Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 16

سورة التوبة

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَکُوۡا وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ لَمۡ یَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لَا رَسُوۡلِہٖ وَ لَا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَلِیۡجَۃً ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۶﴾  8

Do you think that you will be left [as you are] while Allah has not yet made evident those among you who strive [for His cause] and do not take other than Allah , His Messenger and the believers as intimates? And Allah is Acquainted with what you do.

کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ اب تک اللہ نے تم میں سے انہیں ممتاز نہیں کیا جو مجاہد ہیں اور جنہوں نے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور مومنوں کے سوا کسی کو ولی دوست نہیں بنایا اللہ خوب خبردار ہے جو تم کر رہے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Among the Wisdom of Jihad is to test the Muslims Allah said, أَمْ حَسِبْتُمْ ... Do you think, O believers that We will leave you untested with matters that make apparent those who have pure, good intent from those who have false intent ... أَن تُتْرَكُواْ ... that you shall be left alone, This is why Allah said next, ... وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّهُ الَّذِينَ جَاهَدُواْ مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُواْ مِن دُونِ اللّهِ وَلاَ رَسُولِهِ وَلاَ الْمُوْمِنِينَ وَلِيجَةً ... while Allah has not yet tested those among you who have striven hard and fought and have not taken Walijah besides Allah and His Messenger, and the believers..., meaning, supporters and confidants. Rather, they are sincere for Allah and His Messenger inwardly and outwardly. Allah also said; الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا امَنَّا وَهُمْ لاَ يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ Alif-Lam-Mim. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested. And We indeed tested those who were before them. And Allah will certainly make known those who are true, and will certainly make known those who are liars... (29:1-3) أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ Do you think that you will enter Paradise before Allah tests those of you who fought (in His cause) and (also) tests those who are patient. (3:142) and, مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُوْمِنِينَ عَلَى مَأ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good. (3:179) In summary, since Allah legislated Jihad for His servants, He explained that the wisdom behind doing so includes testing His servants, distinguishing between those who obey Him and those who disobey Him. ... وَاللّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ Allah is well-acquainted with what you do. Allah, the Exalted, is the All-Knower of what occurred, what will occur, and the true essence of what might occur had He decided it. Therefore, Allah knows everything before it occurs and how it will occur, there is no deity worthy of worship except Him, nor a Lord except Him. Truly, there is none who can avert Allah's judgment and decision.

