Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 24

سورة التوبة

قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۴﴾  9

Say, [O Muhammad], "If your fathers, your sons, your brothers, your wives, your relatives, wealth which you have obtained, commerce wherein you fear decline, and dwellings with which you are pleased are more beloved to you than Allah and His Messenger and jihad in His cause, then wait until Allah executes His command. And Allah does not guide the defiantly disobedient people."

آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں ، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالٰی اپنا عذاب لے آئے اللہ تعالٰی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ إِن كَانَ ابَاوُكُمْ وَأَبْنَأوُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا ... Say: If your fathers, your sons, your brothers, your wives, your kindred, the wealth that you have gained, (amassed and collected), ... وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا ... the commerce in which you fear a decline, and the dwellings in which you delight, and prefer and love because they are comfortable and good. If all these things, ... أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُواْ ... are dearer to you than Allah and His Messenger, and striving hard and fighting in His cause, then wait... for what will befall you of Allah's punishment and torment, ... حَتَّى يَأْتِيَ اللّهُ بِأَمْرِهِ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ until Allah brings about His decision. And Allah guides not the people who are rebellious. Imam Ahmad recorded that Zuhrah bin Ma`bad said that his grandfather said, "We were with the Messenger of Allah, while he was holding the hand of Umar bin Al-Khattab. Umar said, `By Allah! You, O Messenger of Allah, are dearer to me than everything, except for myself.' The Messenger of Allah said, لاَا يُوْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِه None among you will attain faith until I become dearer to him than even himself. Umar said, `Verily, now, you are dearer to me than myself, by Allah!' The Messenger of Allah said, الاْنَ يَا عُمَر (Now, O `Umar)!" Al-Bukhari also collected this Hadith. Imam Ahmad and Abu Dawud (this is the version of Abu Dawud) recorded that Ibn Umar said, "I heard the Messenger of Allah saying, إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ بِأَذْنَابِ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللهُ عَلَيْكُمْ ذُلاًّ لاَ يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُم If you transact in `Iynah (a type of Riba), follow the tails of cows (tilling the land), become content with agriculture and abandoned Jihad, Allah will send on you disgrace that He will not remove until, you return to your religion."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 اس آیت میں بھی اس مضمون کو بڑے مؤکد انداز میں بیان کیا گیا ہے عشیرۃ اسم جمع ہے، وہ قریب ترین رشتہ دار جن کے ساتھ آدمی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے، یعنی کنبہ قبیلہ، اقتراف، کسب (کمائی) کے معنی کے لئے آتا ہے، تجارت، سودے کی خریدو فروخت کو کہتے ہیں جس کا مقصد نفع کا حصول ہو، کساد، مندے کو کہتے ہیں یعنی سامان فروخت موجود ہو لیکن خریدار نہ ہو یا اس چیز کا وقت گز رچکا ہو، جس کی وجہ سے لوگوں کو ضرورت نہ رہے۔ دونوں صورتیں مندے کی ہیں۔ مساکن سے مراد وہ گھر ہیں جنہیں انسان موسم کے شدائد و حوادث سے بچنے آبرومندانہ طریقے سے رہنے سہنے اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لئے تعمیر کرتا ہے، یہ ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں اور ان کی اہمیت و افادیت بھی ناگزیر اور قلوب انسانی میں ان سب کی محبت بھی طبعی ہے (جو مذموم نہیں) لیکن اگر ان کی محبت اللہ اور رسول کی محبت سے زیادہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں مانع ہوجائے، تو یہ بات اللہ کو سخت ناپسندیدہ اور اس کی ناراضگی کا باعث ہے اور یہ وہ فسق (نافرمانی) ہے جس سے انسان اللہ کی ہدایت سے محروم ہوسکتا ہے۔ جس طرح کہ آخری الفاظ تہدید سے واضح ہے۔ احادیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس مضمون کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے مثلا ایک موقع پر حضرت عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے آُ اپنے نفس کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک میں اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں اس وقت تک وہ مومن نہیں حضرت عمر (رض) نے کہا پس واللہ ! اب آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا " اے عمر ! اب تم مومن ہو (صحیح بخاری) ایک دوسری روایت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں جب تک میں اس کو اس کے والد سے اس کی اولاد سے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ جاؤں (صحیح بخاری کتاب ایمان) ایک اور حدیث میں جہاد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا جب تم بیع عینۃ (کسی کو مدت معینہ کے لییے چیز ادھاردے کر پھر اس سے کم قیمت پر خرید لینا) اختیار کرلو گے اور گایوں کی دمیں پکڑ کر کھیتی باڑی پر راضی وقانع ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط فرمادے گا جس سے تمام وقت تک نہ نکل سکو گے جب تک اپنے دین کی طرف نہیں لوٹو گے (ابو داؤد)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] دنیوی مرغوبات میں پھنس کر جہاد چھوڑنے کی سزا :۔ اس آیت میں جن رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے انسان کو فطری لگاؤ ہوتا ہے اور بعض مسلمانوں کے باپ یا بیٹے یا بیویاں کافر تھیں جنہیں چھوڑ کر ہجرت کرنا مشکل سی بات تھی۔ اسی طرح انسان کو اپنے کمائے ہوئے مال و دولت، اپنے کاروبار سے اور جائیداد سے بھی بہت محبت ہوتی ہے کیونکہ یہ چیزیں اس کے گاڑھے خون پسینے کی کمائی کے نتیجہ میں اسے حاصل ہوتی ہے لہذا انہی چیزوں سے مومنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا ہے کہ آیا وہ ان چیزوں کو چھوڑ کر دین کی خاطر ہجرت اور جہاد کرتے ہیں یا نہیں ؟ چناچہ صحابہ کرام (رض) کی اکثریت اس معیار پر بھی پوری اتری۔ تھوڑے ہی مسلمان ایسے تھے جو انہی فطری کمزوریوں کی وجہ سے مکہ میں یا اطراف و جوانب میں رہ گئے تھے اس آیت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم نے ان کمزوریوں کو دور نہ کیا اور اپنی جانوں اور اموال سے جہاد کرنے میں کوتاہی کی اور رشتہ داروں کی محبت، تن آسانی اور دنیا طلبی کی راہ اختیار کی اور خواہشات نفس میں پھنس کر اللہ کے احکام کی تعمیل نہ کی تو تمہیں حقیقی کامیابی نصیب نہ ہوگی۔ اور حدیث میں ہے کہ جب تم جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جس سے تم کبھی نکل نہ سکو گے۔ (ابن ماجہ۔ کتاب الجہاد، باب التغلیظ فی الجھاد )

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ : یہ اور اس سے پہلی آیت دونوں مسلمانوں کے کسی خاص گروہ یا واقعہ سے متعلق نہیں بلکہ عام اور ہر زمانے کے لیے ہیں، ان میں تمام مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت انھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہونی چاہیے، یہ تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے شمار فرمائی ہیں ہر انسان کو طبعی طور پر محبوب ہوتی ہیں، فرمایا : (زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ) [ آل عمران : ١٤ ] ” لوگوں کے لیے نفسانی خواہشوں کی محبت مزین کی گئی ہے جو عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان لگائے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی ہیں، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔ “ ان چیزوں سے محبت کوئی گناہ بھی نہیں، بلکہ ان سے محبت اور ان کے حقوق کی ادائیگی آدمی کی ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقاضا صرف یہ ہے کہ ان میں سے کسی چیز کی محبت اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور اس کے راستے میں جہاد سے بڑھ کر نہیں ہونی چاہیے۔ پیمانہ اس کا یہ ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ہو اور اسلام کی خاطر جہاد کرتے ہوئے سب کچھ قربان کردینے کی ضرورت ہو اور دوسری طرف ماں باپ اور خویش و اقارب کی محبت ہو اور دنیا کے دوسرے تعلقات یا مفادات و خطرات اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر مصلحت سے بےپروا ہو کر اللہ تعالیٰ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی پیروی کرے اور کوئی دنیوی مفاد یا خطرہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اسے اللہ کا حکم ماننے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے باز رکھ سکے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بھی وقت عذاب آسکتا ہے۔ یہی مضمون ہے جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بار بار واضح فرمایا ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ “ [ بخاری، الإیمان، باب حب الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من الإیمان : ١٥، عن أنس ] عبداللہ بن ہشام (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا رہے تھے اور عمر (رض) کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا۔ عمر (رض) نے کہا : ” آپ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے اپنی جان کے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب تک کہ میں تجھے تیری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ “ عمر (رض) نے عرض کی : ” اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ “ فرمایا : ” اب اے عمر ! (تیرے ایمان کا معاملہ درست ہوا) ۔ “ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ٦٦٣٢ ] حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ : ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تم ” عینہ “ (حیلے کے ساتھ سود کی ایک قسم) کے ساتھ بیع کرو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی پر راضی ہوجاؤ گے اور جہاد ترک کر دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کرے گا جسے ختم نہیں کرے گا، جب تک تم اپنے دین ( جہاد) کی طرف لوٹ نہیں آؤ گے۔ “ [ أبوداوٗد، البیوع، باب فی النہی عن العینۃ : ٣٤٦٢، و صححہ الألبانی ] زمخشری (رض) نے فرمایا کہ یہ آیت بہت سخت ہے، اس سے سخت آپ کوئی آیت نہیں دیکھیں گے۔ یہ انسان کی دینی کمزوری اور یقین کی کمی کی نشان دہی کرتی ہے۔ اپنے دل میں بہت پرہیزگار اور متقی شخص انصاف سے سوچے کہ کیا واقعی اس میں اتنی دینی پختگی ہے کہ اس آیت میں مذکور تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے خلاف ہونے کی بنا پر کسی معاملے میں چھوڑ سکتا ہے، یا کسی کی تھوڑی سی ناراضگی یا دنیا کے معمولی سے مفاد کی بنا پر وہ کش مکش میں پڑجاتا ہے کہ کسے رکھوں اور کسے چھوڑوں ؟ پھر اکثر یہی ہوتا ہے کہ اس کی بیوی، اولاد، دوستوں، معاشرے اور تجارتی مفاد کے تقاضے ہی اللہ کے دین کے تقاضوں پر غالب آتے ہیں۔ (الا ما شاء اللہ)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary This verse of Surah At-Taubah was revealed essentially about people who did not migrate from Makkah at the time migration was made obligatory for them. Their love for family and property had stopped them from carrying out their obligation to migrate. In their case, Allah Almighty asked the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to tell them what ap¬pears in the verse cited above. As for the statement: |"Wait until Allah comes with His command,|" Tafsir authority Mujahid has said that &command& referred to here, means the command to carry out Jihad and conquer Makkah. The sense of the statement is that the time is near when the evil end of those who sacrifice their relationship with Allah and His Messenger for the sake of worldly bonds shall become visible to all. That is the time when Makkah shall stand conquered, those who chose to discard their appointed duty shall face disgrace and their bonds with people and things they fancied shall be of no avail to them. Then, there is the interpretation of the famous Hasan al-Basri (رح) who has said that ` command& at this place means the command of punish¬ment. The sense is that those who sacrificed their spiritual bonds as related to the Hereafter just for the sake of their attachment to what was blandly material and did not migrate as instructed were people who would be seized by the Divine command of punishment fairly soon. Either this punishment would come upon them right here in this mortal world, or they shall have to face the punishment of the Hereafter - which is certain. The purpose at this place is to serve a note of warning against the abandonment of the obligation of migration - but, what has been mentioned here is ` Jihad& and not Hijrah (migration), which is the next step after Hijrah. The hint embedded here is that the real thing has not happened yet. What has come up right now is no more than the initial command to migrate. There are people who did not have the courage to do even that. Ahead of them is the forthcoming command of Jihad following which they would have to surrender all worldly attachments for the sake of love for Allah and His Messenger, even stake their lives for that noble cause. And it is also possible that this may be a place where migration itself has been made to stand for Jihad - because, in reality, that too is nothing but a department of Ji¬had. Finally, by saying: وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (And Allah does not lead the sinning people to the right path) at the end of the verse, it was made amply clear that those who, despite the standing command of migra¬tion, opted for their temporal relationships and kept clinging to their family, relatives, wealth and property, shall soon find out that this conduct of theirs was not going to serve their purpose even in this mor¬tal world. If they were thinking that they would keep basking in the sunshine of family, wealth and property in everlasting peace and tran¬quility, then, they would never realize this dream. Once the command of Jihad comes, these very attractions will turn into burdens too cum¬bersome to go along with - because, Allah Ta` ala does not allow the sinning and the disobedient to achieve their desired objective. Standing Rules of Hijrah (migration) 1. First of all, when Hijrah from Makkah to Madinah was made obligatory, it was not simply a matter of obligation, in fact, it was also a hallmark and a symbol of being a Muslim. Anyone who did not mi¬grate at that time, despite having the ability to do so, was not taken to be a Muslim. This injunction was abrogated after the Conquest of Makkah. 2. After that, the basic injunction which remained operative was: Should there be a land where it is not possible for one to comply with his or her religious obligations, such as praying and fasting in accor¬dance with the injunctions of Allah, migrating from there shall remain a matter of duty (fard) for ever - on condition that one is capable of un-dertaking such migration. This is the first degree of compliance. 3. Compliance in the second degree is that one should leave every such place where sin and disobedience have a dominant role in life. This act remains recommended (mustahabb) forever. (see details in Fath al-Bari) It will be noticed that the address in the verse under study is direct. Those being addressed are people who did not migrate when they were asked to do so because they cared more about their worldly bonds. But, the generality of the words of the verse is telling all Mus¬lims that their love for Allah and His Messenger is obligatory on them in a special degree. That degree is the highest, the foremost. This de¬gree requires that no other bond or love for anything or anyone should ever prevail over it. So, whoever fails to come up with this level of love becomes deserving of punishment from Allah. Let him, then, wait for it. The Touchstone of True Faith (&Iman) Therefore, it has been reported in an authentic Hadith narrated by Sayyidna Anas ibn Malik (رض) which appears in the two collections of al-Bukhari and Muslim that the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: No one can be a true believer until I become to him dearer than his father, children and everyone else in this world. According to a Hadith from Sayyidna Abu Umamah (رض) appearing in Abu Dawud and Tirmidhi, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: Anyone who takes a friend or makes an enemy for the sake of Al¬lah or spends his wealth or withholds it for the sake of Allah has made his faith perfect. These narrations from Hadith prove that perfection of faith depends on the dominance of the love for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) over all other kinds of love, friendship and enmity, concession and res¬ervation - all of which must remain subservient to the will and com¬mand of Allah and His Messenger. Tafsir authority, Qadi al-Baidawi and other commentators have said that there are very few people who could be considered exempt from the warning given in this verse. The reason is that even the greatest among those who practice and teach religious percepts and virtues seem to be subdued by their love for family and belongings - of course, with the exception of those Allah wills to be otherwise. Howev¬er, Qadi al-Baidawi explains further by saying that ` love& here means love that is within one&s control. It has nothing to do with love which one does not control, that which is natural - because Allah Ta` a1a does not obligate anyone beyond one&s capacity and control. Therefore, a person may have his heart full of natural love for worldly bonds but he should not let it overpower him to the limit that he starts acting against the will and command of Allah and His Messenger If so, this warning will not apply to him and he will be taken as one who keeps his love for Allah and His Messenger above everything. This is very much like the case of a patient who gets nervous about an unpleasant medicine or unexpected surgery. This is natural. But, he does agree to it rationally since it is for his own good. If so, it is not blameworthy. Then, commonsense never forces him to get rid of his natural nervous¬ness and dislike. Similarly, if someone feels naturally uncomfortable while complying with some Divine injunctions due to his love for wealth and children, yet bears by the discomfort and carries those in-junctions out, then, that is not blameworthy either. In fact, it is praise-worthy for he would be regarded as one who keeps his love for Allah and His Messenger on top of everything in the light of this verse. Nevertheless, as for the high station of love is concerned, there is no doubt about the ideal that love must come to prevail over one&s na¬ture as well and go on to turn every discomfort welcome while comply¬ing with what your beloved would like you to do. This is not so difficult to comprehend. Think of the seekers of material comfort in this world. Day in and day out, they would embrace the hardest conceivable labor with a smile to get what they want. For a salary check at the end of the month, one would sacrifice sleep, comfort and social relationships. Honestly or dishonestly, such a seeker would let his desire dominate everything else to achieve his goal. Moving away from the seekers of the material, let us consider the charisma of the People of Allah. When they seek Allah and His Mes¬senger and the blessings of the-life-to-come, they too reach a station of love which pales out any thoughts of pain and discomfort. According to a Hadith in al-Bukhari and Muslim, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There are three traits which, if found in a person, would bless him or her with the sweetness of faith. Those three traits are: (1) That Allah and His Messenger are, in his sight, dearer than anything other than them, (2) that one loves a servant of Allah for His sake only, (3) and that the very thought of Kufr and Shirk gives one the feeling of being thrown away into the fire. The ` sweetness of faith& mentioned in the Hadith quoted above means this very station of love that makes the hardest possible labor most welcome for the true seeker. Love has its own chemistry of turn¬ing the sour into the sweet. Some Muslim scholars have pointed out that a heart when enriched with the sweetness of faith starts passing it on to other parts of the body which begin to relish it during acts of worship and obedience. In some reports, the same thing has been equated with the ecstasy of faith - and in Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The delight of my eyes is in Salah. Qadi Thana&ullah of Panipat has said in Tafsir Mazhari: This station of love for Allah and His Messenger is a great blessing - but, it can be acquired only when one stays close to the People of Allah. It is for this reason that Muslim mystics consider it necessary that it be sought with Shaykhs. The author of Ruh al-Bayan has said that this station of friendship can be acquired by the one who is ready to sacrifice, like Sayyidna Ibrahim Khalilullah, (علیہ السلام) everything for the love of Allah - wealth, children, life, everything. Finally, says commentator al-Baidawi: The preservation and pro¬tection of the Sunnah and Shari’ ah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the rebuttal of and the defense against those who oppose or ma¬lign them is also an open sign of love for Allah and His Messenger. رَزَقنَا اللہ تعالیٰ و جمیع المسلمین حُبِّہِ و حُبّ رَسُولِہِ کمَا یُحِب و یَرضَاہ May Allah bless us and bless all Muslims with love for Him and the love for His Messenger.

