Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 26

سورة التوبة

ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ عَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶﴾

Then Allah sent down His tranquillity upon His Messenger and upon the believers and sent down soldiers angels whom you did not see and punished those who disbelieved. And that is the recompense of the disbelievers.

پھر اللہ نے اپنی طرف کی تسکین اپنے نبی پر اور مومنوں پر اتاری اور اپنے وہ لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے اور کافروں کو پوری سزا دی ۔ ان کفار کا یہی بدلہ تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ثُمَّ أَنَزلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ ... Then Allah did send down His Sakinah on His Messenger, He sent down tranquility and reassurance to His Messenger, ... وَعَلَى الْمُوْمِنِينَ ... and on the believers, who remained with him, ... وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا ... and sent down forces which you saw not, (this refers to angels). ... وَعذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَذَلِكَ جَزَاء الْكَافِرِينَ and punished the disbelievers. Such is the recompense of disbelievers. Imam Abu Jafar bin Jarir (At-Tabari) said that Al-Qasim narrated to them, that Al-Hasan bin Arafah said that Al-Mu`tamir bin Sulayman said from `Awf bin Abi Jamilah Al-Arabi who said that he heard Abdur-Rahman, the freed slave of Ibn Barthan saying, "A man who participated in Hunayn with the idolators narrated to me, `When we met the Messenger of Allah and his Companions on the day of Hunayn, they did not remain in battle more than the time it takes to milk a sheep! When we defeated them, we pursued them until we ended at the rider of the white mule, the Messenger of Allah. At that time, men with white handsome faces intercepted us and said: `Disgraced be the faces! Go back. So we ran away, but they followed us. That was the end for us."' Allah said, ثُمَّ يَتُوبُ اللّهُ مِن بَعْدِ ذَلِكَ عَلَى مَن يَشَاء وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٤] آپ کا ریت کی مٹھی پھینکنا اور نصرت الہٰی کی صورتیں :۔ مدد کی بھی کئی صورتیں تھیں ان میں سے دو کا ذکر تو اس آیت میں ہے۔ یعنی اونگھ طاری کر کے مسلمانوں کو تسکین بخشنا اور فرشتوں کا نزول جو اس جنگ میں لڑے نہیں بلکہ صرف کافروں کو مرعوب کرنے کے لیے بھیجے گئے اور تیسری قسم کا ذکر درج ذیل حدیث میں ہے۔ مدد کی انہی صورتوں سے پہلے اللہ نے بدر اور احد میں بھی مسلمانوں کی مدد فرمائی تھی۔ سیدنا سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ && جب دشمنوں نے آپ کو گھیر لیا تو آپ خچر سے اترے اور زمین سے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور کفار کی طرف پھینکی۔ پھر آپ نے فرمایا && دشمنوں کے چہرے بگڑ جائیں۔ پھر کفار میں سے کوئی بھی ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں میں اس مٹھی کی وجہ سے مٹی نہ پڑگئی ہو۔ && (مسلم۔ کتاب الجہادوالسیہ۔ باب غزوہ حنین)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

It will be useful to explain the statement: ثُمَّ أَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَ‌سُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِين (Then Allah sent down His tranquility upon His Messenger and upon the believers) appearing in verse 26 a little further. It means that Allah Ta` ala sent down His tranquility upon the hearts of the noble Companions who had lost their foothold on the battlefield during the initial attack of the enemy at Hunain. This caused their feet to become firm again and those who had run away came back. As for the sending of tranquility upon the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and the Companions (رض) who had stayed on the war front with firmness and determination, it means that they could see victory close at hand. And since the tran¬quility mentioned here was of two kinds - one for those who ran, and the other for those who stayed on with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with firmness and determination - it is to point out to this refinement that the expressions: عَلَىٰ رَ‌سُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِين (...upon His Messenger and upon the believers) have been placed separately and introduced one after the other with the repetition of the preposition علی ) ’ ala: upon). After that, it was said: وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَ‌وْهَا (... and sent down forces which you did not see). This means that the people at large did not see. That some reports mention the ` seeing& of these ` forces& should not be taken as contrary to this. After that, in conclusion, it was said: وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ الْكَافِرِ‌ينَ. It means that Allah punished those who disbelieved - and those who dis¬believed deserved that punishment. This punishment or recompense refers to their subjugation at the hands of Muslims which was some-thing witnessed openly. In sum, what was their worldly punishment, they received promptly. As for their fate in the Hereafter, it has been mentioned in verse 27:

