Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 13

سورة التوبة

اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّکَثُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ وَ ہَمُّوۡا بِاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ وَ ہُمۡ بَدَءُوۡکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ اَتَخۡشَوۡنَہُمۡ ۚ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡہُ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾

Would you not fight a people who broke their oaths and determined to expel the Messenger, and they had begun [the attack upon] you the first time? Do you fear them? But Allah has more right that you should fear Him, if you are [truly] believers.

تم ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے کیوں تیار نہیں ہوتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور پیغمبر کو جلا وطن کرنے کی فکر میں ہیں اور خود ہی اول بار انہوں نے تم سے چھیڑ کی ہے کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ ہی زیادہ مستحق ہے کہ تم اس کا ڈر رکھو بشرطیکہ تم ایمان والے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Encouragement to fight the Disbelievers, and some Benefits of fighting Them Allah says; أَلاَ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُواْ أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّواْ بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ ... Will you not fight a people who have violated their oaths and intended to expel the Messenger, These Ayat encourage, direct and recommend fighting against the idolators who break the terms of their covenants, those who tried to expel the Messenger from Makkah. Allah said in other Ayat, وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ And (remember) when the disbelievers plotted against you to imprison you, or to kill you, or to expel you; they were plotting and Allah too was plotting; and Allah is the best of those who plot. (8:30) يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّـكُمْ أَن تُوْمِنُواْ بِاللَّهِ رَبِّكُمْ ...and have driven out the Messenger and yourselves (from your homeland) because you believe in Allah your Lord! (60:1) and, وَإِن كَادُواْ لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الاٌّرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا And verily, they were about to frighten you so much as to drive you out from the land. (17:76) Allah's statement, ... وَهُم بَدَوُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ... while they did attack you first, refers to the battle of Badr when the idolators marched to protect their caravan. When they knew that their caravan escaped safely, they still went ahead with their intent to fight Muslims out of arrogance, as we mentioned before. It was also said that these Ayat refer to the idolators breaking the peace agreement with Muslims and aiding Bani Bakr, their allies, against Khuza`ah, the ally of the Messenger of Allah. This is why the Messenger of Allah marched to Makkah in the year of the victory, thus conquering it, all thanks and praise is due to Allah. Allah said, ... أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّوُمِنِينَ Do you fear them! Allah has more right that you should fear Him if you are believers. Allah says here, `Do not fear idolators, but fear Me instead, for I am worthy of being feared by the servants due to My might and punishment. In My Hand lies the matter; whatever I will occurs, and whatever I do not will does not occur.' Allah next said, while ordering the believers and explaining the wisdom of ordaining Jihad against them, all the while able to destroy their enemies with a command from Him, قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّوْمِنِينَ

ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ وعدہ شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا ۔ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کر تے رھے بھڑ بھڑا کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے تاکہ تجھے مکہ شریف سے نکال دیں ۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے بدر کے دن لشکر لے کر نکلے حالانکہ معلوم ہو چکا تھا کہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے لیکن تاہم غرور و فخر سے اللہ کے لشکر کو شکست دینے کے ارادے سے مسلمانوں سے صف آراء ہوگئے جیسے کہ پورا واقع اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے ۔ انہوں نے عہد شکنی کی اور اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر رسول اللہ کے حلیفوں سے جنگ کی ۔ بنو بکر کی خزاعہ کے خلاف مدد کی اس خلاف وعدہ کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لشکر کشی کی ان کی خوب سرکوبی کی اور مکہ فتح کر لیا فالحمدللہ ۔ فرماتا ہے کہ تم ان نجس لوگوں سے خوف کھاتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو تمہارے دل میں بجز اللہ کے کسی کا خوف نہ ہونا چاہیئے وہی اس لائق ہے کہ اس سے ایماندار ڈرتے رہیں دوسری آیت میں ہے ان سے نہ ڈرو صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو میرا غلبہ ، میری سلطنت میری سزاء ، میری قدرت ، میری ملکیت ، بیشک اس قابل ہے کہ ہر وقت ہر دل میری ہیبت سے لزرتا رہے تمام کام میرے ہاتھ میں ہیں جو چاہوں کر سکتا ہوں اور کر گذرتا ہوں ۔ میری منشا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت کا راز بیان ہو رہا ہے کہ اللہ قادر تھا جو عذاب چاہتا ان پر بھیج دیتا لیکن اس کی منشاء یہ ہے کہ تمہارے ہاتھوں انہیں سزا دے ان کی بربادی تم خود کرو تمہارے دل کی خود بھڑاس نکل جائے اور تمہیں راحت و آرام شادمانی و کامرانی حاصل ہو ۔ یہ بات کچھ انہیں کے ساتھ مخصوص نہ تھی بلکہ تمام مومنوں کے لیے بھی ہے ۔ خصوصاً خزاعہ کا قبیلہ جن پر خلاف عہد قریش اپنے حلیفوں میں مل کر چڑھ دوڑے ان کے دل اسی وقت ٹھنڈے ہوں گے ان کے غبار اسی وقت بیٹھیں گے جب مسلمانوں کے ہاتھوں کفار نیچے ہوں ابن عساکر میں ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا غضبناک ہوتیں تو آپ ان کی ناک پکڑ لیتے اور فرماتے اے عویش یہ دعا کرو اللھم رب النبی محمد اغفر ذنبی اذھب غیظ قلبی واجرنی من مضلات الفتن اے اللہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار میرے گناہ بخش اور میرے دل کا غصہ دور کر اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچالے ۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے توبہ قبول فرما لے ۔ وہ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے خوب آگاہ ہے ۔ اپنے تمام کاموں میں اپنے شرعی احکام میں اپنے تمام حکموں میں حکمت والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے وہ عادل و حاکم ہے ظلم سے پاک ہے ایک ذرے برابر بھلائی برائی ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کا بدلہ دنیا اور آخرت میں دیتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 اَ لَا حرف تحضیض ہے، جس سے رغبت دلائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دے رہا ہے۔ 13۔ 2 اس سے مراد دارالندوہ کی مشاورت ہے جس میں رؤسائے مکہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جلا وطن کرنے، قید کرنے یا قتل کرنے کی تجویزوں پر غور کیا۔ 13۔ 3 اس سے مراد یا تو بدر کی جنگ میں مشرکین مکہ کا رویہ ہے کہ وہ اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کے لئے گئے، لیکن اس کے باوجود کہ انہوں دیکھ لیا کہ وہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے وہ بدر کے مقام پر مسلمانوں سے لڑنے کی تیاری کرتے اور چھیڑ خانی کرتے رہے، جس کے نتیجے میں بالآخر جنگ ہو کر رہی۔ یا اس سے مراد قبیلہ بنی بکر کی وہ امداد ہے جو قریش نے ان کی کی، جب کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیف قبیلے خزاعہ پر چڑھائی کی تھی دراں حالیکہ قریش کی یہ امداد معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] اعلان براءت کے بعد جہاد پر زور و ترغیب کی وجوہ :۔ اس سے پیشتر مسلمانوں کو جہاد کی متعدد بار ترغیب دی جا چکی تھی اور مسلمان کئی معرکے اور جنگیں بھی کرچکے تھے۔ اب اعلان برأت کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے پچھلے مظالم یاد دلا دلا کر کافروں سے جنگ کرنے کی جو پرزور ترغیب دی ہے تو اس کی چند وجوہ تھیں مثلاً اعلان برأت کے وقت بھی مشرکین کی تعداد جزیرۃ العرب میں مسلمانوں سے زیادہ تھی اس لیے انہیں یہ خیال آسکتا تھا کہ ایسی ذلت گوارا کرنے کے بجائے سب مل کر اسلام کا ہی نام و نشان مٹا دیں اور عرب جیسی جنگ جوا اور دلیرقوم سے ایسا خطرہ کچھ بعیداز عقل بھی نہ تھا۔ کیونکہ ایک تو ان کے تمام معاہدات کالعدم قرار دیئے جا رہے تھے اور دوسرے جلاوطنی کی دھمکی یا جنگ پر تیار ہوجانے کا چیلنج دے دیا گیا تھا، تیسرے کعبہ سے ان کی تولیت کو ختم کردیا گیا تھا۔ چوتھے کعبہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا تھا اور مکہ ہی وہ تجارتی مرکز تھا جس پر بالخصوص مقامی مشرکوں اور آس پاس کے رہنے والے مشرک قبائل کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تھا۔ پانچویں یہ کہ جو لوگ نئے نئے مسلمان ہو رہے تھے ان کے اکثر اقربا ابھی تک مشرک تھے۔ اور ان سے تعلقات برقرر رکھنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ لہذا ان وجوہ کی بنا پر یہ عین ممکن تھا کہ سب مشرک متحد ہو کر مسلمانوں سے ایک عظیم جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے یا کم از کم عرب بھر میں وسیع پیمانہ پر مسلمانوں سے خانہ جنگی شروع ہوجاتی لہذا ضروری تھا کہ ایسے موقع پر مسلمانوں کو جہاد کی پرزور تلقین کی جاتی اور ان کے ذہن سے ان خطرات کو دور کیا جاتا جو اس پالیسی پر عملدرآمد کرنے کی صورت میں انہیں نظر آ رہے تھے اور انہیں ہدایت کی جاتی کہ انہیں اللہ کی مرضی پوری کرنے میں کسی بات سے خائف نہیں ہونا چاہیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہایت بلیغ طریقے سے کفار کے خلاف جنگ پر ابھارا ہے اور انھیں جوش اور غیرت دلائی ہے کہ جن لوگوں کے یہ جرائم ہیں کیا تم ان کے خلاف بھی نہیں لڑو گے ؟ پھر ان کے تین جرم بیان فرمائے، پہلا یہ کہ انھوں نے اپنے عہد توڑ ڈالے اور وہ قسمیں بھی جو عہد پختہ کرنے کے لیے کھائی تھیں، صلح حدیبیہ ہوجانے کے بعد بھی وہ بنو خزاعہ کے خلاف ( جو مسلمانوں کے حلیف تھے) بنو بکر کی پیٹھ ٹھونکتے اور اسلحہ وغیرہ سے ان کی مدد کرتے رہے، حالانکہ ان کا ایسا کرنا صلح کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔ دوسرا یہ کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے تو وہ آپ کے خلاف منصوبے سوچتے رہتے، جیسا کہ سورة انفال ( ٣٠) میں گزر چکا ہے کہ قتل، قید اور کم از کم یہ کہ آپ کو مکہ سے نکال دیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے کسی ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اللہ کے حکم سے ہجرت کی اور تیسرا یہ کہ پہلی بار لڑنے کی ابتدا انھوں نے کی کہ بدر کے موقع پر جب ان کا تجارتی قافلہ بچ گیا تھا تو انھوں نے واپس جانے کے بجائے خواہ مخواہ جنگ چھیڑی۔ اس کے بعد احد، خندق اور بنو خزاعہ کے خلاف جنگ کی ابتدا بھی انھوں نے کی۔ ان تینوں میں سے ہر جرم ہی ان سے لڑنے کا کافی سبب ہے، اب یہ تین سبب جمع ہونے پر بھی کیا تم ان سے نہیں لڑو گے ؟ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ : یہ بھی جنگ پر ابھارنے کا ایک زبردست طریقہ ہے کہ کسی کو کہا جائے کہ کیا تم دشمنوں سے ڈرتے ہو ؟ غیرت مند یہی کہے گا اور کر کے دکھائے گا کہ نہیں، میں دشمنوں سے نہیں ڈرتا، پھر مسلمانوں کی ہمت بندھائی کہ تم تو اللہ پر ایمان و یقین رکھنے والے ہو کہ فتح و شکست اور نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے، ایسی صورت میں تو لازماً حق بنتا ہے کہ تم کفار کے بجائے اللہ سے ڈرو اور ان سے قتال کرو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After that, to persuade Muslims to fight, they were told in verse 13 that there was no reason why they would not be ready to fight against the kind of people who had conspired to expel the Messenger of Allah. This refers to the Jews of Madinah who had hatched a plan to expel the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from the city of Madinah. They had said: لَيُخْرِ‌جَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ (the one having more honor and power will certainly expel the one being humble and weak from there - 63:8). In their self-view, they were the people of honor and power while Muslims were weak and lowly. The answer they needed was given by Allah Al-mighty in His way. He took their proud statement as it was and made it come true in a manner that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions, by turning the Jews out of Madinah, proved that honor belonged to Muslims and disgrace to Jews. Giving the second reason for fighting against them, it was said: وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ (and it was they who started [ fighting ] against you for the first time). The sense is that they were the aggressors. What Muslims have to do now is simply to defend themselves, an action universally sane and normal. Then, to remove the awe of the enemy from the hearts of Muslims, it was said: أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ (Do you fear them? Then, Allah is worthier that you fear Him) for there is no power that can cause His punishment to disappear. Finally, by saying: إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (if you are be-lievers), it was made clear that fearing anyone or anything other than Allah in a manner that obstructs the fulfillment of the injunctions of the Shari’ ah of Islam is not what a true believing-practicing Muslim would do.