خلاصہ تفسیر ( آگے اسی مضمون کی زیادہ تفصیل ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ( ان سے) کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہا ری بیبیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن میں ( رہنے) کو تم پسند کرتے ہو ( اگر یہ چیزیں) تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیاری ہوں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم ( سزائے ترک ہجرت کا) بھیج دیں ( جیسا دوسری آیت میں ہے (آیت) ان الذین تو فھم الملئکہ الی قولہ فاولئک ماوھم جھنم) اور اللہ تعالیٰ بےحکمی کرنے والے لوگوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا ( یعنی ان کا مقصود تھا ان چیزوں سے تمتع وہ بہت جلد خلاف ان کی توقع کے موت سے منقطع ہوجاتا ہے ) ۔ معارف و مسائل سورة توبہ کی یہ آیت دراصل ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مکہ سے ہجرت فرض ہونے کے وقت ہجرت نہیں کی، ماں باپ، بھائی، بہن، اولاد اور بیوی اور مال و جائیداد کی محبت نے ان کو فریضہ ہجرت ادا کرنے سے روک دیا، ان کے بارے میں حق تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ : |" اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیبیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دیں، اور اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہونچاتا |" اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دیں “۔ امام تفسیر مجاہد نے فرمایا کہ حکم سے مراد جہاد و قتال اور فتح مکہ کا حکم ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اس وقت دنیاوی تعلقات پر اللہ و رسول کے تعلقات کے قربان کرنے والوں کا انجام بد عنقریب سامنے آنے والا ہے جبکہ مکہ فتح ہوگا اور نافرمانی کرنے والے ذلیل و خوار ہوں گے اور ان کے یہ تعلقات اس وقت ان کے کام نہ آئیں گے۔ اور حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اس جگہ حکم سے مراد حکم عذاب ہے کہ دنیوی تعلقات پر اخروی تعلقات کو قربان کرکے ہجرت نہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا حکم عذاب عنقریب آنے والا ہے یا تو دنیا ہی میں ان پر عذاب آئے گا ورنہ آخرت کا عذاب تو یقینی ہے، آیت میں اس جگہ مقصود تو ترک ہجرت پر وعید ہے مگر ذکر بجائے ہجرت کے جہاد کیا گیا، جو ہجرت کے بعد کا اگلا قدم ہے، اس میں اشارہ کردیا گیا کہ ابھی تو صرف ہجرت اور ترک وطن ہی کا حکم ہوا ہے، اس میں کچھ لوگ ہمت ہار بیٹھے، آگے جہاد کا حکم آنے والا ہے، جس میں اللہ اور رسول کی محبت پر ساری محبتوں کو اور خود اپنی جان کو قربان کرنا پڑتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ ہجرت ہی کو جہاد سے تعبیر کردیا ہو کیونکہ وہ بھی حقیقت میں جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے۔ اور آخر آیت میں (آیت) وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، فرما کر یہ بھی بتلا دیا کہ جو لوگ حکم ہجرت کے باوجود اپنے دنیوی تعلقات کو ترجیح دے کر اپنے خویش و عزیز اور مال و مکان سے چمٹے رہے، ان کا یہ عمل دنیا میں بھی ان کے لئے مفید نہیں ہوگا، اور ان کا یہ مقصد حاصل نہیں ہوگا کہ ہمیشہ اپنے اہل و عیال اور مال و مکان میں امن و چین سے بیٹھیں رہیں، بلکہ حکم جہاد شروع ہوتے ہی یہ سب چیزیں ان کے لئے وبال جان بن جائیں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہونچاتے۔ مسائل متعلقہ ہجرت : اول : جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرض کردی گئی تو وہ صرف ایک فرض ہی نہیں بلکہ مسلمان ہونے کی علامت بھی تھی، جو باوجود قدرت کے ہجرت نہ کرے وہ مسلمان نہ سمجھا جاتا تھا، یہ حکم فتح مکہ کے بعد منسوخ ہوگیا، اور اصل حکم یہ باقی رہ گیا کہ جس زمین پر انسان کو اللہ کے احکام نماز روزہ وغیرہ کی تعمیل ممکن نہ ہو اس سے ہجرت کرنا ہمشیہ کے لئے فرض ہے، بشرطیکہ ہجرت پر قدرت ہو۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ آدمی ہر ایسی جگہ کو چھوڑ دے جہاں فسق و فجور کا غلبہ ہو یہ ہمیشہ کیلئے مستحب ہے ( تفصیل فتح الباری میں ہے ) آیت مذکورہ میں براہ راست تو خطاب ان لوگوں سے ہے جنہوں نے ہجرت فرض ہونے کے وقت دنیوی تعلقات کی محبت سے مغلوب ہو کر ہجرت نہیں کی، لیکن الفاظ آیت کا عموم تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اس درجہ ہونا لازم و واجب ہے کہ دوسرا کوئی تعلق اور کوئی محبت اس پر غالب نہ آئے، اور جس نے اس درجے کی محبت پیدا نہ کی وہ مستحق عذاب ہوگیا، اس کو عذاب الہی کا منتظر رہنا چاہئے۔ سچا ایمان اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ اللہ اور رسول کی محبت ساری دنیا اور خود اپنی جان سے بھی زیادہ ہو : اسی لئے ایک صحیح حدیث میں جو صحیحین میں بروایت انس منقول ہے، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اور اولاد اور دنیا کے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ اور ابوداؤد ترمذی میں بروایت ابو امامہ منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس نے کسی سے دوستی کی تو اللہ کے لئے کی اور دشمنی کی تو وہ بھی اللہ کے لئے کی اور مال کو خرچ کیا تو وہ بھی اللہ کے لئے، اور کسی جگہ خرچ کرنے سے رکا تو وہ بھی اللہ کے لئے، اس نے اپنا ایمان ممکل کرلیا۔ ان روایات حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ ایمان کی تکمیل اس پر موقوف ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت سب محبتوں پر غالب ہو، اور انسان کی دوستی دشمنی، دینا یا نہ دینا سب حکم خدا و رسول کے تابع ہو۔ امام تفسیر قاضی بیضاوی وغیرہ نے فرمایا کہ بہت کم لوگ ہیں جو اس آیت کی وعید سے مستثنیٰ ہوں، کیونکہ عام طور پر بڑے سے بڑے عابد و زاہد اور عالم و متقی بھی اہل و عیال اور مال و متاع کی محبت سے مغلوب نظر آتے ہیں، الا ماشاء اللہ، مگر ساتھ ہی قاضی بیضاوی نے فرمایا کہ محبت سے مراد اس جگہ اختیاری محبت ہے، غیر اختیاری اور طبعی محبت مراد نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی طاقت و اختیار سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، اس لئے اگر کسی شخص کا دل ان دنیوی تعلقات کی طبعی محبت سے لبریز ہو مگر ان سے اتنا مغلوب نہ ہو کہ اللہ و رسول کے احکام کی خلاف ورزی کی پروا نہ کرے، تو وہ بھی اس وعید سے خارج اور اللہ و رسول کی محبت کو غالب رکھنے والا ہے، جیسے کوئی بیمار دوا کی تلخی یا آپریشن کی تکلیف سے طبعاً گھبراتا ہے، مگر عقلا اس کو اپنی نجات و سلامتی کا ذریعہ سمجھ کر اختیار کرتا ہے، تو وہ کسی کے نزدیک قابل ملامت نہیں، اور نہ کوئی عقل سلیم اس کو اس پر مجبور کرتی ہے کہ طبعی اور غیر اختیاری گھبراہٹ اور کراہت کو بھی دل سے نکال دے، اسی طرح اگر کسی کو مال و اولاد وغیرہ کی محبت کے سبب بعض احکام الہیہ کی تعمیل میں غیر اختیاری طور پر تکلیف محسوس ہو، مگر اس کے باوجود وہ اس تکلیف کو برداشت کرکے احکام الہیہ یجا لائے تو وہ بھی قابل ملامت نہیں، بلکہ قابل تحسین ہے اور اللہ و رسول کی محبت کو اس آیت کے مطابق غالب رکھنے والا کہلائے گا۔ ہاں اس میں شبہ نہیں کہ محبت کا اعلے مقام یہی ہے کہ محبت طبیعت پر بھی غالب آجائے اور محبوب کے حکم کی تعمیل کی لذت ہر تلخی و تکلیف کو بھی لذیذ بنادے، جیسا دنیا کی فانی لذت و راحت کے طبلگاروں کو رات دن دیکھا جاتا ہے کہ بڑی سے بڑی محبت و مشقت کو ہنس کھیل کر اختیار کرلیتے ہیں، کسی دفتر کی ملازمت میں مہینہ کے ختم پر ملنے والے چند سکوں کی محبت انسان کی نیند، آرام اور سارے تعلقات پر ایسی غالب آجاتی ہے کہ اس کے پیچھے ہزاروں مشقتوں کو بڑی کوششوں، سفارشوں، اور رشوتوں کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔ رنج و راحت شد چو مطلب شد بزرگ گرد گلہ تو تیائے چشم گرگ اللہ والوں کو یہ مقام اللہ و رسول اور نعمائے آخرت کی محبت میں ایسا ہی حاصل ہوتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی تکلیف تکلیف نظر نہیں آئی، صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تین خصلتیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں پائی جاویں تو اس کو ایمان کی حلاوت حاصل ہوجاتی ہے، وہ تین خصلتیں یہ ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک ان کے ماسوائے ہر چیز سے زیادہ مجوب ہو، دوسرے یہ کہ وہ کسی اللہ کے بندے سے صرف اللہ ہی کے لئے محبت رکھے، تیسرے یہ کہ کفر و شرک اس کو آگ میں ڈالے جانے کے برابر محسوس ہو۔ اس حدیث میں حلاوت ایمان سے مراد محبت کا یہی مقام ہے جو انسان کے لئے ہر مشقت و محنت کو لذیذ بنا دیتا ہے از محبت تلخہا شیریں شود، اسی مقام کے متعلق بعض علماء نے فرمایا ہے واذا حلت الحلاوة قلبا نشطت فی العبادة الاعضاء یعنی جب کسی دل میں حلاوت ایمان پیدا ہوجاتی ہے، تو عبادت و اطاعت میں اس کے اعضاء لذت پانے لگتے ہیں “۔ اسی کو بعض روایات میں بشاشت ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے، اور حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیر مظہری میں فرمایا کہ محبت خدا و رسول کا یہ مقام ایک نعمت کبری ہے، مگر وہ صرف اللہ والوں کی صحبت و معیت ہی سے حاصل ہوتی ہے، اسی لئے صوفیائے کرام اس کو خدمت مشائخ سے حاصل کرنا ضروری قرار دیتے ہیں، صاحب روح البیان نے فرمایا کہ یہ مقام خلت اسی کو حاصل ہوتا ہے جو خلیل اللہ کی طرف اپنے مال، اولاد اور جان کو اللہ کی محبت میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔ خلیل آسادر ملک یقین زن نوائے لا احب الآفلین زن قاضی بیضاوی نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت و شریعت کی حفاظت اور اس میں رخنے ڈالنے والوں کی مدافعت بھی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کا ایک کھلا نشان ہے۔ رزقنا اللہ تعالیٰ و جمیع المسلمین حبہ وحب رسولہ کما یحب ویرضاہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۝ ٠ ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۝ ٢٤ ۧ ( ابْنُ ) أصله : بنو، لقولهم في الجمع : أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة خدمته له أو قيامه بأمره : هو ابنه، نحو : فلان ابن الحرب، وابن السبیل للمسافر، وابن اللیل، وابن العلم، قال الشاعر أولاک بنو خير وشرّ كليهما وفلان ابن بطنه وابن فرجه : إذا کان همّه مصروفا إليهما، وابن يومه : إذا لم يتفكّر في غده . قال تعالی: وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] وقال تعالی: إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] ، إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] ، وجمع ابْن : أَبْنَاء وبَنُون، قال عزّ وجل : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] ، وقال عزّ وجلّ : يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] ، يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ، يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، ويقال في مؤنث ابن : ابْنَة وبِنْت، وقوله تعالی: هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ، وقوله : لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] ، فقد قيل : خاطب بذلک أکابر القوم وعرض عليهم بناته «1» لا أهل قریته كلهم، فإنه محال أن يعرض بنات له قلیلة علی الجمّ الغفیر، وقیل : بل أشار بالبنات إلى نساء أمته، وسماهنّ بنات له لکون کلّ نبيّ بمنزلة الأب لأمته، بل لکونه أكبر وأجل الأبوین لهم كما تقدّم في ذکر الأب، وقوله تعالی: وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] ، هو قولهم عن اللہ : إنّ الملائكة بنات اللہ . الابن ۔ یہ اصل میں بنو ہے کیونکہ اس کی جمع ابناء اور تصغیر بنی آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ۔ يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ ( گویا ) تم کو ذبح کررہاہوں ۔ يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] کہ بیٹا خدا کے ساتھ شریک نہ کرنا ۔ يا بنيّ لا تعبد الشیطانبیٹا شیطان کی عبادت نہ کرنا ۔ اور بیٹا بھی چونکہ اپنے باپ کی عمارت ہوتا ہے اس لئے اسے ابن کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ باپ کو اللہ تعالٰٰ نے اس کا بانی بنایا ہے اور بیٹے کی تکلیف میں باپ بمنزلہ معمار کے ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو دوسرے کے سبب اس کی تربیت دیکھ بھال اور نگرانی سے حاصل ہو اسے اس کا ابن کہا جاتا ہے ۔ نیز جسے کسی چیز سے لگاؤ ہوا است بھی اس کا بن کہا جاتا جسے : فلان ابن حرب ۔ فلان جنگ جو ہے ۔ ابن السبیل مسافر ابن اللیل چور ۔ ابن العلم پروردگار وہ علم ۔ شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) یہ لوگ خیر وزر یعنی ہر حالت میں اچھے ہیں ۔ فلان ابن بطنہ پیٹ پرست فلان ابن فرجہ شہوت پرست ۔ ابن یومہ جو کل کی فکر نہ کرے ۔ قرآن میں ہے : وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] اور یہود کہتے ہیں کہ عزیز خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے میں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں ۔ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے ۔ إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] کہ اب آپکے صاحبزادے نے ( وہاں جاکر ) چوری کی ۔ ابن کی جمع ابناء اور بنون آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا ۔ يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ( 3 ) اے نبی آدم ہر نماز کے وقت اپنے تیئں مزین کیا کرو ۔ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے نبی آدم ( دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکانہ دے ۔ اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع بنات آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ( جو ) میری ) قوم کی ) لڑکیاں ہیں تمہارے لئے جائز اور ) پاک ہیں ۔ لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] تمہاری ۃ قوم کی ) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اکابر قوم خطاب کیا تھا اور ان کے سامنے اپنی بیٹیاں پیش کی تھیں ۔ مگر یہ ناممکن سی بات ہے کیونکہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ اپنی چند لڑکیاں مجمع کثیر کے سامنے پیش کرے اور بعض نے کہا ہے کہ بنات سے ان کی قوم کی عورتیں مراد ہیں اور ان کو بناتی اس لئے کہا ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے بلکہ والدین سے بھی اس کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے جیسا کہ اب کی تشریح میں گزر چکا ہے اور آیت کریمہ : وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] اور یہ لوگ خدا کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں ۔ کے مونی یہ ہیں کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتی ہیں ۔ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، أي : أقرانهم المقتدین بهم في أفعالهم، وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] ، أي : أشباها وأقرانا . وقوله : سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] ، وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فتنبيه أنّ الأشياء کلّها مركّبة من جو هر وعرض، ومادّة وصورة، وأن لا شيء يتعرّى من تركيب يقتضي كونه مصنوعا، وأنه لا بدّ له من صانع تنبيها أنه تعالیٰ هو الفرد، وقوله : خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فبيّن أنّ كلّ ما في العالم زوج من حيث إنّ له ضدّا، أو مثلا ما، أو تركيبا مّا، بل لا ينفكّ بوجه من تركيب، وإنما ذکر هاهنا زوجین تنبيها أنّ الشیء۔ وإن لم يكن له ضدّ ، ولا مثل۔ فإنه لا ينفكّ من تركيب جو هر وعرض، وذلک زوجان، وقوله : أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] ، أي : أنواعا متشابهة، وکذلک قوله : مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143] ، أي : أصناف . وقوله : وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] ، أي : قرناء ثلاثا، وهم الذین فسّرهم بما بعد وقوله : وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] ، فقد قيل : معناه : قرن کلّ شيعة بمن شایعهم في الجنّة والنار، نحو : احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، وقیل : قرنت الأرواح بأجسادها حسبما نبّه عليه قوله في أحد التّفسیرین : يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] ، أي : صاحبک . وقیل : قرنت النّفوس بأعمالها حسبما نبّه قوله : يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] ، وقوله : وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] ، أي : قرنّاهم بهنّ ، ولم يجئ في القرآن زوّجناهم حورا، كما يقال زوّجته امرأة، تنبيها أن ذلک لا يكون علی حسب المتعارف فيما بيننا من المناکحة . ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نر اور مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علاوہ دوسری اشیاء میں جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مماثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى [ القیامة/ 39] اور ( آخر کار ) اس کی دو قسمیں کیں ( یعنی ) مرد اور عورت ۔ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] اور تیری بی بی جنت میں رہو ۔ اور بیوی کو زوجۃ ( تا کے ساتھ ) کہنا عامی لغت ہے اس کی جمع زوجات آتی ہے شاعر نے کہا ہے فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتیتو میری بیوی اور بیٹیاں غم سے رونے لگیں ۔ اور زوج کی جمع ازواج آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] وہ اور ان کے جوڑے اور آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] جو لوگ ( دنیا میں ) نا فرمانیاں کرتے رہے ہیں ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ( ایک جگہ ) اکٹھا کرو ۔ میں ازواج سے ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جو فعل میں ان کی اقتدا کیا کرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] اس کی طرف جو مختلف قسم کے لوگوں کو ہم نے ( دنیاوی سامان ) دے رکھے ہیں ۔ اشباہ و اقران یعنی ایک دوسرے سے ملتے جلتے لوگ مراد ہیں اور آیت : ۔ سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] پاک ہے وہ ذات جس نے ( ہر قسم کی ) چیزیں پیدا کیں ۔ نیز : ۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] اور تمام چیزیں ہم نے دو قسم کی بنائیں ۔ میں اس بات پر تنبیہ کی ہے ۔ کہ تمام چیزیں جوہر ہوں یا عرض مادہ و صورت سے مرکب ہیں اور ہر چیز اپنی ہیئت ترکیبی کے لحا ظ سے بتا رہی ہے کہ اسے کسی نے بنایا ہے اور اس کے لئے صائع ( بنانے والا ) کا ہونا ضروری ہے نیز تنبیہ کی ہے کہ ذات باری تعالیٰ ہی فرد مطلق ہے اور اس ( خلقنا زوجین ) لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ روئے عالم کی تمام چیزیں زوج ہیں اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک چیز کی ہم مثل یا مقابل پائی جاتی ہے یا یہ کہ اس میں ترکیب پائی جاتی ہے بلکہ نفس ترکیب سے تو کوئی چیز بھی منفک نہیں ہے ۔ پھر ہر چیز کو زوجین کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اگر کسی چیز کی ضد یا مثل نہیں ہے تو وہ کم از کم جوہر اور عرض سے ضرور مرکب ہے لہذا ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر زوجین ہے ۔ اور آیت أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] طرح طرح کی مختلف روئیدگیاں ۔ میں ازواج سے مختلف انواع مراد ہیں جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں اور یہی معنی آیت : ۔ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ہر قسم کی عمدہ چیزیں ( اگائیں ) اور آیت کریمہ : ۔ ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143]( نر اور مادہ ) آٹھ قسم کے پیدا کئے ہیں ۔ میں مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] میں ازواج کے معنی ہیں قرناء یعنی امثال ونظائر یعنی تم تین گروہ ہو جو ایک دوسرے کے قرین ہو چناچہ اس کے بعد اصحاب المیمنۃ سے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] اور جب لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے ۔ میں بعض نے زوجت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ہر پیروکار کو اس پیشوا کے ساتھ جنت یا دوزخ میں اکٹھا کردیا جائیگا ۔ جیسا کہ آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] میں مذکور ہوچکا ہے اور بعض نے آیت کے معنی یہ کئے ہیں کہ اس روز روحوں کو ان کے جسموں کے ساتھ ملا دیا جائیگا جیسا کہ آیت يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] اے اطمینان پانے والی جان اپنے رب کی طرف لوٹ آ ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ میں بعض نے ربک کے معنی صاحبک یعنی بدن ہی کئے ہیں اور بعض کے نزدیک زوجت سے مراد یہ ہے کہ نفوس کو ان کے اعمال کے ساتھ جمع کردیا جائیگا جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] جب کہ ہر شخص اپنے اچھے اور برے عملوں کو اپنے سامنے حاضر اور موجود پائیگا ۔ میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] اور ہم انہیں حورعین کا ساتھی بنا دیں گے ۔ میں زوجنا کے معنی باہم ساتھی اور رفیق اور رفیق بنا دینا ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جہاں بھی حور کے ساتھ اس فعل ( زوجنا ) کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے بعد باء لائی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حوروں کے ساتھ محض رفاقت ہوگی جنسی میل جول اور ازواجی تعلقات نہیں ہوں گے کیونکہ اگر یہ مفہوم مراد ہوتا تو قرآن بحور کی بجائے زوجناھم حورا کہتا جیسا کہ زوجتہ امرءۃ کا محاورہ ہے یعنی میں نے اس عورت سے اس کا نکاح کردیا ۔ عَشِيرَةُ : أهل الرجل الذین يتكثّر بهم . أي : يصيرون له بمنزلة العدد الکامل، وذلک أنّ العَشَرَةَ هو العدد الکامل . قال تعالی: وَأَزْواجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ [ التوبة/ 24] ، فصار العَشِيرَةُ اسما لكلّ جماعة من أقارب الرجل الذین يتكثّر بهم . وَعاشَرْتُهُ : صرت له كَعَشَرَةٍ في المصاهرة، وَعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ [ النساء/ 19] . والعَشِيرُ : المُعَاشِرُ قریبا کان أو معارف . العشیرۃ انسان کے باپ کی طرف سی قریبی رشتہ دار پر مشتمل جماعت کیونکہ ان سے انسان کژرت عدد حاصل کرتا ہے گویا وہ اس کے لئے بمنزلہ عدد کامل کے ہیں کیونکہ عشرۃ کا عدد ہی کامل ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَزْواجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ [ التوبة/ 24] اور عورتیں اور خاندان کے آدمی ۔ لہذا عشیرۃ انسان کے رشتہ دروں کی اس جماعت کا نام ہے جن سے انسنا کثرت ( قوت ) حاصل کرتا ہے عاشرتہ کے معنی ہیں کہ میں رشتہ داماد ی میں اس کے لئے بمنزلہ عشرۃ کے ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ [ النساء/ 19] اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہو سہو ۔ العشر مل جل کر رہنے والا خواہ رشتہ دار ہو یا اجنبی ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ قرف أصل القَرْفِ والِاقْتِرَافِ : قشر اللّحاء عن الشّجر، والجلدة عن الجرح، وما يؤخذ منه : قِرْفٌ ، واستعیر الِاقْتِرَافُ للاکتساب حسنا کان أو سوءا . قال تعالی: سَيُجْزَوْنَ بِما کانُوا يَقْتَرِفُونَ [ الأنعام/ 120] ، وَلِيَقْتَرِفُوا ما هُمْ مُقْتَرِفُونَ [ الأنعام/ 113] وَأَمْوالٌ اقْتَرَفْتُمُوها [ التوبة/ 24] . والِاقْتِرَافُ في الإساءة أكثر استعمالا، ولهذا يقال : الاعتراف يزيل الاقتراف، وقَرَفْتُ فلانا بکذا : إذا عبته به أو اتّهمته، وقد حمل علی ذلک قوله : وَلِيَقْتَرِفُوا ما هُمْ مُقْتَرِفُونَ [ الأنعام/ 113] ، وفلان قَرَفَنِي، ورجل مُقْرِفٌ: هجين، وقَارَفَ فلان أمرا : إذا تعاطی ما يعاب به . ( ق ر ف ) القعف والا اقترا ف کے اصل معنی در کت سے چھال اتار نے اور زخم سے چھلکا کرید نے کے ہیں اور جو چھال یا چھلکا اتارا جاتا ہے اسے قرف کہا جاتا ہے اور بطور استعار ہ اقراف ( افتعال کمات کے معنی میں استعمال ہوتا ہے خواہ وہسب اچھا ہو یا برا جیسے فرمایا : ۔ سَيُجْزَوْنَ بِما کانُوا يَقْتَرِفُونَ [ الأنعام/ 120] وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے ۔ وَلِيَقْتَرِفُوا ما هُمْ مُقْتَرِفُونَ [ الأنعام/ 113] اور جو کام وہ کرتے تھے وہی کرنے لگیں ۔ وَأَمْوالٌ اقْتَرَفْتُمُوها[ التوبة/ 24] اور مال جو تم کماتے ہو ۔ لیکن اس کا بیشتر استعمال برے کام کرنے پر ہوتا ہے اسی بنا پر محاورہ ہے الا اعتراف یز یل الا قترا ف کہ اعتراف جرم جر م کو مٹا دیتا ہے میں نے فلاں پر تہمت لگائی اور آیت کریمہ : وَلِيَقْتَرِفُوا ما هُمْ مُقْتَرِفُونَ [ الأنعام/ 113] کو بھی بعض نے اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ فلان قرفنی فلاں نے مجھ پر تہمت لگائی ۔ رجل مقرف دو غلا آدمی قارف فلان امرا اس نے برے کام کا ارتکاب کیا ۔ تجر التِّجَارَة : التصرّف في رأس المال طلبا للربح، يقال : تَجَرَ يَتْجُرُ ، وتَاجِر وتَجْر، کصاحب وصحب، قال : ولیس في کلامهم تاء بعدها جيم غير هذا اللفظ «1» ، فأمّا تجاه فأصله وجاه، وتجوب التاء للمضارعة، وقوله تعالی: هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلى تِجارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذابٍ أَلِيمٍ [ الصف/ 10] ، فقد فسّر هذه التجارة بقوله : تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ «2» [ الصف/ 11] ، إلى آخر الآية . وقال : اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدى فَما رَبِحَتْ تِجارَتُهُمْ [ البقرة/ 16] ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجارَةً عَنْ تَراضٍ مِنْكُمْ [ النساء/ 29] ، تِجارَةً حاضِرَةً تُدِيرُونَها بَيْنَكُمْ [ البقرة/ 282] . قال ابن الأعرابي «3» : فلان تاجر بکذا، أي : حاذق به، عارف الوجه المکتسب منه . ( ت ج ر ) تجر ( ن ) تجرا وتجارۃ کے معنی نفع کمانے کے لئے المال کو کاروبار میں لگانے کے ہیں ۔ صیغہ صفت تاجر وتجور جیسے صاحب وصحت یاد رہے ۔ کہ عربی زبان میں اس کے سو ا اور کوئی لفظ ایسا نہیں ہے ۔ جس تاء ( اصل ) کے بعد جیم ہو ۔ رہا تجاۃ تو اصل میں وجاہ ہے اور تجوب وغیرہ میں تاء اصلی نہیں ہے بلکہ نحل مضارع کی ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلى تِجارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذابٍ أَلِيمٍ [ الصف/ 10] میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو عذاب الیم سے مخلص دے ۔ میں لفظ تجارہ کی تفسیر خود قرآن نے بعد کی آیت ؛ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ «2» [ الصف/ 11] آلایہ میں بیان فرمادی ہے ۔ نیز فرمایا ؛ اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدى فَما رَبِحَتْ تِجارَتُهُمْ [ البقرة/ 16] ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی تو نہ ان کی تجارت ہی نہیں کچھ نفع دیا ۔ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجارَةً عَنْ تَراضٍ مِنْكُمْ [ النساء/ 29] ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کالین دین ہو ( اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہوجائے تو وہ جائز ہے ) تِجارَةً حاضِرَةً تُدِيرُونَها بَيْنَكُمْ [ البقرة/ 282] سود ا وست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو ۔ ابن لاعرابی کہتے ہیں کہ فلان تاجر بکذا کے معنی ہیں کہ فلاں اس چیز میں ماہر ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا جانتا ہے ۔ (کساد) مصدر سماعيّ لفعل کسد يكسد باب نصر وباب کرم، وزنه فعال بفتح الفاء، وثمّة مصدر آخر هو کسود بضمّ الکاف سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، وقال تعالی: وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] ، ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] ، فمن الأوّل يقال : سکنته، ومن الثاني يقال : أَسْكَنْتُهُ نحو قوله تعالی: رَبَّنا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي [إبراهيم/ 37] ، وقال تعالی: أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ [ الطلاق/ 6] ( س ک ن ) السکون ( ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ اور فرمایا : ۔ وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے ۔ ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] تاکہ اس میں آرام کرو ۔ تو پہلے معنی یعنی سکون سے ( فعل متعدی ) سکنتہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی کو تسکین دینے یا ساکن کرنے کے ہیں اور اگر معنی سکونت مراد ہو تو اسکنتہ کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَبَّنا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي [إبراهيم/ 37] اے پروردگار میں نے اپنی اولاد لا بسائی ہے أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ [ الطلاق/ 6] 25 ) ( مطلقہ ) عورتوں کو ( ایام عدت میں ) اپنے مقدرو کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو ۔ رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقال عزّ وجلّ : وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] ، والرِّضْوَانُ : الرّضا الکثير، ولمّا کان أعظم الرِّضَا رضا اللہ تعالیٰ خصّ لفظ الرّضوان في القرآن بما کان من اللہ تعالی: قال عزّ وجلّ : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] ، وقال تعالی: يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] ، وقال : يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ، وقوله تعالی: إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، أي : أظهر كلّ واحد منهم الرّضا بصاحبه ورَضِيَهُ. ( ر ض و ) رضی ( س ) رضا فھو مرضی و مرضو ۔ راضی ہونا ۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ قضائے الہیٰ سے اس پر وارد ہو وہ اسے خوشی سے بر داشت کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے اپنے اوامر کا بجا لانے والا اور منہیات سے رکنے والا پائے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] تو اللہ تعالیٰ ضرور ان مسلمانوں سے خوش ہوتا ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] اور ہم نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا : ۔ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] کیا آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر قناعت کر بیٹھے ہو ۔ يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] اپنی زبانی باتوں سے تو تم کو رضا مند کردیتے ہیں اور ان کے دل ہیں کہ ان باتوں سے انکار کرتے ہیں ۔ وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ ( بھی ) تم ان کو دوگے وہ ( لے کر سب ) راضی ہوجائیں گی ۔ الرضوان رضائے کثیر یعنی نہایت خوشنودی کو کہتے ہیں ۔ چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اس لئے قرآن پاک میں خاص کر رضا الہی ٰ کے لئے رضوان کا لفظ استعما ل ہوا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] اور ( لذت ) دنیا کا چھوڑ بیٹھنا جس کو انہوں نے از خود ایجاد کیا تھا ہم نے وہ طریق ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر ( ہاں ) انہوں نے اس کو خدا ( ہی ) کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایجاد کیا تھا ۔ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] اور خدا کے فضل اور خوشنودی کی طلب گاری میں لگے رہتے ہیں ۔ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضامندی کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔۔ : إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، جب جائز طور پر آپس میں وہ راضی ہوجائیں ۔ میں تراضوا باب تفاعل سے ہے جس کے معنی باہم اظہار رضامندی کے ہیں ، حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس ربص التّربّص : الانتظار بالشیء، سلعة کانت يقصد بها غلاء، أو رخصا، أو أمرا ينتظر زواله أو حصوله، يقال : تربّصت لکذا، ولي رُبْصَةٌ بکذا، وتَرَبُّصٌ ، قال تعالی: وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] ( ر ب ص ) التربص کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ خواہ وہ انتظار سامان تجارت کی گرانی یا ارزانی کا ہو یا کسی امر وا قع ہونے یا زائل ہونیکا انتظار ہو ۔ کسی چیز کا انتظار کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ [ البقرة/ 228] عورتوں کو چاہئے کہ انتظار کریں أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] فسق فَسَقَ فلان : خرج عن حجر الشّرع، وذلک من قولهم : فَسَقَ الرُّطَبُ ، إذا خرج عن قشره وهو أعمّ من الکفر . والفِسْقُ يقع بالقلیل من الذّنوب وبالکثير، لکن تعورف فيما کان کثيرا، وأكثر ما يقال الفَاسِقُ لمن التزم حکم الشّرع وأقرّ به، ( ف س ق ) فسق فسق فلان کے معنی کسی شخص کے دائر ہ شریعت سے نکل جانے کے ہیں یہ فسق الرطب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گدری کھجور کے اپنے چھلکے سے باہر نکل آنا کے ہیں ( شرعا فسق کا مفہوم کفر سے اعم ہے کیونکہ فسق کا لفظ چھوٹے اور بڑے ہر قسم کے گناہ کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اگر چہ عرف میں بڑے گناہوں کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اور عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کر نیکے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔ أَوْلَى ويقال : فلان أَوْلَى بکذا . أي أحری، قال تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ [ الأحزاب/ 6] ، إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ [ آل عمران/ 68] ، فَاللَّهُ أَوْلى بِهِما [ النساء/ 135] ، وَأُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ [ الأنفال/ 75] وقیل : أَوْلى لَكَ فَأَوْلى[ القیامة/ 34] من هذا، معناه : العقاب أَوْلَى لک وبك، وقیل : هذا فعل المتعدّي بمعنی القرب، وقیل : معناه انزجر . ويقال : وَلِيَ الشیءُ الشیءَ ، وأَوْلَيْتُ الشیءَ شيئا آخرَ أي : جعلته يَلِيهِ ، والوَلَاءُ في العتق : هو ما يورث به، و «نهي عن بيع الوَلَاءِ وعن هبته» »، والمُوَالاةُ بين الشيئين : المتابعة . ۔ فلان اولیٰ بکذا فلاں اس کا زیادہ حق دار ہے قرآن میں ہے : ۔ النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ [ الأحزاب/ 6] پیغمبروں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ [ آل عمران/ 68] ابراہیم (علیہ السلام) سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں ۔ فَاللَّهُ أَوْلى بِهِما [ النساء/ 135] تو خدا انکا خیر خواہی وَأُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ [ الأنفال/ 75] اور رشتہ دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ آیت : ۔ أَوْلى لَكَ فَأَوْلى[ القیامة/ 34] افسوس تم پر پھر افسوس ہے ۔ میں بھی اولٰی اسی محاورہ سے ماخوذ ہے اور اولیٰ لک وبک دونوں طرح بولا جاتا ہے ۔ اور معنی یہ ہیں کہ عذاب تیرے لئے اولی ہے یعنی تو عذاب کا زیادہ سزا وار ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے فعل متعدی بمعنی قرب کے ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اولیٰ بمعنی انزجر سے یعنی اب بھی باز آجا ۔ ولی الشئیء دوسری چیز کا پہلی چیز کے بعد بلا فصل ہونا ۔ اولیت الشئیء الشئیء دوسری چیز کو پہلی چیز کے ساتھ ملا نا ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٤) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے فرما دیجیے کہ تمہارے یہ رشتہ دار اور تمہاری وہ قوم جو مکہ مکرمہ میں ہے اور وہ مال جو تم نے کمائے ہو اگر یہ تمام چیزیں تمہیں اطاعت الہی اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیاری ہوں تو عذاب الہی یعنی فتح مکہ کے دن قتل ہونے کا انتظار کرو اور پھر اسکے بعد ہجرت کرتے پھرو اور اللہ تعالیٰ ان کافروں کو جو اس کے دین کے اہل نہیں ہوتے اپنے دین تک نہیں پہنچاتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤ (قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ ط) (وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ) یہاں آٹھ چیزیں گنوا دی گئی ہیں کہ اگر ان آٹھ چیزوں کی محبتوں میں سے کسی ایک یا سب محبتوں کا جذبہ اللہ ‘ اس کے رسول اور اس کے رستے میں جہاد کی محبتوں کے جذبے کے مقابلے میں زیادہ ہے تو پھر اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو۔ یہ بہت سخت اور رونگٹے کھڑے کردینے والا لہجہ اور انداز ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے باطن میں ایک ترازو نصب کرے۔ اس کے ایک پلڑے میں یہ آٹھ محبتیں ڈالے اور دوسرے میں اللہ ‘ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جہاد کی تین محبتیں ڈالے اور پھر اپنا جائزہ لے کہ میں کہاں کھڑا ہوں ! چونکہ انسان خود اپنے نفس سے خوب واقف ہے (بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ) ( القیامہ) اس لیے اسے اپنے باطن کی صحیح صورت حال معلوم ہوجائے گی۔ بہر حال اس سلسلے میں ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تو اس کی ساری خواہشیں ‘ محبتیں اور حقوق (بیوی ‘ اولاد ‘ نفس وغیرہ کے حقوق) ان تین محبتوں کے تابع ہیں تو اس کے معاملات ایمان درست ہیں ‘ لیکن اگر مذکورہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک بھی چیز کی محبت کا گراف اوپر چلا گیا تو بس یوں سمجھیں کہ وہاں توحید ختم ہے اور شرک شروع ! اسی فلسفہ کو علامہ اقبال ؔ نے اپنے اس شعر میں اس طرح پیش کیا ہے : یہ مال و دولت دنیا ‘ یہ رشتہ و پیوند بتان وہم و گماں ‘ لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہ ! آیت زیر نظر میں جو آٹھ چیزیں گنوائی گئی ہیں ان میں پہلی پانچ رشتہ وپیوند کے زمرے میں آتی ہیں جب کہ آخری تین مال و دولت دنیا کی مختلف شکلیں ہیں۔ علامہ اقبال ؔ فرماتے ہیں کہ ان چیزوں کی اصل میں کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ یہ ہمارے وہم اور توہم کے بنائے ہوئے بت ہیں۔ جب تک لَا اِلَہ الاَّ اللّٰہ کی شمشیر سے ان بتوں کو توڑا نہیں جائے گا ‘ بندۂ مومن کے نہاں خانۂ دل میں توحید کا علم بلند نہیں ہوگا۔ دوسرے اور تیسرے رکوع پر مشتمل وہ خطبہ جو رمضان ٨ ہجری سے قبل نازل ہوا تھا یہاں ختم ہوا۔ اب چوتھے رکوع کے آغاز سے سلسلۂ کلام پھر سے سورت کی ابتدائی چھ آیات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :22 یعنی تمہیں ہٹا کر سچی دینداری کی نعمت اور اس کی علمبرداری کا شرف اور رشد و ہدایت کی پیشوائی کا منصب کسی اور گروہ کو عطا کر دے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

18: فیصلے سے مراد سزا کا فیصلہ ہے اس آیت نے واضح فرمادیا ہے کہ ماں باپ، بھائی بہن، بیوی، بچے، مال ودولت، گھر، جائیداد، تجارت اور کاروبار، ہر چیز اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ؛ لیکن اسی وقت جب وہ اللہ تعالیٰ کے احکام بجالانے میں رکاوٹ نہ بنے، اگر رکاوٹ بن جائے تو یہی چیزیں انسان کے لئے عذاب بن جاتی ہیں، اعاذنا اللہ منہ۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٤۔ اللہ پاک نے اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم فرمایا کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم ایمان لانے کے بعد قرابت داروں ترقی مال وتجارت اور اچھے اچھے مکانوں کے آباد رکھنے کی الفت میں ایسے گرفتار رہو گے کہ ان چیزوں سے زیادہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کو عزیز نہ جانو گے تو ایسی حالت میں تمہارا ایمان پورا انہیں ہوسکتا اور اگر انہی چیزوں کی محبت میں پڑے رہو گے تو پھر خدا کے عذاب کے منتظر رہو مسند امام احمد اور بخاری میں عبداللہ بن ہشام (رض) کی ایک روایت ہے کہ ایک روز ہم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور آپ حضرت عمر (رض) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے حضرت عمر (رض) نے کہا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ دنیا میں ہر شے سے مجھے زیادہ عزیز ہیں مگر جان سے زیادہ عزیز نہیں ہیں آپ نے فرمایا کوئی کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ مجبوب نہ سمجھے یہ سن کر حضرت عمر (رض) نے کہا کہ اب آپ جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں اکثر حدیثیں اس مضمون کی ہیں کہ جب تک حضرت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی اپنے باپ بھائی بال بچے مال و دولت اور اپنی جان سے زیادہ عزیز نہ رکھے گا تو وہ ایمان میں کامل نہیں ہوسکتا پھر اللہ پاک نے آیت کو اس پر ختم کیا کہ جو لوگ خدا کے حکم کی تعمیل اور اس کے امر و نہی کی بجا آوری سے باہر ہیں ان کو اللہ پاک ہدایت کا راستہ نہیں دیکھاتا سورة آل عمران میں گذر چکا ہے کہ اللہ کی محبت اس کے احکام کے ماننے سے ظاہر ہوتی ہے اور وہ احکام بغیر وسیلہ رسول کے معلوم نہیں ہوسکتے ہیں لئے اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کو دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ عزیز جاننا یہی اللہ کے حکم پر ایمان لانا ہے اور اسی کو محبت الٰہی کہتے ہیں عبداللہ بن ہشام (رض) کی حدیث جو اوپر گذری اس کا مطلب یہی ہے جو بیان کیا گیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث سورة آل عمران میں گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری اطاعت میں اطاعت الٰہی ہے اور میری نافرمانی عین اللہ کی نافرمانی اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ احکام الٰہی اللہ کے رسول کے ذریعہ سے معلوم ہوتے ہیں اس واسطے اللہ کے رسول کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے آخر آیت میں فرمایا جن لوگوں میں یہ اطاعات کا مادہ نہیں ہے وہ نافرمان لوگ ہیں اور ایسے نافرمان لوگون کو زبردستی راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے اس لئے ایسے لوگوں کو نافرمانی کی سزا کا منتظر رہنا چاہئے۔ صحیح بخاری ومسلم میں زینب بنت حجش (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس بستی میں عام طور پر گنہگاری پھیل جاوے گی تو ایسی بستی پر عذاب الٰہی نازل ہوگا ترمذی اور ابوداؤد کے حوالہ سے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی صحیح حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جسمیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کسی بستی کے بڑے لوگوں میں نافرمانی اور گنہگاری زیادہ پھیل جاوے گی اور اس بستی کے اچھے لوگ ان نافرمان لوگوں کو نصیحت کا کرنا بھی چھوڑ دیں گے تو ایسی بستی پر کچھ نہ کچھ عذاب الٰہی ضرور نازل ہوگا یہ حدیثیں آیت کے ٹکڑے فَتَرَ بَّصُوْا حَتّیٰ یَاتِی اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ کی گویا تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:24) عشیرتکم۔ تمہاری برادی۔ تمہار کنبہ۔ تمہارا قبیلہ۔ اقترفتموھا۔ اصل میں اقترقتم ہے واؤ اشباع کا ہے۔ اقترف یقترف اقتاف (افتعال) کمانا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اموال کی طرف راجع ہے۔ جو مال تم نے کمائے ہیں۔ کسادھا۔ مضاف مضاف الیہ کساد مصدر۔ تجارت نہ چلنا۔ سودا نہ بکنا۔ خریدار نہ ملنا۔ (باب نصر و کرم) سوق کا سد۔ وہ بازار جس میں خریدار کم ہوں ۔ اردو میں کساد بازاری اس وقت بولتے ہیں جب بازار میں خریدو فروکت مدہم پڑجائے۔ فتربصوا۔ پس تم انتظار کرو۔ تم منتظر رہو۔ تم راہ دیکھو۔ تربص (تفعل) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ تہدید و تخویف کے لئے ہے (یعنی تو پھر اب عذاب الٰہی کا اتنظار کرو 9 پس انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یہ دونوں آیتیں مسلمانوں کے کسی خاص گروہ یا واقعہ سے متعلق نہیں ہیں بلکہ عام اور ہر زمانے کے لیے ہیں۔ ان میں تمام مسلمانوں کے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ و رسول ( علیہ السلام) کی محبت انہیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہونی چاہیے حتی کہ اگر کبھی ایساہو کہ ایک طرف اللہ و رسول کا حکم ہو اور دین اسلام کو بچا نے کے لیے جان ول مال سب کچھ قربان کردینے کی ضرورت ہو اور دوسری طر ما باپ اور دیگر خویش وقارب کی محبت ہو اور مالی دوسرے دنیوی مفادات و خطرات سدراہ ہو رہے ہوں تو مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر مصلحت سے بےپرواہ ہو کر اللہ و رسول ( علیہ السلام) کے حکم کی پیروی کرے اور کوئی دینوی مفاد یا خطرہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اسے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے باز رکھ سکے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر آن ہر شکل میں عذاب آسکتا ہے مثلا دشمنوں سے مغلوب کر کے یا تم پر ظالم حکمران مسلط کر کے تمہیں ذلت و رسوائی میں مبتلا کر کے وغیرہ، یہی مضمون ہے جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی متعدد احادیث میں بار بار واضح فرمایا ہے، مثلا صحیح بخاری میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم میں سے اس کے والد، بیٹے اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ ( ابن کثیر ) ْ حضرت عمر (رض) نے ایک مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوائے اپنی جان کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب ہوں فرمایا ہاں عمر (رض) اب تیرا ایمان معتبر ہے۔ ( بخاری) ایک مرتبہ صحابہ (رض) کرام کو جہاد کی تر غیب دیتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم بیلوں کی دم پکڑ کر کھیتی باڑی پر راضی ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تعالیٰ پر ایسی ذلت مسلط کر دیگا جس سے اس وقت تک کبھی نہ نکل سو گے جب تک اپنے دین۔ جہاد فی سبیل اللہ کی طرف واپس نہیں آؤ گے۔ (ابن کثیر بحوالہ ابو داؤد)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ ان شیاء کا زیادہ پیارا ہونا جو برا ہے مراد اس سے وہ محبت ہے جو احکام الہیہ ونبویہ پر عمل کرنے سے باز رکھے میلان طبعی مراد نہیں۔ 5۔ یعنی ان کا مقصو تھا ان چیزوں سے تمتع وہ بہت جلد خلاف ان کی توقع کے موت سے منقطع ہوجاتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