مسلمان بھی آزمائے جائیں گے یہ ناممکن ہے کہ امتحان بغیر مسلمان بھی چھوڑ دیئے جائیں سچے اور جھوٹے مسلمان کو ظاہر دینا ضروری ہے ولیجہ کے معنی بھیدی اور دخل دینے والے کے ہیں ۔ پس سچے وہ ہیں جو جہاد میں آگے بڑھ کر حصہ لیں اور ظاہر باطن میں اللہ رسول کی خیر خواہی اور حمایت کریں ایک قسم کا بیان دوسری قسم کو ظاہر کر دیتا تھا اس لیے دوسری قسم کے لوگوں کا بیان چھوڑ دیا ۔ ایسی عبارتیں شاعروں کے شعروں میں بھی ہیں ایک جگہ قرآن کریم ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش ہوگی ہی نہیں حالانکہ اگلے مومنوں کی بھی ہم نے آزمائش کی یاد رکھو اللہ سچے جھوٹوں کو ضرور الگ الگ کر دے گا اور آیت میں اسی مضمون کو ( اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ ) 2- البقرة:214 ) کے لفظوں سے بیان فرمایا ہے ۔ اور آیت میں ہے ( مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَي الْغَيْبِ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِھٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۠ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِھٖ ۚ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِيْمٌ ١٧٩؁ ) 3-آل عمران:179 ) اللہ ایسا نہیں کہ تم مومنوں کو تمہاری حالت پر ہی چھوڑ دے اور امتحان کر کے یہ نہ معلوم کر لے کہ خبیث کون ہے اور طیب کون ہے؟ پس جہاد کے مشروع کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہوجاتی ہے گواللہ تعالی ہر چیز سے واقف ہے ۔ جو ہوگا وہ بھی اسے معلوم ہے اور جو نہیں ہوا وہ جب ہوگا ، تب کس طرح ہوگا یہ بھی وہ جانتا ہے چیز کے ہو نے سے پہلے ہی اسے اس کا علم حاصل ہے اور ہر چیز کی ہر حالت سے وہ واقف ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ دنیا پر بھی کھرا کھوٹا سچا جھوٹا ظاہر کر دے اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے سوا کوئی پروردگار ہے نہ اس کی قضا و قدر اور ارادے کو کوئی بدل سکتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

16۔ 1 یعنی بغیر امتحان اور آزمائش کے۔ 16۔ 2 گویا جہاد کے ذریعے امتحان لیا گیا۔ 16۔ 3 وَ لِیْجَۃ، ُ گہرے اور دلی دوست کو کہتے ہیں مسلمانوں کو چونکہ اللہ اور رسول کے دشمنوں سے محبت کرنے اور دوستانہ تعلقات رکھنے سے منع کیا گیا تھا لہذا یہ بھی آزمائش کا ایک ذریعہ تھا، جس سے مخلص مومنوں کو دوسروں سے ممتاز کیا گیا۔ 16۔ 4 مطلب یہ ہے کہ اللہ کو پہلے ہی ہر چیز کا علم ہے۔ لیکن جہاد کی حکمت یہ ہے کہ اس سے مخلص اور غیر مخلص، فرماں بردار اور نافرمان بندے نمایاں ہو کر سامنے آجاتے، جنہیں ہر شخص دیکھ اور پہچان لیتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] کافروں کو دخیل یا ہمراز بنانے کے مہلک نتائج :۔ یہ خطاب ان مسلمانوں کے لیے ہے جو نئے نئے اسلام لائے تھے۔ ورنہ ابتدائی مہاجرین و انصار تو اس معیار پر، جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے، پہلے ہی کئی بار پورے اتر چکے تھے اور اپنے اس امتحان میں کامیاب ہوچکے تھے اس معیار میں بالخصوص دو باتیں بیان فرمائیں ایک اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد، دوسرے صرف اللہ اس کے رسول اور مومنوں سے ہی دلی اور راز داری کی دوستی۔ یعنی کسی مسلمان کے لیے یہ کسی صورت میں جائز نہیں کہ وہ غیر مسلم کو اپنے معاملات میں دخیل اور اپنا ہم راز بنائے۔ غیر مسلم کو اسلامی حکومت کے کسی ذمہ دار منصب پر فائز کرنا، یا کسی غیر مسلم کو کوئی جنگی راز وغیرہ بتلا دینا ایسے خطرناک کام ہیں جن کے نتائج ایک مسلم حکومت یا معاشرہ کے لیے نہایت مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔ لہذا کسی غیر مسلم سے ایسی دوستی گانٹھنے سے ہی سختی سے منع کردیا گیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا : ” وَلِيْجَةً “ ” وَلَجَ یَلِجُ “ (وَعَدَ ) سے ہے جس کا معنی داخل ہونا ہے، یعنی دل کے اندر داخل ہوجانے والا، قلبی دوست اور محبوب، جس کے سامنے آدمی اپنے دلی راز بھی رکھ دے۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ کفار کو کسی صورت دلی دوست نہ بناؤ، فرمایا : (لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا) [ آل عمران : ١١٨ ] ” اپنے سوا کسی کو دلی دوست نہ بناؤ، وہ تمہیں کسی طرح نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے۔ “ احکام جہاد کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جہاد کی ایک حکمت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے کھرے اور کھوٹے اہل ایمان کو الگ الگ کرنا چاہتا ہے اور ان لوگوں کو خالص کرنا چاہتا ہے جن میں جہاد اور صرف مسلمانوں سے دلی دوستی اور راز داری کا وصف پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ چیز لڑائی ہی سے نکھر کر سامنے آتی ہے۔ منافقین بھی بعض اوقات جہاد میں شریک ہوجاتے ہیں، مگر کفار سے دلی دوستی اور راز داری کا تعلق ختم نہیں کرتے، نہ ہی وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے لڑتے ہیں، نیز دیکھیے سورة عنکبوت (١ تا ٣) اور سورة آل عمران (١٧٩) ۔ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے، وہ ظاہر اعمال کے ساتھ دل کا حال بھی جانتا ہے، اس لیے اپنے اعمال درست کرو اور ان کے لیے نیت خالص اللہ کی رضا رکھو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِيْنَ جٰہَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلَا رَسُوْلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَۃً۝ ٠ ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝ ١٦ ۧ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ جهد الجَهْدُ والجُهْد : الطاقة والمشقة، وقیل : الجَهْد بالفتح : المشقة، والجُهْد : الوسع . وقیل : الجهد للإنسان، وقال تعالی: وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] ، وقال تعالی: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، أي : حلفوا واجتهدوا في الحلف أن يأتوا به علی أبلغ ما في وسعهم . والاجتهاد : أخذ النفس ببذل الطاقة وتحمّل المشقة، يقال : جَهَدْتُ رأيي وأَجْهَدْتُهُ : أتعبته بالفکر، والجِهادُ والمجاهدة : استفراغ الوسع في مدافعة العدو، والجِهَاد ثلاثة أضرب : - مجاهدة العدو الظاهر . - ومجاهدة الشیطان . - ومجاهدة النفس . وتدخل ثلاثتها في قوله تعالی: وَجاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ [ الحج/ 78] ، وَجاهِدُوا بِأَمْوالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 41] ، إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ الأنفال/ 72] ، وقال صلّى اللہ عليه وسلم : «جاهدوا أهواء کم کما تجاهدون أعداء کم» والمجاهدة تکون بالید واللسان، قال صلّى اللہ عليه وسلم «جاهدوا الکفار بأيديكم وألسنتکم» ( ج ھ د ) الجھد والجھد کے معنی وسعت و طاقت اور تکلف ومشقت کے ہیں ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ الجھد ( فتح جیم کے معنی مشقت کے ہیں اور الجھد ( ( بضم جیم ) طاقت اور وسعت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ الجھد کا لفظ صرف انسان کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ [ التوبة/ 79] اور جنہیں اپنی محنت ومشقت ( کی کمائی ) کے سوا کچھ میسر نہیں ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] کے معنی یہ ہیں کہ وہ بڑی زور زور سے قسمیں کھاکر کہتے ہیں کے وہ اس میں اپنی انتہائی کوشش صرف کریں گے الاجتھاد ( افتعال ) کے معنی کسی کام پر پوری طاقت صرف کرنے اور اس میں انتہائی مشقت اٹھانے پر طبیعت کو مجبور کرنا کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے میں نے غور ومحکر سے اپنی رائے کو مشقت اور تعب میں ڈالا ۔ الجھاد والمجاھدۃ دشمن کے مقابلہ اور مدافعت میں اپنی انتہائی طاقت اور وسعت خرچ کرنا اور جہا دتین قسم پر ہے ( 1 ) ظاہری دشمن یعنی کفار سے جہاد کرنا ( 2 ) شیطان اور ( 3 ) نفس سے مجاہدہ کرنا اور آیت کریمہ : ۔ وَجاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ [ الحج/ 78] کہ اللہ کی راہ میں پوری طرح جہاد کرو ۔۔۔۔۔ تینوں قسم جہاد پر مشتمل ہے ۔ نیز فرمایا :۔ وَجاهِدُوا بِأَمْوالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 41] کہ خدا کی راہ میں اپنے مال وجان سے جہاد کرو ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ الأنفال/ 72] جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال وجان سے جہاد کرتے رہے ۔ اور حدیث میں ہے (66) کہ جس طرح اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو اسی طرح اسی خواہشات سے بھی جہاد کیا کرو ۔ اور مجاہدہ ہاتھ اور زبان دونوں کے ساتھ ہوتا ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا (67) کہ کفار سے ہاتھ اور زبان دونوں کے ذریعہ جہاد کرو ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ ( ولیجة) ، اسم بمعنی البطانة، وكلّ شيء أدخلته في شيء ولیس منه، وزنه فعلية، ويستعمل بلفظ واحد للمفرد والمثنّى والجمع، وقد يجمع علی ولائج وولج کصحائف وصحف . والوَلِيجَةُ : كلّ ما يتّخذه الإنسان معتمدا عليه، ولیس من أهله، من قولهم : فلان وَلِيجَةٌ في القوم : إذا لحق بهم ولیس منهم، إنسانا کان أو غيره . قال تعالی: وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً [ التوبة/ 16] وذلک مثل قوله : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ورجل خرجة وَلِجَةٌ : كثير الخروج والولُوجِ. الولیجتہ : وہ شخص ہے جو دوسری قوم سے ہو لیکن تم اسے ا پنا معتمد بنالو اور یہ فلان ولیجتہ فی القوم کے محاورہ سے لیا گیا ہے یعنی وہ جو قوم میں داخل ہوجائے اور ان میں سے نہ ہو عام اس سے کہ انسان ہو یا کوئی دوسری چیز قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً [ التوبة/ 16] اور انہوں نے خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا ۔ جیسا کہ مومنین کے متعلق دوسری جگہ فرمایا : ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] اے ایمان والو یہود اور نصاری کو دوست نہ بناؤ ۔ رجل خرجتہ ولجتہ بہت زیادہ اندر اور باہر آنے جانے والا آدمی ۔ خبیر والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، ( خ ب ر ) الخبر کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

راہ حق میں آزمائش شرط لازم ہے قول باری ہے (ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المومنین ولیجۃ۔ کیا تم وگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے ص اس راہ میں) جانفشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دلی دوست نہ بنایا) اس کے معنی یہ ہیں ” کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ ابھی تم نے جہاد نہیں کیا۔ “ اس لئے کہ جب وہ جہاد کریں گے تو اللہ کو ان کی یہ بات معلوم وہ گی۔ علم کے اسم کا اطلاق کر کے اس سے فریضہ جہاد کی ادائیگی مراد لی گئی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰٓ کو ان کے اندر اس فریضہ کی ادائیگی کے وجود کچا علم ہوجائے۔ قول باری (ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المومنین ولیجۃ) مومنین کی پیروی کے لزوم اور انہیں چھوڑ کر کسی اور کی طرف نہ جانے کے حکم کا مقتضی ہے جس طرح تمام مسلمانوں پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی لازم ہے۔ اس سے اجماع کی حجت کی دلیل ملتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے۔ (و من یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدین و شتبع غیر سبیل المومنین تولہ ما تولیٰ مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روشنی کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ) ولیجہ، مدخل یعنی جائے دخول کو کہتے ہیں۔ جب کوئی شخص داخل ہو تو کہا جاتا ہے ” ولج فلان “ (فلاں شخص داخل ہو ! ) گویا اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ” یہ جائز نہیں کہ اس کیلئے مسلمانوں کے مدخل کے سوا اور کوئی جائے دخول ہو۔ “ ایک قول ہے کہ ولیجہ کے معنی دخلیہ اور بطانۃ کے ہیں یعنی ہر چیز کا اندرونی حصہ، بھید اور راز۔ یہ لفظ مداخلت، مخالطت اور موانست کے ہم معنی ہے۔ اگر اس لفظ کے یہ معنی لئے جائیں تو پھر اسے یہ دلالت حاصل ہوگی کہ مسلمانوں کو غیرمسلموں کے ساتھ گھل مل جانے، ان میں جا گھسنے اور دین کے معاملات میں ان سے مدد حاصل کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے جس طرح یہ ارشاد باری ہے (لا تتخذوا بطانۃ من دونکم) اپنے لوگوں کے سوا کسی اور کو اپنا رازدان نہ بنائو)