اس کے بعد تیرہویں آیت میں مسلمانوں کو جہاد و قتال کی ترغیب کے لئے فرمایا کہ تم ایسی قوم کے ساتھ جنگ کے لئے کیوں تیار نہ ہوگے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا، اور کہا تھا (آیت) لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ، یعنی ایسا ضرور ہوگا کہ عزت و قوت والا کمزور ذلیل کو مدینہ سے نکال دے گا۔ ان کے نزدیک عزت والے وہ لوگ تھے اور مسلمانوں کو کمزور و ذلیل سمجھتے تھے، جس کے جواب میں حق تعالیٰ نے ان کے ہی قول کو اس طرح پورا کر دکھایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام نے ان کو مدینہ سے نکال کر یہ ثابت کردیا کہ عزت والے مسلمان ہی ہیں اور کمزور ذلیل یہود تھے۔ دوسری وجہ ان سے جنگ کرنے کی یہ ارشاد فرمائی : (آیت) وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ، یعنی جنگ و قتال کی پہل انہی لوگوں کی طرف سے ہوئی، اب تو صرف مدافعانہ کارروائی ہے جو ہر فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے۔ پھر مسلمانوں کے دلوں سے ان لوگوں کا رعب دور کرنے کے لئے فرمایا (آیت) اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ ، یعنی کیا تم لوگ ان سے خوف کھاتے ہو، حالانکہ خوف اور ڈرنا صرف اللہ تعالیٰ سے چاہئے۔ جس کے عذاب کو کوئی طاقت ٹلا نہیں سکتی، آخر میں (آیت) اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ فرما کر بتلا دیا کہ غیر اللہ سے ایسا خوف کھانا جو احکام شرعیہ کی ادائیگی میں حائل ہوسکے کسی مومن مسلمان کا کام نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَہُمْ وَہَمُّوْا بِـاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَہُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ۝ ٠ ۭ اَتَخْشَوْنَہُمْ۝ ٠ ۚ فَاللہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ ١٣ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] نكث النَّكْثُ : نَكْثُ الأَكْسِيَةِ والغَزْلِ قَرِيبٌ مِنَ النَّقْضِ ، واستُعِيرَ لِنَقْضِ العَهْدِ قال تعالی: وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ [ التوبة/ 12] ، إِذا هُمْ يَنْكُثُونَ [ الأعراف/ 135] والنِّكْثُ کالنِّقْضِ والنَّكِيثَةُ کالنَّقِيضَةُ ، وكلُّ خَصْلة يَنْكُثُ فيها القومُ يقال لها : نَكِيثَةٌ. قال الشاعر مَتَى يَكُ أَمْرٌ لِلنَّكِيثَةِ أَشْهَد ( ن ک ث ) النکث کے معنی کمبل یا سوت ادھیڑ نے کے ہیں اور یہ قریب قریب نقض کے ہم معنی ہے اور بطور استعارہ عہد شکنی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ [ التوبة/ 12] اور اگر اپنی قسمیں توڑ ڈالیں ۔ إِذا هُمْ يَنْكُثُونَ [ الأعراف/ 135] تو وہ عہد توڑ ڈالتے ہیں ۔ النکث والنکثۃ ( مثل النقض والتقضۃ اور نکیثۃ ہر اس مشکل معاملہ کو کہتے ہیں جس میں لوگ عہد و پیمان توڑ ڈالیں شاعر نے کہا ( 437 ) متیٰ یک امر للنکیثۃ اشھد جب کوئی معاملہ عہد شکنی کی حد تک پہنچ جائے تو میں حاضر ہوتا ہون ۔ همم الهَمُّ الحَزَنُ الذي يذيب الإنسان . يقال : هَمَمْتُ الشّحم فَانْهَمَّ ، والهَمُّ : ما هممت به في نفسک، وهو الأصل، وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِها[يوسف/ 24] ( ھ م م ) الھم کے معنی پگھلا دینے والے غم کے ہیں اور یہ ھممت الشحم فا نھم کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں میں نے چربی کو پگھلا یا چناچہ وہ پگھل گئی اصل میں ھم کے معنی اس ارادہ کے ہیں جو ابھی دل میں ہو قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِها[يوسف/ 24] اور اس عورت نے ان کا قصد کیا وہ وہ اس کا قصد کرلیتے۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس بدأ يقال : بَدَأْتُ بکذا وأَبْدَأْتُ وابْتَدَأْتُ ، أي : قدّمت، والبَدْءُ والابتداء : تقدیم الشیء علی غيره ضربا من التقدیم . قال تعالی: وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسانِ مِنْ طِينٍ [ السجدة/ 7] ( ب د ء ) بدء ات بکذا وابتدءات میں نے اسے مقدم کیا ۔ اس کے ساتھ ابتدا کی ۔ البداء والابتداء ۔ ایک چیز کو دوسری پر کسی طور مقدم کرنا قرآن میں ہے { وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ } ( سورة السجدة 7) اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا ۔ مَرَّةً مَرَّةً ومرّتين، كفَعْلَة وفَعْلَتين، وذلک لجزء من الزمان . قال : يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ [ الأنفال/ 56] ، وَهُمْ بَدَؤُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 13] ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] ، إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 83] ، سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ [ التوبة/ 101] ، وقوله : ثَلاثَ مَرَّاتٍ [ النور/ 58] . مرۃ ( فعلۃ ) ایک بار مرتان ض ( تثنیہ ) دو بار قرآن میں ہے : يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ [ الأنفال/ 56] پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں ۔ وَهُمْ بَدَؤُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 13] اور انہوں نے تم سے پہلی بار ( عہد شکنی کی ) ابتداء کی ۔إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] اگر آپ ان کے لئے ستربار بخشیں طلب فرمائیں ۔ إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 83] تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر رضامند ہوگئے ۔ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ [ التوبة/ 101] ہم ان کو دو بار عذاب دیں گے ۔ ثَلاثَ مَرَّاتٍ [ النور/ 58] تین دفعہ ( یعنی تین اوقات ہیں ۔ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣) تم لوگ مکہ والوں سے کیوں نہیں لڑتے، جنہوں نے اپنے ان معاہدوں کو جو کہ تمارے اور ان کے درمیان تھے توڑ ڈالا ہے اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کرنے کی تجویز کی، چناچہ وہ دارالندوہ میں مشورہ کے لیے جمع ہوئے انہوں نے پہلے عہد شکنی کی ہے کہ اپنے خلفاء بنی بکر کی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلفاء بنی خزاعہ کے خلاف مدد کی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣ (اَلاَ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَہُمْ وَہَمُّوْا بِاِخْرَاج الرَّسُوْلِ ) اے مسلمانو ! مشرکین مکہ نے صلح حدیبیہ کو خود توڑا ہے ‘ جبکہ تمہاری طرف سے اس معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی ‘ اور یہ وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ سے جلاوطنی پر مجبور کیا تھا۔ تو آخر کیا وجہ ہے کہ اب جب ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ تذ بذب کا شکار ہو رہے ہیں۔ (وَہُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط) یعنی مکہ کے اندر مسلمانوں کو ستانے اور تکلیفیں پہنچانے کی کار ستانیاں ہوں یا غزوۂ بدر میں جنگ چھیڑنے کا معاملہ ہو یا صلح حدیبیہ کے توڑنے کا واقعہ ‘ تمہارے ساتھ ہر زیادتی اور بےاصولی کی پہل ہمیشہ ان لوگوں ہی کی طرف سے ہوتی رہی ہے ۔ (اَتَخْشَوْنَہُمْ ج ) یہ متجسسانہ سوال (searching question) کا انداز ہے کہ ذرا اپنے گریبانوں میں جھانکو ‘ اپنے دلوں کو ٹٹولو ‘ کیا واقعی تم ان سے ڈر رہے ہو ؟ کیا تم پر کوئی بزدلی طاری ہوگئی ہے ؟ آخر تم قریش کے خلاف اقدام سے کیوں گھبرا رہے ہو ؟ (فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) اب اس کے بعد اقدام کرنے کا آخری حکم قطعی انداز میں دیا جا رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :16 اب تقریر کا رخ مسلمانوں کی طرف پھرتا ہے اور ان کو جنگ پر ابھارنے اور دین کے معاملہ میں کسی رشتہ و قرابت اور کسی دنیوی مصلحت کا لحاظ نہ کرنے کی پُر زور تلقین کی جاتی ہے ۔ اس حصہ تقریر کی پوری روح سمجھنے کے لیے پھر ایک مرتبہ اس صورت حال کو سامنے رکھ لینا چاہیے جو اس وقت درپیش تھی ۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام اب ملک کے ایک بڑے حصہ پر چھا گیا تھا اور عرب میں کوئی ایسی بڑی طاقت نہ رہی تھی جو اس کو دعوت مبارزت دے سکتی ہو ، لیکن پھر بھی جو فیصلہ کن قدم اور انتہائی انقلابی قدم اس موقع پر اُٹھایا جا رہا تھا اس کے اندر بہت سے خطرناک پہلو ظاہر بین نگاہوں کو نظر آرہے تھے: اوّلاً تمام مشرک قبائل کو بیک وقت معاہدات کی منسوخی کا چیلنج دے دینا ، پھر مشرکین کے حج کی بندش ، کعبے کی تولیت میں تغیر ، اور رسوم جاہلیت کا کلّی انسداد یہ معنی رکھتا تھا کہ ایک مرتبہ سارے ملک میں آگ سی لگ جائے اور اور مشرکین و منافقین اپنا آخری قطرہ خون تک اپنے مفادات اور تعصبات کی حفاظت کے لیے بہا دینے پر آمادہ ہو جائیں ۔ ثانیًا حج کو صرف اہل توحید کے لیے مخصوص کر دینے اور مشرکین پر کعبے کا راستہ بند کر دینے کے معنی یہ تھے کہ ملک کی آبادی کا ایک معتدبہ حصہ ، جو ابھی مشرک تھا ، کعبہ کی طرف اس نقل و حرکت سے باز رہ جائے جو صرف مذہبی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ معاشی حیثیت سے بھی عرب میں غیر معمولی حیثیت رکھتی تھی اور جس پر اس زمانہ میں عرب کی معاشی زندگی کا بہت بڑا انحصار تھا ۔ ثالثًا جو لوگ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے ان کے لیے یہ معاملہ بڑی کڑی آزمائش کا تھا کیونکہ ان کے بہت سے بھائی بند ، عزیز اقارب ابھی تک مشرک تھے اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے مفاد قدیم نظام جاہلی کے مناصب سے وابستہ تھے ۔ اب جو بظاہر تمام مشرکین عرب کا تہس نہس کر ڈالنے کی تیاری کی جا رہی تھی تو اس کے معنی یہ تھے کہ یہ نئے مسلمان خود اپنے ہاتھوں اپنے خاندانوں اور اپنے جگر گوشوں کو پیوند خاک کریں اور ان کے جاہ و منصب اور صدیوں کے قائم شدہ امتیازات کا خاتمہ کردیں ۔ اگرچہ فی الواقع ان میں سے کوئی خطرہ بھی عملًا بروئے کار نہ آیا ۔ اعلان براءت سے ملک میں حرب کلّی کی آگ بھڑکنے کے بجائے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ تمام اطراف و اکناف عرب سے بچے کھچے مشرک قبائل اور امراء و ملوک کے وفد آنے شروع ہوگئے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسلام و اطاعت کا عہد کیا اور ان کے اسلام قبول کر لینے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو اس کی پوزیشن پر بحال رکھا ۔ لیکن جس وقت اس نئی پالیسی کا اعلان کیا جا رہا تھا اس وقت تو بہر حال کوئی بھی اس نتیجہ کو پیشگی نہ دیکھ سکتا تھا ۔ نیز یہ کہ اس اعلان کے ساتھ ہی اگر مسلمان اسے بزور نافذ کر نے کے لیے پوری طرح تیار نہ ہو جاتے تو شاید یہ نتیجہ برآمد بھی نہ ہو تا ۔ اس لیے ضروری تھا کہ مسلمانوں کو اس موقع پر جہاد فی سبیل اللہ کی پر جوش تلقین کی جاتی اور ان کے ذہن سے ان تمام اندیشوں کو دور کر دیا جاتا جو اس پالیسی پر عمل کرنے میں ان کو نظر آرہے تھے اور ان کو ہدایت کی جاتی کہ اللہ کی مرضی پوری کرنے میں انہیں کسی چیز کی پروا نہ کرنی چاہیے ۔ یہی مضمون اس تقریر کا موضوع ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