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤ ْمِنِيْنَ ، یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور سب مسلمانوں پر اپنی تسلی نازل فرمادی “۔ معنی اس کے یہ ہیں کہ غزوہ حنین کے ابتدائی ہلہ میں جن صحابہ کرام کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر اپنی تسلی نازل فرمادی، جس سے ان کے اکھڑے ہوئے قدم جم گئے اور بھاگنے والے پھر لوٹ آئے، اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور ان صحابہ پر جو مضبوطی کے ساتھ محاذ پر جمے رہے تسلی نازل فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اپنی فتح قریب نظر آنے لگی، اور چونکہ تسلی کی یہ دو قسمیں تھیں ایک بھاگنے والوں کے لئے دوسری رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جمے رہنے والوں کے لئے، اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤ ْمِنِيْنَ کو علیحدہ علیحدہ تکرار عَلٰي کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا یعنی ایسے لشکر نازل فرما دیئے جن کو تم نے نہیں دیکھا، اس سے مراد عام طور پر لوگوں کا نہ دیکھنا ہے، احاد و افراد سے جو بعض روایتوں میں اس لشکر کا دیکھنا منقول ہے وہ اس کے منافی نہیں۔ پھر فرمایا (آیت) وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭوَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ ، یعنی کافروں کو اللہ تعالیٰ نے سزا دیدی، اور کافروں کی یہی سزا ہے۔ اس سزا سے مراد ان کا مسلمانوں کے ہاتھوں مفتوح اور مغلوب ہونا ہے، جو واضح طور پر مشاہدہ میں آیا، مطلب یہ ہے کہ یہ دنیاوی سزا تھی، جو فوری طور پر مل گئی، آگے آخرت کے معاملہ کا ذکر بعد کی آیت میں اس طرح آیا ہے :

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ اَنْزَلَ اللہُ سَكِيْنَتَہٗ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝ ٠ ۭ وَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ۝ ٢٦ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا سَّكِينَةَ والسَّكْنُ : سُكَّانُ الدّار، نحو سفر في جمع سافر، وقیل في جمع ساکن : سُكَّانٌ ، وسكّان السّفينة : ما يسكّن به، والسِّكِّينُ سمّي لإزالته حركة المذبوح، وقوله تعالی: أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] ، فقد قيل : هو ملك يُسَكِّنُ قلب المؤمن ويؤمّنه كما روي أنّ أمير المؤمنین عليه السلام قال : (إنّ السَّكِينَةَ لتنطق علی لسان عمر) وقیل : هو العقل، وقیل له سكينة إذا سكّن عن المیل إلى الشّهوات، وعلی ذلک دلّ قوله تعالی: وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ [ الرعد/ 28] . وقیل : السَّكِينَةُ والسَّكَنُ واحد، وهو زوال الرّعب، وعلی هذا قوله تعالی: أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 248] ، وما ذکر أنّه شيء رأسه كرأس الهرّ فما أراه قولا يصحّ والْمِسْكِينُ قيل : هو الذي لا شيء له، وهو أبلغ من الفقیر، وقوله تعالی: أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] ، فإنه جعلهم مساکين بعد ذهاب السّفينة، أو لأنّ سفینتهم غير معتدّ بها في جنب ما کان لهم من المسکنة، وقوله : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، فالمیم في ذلک زائدة في أصحّ القولین . السکین ( چھری ) کو سکیں اس لئے کہا جاتا ہے ( وہ مذبوح کی حرکت کو زائل کردیتی ہے ) تو یہ سکون سے فعیل کے وزن پر اسم مشتق ہے ) اور آیت : أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] ( وہی تو ہے ) جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سکینۃ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومن کے دل کو تسکین دیتے ہیں ۔ جیسا کہ امیر المومنین ( حضرت علی (رض) ) سے راویت ہے (إن السکينة لتنطق علی لسان عمر) حضرت عمر (رض) کی زبا ن پر سکینۃ گویا ہے اور بعض نے اس سے عقل انسانی مراد لی ہے اور عقل کو بھی جب کہ وہ شہوات کی طرف مائل ہونے سے روک دے سکینۃ کہا جاتا ہے اور آیت : ۔ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ [ الرعد/ 28] اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں ۔ بھی اس معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ سکینۃ اور سکن کے ایک ہی معنی ہیں یعنی رعب اور خوف کا زائل ہونا اور آیت : ۔ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 248] کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئیگا اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی ہوگی ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہیں اور بعض مفسرین نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ وہ چیز تھی جس کا سر بلی کے سر کے مشابہ تھا وغیرہ تو ہمارے نزدیک یہ قول صحیح نہیں ہے ۔ المسکین بعض نے اس کی تفسیر الذي لا شيء له ( یعنی جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) کے ساتھ کی ہے اور یہ فقر سے ابلغ ہے ( یعنی بنسبت فقیر کے زیادہ نادار ہوتا ہے ) لیکن آیت : أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] اور کشتی غریب لوگوں کی تھی ۔ میں باوجود کشتی کا مالک ہونے کے انہیں مسکین قرار دینا ما یؤول کے لحاظ سے ہے یعنی کشتی کے چلے جانے کے بعد کی حالت کے لحاظ سے انہیں مسکین کہا گیا ہے ۔ یا اس لئے کہ ان کی احتیاج اور مسکنت کے مقابلہ میں کشتی کی کچھ بھی حیثیت نہ تھی ۔ اور آیت : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور آخر کار ذلت و رسوائی اور محتاجی ( و بےنوائی ) ان سے چمٹا دی گئی ۔ میں اصح قول کے لحاظ سے مسکنۃ کی میم زائد ہے ( اور یہ سکون سے ہے ۔ ) جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٦) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تسلی نازل فرمائی اور آسمان سے تمہاری مدد کے لیے فرشتے اتارے اور مالک بن عوف وہمانی کی قوم اور کنانۃ بن عبد یا لیل ثقفی کی قوم کو قتل وشکست کا عذاب دیا ان لوگوں کی یہی سزا ہے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

