Encouragement to fight the Disbelievers, and some Benefits of fighting Them
Allah says;
أَلاَ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُواْ أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّواْ بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ
...
Will you not fight a people who have violated their oaths and intended to expel the Messenger,
These Ayat encourage, direct and recommend fighting against the idolators who break the terms of their covenants, those who tried to expel the Messenger from Makkah.
Allah said in other Ayat,
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ
And (remember) when the disbelievers plotted against you to imprison you, or to kill you, or to expel you; they were plotting and Allah too was plotting; and Allah is the best of those who plot. (8:30)
يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّـكُمْ أَن تُوْمِنُواْ بِاللَّهِ رَبِّكُمْ
...and have driven out the Messenger and yourselves (from your homeland) because you believe in Allah your Lord! (60:1)
and,
وَإِن كَادُواْ لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الاٌّرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا
And verily, they were about to frighten you so much as to drive you out from the land. (17:76)
Allah's statement,
...
وَهُم بَدَوُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ
...
while they did attack you first,
refers to the battle of Badr when the idolators marched to protect their caravan. When they knew that their caravan escaped safely, they still went ahead with their intent to fight Muslims out of arrogance, as we mentioned before.
It was also said that these Ayat refer to the idolators breaking the peace agreement with Muslims and aiding Bani Bakr, their allies, against Khuza`ah, the ally of the Messenger of Allah. This is why the Messenger of Allah marched to Makkah in the year of the victory, thus conquering it, all thanks and praise is due to Allah.
Allah said,
...
أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّوُمِنِينَ
Do you fear them!
Allah has more right that you should fear Him if you are believers.
Allah says here, `Do not fear idolators, but fear Me instead, for I am worthy of being feared by the servants due to My might and punishment. In My Hand lies the matter; whatever I will occurs, and whatever I do not will does not occur.'
Allah next said, while ordering the believers and explaining the wisdom of ordaining Jihad against them, all the while able to destroy their enemies with a command from Him,
قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّوْمِنِينَ
ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ
مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ وعدہ شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا ۔ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کر تے رھے بھڑ بھڑا کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے تاکہ تجھے مکہ شریف سے نکال دیں ۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے بدر کے دن لشکر لے کر نکلے حالانکہ معلوم ہو چکا تھا کہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے لیکن تاہم غرور و فخر سے اللہ کے لشکر کو شکست دینے کے ارادے سے مسلمانوں سے صف آراء ہوگئے جیسے کہ پورا واقع اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے ۔ انہوں نے عہد شکنی کی اور اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر رسول اللہ کے حلیفوں سے جنگ کی ۔ بنو بکر کی خزاعہ کے خلاف مدد کی اس خلاف وعدہ کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لشکر کشی کی ان کی خوب سرکوبی کی اور مکہ فتح کر لیا فالحمدللہ ۔ فرماتا ہے کہ تم ان نجس لوگوں سے خوف کھاتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو تمہارے دل میں بجز اللہ کے کسی کا خوف نہ ہونا چاہیئے وہی اس لائق ہے کہ اس سے ایماندار ڈرتے رہیں دوسری آیت میں ہے ان سے نہ ڈرو صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو میرا غلبہ ، میری سلطنت میری سزاء ، میری قدرت ، میری ملکیت ، بیشک اس قابل ہے کہ ہر وقت ہر دل میری ہیبت سے لزرتا رہے تمام کام میرے ہاتھ میں ہیں جو چاہوں کر سکتا ہوں اور کر گذرتا ہوں ۔ میری منشا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت کا راز بیان ہو رہا ہے کہ اللہ قادر تھا جو عذاب چاہتا ان پر بھیج دیتا لیکن اس کی منشاء یہ ہے کہ تمہارے ہاتھوں انہیں سزا دے ان کی بربادی تم خود کرو تمہارے دل کی خود بھڑاس نکل جائے اور تمہیں راحت و آرام شادمانی و کامرانی حاصل ہو ۔ یہ بات کچھ انہیں کے ساتھ مخصوص نہ تھی بلکہ تمام مومنوں کے لیے بھی ہے ۔ خصوصاً خزاعہ کا قبیلہ جن پر خلاف عہد قریش اپنے حلیفوں میں مل کر چڑھ دوڑے ان کے دل اسی وقت ٹھنڈے ہوں گے ان کے غبار اسی وقت بیٹھیں گے جب مسلمانوں کے ہاتھوں کفار نیچے ہوں ابن عساکر میں ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا غضبناک ہوتیں تو آپ ان کی ناک پکڑ لیتے اور فرماتے اے عویش یہ دعا کرو اللھم رب النبی محمد اغفر ذنبی اذھب غیظ قلبی واجرنی من مضلات الفتن اے اللہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پروردگار میرے گناہ بخش اور میرے دل کا غصہ دور کر اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچالے ۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے توبہ قبول فرما لے ۔ وہ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے خوب آگاہ ہے ۔ اپنے تمام کاموں میں اپنے شرعی احکام میں اپنے تمام حکموں میں حکمت والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے وہ عادل و حاکم ہے ظلم سے پاک ہے ایک ذرے برابر بھلائی برائی ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کا بدلہ دنیا اور آخرت میں دیتا ہے ۔