12: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں ظلم شروع کیا اور یہ بھی کہ انہوں نے صلح حدیبیہ کو توڑنے میں پہل کی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٣۔ ٦ ھ؁ میں جو صلح حدیبیہ ہوئی اسی صلح میں آنحضرت سے اور قریش سے یہ معاہدہ تھا کہ دس برس تک لڑائی موقوف رکھنی چاہئے اور اس دس برس کے امن میں خزاعہ قبیلہ حضرت کی امان میں تھا اور بنوبکر قبیلہ قریش کے امن میں تھا بنوبکر قبیلہ نے خزاعہ پر چڑھائی کی اور قریش نے خلاف معاہدہ بنوبکر کو مدد دی اس بدعہدی کہ ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو ترغب دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قریش کی دوسری شرارت مشرکین مکہ نے اپنے دل میں یہ بات ٹھان لی تھی کہ اگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ عمرہ کی نیت سے مکہ میں داخل ہو تو ان کو زبردستی مکہ سے نکال دیویں قبیلہ خزاعہ کے لوگ اس مشورہ میں شریک نہیں ہوئے اور صلح کے زمانہ مشرکین مکہ نے قبیلہ بنی بکر کو خزاعہ سے لڑنے پر آمادہ کیا اور خود قبیلہ بنی بکر کی مدد کی اسی کو مشرکین مکہ کی پہلی چھیڑ فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ ایسے بدعہد لوگوں سے لڑنے میں کسی ایمان دار شخص کو کچھ تامل اور ڈرنا نہ چاہئے کیونکہ ایماندار لوگوں کے دل میں سوا اللہ کے ڈر کے اور کوئی ڈرنہ ہونا چاہئے اس لئے کہ جس شخص کے دل میں اللہ کا ڈر ہوتا ہے اس کو عقبے کے سب مشکل کام آسان ہوجاتے ہیں۔ معتبر سند سے ترمذی میں ابوہریرہ (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا اس کو عقبے کی بہبودی کا راستہ آسان ہوجاویگا آیت میں ایمان دار لوگوں کو اللہ سے ڈرنے کا جو ارشاد ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:13) الا تقاتلون۔ کیا تم جنگ نہیں کروگے۔ کیا تم نہیں لڑو گے۔ بدء وکم۔ انہوں نے پہلے تم سے شروع کیا۔ (یعنی زیادتی میں پہل انہوں نے کی) بذء سے ماضی جمع مذکر غائب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اوپر کی آیت میں ائمہ کفر کے ساتھ مقاتلہ کا حکم تھا۔ اب اس آیت میں اس مقاتلہ کے وجوہ واسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوتے تین اسباب بیان فرمائے ہیں۔ نقض عہد کی صلح حدیبہ ہوجا نے کے بعد بھی ہو بنو خزاعہ کے خلاف ( جو مسلمانوں کے حلیف تھے) بن بکر کی پیٹھ ٹھو نکتے اور اسلحہ وغیر سے ان کی مدد کرتے رہے حلا ن کہ ان کا ایسا کرنا صلح کے معاہدہ کی صریح خلاف ورزی تھی اور جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے تو ملک سے نکال دینے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف منصوبے سوچتے رہے جیسا کہ سورة انفعال آیت 30) میں گزر چکا ہے اور پھر بدر کے موقع پر جب ان کا تجارتی قافلہ گیا بچ گیا تھا تو انیں واپس چلاجا چاہیے تھا لیکن یہ نہیں گئے اور انہوں نے خواہ مخواہ جنگ چھیڑ ی۔5 کیونکہ نفع و نقصان اس کے ہاتھ میں ہے اور جب وہ لڑنے کا حکم دے رہا ہے تو تمہیں ضرور لڑنا چاہیے ( وحیدی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیات : 13 تا 16 لغات القرآن۔ ھموا۔ انہوں نے ارادہ کیا۔ اخراج۔ نکالنا۔ بدء وا۔ انہوں نے ابتدا کی۔ اول مرۃ۔ پہلی مرتبہ۔ اتخشون۔ کیا تم ڈرتے ہو۔ احق۔ زیادہ حق دار ہے۔ ان تخشوہ۔ یہ کہ تم اسے ڈرو۔ یخزی۔ وہ رسوا کرے گا۔ یشف۔ شفا دے گا۔ صدور۔ (صدر) ۔ سینے۔ یذھب۔ دور کردے گا۔ غیظ۔ غصہ ۔ ام حسبتم۔ کیا تم نے سمجھ لیا۔ ان تترکوا۔ یہ کہ چھوڑ دئیے جائو گے۔ لما یعلم۔ ابھی تو معلوم ہی نہیں ہوا۔ لم یتخذوا۔ نہیں بنایا۔ ولیجۃ۔ گہرا دوست۔ جگری دوست۔ تشریح : فتح مکہ کے بعد اگر چہ مشرکین کا زور اور جنگی طاقت دم توڑ چکی تھی لیکن سانپ ابھی تک سانس لے رہا تھا دین اسلام کی پالیس یہ ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے جس حد تک ممکن ہو آسانی کا معاملہ کیا جائے لیکن اگر وہ اپنی سازشوں اور حرکتوں سے باز نہیں آتے تو ان کے خلاف راست اقدام کیا جائے اور فتنہ کا سر کچل دیا جائے۔ ان ہی اقدامات میں سے ایک قدم یہ تھا کہ اب ایک خاص مدت کے بعد کوئی مشرک اور کافر حرم مکہ میں داخل نہ ہونے پائے اور مشرکین کا کوئی عمل دخل حج اور خانہ کعبہ کے انتظامات سے نہ رہے۔ اس طرح ان کی مالی منصبی اور دوسری طاقتوں کو ختم کردیا گیا تاکہ وہ مسلمانوں اور ان کے دین کے خلاف مرکز میں بیٹھ کر سازشیں نہ کرسکیں۔ اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ان رسوم کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جن پر مشرکین کی خاص طاقت اور خاص آمدنی قائم تھی۔ چنانچہ اب خطرہ یہ تھا کہ یہود و نصاریٰ ، کفار اور مشرکین آپس میں گٹھ جوڑ کر کے ایک مرتبہ پھر اپنی بچی کچھی طاقت اسلام کے خلاف نہ لگا دیں اور جنگ کے شعلے نہ بھڑک اٹھیں تو اب فرمان الٰہی کا رخ اہل ایمان کی طرف پھر گیا ہے جس میں ہر طرح کے خطروں اور سازشوں سے نبٹنے کے لئے زبردست الفاظ میں جہاد کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمایا گیا کہ اے مومنو ! کیا تم ایسی قوم سے جہاد و قتال کے بارے میں پس پیش کر رہے ہو جنہوں نے نہ صرف اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ انہوں نے تمہارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف بھی ہر وہ سازش کی ہے جو ان کے امکان میں تھی۔ انہوں نے تمہارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وطن سے بےوطن کیا ہے۔ ان کے خلاف سازشیں کی ہیں۔ اپنی طاقت و قوت کا غلط استعمال کیا ہے ابتداء انہوں نے کی ہے اب ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اس کے دل میں اللہ کے سوا کسی کا ڈر اور خوف نہیں ہوتا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی تمہاری طرف سے وفائے عہد میں کوئی کمی نہیں ہوئی انہوں نے بیٹھے بٹھائے خود ایک شوشہ چھوڑا پس ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اب پھر قتال فی سبیل اللہ کی تاکید کی جارہی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں قتال کیوں نہیں کرتے ؟ جب کہ بار بار عہد شکنی کرنے کے علاوہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ سے نکالا اور پھر اس کے بعد مدینہ پر حملہ آور ہو کر جنگ میں پہل کی یہاں تک کہ منافقین کے ساتھ مل کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ سے بھی نکالنے کا منصوبہ بنایا ایسی صورت میں ان کے ساتھ قتال فی سبیل اللہ کا معرکہ ضرور ہونا چاہیے لیکن تمہاری کیفیت یہ ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے کفار سے زیادہ ڈرتے ہیں حالانکہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنا چاہیے بشرطیکہ تم صدق دل کے ساتھ ایمان لانے والے ہو۔ جو مسلمان ہو کر کفار سے ڈرتے ہیں وہ غالب آنا تو درکنار کبھی کفار کے خلاف قتال کرنے کے لیے سوچ بھی نہیں سکتے۔ اللہ سے ڈرنے سے مسلمان کو بیک وقت دو فائدے پہنچتے ہیں۔ اس کے کردار میں نیکی، للہیت کا اضافہ ہوتا ہے اور دشمن کے مقابلے میں بہادر ثابت ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ مسلمان اپنے سے دس گنا زیادہ طاقت ور کے ساتھ ٹکرانے میں ہچکچاہٹ نہیں سمجھتے تھے۔ سورة آل عمران ١٣٩ میں ایمان کا صلہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر تم ایمان کے تقاضے پورے کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ سر بلند رکھے گا۔ مسائل ١۔ معاہدہ کی پاسداری نہ کرنے والوں کے ساتھ لڑائی کی اجازت ہے۔ ٢۔ ایمان داروں کو ہر حال میں اللہ سے ڈرنا چاہیے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

تفسیر آیات 13 تا 16:۔ تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔ ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک شخص بیت الحرام میں اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو پاتا لیکن وہ اسے وہاں کوئی گزند نہ پہنچاتا۔ رسول اللہ کا جرم کیا تھا۔ آپ تو لوگوں کو دعوت ایمان دیتے تھے کہ اللہ وحدہ گی بندگی کرو لیکن انہوں نے بیت اللہ کا بھی کوئی احترام نہ کیا۔ انہوں نے رسول اللہ کو وہاں سے نکالنے کی سعی کی۔ پھر آپ کے قتل کی سازش کی اور یہ حرکت انہوں نے بےدھڑک اور بغیر کسی جھجک کے کی۔ پھر انہوں نے مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے۔ انہوں نے ابوجہل کی سرکردگی میں یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ سے جنگ ضروری کریں گے چاہے ہمارا قافلہ بچ کر نکل گیا ہے۔ پھر جنگ احد اور جنگ خندق میں تو واضح طور پر جارح تھے پھر حنین میں بھی وہ پوری طرح جنگ کے لیے تیار ہوگئے تھے اور نزول آیات کے وقت یہ سب تازہ واقعات تھے جو ان کی ایدوں کا حصہ تھے اور ان سب واقعات میں اس رویہ کی تصدیق تھی جو قرآن نے بیان کیا۔ ولایزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا۔ اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ ایسا کرسکیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو محاذ صرف اللہ وحدہ کی غلامی رکتا ہے اور جو اللہ کے سو ان کئی اور الہوں کی بندگی اور شرک کرتا ہے ان دونوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمیشہ کیا رہی ہے۔ ؟ واقعات اور تلخ یادوں کی اس فہسرت کو نہایت ہی اختصار اور سرعت اور نہایت ہی موثر انداز کے ساتھ پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آخر میں ان سے یوں مخاطب ہوتے ہیں اتخشونہم کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ تم مشرکین کے خلاف جنگ اور جہاد نہیں شروع کرتے تو تمہارا یہ بیٹھا رہنا بغیر خوف اور کسی وجہ سے تو ہو نہیں سکتا۔ اور اس کے بعد اس سوالیہ فقرے کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے۔ جو مسلمانوں کے لیے نہایت ہی حوصلہ افزا ہے۔ فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین : " حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ مسحتق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو " مومن ہوتا وہی ہے جو بندوں سے نہیں ڈرتا لہذا مومن وہی ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ تو یہ لوگ اگر مشرکین سے ڈرتے ہیں تو اللہ سے انہیں بہت زیادہ ڈرنا چاہیے۔ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ لوگ اس سے ڈریں اور اللہ کے سوا کسی اور کا کوئی ڈر کم از کم مومنین کے دل میں نہیں ہونا چاہیے۔ غرض مسلمانوں کے اسلام شعور کو جگایا جاتا ہے اور ان واقعات اور ان کی یادوں کو تازہ کرکے ان کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ مشرکین وہی ہیں جنہوں نے ذات نبی کے خلاف سازش کی۔ پھر انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو معاہدے بھی کیے انہیں توڑا اور جب بھی مسلمانوں کو غافل پایا یا ان کی صفوں کے اندر کوئی سوراخ دیکھا۔ انہوں نے وار کرنے کی کوشش کی۔ پھر انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جارحیت کرنے میں پہل کی اور چناچہ ان وجوہات اور اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے خلاف جنگی کارروائی کریں۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ۔ ان لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔ تم ان کے ساتھ جنگ کرو ، تم دست قدرت کے لیے پردہ بنوگے اور اللہ کی مشیئت کی صورت بنوگے۔ اس طرح تمہارے ہاتھوں اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ ان کو ہزیمت دے کر ذلیل کرے گا جبکہ وہ اپنے آپ کو نہایت ہی قوی سمجھتے ہوں گے لیکن اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری نصرت کرے گا ، تمہارے دلوں کو شفا دے گا کیونکہ اہل ایمان کو انہوں نے بہت ہی اذیتیں دی تھیں اور مسلمانوں کے دلوں میں وہ غیظ و غضب ابھی تک موجود تھا۔ اس طرح کفار و مشرکین کی شکست سے ان کے دل ہلکے ہوجائیں گے کیونکہ مشرکین نے ان کو اذیت دی گھروں سے نکالا۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ اس سے بڑا انعام ان کے انتظار میں ہے۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا اور جسے چاہے گا ، توبہ کی توفیق بھی گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ مسلمانوں کی فتح کے نتیجے میں کئی لووں کے دل اسلام کی طرف مائل ہوسکتے ہیں اور ان کی بصیرت انہیں اس طرف لا سکتی ہے کہ مستقبل اسلام کا ہے کیونکہ مسلمانوں کو فتح نصیب ہو رہی ہے اور ظہار ہے کہ انسانوں کی قوت سے اوپر کوئی اور قوت ہے جو مسلمانوں کی تائید میں ہے اور عملاً ایسا بھی ہوا کہ بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے اور اسی طرح مجاہدین کو دو اجر ملے۔ ایک اجر ان کے جہاد فی سبیل اللہ کا اور دوسرا اجر ان گمراہ لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اور گمراہوں کو ہدایت دینے کا جو جہاد کی وجہ سے ہوا اور ان لوگوں سے اسلام کی افرادی اور جنگی قوت میں اضافہ ہوا۔ کہا گیا کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ وہ ان اقدامات کے اچھے نتائج کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ حکیم ہے وہ جن اقدامات کا حکم دیتا ہے وہ گہری حکمت پر مبنی ہوتے۔ اسلام جب زوردار شکل میں سامنے آتا ہے تو وہ زیادہ پرکشش ہوتا ہے ، اس اسلام کے مقابلے میں جس کی قوت لوگوں کو معلوم نہ ہو یا وہ ضعیف و ناتواں نظر آئے لیکن اسلامی جماعت جب قوت اور زور سے سامنے آئے اور وہ اپنے نظریہ و عمل پر سختی سے جمی ہو تو تحریک اسلامی کا نصف راستہ خود بخعد طے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو مکہ مکرمہ میں اسلامی جماعت کی تربیت اور نگرانی کر رہا تھا ، وہاں اس نے جماعہ مسلمہ کے ساتھ صرف جنت کا وعدہ کیا تھا ، جبکہ مکہ میں جماعت قلیل تھی اور اس میں ضعیف لوگ تھے اور یہاں مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی ہدایت تھی وہ یہ کہ صرف کا دامن مضبوطی سے پکڑو اور جب جماعت نے کما حقہ صبر کیا اور صرف جنت کی طلبگار بن گئی تو اللہ نے اسے نصرت عطا کی اور وہ فاتح ہوگئی تو اللہ نے اسے سیاسی غلبے اور جہاد کے لیے ابھارا ، اس لیے کہ یہ سیاسی غلبہ اس جماعت کا غلبہ نہ تھا بلکہ اللہ کے دین کا غلبہ تھا اور اس کی وجہ سے اللہ کا کلمہ بلند ہو رہا تھا۔ اس وقت صورت حال بھی ایسی تھی کہ اس میں مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وہ تمام مشرکین کے خلاف جنگ کریں اور مشرکین کے تمام معاہدوں کو منسوخ کردیں اور ان کے مقابلے میں صف و احد بن کر کھڑے ہوجائیں اور یہ اس لیے ضروری تھا کہ مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے خفیہ پیکٹ ختم ہوجائیں اور جن لوگوں کی نیت میں فور تھا وہ کھل کر سامنے آجائیں اور وہ پردے دور کردیے جائیں جن کے پیچھے منافق لوگ کھڑے ہوکر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے تھے اور ان تعلقات کو بھی ختم کردیا جوائے جو رشتہ داری اور قرابت داری کے عنوان سے بعض لوگوں کے ساتھ قائم رکھے ہوئے تھے۔ ان پردوں کو گرانا ضروری تھا اور ان عذرات کو یکسر کتم کردینا ضروری تھا۔ اس لیے اس قسم کے تمام لوگوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ان لوگوں کا انکشاف ہوجائے جن کے دلوں میں کوئی خباثت خفیہ تھی اور جو اللہ اور رسول اللہ کے سوا اور لوگوں کو بھی دوست بنا رہے تھے اور ان عذرات کے نتیجے میں وہ مخالف اسلام کیمپ کے لوگوں کے ساتھ روابط رکھے ہوئے تھے اور ان روابط کی نوعیت واضح نہ تھی ، بلکہ مشکوک تھی اس لیے یہ حکم دیا گیا۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : کیا تم لوگوں نے یہ سمئجھ رکھا ہے کہ یونی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگر دوست نہ بنایا ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے۔ جیسا کہ بالعموم ہوا کرتا ہے ، اسلامی معاشرے میں بھی ایسے لوگ تھے جو چلتے پھرتے تھے ، جو حدود سے آگے نکلتے تھے اور ان کے پاس بہت زیادہ عذرات ہوتے تھے ، وہ جماعت کے علم و مشورہ کے بغیر اس کے دشمنوں سے بھی ملتے تھے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرتے تھے اگرچہ اس میں اسلامی تحریک کا نقصان ہو۔ اور یہ لوگ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پائے جانے والے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے تھے کیونکہ ابھی تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان مکمل قطع تعلق نہ ہوا تھا لیکن جب واضح طور پر اعلان کردیا گیا کہ اب مشرکین عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا اور اب رابطے کٹ گئے ہیں ، اب ایسے لوگوں کے لیے کوئی بہانہ نہ رہا اور ان کی خفیہ ریشہ دوانیاں سامنے آگئیں۔ اسلامی جماعت اور اسلامی نظریہ حیات کے مفاد میں یہ بات ہے کہ پردے اٹھ جائیں اور تعلقات بالکل علی الاعلان اور چور دروازے ختم کردئیے جائیں تاکہ مخلص جدوجہد کرنے والوں اور ہر طرف پھرنے پھرانے والوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز ہوجائے اور دونوں کیمپوں کے لوگ اچھی طرح معلوم اور معروف ہوجائیں اور ان کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہوجائے اگرچہ اللہ تو علیم وخبیر ہے۔ اسے تو پہلے سے معلوم ہے کہ کون کیا ہے ، لیکن اللہ لوگوں کو تب پکڑتا ہے جب ان کی حقیقت تمام دیکھنے والوں پر واضح ہوجائے۔ یہی ہے سنت الہیہ کہ اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے دونوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز کردیتا ہے اور کھرے اور کھوٹے کا امتیاز اس طرح ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو مصائب و شدائد میں مبتلا کردیتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَھُمْ وَ ھَمُّوْا بِاِخْرَاج الرَّسُوْلِ وَ ھُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (کیا تم ان لوگوں سے قتال نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ معظمہ سے نکال دینے کا ارادہ کیا اور پھر خود ہی قتال کی ابتداء کی) یعنی بنی خزاعہ کے مقابلہ میں (جو تمہارے حلیف تھے) بنی بکر کی مدد کی۔ (اَتَخْشَوْنَھُمْ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) کیا تم ان سے ڈرتے ہو اور ترک قتال کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو (اس کا حکم مانو اور قتال مت چھوڑو) اگر تم مومن ہو (تو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو جس میں حکم قتال کی تعمیل بھی ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12 یہ ترغیب الی القتال ہے اور استفہام انکاری ہے اور ساتھ تین وجوہ کا ذکر کردیا گیا جو ان سے قتال کی موجب ہیں۔ اول “ نَکَثُوْا اَیْمَانَھُمْ ” کہ انہوں نے عہد شکنی کی ہے۔ دوم “ ھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ ” انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ مکرمہ سے نکالنے کی کوشش کی۔ سوم “ وَ ھُمْ بَدَءُوْکُمْ ” اور انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی ابتداء کی لہذا ان سے ضرور قتال کرو۔ کیا تمہیں یہ ڈر ہے کہ جنگ کی صورت میں تمہیں مشرکین کے ہاتھوں نقصان پہنچے گا ؟ اس کی پرواہ مت کرو بلکہ اللہ سے ڈرو اور اس کے حکم کی خلاف ورزی مت کرو۔ خالص اور پختہ ایمان کا یہی تقاضا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو نافع و ضار نہ سمجھو۔ “ فان مقتضی ایمان المؤمن الذي یتحقق انه لا ضار و لا نافع الا اللہ تعالیٰ ولا یقدر احد علی مضرة و لا نفع الا بمشیته ان لا یخاف الا من اللہ تعالیٰ ” (روح ج 10 ص 61) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

13 تم ایسے لوگوں سے جنگ کیوں نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (علیہ السلام) کو جلا وطن کرنے اور نکالنے کی تجویز کی اور انہوں نے ہی پہلی مرتبہ تم سے عہد شکنی کی ابتداء کی کیا تم ان عہد شکنی کافروں سے لڑنے میں ڈرتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو بشرطیکہ تم ایمان رکھتے ہو۔ یعنی جب قریش کی جانب سے نقض عہد ہوگیا اور ابتداء ان کی طرف سے ہوچکی پھر جنگ سے کیا چیز مانع ہے۔ رہا خوف اور ڈر تو اللہ تعالیٰ ہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی پکڑ سے ڈرو۔