Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 38

سورة التوبة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَا لَکُمۡ اِذَا قِیۡلَ لَکُمُ انۡفِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اثَّاقَلۡتُمۡ اِلَی الۡاَرۡضِ ؕ اَرَضِیۡتُمۡ بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا مِنَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۳۸﴾

O you who have believed, what is [the matter] with you that, when you are told to go forth in the cause of Allah , you adhere heavily to the earth? Are you satisfied with the life of this world rather than the Hereafter? But what is the enjoyment of worldly life compared to the Hereafter except a [very] little.

اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ چلو اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو ۔ کیا تم آخرت کے عوض دنیا کی زندگانی پر ریجھ گئے ہو ۔ سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں کچھ یونہی سی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Admonishing clinging to Life rather than rushing to perform Jihad Allah admonishes those who lagged behind the Messenger of Allah in the battle of Tabuk, at a time when fruits were ripe and shades tempting in the intense and terrible heat, يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ ... O you who believe! What is the matter with you, that when you are asked to march forth in the cause of Allah, if you are called to perform Jihad in the cause of Allah, ... اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الاَرْضِ ... you cling heavily to the earth, reclining to remain in peace, shade and ripe fruits. ... أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الاخِرَةِ ... Are you pleased with the life of this world rather than the Hereafter, why do you do this, is it because you prefer this life instead of the Hereafter Allah. next diminishes the eagerness for this worldly life and increases it for the Hereafter, ... فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الاخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ But little is the enjoyment of the life of this world compared to the Hereafter. Imam Ahmad recorded that Al-Mustawrid, a member of Bani Fihr, said that the Messenger of Allah said, مَا الدُّنْيَا فِي الاْاخِرَةِ إِلاَّ كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ The life of this world, compared to the Hereafter, is just like when one of you dips his finger in the sea, let him contemplate how much of it his finger would carry? The Prophet pointed with his index finger. Muslim collected this Hadith. Ath-Thawri narrated that Al-A`mash said about the Ayah, فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الاخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ (But little is the enjoyment of the life of this world compared to the Hereafter). "What compares to the provision a traveler takes." Abdul-Aziz bin Abi Hazim narrated that his father said, "When Abdul-Aziz bin Marwan was dying he said, `Bring the shroud I will be covered with so that I inspect it.' When it was placed before him, he looked at it and said, `Is this what I will end up with from this life!' He then turned his back and cried, while saying, `Woe to you, O life! Your abundance is truly little, your little is short lived, we were deceived by you."' Allah warns those who do not join Jihad,

غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے ۔ ایسے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دور دراز کے سفر کے لئے تیار ہوگئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کے لئے سب سے فرما دیا کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں جو تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ کی راہ کے جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو ۔ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں کی ہوس میں آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو؟ سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت سے ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثبوات دیتا ہے آپ نے فرمایا بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے پھر آپ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ دنیا جو گذر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے ۔ مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا زیادہ بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے ۔ پھر ترک جہاد پر اللہ تعالیٰ ڈانٹتا ہے کہ سخت درد ناک عذاب ہوں گے ۔ ایک قبیلے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لئے بلوایا وہ نہ اٹھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی ۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں اترانا مت کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کا دوسرے لوگوں کو مددگار کر دے گا ۔ جو تم جیسے نہ ہوں گے ۔ تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں ۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کر سکتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ ( اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 41؀ ) 9- التوبہ:41 ) اور ( مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ ١٢٠؀ۙ ) 9- التوبہ:120 ) یہ سب آیتیں ( وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً ۭ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ ١٢٢؀ۧ ) 9- التوبہ:122 ) سے منسوخ ہیں لیکن امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لئے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہو جائیں فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] غزوہ تبوک میں مسلمانوں کے مقابل اتحادی & عیسائی & مشرک قبائل & مدینہ کے منافق اور یہود :۔ یہاں سے ایک بالکل نیا مضمون یعنی غزوہ تبوک کا آغاز ہو رہا ہے جس کا پس منظر یہ تھا کہ مکہ اور حنین کی فتح کے بعد جب عرب بھر میں اسلام کا بول بالا ہوگیا تو شام کی سرحد پر بسنے والے عرب قبائل اور ان کے بادشاہ غسان نے جو قیصر روم کے ماتحت تھے، مسلمانوں کی ان کامیابیوں کو اپنے لیے عظیم خطرہ سمجھا اور مسلمانوں بلکہ اسلام کی کمر توڑنے کے لیے ایک فیصلہ کن جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔ دوسری طرف عرب بھر میں شکست خوردہ مشرکین اس کی مدد کو موجود تھے اور تیسری طرف مدینہ کے منافقین نے ابو عامر راہب کی وساطت سے غسان اور قیصر روم سے ساز باز شروع کر رکھی تھی۔ یہود بھی ان منافقوں کا ساتھ دے رہے تھے اور منافقوں نے اسی ساز باز کی غرض سے مسجد ضرار بھی تعمیر کی تھی۔ گویا کفر کی اندرونی اور بیرونی طاقتیں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف تھیں۔ آپ کو شام کی سرحد پر رومی فوجوں کے عظیم اجتماع کی خبریں دم بدم پہنچ رہی تھیں۔ مسلمانوں کے حالات کی ناساز گاری :۔ دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں قحط سالی کا دور دورہ تھا۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ فصلیں پکنے کے قریب تھیں۔ فاصلہ دور کا اور پر مشقت تھا سامان اور سواریوں کی کمی تھی اور مقابلہ اس عظیم طاقت سے تھا جس نے حال ہی میں کسریٰ شاہ ایران کو شکست دے کر دنیا پر اپنے رعب و دبدبہ کی دھاک بٹھا رکھی تھی۔ گویا ہر لحاظ سے یہ حق و باطل کی فیصلہ کن جنگ تھی۔ انہیں حالات میں اللہ کا نام لے کر آپ نے شاہ روم سے ٹکر لینے کا فیصلہ کرلیا اور مسلمانوں میں عام اعلان جہاد کردیا۔ اور معمول کے خلاف سب کو صاف صاف بتلا دیا کہ شام کو جانا ہے اور ملک غسان اور قیصر کے مقابلہ کے لیے جانا ہے ان حالات میں منافقوں کا جنگ سے جی چرانا تو فطری امر تھا بعض کمزور دل اور ضعیف اعتقاد والے مسلمان بھی تذبذب میں پڑگئے تھے۔ اس آیت میں انہیں ہی خطاب کیا جا رہا ہے اور جہاد کی پرزور ترغیب دی جا رہی ہے۔ [٤١] جہاد میں عدم شمولیت سے تم زیادہ سے زیادہ اپنی جانیں یا کچھ مال بچا لو گے۔ فصلیں کاٹ لو گے یا سفر کی صعوبتوں سے بچ جاؤ گے اور یہ سب مفادات جنت کی دائمی نعمتوں کے مقابلہ میں کچھ قدر و قیمت نہیں رکھتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا : سورت کے شروع سے لے کر ٣٧ آیات تک عرب کے مشرکین سے اعلان براءت اور اہل کتاب سے مسلمانوں کے تعلقات اور جہاد کے بنیادی احکام، بدر اور حنین کے واقعات اور ان میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور غیبی مدد کا تفصیلی ذکر کرنے کے بعد اب جنگ تبوک کا تفصیلی ذکر اور اس میں منافقین کے کردار کو کھول کر بیان کیا گیا ہے اور اس جنگ سے پیچھے رہنے والوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے، اس لیے اس سورت کو فاضحہ یعنی منافقین کو رسوا کرنے والی بھی کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں جہاد پر ابھارنے کے لیے وعدہ و وعید، انذار وتبشیر اور ثواب و عذاب وغیرہ کے بیان کے کئی طریقے اختیار کیے گئے ہیں، اس لیے اس کا نام بحوث یعنی نہایت ابھارنے والی سورت بھی ہے۔ علمائے تفسیر متفق ہیں کہ یہاں سے ان لوگوں پر عتاب کا آغاز ہوتا ہے جو غزوۂ تبوک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیچھے رہے تھے، جب پھل تیار تھے، گرمی شدید تھی اور سائے نہایت خوش گوار محسوس ہو رہے تھے، اس لیے بعض نام نہاد مسلمان جہاد پر روانہ ہونے سے جی چرانے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے بات شروع ہی ایمان کو حرکت دینے سے کی ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہیں کیا ہوگیا ؟ اپنے ایمان کے تقاضے ہی پر غور کرو، کیا اس کا تقاضا یہی ہے جو جہاد کے لیے نکلنے کے حکم پر تم اختیار کر رہے ہو۔ ” اثَّاقَلْتُمْ “ اصل میں ” تَثَاقَلْتُمْ “ تھا جو باب تفاعل سے ہے۔ ” ثَقُلَ “ سے بڑھا کر تفاعل میں لے جا کر بھاری ہونے کے مفہوم کو انتہا تک پہنچانے کے لیے لفظ بھی آخری حد تک بھاری بنادیا ” اثَّاقَلْتُمْ “ یعنی نہایت بھاری اور بوجھل ہوجاتے ہو کہ اٹھانے سے نہیں اٹھتے، اس کا باعث اس کے سوا کیا ہے کہ تم آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کے معمولی، حقیر اور ناپائدار سازو سامان پر جو کسی وقت بھی چھن جائے گا، اس آخرت کے مقابلے میں راضی ہوگئے ہو جو ہمیشہ رہنے والی ہے اور جس میں وہ نعمتیں ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ان کا خیال ہی کسی انسان کے دل میں آیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو دنیا کی زندگی کا یہ سازو سامان تو آخرت کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑا ہے، کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ اس کی مثال تو سمندر کے مقابلے میں انگلی ڈبونے سے اس پر لگنے والے پانی کی سی ہے، جیسا کہ مستورد (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرمایا ہے۔ [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فناء الدنیا ۔۔ : ٢٨٥٨ ] تبوک ایک مشہور مقام کا نام ہے جو مدینہ سے شمال کی طرف تقریباً چھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد ٩ ھ میں پیش آیا۔ اس غزوے کا پس منظر یہ تھا کہ ملک شام پر قبیلہ غسان حکمران تھا، جو شاہ روم کے تابع تھا، اسے یہ فکر لاحق ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جزیرۂ عرب سے فارغ ہوچکے ہیں، اب ہماری باری ہے تو کیوں نہ شاہ روم کو بلا کر عرب پر پہلے ہی چڑھائی کردی جائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ سرزمین عرب سے نکل کر دشمن کے علاقے، یعنی شام میں جا کر انھیں عرب پر حملے سے روکا جائے، چونکہ سفر بہت مشکل اور لمبا تھا، فصل کی کٹائی کا موسم تھا اور سواریاں اور سامان حرب بھی پوری طرح میسر نہ تھا، اس لیے اسے جیش العسرۃ ” تنگی کے زمانے کا لشکر “ کہا جاتا ہے۔ اس لیے اگرچہ اس سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول یہی تھا کہ آپ جب کہیں حملہ کرنا چاہتے تو توریہ کرتے، یعنی اصل جگہ کی نشان دہی کے بجائے ادھر ادھر کے متعلق لوگوں سے حالات معلوم کرتے، تاکہ لوگوں کو حملے کے اصل مقام کا پتا نہ چلے، لیکن اب آپ نے لوگوں کو صاف الفاظ میں اپنا ہدف واضح کردیا اور سب کو نکلنے کا حکم دیا۔ تقریباً تیس ہزار مجاہد تیار ہوگئے۔ آپ نے اس سے پہلے شاہ روم کو خط بھی لکھا تھا جس میں اسے دین اسلام کی دعوت دی۔ وہ اسلام لانے پر آمادہ بھی ہوگیا، لیکن قوم نے اس کا ساتھ نہ دیا، اس لیے وہ اسلام سے محروم رہا۔ اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو لے کر تبوک پہنچ گئے اور دشمن کا بیس دن تک انتظار کرتے رہے، مگر کسی میں مقابلے پر آنے کی جرأت نہ ہوئی، نہ ہی کوئی جنگ ہوئی، اس علاقے کے اور اردگرد کے لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اطاعت کا عہد کیا، اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے۔ آپ دشمن کو خوف زدہ کرکے اسلام کی دھاک بٹھا کر کامیاب فاتح ہو کر واپس تشریف لائے۔ پھر عمر (رض) کے زمانے میں سارا ملک شام فتح ہوگیا اور اسرائیل کے مقبوضہ حصے کے سوا اب تک اسلام کے زیر نگین ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The verses quoted above describe an important battle from among those fought by the Holy Prophet As a corollary, also given there are many injunctions and instructions. This battle is known as the battle of Tabuk and is almost the last battle of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Tabuk is the name of a place located close to the Syrian border towards the north of Madinah. Syria was, at that time, a province of the government controlled by Byzantine Christians. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reached Madinah in the 8th year of Hijrah after the conquest of Makkah and the battle of Hunain, that was a time ma¬jor parts of the Arabian Peninsula had come under the control of the Islamic state. This was a period of some peace Muslims could enjoy af¬ter their eight year long battles against the Mushriks of Makkah. But, destiny has its own workings. Is it not that Allah had already revealed about the blessed person of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . لِیُظھِرَہ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ (so that He makes it prevail over every faith - 9:33, 48:28, 61:9) which was the glad tidings of a world of victories and the ascen¬dancy of the Faith of Truth? The Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his companions in the mission would hardly have the respite to relax. Soon after they reached Madinah, Syrian traders of olive oil informed them that the Byzantine ruler, Hiraql had assembled his forces at Tabuk on the border of Syria. They were also told that soldiers of the Byzantine army had been placated by the payment of advance salaries for one year and that they had sinister understanding with some Arab tribes and that they all had plans to mount a surprise attack on Madinah. When this information reached the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) he decided that their attack plans should be pre-empted and they should be challenged where they are gathered together with their forces. (Tafsir Mazhari, with reference to Muhammad ibn Yusuf Salihi) By chance, this was a terribly hot summer. People in Madinah were generally devoted to agriculture. Their farms were close to being harvested. On this depended their economy, rather the sustenance of the whole year. Like people in vocations who have empty pockets by the end of the month, people who depend on agricultural produce are empty-handed close to the harvesting time. On the one hand, they have poverty while on the other, they have hopes of income in the near future. Then, there was this scorching heat of the summer for a people who had their first breather after eight years of incessant wars. No doubt, this was an exacting trial. But, equally crucial was the time. This Jihad was different. It was not like the wars they had fought before. At that time, they were fight¬ing common people like them. Here, they were to confront the trained armed forces of Hiraql, the ruler of Byzantine. Therefore, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ordered all Muslims of Madinah to come out for this Jihad. He also invited some other tribes living around Madinah to join in. This general call was a tough test for those who were willing to make sacrifices for Islam as well as a challenge to the hypocrites who would have to prove their claim to be Muslims by joining the Jihad or be exposed as false pretenders. Apart from this consideration, the in¬evitable consequence was that those who professed belief in Islam re-acted to the call in terms of the conditions they were in. The Holy Qur&an has enumerated them as separate groups of people and has pointed out to their condition as well. The first group included those who were strong and perfect in their faith. They were ready for Jihad without any hesitation. The second group was composed of those who hesitated at the initial stage but, later on, joined up with those ready for Jihad. About these two groups of people, the Holy Qur&an said: الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَ‌ةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِ‌يقٍ مِّنْهُمْ (... who followed him in the hour of hardship after the hearts of a group of them were about to turn crooked - 9:117). The third group was of those who were unable to join this Jihad on the basis of some genuine excuse. About that, by saying: لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْ‌ضَىٰ (There is no blame on the weak, nor on the sick - 9:91), the Holy Qur&an has an¬nounced the acceptance of their excuse. Belonging to the fourth group were people who, despite that they had no excuse to offer, simply did not participate in the Jihad out of sheer laziness. Several verses were revealed about them, for example: وَآخَرُ‌ونَ اعْتَرَ‌فُوا بِذُنُوبِهِمْ there are others who admitted their sins - 9:102), and: وَآخَرُ‌ونَ مُرْ‌جَوْنَ لِأَمْرِ‌ اللَّـهِ & (d there are oth¬ers whose matter is deferred till the command of Allah [ comes ] - 9:106), and: وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا (And [ He relented ] towards the three whose matter was deferred - 9:118). These three verses were revealed about simi¬lar people. They carry admonition for their inertia as well as the good news that their Taubah or repentance has been accepted. The fifth group was that of the hypocrites, the munafiqs. Their hy¬pocrisy was deep seated and saying yes to Jihad was hard. Finally, they failed to cover it up and stayed away from Jihad. Hypocrites have been mentioned in the verses of the Qur&an on many places. The sixth group included munafiqs who had joined up with Mus¬lims with the objective of spying and mischief making. The Holy Qur&an mentions their conduct in the following verses: { 1} وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ & (And among you there are their listeners - 9:47); { 2} وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ & (and if you ask them, they will say - 9:65); { 3} وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا (And had planned for what they could not achieve - 9:74). Given above were details about those who stayed away from the Jihad. But, the fact is that their total number was negligible. The majority did belong to those Muslims who, despite many prohibitive factors, chose to sacrifice all gains and comforts and were ready to face expected hardships in the way of Allah. This is the reason why the total number of the Islamic army which set out for this Jihad was thirty thousand - a number never seen in a Jihad before. The outcome of this Jihad expedition was that Hiraql, the Byzan¬tine ruler - when he heard about such a large Muslim force coming up against him - was overtaken by awe. He simply did not turn up on the battlefield. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) camped on the war front with the army of his angelic companions for a few days in the hope that the enemy may decide to come. When totally disappointed, he re-turned back to Madinah. The verses quoted above obviously relate to the fourth group of people who did not take part in the Jihad because of their inertia and without any valid excuse. In the beginning of this set of verses, they were admonished for their lethargy, then, they were told why they be¬haved the way they did and, finally, they were told how to correct themselves. This wise approach unfolds major lessons. Regard for Dunya and Disregard for Akhirah: The Root of all Crimes No doubt, what has been said above is related to a particular event. But, if we were to think about it, we shall realize that the real cause of negligence towards faith - and of every crime and sin - is nothing but this love for the material and heedlessness towards the life to come. Therefore, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: حُبُّ الدُّنیَا رَاسُ کُلِّ خَطِیٔۃِ (The love for Dunya [ material life of the present world ] is at the top of every error and sin). That is why it was said in the verse: O those who believe, what is wrong with you that, when it is said to you, |"Come out in the way of Allah,|" you turn heavy (and cling) to the ground. Have you become happy with the worldly life instead of the Hereafter? - 38. This was the diagnosis of the disease. Its treatment appears next when it was said: So, the enjoyment of the worldly life is but little as compared with the Hereafter - 38. The thrust of the argument is that one&s major concern in life should be that of the eternal life in Akhirah. It is this concern for the Akhirah that offers the only and the most perfect treatment of all dis¬eases. Incidentally, this also happens to be the master prescription for eradication of crimes that bother human societies all over the world. The ` Aqa&id of Islam (articles of faith) are based on three principles: (1) Tauhid (Oneness of Allah); (2) Risalah (the true mission of the mes¬senger and prophet sent by Allah) and (3) Akhirah (Hereafter). Out of these, the belief in Akhirah is, in all reality, the moving spirit for cor¬rection of deeds and serves as an iron wall before crimes and sins. A little thought would make it amply clear that there can be no peace in the world without subscribing to this belief. The world as we see it to-day has reached its zenith in terms of its material progress. Then, there is no dearth of functional solutions and plans designed to eradi¬cate crimes. Laws proliferate. So does the administrative machinery to interpret and implement the objective. No doubt, there is progress in those terms. But, along with it, everyone is witnessing crimes increas¬ing day by day, everywhere, in all societies. The reason, in our humble view, is no other but that the disease has not been properly diagnosed and the line of treatment is not sound. The root of the disease is mate¬rialism, excessive indulgence in the temporal and negligence or avoid¬ance of the thought of any life to come. The only way this frame of mind can be corrected is to remember Allah and think about the Akhirah, the life to come. Whenever and wherever in this world this master prescription was used, whole nations and their societies became mod¬els of humanity at its best earning the admiration of angels. That this happened during the blessed period of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and during the age of his noble Companions, is sufficient as its proof.