ہے مکان صرف سر چھپانے کی جگہ ہی نہیں غور کیا جائے تو انسان کی حقیقی دنیا ہی اس کا مکان ہوا کرتا ہے۔ باقی جہاں چلنے، پھرنے اٹھنے بیٹھنے اور کاروبار کے لیے ہے۔ زندگی میں گھر کی ہر آدمی کو خواہش ہوتی ہے کہ اس کی رہائش گاہ بہتر سے بہتر اور آرام دہ ہوحتی کہ پرندے رات کے وقت اپنے گھونسلے اور کیڑے مکوڑے اپنی بل کی طرف پلٹتے ہیں۔ اس کے لیے تَرْضَوْنَھَا کا لفظ استعمال فرمایا کہ جنھیں تم نہایت پسند کرتے ہو یہ مکانات اور سب کی سب چیزیں اور رشتے ناطے جو تمہیں ایک سے ایک بڑھ کر محبوب اور پسند ہیں اگر یہ اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر تمہیں عزیز ہیں تو اللہ کے عذاب کا انتظار کرو۔ (عَنْ ثَوْبَانَ (رض) مَوْلَی رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُوشِکُ أَنْ تَدَاعَی عَلَیْکُمْ الْأُمَمُ مِنْ کُلِّ أُفُقٍ کَمَا تَدَاعَی الْأَکَلَۃُ عَلٰی قَصْعَتِہَا قَالَ قُلْنَا یَا رَسُول اللّٰہِ أَمِنْ قِلَّۃٍ بِنَا یَوْمَءِذٍ قَالَ أَنْتُمْ یَوْمَءِذٍ کَثِیرٌ وَلَکِنْ تَکُونُونَ غُثَاءً کَغُثَاء السَّیْلِ یَنْتَزِعُ الْمَہَابَۃَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّکُمْ وَیَجْعَلُ فِی قُلُوبِکُمْ الْوَہْنَ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْوَہْنُ قَالَ حُبُّ الْحَیَاۃِ وَکَرَاہِیَۃُ الْمَوْتِ ) [ رواہ احمد ] ” حضرت ثوبان جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام تھے فرماتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ وقت قریب ہے کہ تم پر جماعتیں ہر افق سے ٹوٹ پڑیں گئی جس طرح کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ثوبان کہتے ہیں ہم نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم اس وقت قلت میں ہوں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں بلکہ تم اس وقت کثیر تعداد میں ہوگے لیکن تمہاری مثال پانی کی جھاگ کی طرح ہوگی تمہارے دشمن کے دل سے تمہارا رعب اٹھالیا جائے گا اور تمہارے دلوں میں وھن پیدا ہوجائے گا ہم نے پوچھا وھن کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔ “ اگر یہ چیزیں تمہیں اللہ، اس کا رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے محبوب ہیں تو پھر حکم کا انتظار کرو۔ مفسرین نے یہاں حکم سے مراد اللہ کا عذاب لیا ہے یعنی پھر تم پر اللہ کا عذاب نازل ہو کر رہے گا جس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں جن میں پہلی صورت یہ ہوگی کہ دشمن نظریاتی اور حربی اعتبار سے تم پر غالب آئے گا۔ یہاں دنیا کی آٹھ بڑی نعمتوں کا ذکر کیا ہے جن پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے ان میں سے کوئی ایک چیز انسان کے پاس نہ ہو زندگی اجیرن محسوس ہوتی ہے۔ والدین سلسلۂ انسانی کی بقا کا ذریعہ ہیں بیویاں تخلیق انسانی کا وسیلہ بیٹے، بھائی، رشتہ دار درجہ بدرجہ انسان کے لیے معاون اور قوت کا باعث ہیں۔ مال اور کاروبار زندگی گزارنے کا ذریعہ، مکان جائے قیام ہے۔ مسائل ١۔ مسلمان کو کسی کافر اور مشرک کے ساتھ قلبی تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ بیشک وہ والدین اور قریبی عزیزہی کیوں نہ ہوں۔ ٢۔ کفار اور مشرکین کے ساتھ رشتے ناطے اور قلبی دوستی رکھنے والے مسلمان ظالم ہیں۔ ٣۔ اللہ، اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ دنیا کی ہر چیز سے عزیز تر ہونے چاہییں۔ ٤۔ جو مسلمان اللہ، اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے دنیا کے رشتے اور دوسری چیزوں کو مقدم جانتے ہیں وہ فاسق ہیں۔ تفسیر بالقرآن فاسق کی نشانیاں : ١۔ فاسق اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ (البقرۃ : ٩٩) ٢۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : ١٨) ٣۔ جو اقرار کرنے کے بعد بدل جائیں وہی فاسق ہیں۔ (آل عمران : ٨٢) ٤۔ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔ (المائدۃ : ٤٧) ٥۔ غلط اطلاعات فراہم کرنے اور ان کی تشھیر کرنے والے فاسق ہیں۔ (الحجرات : ٦) ٦۔ اللہ کی اطاعت سے منہ موڑنے والے فاسق ہیں۔ آل عمران : ٨٢) ٧۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ : ٤٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس اصول کو بیان کردیا جائے بلکہ محبتوں کی مثالیں اور رنگ بھی بتا دیے جاتے ہیں۔ کون سے تعلقات ، کون سے روابط اور کون سے لذائذ ایمان کے خلاف ہوں گے تاکہ انہیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ایمان اور اسلام کے تقاضون کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر مشخص اور ممثل انداز میں بتایا جائے۔ مثلاً اباء ، ابناء ، اخوان ، میاں بیوی اور خاندان یعنی عام خون اور نسب کے رشتے اور قرابت داریاں اور اموال تجارت جن کے ساتھ فطری رغبت ہوتی ہے اور مکانات اور کوٹھیاں جہاں آرام کیا جاتا ہے اور زندگی کی لذتوں سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے ہے ان سب کو ایک پلڑے میں رکھ کر اور حب خدا ، حب رسول اور جہاد کی دلچسپیوں کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر دعوت انتخاب دی جاتی ہے یہاں جہاد کے معنی اس قدر سادہ نہیں ہیں۔ جہاد میں مشقتیں ہوتی ہیں اور اس کے مخصوص تقاضے ہوتے ہیں۔ اس میں مشکلات اور واماندگیاں ہوتی ہیں ، اس میں تنگی اور ترشی ہوتی ہے اس میں قربانیاں اور محرومیاں بھی ہوتی ہیں اور اس میں زخم بھی کھائے جاتے ہیں اور جان بھی دینی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ جہاد کے لفظ میں آتا ہے اور یہ سب کچھ اس کیفیت کے ساتھ ہو کہ اس میں شہرت اور نود و نمائش کا شائبہ تک نہ ہو ، جس میں فخر و غرور اور تکبر کا شائبہ تک نہ ہو۔ اس میں ملک گیری اور منصب گیری کا بھی کوئی شائبہ اور اشارہ نہ ہو۔ اگر ان بیماریوں میں سے کوئی بیمار بھی ہو تو مجاہد اجر اخروی سے محروم ہوگا۔ ذرا دوبارہ غور سے پڑھیے :۔ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ : " اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ ، اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے ، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے " خبردار ! یہ نہایت ہی مشقت آمیز راہ ہے ، یہ نہایت ہی عظیم ذمہ داری ہے ! لیکن بات یہی ہے ، اگر یہ ذمہ داری پوری نہ کرو گے تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے " اور واللہ لا یہدی القوم الفسقین اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ صرف ایک فرد ہی سے مطالبہ نہیں ہے کہ وہ اس قدر خلوص کا مظاہرہ کرے۔ پوری جامعت مسلمہ سے اس قسم کے خلوص کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ اسلامی مملکت کو بھی اس طرح مخلص ہونا چاہیے۔ اس لیے اسلامی معاشرے میں کوئی ترجیح اور کوئی نصب العین اسلامی نظریہ حیات اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقتضیات سے اہم نہیں ہونا چاہیے۔ کیا فطرت انسانی اس معیار پر جاسکتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ نے جب اہل ایمان سے اس معیار کا تقاضا کیا تو ایسا معیار پیش کرنا ممکن ہے ، تبھی تو کیا ہے۔ کیونکہ اللہ کسی بھی نفس سے وہ مطالبہ نہیں فرماتے جو اس کے دائرہ طاقت میں نہ ہو۔ یہ اللہ کی نہایت کریمی ہے کہ اس نے اس ضعیف انسان کے اندر اس قدر صلاحیت اور طاقت رکھی ہے کہ وہ اس قدر مخلصانہ معیار پیش کرے اور اس قدر مشکلات برداشت کرے اور اس کو اس شعور اور خلوص کے اندر اس قدر لذت دی ہے کہ وہ اس کے لیے تمام لذات ارضی کو خیر آباد کہہ سکتا ہے۔ خدا کے ساتھ اتصال اور خدا رسیدگی کا شعور۔ اللہ کی رضا کے حصول کا شعور۔ انسان کو انسانی ضعف ، گراوٹ اور خون اور گوشت و پوست کی لذتوں سے بلند کردیتا ہے اور اس کی نظر دور افق پر کسی بلند مقام پر مرکوز ہوتی ہے۔ جب بھی اس دنیا کی سفلی لذات اس کا دامن کھینچتی ہیں تو وہ نظریں بلند افق پر ایک روشن نصب العین پر مرکوز کردیتا ہے اور اس طرح وہ دامن چھڑا لیتا ہے۔ ۔۔۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

19: یہ زجر ہے یعنی اگر ماں باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں اور دیگر رشتہ دار، مال و دولت، کاروبار اور مکانات تمہیں اللہ اور اس کے سول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کیلئے تیار ہوجاؤ۔ یہ پہلے حکم “ لَا تَتَّخِذُوْا اٰبَاء کُمْ وَ اِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَاءَ اِنِ اسْتَحَبُّوْ الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ ” کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے تہدید و تخویف ہے۔ “ فَتَرَبَّصُوْا، و ھٰذا امر تھدید و تخویف ” (خازن ج 3 ص 58) “ (حَتّٰی یَاتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ) الحسن بعقوبة اٰجلة او عاجلة ” (قرطبی ج 8 ص 96) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

24 اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مسلمانوں سے کہہ دیجئے کہ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے والے اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندے سے اور نکاسی کا وقت نکل جانے سے ڈرتے ہو اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو اگر یہ سب چیزیں تم کو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب اور پیاری ہیں تو اچھا تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کی رہنمائی اور رہبری نہیں فرماتا اور ان کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ یعنی سز کا انتظار کرو یا کافروں کے اخراج کا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آخر حکم بھیجا کہ اس ملک سے کافر باہر ہوں تب اکثر کافر مسلمان ہوئے۔ 12