ بلاشبہ اللہ تعالٰی ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Battle of Tabuk Mujahid and several others said, "This Ayah was revealed concerning the battle of Tabuk. They left for that battle during a period of distress. It was a year with little rain, intense heat and scarcity of supplies and water." Qatadah said, "They went to Ash-Sham during the year of the battle of Tabuk at a time when the heat was intense. Allah knew how hard things were, and they suffered great hardship. We were told that two men used to divide a date between themselves. Some of them would take turns in sucking on a date and drinking water, then give it to another man to suck on. Allah forgave them and allowed them to come back from that battle." Ibn Jarir reported that Abdullah bin Abbas said that; Umar bin Al-Khattab was reminded of the battle of distress (Tabuk) and Umar said, "We went with the Messenger of Allah in the intense heat for Tabuk. We camped at a place in which we were stricken so hard by thirst that we thought that our necks would be severed. One of us used to go out in search of water and did not return until he feared that his neck would be severed. One would slaughter his camel, squeeze its intestines and drink its content, placing whatever was left on his kidney. Abu Bakr As-Siddiq said, `O Allah's Messenger! Allah, the Exalted and Most Honored, has always accepted your invocation, so invoke Allah for us.' The Prophet said, تُحِبُّ ذَلِكَ Would you like me to do that? Abu Bakr said, `Yes.' The Prophet raised his hands and did not put them down until rain fell from the sky in abundance. It rained and then stopped raining for a while, then rained again, so they filled their containers. We went out to see where the rain reached and found that it did not rain beyond our camp."' Allah says; لَقَد تَّابَ الله عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالاَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ... Allah has forgiven the Prophet, the Muhajirin and the Ansar who followed him in the time of distress, Ibn Jarir said, meaning "With regards to expenditures, transportation, supplies and water, ... مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ... after the hearts of a party of them had nearly deviated, away from the truth, thus falling prey to doubting the Messenger's religion because of the distress and hardships they suffered during their travel and battle, ... ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ... but He accepted their repentance. He directed them to repent to their Lord and renew their firmness on His religion, ... إِنَّهُ بِهِمْ رَوُوفٌ رَّحِيمٌ Certainly, He is unto them full of kindness, Most Merciful."

تپتے صحرا ، شدت کی پاس اور مجاہدین سرگرم سفر مجاہد وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جنگ تبوک کے بارے میں اتری ہے اس جنگ میں جانے کے وقت سال بھی قحط کا تھا ، گرمیوں کا موسم تھا ، کھانے پینے کی کمی تھی ، راستوں میں پانی نہ تھا ۔ شام کے ملک تک کا دور دراز کا سفر تھا ۔ سامان رسد کی اتنی کمی کہ دو دو آدمیوں میں ایک ایک کھجور بٹتی تھی ۔ پھر تو یہ ہو گیا تھا کہ ایک کھجور ایک جماعت کو ملتی یہ چوس کر اسے دیتا وہ اور کو اور ایک ایک چوس کر پانی پی لیتا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت ان پر لازم کر دی اور انہیں واپس لایا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جب اس سختی کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ۔ سخت گرمیوں کے زمانے میں ہم نگلنے کو تھے ، ایک منزل میں تو پیاس کے مارے ہماری گردنیں ٹوٹنے لگیں یہاں تک کہ لوگ اپنے اونٹوں کو ذبح کر کے اس کی اوجھڑی نچوڑ کر اس پانی کو پیتے اور پھر اسے اپنے کلیجے سے لگا لیتے اس وقت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو ہمیشہ ہی قبول فرمایا ہے ۔ اب بھی دعا کیجئے کہ اللہ قبول فرمائے آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا شروع کی اس وقت آسمان پر ابر چھا گیا اور برسنے لگا اور خوب برسا جس کے پاس جتنے برتن تھے سب بھر لیے پھر بارش رک گئی اب جو ہم دیکھتے ہیں تو ہمارے لشکر کے احاطے سے باہر ایک قطرہ بھی کہیں نہیں برسا تھا ۔ پس اس جہاد میں جنہوں نے روپے پیسے سے ، سواری سے ، خوراک سے ، سامان رسد اور ہتھیار سے پانی وغیرہ سے غرض کسی طرح بھی مومنوں کی مدد کی تھی ، ان کی فضیلت و برتری بیان ہو رہی ہے ۔ یہی وہ وقت تھا کہ بعض کے دل پھر جانے کے قریب ہو گئے تھے ۔ مشقت شدت اور بھوک پیاس نے دلوں کو ہلا دیا تھا ، مسلمان جھنجھوڑ دیئے گئے تھے لیکن رب نے انہیں سنبھال لیا اور اپنی طرف جھکا لیا اور ثابت قدمی عطا فرما کر خود بھی ان پر مہربان ہوگیا ، اللہ تعالیٰ جیسی رافعت و رحمت اور کس کی ہے؟ وہ ان پر خوب ہی رحمت و کرم رکھتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

117۔ 1 جنگ تبوک کے سفر کو ' تنگی کا وقت ' قرار دیا۔ اس لئے کہ ایک تو موسم سخت گرمی کا تھا دوسرے، فصلیں تیار تھیں، تیسرے، سفر خاصا لمبا تھا اور چوتھے وسائل کی بھی کمی تھی۔ اس لئے اسے (تنگی کا قافلہ یا لشکر) کہا جاتا ہے۔ توبہ کے لئے ضروری نہیں ہے کہ پہلے گناہ یا غلطی کا ارتکاب ہو۔ اس کے بغیر بھی رفع درجات اور غیر شعوری طور پر ہونے والی کوتاہیوں کے لئے توبہ ہوتی ہے۔ یہاں مہاجرین و انصار کے اس سے پہلے گروہ کی توبہ اس مفہوم میں ہے جنہوں نے بلا تأمل نبی کے حکم جہاد پر لبیک کہا۔ 117۔ 2 یہ اس دوسرے گروہ کا ذکر ہے جسے مزکورہ وجوہ سے ابتداءً تردد ہوا۔ لیکن پھر جلد ہی وہ اس کیفیت سے نکل آیا اور بخوشی جہاد میں شریک ہوا۔ دلوں میں تزلزل سے مراد دین کے بارے میں کوئی تزلزل یا شبہ نہیں ہے بلکہ مزکورہ دنیاوی اسباب کی وجہ سے شریک جہاد ہونے میں جو تذبذب اور تردد تھا وہ مراد ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٣] اس آیت میں تنگی کے وقت سے مراد غزوہ تبوک پر روانگی کا وقت ہے جبکہ شدید گرمی کا موسم تھا قحط سالی تھی، فصلیں پکنے والی تھیں بےسرو سامانی کی حالت تھی، سفر طویل اور پر مشقت تھا۔ چناچہ اس وقت بعض سچے مسلمان بھی جہاد پر روانہ ہونے سے گھبرانے لگے تھے۔ آخر ان کے ایمان کی پختگی ان کے نفس پر غالب آئی اور وہ پورے عزم کے ساتھ جہاد پر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں اللہ کی مہربانی سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اس گھبراہٹ کے عالم میں انہیں روانگی کے لیے ہمت و جرأت عطا فرمائی اور نبی پر مہربانی سے مراد وہ آیت ہے جس کا آغاز ہی اس طرح ہوا تھا کہ && اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ایسے ہٹے کٹے، تنومند اور کھاتے پیتے منافقوں کو جہاد پر جانے سے رخصت کیوں دے دی (٩ : ٤٣)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ : ” تَّابَ “ کے معانی لوٹ آنا، مہربان ہوجانا، معافی مانگنا، معاف کردینا، آئندہ غلطی سے باز آنا اور توبہ قبول کرلینا سبھی آتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور مہاجرین و انصار پر مہربان ہونے اور معاف فرمانے کا مطلب ” فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ “ کے الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے۔ تنگی کی گھڑی سے مراد غزوۂ تبوک پر روانگی کا وقت ہے جب شدید گرمی کا موسم تھا، قحط سالی تھی، فصلیں پکنے والی تھیں اور بےسروسامانی کی حالت تھی، ادھر چھ سو کلو میٹر کا طویل اور پر مشقت سفر سامنے تھا۔ دس آدمیوں کے لیے صرف ایک اونٹ تھا، سواریوں، زاد راہ اور پانی تینوں کی سخت تنگی تھی۔ چناچہ اس وقت بعض سچے مخلص مسلمان بھی جہاد پر روانہ ہونے سے گھبرانے لگے، آخر ان کے ایمان کی پختگی ان کے نفس پر غالب آئی اور وہ پورے عزم کے ساتھ جہاد پر نکل کھڑے ہوئے۔ یہاں اللہ کی مہربانی سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اس گھبراہٹ کے عالم میں انھیں روانگی کے لیے ہمت و جرأت عطا فرمائی اور ان کے دل میں آنے والے خطرات بھی معاف فرما دیے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مہربانی سے مراد وہ آیت (٤٣) ہے جس کا آغاز ہی اس طرح ہوا تھا : (عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ ) کہ اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا، آپ نے ایسے ہٹے کٹے، تنومند اور کھاتے پیتے منافقوں کو جہاد پر جانے کی رخصت کیوں دے دی ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the comments on verse 102: وَآخَرُ‌ونَ اعْتَرَ‌فُوا (And there are those who admitted...), it was said that following the general call of Jihad at Tabuk which required all Muslims to join in, the people of Madinah had split into five groups. Two of them were of those who elected to stay behind without any valid excuse, a detailed description of which has appeared in previous verses. Here, in the present verses, three kinds of sincere believers have been mentioned. First were those who responded to the call of Jihad instantly. They have been identified in the initial sentence: اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَ‌ةِ (who followed him in the hour of hardship) of verse 117. The second group was of those who hesitated during the early stage but recovered soon and got ready for Jihad with other participants. They have been described in the sentence: كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِ‌يقٍ مِّنْهُمْ (after the hearts of a group of them were about to turn crooked) of the same verse (117). The third group was that of the believers who did not, though, par¬ticipate in the Jihad because of their laziness at that time, yet, later on, they regretted and sought forgiveness - and ultimately, the Taubah made by them was accepted. However, their group was further di¬vided in two types. Originally, they were ten in number. Seven out of these men demonstrated their genuine remorse and repentance in¬stantly soon after the return of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The manner in which they did so was unusual. They tied themselves up with the pil¬lars of the Prophet&s Mosque with the resolve that they would stay tied as long as their Taubah was not accepted. The verse known as the &Ayah of Taubah granting forgiveness for them was revealed immedi¬ately then. Details can be seen under comments on verse 102. The re¬maining three out of the ten were those who did not act in that man¬ner. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked his Companions to boycott them whereby no one was to greet or talk to them. This thing was ter¬rible. It really disturbed them. They have been mentioned in the second verse (118) through the words: وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا (And towards the three whose matter was deferred) where comes the acceptance of their Taubah soon after which the order to boycott them was withdrawn. Before we move on to explain the first verse (117): لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِ‌ينَ وَالْأَنصَارِ‌ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَ‌ةِ (Surely, Allah has relented towards the Prophet and the Emigrants and the Supporters who followed him in the hour of hardship) in some details, let us answer a question first. Is it not that Taubah is done because of having committed an act of sin and disobedience? The Holy Prophet (رض) is protected from that (ma` sum). What, then, would be the sense of accepting his Taubah (&relenting towards the Prophet& )? In addition to that, there were the Sahabah from among the Muhajirin and Ansar who had opted for Jihad since the very beginning. They too had not done anything wrong. For what crime had they made their Taubah that was accepted? The answer is that Allah Ta` a1a made all of them safe from sin. This was expressed as Taubah, or that Allah Ta` ala made all of them tawwab, those who turn to Allah. This indicates that no one is free from the need to make Taubah, not even the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his closest Companions (رض) - as it appears in another verse: وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا (and turn towards Allah in repentance, all of you - 24:31). The reason is that the degrees and ranks of nearness to Allah are endless. Whoever has reached a certain station should realize that there is a higher station ahead and, as compared to that high station, the present one is a shortcoming. The quest must go on. Let one seek for¬giveness for any shortcoming he may have at his present station so that he could move on to the next, the higher. Coming to words: سَاعَةِ الْعُسْرَ‌ةِ (translated as ` the hour of hardship& ) ap¬pearing in verse 117, the Holy Qur&an has employed this expression to portray the condition of the Muslims on the occasion of this very Jihad because they were poor and straitened on many counts. Hasan al-Basri (رح) says, ` they had one mount for every ten men. They had to take turns to ride. The wherewithal required for such a trip was very short and ordi¬nary. On the other hand, the heat was intense and scorching. Water in en route was scarce and at distances. As for the next sentence: مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِ‌يقٍ مِّنْهُمْ (after the hearts of a group of them were about to turn crooked), the زَیغ (zaigh: crooked¬ness) of the hearts of some people referred to here does not mean some deviation from faith. In fact, it means to lose heart and wish to avoid action in Jihad because of the hardship of hot weather and the dearth of necessary supplies. Hadith narratives prove that. It was in view of these hardships they faced that their repentance was accepted.

خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حال پر توجہ فرمائی ( کہ آپ کو نبوت اور امامت جہاد اور تمام خوبیاں عطا فرمائیں) اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی ( توجہ فرمائی کہ ان کو ایسی مشقت کے جہاد میں مستقیم رکھا) جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں تزلزل ہو چلا تھا ( اور جہاد میں جانے سے ہمت ہارنے کو تھے مگر) پھر اللہ نے ان ( گروہ) کے حال پر توجہ فرمائی ( کہ ان کو سنبھال لیا اور آخر ساتھ ہو ہی لئے پس) بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے ( کہ اپنی مہربانی سے ہر ایک کے حال پر کس کس طرح توجہ فرمائی) اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی ( توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا یہاں تک کہ جب ( ان کی پریشانی کی یہ نوبت پہنچی کہ) زمین باوجود اپنی ( اتنی بڑی) فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ خدا ( کی گرفت) سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے ( اس وقت وہ خاص توجہ کے قابل ہوئے) پھر ان کے حال پر ( بھی خاص) توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی ( ایسے مواقع مصیبت و معصیت میں اللہ کی طرف) رجوع رہا کریں بیشک اللہ تعالیٰ بہت توجہ فرمانے والے بڑے رحم کرنے والے ہیں، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ( عمل میں) سچوں کے ساتھ رہو ( یعنی جو نیت اور بات میں سچے ہیں ان کی راہ چلو کہ تم بھی صدق اختیار کرو) ۔ معارف و مسائل یہاں سے چند آیات پہلے آیت وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا کے بیان میں یہ لکھا گیا تھا کہ غزوہ تبوک کے لئے سب مسلمانوں کو نکلنے کا حکم عام ہونے کے وقت اہل مدینہ کے لوگوں کی پانچ قسمیں ہوگئی تھیں دو قسمیں متخلفین بغیر عذر کی تھیں جن کا بیان سابقہ آیات میں تفصیل کے ساتھ آچکا ہے، مذکور الصدر آیات میں مؤمنین مخلصین کی تین قسموں کا ذکر ہے۔ اول وہ لوگ جو حکم جہاد پاتے ہی فوراً تیار ہوگئے، ان کا بیان آیت مذکورہ کے ابتدائی جملے میں (آیت) الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ، میں ہوا ہے دوسرے وہ لوگ جو ابتداء کچھ تردد میں رہے مگر پھر سنبھل گئے اور جہاد کے لئے سب کے ساتھ ہوگئے انکا بیان اسی آیت کے اس جملے میں ہے مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ۔ تیسرے وہ مؤمنین تھے جو اگرچہ وقتی کاہلی و سستی کی وجہ سے جہاد میں نہ گئے، مگر بعد میں نادم اور تائب ہوئے، اور بالاخر ان سب کی توبہ قبول ہوگئی، مگر ان میں پھر دو قسم ہوگئی تھیں یہ کل دس آدمی تھے جن میں سے سات آدمیوں نے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی واپسی کے بعد فوراً اپنی ندامت و توبہ کا اظہار اس شان سے کیا کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا کہ جب تک ہماری توبہ قبول نہ ہوگی بندھے رہیں گے ان کی آیت توبہ تو اسی وقت نازل ہوگئی جس کا بیان پہلے ہوچکا ہے، تین آدمی وہ تھے جنہوں نے یہ عمل نہیں کیا، ان کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو مقاطعہ کا حکم ( دے دیا کہ کوئی ان کے ساتھ سلام کلام نہ کرے، جس سے یہ حضرات سخت پریشان ہوگئے، ان کا ذکر دوسری آیت (آیت) وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا میں ہوا ہے، جس میں بالاخر ان کی توبہ کے قبول ہونے کا بیان ہے، اور اس کے ساتھ ہی ان سے مقاطعہ کا حکم ختم کردیا گیا، (آیت) لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرلی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان مہاجرین و انصار کی جنہوں نے تنگی اور تکلیف کے وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کیا۔ جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو گناہ سے بچا دیا، اسی کو توبہ کے نام سے تعبیر کیا گیا یا یہ کہ ان سب حضرات کو حق تعالیٰ نے تَوّاب بنادیا، اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ توبہ کی حاجت و ضر ورت سے کوئی شخص مستغنی نہیں، یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے مخصوص صحابہ بھی، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ہے : وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا، یعنی توبہ کرو اللہ سے سب کے سب۔ وجہ یہ ہے کہ تقرب الی اللہ کے درجات غیر متناہی ہیں، جو شخص جس مقام پر پہنچا ہے اس سے آگے بھی اس سے بلند مقام ہے، جس کے مقابلہ میں موجود مقام پر رک جانا ایک نقص و کوتاہی ہے، مولانا رومی نے اسی مضمون کو ایک شعر میں اس طرح بیان فرمایا ہے اے برادر بےنہایت در گہی ست ہرچہ بروے می رسی بروے مایست اس لحاظ سے موجودہ مقام پر ہونے سے توبہ کی ضرورت ہے، تاکہ اگلا مقام حاصل ہو۔ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ، اسی جہاد کے موقع کو قرآن کریم نے ساعَةِ الْعُسْرَةِ سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ مسلمان اس وقت افلاس اور تنگی میں تھے، حسن بصری فرما تے ہیں کہ دس آدمیوں کے لئے ایک سواری تھی جس پر باری باری سوار ہوتے تھے، توشہ سفر بھی بہت کم اور معمولی تھا، دوسری طرف گرمی سخت و شدید تھی، پانی بھی راستہ میں کہیں کہیں اور تھوڑا تھا۔ (آیت) مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ، اس میں جو بعض لوگوں کے قلوب کا زیغ بیان کیا گیا ہے اس سے مراد دین سے انحراف نہیں، بلکہ سختی موسم اور قلت سامان کے سبب ہمت ہار دینا اور جہاد سے جان چرانا مراد ہے، روایات حدیث اس پر شاہد ہیں، اس قصور سے ان کی توبہ قبول کی گئی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَقَدْ تَّابَ اللہُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُہٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْہُ فِيْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ بِہِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝ ١١٧ ۙ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔ نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ هجر والمُهاجرَةُ في الأصل : مصارمة الغیر ومتارکته، من قوله عزّ وجلّ : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] ، وقوله : لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] ، وقوله : وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] ، فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] فالظاهر منه الخروج من دار الکفر إلى دار الإيمان کمن هاجر من مكّة إلى المدینة، وقیل : مقتضی ذلك هجران الشّهوات والأخلاق الذّميمة والخطایا وترکها ورفضها، وقوله : إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] أي : تارک لقومي وذاهب إليه . ( ھ ج ر ) الھجر المھاجر ۃ کے اصل معی) تو ایک دوسرے سے کٹ جانے اور چھوڑ دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور ۃ کفار سے ) جنگ کرتے رہے ۔ اور آیات قرآنیہ : ۔ لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] فے کے مال میں محتاج مہاجرین کا ( بھی ) حق ہے ۔ جو کافروں کے ظلم سے اپنے گھر اور مال سے بید خل کردیئے گئے ۔ وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے ۔ فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] تو جب تک یہ لوگ خدا کی راہ میں ( یعنی خدا کے لئے ) ہجرت نہ کر آئیں ان میں سے کسی کو بھی اپنا دوست نہ بنانا ۔ میں مہاجرت کے ظاہر معنی تو دار الکفر سے نکل کر وادلاسلام کی طرف چلے آنے کے ہیں جیسا کہ صحابہ کرام نے مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی لیکن بعض نے کہا ہے کہ ہجرت کا حقیقی اقتضاء یہ ہے کہ انسان شہوات نفسانی اخلاق ذمیمہ اور دیگر گناہوں کو کلیۃ تر ک کردے اور آیت : ۔ إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] اور ابراہیم نے کہا کہ میں تو دیس چھوڑ کر اپنے پروردگاع کی طرف ( جہاں کہیں اس کو منظور ہوگا نکل جاؤ نگا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی قوم کو خیر باد کہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف چلا جاؤں گا ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ عسر العُسْرُ : نقیض الیسر . قال تعالی: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً [ الشرح/ 5- 6] ، والعُسْرَةُ : تَعَسُّرُ وجودِ المالِ. قال : فِي ساعَةِ الْعُسْرَةِ [ التوبة/ 117] ، وقال : وَإِنْ كانَ ذُو عُسْرَةٍ [ البقرة/ 280] ، وأَعْسَرَ فلانٌ ، نحو : أضاق، وتَعَاسَرَ القومُ : طلبوا تَعْسِيرَ الأمرِ. وَإِنْ تَعاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرى[ الطلاق/ 6] ، ويَوْمٌ عَسِيرٌ: يتصعّب فيه الأمر، قال : وَكانَ يَوْماً عَلَى الْكافِرِينَ عَسِيراً [ الفرقان/ 26] ، يَوْمٌ عَسِيرٌ عَلَى الْكافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ [ المدثر/ 9- 10] ، وعَسَّرَنِي الرّجلُ : طالبني بشیء حين العُسْرَةِ. ( ع س ر ) العسر کے معنی تنگی اور سختی کے ہیں یہ یسر ( آسانی فارغ البالی ) کی ضد ہے قرآن میں ہے : فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً [ الشرح/ 5- 6] یقینا مشکل کے ساتھ آسانی ہے بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ العسرۃ تنگ دستی تنگ حسالی قرآن میں ہے : ۔ فِي ساعَةِ الْعُسْرَةِ [ التوبة/ 117] مشکل کی گھڑی میں ۔ وَإِنْ كانَ ذُو عُسْرَةٍ [ البقرة/ 280] اور اگر قرض لینے والا تندست ہو ۔ اور اضاق فلان کی طرح اعسر فلان کے معنی ہیں وہ مفلس اور تنگ حال ہوگیا تعاسر القوم لوگوں نے معاملہ کو الجھا نے کی کوشش کی قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ تَعاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرى[ الطلاق/ 6] اور اگر باہم ضد ( اور نااتفاقی ) کرو گے تو ( بچے کو اس کے ) باپ کے ) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی ۔ یوم عسیر سخت دن ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكانَ يَوْماً عَلَى الْكافِرِينَ عَسِيراً [ الفرقان/ 26] اور وہ دن کافروں پر ( سخت ) مشکل ہوگا ۔ يَوْمٌ عَسِيرٌ عَلَى الْكافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ [ المدثر/ 9- 10] مشکل کا دن ( یعنی ) کافروں پر آسان نہ ہوگا ۔ عسر الرجل تنگدستی کے وقت کسی چیز کا مطالبہ کرنا ۔ كَادَ ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] ، لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] . وقلّما يستعمل في كاد أن إلا في ضرورة الشّعر «1» . قال قد كَادَ من طول البلی أن يمصحا«2» أي : يمضي ويدرس . ( ک و د ) کاد ( س ) فعل مقارب ہے یعنی کسی فعل کے قریب الوقوع ہون کو بیان کرنے کے لئے آتا ہے مثلا کا دیفعل قریب تھا وہ اس کا م کو گزرتا یعنی کرنے والا تھا مگر کیا نہیں قرآن میں لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے ۔ وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] قریب تھا کہ یہ ( کافر) لگ تم اس سے بچلا دیں ۔ تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] قریب ہے کہ ( اس فتنہ ) سے آسمان پھٹ پڑیں ۔ ؛ يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] قریب ہے ک کہ بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کی بصاحب کو اچک لے جائے ۔ يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] قریب ہوتے ہیں کہ ان پر حملہ کردیں إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] تو تو مجھے ہلا ہی کرچکا تھا ۔ اور اگر ا ن کے ساتھ حرف نفی آجائے تو اثباتی حالت کے برعکدس فعل وقوع کو بیان کرنے کیلئے آتا ہے جو قوع کے قریب نہ ہوا اور حروف نفی اس پر مقدم ہو یا متاخر دونوں صورتوں میں ایک ہی معنی دیتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] اور وہ ا یسا کرنے والے تھے نہیں ۔ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اور کاد کے بعد ا ان کا استعمال صرف ضرورت شعری کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ( الرجز) ( 387 ) قد کاد من طول البلیٰ ان یمصحا قریب تھا کہ زیادہ بوسیدہ گی کے باعث وہ سٹ جائے زيغ الزَّيْغُ : المیل عن الاستقامة، والتَّزَايُغُ : التمایل، ورجل زَائِغٌ ، وقوم زَاغَةٌ ، وزائغون، وزاغت الشمس، وزَاغَ البصر، وقال تعالی: وَإِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ، يصحّ أن يكون إشارة إلى ما يداخلهم من الخوف حتی اظلمّت أبصارهم، ويصحّ أن يكون إشارة إلى ما قال : يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، وقال : ما زاغ الْبَصَرُ وَما طَغى [ النجم/ 17] ، مِنْ بَعْدِ ما کادَ يَزِيغُ [ التوبة/ 117] ، فَلَمَّا زاغُوا أَزاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ [ الصف/ 5] ، لمّا فارقوا الاستقامة عاملهم بذلک . ( ز ی غ ) الزیغ کے معنی حالت استقامت سے ایک جانب مائل ہوجانا کے ہیں اور التزایغ کے معنی تمایل یعنی بہت زیادہ مائل ہوجانا ایک دوسرے سے مائل ہونا رجل زائغ مائل ہونے والا ۔ اس کی جمع زاغۃ وزائغون آتی ہے ۔ زاغت الشمس ۔ سورج مائل بزوال ہوگیا زاغ البصر نگاہ نے غلطی کی ، ایک طرف ہٹ گئی ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَإِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ خوف و ہراس کی وجہ سے انہیں کچھ نظر نہیں آئے گا اور یہ بھی کہ یہ آیت :۔ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ [ آل عمران/ 13] کے ہم معنی ہو یعنی نگاہیں صحیح طور پر کسی چیز کا ادارک نہیں کرسکیں گی ۔ نیز فرمایا : ما زاغ الْبَصَرُ وَما طَغى [ النجم/ 17] نظر نہ تو حقیقت سے ایک طرف ہٹی اور نہ ہی اس نے حد سے تجاوز کیا ۔ مِنْ بَعْدِ ما کادَ يَزِيغُ [ التوبة/ 117] اس کے بعد کہ ۔۔۔۔ پھرجانے کو تھے ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَلَمَّا زاغُوا أَزاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ [ الصف/ 5] کے معنی یہ ہیں کہ جب وہ از خود صحیح راہ سے ہٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دلوں کو اسی طرف جھکا دیا ۔ فریق والفَرِيقُ : الجماعة المتفرّقة عن آخرین، قال : وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] ( ف ر ق ) الفریق اور فریق اس جماعت کو کہتے ہیں جو دوسروں سے الگ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب تو راہ کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں ۔ رأف الرَّأْفَةُ : الرّحمة، وقد رَؤُفَ فهو رَئِفٌ ورُؤُوفٌ ، نحو يقظ، وحذر، قال تعالی: لا تَأْخُذْكُمْ بِهِما رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ [ النور/ 2] . ( ر ء ف ) الرافتہ یہ رؤف ( ک ) سے ہے اور اس کے معنی شفقت اور رحمت کے ہیں صفت کا صیغہ رؤوف اور رئف مثل حزر وبقظ آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لا تَأْخُذْكُمْ بِهِما رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ [ النور/ 2] اور اللہ کے حکم ( کی تعمیل ) میں تم کو ان ( کے حال ) پر ( کسی طرح کا ) ترس دامن گیر نہ ہو ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے لقد تاب اللہ علی لنبی والمھاجرین والانصار والذین اتبعوا فی ساعۃ العسرۃ اللہ نے معاف کردیا نبی کو اور ان مہاجرین کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا ۔ عسرت کی معاملے کی تنگی ، اس کی شدت اور اس کی سختی کو کہتے ہیں ۔ یہ صورت حال غزوہ تبوک کے موقع پر پیش آئی تھی ۔ اس لیے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس غزوہ پر اس وقت نکلے تھے جب انتہائی گرمی تھی، نیز پانی اور رسد کی بھی انتہائی قلت تھی اور سواری کے جانوروں کی تعدا د بھی توڑی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے توبہ کے ذکر کے ساتھ ان لوگوں کو مخصوص کردیا جنہوں نے تنگی اس گھڑی میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا تھا ۔ اس لیے کسی صورت حال میں ساتھ دینے اور پیروی کرنے کا مرتبہ بہت اونچا ہوتا ہے اور اس کے بدلے میں ملنے والے ثواب کا درجہ بھی بہت بلند ہوتا ہے ، کیونکہ اس صورت میں انہیں بہت سی مشقتیں جھیلنی پڑتی ہیں ، انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے اور دوسری طرف ان کی بصیرت اور یقین کو بایں معنی مزید جلاحاصل ہوتا ہے کہ موسم کی کوئی شدت اور راستے کی کوئی مشقت انہیں اپنے ارادے اور راہ عمل سے ہٹا نہیں سکتی ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ایک ایسے گروہ کا بھی ذکر کیا ہے جن کے دل بس راہ حق سے ہٹنے ہی والے تھے چناچہ ارشاد ہے من بعد ما کادیر یغ قلوب فریق منھم ۔ اگرچہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چلے تھے ۔ زیغ حق سے دل کے اچٹ ہوجانے کو کہتے ہیں۔ اہل ایمان کا ایک گروہ اس کے قریب ہی پہنچ چکا تھا لیکن ابھی انہوں نے اس کجی اور حق سے میلان کے مطابق عمل نہیں کیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے مواخذہ نہیں کیا اور ان کی توبہ قبول کرلی ۔ اللہ تعالیٰ نے سختی کی اس گھڑی میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دینے الوں کو جس کیفیت کی بنا پر دوسروں پر فضلیت دی اسی کیفیت کی بنا پر حضرات مہاجرین کو حضرات انصار پر فضلیت عطا کی ۔ اور اسی کیفیت کی بنا پر ایمان اور اسلام میں سبقت لے جانے والوں کو دوسرے تمام لوگوں پر فضلیت دی اس لیے کہ انہیں مشقتیں برداشت کرنا پڑی تھیں اور انہوں نے ایسے وقت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کر کے اپنی زبردست بصیرت اور یقین کامل کا اظہار کردیا تھا جبکہ اہل ایمان کو انگلیوں پر گنا جاسکتا تھا اور دوسری طر ف اہل کفر کو پورا غلبہ حاصل تھا اور ان کی طرف سے جو گنتی کے چند اہل ایمان تھے انہیں مسلسل اذیتیں دی جاتی تھیں ، نیز ان کی تعذیب کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٧) اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان مہاجرین وانصار کے حال پر بھی توجہ فرمائی جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی اور بدر میں حاضر رہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان حضرات کے اوصاف بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے تنگی اور سختی کے وقت میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا، جس وقت کے زاد راہ اور سواریوں کی کمی اور تنگی تھی گرمی کی اور دشمن کی سختی تھی اور راستہ کی درازی کی سختی تھی، اس کے بعد مومنین مخلصین میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کے بارے میں تذبذب آگیا تھا مگر پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس تذبذب کو دور ر کردیا اور ان کے دلوں کو پختگی عطا فرمائی، آخرت کار وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہوگئے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٧ (لَقَدْ تَّابَ اللہ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ ) یہ تبوک کی مہم کی طرف اشارہ ہے۔ تاریخ میں یہ مہم جیش العسرۃ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خشک سالی کے باعث مدینہ میں قحط کا سماں تھا۔ ان حالات میں اتنے بڑے لشکر کا اتنی لمبی مسافت پر وقت کی سپر پاور سے نبرد آزما ہونے کے لیے جانا واقعی بہت بڑی آزمائش تھی۔ جو لوگ اس آزمائش میں ثابت قدم رہے ‘ یہ ان کے لیے رحمت و شفقت کا ایک اعلان عام ہے۔ (مِنْم بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ) بر بنائے طبع بشری کہیں نہ کہیں ‘ کبھی نہ کبھی انسان میں کچھ کمزوری آ ہی جاتی ہے۔ جیسے غزوۂ احد میں بھی دو مسلمان قبائل بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے لوگوں کے دلوں میں عارضی طور پر تھوڑی سے کمزوری آگئی تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :115 یعنی غزوہ تبوک کے سلسلہ میں جو چھوٹی چھوٹی لغزشیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے ہوئیں ان سب کو اللہ نے ان کی اعلیٰ خدمات کا لحاظ کرتے ہوئے معاف فرما دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو لغزش ہوئی تھی اس کا ذکر آیت ٤۳ میں گزر چکا ہے ، یعنی یہ کہ جن لوگوں نے استطاعت رکھنے کے باوجود جنگ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت مانگی تھی ان کو آپ نے اجادت دے دی تھی ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :116 یعنی بعض مخلص صحابہ بھی اس سخت وقت میں جنگ پر جانے سے کسی نہ کسی حد تک جی چرانے لگے تھے ، مگر چونکہ ان کے دلوں میں ایمان تھا اور وہ سچے دل سے دین حق کے ساتھ محبت رکھتے تھے اس لیے آخرکار وہ اپنی اس کمزوری پر غالب آگئے ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :117 یعنی اب اللہ اس بات پر ان سے مؤاخذہ نہ کرے گا کہ ان کے دلوں میں کجی کی طرف یہ میلان کیوں پیدا ہوا تھا ۔ اس لیے کہ اللہ اس کمزوری پر گرفت نہیں کرتا جس کی انسان نے خود اصلاح کر لی ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

