: ثُمَّ يَتُوبُ اللَّـهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ (Yet Allah relents, after that, to whomsoever He wills). As for the details of events that came to pass during the battle of Hunain, part of it has been mentioned in the Qur&an while the rest has been taken from authentic narrations of Hadith. (Mazhari and Ibn Kathir) Injunctions and Rulings Many injunctions, rulings and subsidiary elements of guidance ap¬pear here under the shadows of these events. In fact, they are the very purpose of the narration of these events. The very first instruction given in these verses is that Muslims should never wax proud of their power or numerical superiority. They should realize that the way they look towards Allah and His help at times when they are weak and deficient, very similarly, when they are strong and powerful, their total trust should also remain on nothing but the help of Allah alone. In the battle of Hunain, Muslims enjoyed numerical superiority. They had sufficient weapons and supplies. This led some Companions to utter words of pride to the effect that no one could dare defeat them on that particular day. Allah Ta` ala did not like that a group of people so dear to him would say something like that. The result was that Muslims lost their foothold on the battlefield at the time the enemy launched the initial attack. They started running. Then, it was only with unseen help from Allah that this battle was won. Properties of defeated non-believers: The need for justice and caution The second instruction given here relates to the need for observing caution and justice when handling properties owned by non-believers who have been defeated and overpowered. This is illustrated by the ac¬tion taken by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when he had taken war materials for the battle of Hunain from the vanquished non-Muslims of Makkah. This was an occasion when these supplies could have been taken from them by force too. But the Rasul of Allah, (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took these as borrowing - and then, he returned everything so borrowed back to them. This event taught Muslims an essential lesson - that they should maintain perfect justice and show mercy and magnanimity even when they are dealing with enemies. The third instruction is embedded in what he said while making a stopover at Khaif bani& Kinanah enroute Hunain. ` Tomorrow&, he said, ` we shall be staying at a place where our enemies, the Quraysh of Makkah, had once sat and resolved to excommunicate Muslims!& The hint given here is clear - when Allah Ta` ala has blessed Muslims with victory and power, they should not forget about the days of distress in the past, so that they remain grateful to Allah under all conditions. It will also be recalled that the defeated Hawazin forces had taken refuge in the Ta&if fortress from where they were shooting arrows against Muslims repeatedly. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was requested to pray for a curse to fall on them. He did not respond to their arrows in that manner. He prayed that they be guided to the right path. Being mercy for all the worlds, this prayer for his enemies is teaching Mus¬lims the lesson that Muslims, when they fight in a Jihad, do not intend to subdue the enemy, instead, their objective is to bring them to guid¬ance. Therefore, making efforts to achieve this objective should not be neglected at any time. The third verse (27) instructs Muslims that they should not write off disbelievers who have been defeated at war because it is likely that Allah Ta` ala may give them the ability to embrace Islam and be blessed with the light of faith. The Hawazin deputation&s entry into the fold of Islam proves it. The same deputation from the tribe of Hawazin had requested the return of their prisoners and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had asked the gathering of Companions (رض) if they agreed to do that out of their free will. The response came in the form of voiced ayes from the audience. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not consider it to be sufficient. Instead, he took elaborate steps to ascertain the approval of each and every individual before he would act. This proves that the matter of rights is serious. It is not permissible to take what belongs to a person as a matter of right unless it becomes certain that this was done on the basis of his or her free will. The silence of a person either due to the awe of the crowd or the sense of shame before people is not a sufficient proof of the person&s free will and heartfelt consent. From here, Muslim jurists have deduced the ruling that it is not correct to solicit contributions even for some religious purpose when it is done to impress a person by one&s personal office, power, or influence. The reason is that there are many gentle people who would be affected by such conditions around and decide to get away by giving something just to avoid being embarrassed - of course, this does not have the backing of genuine free will, approval and pleasure. Incidentally, what is given in that spirit does not have any barakah either.
(آیت) ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، یعنی پھر خدا تعالیٰ جس کو چاہیں توبہ نصیب کردیں، اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنیوالے ہیں “۔ اس میں اشارہ ہے کہ اس جہاد میں جن لوگوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب اور مفتوح ہونے کی سزا مل چکی ہے، اور ابھی تک وہ اپنے کفر پر قائم ہیں، ان میں سے بھی کچھ لوگوں کو توفیق ایمان نصیب ہوگی، چناچہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس کی تفصیل یہ ہے : حنین کی فتح اور ہوازن و ثقیف کے سرداروں کا مسلمان ہو کر حاضر ہونا قیدیوں کی واپسی : حنین میں قبیلہ ہوازن و ثقیف کے کچھ سردار مارے گئے، کچھ بھاگ کھڑے ہوئے ان کے ساتھ جو ان کے اہل و عیال اور اموال تھے وہ مسلمانوں کے قیدی اور مال غینمت بن کر مسلمانوں کے ہاتھ آئے جس میں چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار سے زائد بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی تھی، جس کے تقریباً چار من ہوتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو سفیان بن حرب کو اموال غنیمت کا نگران مقرر فرمایا۔ پھر شکست خوردہ ہوازن اور ثقیف نے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے خلاف اجتماع کیا مگر ہر مقام پر ان کو شکست ہوتی گئی، وہ سخت مرعوب ہو کر طائف کے نہایت مستحکم قلعہ میں قلعہ بند ہوگئے، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ بیس روز اس قلعہ کا محاصرہ کیا، یہ قلعہ بند دشمن اندر ہی سے تیر برساتے رہے، سامنے آنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ان لوگوں کے لئے بد دعا فرمائیے، مگر آپ نے ان کے لئے ہدایت کی دعا فرمائی اور با لآخر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے مشورہ فرما کر واپسی کا قصد فرمایا، اور مقام جعرانہ پر پہنچ کر ارادہ فرمایا کہ پہلے مکہ معظمہ جا کر عمرہ ادا کریں پھر مدینہ طیبہ کو واپسی ہو، مکہ والوں کی بڑی تعداد جو تماشائی بن کر مسلمانوں کی فتح و شکست کا امتحان کرنے آئی تھی، اس جگہ پہنچ کر ان میں سے بہت لوگوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ اسی مقام پر پہنچ کر مال غنیمت کی تقسیم کا انتظام کیا گیا تھا، ابھی اموال غنیمت تقسیم ہو ہی رہے تھے کہ دفعۃً ہوازن کے چودہ سرداروں کا ایک وفد زہیر بن صرد کی قیادت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رضاعی چچا ابو یرقان بھی تھے، انہوں نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہم مسلمان ہوچکے ہیں، اور یہ درخواست کی کہ ہمارے اہل و عیال اور اموال ہمیں واپس دیدئیے جائیں، اس درخواست میں عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ہم بلسلہ رضاعت آپ کے خویش و عزیز ہیں، اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہم پر احسان فرمائیں، رئیس وفد ایک شاعر آدمی تھا، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ اگر ہم بادشاہ روم یا شاہ عراق سے اپنی ایسی مصیبت کے پیش نظر کوئی درخواست کرتے تو ہمارا خیال یہ ہے کہ وہ بھی ہماری درخواست کو رد نہ کرتے اور آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے اخلاق فاضلہ میں سب سے زیادہ ممتاز فرمایا ہے آپ سے ہم بڑی امید لے کر آئے ہیں۔ رحمہ للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے یہ موقع دوہری مشکل کا تھا کہ ایک طرف ان لوگوں پر رحم و کرم کا تقاضا یہ کہ ان کے سب قیدی اور اموال ان کو واپس کردیئے جائیں، دوسری طرف یہ کہ اموال غنیمت میں تمام مجاہدین کا حق ہوتا ہے، ان سب کو ان کے حق سے محروم کردینا ازروئے انصاف درست نہیں، اس لئے صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جواب میں فرمایا : میرے ساتھ کس قدر مسلمانوں کا لشکر ہے جو ان اموال کے حق دار ہیں، میں سچی اور صاف بات کو پسند کرتا ہوں، اس لئے آپ لوگوں کو اختیار دیتا ہوں کہ یا تو اپنے قیدی واپس لے لو یا اموال غنیمت ان دونوں میں جس کو تم انتخاب کرو وہ تمہیں دیدئیے جائیں گے، سب نے قیدیوں کی واپسی کو اختیار کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام صحابہ کو جمع فرما کر ایک خطبہ دیا، جس میں حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ : یہ تمہارے بھائی تائب ہو کر آگئے ہیں، میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کے قیدی ان کو واپس دے دیے جائیں تم میں سے جو لوگ خوش دلی کے ساتھ اپنا حصہ واپس دینے کے لئے تیار ہوں وہ احسان کریں اور جو اس کے لئے تیار نہ ہوں تو ہم ان کو آئندہ اموال فئے میں سے اس کا بدلہ دیدیں گے۔ حقوق کے معاملہ میں رائے عامہ معلوم کرنے کے لئے عوامی جلسوں کی آوازیں کافی نہیں، ہر ایک سے علیحدہ رائے معلوم کرنی چاہئے : مختلف اطراف سے یہ آواز اٹھی کہ ہم خوش دلی کے ساتھ سب قیدی واپس کرنے کے لئے تیار ہیں، مگر عدل و انصاف اور حقوق کے معاملہ میں احتیاط کے پیش نظر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کی مختلف آوازوں کو کافی نہ سمجھا، اور فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ کون لوگ اپنا حق چھوڑنے کے لئے خوش دلی سے تیار ہوئے اور کون ایسے ہیں جو شرما شرمی خاموش رہے، معاملہ لوگوں کے حقوق کا ہے اس لئے ایسا کیا جائے کہ ہر جماعت اور خاندان کے سردار اپنی اپنی جماعت کے لوگوں سے الگ الگ صحیح بات معلوم کرکے مجھے بتائیں۔ اس کے مطابق سرداروں نے ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ اجا زت حاصل کرنے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا کہ سب لوگ خوش دلی سے اپنا حق چھوڑنے کے لئے تیار ہیں، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سب قیدی ان کو واپس کردیئے۔ یہی وہ لوگ تھے جن کے تائب ہونے کی طرف مذکورہ تیسری آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے (آیت) ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ، غزوہ حنین میں پیش آنے والے واقعات کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس کا کچھ حصہ تو خود قرآن کریم میں مذکور ہے اور باقی مستند روایات حدیث سے لیا گیا ہے ( مظہری و ابن کثیر) احکام و مسائل ان واقعات کے ضمن میں بہت سے احکام و ہدایات اور ضمنی فوائد آئے ہیں، وہی ان واقعات کے بیان کرنے کا اصل مقصد ہیں۔ آیات مذکورہ میں سب سے پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مسلمانوں کو کسی وقت بھی اپنی جمعیت اور طاقت پر غرہ نہ ہونا چاہئے، جس طرح کمزوری اور بےسامانی کے وقت ان کی نظر اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد پر رہتی ہے اسی طرح قوت و طاقت کے وقت بھی ان کا مکمل اعتماد صرف اللہ تعالیٰ کی امداد ہی پر ہونا چاہئے۔ غزوہ حنین میں مسلمانوں کی تعدادی کثرت اور سامان حرب کے کافی ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام کی زبان پر جو بڑا بول آگیا تھا کہ آج تو کسی کی مجال نہیں جو ہم سے بازی لیجاسکے، اللہ تعالیٰ کو اپنی اس محبوب جماعت کی زبان سے ایسے کلمات پسند نہ آئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدائی ہلہ کے وقت مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے، اور بھاگنے لگے، پھر اللہ تعالیٰ ہی کی غیبی امداد سے یہ میدان فتح ہوا۔ مفتوح و مغلوب کفار کے اموال میں عدل و انصاف اور احتیاط : دوسری ہدایت اس واقعہ سے یہ حاصل ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین کے لئے مکہ کے مفتوح غیر مسلموں سے جو سامان جنگ زرہیں اور نیزے لئے تھے یہ ایسا موقع تھا کہ ان سے زیر دستی بھی یہ چیزیں کی جاسکتی تھیں، مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عاریت کہہ کرلیا اور پھر سب کو ان کی مستعار چیزیں واپس کردیں۔ اس واقعہ نے مسلمانوں کے ساتھ بھی پورے عدل و انصاف اور رحم و کرم کے معاملہ کا سبق دیا۔ تیسری ہدایت اس ارشاد نبوی سے حاصل ہوئی جس میں حنین کی طرف جاتے ہوئے خیف بنی کنانہ میں قیام کے وقت فرمایا کہ کل ہم ایسے مقام پر قیام کریں گے جس میں بیٹھ کر ہمارے دشمن قریش مکہ نے مسلمانوں کے خلاف مقاطعہ کی قرارداد پر معاہدہ کیا تھا، اس میں اشارہ ہے کہ جب مسلمانوں کو حق تعالیٰ نے فتح و قوت عطا فرمادی تو اپنے پچھلے مصیبت کے دور کو نہ بھلا دیں، تاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا ہوسکے، ہوازن کے شکست خوردہ لوگوں کے بار بار حملہ آور ہونے اور تیر برسانے کے جواب میں رحمۃ للعالمین کی زبان مبارک سے بددعا کے بجائے ان کے لئے ہدایت کی دعا مسلمانوں کو یہ سبق دے رہی ہے کہ مسلمانوں کی جنگ و جہاد کا مقصد صرف دشمن کو زیر کرنا نہیں، بلکہ ان کو ہدایت پر لانا ہے، اس لئے اس کی کوشش سے کسی وقت غفلت نہ ہونی چاہئے۔ تیسری آیت نے یہ ہدایت کردی کہ جو کفار مقابلہ میں مغلوب ہوجائیں ان سے بھی مایوس نہ ہوں کہ شاید اللہ تعالیٰ ان کو پھر اسلام و ایمان کی ہدایت دیدیں، جیسا کہ وفد ہوازن کے واقعہ اسلام سے ثابت ہوا۔ وفد ہوازن کی درخواست پر ان کے جنگی قیدیوں کی واپسی کے وقت جب صحابہ کرام کے مجمع سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال کیا اور مجمع کی طرف سے یہ آوازیں آئیں کہ ہم سب انکی واپسی کے لئے خوشدلی سے رضا مند ہیں، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کافی نہ سمجھا بلکہ جدا جدا ہر ایک کی اجازت معلوم کرنے کا اہتمام فرمایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ حقوق کے معاملہ میں جب تک خوش دلی کا اطمینان نہ ہوجائے کسی کا حق لینا جائز نہیں، مجمع کے رعب یا لوگوں کی شرم سے کسی کا خاموش رہنا رضا مندی کے لئے کافی نہیں، اسی سے حضرات فقہاء نے فرمایا ہے کہ کسی شخص پر اپنی وجاہت کا رعب ڈال کر کسی دینی مقصد کے لئے چندہ کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ ایسے حالات میں بہت سے شریف آدمی محض شرما شرمی کچھ دیدیتے ہیں، پوری رضا مندی نہیں ہوتی، اس طرح کے مال میں برکت بھی نہیں ہوتی۔