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو تم لوگوں کو کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں ( یعنی جہاد کے لئے) نکلو تو تم زمین کو لگے جاتے ہو ( یعنی اٹھتے اور چلتے نہیں) کیا تم نے آخرت کے عوض دنیاوی زندگی پر قناعت کرلی سو دنیوی زندگی کی تمتع تو کچھ بھی نہیں بہت قلیل ہے اگر تم ( اس جہاد کے لئے) نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو سخت سزا دے گا، ( یعنی تم کو ہلاک کردے گا) اور تمہارے بدلے دوسری قوم پیدا کردے گا، ( اور ان سے اپنا کام لے گا) اور تم اللہ ( کے دین) کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکو گے، اور اللہ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے اگر تم لوگ رسول (اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد نہ کرو گے تو ( اللہ آپ کی مدد کرے گا، جیسا کہ) اللہ تعالیٰ آپ کی مدد اس وقت کرچکا ہے جبکہ ( اس سے زیادہ مصیبت و پریشانی کا وقت تھا جبکہ) آپ کو کافروں نے ( تنگ کر کر کے مکہ سے) جلا وطن کردیا تھا جبکہ دو آدمیوں میں ایک آپ تھے ( اور دوسرے حضرت ابوبکر صدیق آپ کے ہمراہ تھے) جس وقت کہ دونوں ( صاحب) غار ( ثور) میں ( موجود) تھے جبکہ آپ اپنے ہمراہی سے فرما رہے تھے کہ تم ( کچھ) غم نہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ ( کی مدد) ہمارے ہمراہ ہے سو ( وہ مدد یہ ہوئی کہ) اللہ تعالیٰ نے آپ ( کے قلب) پر اپنی ( طرف سے) تسلی نازل فرمائی اور آپ کو ( ملائکہ کے) ایسے لشکروں سے قوت دی جن کو تم لوگوں نے نہیں دیکھا، اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات ( اور تدبیر) سچی کردی ( کہ وہ ناکام رہے) اور اللہ ہی کا بول بالا رہا ( کہ ان کی تدبیر اور حفاظت غالب رہی) اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ( اسی لئے اس کی بات اور حکمت غالب رہی جہاد کیلئے) نکل پڑو ( خواہ) تھوڑے سے سامان سے ( ہو) اور ( خواہ) زیادہ سامان سے ( ہو) اور اللہ ہی کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم یقین رکھتے ہو، ( تو دیر مت کرو) اگر کچھ لگتے ہاتھ ملنے والا ہوتا اور سفر بھی معمولی ہوتا تو یہ ( منافق) لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہو لیتے لیکن ان کو تو مسافت ہی دور دراز معلوم ہونے لگی ( اس لئے یہاں ہی رہ گئے) اور ابھی ( جب تم لوگ واپس آؤ گے تو) خدا کی قسمیں کھا جائیں گے کہ اگر ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے، یہ لوگ ( جھوٹ بول بول کر) اپنے آپ کو تباہ ( یعنی مستحق عذاب) کررہے ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں ( بلا شبہ انکو استطاعت تھی اور پھر یہ نہیں گئے ) ۔ معارف ومسائل آیات مذکورہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات میں سے ایک اہم غزوہ کا بیان اور اس کے ضمن میں بہت سے احکام اور ہدایات ہیں، یہ غزوہ غزوہ تبوک کے نام سے موسوم ہے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تقریبا آخری غزوہ ہے۔ تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے، شام اس وقت رومی مسیحیوں کی حکومت کا ایک صوبہ تھا، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٨ ہجری میں جب فتح مکہ اور غزوہ حنین سے فارغ ہو کر مدینہ طیبہ پہنچے تو اس وقت جزیرة العرب کے اہم حصے اسلامی حکومت کے زیر نگیں آچکے تھے اور مشرکین مکہ کی ہشت سالہ مسلسل جنگوں کے بعد اب مسلمانوں کو ذرا سکون کا وقت ملا تھا۔ مگر جس ذات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی (آیت) لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ، نازل فرما کر پورے عالم کی فتوحات اور اس میں اپنے دین حق کو غالب کرنے کی بشارت دے دیتھی اس کو اور اس کے رفقاء کار کو فرصت کہاں، مدینہ پہونچتے ہی ملک شام سے آنے والے تجارت پیشہ لوگ جو شام سے زیتون کا تیل لا کر مدینہ وغیرہ میں فروخت کیا کرتے تھے، ان لوگوں نے یہ خبر پہنچائی کہ شاہ روم ہرقل نے اپنی فوجیں مقام تبوک میں سرحد شام پر جمع کردی ہیں اور فوجیوں کو پورے ایک سال کی تنخواہیں پیشگی دے کر مطمئن اور خوش کردیا ہے، اور عرب کے بعض قبائل سے بھی ان کی سازباز ہے ان کا تہیہ یہ ہے کہ مدینہ پر یکبارگی حملہ کریں۔ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے یہ ارادہ فرمالیا کہ ان کے حملہ آور ہونے سے پہلے پیش قدمی کر کے وہیں مقابلہ کیا جائے جہاں ان کی فوجیں جمع ہیں ( تفسیر مظہری بحوالہ محمد بن یوسف صالحی ) ۔ یہ زمانہ اتفاق سے سخت گرمی کا زمانہ تھا، اور مدینہ کے حضرات عموماً زراعت پیشہ لوگ تھے، ان کی کھیتیاں اور باغات کے پھل پک رہے تھے جس پر ان کی ساری معیشت اور پورے سال کے گذارہ کا مدار تھا اور یہ بھی معلوم ہے کہ جس طرح ملازمت پیشہ لوگوں کی جیبیں مہینہ کے آخر میں دنوں میں خالی ہوجاتی ہیں اسی طرح زراعت پیشہ لوگ فصل کے ختم پر خالی ہاتھ ہوتے ہیں، ایک طرف افلاس دوسری طرف قریب آمدنی کی امید، اس پر مزید موسم گرما کی شدت اس قوم کے لئے جس کو ابھی ابھی ایک حریف کے ساتھ آٹھ سال مسلسل جنگوں کے بعد ذرا دم لینے کا موقع ملا تھا، ایک انتہائی صبر آزما امتحان تھا۔ مگر وقت کا تقاضا تھا اور یہ جہاد اپنی نوعیت میں پہلی سب جنگوں سے اس لئے بھی ممتاز تھا کہ پہلے تو اپنی ہی طرح کے عوام سے جنگ تھی، اور یہاں ہرقل شاہ روم کی تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ تھا، اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ نے مدینہ طیبہ کے پورے مسلمانوں کو اس جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دیدیا، اور کچھ آس پاس کے دوسرے قبائل کو بھی شرکت جہاد کے لئے دعوت دی تھی۔ یہ اعلان عام اسلام کے فدا کاروں کا ایک سخت امتحان تھا، اور منافق دعویداروں کا امتیاز بھی، اس کے علاوہ لازمی نتیجہ کے طور پر اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں کے مختلف حالات ہوگئے، قرآن کریم نے ان میں سے ہر حالت کے متعلق جدا جدا ارشادات فرمائے ہیں۔ ایک حالت ان کامل مکمل حضرات کی تھی جو بلا تردد جہاد کے لئے تیار ہوگئے، دوسرے وہ لوگ جو ابتداء کچھ تردد کے بعد ساتھ ہوگئے، ان دونوں طبقوں کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا (آیت) الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ، یعنی وہ لوگ قابل مدح ہیں جنہوں نے سخت تنگی کے وقت رسول کریم کا اتباع کیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک فریق کے قلوب لغزش کرنے لگے تھے۔ تسیری حالت ان لوگوں کی تھی جو کسی صحیح عذر کی بنا پر اس جہاد میں نہ جاسکے، اس کے متعلق قرآن کریم نے آیت (آیت) لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى، میں ان کے عذر کی قبولیت کا اظہار فرمادیا۔ چوتھی قسم ان لوگوں کی تھی جو باوجود کوئی عذر نہ ہونے کے کاہلی کے سبب جہاد میں شریک نہیں ہوئے ان کے متعلق کئی آیتیں نازل ہوئیں (آیت) وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ اور وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اور وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا، تینوں آیتیں ایسے ہی حضرات کے بارے میں نازل ہوئیں، جن میں ان کی کاہلی پر زجر و تنبیہ بھی ہے اور بالاخر ان کی توبہ کے قبول ہونے کی بشارت بھی۔ پانچواں طبقہ منافقین کا تھا جو اپنے نفاق کی وجہ سے اس سخت امتحان میں اپنے نفاق کو چھپا نہ سکا اور شرکت جہاد سے الگ رہا، اس طبقہ کا ذکر بہت سی آیات میں آیا ہے۔ چھٹا طبقہ ان منافقین کا تھا جو جاسوسی اور شرارت کے لئے مسلمانوں کے ساتھ ہو لیا تھا ان کی حالت کا ذکر قرآن کریم کی ان آیات میں ہے : وَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ ۔ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ ۔ وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا۔ لیکن اس ساری سختی اور تکلیف کے باوجود شرکت جہاد سے باز رہنے والوں کی مجموعی تعداد پھر بھی برائے نام تھی، بھاری اکثریت انہی مسلمانوں کی تھی جو اپنے سارے منافع اور راحت کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں ہر طرح کی مشقت برداشت کرنے کے لئے تیار ہوگئے، اسی لئے اس جہاد میں نکلنے والے اسلامی شکر کی تعداد تیس ہزار تھی، جو اس سے پہلے کسی جہاد میں نظر نہیں آئی۔ نتیجہ اس جہاد کا یہ ہوا کہ جب ہرقل شاہ روم کو مسلمانوں کی اتنی بڑی جمعیت کے مقابلہ پر آنے کی خبر پہنچی تو اس پر رعب طاری ہوگیا، مقابلہ پر نہیں آیا، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے فرشتہ خصلت صحابہ کرام کے لشکر کے ساتھ چند روز محاذجنگ پر قیام کرکے جب مخالف کے مقابلہ پر آنے سے مایوس ہوگئے تو واپس تشریف لے آئے۔ جو آیتیں اوپر لکھی گئی ہیں بظاہر ان کا تعلق اس چوتھی جماعت سے ہے جو بغیر کسی صحیح عذر کے اپنی سستی اور کاہلی کی بنا پر شریک جہاد نہیں ہوئے، پہلی آیت میں ان کو اس کاہلی اور غفلت پر تنبیہ کی گئی اور اس کے ساتھ ان کے اس مرض غفلت و کاہلی کا سبب اور پھر اس کا علاج بھی ارشاد فرمایا گیا، جس کے ضمن میں یہ بھی واضح ہوگیا کہ : دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت تمام جرائم کی بنیاد ہے : کیونکہ مرض کا جو سبب اور علاج اس جگہ بیان فرمایا گیا ہے اگرچہ اس جگہ اس کا تعلق ایک خاص واقعہ سے تھا، لیکن اگر غور کیا جائے تو ثابت ہوگا کہ دین کے معاملہ میں ہر کوتاہی سستی اور غفلت اور تمام جرائم اور گناہوں کا اصلی سبب یہی دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت ہے اسی لئے حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : حب الدنیا راس کل خطیئۃ، یعنی دنیا کی محبت ہر خطاء و گناہ کی بنیاد ہے اسی لئے آیت مذکورہ میں فرمایا گیا کہ : اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تمہیں اللہ کے راستہ میں نکلنے کے لئے کہا جاتا ہے تو تم زمین کو لگے جاتے ہو ( حرکت کرنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت کے بدلے صرف دنیا کی زندگی پر مگن ہوگئے۔ تشخیص مرض کے بعد اس کا علاج اگلے جملہ میں اس طرح ارشاد ہوا کہ : دنیوی زندگی سے نفع اٹھانا تو کچھ بھی نہیں بہت قلیل و حقیر ہے “ جس کا حاصل یہ ہے کہ بڑی فکر آخرت کی دائمی زندگی کی چاہئے، اور یہ فکر آخرت ہی درحقیقت سارے امراض کا واحد اور مکمل علاج ہے اور انسداد جرائم کے لئے بےنظر نسخہ اکسیر ہے۔ عقائد اسلام کے بنیادی اصول تین ہیں، توحید، رسالت اور آخرت، ان میں عقیدہ آخرت درحقیقت اصلاح عمل کی روح اور جرائم اور گناہوں کے آگے ایک آہنی دیوار ہے، اگر غور کیا جائے تو بدیہی طور پر معلوم ہوگا کہ دنیا میں امن و سکون اس عقیدہ کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا آج کی دنیا میں مادی ترقیات اپنے شباب کو پہنچی ہوئی ہیں، جرائم کے انسداد کے لئے بھی کسی ملک و قوم میں مادی تدبیروں کی کوئی کمی نہیں، قانون کی جکڑ بندی اور اس کے لئے انتظامی مشینری روز بروز ترقی پر ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی آنکھوں دیکھا حال ہے کہ جرائم ہر جگہ اور ہر قوم میں روز بروز ترقی ہی پر ہیں، ہماری نظر میں اس کی وجہ اس کے سوا نہیں کہ مرض کی تشخیص اور علاج کا رخ صحیح نہیں، مرض کا سرچشمہ مادہ پرستی اور مادیات میں انہماک اور آخرت سے غفلت و اعراض ہے، اور اس کا واحد علاج ذکر اللہ اور آخرت کی فکر ہے، جس وقت اور جس جگہ بھی دنیا میں اس اکسیری نسخہ کو استعمال کیا گیا پوری قوم اور اس کا معاشرہ صحیح انسانیت کی تصویر بن کر فرشتوں کے لئے قابل رشک ہوگیا، عہد رسالت اور عہد صحابہ کرام کا مشاھدہ اس کے لئے کافی دلیل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ۝ ٠ ۭ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ۝ ٠ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِيْلٌ۝ ٣٨ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) نفر النَّفْرُ : الانْزِعَاجُ عن الشیءِ وإلى الشیء، کالفَزَعِ إلى الشیء وعن الشیء . يقال : نَفَرَ عن الشیء نُفُوراً. قال تعالی: ما زادَهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ فاطر/ 42] ، وَما يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ الإسراء/ 41] ونَفَرَ إلى الحربِ يَنْفُرُ ويَنْفِرُ نَفْراً ، ومنه : يَوْمُ النَّفْرِ. قال تعالی: انْفِرُوا خِفافاً وَثِقالًا [ التوبة/ 41] ، إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذاباً أَلِيماً [ التوبة/ 39] ، ما لَكُمْ إِذا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 38] ، وَما کانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ [ التوبة/ 122] . ( ن ف ر ) النفر ( عن کے معی کسی چیز سے رو گردانی کرنے اور ( الی کے ساتھ ) کسی کی طرف دوڑنے کے ہیں جیسا کہ نزع کا لفظ الیٰ اور عن دونوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے محاورہ ہے نفر عن الشئی نفورا کسی چیز سے دور بھاگنا ۔ قرآن میں ہے ما زادَهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ فاطر/ 42] تو اس سے ان کی نفرت ہی بڑھی ۔ وَما يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ الإسراء/ 41] مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں ۔ نفر الی الحرب ( ض ن ) نفر لڑائی کیلئے نکلنا اور اسی سی ذی الحجہ کی بار ھویں تاریخ کو یوم النفر کہا جاتا ہے کیوں کہ اس روز حجاج منیٰ سے مکہ معظمہ کو واپس ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے انْفِرُوا خِفافاً وَثِقالًا[ التوبة/ 41] تم سبکسار ہو یا گراں بار ( یعنی مال واسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت گھروں سے نکل آؤ ۔ إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذاباً أَلِيماً [ التوبة/ 39] اگر نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا ۔ ما لَكُمْ إِذا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 38] تمہیں کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو وما کان الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ [ التوبة/ 122] اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہیں کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ ثقل الثِّقْل والخفّة متقابلان، فکل ما يترجح علی ما يوزن به أو يقدّر به يقال : هو ثَقِيل، وأصله في الأجسام ثم يقال في المعاني، نحو : أَثْقَلَه الغرم والوزر . قال اللہ تعالی: أَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ [ الطور/ 40] ، والثقیل في الإنسان يستعمل تارة في الذم، وهو أكثر في التعارف، وتارة في المدح ( ث ق ل ) الثقل یہ خفۃ کی ضد ہے اور اس کے معنی بھاری اور انبار ہونا کے ہیں اور ہر وہ چیز جو وزن یا اندازہ میں دوسری پر بھاری ہو اسے ثقیل کہا جاتا ہے اصل ( وضع ) کے اعتبار سے تو یہ اجسام کے بھاری ہونے پر بولا جاتا ہے لیکن ( مجاز ) معانی کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے : ۔ اسے تادان یا گناہ کے بوجھ نے دبالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ [ الطور/ 40] اے پیغمبر ) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تادان کا بوجھ پڑرہا ہے ، اور عرف میں انسان کے متعلق ثقیل کا لفظ عام طور تو بطور مذمت کے استعمال ہوتا ہے اور کبھی بطور مدح بھی آجاتا ہے أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقال عزّ وجلّ : وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] ، والرِّضْوَانُ : الرّضا الکثير، ولمّا کان أعظم الرِّضَا رضا اللہ تعالیٰ خصّ لفظ الرّضوان في القرآن بما کان من اللہ تعالی: قال عزّ وجلّ : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] ، وقال تعالی: يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] ، وقال : يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ، وقوله تعالی: إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، أي : أظهر كلّ واحد منهم الرّضا بصاحبه ورَضِيَهُ. ( ر ض و ) رضی ( س ) رضا فھو مرضی و مرضو ۔ راضی ہونا ۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ قضائے الہیٰ سے اس پر وارد ہو وہ اسے خوشی سے بر داشت کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے اپنے اوامر کا بجا لانے والا اور منہیات سے رکنے والا پائے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] تو اللہ تعالیٰ ضرور ان مسلمانوں سے خوش ہوتا ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] اور ہم نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا : ۔ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] کیا آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر قناعت کر بیٹھے ہو ۔ يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] اپنی زبانی باتوں سے تو تم کو رضا مند کردیتے ہیں اور ان کے دل ہیں کہ ان باتوں سے انکار کرتے ہیں ۔ وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ ( بھی ) تم ان کو دوگے وہ ( لے کر سب ) راضی ہوجائیں گی ۔ الرضوان رضائے کثیر یعنی نہایت خوشنودی کو کہتے ہیں ۔ چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اس لئے قرآن پاک میں خاص کر رضا الہی ٰ کے لئے رضوان کا لفظ استعما ل ہوا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] اور ( لذت ) دنیا کا چھوڑ بیٹھنا جس کو انہوں نے از خود ایجاد کیا تھا ہم نے وہ طریق ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر ( ہاں ) انہوں نے اس کو خدا ( ہی ) کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایجاد کیا تھا ۔ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] اور خدا کے فضل اور خوشنودی کی طلب گاری میں لگے رہتے ہیں ۔ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضامندی کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔۔ : إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، جب جائز طور پر آپس میں وہ راضی ہوجائیں ۔ میں تراضوا باب تفاعل سے ہے جس کے معنی باہم اظہار رضامندی کے ہیں ، حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] وكلّ موضع ذکر فيه «تمتّعوا» في الدّنيا فعلی طریق التّهديد، وذلک لما فيه من معنی التّوسّع، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ اور قرآن پاک میں جہاں کہیں دنیاوی ساز و سامان کے متعلق تمتعو آیا ہے تو اس سے تہدید مراد ہے کیونکہ اس میں ایک گو نہ عیش کو شی اور وسعت کے معنی پائے جاتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلنے اور جہاد کرنے کی فرضیت کا بیان قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے) تا قول باری (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیماً ویستبدل قوما غیرکم۔ تم نہ اٹھوگے تو خدا تمہیں درد ناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا۔ جہاد فرض عین ہے یا کفایہ ؟ ظاہر آیت اس شخص پر بھی جہاد کے لئے اٹھ کھڑ ا ہونے کو واجب قرار دیتی ہے جسے اس کی دعوت نہ دی گئی ہو۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انفروا خفافا وثقالا۔ نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل) اللہ تعالیٰ نے نفیر یعنی جہاد کے لئے نکل کھڑے ہونے کو مطلقاً واجب کردیا اور اس میں بلائے جانے کی شرط نہیں لگائی۔ اس لئے ظاہر آیت ہر اس شخص پر جہاد کے وجوب کی مقتضی ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے انہیں ابو الیمان اور حجاج نے جریر بن عثمان سے، انہوں نے عبدالرحمن بن میسرہ اور ابن ابی ملال سے، انہوں نے ابو راشد الجرانی سے، وہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات حضرت مقداد بن الاسود (رض) سے اس وقت ہوئی جب آپ جہاد پر جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے، میںے عرض کیا کہ اللہ تعایلٰ کے ہاں آپ کا عذر قابل قبول ہے (یا شاید ابو راشد نے ان سے یہ کہا) جنگ پر نہ جانے میں اللہ کے نزدیک آپ کا عذر قابل قبول ہے یہ سن کر حضرت مقداد (رض) نے فرمایا : سورة برات ہمارے پاس یہ آیت لے کر آئی ہے (انفروا خفافاً وثقالاً ) ابو عبید کہتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے روایت بیان کی ہے انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابن سیرین سے کہ حضرت ابو ایوب انصاری حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ معرکہ بدر میں شریک ہوئے تھے پھر ایک سال کے سوا کسی بھی غزوہ میں آپ پیچھے نہیں رہے۔ ایک جنگ میں ایک نوجوان شخص کو لشکر کا سالار مقرر کیا گیا آپ نے اس موقع پر یہ فرمایا : مجھے اس سے کیا غرض کہ کون شخص مجھ پر سالار بنایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے (انفروا خفافاً وثقالاً ) اور میں تو اپنے آپ کو ہلکا یا بوجھل ضرور پاتا ہوں۔ یعنی میں بہرصورت جہاد کروں گا۔ ابو عبید نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے انہیں یزید نے حماد بن مسلمہ سے، انہوں نے علی بن زید سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے کہ حضرت ابو طلحہ نے آیت (انفروا خفافاً وثقالاً ) کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ ” میرے خیال میں اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو جہاد پر نکلنے کا حکم دے دیا ہے۔ ہمارے جوانوں کو بھی اور بوڑھوں کو بھی، اس لئے جہاد پر جانے کے لئے میرے واسطے سامان تیار کرو۔ “ چناچہ ہم نے ان کے لئے سامان جہاد تیار کردیا۔ اور وہ فوج کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے۔ اسی غزوہ میں ا ن کی وفات ہوگئی۔ ہمیں ان کی تدفین کے لئے ساتویں دن ایک جریرہ ملا۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ ہمیں حجاج نے ابن جریج سے اور انہوں نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت سنائی کہ لوگوں نے تو کہا کہ ” ہمارے اندر ثقیل یعنی بوجھل لوگ بھی ہیں۔ ضرورت مند بھی ہیں۔ صنعت و حرفت سے تعلق رکھنے والے بھی اور ایسے بھی ہیں جن کے ذاتی حالات پراگندہ ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انفروا خفاف وثقالاً ) ۔ ان حضرات نے اس آیت کو نفیر یعنی از خود جہاد پر نکلنے کی فرضیت پر محمول کیا خواہ اس کے لئے باوا نہ بھی آیا ہو جبکہ پہلی آیت ظاہراً وبلاوا آنے پر جہاد کے لئے نکل پڑنے کی فرضیت کی مقتضی ہے اس آیت کی تاویل میں کئی وجہ بیان کئے گئے ہیں : پہلی تفسیر کے مطابق یہ بات غزوئہ تبوک کے موقع پر پیش آئی جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو جہاد پر نکلنے کے لئے کہا تھا۔ آپ نے جن لوگوں کو نکلنے کے لئے کہا تھا ان پر آپ کے ساتھ نکل پڑنا فرض تھا۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسھم۔ مدینے کے باشندوں اور گردو نواح کے بدیوں کو ہرگز یہ زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپروا ہوکر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے) ان حضرات کا کہنا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی اور کے ساتھ جہاد پر نکل پڑنے کا یہ حکم نہیں ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں احمد بن محمد المروزی نے، انہیں علی بن الحسین نے اپنے والد سے، انہوں نے یزید النحوی سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ آیت (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیماً ویستبدل قوماً غیرکم) نیز آیت (ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ) کو اس کے بعد آنے والی آیت (وما کان المومنون لینفروا کافۃ اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے نکل کھڑے ہوتے) نے منسوخ کردیا ہے۔ بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں سے کسی آیت کے اندر نسخ نہیں ہوا ان دونوں کا حکم ثابت اور باقی ہے۔ ان دونوں کے حکموں کا دو حالتوں کے ساتھ تعلق ہے۔ جب سرحد پر موجود مسلمانوں میں دشمن سے تنہا مقابلہ کی تاب نہ ہو اور وہ دوسرے مسلمانوں کو جہاد پر نکلنے کے لئے کہیں تو پھر تمام لوگوں پر جہاد کے لئے نکلنا فرض ہوجائے گا تاکہ سرحدات پر پہنچ کر دشمن کے خلاف معرکہ کارزار گرم کرسکیں اگرچہ سرحدات پر موجود لوگوں کی وجہ سے باقی ماندہ لوگوں کی کوئی خاص ضرورت نہ بھی پیش آئے پھر بھی ان پر اس کی فرضیت عائد رہے گی خواہ انہیں جہاد پر نکلنے کے لئے کہا گیا ہو یا نہ کہا گیا ہو۔ جب دشمن کے مقابلہ میں صف آرا لوگ جہاد کا فرض پورا کررہے ہوں اور انہیں اندرون ملک رہنے والے لوگوں سے مدد حاصل کرنے کی ضرورت نہ ہو تو اس صورت میں ایسے لوگوں پر جہاد فرض نہیں ہوگا۔ الا یہ کہ ان میں سے کوئی جہاد پر اپنی مرضی سے جانا چاہے تو وہ فرض جہاد کا ادا کرنے والا شمار ہوگا اگرچہ شروع سے ہی جہاد میں حصہ نہ لینے کے سلسلے میں اس کا عذر قابل قبول ہوگا۔ اس لئے کہ جہاد فرض کفایہ ہے اگر ایک گروہ یہ فرض ادا کردے تو باقی ماندہ لوگوں سے ان کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں عثمان بن ابی شیبہ نے ، انہیں جریر نے منصور سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے طائوس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا (لاھجرۃ ولکن جھدونیۃ وان اتنفرتم فانفروا اب ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا لیکن جہاد کا سلسلہ جاری رہے گا اور نیت کا ثواب ملتا رہے گا اور اگر تمہیں جہاد پر نکلنے کے لئے کہا جائے تو نکل کھڑے ہو) آپ نے جہاد کے لئے بلاوے پر نکل کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ آپ کا یہ فرمان ظاہر قول باری (یآیھا الذین اٰمنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثا قلتم الی الارض) سے مطابقت رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اس قول باری کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب ضرورت کے وقت لوگوں کو جہاد پر نکلنے کی نفیر عام مل جائے اس لئے کہ سرحدات پر موجود لوگ دشمن کے مقابلہ کے لئے اپنے آپ کو کافی سمجھتے ہوں اور انہیں دوسرے مسلمانوں سے مدد مانگنے کی ضرورت نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ عام طور پر لوگوں کو جہاد کے لئے نکلنے کو نہیں کہیں گے لیکن اگر امام المسلمین لوگوں کہ جہاد پر نکلنے کے لئے کہے جبکہ سرحدات پر موجود مسلمان اور فوج حالات پر قابو رکھنے کے لئے کافی ہوں لیکن امام المسلمین برسرپیکار دشمن پر آگے بڑھ کر حملہ کرنا اور دشمن کے علاقے کو روندنا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں جن لوگوں کو وہ جہاد پر نکلنے کے لئے کہے گا ان پر نکل پڑنا لازم ہوگا۔ اس صورت میں فرضیت جہاد کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ ابن شریر اور سفیان ثوری نیز دیگر حضرات سے منقول ہے کہ جہاد ایک نفلی عبادت ہے۔ یہ فرض نہیں ہے ان کا قول ہے کہ آیت (کتب علیکم القتال تم پر قتال فرض کردیا گیا ہے) وجوب پر محمول نہیں ہے۔ بلکہ ندب اور استحباب پر محمول ہے جس طرح یہ قول باری استحباب پر محمول ہے (کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیران الوصیۃ للوالدین والاقربین۔ تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معرو طریقے سے وصیت کرے) حضرت ابن عمر (رض) سے بھی اس قسم کی ایک روایت ہے اگرچہ ان سے اس روایت کی صحت کے بارے میں اختلاف ہے۔ یہ روایت ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن ایمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں علی بن معید نے ابو ملیح الرتی سے، انہوں نے میمون بن مہران سے، وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس موجود تھا۔ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کے پاس آکر ان سے فرائض کے متعلق پوچھنے لگا۔ حضرت ابن عمر (رض) اتنی دور بیٹھے تھے جہاں سے وہ ان کی گفتگو سن سکتے تھے۔ سائل کے جواب میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے فرمایا : فرائض یہ ہیں، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میمون کہتے ہیں کہ شاید حضرت ابن عمر (رض) کو اس آخری بات پر غصہ آگیا تھا۔ آپ نے فرمایا فرائض یہ ہیں، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ نماز قائم کرنا، زکوٰۃ اد ا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا۔ “ راوی کا کہنا ہے کہ ابن عمر (رض) نے جہاد کا ذکر نہیں کیا۔ عطاء اور عمرو بن دینار سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی انہیں جعفر بن ایمان نے، انہیں ابو عبید نے ، انہیں حجاج نے ابن جریج سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ آیا غزو یعنی جہاد کرنا لوگوں پر واجب ہے ؟ تو انہوں نے اور عمرو بن دینار دونوں نے جواب دیا : ” ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے “ امام ابو حنیفہ، اما ابو یوسف، امام محمد، امام مالک اور دوسرے تمام فقہائے امصار کا قول ہے کہ جہاد قیامت تک کے لئے فرض ہے۔ البتہ یہ فرض کفایہ ہے کہ اگر کچھ لوگ یہ فریضہ ادا کرلیں تو باقیوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے اور ان کے لئے اسے ترک کردینے کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے۔ ابو عبید نے ذکر کیا ہے کہ سفیان ثوری فرمایا کرتے تھے کہ جہاد فرض نہیں ہے لیکن لوگوں کے لئے اس بھی گنجائش نہیں ہے کہ وہ ترک جہاد پر ایکا کرلیں بلکہ ان میں سے بعض کی طرف سے اس کی ادائیگی دوسروں کے لئے بھی کفایت کرجائے گی۔ “ گر سفیان ثوری کا یہ قول ہے تو اس سے یہ بات علوم ہوئی کہ وہ بھی جہاد کے فرض کفایہ ہونے کے قائل ہیں اور یہ مسلک ہمارے اصحاب کے اس مسلک سے مطابقت رکھتا ہے جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ تمام مسلمان اس عقیدے کے حامل ہیں کہ جب سرحدات پر موجود مسلمانوں کو دشمن کے حملے کا خوف ہو اور ان میں اس کے مقابلہ کی سکت نہ ہو جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو اپنی جان و مال اور اہل و عیال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہوجائے تو ایسی صورت میں پوری امت پر یہ فرض عائد ہوجائے گا کہ ایسے لوگ فوری طورپر سرحدوں پر پہنچ جائیں جو مسلمانوں کو دشمن کی چیرہ دستیوں سے بچالیں۔ امت کے اندر اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس لئے کہ کوئی مسلمان بھی اس صورت حال میں اس بات کے جواز کا قائل نہیں ہوگا کہ دشمن کے مقابلہ پر جانے کی بجائے مسلمان اپنے گھروں میں بیٹھ رہیں اور دشمن کو ان کا خون بہانے اور ان کے اہل و عیال کو قیدی بناکر لے جانے کا موقع مل جائے۔ البتہ اختلاف اس بارے میں ہے کہ جب دشمن کا مقابلہ کرنے والے موجود ہوں اور وہ دشمن کے خلاف صف آرا ہوں نیز انہیں دشمن کے غالب آنے کا خطرہ بھی نہ ہو تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں کے لئے اس دشمن کے خلاف ترک جہاد جائز ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ یا تو مسلما ہوجانے یا جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہوجائے۔ حضرت ابن عمر (رض) ، عطاء، عمرو بن دینار اور ابن بشرمہ کا یہ قول تھا کہ امام المسلمین نیز مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہوگا کہ وہ ایسے دشمن کے خلاف جنگ نہ کریں اور اپنا ہاتھ روک لیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ امام المسلمین نیز مسلمانوں پر ایسے دشمن کے خلاف جنگی کارروائیاں کرتے رہنا ضروری ہوگا یہاں تک کہ وہ یا تو مسلمان ہوجائیں یا جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہوجائیں۔ ہمارے اصحاب کا اور سلف میں سے حضرت مقداد بن الاسود (رض) ، حضرت ابو طلحہ (رض) نیز دیگر صحابہ کرام اور تابعین جن کا ہم نے ذکر کیا ہے یہی مسلک ہے۔ حضرت حذیفہ بن ایمان (رض) کا قول ہے کہ اسلام کے آٹھ حصے ہیں۔ آپ نے جہاد کو ایک حصہ قرار دیا۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی انہیں جعفر بن الیمان نے انہیں ابو عبید نے، انہیں حجاج نے ابن جریج سے کہ معمر کہتے تھے کہ مکحول قبلے کی طرف رخ کرلیتے پھر دس دفعہ قسمیں کھا کر کہتے کہ جہاد واجب ہے، پھر فرماتے کہ اگر تم لوگ چاہو تو میں یہی بات اس سے زائد بار قسمیں کھا کر بھی کہہ سکتا ہوں۔ “ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی ، انہیں جعفر بن یمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے العدء بن الحارث یا کسی اور سے، انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر جہاد فرض کردیا ہے خواہ وہ بیٹھ رہیں یا جہاد پر چلے گئے جو شخص بیٹھ رہے گا وہ بھی گویا تیاری پر ہوگا کہ ضرورت پڑنے پر جس وقت اسے مدد کے لئے کہاجائے گا وہ مدد کرے گا اور جب اسے محاذ پر جانے کے لئے بلایا جائے گا تو وہ فوراً نکل کھڑا ہوگا اور اگر اس کی مطلقاً ضرورت نہیں پڑے گی تو گھر بیٹھ رہے گا۔ “ ابن شہاب کا یہ قول ان لوگوں کے مسلک کے مطابق ہے جو جہاد کے فرض کفایہ ہونے کے قائل ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) ، عطاء اور عمرو بن دینار کے اس قول سے کہ جہاد فرض نہیں ہے ان حضرات کی مراد یہ ہو کہ جہاد فرض عین نہیں ہے کہ ہر متعین شخص پر اس کی فرضیت ثابت ہو جس طرح نماز اور روزہ فرض عین ہے بلکہ یہ فرض کفایہ ہے۔ فرضیت جہاد پر قرآنی آیات جہاد کی فرضیت کی موجب آیات بہت زیادہ ہیں، ارشاد باری ہے (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین للہ، ان سے لڑو حتیٰ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارے کا سارا اللہ کا ہوجائے) یہ آیت کا ئووں سے قتال کے وجوب کی مقتضی ہے حتیٰ کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔ ارشاد ہوا (قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم ویخزھم۔ ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا اور رسوا کرے گا) تا آخر آیت، فرمایا (قاتلوا الٓین لایومنون باللہ والیوم الاخر۔ ان لوگوں سے لڑو جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے) تا آخر آیت۔ ارشاد ہوا۔ (فلاتھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلمون واللہ معکم۔ تم کمزوری نہ دکھائو اور انہیں صلح کی طرف نہ بلائو اور تم ہی غالب ہوگے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) نیز فرمایا (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم۔ مشرکین کو جہاں پائو قتل کردو) ارشاد ہوا (وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ ۔ تم سب مل کر مشرکین سے لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں) نیز فرمایا (انفروا خفافاً وثقالاً وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ۔ نکل پڑو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو) نیز (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیما ویستبدل قوما غیرکم۔ اگر تم نہیں نکلوگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو کھڑا کردے گا) نیز ارشاد ہوا (فانفروا ثبات اوانفرو جمیعاً ۔ پھر گروہ درد گروہ کوچ کرو یا اکٹھے ) فرمایا (یایھا الذین اٰموا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم تومنون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کا پتہ نہ بتادوں ؟ جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے گی، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اللہ کی راہ میں اپنے مال او اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو) اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اس کے عذاب سے نجات کی صورت ہی یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا جائے اور جان و مال کے ساتھ اس کی راہ میں جہاد کی جائے۔ یہ آیت دو وجوہ سے فرضیت جہاد کے معنی کو متضمن ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان اللہ وبالرسول کی فرضیت کے ساتھ مقرون کرکے بیان کیا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اس کے عذاب سے ایمان اور جہاد کے ذریعے نجات مل سکتی ہے اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ واجبات یعنی فرائض کو ترک کرنے پر ہی کوئی شخص عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ ارشاد ہے (کتب علیکم القتال تم پر قتال فرض کردیا گیا) یہاں کتب کے معنی فرض کے ہیں یعنی تم پر فرض کردیا گیا جس طرح روزے کی فرضیت کے بارے میں قول باری ہے (کتب علیکم الصیام تم پر روزے فرض کردیئے گئے) اگر یہ کہا جائے کہ محولہ بالا آیت کا حکم اسی طرح ہے جس طرح آیت (کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیران الوصیۃ للوالدین ولاقربین بالمعروف جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجائے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو تو تم پر فرض کردیا گیا ہے کہ ایسی صورت میں معروف طریقے سے والدین اور رشتہ داروں کے لئے وصیت کرجائو) اس میں امر کو استحباب پر محمول کیا گیا ہے فرضیت پر نہیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس آیت کی بنا پر وصیت کبھی فرض ہوا کرتی تھی۔ یہ اس وقت کی بات تھی جب اللہ تعالیٰ نے ابھی میراث کی فرضیت کا حکم نازل نہیں کیا تھا پھر میراث کے حکم کے ساتھ وصیت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا تاہم آیت کے الفاظ ایجاب پر دلالت کرتے ہیں الا یہ کہ استحباب پر دلالت قائم ہوجائے لیکن جہاد کے سلسلے میں کوئی ایسی دلالت قائم نہیں ہوئی ہے جس سے معلوم ہوجائے کہ جہاد مستحب ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جنگ کی دوسری ذمہ داری ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور دیگر آیات کے ذریعے تمام مکلفین پر بقدر مکان جہاد کی فرضیت کو موکد کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمادیا (فقاتل فی سبیل اللہ لا تکلف الا نفسک وحرمض المومنین۔ اللہ کی راہ میں قتال کرو، تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے ذمہ دار نہیں ہو اور اہل ایمان کو قتال پر ابھارو) اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جہاد کے سلسلے میں دوہری فرضیت عائد کردی اور فرضیت تو یہ کہ بذات خود جہاد کریں، جہاد میں شریک ہوں اور میدان جہاد میں موجود ہوں اور دوسری یہ کہ لوگوں کو جہاد پر ابھاریں، انہیں اس کی ترغیب دیں اور ان کے سامنے اس کی فضیلتیں بیان کریں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چونکہ مال نہیں تھا اس لئے جہاد کے سلسلے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انفق مال کا حکم نہیں دیا گیا جبکہ دوسروں کو اس حکم ان الفاظ میں دیا گیا : (نکلو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو) اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص پر جو اہل قتال ہو اور اس کے پاس مال بھی ہو، جان و مال سے جہاد کرنا فرض کردیا پھر دوسری آیت میں فرمایا (وجآء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم وقعد الذین کذبوا اللہ ورسولہ سیصیب الذین کفروا منھم عذاب الیم۔ لیس علی الضعفآء ولا علی المرض ولا علی الذین لا یجدون ماینفقون حرج اذا نصحوا للہ ورسولہ۔ بدوی عربوں میں سے بہت سے لوگ آئے جنہوں نے عذر کیے تاکہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دی اجئے۔ اس طرح بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور رسول سے ایمان کا جھوٹا عہد کیا تھا۔ ان بدویوں میں سے جن جن لوگوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا ہے عنقریب وہ دردناک سزا سے دوچار ہوں گے۔ ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لئے زاد راہ نہیں پاتے اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں) اللہ تعالیٰ نے درماندگی اور مال کی عدم موجودگی کی بنا پر جن لوگوں سے اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کی فرضیت کو ساقط کردیا ان پر کم از کم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ وفاداری اور خیر خواہی کا فریضہ ضرور عائد کردیا۔ اس لئے تمام مکلفین پر درجہ بدرجہ جہاد کی فرضیت ہے جیسا کہ ہم درج بالا سطور میں بیان کر آئے ہیں اس حکم سے کوئی مکلف بھی خارج نہیں ہے۔ فرضیت جہاد پر ارشادات نبوی جہاد کی فرضیت کی تاکید میں بکثرت رواتیں منقول ہیں۔ ہمیں عمرو بن حفص سدوسی سے روایت بیان کی گئی، انہیں عاصم بن علی نے، انہیں قیس بن الربیع نے جبلہ بن سحیم سے، انہوں نے موثر بن عفارہ سے اور انہوں نے حضرت بشیر بن لاخصاصیہ (رض) سے، وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیعت کرنے کی نیت سے حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول، آپ مجھ سے کن باتوں پر بیعت لیں گے ؟ یہ سن کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا اور فرمایا : ” میں تم سے اس پر بیعت لیتا ہوں کہ تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں پانچ فرض نمازیں ان کے اوقات میں اداکرو، فریضہ زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول، میں ان میں سے دو باتوں پر عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہوں، زکوٰۃ دینے کی استطاعت نہیں رکھتا اس لئے کہ میرے اہل خاندان کے پاس بار برداری کی اونٹنیاں ہیں نیز وہ لوگ کام کاج کرتے رہتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی مل جاتا ہے اور بس۔ میں جہاد بھی نہیں کرسکتا اس لئے کہ میں ڈرپوک انسان ہوں۔ خطرہ ہے کہ کہیں ڈر کے مارے میدان جہاد سے بھاگ کھڑا نہ ہوں اور اس طرح اللہ کے غضب کا مستحق بن کر نہ لوٹوں۔ “ یہ سن کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی مٹھی بیھنچ لی اور فرمایا : ” بشیر ! نہ تم جہاد کرو نہ صدقہ دو ۔ تو پھر جنت میں کیسے جائو گے ؟ “ میں نے یہ سنتے ہی عرض کیا : ” اللہ کے رسول ! ہاتھ آگے کیجئے “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک آگے کردیا اور میں نے مذکورہ بالا باتوں پر آپ سے بیعت کرلی۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے، ابراہیم بن عبداللہ نے ، انہیں حجاج نے ، انہیں حماد نے ، انہیں حمید نے حضرت انس بن مالک (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (جاھدو المشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم مشرکین کے خلاف اپنے مال، اپنی جان اور اپنی زبان کے ساتھ جہاد کرو) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر اس چیز کے ذریعے جہاد واجب کردیا جس کے ساتھ جہاد کرنا ممکن ہو۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بعد کوئی ایسا فرض نہیں ہے جس کی فرضیت جہاد کی فرضیت سے زیادہ موکد اور اولیٰ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کے ذریعے اسلام کو غلبہ حاصل ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں دوسرے تمام فرائض کی ادائیگی ہوجاتی ہے لیکن اگر جہاد کا فریضہ ترک کردیا جائے تو اس کے نتیجے میں مسلمانوں پر ان کے دشمن غالب آجاتے ہیں، دین مٹ جاتا اور اسلام ختم ہوجاتا ہے تاہم جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں، جہاد فرض کفایہ ہے۔ اگر کوئی شخص اس روایت سے استدلال کرے جسے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے واقدبن محمد س انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (نبی الاسلام علی خمس۔ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے) آپ نے اس سلسلے میں شہادتیں کا ذکر فرمایا، نیز نماز، روزہ، کوٰۃ اور حج کا تذکرہ کیا۔ آپ نے یہ پانچ چیزیں بیان کیں لیکن جہاد کا ذکر نہیں کیا جس سے یہ دلالت حاصل ہوتی ہے کہ جہاد فرض نہیں ہے۔ ابوبکر جصاص اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ روایت دراصل مرفوع روایت نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ اساد حضرت ابن عمر (رض) پر جاکر ختم ہوجاتا ہے جس کی بنا پر یہ موقوف روایت ہے۔ اسے وہب نے عمر بن محمد سے انہوں نے زید سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے کہ انہوں نے فرمایا : ” میں نے یہ پایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے۔ “ حضرت ابن عمر (رض) کا یہ کہنا کہ ” میں نے پایا ہے “ اس امر کی دلیل ہے کہ انہوں نے یہ بات اپنی رائے کی بنا پر کہی ہے جس میں یہ گنجائش موجود ہے کہ ان کے سوا اور دوسرے صحابہ کرام کو اسلام کی بنیاد ان پانچ سے زائد باتوں پر نظر آتی ہو چناچہ حضرت حذیفہ بن الیمان (رض) کا قول ہے کہ اسلام کی بنیاد آٹھ اجزاء پر رکھی گئی ہے جن میں سے ایک جز جہاد ہے۔ یہ قول حضرت ابن عمر (رض) کے قول کے معارض ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ بعید اللہ بن موسیٰ نے روایت کی ہے۔ انہیں حنظلہ بن ابی سفیان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ بن خالد کو طائوس سے یہ کہتے ہوئے سنا تھ کہ ایک شخص حضرت ابن عمر (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : ابو عبدارلحمن ! آپ جہاد پر کیوں نہیں جاتے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے۔ “ اس حدیث کی سند درست ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچتی ہے جس کی بنا پر روایت مرفوع ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے صرف پانچ باتوں کے ذکر پر اس لئے اقتصار کیا ہو یہ ہر انسان پر فرض عین ہیں اور ہر شخص پر اس کی ذاتی حیثیت میں لازم ہوتی ہیں۔ آپ نے اس فرض کا ذکر نہ کیا ہو جس کی حیثیت فرض عین کی نہیں بلکہ فرض کفایہ کی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اقامت حدود، علم دین کا حقول اور مردوں کا غسل اور ان کی تجہیز و تکفین سب فرائض میں داخل ہیں لیکن آپ نے اسلام کے بنیادی فرائض کا ذکر کرتے ہوئے ان کا تذکرہ نہیں کیا تاہم آپ کا انہیں ذکر نہ کرنا اس امر کا مقتضی نہیں ہے کہ یہ باتیں فرائض کے دائرے سے خارج ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے درج بالا ارشاد میں ان فرائض کے ذکر تک بات محدود رکھی ہے جو ہر انسان کو انفرادی طور پر اور اس کی ذاتی حیثیت میں لازم ہوتی ہیں نیز جن کے لئے مقررہ اوقات ہیں اور کوئی اور فرض ان اوقات میں ان کے قائم مقام نہیں ہوسکتا اور نہ ان کی خانہ پری کرسکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جہاد فرض کفایہ ہے جیسا کہ ہم نے اس کی وضاحت کی ہے اسی بنا پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا تذکرہ نہیں فرمایا۔ حضرت ابن عمر (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جہاد کے وجوب پر دلالت کرنے والی روایت نقل کی ہے۔ ہمیں عبداللہ بن شیرویہ سے اس حدیث کی روایت کی گئی ہے انہیں اسحاق بن راہویہ نے ، انہیں جریر نے لیث بن ابی سلیم سے، انہوں نے عطا سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے کہ : ہم پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے جب ہم میں سے کوئی شخص بھی اپنے مسلمان بھائی کے مقابلہ میں اپنے آپ کو درہم و دینار کا زیادہ حق دار نہیں سمجھتا تھا اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ مسلمان بھائی کی بہ نسبت ہمیں درہم و دینار سے زیادہ محبت ہے حالانکہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : جب درہم و دینار پر لوگوں کا یقین بڑھ جائے اور لوگ آپس میں چیزوں کو ان کی اصلی قیمت سے زیادہ قیمت پر ادھار خریدوفروخت کریں اور گایوں کی دموں کے پیچھے لگے رہیں اور جہاد چھوڑ بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ایسی ذلت میں مبتلا کردے گا جو ان سے اس وقت تک دور نہیں ہوگی جب تک وہ دین کی طرف پوری طرح رجوع نہیں کرلیں گے۔ ہمیں خلف بن عمرو العبکری سے روایت بیان کی گئی ہے، انہیں المعلی بن المہدی نے ، انہیں عبدالوارث نے، انہیں لیث نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے، انہوں نے عطا سے، انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سے ملتی جلتی روایت کی ہے۔ روایت کے الفاظ جہاد کے وجوب کے مقتضی ہیں اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بتادیا کہ جہاد ترک کرنے کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ انہیں ذلت میں مبتلا کردے گا اور سزائیں صرف اس صورت میں لازم ہوتی ہیں جب واجبات یعنی فرائض تک کردیئے جائیں۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) کا مسلک بھی یہی ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے اس لئے فرض جہاد کی نفی کے سلسلے میں ان سے جو روایت منقول ہے وہ اس معنی پر معمول ہے جو ہم نے بیان کیا ہے کہ جہاد کا فریضہ ہر زمانے اور حالت میں ہر شخص پر لازم نہیں ہوتا یعنی یہ فرض عین نہیں ہے۔ جہاد فرض کفایہ ہے اس پر قول باری (وما کان المومنون لینفروا کافۃ) اور قول باری (فانفروا ثبات اوانفروا جمیعاً ) دلالت کرتے ہیں۔ نیز فرمایا (لایستوی القاعدون من المومنین غیر اولی الضرروا امجاھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم، فضل اللہ المجاہدین باموالھم وانفسھم علی القاعدین درجۃ وکلا وعداللہ الحسنیٰ ۔ اہل ایمان میں سے جہاد سے بیٹھ رہنے والے۔ بجز اس کے کہ انہیں کوئی معذوری ہو اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے والے یکساں نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے اور ہر ایک کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھلائی ہی کا وعدہ کیا ہے) اگر ہر شخص پر اس کی ذاتی حیثیت میں جہاد فرض ہوتا تو جہاد سے گھر بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بھلائی کا وعدہ نہ کیا جاتا۔ بلکہ ترک جہاد کی بنا پر ان کی مذمت کی جاتی اور عذاب کا مستحق گردانا جاتا۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے ، انہیں حجاج نے ابن جریج اور عثمان بن عطاء سے، انہوں نے عطاء خراسانی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے قول باری (فانفرواثبات اوانفروا جمیعاً ) اور (انفروا خفافاً وثقالاً ) کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ان دونوں آیتوں کو قول باری (وما کان المومنون لینفروا کافۃ، فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون۔ اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے مگر ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے پرہیز کرتے) اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ ایک گروہ جہاد کے لئے نکل جائے اور ایک گروہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ رہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہ جانے والے لوگ دین میں سمجھ پیدا کریں اور جہاد پر جانے والے بھائیوں کو ان کی واپسی پر اللہ کی آیات، اس کے نازل کردہ احکامات اور اس کے مقرر کردہ حدود کے متعلق انہیں باخبرکریں تاکہ وہ بھی اللہ کی نافرمانی سے پرہیزکریں۔ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں ان کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد وہ فوجی مہمات ہیں جو وقتاً فوقتاً مختلف اطراف میں بھیجی جاتی تھیں جنہیں سرایا (جمع سریہ) کہا جاتا ہے۔ یہ سرایا جب مدینے سے روانہ ہوتے تو ان کے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات و احکامات کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ٹھہرجانے والے لوگ سیکھ لیتے۔ جب یہ سرایا واپس ہوتے تو ان میں شامل لوگ مدینہ منورہ میں ٹھہر جاتے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی آیات و احکامات کی اپنے ٹھہرے رہنے والے بھائیوں سے تعلیم حاصل کرتے اور ان کی جگہ دوسرے لوگوں پر مشتمل فوجی دستوں کو مہمات پر روانہ کردیا جاتا۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یتفقھوا فی الدین ولینھذروا قومھم اذا رجعوا الیھم) ہم نے اوپر جن آیات کا حوالہ دیا ہے اور ان کی جو تفسیر پیش کی ہے اس سے فرضیت جہاد کا لزوم ثابت ہوگیا نیز اس پر بھی دلالت ہوگئی کہ جہاد فرض کفایہ ہے اور ہر شخص کے لئے اس کی ذاتی حیثیت میں لازم نہیں ہے یعنی فرض عین نہیں ہے اور ہر شخص کی جان و مال میں اس کا لزوم نہیں ہے جبکہ اس کی ادائیگی کے لئے دوسرے افراد موجود ہوں اور یہ فرضہ ادا کررہے ہوں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨۔ ٣٩) اے جماعت صحابہ کرام (رض) تمہیں کیا ہوا کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اطاعت خداوندی یعنی غزوہ تبوک میں جاؤ تو تم زمین پر لگے جاتے ہو کیا تم لوگوں نے آخرت کے بدلے دنیاوی زندگی پر قناعت کرلی ہے حقیقت میں دنیاوی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں، یعنی اگر تم اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں سخت سزا دیں گے اور تمہارے بجائے تم سے بہترین اور زیادہ اطاعت کرنے والی قوم پیدا کرے گا، اور تمہارا جہاد کے لیے نہ نکلنا دین الہی کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ عذاب دینے اور تبدیل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ شان نزول : یایھا الذین امنوا مالکم اذا قیل لکم “۔ (الخ) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب فتح مکہ اور حنین کے بعد غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ گرمیوں کے زمانہ میں جب پھل پک رہے تھے اور سایوں کی حاجت تھی اس وقت جہاد میں جانے کا حکم ہوا تو ان کو ذرا مشکل لگا تو یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی کہ تھوڑے سامان سے اور زیادہ سامان سے نکل کھڑے ہو۔ شان نزول : (آیت) ” الا تنفروا “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے نجرہ بن تفیع (رح) سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو آپ (رح) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبائل عرب کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا تو ان پر گراں گزرا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لہٰذا بارش بند ہوگئی اور یہی ان کا عذاب تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ط) اگرچہ یہ وضاحت سورة النساء میں بھی ہوچکی ہے مگر اس نکتے کو دوبارہ ذہن نشین کرلیں کہ قرآن حکیم میں منافقین سے خطاب یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے صیغے میں ہی ہوتا ہے ‘ کیونکہ ایمان کا دعویٰ تو وہ بھی کرتے تھے اور قانونی اور ظاہری طور پر وہ بھی مسلمان تھے۔ (اَرَضِیْتُمْ بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ ج) یہ بھی ایک متجسسانہ سوال (searching question) ہے۔ یعنی تم دعویدار تو ہو ایمان بالآخرت کے ‘ لیکن اگر تم اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنے کو تیار نہیں ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم آخرت ہاتھ سے دے کر دنیا کے خریدار بننے جا رہے ہو۔ تم آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :38 یہاں سے وہ خطبہ شروع ہوتا ہے جو غزوہ تبوک کی تیاری کے زمانہ میں نازل ہوا تھا ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :39 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ عالم آخرت کے بے پایاں زندگی اور وہاں کے بے حد وحساب سازو سامان کو جب تم دیکھو گے تب تمہیں معلوم ہو گا کہ دنیا کے تھوڑے سے عرصہ حیات میں لطف اندوزی کے جو بڑے سے بڑے امکانات تم کو حاصل تھے اور زیادہ سے زیادہ جو اسباب عیش تم کو میسر تھے وہ غیر محدود امکانات اور اس نعیم و ملک کبیر کے مقابلہ میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے ۔ اور اس وقت تم کو اپنی اس ناعاقبت اندیشی و کم نگاہی پر افسوس ہو گا کہ تم نے کیوں ہمارے سمجھانے کے باوجود دنیا کے عارضی اور قلیل منافع کی خاطر اپنے آپ کو ان ابدی اور کثیر منافع سے محروم کر لیا ۔ دوسرے یہ کہ متاع حیاۃ دنیا آخرت میں کام آنے والی چیز نہیں ہے ۔ یہاں تم خواہ کتنا ہی سروسامان مہیا کر لو ، موت کی آخری ہچکی کے ساتھ ہر چیز سے دست بردار ہونا پڑے گا ، اور سرحد موت کے دوسری جانب جو عالم ہے وہاں ان میں سے کوئی چیز بھی تمہارے ساتھ منتقل نہ ہوگی ۔ وہاں اس کا کوئی حصہ اگر تم پا سکتے ہو تو صرف وہی جسے تم نے خدا کی رضا پر قربان کیا ہو اور جس کی محبت پر تم نے خدا اور اس کے دین کی محبت کو ترجیح دی ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