93: منافقین کی مذمت اور سستی سے رہ جانے والے مسلمانوں کی معافی کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کی اس اکثریت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شاباش دی جا رہی ہے جنہوں نے انتہائی کٹھن حالات میں خندہ پیشانی کے ساتھ تبوک کی مہم میں حصہ لیا۔ ان میں بھی اکثریت تو انہی کی تھی جن کے دل میں جہاد اور تعمیل حکم کا جذبہ اتنا مضبوط تھا کہ وہ ان مشکل حالات کو خاطر میں نہیں لائے۔ البتہ کچھ حضرات ایسے بھی تھے کہ شروع میں ان مشکلات کی وجہ سے ان کے دل میں وسوسے آئے۔ لیکن آخر کار انہوں نے دل و جان سے مہم میں حصہ لیا۔ اس دوسری قسم کا حوالہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں دیا ہے کہ : جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١٧۔ یہ آیت تبوک کی لڑائی میں اتری ہے قتادہ کا قول ہے کہ تبوک کی لڑائی میں جب ملک شام کی طرف لوگ چلے تو سخت گرمی پڑ رہی تھی لو کی وہ لپٹ آتی تھی کہ الامان۔ رسد کی کمی تھی پانی نہ ملتا تھا لوگوں کے حال تباہ ہو رہے تھے ایک کھجور دو آدمی کھا کر گزارا کرتے تھے لشکر والا باری سے ایک کھجور کو چوستے اور دو دو گھونٹ پانی پیتے اور پھر چوستے اور پھر پانی ١ ؎ پیتے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے غزوہ تبوک کی سختی کا حال دریافت کیا وہ کہنے لگے ہم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تبوک کی لڑائی کو چلے گرمی کا زمانہ تھا راستے میں پیاس لگی پانی کا کہیں کوسوں نشان نہ تھا لوگ اونٹوں کی مینگنیاں نچوڑ نچوڑ کر پانی نکالتے اور پیتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضور سے کہا کہ آپ خدا سے دعا فرمائیں آپ کی دعا مقبول ہے آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا ہاتھ کا اٹھانا تھا کہ مینہ برسا اور خوب ہی برسا لوگوں نے اپنے برتن پانی سے بھر لئے بعد ایک لمحہ کے لئے مینہ تھم گیا ٢ ؎۔ اس لڑائی میں آپ کے ساتھ مہاجرین اور انصار سب ملا کر ستر ہزار آدمی تھے قریب تھا کہ اس سختی اور مشقت اور بھوک فرمائی تاکہ ان کے جی خوش ہوجائیں۔ مدینہ منورہ اور دمشق کے مابین مدینہ سے چودہ منزل تبوک ایک جگہ ہے ناقابل اعتراض سند سے ہرقل قیصر روم کو ایک خط اس مضمون کا لکھا کہ مدینہ میں جو شخص نبی آخرالزمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے قحط کے سبب سے آجکل ان کی اور ان کے ساتھیوں کی حالت بہت ابتر ہے اس لئے ایسے وقت میں ان لوگوں پر فوج کشی کا اچھا موقعہ ہے اس خط کو پڑھ کر ہرقل نے چالیس ہزار فوج ساتھ کر کے اپنے ایک امیر قباد کو ملک شام کی طرف روانہ کیا ٣ ؎ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہ خبر سنی تو ملک نصارا کے ایلچی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور اسی مقام تبوک پر صلح ہوگئی اسی واسطے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبوک سے نام ایک خط بھی لکھا صحیح بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تبوک کے سفر کے وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو یہ جواب دیا کہ علی (رض) کیا تم کو یہ بات پسند نہیں کہ تم ہر حال میں میرے ایسے مددگار رہو جیسے ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے ہر حال میں مددگار تھے مگر اتنی بات ضرور ہے کہ ہارون (علیہ السلام) نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ٤ ؎ ہے یہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس سفر کی سختی کے سبب سے لوگ تنگ آگئے تھے اس سختی کے وقت بعضے صحابہ کے دل میں یہ خیالات بھی گزرتے تھے کہ جس طرح کچھ اور لوگ اس سفر میں شریک نہیں ہوئے مدینہ میں رہ گئے اسی طرح ہم بھی مدینہ میں رہ جاتے تو اچھا تھا چناچہ اس مطلب کو کاد یزیغ قلوب فریق منھم کے الفاظ سے اللہ تعالیٰ نے ادا فرمایا ہے مگر پھر ان صحابہ نے اس سختی پر صبر کیا اور ان خیالات کو اپنے دل میں زیادہ جمنے نہیں دیا اور سفر میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ نہ چھوڑ اس واسطے تاکید کے طور پر دو دفعہ ان خیالات سے درگزر فرمانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا اور اس درگزر میں اپنے رسول کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تاکہ ان صحابہ کو یہ معلوم ہوجائے کہ رسول کا ساتھ دینے کے سبب سے اس درگزر میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر ایسا ہی مہربان ہے جو مہربانی اس کو اپنے رسول کیساتھ ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ توبہ کے معنے شرع میں یہ ہیں کہ گناہوں کو شرعی ممانعت کے سبب سے برا جان کر آیندہ کے لئے ان سے باز رہنا اور پچھلے گناہوں پر نادم ہونا اور توبہ کے قبول ہونے کے یہ معنے ہیں اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے والے شخص کو ان گناہوں کے عذاب سے بچا دیا اب اللہ کے رسول تو گناہوں سے معصوم ہیں لیکن باوجود اس کے عقبے میں درجہ بڑھنے کے لئے ہر روز آپ ستر دفعہ سے زیادہ توبہ استغفار کیا کرتے تھے چناچہ صحیح بخاری وغیرہ کی صحیح حدیثوں ٥ ؎ میں اس کا ذکر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے توبہ کے قبول کرنے کے ذکر میں اپنے رسول کو اس بات کے سمجھانے کے لئے شریک کیا کہ جن صحابہ کی توبہ قبول ہونے کا یہ ذکر ہے اس توبہ کے قبول ہونے میں فقط اتنی بات نہیں ہے کہ ان کے دلی خیالات کے مؤاخذہ سے درگزر کی گئی بلکہ ایسے سختی کے وقت میں اللہ کے رسول کا ساتھ دینے کے سبب سے دلی خیالات کے ترک مؤاخذ کے علاوہ ان لوگوں کا عقبیٰ کا اجر بھی بڑھایا گیا ہے تاکہ جو لوگ اللہ کے رسول کا ساتھ چھوڑ کر مدینہ میں رہ گئے تھے اور آخر کو ان کو توبہ بھی قبول ہوئی اس توبہ کی قبولیت اور اللہ کے رسول کا ساتھ دینے والوں کا توبہ کی قبولیت میں یہ فرق پیدا ہوجائے کہ وہ قبولیت فقط درگزر کی ہے اور یہ قبولیت درگزر کے علاوہ عقبے کا درجہ بڑھانے کی بھی ہے اس توبہ کے ساتھ رؤف رحیم اور اس توبہ کی ساتھ التواب الرحیم کے الفاظ اس مطلب کے ادا کرنے کے لئے فرمائے ہیں۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩٦ و تفسیر الدر المنثور ج ٣ ص ٢٨٦۔ ٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩٦ ٣ ؎ فتح الباری ج ٤ جز ١٨ ص ٨٨۔ ٩٩ ومجمع الزوائد ج ٧ ص ١٩١ باب غزوہ تبوک وقال وفیہ العباس بن الفضل وہو ضیف ٤ ؎ صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ باب غزوہ تبوک۔ ٥ ؎ صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٣٣ باب استغفار النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی الیوم وا المیلۃ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:117) تاب۔ تاب یتوب (باب نصر) ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے توبہ کی وہ پھر آیا۔ وہ گناہ سے باز آیا۔ وہ متوجہ ہوا۔ اس نے معاف کیا۔ یہاں (رحمت سے) متوجہ ہونے اور معاف کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی اللہ نے رحمت سے توجہ فرمائی۔ اللہ نے معاف فرما دیا۔ توب اور توبۃ سے۔ جب اس کا تعدیہ الیٰ کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے (بار بار واپس آنا) کے ہوتے ہیں۔ اور جب علیٰ کے ساتھ ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ مثلاً قرآن میں آتا ہے۔ توبو الی اللہ جمیعا (24:31) سب خدا کے آگے توبہ کرو۔ اور فتاب علیکم وعفا عنکم (2:187) سو اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمایا۔ تاب اللہ علی النبی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معاف کرنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے استطاعت رکھنے کے باوجود جنگ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت مانگی تھی اور آپ نے ان کو اجازت دیدی تھی۔ اس لغزش کا آپ سے مؤاخذہ نہ کیا گیا جیسا کہ 9:43 میں ارشاد ہوا ہے عفا اللہ عنک لیکن یہ فعل ترک افضل میں آتا ہے کہ افضل یہ تھا کہ خوب چھان بین کرکے صرف مستحق معذور لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دی جاتی نہ کہ یہ کوئی ایسا قصور تھا جو قابل مؤاخذہ تھا (نیز ملاحظہ ہو 9:43) ۔ بعض کے نزدیک بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس معافی میں تبرکا شامل کیا گیا ہے اور مقصود مہاجرین اور انصار کی شان کو اونچا دکھانا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کی شان کو بلند کرنے کے لئے فان اللہ خمسہ وللرسول (8:41) میں اپنانام تبرکا شامل کرلیا ہے۔ ساعۃ العسرۃ۔ مشکل گھڑی۔ تنگی کا وقت۔ غزوہ تبوک کی طرف اشارہ ہے جب کہ مسلمان سخت مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔ سخت گرمی کا موسم تھا۔ سفر طویل اور کٹھن تھا۔ سواریوں کی ازحد قلت تھی ، راشن انتہائی طور پر قلیل اور پینے کا پانی نہایت کمیاب تھا۔ مسلمان قلیل التعداد اور مقابلہ قیصر روم کے لشکر جرار سے تھا۔ کاد۔ ماضی واحد مذکر غائب کود مصدر (باب سمع) افعال مقاربہ میں سے ہے فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے۔ اگر کاد بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا۔ قریب الوقوع کے ضرور تھا جیسے کہ آیہ ہذا میں ہے کاد یزیغ قلوب فریق منھم۔ ان میں سے ایک گروہ کے دل کجی کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن ابھی کج نہیں ہوئے تھے۔ اور اگر بصورت نفی مذکور ہو تو معلمو ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والا فعل واقع ہوگیا لیکن عدم و قوع کے قریب تھا۔ جیسے نذبحوھا وما کادوا یفعلون (2:71) انہوں نے اس (گائے) کو ذبح کردیا لیکن ذبح نہ کرنے کی حد تک پہنچ گئے تھے۔ یزیغ۔ مضارع واحد مذکر غائب زیغ سے (باب ضرب) پھرنے لگے تھے۔ پھرجانے کے قریب ہوگئے تھے۔ کاد یزیغ کجی کی طرف مائل ہو چلے تھے۔ من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منہم۔ حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل کجی کے قریب پہنچ چکے تھے اگرچہ فی الواقع ابھی کج نہیں ہوئے تھے۔ ثم تاب علیہم۔ لقد تاب اللہ علی النبی ۔۔ کے بعد اس تکرار سے مراد تاکید ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علیہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب فریق کی طرف راجع ہو۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا۔ پھر اس نے ان لوگوں پر رحم کے ساتھ توجہ کی جن کے دل کج ہو چلے تھے (مگر انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبی ہی کا ساتھ دیا) بھم میں ضمیر مذکر غائب ثم تاب علیہم کے مطابق یا تو النبی والمھاجرین والانصار کی طرف راجع ہے یا فریق کیلئے ہے رؤوف۔ مہربان۔ شفقت کرنے والا۔ رأفۃ سے مفعول کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4۔ یعنی بعض مخلص صحابہ تک اس سخت وقت میں جنگ پر جانے سے کسی نہ کسی حد تک جی چرانے لگے تھے مگر چونکہ ان کے دلوں میں ایمان واخلاص تھا اس لئے آخر کار وہ اپنی اس کمزوری پر قابو پاگئے۔ (کبیر) ۔ 5۔ یعنی مہاجرین و انصار کے دل کے خطرات بھی معاف کردیے۔ (از موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 117 تا 118 تاب (وہ متوجہ ہوا) ساعۃ العسرۃ (تنگی کی گھڑی، پریشانی کا وقت) کا د (قریب ہے) یزیغ قلوب (دل پھرجائیں) الثلثۃ (تین) الذین خلقوا (جو پیچھے رہ گئے تھے) ضافت (تنگ ہوگئی) ظنوا (وہ سمجھ گے) لاملجا (ٹھکانا نہیں ہے) تشریح : آیت نمبر 117 تا 118 جیسا کہ گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ کرل یا ہے کہ غزوہ تبوک ایک ایسا موقع تھا جس نے اہل ایمان کو اور منافقین کو کھول کر رکھ دیا تھا۔ اس موقع پر جب کہ فصلیں تیار تھیں شدید گرمی کا موسم تھا اور نامعلوم منزل کی طرف جہاد کے لئے جانا تھا دو ہی راستے تھے کہ عذر کر کے گھر میں بیٹھا جائے یا سر دھڑ کی بازی لگا کر دین کی سربلندی کے لئے اللہ اور سا کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ جو اہل ایمان تھے انہوں نے اس موقع پر بےمثال قربانیاں پیش کیں اور دنیا کے ہر فائدے کو دین پر قربان کردیا۔ اس کے برخلاف منافقین نے طرح طرح کے عذر پیش کئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو گھر بیٹھ رہنے کی اجازت دے دی لیکن بعض صحابہ کرام وہ تھے جو جنگ بدر تک میں شرکت کرچکے تھے جن کی طرف کسی منافقت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا وہ اپنی غفلت اور سستی میں غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرسکے ان میں سے بعض صحابہ کرام کا ذکر اس سے پہلے آچکا ہے ان ہی میں سے تین صحابہ وہ تھے جن کیلئے ان آیات میں معافی کا اعلان فرمایا گیا ہے۔ روایات میں ان تین صحابہ کرام کے نام یہ ہیں۔ (1) ان تینوں صحابہ کرام کا تعلق انصار سے تھا۔ حضرت مرارہ بن ربیع اور حضرت بلال بن امیہ تو وہ بزرگ تھے جو غزوہ بدر میں شرکت فرما چکے تھے اور حضرت کعب بن مالک انتہائی مخلص اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سچے عاشقوں میں سے تھے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو جس نے جو عذر پیش کیا آپ نے ان کا معاملہ اللہ کی طرف چھوڑ کر اپنی طرف سے معاف کردیا لیکن مذکورہ تینوں صحابہ کرام نے کسی جھوٹ کا سہارا لئے بغیر اپنی سستی اور غفلت کا اقرار کرلیا۔ ان صحابہ کرام کے اعتراف کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی معافی کا معاملہ اللہ کی طرف چھوڑ کر فرمایا کہ تم اس وقت تک مسلمانوں سے علیحدہ رہو جب تک اللہ کی طرف سے باقاعدہ معافی کا اعلان نہ آجائے۔ اس موقع پر جب کہ یہ تینوں انصاری بزرگ اللہ کی طرف سے معافی کے اعلان کے منتظر تھے تمام صحابہ کرام نے جس نظم و انتظام اور حب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مظاہرہ کیا اس سے صحابہ کرام کی عظمت اور بھی نکھر کر سامنے آتی ہے اس سلسلہ میں حضرت کعب ابن مالک نے اپنا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے جس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی کسی غزوہ کے موقع پر آواز دی میں سوائے غزوہ تبوک کے ہر غزوہ میں شریک رہا۔ فرماتے ہیں کہ میرے لئے بظاہر کوئی عذر نہ تھا کیونکہ غزوہ تبوک کے موقع پر میں خوش حال اور مال دار تھا۔ فرماتے ہیں کہ میرے پاس کبھی اس سے پہلے دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں جو اس وقت موجود تھیں فرماتے ہیں کہ میں ہر روز صبح کو ارادہ کرتا تھا کہ جہاد کی تیاری کروں گا پھر میں بغیر کسی تیاری کے واپس آجاتا۔ دن پر دن گذرتے چلے گئے میں سوچتا ہی رہا یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام جہاد کے لئے روانہ ہوگئے پھر بھی میرے دل میں یہ آتا رہا کہ میں بھی روانہ ہوجاؤں اور تیز رفتار سواری پر سوار ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ جاؤں گا مگر میں سوچتا ہی رہ گیا اور اپنے ارادے کی تکمیل نہ کرسکا۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں مدینہ میں کہیں جاتا تو یہ بات مجھے غمگین اور شرمندہ کردیتی کہ اس وقت پورے مدینہ منورہ میں یا تو وہ لوگ نظر پڑتے تھے جو منافقفت کا پیکر تھے یا پھر ایسے بیمار کمزور اور بوڑھے ملتے تھے جو جنگ میں شرکت سے معذور تھے۔ حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ بعض صحابہ کرام نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو تین مرتبہ صحابہ کرام سے پوچھا کہ کعب بن مالک نظر نہیں آ رہے ہیں۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ جب مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس تشریف لا رہے ہیں تو مجھے بڑی فکر ہوئی اگر میں چاہتا تو اس عرصہ میں کچھ عذر اور بہانے بنا لیتا لیکن میں نے بہت غور کے بعد دل میں فیصلہ کرلیا کہ کچھ بھی ہو مجھے کتنی بڑی سزا بھی کیوں نہ ملے میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کوئی جھوٹا عذر پیش نہیں کروں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واپس تشریف لانے کے بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ جھوٹے عذر پیش کر رہے ہیں اور آپ ان کے عذر قبول فرما کر ان کا معاملہ اللہ کے سپرد فرما رہے ہیں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ آپ نے مجھے دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسکراہٹ کے پھے سو مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناراضی کا پوری طرح اندازہ ہو رہا تھا۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے حضرت کعب کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ میری طرف سے رخ نہ پھیریئے کیونکہ اللہ کی قسم میں نے نفاق نہیں کیا۔ نہ دین کے معاملہ میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہوا۔ نہ اس میں کوئی تبدیلی کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پھر تم جہاد میں شریک کیوں نہیں ہوئے ؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیشک میں نے سواری خریدی تھی۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ میں تو گفتگو کا ماہر تھا میں دنیا کے کسی عام آدمی کے سامنے ہوتا تو شاید بات کو گھما کر کہہ دیتا مگر میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ چناچہ میں نے اپنی غفلت و سستی کا اعتراف کرتے ہوئے جو حقیقت تھی وہ صاف صاف عرض کردی۔ آپ نے فرمایا کہ جائو ! یہاں تک کہ تمہارے متعلق اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ فرما دیں۔ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر بنی سلمہ کی طرف جا رہا تھا کہ بنو سلمہ کے چند لوگ مجھے ملے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے علم کی حد تک تو تم نے کوئی گناہ اور خطا کی بات نہیں کی تھی یہ تم نے کیا حماقت کی اس وقت کوئی عذر پیش کردیتے تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لئے دعائے مغفرت فرما دیتے اور وہی دعا تمہارے حق میں مغفرت کا سامان بن جاتی۔ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے اتنی ملامت کی کہ میرے دل میں آیا کہ میں لوٹ جاؤں اور ان کی کہی ہوئی بات کہہ دوں مگر میں نے پکا عہد کیا کہ مجھے سزا کوئی بھی ملے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ میری طرح دو اور حضرات نے بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا اور ان کو بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انتظار کرنے کیلئے فرمایا ہے۔ ادھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام صحابہ کرام کو ہم تینوں کے ساتھ سلام کلام سے منع فرما دیا۔ آپ کے ارشاد کے بعد تمام مسلمانوں نے ہم سے اس طرح رخ پھیرلیا کہ کوئی بھی نہ تو سلام کا جواب دیتا اور نہ کوئی بات کرتا تھا دنیا ایسی بدل کر رہ گئی کہ ہر طرف اجنبیت کا احساس ابھرنے لگا۔ مجھے اس کی فکر پیدا ہوگئی کہ اگر میں اسی حال میں مر گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا نماز جنازہ بھی نہ پڑھائیں گے یا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو میں عمر بھر اسی طرح لوگوں میں ذلیل و خوار پھرتا رہوں گا۔ یہ سوچ سوچ کر اور مسلمانوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے ایسا لگتا تھا کہ اتنی بڑی دنیا ہونے کے باوجود میرے لئے بہت مختصر اور تنگ ہو کر رہ گئی ہے۔ فرماتے ہیں کہ دو انصاری صحابی مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تو شکستہ دل ہو کر گھر میں بیٹھ رہے اور ہر وقت روتے رہتے تھے لیکن میں جوان آدمی تھا باہر نکلتا چلتا پھرتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں حاضر ہوتا مگر نہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بات کرتے نہ صحابہ کرام سلام کا جواب دیتے نہ کوئی مجھ سے بات کرتا۔ میں بہت دل شکستہ سا ہوگیا فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس گیا جو مجھے سب سے زیادہ چاہتے تھے۔ ان کے باغ میں دیوار پھاند کر پہنچ گیا انہوں نے مجھ سے بات نہ کی۔ میں نے ان سے کہا کہ اے قتادہ کیا تم نہیں جانتے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کتنی محبت کرتا ہوں اس پر بھی قتادہ خاموش رہے۔ جب میں نے بار بار کہا تو انہوں نے صرف اتنا جواب دیا کہ اس کو اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔ ان کے جواب سے میں بےساختہ رو پڑا۔ میں اسی طرح دیوار پھاند کر باغ سے واپس نکل گیا۔ کہتے ہیں کہ میں ایک دن بازار جا رہا تھا کہ اچانک ملک شام کا ایک قبطی شخص جو غلہ فروخت کرنے کے لئے شام سے مدینہ آیا کرتا تھا وہ لوگوں سے پوچھ رہا ہے کہ لوگو کیا تم کعب بن مالک کا پتہ بتا سکتے ہو ؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہی کعب ہیں۔ وہ شخص میرے پاس آیا اور غسان کے بادشاہ کا ایک خط مجھے دیا جو میرے نام تھا اس میں لکھا تھا کہ ” مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ سے بےوفائی کی ہے اور آپ کو دور کر رکھا ہے۔ اللہ نے تمہیں ذلت و خواری میں رکھنے کیلئے نہیں بنایا ہے۔ اگر تم ہماری پاس آنا پسند کرو تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ “ کہتے ہیں کہ میں نے یہ خط پڑھا اور مجھے افسوس ہوا کہ کیا اب میرا اس سے بڑا امحتان شروع ہوگیا ہے کہ اہل کفر بھی مجھ پر ترس کھانے لگے ہیں اور ان کو مجھ سے کوئی اچھی امید ہو چلی ہے فرماتے ہیں کہ سامنے ہی ایک آگ کا تنور لگا ہو تھا بادشاہ کا وہ خط میں نے اس آگ میں جھونک دیا۔ اس طرح چالیس راتیں گذر گئیں۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خصا قاصد خزیمہ بن ثابت میرے پاس آ رہے ہیں۔ آ کر کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ اختیار کرلو میں نے پوچھا کہ کیا میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ اس سے الگ الگ رہو۔ میں نے گھر آتے ہی بیوی سے کہا کہ تم اپنے میکے ( باپ کے گھر) چلی جائو اور بج تک میرے معاملے کا فیصلہ نہ ہوجائے اس وقت تک وہیں رہو۔ حضرت کعب بیان کرتے ہیں کہ جب اسی طرح پچاس دن گذر گئے تو میں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا نماز پڑھ رہا تھا اور میری حالت وہ تھی جس کو اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہوچکی تھی۔ اچانک میں نے سلع پہاڑی کے اوپر سے کسی چلانے والے کی آواز سنی جو بلند آواز میں کہہ رہا تھا کہ اے کعب مبارک ہو۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ آواز حضرت ابوبکر صدی کی تھی کہ اے کعب تمہیں بشارت ہو کہ تمہاری معافی کا اعلان ہوگیا ہے۔ حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ جیسے ہی میں نے یہ آواز سنی تو میں اللہ کے سامنے سجدہ میں گر پڑا اور خوشی کے مارے میں رو پڑا۔ رسول اللہ ہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز کے بعد صحابہ کرام کو ہماری توبہ قبول ہونے کی خبر دی تھی۔ اب یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے لوگ مبارک باد دینے کے لئے دوڑے چلے آ رہے تھے۔ بعض گھوڑے پر سوار ہو کر میرے پاس پہنچے۔ حضرت کعب اسی وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے راستے میں لوگوں کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے مبارک ہو مبارک ہو کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ جب میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے ارگرد صحابہ کرام کا مجمع ہے میں نے داخل ہوتے ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام عرض کیا آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے کعب تمہیں مبارک ہو۔ تمہیں ایسے دن کی مبارک باد ہے جو دن تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک سب سے زیادہ مبارک دن ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ حکم آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ تم نے سچ کہا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہاری سچائی کو ظاہر فرما دیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا دل چاہتا ہے کہ اس خوشی کے دن میرے پاس جو کچھ وہ سب کا سب میں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں کچھ مال اپنی ضرورت کیلئے رہنے دو یہ بہتر ہے میں نے عرض کیا کہ اچھا آدھا مال صدقہ کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بھی انکار فرمایا جب میں نے کل مال میں سے ایک تہائی مال صدقہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دیدی۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا کہ اللہ نے مجھے سچ کی وجہ سے نجات دی ہے میں عہد کرتا ہوں میں ہمیشہ سچ بات ہی کہوں گا اور سچ کے سوا کوئی بات زبان سے نہ نکالوں گا۔ انہوں نے بتایا کہ پوری زندگی وہ اسی پر قائم رہے۔ واقعی سانچ (سچ) کو آنچ نہیں

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ کہ آپ کی نبوت اور امامت جہاد اور تمام خوبیاں عطا فرمائیں۔ 2۔ کہ ان کو ایسی مشقت کے جہاد میں مستقیم رکھا۔ 3۔ اس غزوہ کے زمانہ کو ساعة عسرة اس واسطے فرمایا کہ گرمی شدید کا وقت تھا سفر دراز تھا مقابلہ قواعدوں لشکر سے تھا سواری کی بہت کمی تھی۔ کھانے پینے کے سامان رسد کی کمی اس درجہ تھی کہ ایک ایک خرما دو دو شخصوں میں تقسیم ہوتا تھا بعض دفعہ ایک چھوہارے کو آگے پیچھے کئی کئی آدمی چوستے تھے سواری کے اونٹ ذبح کرنے پڑے ان کی آلائش کو نچوڑ کر پینا پڑا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے مخلص مسلمانوں کو معاف کرتے ہوئے اسی سورة کی آیت ١٠٦ میں تین مخلص مسلمانوں کے معاملے کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اب ان کے بارے میں فیصلہ صادر ہوتا ہے۔ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین قسم کے لوگ تھے۔ ١۔ جسمانی طور پر معذور اور اسباب آمدورفت کے میسر نہ ہونے کی وجہ سے مجبور۔ ٢۔ منافقین۔ ٣۔ بلاعذر پیچھے رہ جانے والے دس صحابہ کرام (رض) تھے۔ دس میں سے سات ایسے صحابہ تھے جنہوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبوک سے واپسی پر اپنی سزا خود تجویز کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ جکڑ لیا تھا۔ جن کی توبہ کے بارے میں آیت ١٠٥ کی تفسیر میں تفصیل سے عرض ہوچکا ہے۔ تین صحابہ کی حالت اب بیان کرنے اور تینوں کی توبہ مستجاب فرمانے سے پہلے بطور استحسان ذکر کیا جارہا ہے کہ اللہ نے انصار و مہاجرین اور ان مجاہدوں پر بڑا فضل و کرم فرمایا جو انتہائی تنگی اور خوف کے عالم میں تبوک کے لیے نکلے حالانکہ کچھ صحابہ (رض) کے دل اس صورت حال میں انشراح محسوس نہیں کر رہے تھے۔ کیونکہ شدیدترین گرمی، فصلیں کٹنے پر آئی ہوئیں اور دشمن زبردست طاقتور مزید یہ کہ سفردشوار اور طویل ترین تھا۔ اس صورت میں محض اللہ کی توفیق اور اس کی نظر کرم کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے اپنے نبی کو بروقت اور جرأت مندانہ فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ حالانکہ منافقوں نے مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کی ہر قسم کی کوشش کی تھی۔ لیکن رب کریم کا کرم شامل حال تھا۔ اس لیے انصار، مہاجرین اور دیگر مسلمان اس ولولہ اور جذبہ کے ساتھ نکلے کہ دنیا کی واحد سیاسی اور فوجی سپر طاقت مسلمانوں کا سامنا کرنے کی بجائے پسپائی میں اپنی خیر سمجھتی ہے۔ جسے بیان کرتے ہوئے صحابہ کرام (رض) کو ( لقد تاب اللہ) کے الفاظ کا اعزاز بخشا گیا ہے۔ تین صحابہ (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبوک سے واپسی پر صاف اور واضح بات کی کہ ہمارے پاس عذر نہیں محض سستی اور غفلت کی وجہ سے لشکر کے ساتھ شمولیت نہ کرسکے۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں اعلان کیا کہ ان کے ساتھ تمام مسلمان سوشل بائیکاٹ کریں۔ آپ کا حکم صادر ہوتے ہی مسلمانوں نے اتنا سخت بائیکاٹ کیا کہ حضرت کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چچا زاد بھائی سے ملنے اس کے باغ میں پہنچا لیکن اس نے میرے ساتھ کلام نہیں کی۔ میں نے نہایت آزردگی کے ساتھ کہا کہ بھائی میں آپ کا رشتہ دار اور پکا مسلمان ہوں اس کے جواب میں اس نے صرف اتنی بات کہی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ لہٰذا میں تجھ سے کلام نہیں کرسکتا۔ حضرت کعب (رض) کہتے ہیں جب میں مسجد نبوی میں جاتا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دیکھتا تو آپ اپنا چہرۂ انور دوسری طرف پھیر لیتے تھے۔ کعب بن مالک، ھلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع (رض) اسی رنج و غم میں وقت گزار رہے تھے، یہاں تک کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرا حکم صادر فرمایا کہ ان کے ساتھ ان کی بیویاں بھی نہ رہیں۔ چناچہ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے دو کی بیویاں اپنے میکے چلی گئیں۔ حضرت ہلال بن امیہ کہتے ہیں کہ میری بیوی نے اللہ کے نبی کی خدمت میں جا کر عرض کی کہ میرا خاوند بوڑھا ہے میرے سوا اس کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں اگر آپ اجازت فرمائیں تو میں روٹی پانی دینے کی حد تک اس کی خدمت کرتی رہوں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اس حد تک خدمت کرنے کی اجازت فرمائی۔ ان تین صحابہ (رض) کی کیفیت اور اضطراب کا قرآن مجید ذکر کرتے ہوئے وضاحت کرتا ہے کہ تین پیچھے رہ جانے والوں پر زمین کشادہ ہونے کے باوجود تنگ ہوگئی یہاں تک کہ ان کے وجود بھی ان کے لیے بوجھ بن گئے اور انہیں ہر اعتبار سے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں دوسرے الفاظ میں زندگی کے باوجود وہ اپنے آپ کو مردہ تسلیم کررہے تھے۔ اس کڑی اور شدید ترین آزمائش میں تینوں صحابہ پورے اترے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی کیونکہ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور سب سے بڑا مہربان ہے۔ اس موقعہ پر یہ حکم نازل ہوا کہ مسلمانو ! ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ معاونت اور ان کی معیت اختیار کرو جس میں یہ تلقین پائی جاتی ہے کہ آئندہ ایسی غلطیوں سے بچو۔ سستی اور غفلت کی بجائے ہر حال میں حق و صداقت کا ساتھ دینے والوں کی رفاقت اختیار کرو۔ m حضرت کعب (رض) پر ایک آزمائش یہ بھی آئی کہ غسّان کے حکمران نے ان کے پاس خط بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے رسول نے آپ پر سختی کر رکھی ہے۔ میرا خط ملتے ہی آپ میرے پاس تشریف لے آئیں، یہاں آپ کو ہر طرح اقبال و مقام دیا جائے گا۔ حضرت کعب (رض) سمجھ گئے کہ یہ آزمائش پر آزمائش ہے۔ انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری اور فرمایا کہ مجھ پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ میرا دشمن مجھ سے اس بات کی توقع کرے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ چھوڑ دوں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایلچی کی موجودگی میں غسان کے حاکم کا خط آگ میں پھینک دیا اور فرمایا کہ اس خط کا میرے نزدیک یہی جواب ہوسکتا ہے۔ ان آیات سے صحابہ کرام (رض) کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وارفتگی اور آپ کی تابعداری اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جماعت کینظم و ضبط کا اندازہ ہوتا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کن اخلاقی بنیادوں پر صحابہ کرام (رض) کو منظم کیا تھا۔ جس بنا پر وہ عرب و عجم کے حکمران بنے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابِنْ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلَیْکُمْ بالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ یَھْدِیْ اِلٰی الِبِرِّ وَاِنَّ الْبِرَّ یَھْدِیْ اِلَی الْجَنَّۃِ وَمَایَزَال الرَّجُلُ یَصْدُقُ وَیَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ صِدِّیْقًا وَاِیَّاکُمْ وَاْلکَذِبَ فَاِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِیْ اِلَی الْفُجُوْرِ وَاِنَّ الْفُجُوْرَ یَھْدِیْ اِلَی النَّارِ وَمَا یَزَال الرَّجُلُ یَکْذِبُ وَیَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ کَذَّاباً ۔ (متفق علیہ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِّمُِسْلمٍ قَالَ اِنَّ الصّدْقَ بِرٌّ وَّ اِنَّ الِبرَّ یَھْدِیْ اِلَی الْجَنَّۃ، وَاِنَّ الْکَذِبَ فُجُوْرٌوَّ اِنَّ الفُجُوْرَ یَہْدِیْ اِلَی النَّارِ )[ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ والاداب، باب قبیح الکذب وحسن الصدق ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! تم سچائی اختیار کرو۔ اس لیے کہ سچائی نیکی کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔ اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ یہاں تک کہ آدمی سچی بات کہنے کا عادی اور سچائی کا طلب گار ہوجاتا ہے۔ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم جھوٹ سے کنارہ کش رہو۔ اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی جانب لے جاتا ہے۔ اور گناہ دوزخ میں پہنچا دیتے ہیں۔ ایک شخص ہمیشہ جھوٹ بولتا اور جھوٹ کا عادی ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے، بلا شبہ سچ بولنا نیک کام ہے۔ اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اور جھوٹ بولنا برا کام ہے اور برا کام دوزخ کی طرف لے جاتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہر حال میں تسلیم کرنا چاہیے۔ ٢۔ انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرنا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ ٤۔ انسان کو ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے : ١۔ اللہ بڑا شفیق اور رحم کرنے والا ہے۔ (التوبۃ : ١١٧) ٢۔ اللہ توبہ قبول کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (التوبۃ : ١١٨) ٣۔ اللہ سے بخشش طلب کرو بیشک وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے (المزمل : ٢٠) ٤۔ اللہ سے ڈرو بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (الحجرات : ١٢) ٥۔ بیشک اللہ نرمی کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (الطور : ٢٨) ٦۔ میرا رب رحم کرنے اور محبت فرمانے والا ہے۔ (ہود : ٩٠) ٧۔ میرے رب مجھے معاف اور مجھ پر رحم فرما تو بہترین رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : ١١٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر اور مہاجرین و انصار کے حال پر توجہ فرمائی۔ منافقوں کو تبوک کے جہاد میں شرکت نہ کرنے کی جو اجازت دے دی گئی تھی ‘ اس قصور کو اللہ نے معاف کردیا۔ یا یہ معنی ہے کہ کہ گناہگار قرار دینے سے اللہ نے ان کو بچا لیا ‘ جیسے (رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے متعلق ) فرمایا ہے : لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذُنِبْکَم وَمَا تَأْخَّرَ ۔ بعض نے کہا : یہ توبہ کی ترغیب ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جو توبہ کا محتاج نہ ہو ‘ یہاں تک کہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) اور صحابہ بھی توبہ کے ضرورت مند ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : تم سب اللہ سے توبہ کرو۔ بات یہ ہے کہ ہر شخص جس درجہ پر بھی ہو ‘ اپنے سے اونچے درجہ پر پہنچنے سے قاصر رہتا ہی ہے (اور اونچے درجہ تک پہنچنا چاہتا ہے) لہٰذا جو کمی اس کے اندر ہو اس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ آیت میں توبہ کی فضیلت کا اظہار کیا گیا ہے کہ توبہ انبیاء و صالحین کا خصوصی مقام ہے۔ بعض نے کہا : اس آیت میں رسول کا ذکر بطور تمہید ہے ‘ کیونکہ آپ صحابہ کی توبہ قبول ہونے کا ذریعہ تھے ‘ اسلئے آپ کا ذکر شروع میں بطور تمہید کردیا گیا۔ جیسے آیت لِلّٰہِ خُمُسُہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی میں اللہ کا ذکر بطور تمہید ہے۔ الذین اتبعوا فی ساعۃ العسرۃ جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا۔ یعنی جب رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے مہاجرین و انصار کو تبوک کے جہاد کی ترغیب دی تو انہوں نے آپ کا اتباع کیا۔ ساعۃ سے مراد ہے وقت۔ عُسرت سختی۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کیلئے سواری ‘ زاد راہ اور پانی کی بہت تنگی اور دشواری تھی ‘ اسلئے غزوۂ تبوک کو غزوۃ العسرۃ یا غزوۃ جیش العسرت کہا جاتا ہے ‘ غزوۃ الجیش بھی اسی کو کہتے ہیں۔ کذا قال البغوی حسن نے کہا : دس دس آدمیوں کیلئے صرف ایک ایک اونٹ تھا ‘ باری باری سے دس آدمی ایک ہی اونٹ پر سوار ہوجاتے تھے۔ ایک اترتا تھا تو دوسرا چڑھتا تھا۔ زاد راہ کیلئے گھنے ہوئے چھوارے اور خراب قسم کے جَو تھے۔ جو کچھ ساتھ تھا ‘ لوگ اس کو باہم تقسیم کرلیا کرتے تھے۔ پھر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ بعض لوگ انتہائی بھوک کی وجہ سے ایک چھوارہ لے کر منہ میں گھماتے اور جب مزہ لے لیتے تو اپنے ساتھی کو دے دیتے اور وہ اس کو چوستا ‘ پھر ایک گھونٹ اوپر سے پانی پی لیتا۔ اس طرح ایک ہی چھوارہ سب لوگ باری باری سے چوستے اور چوسنے میں ہی چھوارہ ختم ہوجاتا ‘ صرف گٹھلی رہ جاتی۔ لیکن ایمان و یقین کے ساتھ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے ساتھ چلے جاتے تھے۔ امام احمد ‘ ابن خزیمہ ‘ ابن حبان اور حاکم نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت عمر نے فرمایا : ہم سخت گرمی کے دنوں میں (رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے ہمرکاب) تبوک کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ایک پڑاؤ پر اترے اور اتنی پیاس لگی کہ ہم نے خیال کیا کہ اب ہماری گردنیں ٹوٹ جائیں گی۔ بعض لوگ پانی کی تلاش میں جاتے اور خیال ہوتا کہ یہ زندہ لوٹ کر نہ آئے گا۔ بعض لوگ اپنا اونٹ ذبح کر کے اس کے اوجھ سے پانی نکال کر نچوڑ کر پی لیتے اور جو کچھ باقی رہتا ‘ اس کو اپنے کلیجے پر رکھ لیتے۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! اللہ نے دعائے خیر کا آپ کو عادی بنا دیا ہے (یعنی آپ دعائے خیر کرتے ہی ہیں اور اللہ آپ کی دعا قبول فرماتا ہے) اللہ سے ہمارے لئے دعا کر دیجئے۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس کو پسند کرتے ہو ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دئیے اور لوٹا کر نیچے نہ لانے پائے تھے کہ بادل اٹھ کر (لشکر پر) چھا گیا۔ پھر اتنی بارش ہوئی کہ لوگوں کے پاس جو برتن تھے ‘ وہ سب بھر لئے۔ اس کے بعد جو ہم دیکھنے چلے (کہ کہاں کہاں بارش ہوئی) تو معلوم ہوا کہ لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی) ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابو حرزہ انصاری کی روایت سے بیان کیا کہ لوگ (تبوک کے راستہ میں) حجر میں اترے۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے حکم دیا : یہاں کا پانی کوئی نہ لے۔ پھر (وہاں سے) کوچ کرنے کے بعد دوسرے پڑاؤ پر اترے۔ پانی کسی کے پاس نہ تھا ‘ لوگوں نے پانی نہ ہونے کی شکایت کی۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کی ‘ اللہ نے فوراً ایک بادل بھیج دیا جس سے اتنی بارش ہوئی کہ سب سیراب ہوگئے۔ ایک انصاری نے اپنے ساتھی سے جس کو لوگ منافق سمجھتے تھے ‘ کہا : ارے دیکھو ! رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے دعا کرنے سے اللہ نے ہم پر بارش کردی۔ وہ کہنے لگا : بارش تو فلاں فلاں ستاروں (کے طلوع اور گردش) کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس پر اللہ نے آیت وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَنازل فرمائی۔ من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منھم بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا۔ قلوب فریقٍ یعنی بعض لوگوں کے دلوں میں۔ زیغ سے یہ مراد نہیں ہے کہ بعض لوگوں کے دل دین سے پھرجانے کی طرف مائل ہوگئے تھے بلکہ آگے نہ جانے اور انتہائی شدائد کی وجہ سے واپس ہوجانے کی طرف میلان رکھتے تھے ‘ زیغ سے یہی مراد ہے۔ کلبی نے کہا : بعض لوگوں نے ساتھ نہ جانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن (سوچنے کے بعد) پیچھے سے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) تک پہنچ گئے۔ ابن اسحاق اور محمد بن عمر کا بیان ہے کہ بعض مسلمانوں کی نیت سست پڑگئی اور رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے ساتھ جانے سے رہ گئے (اور وقت آجکل آجکل کہتے گذر گیا) مگر ان لوگوں کو (جانے میں) کوئی تردد نہ تھا (جانا ضرور چاہتے تھے اور جانے کا ارادہ تھا مگر ٹال مٹول میں پڑگئے) ان میں سے کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ ‘ مرارہ بن ربیع اور ابو ذر غفاری بھی تھے۔ یہ گروہ تھا صادق الایمان ‘ ان کے اسلام میں کسی کو کوئی شبہ نہ تھا۔ ابن اسحاق نے حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) روانہ ہوگئے تو (راستہ میں) بعض لوگ ساتھ چھوڑ (کر واپس ) جانے لگے۔ صحابہ عرض کرتے تھے : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! فلاں شخص نے ساتھ چھوڑ دیا۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) فرماتے تھے : اس کو رہنے دو ۔ اگر اس (کے ساتھ آنے) میں کوئی بہتری ہوگی تو اللہ خود اس کو پیچھے سے تم سے لا ملائے گا ‘ ورنہ میں اس کے متعلق اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا (ا اللہ جو حکم دے گا ویسا کروں گا) آخر جب حضرت ابو ذر ساتھ سے رہ گئے تو لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! ابو ذر پیچھے رہ گئے ‘ ان کا اونٹ سست پڑگیا۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے حسب معمول وہی پہلا جواب دے دیا۔ حضرت ابو ذر نے اونٹ کو ڈانٹا مگر اونٹ سست پڑا رہا (چال میں تیزی نہ آئی) یہ دیکھ کر حضرت ابوذر اپنا سامان پشت پر اٹھا کر پیدل رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے پیچھے قدم بقدم چل پڑے۔ محمد بن عمر کا بیان ہے کہ حضرت ابوذر فرماتے تھے : میں غزوۂ تبوک میں اپنے اونٹ کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا (ساتھ نہ جاسکا تھا) اونٹ بہت کمزور اور دبلا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ اس کو چند روز چارہ گوت (یعنی خوراک) دے دوں ‘ پھر پیچھے سے (تیزی کے ساتھ) رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) سے جا ملوں گا۔ چناچہ میں چند روز تک اس کو چارہ دیتا رہا ‘ پھر روانہ ہو کر ذی المودہ میں پہنچا تھا کہ اونٹ اڑ گیا۔ میں نے دن بھر اس پر محنت کی مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ آخر میں نے اپنا سامان اپنے اوپر لادا اور (چل دیا) دوپہر کو ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں سے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) پر نظر پڑ رہی تھی (جانے والے) مسلمانوں میں سے کسی مسلمان نے مجھے دیکھ لیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! یہ شخص تنہا پیدل چل رہا ہے۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : ابو ذر ہو (تو اچھا ہے) لوگوں نے میری طرف غور سے دیکھا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ! خدا کی قسم ‘ یہ ابو ذر ہی ہے۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : ابو ذر پر اللہ کی رحمت ہو ‘ تنہا جا رہا ہے۔ اکیلا مرے گا اور اکیلا اٹھایا جائے گا۔ محمد بن یوسف صالحی نے کہا : ہوا بھی ایسا ہی۔ جب رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی خدمت میں پہنچ گئے اور اپنی سرگزشت بتائی تو فرمایا : ابو ذر ! میرے پاس پہنچنے تک تو نے جو قدم اٹھایا ‘ اللہ نے اس کے عوض تیرا ایک گناہ معاف کیا۔ طبرانی نے خود حضرت ابو خثیمہ کی روایت سے اور ابن اسحاق و محمد بن عمر نے اپنے مشائخ کی سند سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی روانگی کو چند دن گذر گئے تو حضرت ابو خثیمہ (ایک روز) اپنے گھر پہنچے ‘ دن گرم تھا۔ گھر پہنچ کر دیکھا کہ باغ کے اندر ان کی دونوں بیویوں نے الگ الگ دو اٹاریاں بنائی ہیں اور ہر ایک نے اپنی جھونپڑی کو ٹھنڈا کرنے کیلئے چھڑکاؤ کیا ہے اور حضرت ابوخثیمہ کیلئے پانی ٹھنڈا کر کے رکھا ہے اور کھانا تیار کیا ہے۔ جھونپڑی کے دروازہ پر پہنچ کر انہوں نے جو یہ کیفیت دیکھی اور بیویوں نے جو کچھ کیا تھا ‘ اس کا معائنہ کیا تو کہنے لگے : سبحان اللہ ! رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی اگلی پچھلی لغزشیں تو اللہ نے معاف کردیں ہیں ‘ اس کے باوجود آپ ٹھیک دوپہر کو (گرم) ہوا اور گرمی میں اپنا اسلحہ کاندھے پر اٹھائے ہوئے (راہ خدا میں نکلے) ہیں اور ابو خثیمہ تیار کھانے پر ٹھنڈے سایہ میں خوبصورت بیوی کے ساتھ اپنے مال میں موجود ہے ‘ یہ انصاف کی بات نہیں ہے۔ خدا کی قسم ! میں دونوں میں سے کسی کی جھونپڑی میں داخل نہ ہوں گا ‘ بلکہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی خدمت میں پیچھے سے پہنچوں گا۔ تم دونوں میرے لئے زاد راہ تیار کر دو ۔ بیویوں نے زاد راہ تیار کردیا۔ پھر آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی تلاش میں چل دئیے ‘ یہاں تک کہ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) سے جا ملے۔ راستہ میں حضرت ابو خثیمہ سے عمیر بن وہب جمحی کا ساتھ ہوگیا تھا۔ وہ بھی رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی تلاش میں نکلے تھے ‘ راستہ میں دونوں ساتھ ہوگئے۔ تبوک کے قریب پہنچ کر حضرت ابو خثیمہ نے عمیر سے کہا : مجھ سے ایک گناہ ہوگیا ہے ‘ اسلئے کوئی حرج نہیں اگر تم میرے ساتھ سے الگ ہوجاؤ۔ غرض جب حضرت ابو خثیمہ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے قریب (یعنی اتنے فاصلہ پر کہ لوگوں کی نظر ان پر پڑجائے) پہنچے تو لوگوں نے کہا : یہ کوئی سوار آ رہا ہے۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے فرمایا : ابو خثیمہ ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا : وا اللہ ! ابوخثیمہ ہی ہے۔ حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے حضرت ابو خثیمہ سے فرمایا : ابو خثیمہ ! تیرا برا ہو۔ حضرت ابو خثیمہ نے آپ کو واقعہ بتایا تو رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے ان کے حق میں کچھ کلمات خیر فرمائے اور دعائے خیر کی۔ ثم تاب علیھم پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ تَابَ کی تکرار مفید تاکید ہے۔ پہلی آیت میں منافقوں کو جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دینے پر توبہ قبول کرنے کا اظہار کیا گیا تھا اور اس آیت میں منافقوں کی دوستی سے جو قلوب میں کجی پیدا ہونے لگی تھی ‘ اس کو معاف کردینے کا اعلان ہے۔ یا پہلی آیت میں توفیق توبہ عطا کرنے کا اظہار کیا گیا تھا اور اس آیت میں قبول توبہ کا۔ یا اس آیت میں معافی کا اظہار اس شدت و مصیبت کے مقابلہ میں کیا جو اس سفر میں لوگوں نے اٹھائی تھی۔ انہ بھم رؤف رحیم۔ بیشک اللہ ان پر بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جن لوگوں پر اللہ نے رحم کردیا ‘ پھر ان کو اس گناہ کی سزا کبھی نہیں دے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار پر مہربانی فرمائی جب کہ انہوں نے مصیبت کی گھڑی میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا تاب یتوب کا اصل معنی رجوع کرنے کا ہے بندہ اللہ کی طرف گناہ کے بعد رجوع کرتا ہے اس لیے اسے تائب اور تواب کہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربانی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ مہربانی فرماتا ہے اسی لیے لفظ تواب اللہ تعالیٰ کی صفات میں بھی آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل فرمانا، توبہ کی توفیق دینا۔ توبہ کو قبول فرمانا۔ معاملہ میں آسانی فرما دینا، تاب اللہ علیہ اس سب کو شامل ہے۔ قال صاحب القاموس تاب اللہ علیہ وفقہ للتوبۃ ورجع بہ من التشدید الی التخفیف اَو رجع علیہ بفضلہ و قبولہ و ھو توّاب علی عبادہ۔ (صاحب قاموس کہتے ہیں تاب اللہ عَلَیْہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق دی اور اس سے سختی کو ہٹا کر آسانی کردی یا اپنے فضل و قبولیت کے ساتھ اس پر توجہ فرمائی اور وہ اپنے بندوں کے لیے تواب ہے) ۔ لفظ تاب کا جو ترجمہ اوپر کیا گیا ہے اس میں اس مفہوم کو سامنے رکھا گیا ہے۔ لہٰذا اب یہ اشکال نہ رہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور ان مہاجرین و انصار سے کون سا گناہ ہوا تھا جنہوں نے غزوہ تبوک میں شرکت کی اور گناہ کی وجہ سے توبہ کی اور وہ توبہ قبول ہوئی، تَابَ کے مفہوم میں فضل فرمانا۔ معاملہ میں آسانی دینا، توبہ کی توفیق فرمانا یہ سب کچھ آتا ہے۔ اس لیے تاب کا ایک عام ترجمہ کردیا گیا ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار (رض) کی جو تعریف فرمائی (کہ ان لوگوں نے سختی کی گھڑی میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کیا) یہ کون سی سختی تھی اور کیا مصیبت تھی اس کے بارے میں تفسیر و حدیث اور سیرت کی کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے اس میں سے ایک بات حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر (رض) سے کسی نے پوچھا کہ سختی کی وہ کیا گھڑی تھی جس کا قرآن مجید میں ذکر ہے ؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تبوک کی طرف روانہ ہوئے سخت گرمی کا زمانہ تھا ایک منزل پر اترے تو ہمیں سخت پیاس لگی۔ پیاس کی شدت کا یہ عالم تھا کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہماری گردنیں ابھی کٹ کر گرپڑیں گی۔ اگر کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے بھی جاتا تھا تو واپس آنے میں پیاس کی شدت کی وجہ سے یہ سمجھ لیتا تھا کہ میری گردن کٹ کر گر جانے والی ہے۔ پیاس کی شدت کی وجہ سے بعض اشخاص نے یہاں تک کیا کہ اونٹ کو ذبح کر کے اس کی اوجھری کو نچوڑ کر پیا اور ترائی حاصل کرنے کے لیے اسے اپنے پیٹ پر رکھا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو دعا کرنے کا عمل عطا فرمایا ہے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔ آپ نے مبارک ہاتھ اٹھائے اور دعاء کی۔ ابھی آپ نے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ بارش ہونی شروع ہوگئی اور خوب بارش ہوئی۔ جس سے حاضرین نے اپنے سارے برتن بھر لیے۔ پھر ہم نے آگے بڑھ کر دیکھا کہ بارش کہاں تک ہے تو معلوم ہوا کہ وہ لشکر کے حدود سے آگے نہیں بڑھی۔ (ذکرہ الھیثمی فی مجمع الزوائد ص ١٩٤ ج ٢ و قال رواہ البزار و الطبرانی فی الأوسط و رجال البزار ثقات) معالم التنزیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ غزوۂ تبوک میں جو حضرات شرکت کرنے کے لیے گئے تھے ان کے پاس سواریاں بھی بہت کم تھیں ایک اونٹ پر دس افراد نمبر وار سوار ہوتے تھے اور ان کے پاس توشہ یعنی سفر کا جو سامان تھا وہ ایسی کھجوریں تھیں جن میں چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے جو پرانی کھجوروں میں پڑجاتے ہیں اور کچھ جو تھے جن میں بد بو پیدا ہوگئی تھی جو تھوڑی بہت کھجوریں تھیں وہ بھی ختم ہوگئیں تو کھجور کی گٹھلی کو چوس کر اوپر سے پانی پی لیتے تھے۔ سات سو کلو میٹر کا یک طرفہ سفر، سخت گرمی اور سفر کی تکلیف کا یہ عالم ! انہیں حالات میں حضرات صحابہ (رض) نے غزوۂ تبوک میں شرکت کی۔ تمام مخلصین صحابہ حکم سنتے ہی تیار ہوگئے البتہ بعض لوگوں کو جو تھوڑا سا کچھ تردد ہوا بعد میں وہ بھی ساتھ ہوگئے۔ حضرات صحابہ کرام (رض) کی جانثاری اور فدا کاری کو دیکھئے جن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔ اور روافض کو دیکھئے جو انہیں کافر کہتے ہیں۔ ھداھم اللہ تعالیٰ ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

111:“ لَقَدْ تَابَ اللّٰه الخ ” توبہ سے یہاں اللہ کی خصوصی مہربانی اور اس کی خاص عنایت و توفیق مراد ہے جس کی بدولت حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر جہاد کی صعوبتیں اور مشقتیں اٹھا کر کامل درجہ طاعت سے اکمل درجہ پر پہنچ گئے۔ “ وَ قَدْ یَکون (التوبة من اللہ علی عبده) رجوعاً من حالة طاعة الی اکمل منھا وھذه توبته فی ھذه الایة علی النبی صلی اللہ علیه وسلم لانه رجع به من حالة قبل تحصیل الغزوة و تحمل مشاقھا الی حالة بعد ذلک اکمل منھا الخ ” (بحر ج 5 ص 108) اور مہاجرین و انصار پر اللہ کی توبہ سے یہ مراد ہے کہ شدت گرما اور مشاق سفر کے پیش نظر بعض مسلمانوں کے دلوں میں غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کا وسوسہ آنے کا اندیشہ تھا۔ لیکن اللہ نے دستگیری فرما کر ان کے دلوں کو سکون و اطمینان اور صبر و استقلال کی دولت سے مالا مال کردیا اور وہ خوشی خوشی جہاد میں شریک ہوئے۔ “ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ” سے غزوہ تبوک مراد ہے۔ کیونکہ اس میں مسلمانوں کو شدت گرما، قلت زاد وراحلہ اور دیگر تکلیفوں کی وجہ سے مشقتوں اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا “ کانوا فی شدة من الظھر و فی شدة من الزاد و فی شدة من الماء و فی شدة زمان من حمارة القیظ و من الجدب والقحط و من ھنا قیل لتلک الغزوة غزوة العسرة و لجیشھا جیش العسرة ” (روح باختصار ج 11 ص 40) ۔ 112:“ کَادَ یَزِیْغُ الخ ” یعنی قریب تھا کہ ایک فریق کے دلوں میں وسوسہ پیدا ہوجاتا اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وسوسہ پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ وسوسہ سے پہلے ہی اللہ نے دستگیری کی اور ان کو استقامت عطا فرما دی “ توبته علیھم ان تدارک قلوبهم حتی لم تزغ ” (قرطبی ج 8 ص 281) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

117 بلاشبہ ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر مہربانی فرمائی اور ان مہاجرین و انصار پر بھی مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی جنہوں نے ایسی سخت گھڑی اور ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ ان میں سے قریب تھا کہ بعض لوگوں کے قلوب کچھ متزلزل ہوجائی پر اللہ تعالیٰ نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی اور اپنی خاص مہربانی سے ان کو سنبھال لیا یقیناً اللہ تعالیٰ ان سب پر بڑی شفقت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ نبی پر مہربانی یہ کہ ان کو تمام خوبیوں سے سرفراز فرمایا انصار و مہاجرین پر توجہ اور مہربانی یہ کہ ان کو سخت گرمی اور لو اور پانی کی قلت کے باوجود سنبھالے رکھا۔ حالانکہ بعض لوگ قریب تھا کہ ہمت ہار دیتے اور ان کے قدم ڈگمگا جاتے مگر ان کو سنبھال لیا اور ہمتیں بڑھا دیں اور غزوئہ تبوک کامیاب رہا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مہاجر اور انصار کو معاف کیا دل کے خطروں سے اور دو بار فرمایا مہربان ہوا پھر مہربان ہوا۔