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦) اے مسلمانوں کی جماعت کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تمہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اور تمہیں جہاد کا حکم نہیں دیا جائے گا حالانکہ ابھی ظاہری طور پر تو اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کرنے والوں کو دیکھا ہی نہیں اور جنہوں نے کافروں کو خصوصیت کا دوست نہ بنایا ہو اور اللہ تعالیٰ جہاد وغیرہ میں نیکی اور برائی ہر ایک چیز کو دیکھنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦ (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْکُمْ ) دوسری قوموں کے خلاف برسر پیکار ہونا اور بات ہے ‘ تمہیں اب اپنی قوم کے خلاف جہاد کرنے کے لیے جانا ہے۔ گویا اس حکم کے اندر نسبتاً سخت امتحان ہے۔ چناچہ اللہ تمہارا یہ امتحان بھی لینا چاہتا ہے۔ (وَلَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلاَ رَسُوْلِہٖ وَلاَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَۃً ط) یہ دنیوی رشتوں کے خوشنما بندھن جب تک ایمان کی تلوار سے کٹیں گے نہیں ‘ اس وقت تک اللہ اور دین کے ساتھ تمہارا خلوص کیسے ثابت ہوگا !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :18 خطاب ہے ان نئے لوگوں سے جو قریب کے زمانہ میں اسلام لائے تھے ۔ ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ جب تک تم اس آزمائش سے گزر کر یہ ثابت نہ کر دو گے کہ واقعی تم خدا اور اس کے دین کو اپنی جان و مال اور اپنے بھائی بندوں سے بڑھ کر عزیز رکھتے ہو ، تم سچے مومن قرار نہیں دیے جا سکتے ۔ اب تک تو ظاہر کے لحاظ سے تمہاری پوزیشن یہ ہے کہ اسلام چونکہ مومنین صادقین اور سابقین اوّلین کی جانفشانیوں سے غالب آگیا اور ملک پر چھا گیا اس لیے تم مسلمان ہوگئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

14: بظاہر اس کا اشارہ ان حضرات کی طرف ہے جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے، اور ابھی تک ان کو کسی جہاد میں شرکت کا موقع نہیں ملا تھا، ورنہ دوسرے صحابہ توفتح مکہ سے پہلے بہت سی جنگوں میں حصہ لے چکے تھے، ان نو مسلموں سے کہا جارہا ہے کہ ان کو بھی جہاد کے لئے تیار رہنا چاہئے اگرچہ اعلان براءت کے بعد کسی بڑی جنگ کی نوبت نہیں آئی ؛ لیکن ان حضرات کو پوری قوت سے تیار رہنے کی تاکید اس لئے کی گئی ہے کہ وہ اپنی رشتہ داریوں کی وجہ سے کہیں اس اعلان براءت کے تمام تقاضوں پر عمل کرنے سے ہچکچانے نہ لگیں، اسی لئے جہاد کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا گیا کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی سے دوستی یا رازداری کا خصوصی تعلق نہ رکھیں، واللہ سبحانہ اعلم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٦۔ اوپر کی آیتوں میں بدعہد لوگوں سے لڑنے کی ترغیب دے کر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانون کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ دین کی لڑائی سے تمہاری آزمائش نہ ہوگی یوں ہی چھوڑ دئے جاؤ گے مطلب یہ ہے کہ جہاد اسی واسطے فرض کیا گیا ہے کہ خدا مسلمانوں کا امتحان لے اور جانچ لے کہ کون اس کے حکم کا مطیع ہے اور کون اس کی نافرمانی کرتا ہے حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو نیک وبد سب کا حال معلوم ہے لیکن اس دنیا عالم اسباب میں ابھی تک ہر ایک مسلمان کے ظاہر و باطن کا پورا پورا حال نہیں کھلا ہے اس جہاد کی غرض یہی ہے کہ اصل حال معلوم ہوجائے کہ کون مشرکوں کی طرف داری کرتا ہے اور کون ان کا پاس نہیں کرتا اس حاصل طلب کو آیت کے آخر میں یوں فرمایا کہ اللہ کو تمہارے کل عملوں کی خبر ہے وہ منافق اور مومن کو خوب جانتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے سزا وجزا کا دارو مدار اپنے علم ازلی پر نہیں رکھا ہے اس لئے اس نے اس جہاد کا حکم دیا ہے تاکہ ہر ایک شخص کے اصلی حال سے لوگوں کو واقفیت ہوجاوے صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) کی حدیث گذر چکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ نیک وبد ہو رہا ہے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) اور ترمذی وغیرہ میں انس بن مالک (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو نیک کاموں کی آڑ سے اور دوزخ کو برے کاموں کی آڑ سے گھیر رکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا نے عالم اسباب میں اللہ تعالیٰ کے نیک کاموں کو جنت میں جانے کا اور برے کاموں کو دوزخ میں جانے کا سبب ٹھہرایا ہے صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ممتحنہ میں حضرت علی (رض) کی حدیث آئے گی کہ مکہ کی چڑھائی کے ارادہ کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے راز کے طور پر مشرکین مکہ سے پوشیدہ رکھا تھا لیکن ایک بدری صحابی حاطب بن ابی بلتعہ نے مشرکین مکہ سے دوستی قائم رکھنے کے لئے ایک خط مشرکین مکہ کے نام لکھا جو راستہ میں پکڑا گیا ان حدیثوں کو میت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے مگر اس نے اپنے علم کے موافق اس دنیا عالم اسباب کے اندر جنت اور دوزخ میں جانے کے جو سبب ٹھہرائے ہیں جب تک ان سببوں کے ظہور کی پوری پوری جانچ نہ ہوجائے تو نیک و بد کا امتحان نہیں ہوسکتا مثلا بدر کی لڑائی نہ ہوتی تو بدری صحابہ نے جو کوشش اس لڑائی میں کی اس کا امتحان نہ ہوسکتا تھا اور نہ وہ کوشش لوگوں کے نزدیک ان کے قطعی جنتی ہونے کا سبب قرار پاسکتی تھی اسی طرح مکہ چڑھائی نہ ہوتی تو حاطب بن ابی بلتعہ نے جو مشرکوں کو طرفداری کی اس کا امتحان کس طرح ہوتا اور ایسے موقعوں پر قرآن شریف کی آیتوں کا نازل کیا جانا جو علم الٰہی میں قرار پا چکا تھا اس کا موقعہ کیونکر پیش آتا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:16) حسبتم۔ تم نے گمان کیا۔ تم نے خیال کیا۔ ماضی بمعنی مضارع ۔ تم گمان کر رہے ہو۔ تم خیال کر رہے ہو۔ حسبان مصدر۔ صیغہ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تترکوا۔ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے۔ ترک سے مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ ان کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔ لما۔ حرف جازم ہے مضارع پر داخل ہوکر اس کو جزم دیتا ہے اور ماضی منفی کے معنی میں کردیتا ہے۔ مثال کے لئے ملاحظہ ہو (2:214 اور 49:14) ۔ لما پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو (2:214) یعلم۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل لما۔ اس نے نہیں جانا۔ اس نے معلوم نہیں کیا۔ لما یعلم اللہ اللہ تعالیٰ نے ابھی تک معلوم نہیں کیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم کسی امر کے وقوع ہونے پر موقوف نہیں وہ ہر اس چیز کا علم رکھتا ہے جو ہوچکی ہے یا ہو رہی ہے یا ہونیوالی ہے خواہ مستقبل قریب میں ہو یا مستقبل بعید میں۔ لہٰذا یہاں اللہ تعالیٰ کے علم سے مراد جاننا نہیں ہے بلکہ جتانا۔ پہچان کروانا دوسروں کے علم میں لانا اور امر معلوم کو ممیز و ممتاز کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابھی تک دوسروں کے سامنے اس امر کو نتھارا ہی نہیں۔ اس کی پہچان ہی نہیں کروائی۔ آیۃ ہذا کا ترجمہ یوں ہوگا۔ کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ تمہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا حالانکہ ابھی تک تم میں سے مجاہدین کو اور اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنین کے سوا کسی دوسرے کو اپنا ولی دوست یا ہمراز نہ بنانے والے اشخاص کی (امتحان لے کر) اس نے پہچان ہی نہیں کرائی۔ ابھی عاشقی کے امتحاں اور بھی ہیں۔ ولیجۃ۔ ولوج بمعنی دخول سے بنایا گیا ہے۔ گہرے دوست۔ اندرونی دوست۔ علامہ قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ :۔ قولیجۃ الرجل من یختص بدخلۃ امرہ دون الناس۔ ولیجہ وہ شخص جسے عامۃ الناس سے ورے اپنے اندرونی راز کے لئے مختص کیا جائے۔ اندرونی دوست یہ واحد اور جمع دونوں کے لئے آتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی انتائی محبوب اور دوست، اس شرط کے ذکر سے مقصد یہ ہے کہ جہاد تو منافق بھی شریک ہوجاتے ہیں مگر یہ جہاد مقبول نہیں ہوتا تا وقتیکہ ظاہر وہ باطن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خیر خواہی نہ ہو۔ ( ابن کثیر)9 مطلب یہ ہے کہ تمہیں یقینا آزمائش کی بھٹی سے گزار کر رہے گا تاکہ پتہ چل جائے کہ تم میں وقعہ کون سچا اور مخلص تھا اور کون جھوٹا اور منا فق اشارہ ہے اس طرف کہ جہاد کی مشرو عیت کی ایک حکمت مومنین ثابت قدمی کو جا نچنا بھی ہے، یہ معنی نہیں ہیں کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا، ( نیز دیکھئے سوہ عنکبوت آیت 1 ۔ 3 و آل عمران آیت 179)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ جس کے ظاہر ہونے کا اچھاذریعہ ایسے موقع کا جہاد ہے جہاں مقابلہ اپنے اعزہ و اقارب سے ہو پورا امتحان ہوجاتا ہے کہ کون اللہ کو چاہتا ہے اور کون برادری کو۔ 5۔ اور مشرکین کے شنائع مذکور تھے چونکہ ان کو اپنے بعض اعمال پر جیسے مسجد حرام کی خدمت اور حجاج کا پانی پلانا وغیرہ افتخار تھا اس لیے آگے مضمون سابق کی تمیم کے لیے ان کے افتخار کا ان چند آیتوں میں جواب دیتے ہیں اور اسی کے ضمن میں مسلمانوں کے ایک اختلافی مسئلہ کا جس میں اس وقت کلام ہوا تھا کہ ایمان کے بعض افضل اعمال عمارت مسجد حرام ہے یا سقایہ حاج یا جہاد آیت اجعلتم الخ۔ میں جواب دیتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں کو سکون اور سینوں کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ یہ بھی آزمانا چاہتا ہے کہ مسلمان کس حد تک کفار کے بارے میں اپنے دلوں میں نفرت رکھتے ہیں۔ دنیا کی زندگی ہر شخص کے لیے آزمائش اور امتحان گاہ کی حیثیت رکھتی ہے بالخصوص جب کوئی شخص حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کئی قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے تاکہ دنیا والوں پر ظاہر کیا جائے کہ اللہ اور اس کے رسول کا کلمہ پڑھنے والا کس حد تک ایمان میں پکا اور اپنے مشن میں سچا ہے جس طرح مسلمان کی انفرادی طور پر آزمائش کی جاتی ہے۔ اسی طرح ہی ان کو اجتماعی آزمائشوں کے ذریعے آزمایا جاتا ہے۔ اجتماعی آزمائشوں میں سب سے بڑی آزمائش اللہ کی رضا کی خاطر اپنے اعزاء و اقرباء سے جنگ کرنا ہے جو کفر اور شرک کی بناء پر اپنے رب کے باغی بن چکے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں پہ آزمائش اس لیے بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی فوج قرار دیتا ہے۔ دنیا کی کونسی فوج ہے جس کے لیے آزمائش کا اہتمام نہ کیا گیا ہو۔ فوج کو پرکھنے اور ایک خاص معیار پر لانے کے لیے لاکھوں، کروڑوں ڈالر اور بیشمار اسلحہ ضائع کرکے آپس میں نقلی جنگیں کروائی جاتی ہیں تاکہ دشمن کے مقابلے میں جنگی تیار یوں کا اندازہ اور فوج کا مورال پرکھا جاسکے۔ مجاہد بھی کفار اور مشرکین کے ساتھ مقابلہ اور مقاتلہ اسی صورت میں کرسکتا ہے۔ جب اس کے دل میں کفار اور مشرکین کے بارے میں کاروباری مفادات، معاشرتی تعلقات اور خونی رشتوں سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اور جان نثاری کا جذبہ پیدا ہوجائے۔ یہاں قتال فی سبیل اللہ کا یہی مقصد بیان کیا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے لیے نازل ہوئی جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور ابھی تک مشرک اعزاء و اقرباء کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے جہاں تک سابقون الاولون مسلمانوں کا تعلق ہے انھوں نے بدرا وراحد میں یہ ثابت کردیا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور ان کی بات پر کسی شخص اور مفاد کو مقدم نہیں سمجھتے اسی لیے ان کی تعریف میں کہا گیا کہ ” جو لوگ اللہ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں آپ انھیں ہرگز نہ پائیں گے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مخالفوں کے ساتھ محبت رکھتے ہوں خواہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے، بھائی اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان راسخ کردیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان کی خصوصی مدد کرتا ہے اور انھیں ایسی جنت میں داخل کیا جائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں اللہ تعالیٰ ان سے ہمیشہ راضی ہوگا اور وہ بھی اپنے رب سے خوش ہوں گے یہ اللہ کی جماعت ہے اور لوگو ! کان کھول کر سنو کہ اللہ کی جماعت ہی کامیاب اور کامران ہونے والی ہے۔ (المجادلۃ، آیت : ٢٢) “ مسائل ١۔ ایمان کے لیے آزمائش شرط ہے۔ ٢۔ مومن وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو سب سے مقدم جانتا ہو۔ ٣۔ کافر اور مشرک کے ساتھ دلی محبت نہیں ہونی چاہیے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل کو جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کن لوگوں سے دلی دوستی کرنا جائز نہیں : ١۔ کافروں سے دوستی نہیں کرنی چاہیے۔ (النساء : ٨٩) ٢۔ مومنوں کے علاوہ کسی کو دوست نہیں بنانا چاہیے۔ (النساء : ١٤٤) ٣۔ یہود و نصاریٰ سے دوستی جائز نہیں۔ (المائدۃ : ٥١) ٤۔ دین کو مذاق کرنے والوں سے دوستی جائز نہیں۔ (المائدۃ : ٥٧) ٥۔ ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والوں سے دوستی جائز نہیں۔ (التوبۃ : ٢٣) ٦۔ اللہ کے دشمنوں سے دوستی نہیں کرنا چاہیے۔ (الممتحنۃ : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا) (الآیۃ) کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے اور تمہارا امتحان نہ ہوگا ؟ ایسا خیال نہ کرو۔ امتحان ضرور ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جان لے گا جنہوں نے جہاد کیا اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین سے سچی محبت کرنے والے عملی طور پر ان لوگوں سے علیحدہ ہو کر ممتاز ہوجائیں گے جنہوں نے جہاد سے جان چھڑائی اور جنہوں نے کافروں اور مشرکوں کو راز داربنایا۔ یہ امتحان والا مضمون دیگر آیات میں بھی ہے۔ سورة نساء میں گزر چکا ہے۔ (مَا کَان اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ) (اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر تم اب ہو جب تک کہ پاک کو ناپاک سے متمیز نہ فرما دے) اور سورة عنکبوت میں فرمایا ہے : (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ) (کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ صرف یوں کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی جانچ نہ کی جائے گی) ۔ آخر میں فرمایا۔ (وَ اللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے باخبر ہے) وہ اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14: یہ زجر ہے۔ خطاب مومنین سے ہے یا منافقوں سے جنہیں قتال کا حکم ناگوار محسوس ہوا۔۔ “ وَلِیْجَةً ” راز دار دوست۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

16 کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم بلا کسی امتحان و آزمائش کے یوں ہی چھوڑ دیئے جائوگے حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو معلوم نہیں کیا اور ان کو بھی ظاہر نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سوا کسی کو اپنا بھیدی اور خصوصی راز دار نہ بنایا ہو اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب کاموں کی پوری پوری خبر ہے۔ یعنی جہاد اور جہاد میں جو باتیں پیش آتی ہیں مثلاً رازداری وغیرہ ان سب باتوں کی آزمائش نہ ہوجائے تو تم کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اس کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔ اگر امتحان میں کمزور ثابت ہوگے تو سزا ملے گی اور اگر کامیاب ثابت ہوگے تو اجر وثواب سے نوازے جائوگے۔