20: یہ اس وقت کا ذکر ہے جب میدان چھوڑنے والے مسلمان حضرت عباس (رض) کی اآواز سن کر واپس اآئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں ایسی تسکین پیدا فرما دی کہ ان پر دشمن کا جو رعب وقتی طور پر چھا گیا تھو وہ دور ہوگیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٦۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے جنگ حنین کا یہ قصہ بیان فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو اس روز اپنی فوج کی زیادتی پر یہ خیال ہوا تھا کہ اب ہم کسی سے مغلوب نہ ہوں گے کیونکہ اس وقت کل مسلمان قریب بارہ ہزار کے تھے فتح مکہ کے بعد کل لوگ مکہ اور مدینہ کے مسلمان جب جمع ہوئے تو سب نے مل کر یہ سوچا کہ اب ہم خوب لڑیں گے اب ہم پر کوئی غالب نہیں ہوسکتا حضرت کو ان کا یہ کہنا برا معلوم ہوا تھا۔ غرض حنین کی لڑائی میں جب ہو ازن اور ثقیف کے لشکر سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا تو کچھ ایسا خوف دشمنوں کا ان کے دل میں سمایا کہ پیچھے ہٹ گئے مفسروں کا بیان ہے کہ ایک سو تینتیس مہاجر اور ستتر انصار کے سوا اس میدان میں کوئی بھی ثابت قدم نہ رہا صرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکیلے رہ گئے آپ کے قدم آگے ہم کو بڑہتے چلے گئے اور مسلمانوں کو پکارا کہ اے خدا و رسول کے انصار میری طرف آؤ میں خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور حضرت عباس (رض) کو جو آپ کی داہنی طرف رکاب تھامے ہوئے تھے فرمایا کہ لوگوں کو پکارو حضرت عباس (رض) کو یہ کام اس لئے سونپا گیا کہ حضرت عباس (رض) بلند آواز والے تھے ان کی آواز آٹھ آٹھ میل تک جاتی تھی بہر حال لوگ رفتہ رفتہ جمع ہوتے گئے اور اللہ پاک نے ان کے دل میں اطمینان پیدا کردیا پھر تو یہ لوگ جم کر لڑے اور خدا نے آسمان سے فرشتے بھی بھیجے جن کے سبب سے کفار کے دل میں رعب پیدا ہوا اور کچھ کافر قتل ہوئے اور کچھ بھاگ گئے فرشتوں کی تعداد میں مفسروں کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں پانچ ہزار تھے اور بعضون کا قول ہے کہ آٹھ ہزار تھے مگر آیت یا اسکی صحیح حدیث سے یہ بات نہیں معلوم ہوئی کہ وہ کتنے تھے ہاں صحیح طور پر اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں نے اس لڑائی میں سوائے جنگ بدر کی لڑائی کا کام نہیں دیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی واسطے بھیجا تھا کہ مسلمانوں کے دل قوی ہوجائیں اور کفار کے دل میں رعب پیدا ہو پھر اللہ پاک نے آیت میں یہ فرمایا کہ مسلمانوں کو تسکین عطا کر کے اور فرشتوں کی کمک بھیج کر کفار پر یہ عذاب نازل کیا کہ خوب اچھی طرح قتل ہوئے بہت سامال ان کا مسلمانوں کے قبضے میں آیا اتنی غنیمت ہاتھ لگی کہ مسلمان مال دار ہوگئے کیونکہ اس قافلہ میں بارہ ہزار صرف اونٹ تھے اور بکریوں کو تو کچھ گنتی ہی نہیں ان کے علاوہ اور بہت سامال تھا لوگ گرفتار بھی بہت ہوئے عورت اور بچے ملا کر چھ ہزار آدمی قید ہوئے پھر باقی لوگ ہوازن کے مسلمان ہو کر مکہ کے قریب جعرانہ مقام میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ نے انہیں اختیار دیا کہ خواہ اپنے قیدیوں کو لے جاؤ خواہ مال لے لو ان لوگوں نے اپنے قیدیوں کو لینا پسند کیا آپ نے ان کے قیدیوں کو انہیں دے دیا اور مال غنیمت غازیوں کو تقسیم کردیا اور مکہ کے نو مسلم لوگوں کو تالیف قلوب کے لئے اس میں سے زیادہ مال دیا اس غنیمت میں سے ایک ایک شخص کو سو سو اونٹ ملے تھے سورة بقر میں گذر چکا ہے کہ تابوت سکینہ کے ساتھ جو فرشتے رہتے تھے ان کی برکت سے بنی اسرائیل کے دلوں میں ایک تسکین پیدا ہوجاتی تھی یہاں مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے جدا تسکین پیدا کردی اور علاوہ اس تسکین کے دوہری تسکین کے لئے آسمان سی فرشتے بھی بھیج دئے مسلمانوں کے لشکر میں اس تسکین سے پہلے ایک صورت شکست کی پیدا ہوگئی تھی اس لئے اس دوہری تسکین کا یہ انتظام فرمایا گیا جس سے مسلمانوں کے دل خوب مضبوط ہوگئے اور وہ دوبارہ خوب جم کر لڑے اس دوبارہ کی لڑائی میں مخالفوں کے بہت سے آدمی مارے گئے ان کے بال بچے قید ہوگئے اور ان کا مال لوٹ لیا گیا جس کا ذکر اوپر گذرا غرض اس سب کو مخالفوں کے کفر کی سزا فرمایا یہ پوری سزا تو انہیں کے حق میں ہوئی جن کا حالت کفر پر قتل ہونا علم الٰہی میں قرار پاچکا تھا اور جن کے نصیب میں کفرو شرک سے توبہ کا کرنا لکھا تھا ان کی جانیں بھی بچ گئیں اور انہوں نے توبہ بھی کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے ان کی توبہ قبول بھی کی اور ان کے بال بچے بھی انکو واپس مل گئے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی توبہ کے قبول کرنے میں گنہگاروں کے حال پر اس قدر مہربان ہے کہ اگر دنیا کی یہ مخلوق گناہ نہ کرتی تو اللہ تعالیٰ گناہ کرنے والی اور مخلوق پیدا کرتا اور پھر گناہوں کے بعد ان کو توبہ کی توفیق دیکر ان کی توبہ قبول کرتا آیت کے آخر ٹکڑے میں گنہگاروں کی توبہ قبول ہونے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:26) سکینتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ سکینہ وہ اطمینان ۔ چین و قرار اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندہ کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گزرے وہ اس سے گھبراتا نہیں یہ اس کے لئے ایمان کی زیادتی یقین میں قوت اور استقلال پیدا کردیتا ہے۔ لم تروھا۔ اصل میں ترون (مضارع جمع مذکر حاضر) لم کی وجہ سے ن اعرابی گرگیا ۔ جن کو تم نے نہ دیکھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 اس جنگ میں بھی جنود ( فرشتے) نازل ہوئے مگر تحقیق یہ ہے کہ یہ فرشتے کافروں پر عب ڈالنے کے لی اترے تھے، انہوں نے اس لڑائی میں عملا حصہ نہیں لیا تھا، لڑائی صرف بدر میں لڑی۔ (وحیدی) سائب بن یسار (رض) کہتے ہیں کہ یزید بن عامر سوائی نے جنگ حنین میں کافروں کا ساتھ دیا تھا۔ بعد میں وہ مسلمان ہوگئے تھے ہم جنگ حنین میں اس رعب کی کی کیفیت دریافت کرتے تو تو وہ ایک کنکری ٹب میں پھینک کر کہا کرتے کہ جس طرح یہ ٹن کی آواز آتی ہے اسی طرح کی آواز ہم اپنے پیٹوں میں محسوس کرتے تھے اور اس سے ہماری دل لرز جاتے تھے، واللہ اعلم، ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یہ جو فرمایا کہ رسول پر تسلی نازل ہوئی مراد اس سے مطلق تسلی نہیں وہ تو آپ کو بلکہ وہ صحابہ جو آپ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کو بھی حاصل تھی اور وہ اسی وجہ سے ثابت قدم رہے بلکہ مراد اس سے خاصل تسلی ہے جس سے غلبہ کی امید قریب ہوگئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حنین میں فرشتوں کا نزول : مسلمانوں کو اول شکست ہوئی۔ اور ایسی شکست ہوئی کہ زمین ان کے لیے تنگ ہوگئی اور سبب اس کا وہی ہوا کہ بعض مسلمانوں نے کہہ دیا کہ آج تو ہم تعداد میں بہت ہیں شکست کا احتمال ہی نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سکینہ نازل فرمایا اور سکون و اطمینان کے ساتھ دو بارہ جنگ کرنے لگے جس سے دشمنوں نے شکست کھائی۔ قرآن مجید میں غزوۂ حنین کا ذکر کرتے ہوئے (وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا) بھی فرمایا (اور اللہ نے لشکر اتارے جنہیں تم نے نہیں دیکھا) صاحب معالم التنزیل (ص ٢٨١ ج ٢) میں فرماتے ہیں یعنی : الملائکۃ قیل لا للقتال و لکن لتجبین الکفار و تشجیع المسلمین لأنہ یروی أن الملائکۃ لم یقاتلوا الایوم بدر (فرشتوں کا نزول بعض نے کہا قتال کے لیے نہیں تھا بلکہ اس لیے تھا کہ وہ کفار کو بزدل بنائیں اور مسلمانوں کو بہادر، کیونکہ مروی ہے کہ فرشتوں نے قتال صرف بدر میں کیا تھا) یعنی لشکروں سے فرشتے مراد ہیں۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ فرشتے جنگ کرنے کے لیے نہیں بلکہ کافروں کو بزدل بنانے کے لیے اور مسلمانوں کو دلیر کرنے کے لیے نازل کیے گئے تھے۔ کیونکہ یہ بات روایت کی جاتی ہے کہ فرشتوں نے بدر کے موقعہ کے علاوہ اور کسی موقعہ پر قتال میں حصہ نہیں لیا۔ صاحب روح المعانی ص ٧٥ ج ١٠ نے بھی (جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا) کی تفسیر فرشتوں سے کی ہے اور لکھا ہے کہ جمہور نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ فرشتوں نے بدر کے علاوہ کسی اور موقعہ پر قتال نہیں کیا وہ مومنین کے قلوب کی تقویت کے لیے اور مشرکین کے قلوب میں رعب ڈالنے کے لیے آئے تھے۔ پھر ایک قول یہ ذکر کیا ہے کہ انہوں نے قتال بھی کیا تھا لیکن آخیر میں لکھا ہے و لیس لہ سند یعول علیہ یعنی اس کی کوئی سند معتمد نہیں۔ فرشتوں کے اتارنے کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا (وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) کہ اللہ نے کافروں کو عذاب دیا (جو مقتول ہوئے اور قیدی بنے) (وَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ ) اور یہ کافروں کی سزا ہے۔ (جو دنیا میں ہے) اور آخرت میں جو سزا ہے وہ دنیاوی سزا کے علاوہ ہے جو کفر پر مرے گا وہاں دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

26 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر تسلی اور تسکین نازل فرمائی اور ایسے لشکر آسمان سے نازل فرمائے جو تم نہیں دیکھتے تھے اور جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو سخت سزا دی اور دین حق کے منکروں کی یہی سزا ہے۔ تسلی و تسکین کوئی خاص قسم کی ہمت اور اطمینان قلوب میں نازل فرمایا جس سے مسلمان ثابت قدم رہے اور جو پیچھے ہٹ گئے تھے وہ پھر آگئے لشکر سے مراد فرشتے ہیں جو غیر مرئی طور پر تقویت اور ہمت کے موجب ہوئے اور تثبیت قدم کے سبب بنے۔ سزا سے مراد کفار کا قتل اور قید ہونا ہے۔