36: یہاں سے غزوہ تبوک کے مختلف پہلووں کا بیان شروع ہورہا ہے جو اس سورت کے تقریبا آخر تک چلا گیا ہے اس غزوے کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ اور غزوہ حنین کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو کچھ عرصہ بعد شام سے آنے والے کچھ سودا گروں نے مسلمانوں کو بتایا کہ رومی سلطنت کا بادشاہ ہر قل مدینہ منورہ پر ایک زور دار حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ جس کے لیے اس نے ایک بڑا لشکر شام اور عرب کی سرحد پر جمع کرلیا ہے، اور اپنے فوجیوں کو سال بھر کی تنخواہ پیشگی دے دی ہے۔ صحابہ کرام اگرچہ اب تک بہت سی جنگیں لڑ چکے تھے، مگر وہ سب جزیرہ عرب کے اندر تھیں، یہ پہلا موقع تھا کہ دنیا کی مانی ہوئی ایک بڑی طاقت سے مقابلہ پیش آرہا تھا۔ لیکن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ ہرقل کے حملے کا انتظار کیے بغیر خود پیش قدمی کی جائے، اور خود وہاں پہنچ کر مقابلہ کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے مدینہ منورہ کے تمام مسلمانوں کو اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیاری کا حکم دیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ اول تو دس سال کی متواتر جنگوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ فتح مکہ کے بعد سکون کے کچھ لمحات میسر آئے تھے۔ دوسرے جس وقت اس جنگ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ وہ ایسا وقت تھا کہ مدینہ منورہ کے نخلستانوں میں کھجوریں پک رہی تھیں۔ انہی کھجوروں پر اہل مدینہ کی سال بھر کی معیشت کا دار و مدار تھا۔ ایسی حالت میں باغات کو چھوڑ کر جانا نہایت مشکل تھا۔ تیسرے یہ عرب میں گرمی کا سخت ترین موسم تھا جس میں آسمان سے آگ برستی اور زمین سے شعلے نکلتے محسوس ہوتے ہیں۔ چوتھے تبوک کا سفر بہت لمبا تھا، اور تقریبا آٹھ سو میل کا یہ پورا راستہ لق ودق صحراؤں پر مشتمل تھا۔ پانچویں سفر کے لیے سواریاں کم تھیں۔ چھٹے اس سفر کا مقصد رومی سلطنت سے ٹکر لینا تھا جو اس وقت نہ صرف یہ کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی، بلکہ اس کے طریق جنگ سے بھی اہل عرب پوری طرح مانوس نہیں تھے۔ غرض ہر اعتبار سے یہ انتہائی مشقت، جان و مال اور جذبات کی قربانی کا جہاد تھا جس کے لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیس ہزار صحابہ کرام کے لشکر کے ساتھ تبوک روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرقل اور اس کے لشکر پر آپ کی اس جرات مندانہ پیش قدمی کا ایسا رعب طاری فرما دیا کہ وہ سب واپس چلے گئے اور مقابلے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ مذکورہ بالا مشکل حالات کے باوجود صحابہ کرام کی بھاری اکثریت ماتھے پر بل لائے بغیر جاں نثاری کے جذبے سے اس مہم میں شریک ہوئی۔ البتہ کچھ صحابہ ایسے بھی تھے جنہیں یہ سفر بھاری معلوم ہوا، اور شروع میں انہیں کچھ تردد رہا، لیکن آخر کار وہ لشکر میں شامل ہوگئے۔ اور چند ایسے بھی تھے جو اس تردد کی وجہ سے آخر تک فیصلہ نہ کرسکے، اور سفر میں شرکت سے محروم رہے۔ دوسری طرف وہ منافقین تھے جو ظاہری طور پر تو مسلمان ہوگئے تھے لیکن اندر سے مسلمان نہیں تھے۔ ایسی سخت مہم میں مسلمانوں کا ساتھ دینا ان کے لیے ممکن ہی نہیں تھا، اس لیے وہ مختلف حیلوں بہانوں سے مدینہ منورہ میں رک گئے اور ساتھ نہیں گئے۔ اس سورت کی آنے والی آیات میں ان سب قسم کے لوگوں کا ذکر آیا ہے، اور ان کے طرز عممل پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔ آیت نمبر 38 میں جن لوگوں کو ملامت کی گئی ہے ان سے مراد منافقین بھی ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں ’’ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو‘‘ ان کے ظاہری دعوی کے مطابق فرمایا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خطاب ان صحابہ کرام سے ہو جن کے دل میں تردد پیدا ہوا تھا۔ البتہ آیت نمبر 42 سے تمام تر بیان منافقین ہی کا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٨۔ ٣٩۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماہ رجب ٩؁ ہجری میں غزوہ تبوک کا ارادہ کیا تبوک شام کی طرف ایک جگہ ہے جو دمشق کے راستہ پر مدینہ سے چودہ منزل پر واقع ہے اس وقت گرمی بڑی سخت پر رہی تھی اور موسم بھی ایسا تھا کہ درخت پھلوں سے لدے پڑے تھے آپ نے بڑے سفر کا یہ ارادہ کیا تھا اس لئے پہلے سے لوگوں کو تیار ہونے کو کہا اکثر لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے تھوڑے سے اپنے گھروں میں رہ گئے آپ کے ساتھ نہیں گئے انہیں لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے ایماندار لوگو تم اللہ اور رسول پر ایمان لاکر پھر اللہ کے رسول کے حکم سے سرتابی اور دین کی لڑائی میں شریک ہونے سے سہو کرتے ہو اور حیلے بہانے کر کے فقط ان خیالات سے گھروں میں بیٹھ رہے ہو کہ گرمی سخت ہے اور دور دراز کا سفر ہے اور مدینہ میں درخت بار دار ہو رہے ہیں جن کی خبر گیری ضروری ہے پھر فرمایا کہ کیا تم لوگ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو بہتر جانتے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ دنیا فانی ہے اس کی نعمتیں ہمیشہ باقی نہیں رہیں گی تو پھر یہ دنیا کیونکر آخرت کے مقابل ہوسکتی ہے آخرت کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اس واسطے دنیا کا مال ومتاع عقبے کی نعمتوں کے آگے محض حقیر اور بےحقیقت ہے اس آیت میں اللہ پاک نے صاف طور پر دین کی لڑائی کو ان لوگوں کے حق میں ہر وقت میں واجب ٹھہرایا جن کو اللہ کے رسول نے لڑائی پر چلنے کا حکم دیا تھا اسی واسطے اس کے بعد یہی فرمایا کہ اگر تم کسی دین کی لڑائی میں پیچھے رہ جاؤ گے اور شریک نہ ہوگے۔ تو تم پر سخت سخت عذاب آنے لگیں گے آخری میں بھی عذاب کئے جاؤ گے اور دنیا میں بھی طرح طرح کی مصیبتیں اٹھاؤگے قحط پڑنے لگے گا بارش نہیں ہوگی بھوک وپیاس کے مارے تمہاری جانیں تلف ہونے لگیں گی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اس غزوہ میں عرب کے تھوڑے سے آدمی حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے تھے اللہ پاک نے ان سے پانی کو روک لیا کال کا سامنا ہوگیا یہی عذاب تھا جس کا ذکر اس آیت میں فرمایا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی یہ روایت ابوداؤد میں ہے اگرچہ ابوداؤد اور منذری نے اس حدیث کی سند پر سکوت اختیار کیا ہے لیکن اس حدیت کی سند میں ایک راوی نجدہ بن نفیع ہے جس کو بعضے علما نے نامعلوم الحال لکھا ہے اس واسطے آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے اس کا خصوصیت کسی خاص عذاب کے ساتھ نہیں کی جاسکتی۔ پھر عذاب کے بعد دوسری بات بیان فرمایا کہ اللہ تم لوگوں کا محتاج نہیں ہے اسے تو بہت بڑی قدرت حاصل ہے اگر تم اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دوگے تو تمہاری جگہ وہ دوسری قوموں سے کام لے گا اور وہ لوگ اللہ کے رسول کا ساتھ دیں گے خدا و رسول کو تم کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے ہو کیونکہ اللہ کو ہر طرح کی قدرت حاصل ہے تم نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی غرض کہ وہ اپنے رسول سے مدد کا وعدہ کرچکا ہے اس کو ضرور پورا کر کے رہے گا۔ اگرچہ صحیح بخاری میں اس تبوک کی لڑائی کا باب حجۃ الوداع کے بعد ہے لیکن حافظ ابن حجر (رح) نے اس کو کاتب کا سہو ٹھہرا کر یہ کہا ہے کہ سب کے نزدیک تبوک کی لڑائی حجۃ الوداع کے پہلے ٩ ھ؁ کے ماہ رجب میں ہیں اس لڑائی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو اپنا جانشین مقرر کر کے مدینہ میں چھوڑا تھا جس کا ذکر آگے آتا ہے یہ حضرت علی (رض) کا قصہ صحیح بخاری میں سعد بن ابی وقاص (رض) کی روایت سے ہے اس لڑائی میں دو سو اونٹوں کی اور بعضی روایتوں میں تیں سواونٹوں اور ہزار اشرفی نقد کی مدد حضرت عثمان (رض) نے لشکر اسلام کو دی ہے جس کی معتبر روایتیں مسند امام احمد ترمذی اور مستدرک حاکم میں ہیں جس سبب سے یہ لڑائی پیش آئی اس کی تفصیل طبرانی کی عمران بن حصین (رض) کی روایت سے آگے آتی ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے مستور دبن شدار (رض) حجازی کوفی کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عقبے کی نعمتوں کی مثال ایک دریا کی اور دنیا کی نعمتوں کی مثال ایک قطرہ کی فرمائی ہے آیت میں عقبے کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی نعمتوں کو تھوڑا جو فرمایا ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ابوداؤد میں جو روایت ہے کہ آیت الاتنفروایعذبکم عذابا الیما اس سورت کی آیندہ کی آیت وما کان المومنون لینفروا کافۃ سے منسوخ ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن الحسین بن واقد کے ثقہ ہونے میں بعضے علماء کو کلام ہے اس واسطے حافظ ابوجعفرابن جریر نے اپنی تفسیر میں اور حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں ہی فصلہ کیا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ یہ آیت خاص ان لوگوں کے حق میں ہے جن کو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبوک کی لڑائی پر چلنے کا حکم دیا تھا اور پھر بھی وہ لوگ سستی کر کے نہیں گئے اور آیندہ کی آیت عام صحابہ کے حق میں ہے آیت کے ٹکڑے یایھا الذین امنوا اذاقیل لکم انفر وافی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض سے حافظ ابوجعفر ابن جریر (رح) اور حافظ ابن حجر (رح) کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ آیت کے اس ٹکڑے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ خفگی انہیں لوگوں پر ہے جن کو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لڑائی میں چلنے کا حکم دیا تھا اور پھر بھی وہ لوگ سستی کر کے اس لڑائی میں نہیں گئے ویستبدل قوما غیرکم کی تفسیر بعضے سلف نے اہل فارس کو ٹھہرایا ہے اور بعضوں نے اہل یمن کو لیکن آگے کی آیت میں فرشتوں کی مدد کا ذکر ہے اس لئے سلف میں سے جو مفسرین آیت کی تفسیر کسی خاص قوم کو نہیں ٹھہراتے ان کا قول قوی معلوم ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:38) ما لکم۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ۔ اور جگہ ہے وقال الانسان مالہا (99:3) اور انسان کہہ گا اس کو (یعنی زمین کو) کیا ہوگیا ہے۔ انفروا۔ نفر ینفر (ضرب سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم نکلو۔ نفر کے اصل معنی ہیں منتشر ہونا۔ لیکن مختلف حروف کے ساتھ مختلف معانی دیتا ہے مثلاً نفرعن کسی چیز سے روگردانی کرنا۔ نفر الی۔ کسی چیز کی طرف روڈ کر جانا۔ نصر من۔ کسی چیز سے کترانا۔ یہاں آیۃ ہذا میں نفر سے نکلنا۔ کوچ کرنا کے معانی لئے گئے ہیں۔ انفروا فی سبیل اللہ تم خدا کے راستہ میں نکلو۔ (یہ آیت جنگ تبوک کے موقعہ پر نازل ہوئی) ۔ اثاقلتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر اصل میں تثاقلم (باب تفاعل) تھا ت کو ث میں مدغم کیا گیا۔ حرف مدغم بمقام دو حروف کے ہے جن میں پہلا حرف ساکن ہے چونکہ حرف ساکن سے ابتدا نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا حرف مدغم سے پہلے ہمزہ وصل لایا گیا۔ اثاقلتم ہوگیا۔ جس کا مطلب ہے کہ تم بوجھ کے سبب جھک گئے۔ اثاقلتم الی الارض۔ تم بوجھل ہوکر زمین ہی سے لگ گئے۔ یعنی جہاد کے لئے نکلنے کی بجائے تمہارے پاؤں زمین سے جم کر رہ گئے۔ قرآن حکیم میں اور بھی ایسی مثالیں ہیں مثلاً (1) واذا قتلتم نفسا فادرأتم فیہا (2:72) اور (یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا تھا پھر تم اس کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے تھے۔ اصل میں تداراتم تھا۔ تا کو دال میں مدغم کیا چونکہ مدغم سے ابتداء نہیں ہوسکتی بوجہ سکون کے لہٰذا ہمزہ وصل زیادہ کیا گیا ۔ (2) حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعا (7:38) (3) حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت (10:24) کہ اصل میں تدارکوا اور تزینت تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی نکلنے سے ہچکچاتے ہو اور گھروں میں بیٹھے رہنا پسند کرتے ہو، کفار کے قبائح بیان فرمایا کہ جب ان کے خلاف جہاد ضروری ہونے کے اتنے اسباب موجود ہیں اور اس میں فوائد بھی ہیں تو پھر محض دنیا کے حقیر مفاد کی خاطر جہاد نہ کرنا انتہائی کمزوری ہے ( کبیر) علمانے تفسیر (رح) اس پر متفق ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں پر عتاب ہے جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے میں پس وپیش کی تھی۔ وا ضح رہے کہ غزوہ تبوک کا واقعہ فتح مکہ کے بعد 9 ھ میں طائف سے واپسی پر پیش آیا۔ ان دنوں سخت گرمی کا موسم تھا اور کھجوریں پک رہی تھیں اس لیے بعض نام کے مسلمان جہاد پر روانہ ہونے سے جی چرانے لگے اس غزوہ کا پس منظر یہ تھا کہ جب اسلامی سلظنت کا دائرہ سارے ملک عرب میں پھیل گیا تو ملک شام پر قبیلہ غسان حکمران تھا جو شاہ روم کے تابع تھ وہ اس کی فکر میں لگا کہ شاہ روم کو بلا کر عرب پر چڑھائی کی جائے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارادہ فرمایا کہ ملک شام کی سرحد پر پہنچ کر رومی فوجوں کر عرب پر حملہ آور ہونے سے رکا جائے، اس سلسلہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شاہ روم کے خط بھی لکھا جس میں اسے دین اسلام کی دعوت دی اور وہ اسلام لانے پر آمادہ بھی ہوگیا لیکن اس کی قوم نے اس کا ساتھ نہ دیا اس لے وہ اسلام سے محروم رہا۔ جب شام والوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارادہ کی خبر پائی تو شاہ روم کو اطلاع دی لیکن اس نے مدد کرنے کی ذمہ دار قبول نہ کی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کی لے کر تبوک تک تشریف لے گئے لیکن کوئی جنگ نہ ہوئی اور اس علاقہ کے لوگوں نے اطاعت قبول کرلی اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے پھر حضرت عمر (رض) کے زمانہ خلافت میں سارا ملک شام فتح ہوا۔ ( مختصر از مو ضح)5 کیونکہ دنیا فانی اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی کتنا پانی لے کر پلٹتی ہے، ( مسلم) دوسری حدیث میں ہے اللھم لاعیش الا عیش الا خرۃ۔ کہ یا اللہ زندگی صرف آخرت کی ہی زندگی ہے۔ ( بخاری مسلم )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 38 تا 42 اسرار و معارف بات پھر جہاد کی طرف پلٹی کہ بقائے دین کے لئے جہاد سب سے افضل واعلیٰ کام ہے اور ذاتی عبادات کا تحفظ بھی جہاد کا پھل ہے ۔ ورنہ تو کوئی گھر میں بھی سکون سے سجدہ نہ کرسکے ۔ مفسرین کے مطابق ان آیات مبارکہ میں عزوئہ تبوک کا تذکرہ ہے ۔ فتح مکہ کے بعد جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ پہنچے تو ہرقل روم کی فوجوں کے اجتماع کی خبرملی جو اسلامی ریاست کی سرحد پر جمع ہورہی تھیں جسے عرب کے عیسائی قبائل نے دعوت دی اور یہودیوں نے ابھارا کہ اسلامی ریاست کی اگر خبر نہ لی گئی تو یہ تمہارا گریبان بھی پکڑے گی چناچہ اس نے سال بھر کی پیشگی تنخواہ وغیرہ دے کر ایک لشکر جرار تیار کیا جس کی خبر ان تاجروں نے مدینہ منورہ پہنچائی جو تیل کی تجارت کے سلسلے میں آتے جاتے تھے ۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ تیاری کی جائے اور بجائے اس کے کہ وہ مدینہ منورہ پر حملہ آورہوں مقابلہ سرحد پر کیا جائے گا۔ یہ موسم گرمی کا تھا قحط سالی بھی تھی اور اگلی فصل پک کر تیار ہورہی تھی گذشتہ آٹھ برس بھی مسلسل حالت جنگ میں گزرے تھے مگر جاں نثاروں نے بلاتا خیرتیاری شروع کردی ۔ اسی غزوہ میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے گھر کا سارامال دیا تھا ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا گھر کیا چھوڑا ہے ؟ تو عرض کیا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت ۔ حضرت عمر (رض) نے آدھا مال اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا خواتین نے زیورتک جمع کرادیئے ساتھ ہی یہ منافقین کے لئے ایک سخت آزمائش ثابت ہوئی چناچہ انھوں نے بھی سخت پر اپیگنڈہ شروع کردیا ۔ مسلمانوں پر تو اس کا کوئی قابل ذکر اثرنہ ہوسکا بلکہ پورے جوش و خروش سے تیاری کی گئی حتی کہ تیس ہزار کا لشکر تیار ہوگیا جواب تک کی اسلامی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد تھی اس کے باوجود کچھ لوگ تو عذر کی ۔ پر شریک نہ ہوسکے چند اعرابی ایمان کی کمزوری کے باعث رہ گئے جن کی تعداد ٨٢ بیاسی کے قریب تھی اور جنہوں نے اجازت چاہی مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ پیچھے رہنے کی اجازت دی نہ ساتھ چلنے پہ اصرار فرمایا ۔ مخلصین میں سے کل پانچ حضرات شرکت سے رہ گئے حضرت کعب بن مالک حضرت ہلال بن امیہ حضرت مرارہ ابن الربیع حضرت ابو خثیمہ اور حضرت ابوذرغفار ی (رض) ۔ آخر الذکردونوں حضرات تو بعد میں جاکرشامل ہوگئے مگر تین حضرات شامل نہ ہوسکے جن کی توبہ کا تذکرہ کتاب اللہ میں موجود ہے ۔ منافقین کی باتوں سے اگر کچھ افراد میں تھوڑاساتردد بھی ہوا تو محبت رسالت کے طفیل اللہ کریم نے انھیں استقامت بخشی اگر چہ یہ بہت تنگی کا وقت تھا جسے اللہ نے خود ساعۃ العسرۃ فرمایا اور ان کا تذکرہ فرمایا کہ من بعد ما لادیزیغ قلوب فریق منھم کہ اگرچہ چند افراد کے دلوں میں لغزش کا خیال آیا تھا مگر عملا سب ایک ساتھ ہوگئے اور انھوں نے اس خیال کو اہمیت نہ دی ۔ دنیاوی فائدے سے آخرت کا فائدہ زیادہ اہم ہے تو ارشاد ہوتا ہے کہ جب جہاد کے لئے حکم دیا جائے تو باوجود ساری مشکلات کے پیچھے ہٹنے کا کبھی نہ سوچا کرو کہ جس قدرموانعات سامنے ہیں وہ سب دنیا کے نفع ونقصان کے اعتبار سے ہیں ، جیسے اس جہاد میں کہ مقابلہ پر ایک تربیت یافتہ شاہی لشکر ہے پہلی جنگوں میں اپنے جیسے لوگ تھے ۔ دوسرے قحط سالی ہے تیسرے سخت گرمی اور سفربہت لمبا ہے چوتھے فصلیں تیار ہیں ۔ لیکن اگر جہاد سے گریز کیا جائے تو سوائے دنیا کے اور کیا بچے گا ؟ اور دنیا تو خود فانی ہے اگر بچا بھی لے تو چندے بعد ہاتھ سے چلی جائے گی اور جہاد کرنے سے آخرت کی دولت ہاتھ آئے گی جو دائمی ہے کبھی ضائع نہ ہوگی۔ ترک جہاد کا عذاب اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر جہاد ترک کروگے تو اس پاداش میں بہت درد ناک عذاب دیاجائے گا جس کی صورت دنیا میں یہ ہوگی کہ اقتدار تمہارے ہاتھ سے نکل کر اغیار کے ہاتھ میں چلاجائے گا اور تم ان کا کچھ بگاڑنہ سکوگے۔ یہ واضح اور صاف بات اگر آج کا عابدوزاہد سمجھ لے تو امت مسلمہ آج بھی اغیار کے تسلط سے آزاد ہوسکتی ہے جو لوگ جہاد پر نہ جاسکے انھوں نے عبادات میں تو کمی نہ آنے دی تھی مگر نوافل اور بیانات جہاد کا بدل نہیں بن سکتے کہ یہاں قانون ارشاد فرمادیا گیا ہے کہ ایسے لوگ خواہ وہ کتنے نیک ذاکر و شاغل عابدوزا ہد بھی ہوں اگر میدان عمل میں جہاد نہیں کریں گے تو ان پر اغیار مسلط کریئے جائیں گے۔ یہ ارشاد ان عبادت گزاروں کے لئے ایک تازیانہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مجاہدین کی کامیابی کے لئے دعا بھی نہ کرو کہ یہ سیاسی معاملہ ہے یا حکومت کی تبدیلی میں حصہ نہ لو خواہ کوئی مسلط ہوجائے ۔ ان کی ذاتی عبادات مسلمان امت کے سر پر سائبان نہیں بنا سکتیں لہٰذ اعبادات و اذکار کی لذت بھی تلوار کے سائے میں ہے بشرطیکہ تلوار حق کی حفاظت اور باطل کے مقابلہ کے لئے اٹھائی جائے یہ قانون نافذ کردیا گیا ہے کہ اللہ ہر چیز پہ قادر ہے اس نے جہاد سے جی چرانے والوں کی قسمت میں غلامی لکھ دی ہے اب اختیار مسلمان کے پاس ہے کہ وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ اگر یہ نکتہ ملک عزیز کے دیندار طبقہ کو سمجھا یاجاسکے تو پاکستان میں ہمیشہ سے نیک لوگوں کی اکثریت رہی ہے لہٰذ ا اقتداراعلیٰ بھی انہی کے قبضہ میں ہو۔ مگر یہاں لوگ نوافل اذکارا اور تبلیغی دوروں سے آگے کچھ سوچنے ہے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے حالانکہ نیک قیادت کے لئے عملا کوشش کرنا بہت بڑاجہاد ہے اور یہ عمل میدان جنگ میں تلوار چلانے سے زیادہ مشکل ہے۔ پھر فرمایا اگر تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مددنہ بھی کرو تو ان کی مدد کو اللہ کافی ہے ۔ لہٰذادین اسلام تو ہمیشہ رہے گا اگر تم اس کے غلبہ اور بقا کی کوشش میں شرکت کروگے تو خود اپنے لئے سعادت حاصل کرنے کی کوشش کروگے۔ ثانی اثنین ورنہ تو وہ گھڑی بھی تھی کہ کفار نے انھیں شہر سے نکلنے پہ مجبور کردیا تھا اللہ کی مدد اس وقت بھی ان کے ساتھ تھی جب دو میں کا دوسرا ان کے ہمرکاب تھا کہ غار ثور میں پہنچے تھے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے کہ میری فکرنہ کریں کہ اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے ۔ یاد رہے کہ سید نا ابوبکر صدیق (رض) کے کچھ انفرادی فضائل ایسے ہیں جن میں کوئی ان کا شریک نہیں مثلا آپ (رض) کی چار پشت میں صحابیت ہے باپ صحابی خود بیٹے اور بٹیاں اور ان کی اولاد شرف صحابیت سے مشرف ہے اور مسلسل چار پشت صحابیت نصیب ہونا یہ صرف (رض) کا نصیب ہے ۔ اسی طرح ثانی اثنین یعنی دو میں سے ثانی ۔ ظاہر ہے اول تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت تمام مخلوق پر مسلم ہے مگر دوسرے یعنی ابوبکر صدیق (رض) میں کیا بات ہے کہ وہ ساری کائنات میں ثانی یعنی دوسرے ٹھہرے شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎ آن اٰمن الناس برمولائے ما آن کلیم وادی سینائے ما دولت او کشت ملت راچوں ابر ثانی اثنین وغاروبدروقبر (اقبال) تو یہ فضیلت معیت باری ہے جو اسی آیہ کریمہ میں مذکور ابو بکر صدیق رضی عنہ اور معیت باری جل جلالہ ہے کہ تمام جہانوں کو اللہ کی ربوبیت سے وجود نصیب ہوا اور ربوبیت ایک شعبہ ہے اور ایک قسم ہے معیت کی جس طرح خود معیت رحمت باری کا شعبہ ہے ۔ معیت کی بہت سی اقسام ہیں ، جیسے تخلیق اور پھر وجود کی بقاء مگر یہ سب سے عام درجہ ہے اور ساری مخلوق کو نصیب ہے اس سے اعلیٰ درجہ انسان کو نصیب ہے کہ اسے معرفت ذات نصیب ہوتی ہے مگر یہاں فیصلہ اور انتخاب انسان کا ہے اگر وہ خلوص سے یہ فیصلہ کرلے تو معیت باری اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے ۔ اس سے بلند درجہ نیک لوگوں کا ہے اور اولیاء اللہ کا مقام ہے ولی کو معیت ذاتی نصیب ہوتی ہے مگر اس مدار انسانی صفات پر ہے جیسے ان اللہ مع الصابرین یعنی وصف صبر معیت ذاتی کے حصول کا سبب بن گیا اب اگر صبر نفی ہوجائے تو معیت بھی نصیب نہ ہوگی ۔ اس سے بلند تو معیت انبیاء (علیہم السلام) کو نصیب ہوتی ہے کہ نبوت ان کا ذاتی وصف بن جاتی ہے جیسے موسیٰ وہارون (علیہم السلام) سے فرمایا انی معکما اسمع واری ۔ میں تمہارے ساتھ ہوں دیکھ اور سن رہا ہوں یہاں اوصاف نبوت دائمی ہیں تو معیت بھی ابدی ہے مگر معیت صفاتی ہے مگر ثور میں جھانکویہاں معیت ذاتی کی تجلیا ت ہیں جن کا تعلق ذات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذات ابوبکر صدیق (رض) سے فرمایا ان اللہ معنا اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے نہ ذات باری کی طرف کوئی صفاتی نام ہے بلکہ اسم ذات ہے اور نہ ایں جانب کوئی صفت بیان ہوئی بلکہ ارشاد ہے معنا ہم دونوں کے ساتھ ہے گویا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں یہ شان صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیب ہے اور غیر انبیاء میں ابوبکر صدیق (رض) کا حصہ ہے ۔ لہٰذ پوری کائنات میں صرف دو مقدس وجود ایسے ہیں جن کی ذاتوں کو اللہ کی ذاتی معیت نصیب ہے۔ لاتحزن لہٰذا فرمایا میرافکر نہ کریں حزن وہ ڈرجو دوسرے کے متعلق ہے جیسے یعقوب (علیہ السلام) کو غم یوسف (علیہ السلام) نے نڈھال کردیا تو فرمایا وابیضت عینا ہ من الحذن ۔ کہ دکھ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں ۔ ایسے ہی یہاں ارشاد ہے میری فکرنہ کرو کہ غار میں بیٹھے ہوئے مشرکین مکہ کے گھٹنوں سے نیچے جسم نظر آرہے تھے اگر وہ جھک کر جھانکتے تو دیکھ لیتے اور پھر کیا ہوتا اس کا اندازہ وہ کرسکتا ہے جس کی محبت صدیق آساہو ، محبوب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا اور دشمن ابو جہل ساہو ۔ جنگل کی تنہائی اور غار کی تنگی میں محبوب دامن میں ہو اور دشمن دروازے پر۔ تو اللہ نے اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سکینہ نازل فرمائی ۔ ایسی کیفیت نازل فرمادی کہ ذات باری میں اس کے قرب اور مشاہدہ میں دل کو تسکین ملی اور دنیا ومافیہاکا غم قریب نہ رہا ۔ یہی نزول لذات صدیق (رض) کی گود میں تھا اور مدد کو ایسی فوجیں نازل فرمائیں جو انسانی آنکھ کی عام نگا ہوں کی گرفت میں نہیں آتیں ۔ صحرا کے یہ دومسافر ایک بدوی کی راستے کی نشاندھی میں چلتے ہوئے نظرآتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہمرکاب فرشتوں کے لشکر تھے جنود جمع کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی متعدولشکر اور یوں کافروں کی ساری منصوبہ بندیاں غارت ہوئیں اور ان کے بلند وبانگ دعوے ذلیل ورسوا ہوئے یادرکھو ! ہمیشہ سرفرازی اور سر بلندی اللہ ہی کی بات کو ہے اور اللہ بہت زبردست ہے اور یہ کی اس کی حکمت ہے کہ انسان کو موقع بخشتا ہے۔ لہٰذا جہاد کے لئے نکلو کہ اللہ کی بات تو غالب ہو کر رہے گی ۔ اگر نہ نکلوگے تو تم محروم رہ جاؤ گے اور جو اسباب مہیا ہیں انہی کو لے کر چل دو تھوڑا اسلحہ یا کم راشن ہے یا سواری نہیں ہے نہ سہی جو ہے وہ لے کر چل د و اور جن کو اللہ نے زیادہ دیا ہے وہ زیادہ راشن اسلحہ یا سواری لے کرنکلو اور اللہ کی راہ میں جانیں نچھاور کردو مال بھی لگا دو کہ تمہارے لئے یہی بہتر ہے اگر تم بات کو پاسکوتو تقاضائے ایمان زیادہ ہوتا اور سفرکم ہوتا تو منافق بھی پیچھے نہ رہتے کہ کم تکلیف اٹھا کر زیادہ دنیا کا مال حاصل کرنے میں تو وہ بھی آگے بڑھتے انھیں تو پلے سے کچھ دینے میں موت نظرآتی ہے اور اس لمبی مسافت اور مقابلے میں طاقتور فوج کے خطرے نے ان کے حوصلے پست کردیئے ۔ اب وہ الہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہوسکتا یا ہمارے بس میں ہوتا تو یقینا ہمرکاب ہوتے اور ساتھ رہتے مگر یہ بات ہمارے بس میں نہیں ۔ فرمایا یہ اپنے لئے مزید تباہی کا سامان کر رہے ہیں کہ جہاد میں شریک نہ ہو کر جرم کیا اب قسمیں کھاکر بہانے کرتے ہیں حالا ن کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ سراسرجھوٹے ہیں ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 39 مالکم (تمہیں کیا ہوگیا ؟ ) انفروا (نکل پڑو اثاقلتم (تم گرے جاتے ہو) ارضیتم (کیا تم خوش ہوگئے، راضی ہوگئے) الاتنفروا (اگر تم نہ نکلے) یستبدل (وہ بدل دے گا) لاتضروا (تم نقصان نہ پہنچا سکو گے) تشریح :- آیت نمبر 38 تا 39 یہ آیات غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئیں۔ غزوہ تبوک جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات دنیوی کا آخری غزوہ تھا اس وجہ سے ہوا کہ صلح حدیبیہ کے بعد آپ نے تمام بادشاہوں اور چھوٹی چھوٹی مملکتوں کے سرداروں کے پاس اپنے وفود بھیجے جن کے ذریعہ ان کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی ان ہی میں سے ملک شام کی سرحد سے متصل قبائل میں بھی آپ نے اپنے وفد بھیجے۔ ان لوگوں نے سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پندرہ مسلمانوں کو شہید کردیا۔ کسی طرح قائد وفد حضرت کعب بن عمیر غفاری بچ کر نکل آئے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا تو آپ کو اس کا بہت رنج اور افسوس ہوا۔ اسی زمانہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بصریٰ کے رئیس و سردار شرجیل کے نام ایک خط بھی بھیجا شرجیل جو قصر روم اور سلطنت روم کی طاقت پر نازاں تھا اس نے قائد وفد حضرت حارث بن عمیر کو پہلے تو قید کیا اور پھر سامنے بلا کر نہ صرف ان کی توہین کی بلکہ قتل کرا دیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کا علم ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی سرکبی کے لئے تین ہزار مجاہدین کا ایک لشکر روانہ کیا تاکہ ان جیسے قبائل کو سر اٹھانے کی جرأت و ہمت نہ ہو چناچہ جب یہ لشکر موتہ کے مقام پر پہنچا تو ان کو معلوم ہوا کہ ان کے مقابلے میں ایک لاکھ کا لشکر موجود ہے بعض لوگ گھبرا گئے کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ یہ بھی مشورہ ہوا کہ اس صورتحال کی اطلاع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کردی جائے تاکہ مدینہ منورہ سے مزید فوج ان کی مدد کیلئے آجائے مگر حضرت عبداللہ رواحہ کی پرجوش تقریر نے ان کے بدل میں حرارت پھونک دی جس میں انہوں نے فرمایا کہ مسلمانو ! آگے بڑھو اور کفار کا مقابلہ کرو یا تو کفار پر غلب حاصل ہوگا یا شہادت کی موت نصیب ہوگی چناچہ مسلمان ایمان کی حرارت کے ساتھ آگے بڑا ہے اگرچہ ایک کے بعد ایک سپہ سالار شہید ہوئے مگر اللہ نے ان کو فتح و نصرت عطا فرمائی۔ حضرت زید بن حارثہ حضرت جعفر طیار اور حضرت عبداللہ بن رواحہ تینوں سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد جب سپہ سالاری کے لئے حضرت خالد بن ولید کا انتخبا کیا گیا تو انہوں نے فوج کو اس طرح ترتیب دیا کہ دشمن کے چھکے چھڑا دیئے۔ اس جنگ موتہ میں مسلمانوں کو کامیابی ہوئی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے بیحد خوشی ہوئی مگر سلطنت روما اور عیسائی دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور اب ان کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ مسلمان کسی بھی وقت سلطنت روم سے ٹکر لے سکتے ہیں۔ قیصر روم نے لاکھوں کی تعداد میں اپنے فوجیوں کو جمع کرلیا اور تیاری شروع کردی تاکہ وہ مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلطنت روم کی ان تیاریوں کا پتہ چلا تو آپ نے اچانک اعلان فرما دیا کہ ہم تبوک کی طرف کوچ کریں گے۔ یہ وہ موقع تھا جہاں آپ نے صحابہ کرام سے ہر طرح کی امداد کا مطالبہ فرمایا صحابہ کرام نے اپنی ہمت سے بڑھ بڑھ کر اپنا سب کچھ آپ کے قدموں میں لا کر ڈال دیا حضرت ابوبکر صدیق حضرت عثمان غنی اور حضرت عمر فاروق نے تو ایثار و قربانی کی مثالیں قائم فرمائیں لیکن دوسری طرف منافقین بھی کھل کر سامنے آگئے اور انہوں نے طرح طرح کے بہانے بنانے شروع کردیئے تاکہ وہ کسی طرح اس جہاد سے اپنی جان بچا سکیں ۔ یہ وقت بھی بڑا نازک تھا کیونکہ فصلیں تیار تھیں۔ جن فصلوں پر ان کا سال بھر کا گذارہ تھا منافقین کو اس کا بہانہ ہاتھ آگیا اور انہوں نے کہنا شروع کیا کہ ہم کیسے جاسکتے ہیں عسرت و تنگی کا زمانہ ہے فصلیں تیار ہیں گرمی کا شدید موسم ہے۔ ان ہی میں بعض وہ تھے جو منافق نہ تھے مگر کچھ سستی اور کاہلی میں آپ کے ساتھ نہ جاسکے اس کے برخلاف تمام صحابہ کرام نے خوب بڑھ چڑھ کر اس جہاد میں حصہ لیا اور عظیم ایثار و قربانی کا جذبہ پیش کیا۔ سورة توبہ میں آگے اس کی تفصیلات آئے گی۔ اس طرح آپ تیس ہزار کا ایک عظیم لشکر لے کر بہت تیزی سے تبوک کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ جب قیصر روم کو معلوم ہوا کہ مسلمان بہت تیزی کے ساتھ سلطنت شام کی طرف بڑھے چلے آ رہے ہیں تو وہ گھبرا گیا اور اس نے مقابلہ کرنے کے بجائے خاموشی ہی میں عافیت سمجھی اور وہ مقابلہ پر نہ آسکا۔ آپ نے تبوک کے مدیان میں بیس دن تک دشمن کا انتظار کیا اور آس پاس کے قبائل کو مطیع کرتے ہوئے مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے۔ اس موقع پر سورة توبہ کی آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا جب تمہیں جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم اپنے مفاد کیلئے زمین کی طرف جھکتے چلے جاتے ہو کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی زیادہ بہتر ہے اور آج تم فصلوں کے اور گرمی کے موسم کے بہانے کر کے اللہ کے راستے سے رک رہے ہو۔ صاف صاف فرما دیا گیا کہ اگر تم اللہ کے راستے میں نہیں نکلو گے تو اللہ تمہارا اور تمہاری حمایت کا محتاج نہیں ہے وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو ایمان کی توفیق عطا کر کے اس سے یہ کام لے لے گا۔ تم تو اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے لیکن تم اپنا بہت کچھ نقصان کر بیٹھو گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز، جہاد کی تحریص۔ اس سورة کا مرکزی مضمون قتال فی سبیل اللہ اور اس کے متعلقات ہیں لہٰذا قتال فی سبیل اللہ کا خطاب پھر شروع ہوتا ہے۔ اس خطاب کا پس منظر اور شان نزول یہ ہے کہ جب مکہ فتح ہوا اور سرزمین حجاز کے بڑے بڑے قبائل بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے تو مدینہ سے دور دراز کے لوگوں کے سامنے اسلام کی حقانیت واضح ہونے لگی۔ جس بنا پر شام، روم اور دیگر ممالک کے لوگوں نے مسلمانوں کے تہذیب و تمدن اور دین اسلام کی روشن تعلیمات کی طرف توجہ دینا شروع کی۔ جس سے ان ممالک کے حکمرانوں کو شدید خطرہ محسوس ہوا۔ خاص کر اس زمانے کی سب سے بڑی سیاسی قوت سلطنت رومہ نے محسوس کیا کہ اسلام کی پیش قدمی کو روکنا چاہیے۔ چناچہ روم کے فرمانروا ہرقل نے مملکت اسلامیہ پر حملہ کرنے کی سرگرمیاں تیز کردیں۔ ان کی سرگرمیوں کو دیکھ کر مدینہ کے منافق بھی پھر سے حوصلہ پکڑنے لگے۔ اس صورتحال پر قابو پانے اور رومیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ رومیوں کو پیش قدمی کا موقعہ دینے کی بجائے ان کے گھر جا کر سبق سکھانا چاہیے اس کے لیے آپ نے خلاف معمول ایک مہینہ پہلے رومیوں کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا حالانکہ اس سے پہلے آپ جہاد کے لیے توریہ کی پالیسی اختیار کیا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اگر مدینہ کے شمال کی طرف پیش قدمی کرنا ہوتی تو آپ جنوب کے علاقے کی باتیں کرتے تاکہ مدینہ کے منافق اور دیگر لوگ دشمن کو خبردار نہ کردیں لیکن اس مرتبہ آپ نے دو ٹوک الفاظ میں رومیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب فصلیں کٹنے پہ آئی ہوئی تھیں اور دوسری طرف گرمی کا عالم یہ تھا کہ گھر سے باہر نکلتے وقت آدمی کا چہرہ جھلس جاتا تھا۔ حالانکہ دشمن کے خلاف جنگ کے وقت کا تعین کرتے ہوئے موسم اور قوم کے داخلی حالات کو ہمیشہ مد نظر رکھا جاتا ہے لیکن حالات تاخیر کی اجازت نہیں دیتے تھے جس بنا پر آپ نے کھلی جنگ کا اعلان کیا ان حالات میں اس جنگ کو کچھ صحابہ اپنے آپ پر بوجھ محسوس کرنے لگے۔ اس اعصابی دباؤ اور ذہنی بوجھ کو دور کرنے کے لیے خطاب کا انداز ایسا اختیار کیا گیا جو پہلے کسی غزوۂ کے لیے اختیار نہیں کیا چناچہ حکم ہوا کہ اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین کے ساتھ چمٹے اور آخرت کے مقابلہ میں دنیا پر راضی ہوئے جا رہے ہو۔ یاد کرو کہ دنیا کے مال و اسباب کی آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ؟ دنیا کی زندگی نہایت مختصر اور اس کا سامان ناپائیدار اور معمولی ہے اس کے باوجود اگر تم نے دنیا کو مقدم جانا اور اللہ کے راستے میں نکلنے سے فرار اختیار کیا تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں اذیت ناک عذاب دے گا۔ تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا۔ پھر تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس انتباہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب جہاد کا اعلان عام ہوجائے تو پھر کسی فرد کو پیچھے رہنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی جہاد فرض کفایہ کے بجائے فرض عین ہوجایا کرتا ہے۔ ایسی صورت میں جو مسلمان پیچھے رہے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دینے کا اعلان کرتا ہے۔ عام طور پر دنیا کی سزا دشمن کے ہاتھوں ہوا کرتی ہے کیونکہ دشمن کے مقابلے میں نہ نکلنے والی قوم ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنا سب کچھ کھو بیٹھتی ہے۔ (عَنْ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ إِذَا تَبَایَعْتُمْ بالْعِینَۃِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِیتُمْ بالزَّرْعِ وَتَرَکْتُمْ الْجِہَادَ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ ذُلًّا لَا یَنْزِعُہُ حَتّٰی تَرْجِعُوا إِلٰی دینِکُمْ ) [ رواہ ابوداؤد : کتاب البیوع، باب فی النہی عن العینۃ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں جب تم تجارت عینہ کیا کرو گے گائے کی دم کو پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی پر راضی ہو کر جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا۔ وہ اس وقت تک تم پر مسلط رہے گی جب تک تم واپس دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے۔ “ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الصَّاءِمِ الْقَاءِمِ الْقَانِتِ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَا یَفْتُرُ مِنْ صِیَامٍ وَلَا صَلٰوۃٍ حَتّٰی یَرْجِعَ الْمُجَاہِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ ) [ متفق علیہ ] حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا اس شخص کی طرح ہے ‘ جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور ہمہ وقت حالت قیام میں قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے۔ روزے اور نماز میں کوتاہی نہیں کرتا۔ حتّٰی کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا مجاہد واپس لوٹ آئے۔ مسائل ١۔ جب جہاد کا اعلان ہو تو اس پر لبیک کہنا چاہیے۔ ٢۔ جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے وعید ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن کن لوگوں کو دردناک عذاب ہوگا : ١۔ منافقوں کے دلوں میں بیماری ہے۔ ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : ٧) ٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخی کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : ١٠٤) ٣۔ اللہ کی آیات چھپانے اور فروخت کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : ١٧٤) ٤۔ زیادتی کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : ١٧٨) ٥۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر۔ انبیاء کو قتل کرنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : ٢١) ٦۔ اللہ کے عہد اور قسموں کو فروخت کرنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : ٧٧) ٧۔ ایمان کے بدلے کفر کو خریدنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : ١٧٧) ٨۔ اللہ کے احکام کو پس پشت ڈالنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : ١٨٧ )

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 90 ایک نظر میں آیات کا یہ حصہ ، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر حکم نفیر عام کے بعد نازل ہوا ہوگا۔ جب حضور کو معلوم ہوا کہ رومی جزیرۃ العرب کے شمالی علاقے شام کی حدود پر جمع ہوگئے ہیں۔ الا یہ کہ ہر قل نے اپنے ساتھیوں اور فوجیوں کو ایک سال کا راشن فراہم کردیا ہے اور ان افواج کے ساتھ قبائل لخم ، جذاب ، عاملہ اور غسان بھی شامل ہوگئے ہیں جو شمالی عربی قبائل تھے۔ ان کے ہر اول دستے مقام بلقا تک آپہنچے ہیں۔ ان حالات میں حضور نے بھی مسلمانوں کو عام لشکر کشی کی تیاری کا حکم دے دیا۔ حضور جب بھی کسی غزوے کے لیے نکلتے تو آپ جنگ چال کے طور پر تیاریوں کا رخ دوسری جانب پھیرتے پتہ نہ ہوتا کہ آپ نشانہ کہاں لگائیں گے مگر آپ نے غزوہ تبوک میں اس اصول کو چھوڑ دیا چونکہ یہ دور کا سفر تھا اور موسم نہایت ہی سخت تھا۔ اس لیے حضور نے اس سفر کی بات صاف صاف بتا دی تھی۔ سخت گرمی پڑھ رہی تھی۔ چھاؤں خوشگوار تھی۔ باغات پک چکے تھے۔ اور لوگوں کے لیے سفر کے مقابلے میں گھروں پر قایم بہت ہی محبوب تھا۔ ان حالات میں اسلامی معاشرے میں ان کمزوریوں کا ظہور ہوا جن کے بارے میں ہم نے اس سورت کے مقدمے میں تفصیلا بتایا ہے۔ ان حالات میں منافقین کے لیے بھی اپنی ذلیلانہ حرکات کے لیے موقع پیدا ہوگئے ، انہوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ گرمی میں لشکر کشی نہ کی جائے۔ انہوں نے طویل سفر کی صعوبتوں کو بیان کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے لوگوں کو رومیوں کی قوت سے بھی خوب ڈرایا۔ اور اس پروپیگنڈے کا اثر بھی اسلام معاشرے پر پڑا۔ چناچہ آیات کے اس حصے میں ان تمام باتوں کے خلاف متنبہ کیا گیا۔ درس نمبر 90 تشریح آیات 38 ۔۔۔ تا۔۔ 41 پیچھے رہ جانے والوں کے لیے یہ آغاز عتاب ہے ، ان کو یہاں سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے جہاد کے معاملے میں سستی کی تو اس کے نتائج سخت ہوں گے۔ اس موقع پر انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ تم حضرت محمد کو اکیلا اور محتاج نہ سمجھو۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت اور مدد ہر وقت موجود رہتی ہے۔ غار میں اس کے ساتھ تم میں سے کوئی نہ تھا اور تمہارے بغیر بھی اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو بچایا۔ حضور کو تو تمہارے تخلف سے کوئی نقصان ہوگا یا نہ ہوگا ، تمہیں بہرحال گناہ ہوگا اور تم سے ایک بڑی کوتاہی کا صدور ہوجائے گا۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ : " اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے ؟ " یہ سب زمین کے بوجھ ہیں ، زمین کے لالچ ، زمین کے تصورات ، زندگی کے چلے جانے کا خوف ، مال کے نقصان کا خوف ، دنیاوی لذتوں اور مال و متاع کے ضائع ہوجانے کا خوف ، عیاشی آرام اور امن و سکون کے تباہ ہوجانے کا خوف۔ فنا ہونے والی لذتوں ، زندگی کے مکتصر اور عارضی مقاسد اور خود اس کرہ ارض کی مختصر زندگی کے ساتھ چمٹ جانے کی رکاوٹ۔ غرض تمام رکاوٹیں ، خون اور گوشت اور مٹی سے متعلق ہیں۔ اور ان تمام رکاوٹوں کو ایک نہایت ہی زمزمہ زنگیز لفظ اثاقلتم کے ذریعے بتایا گیا۔ اس میں ایک قرات ثقاقلتم بھی آئی ہے لیکن حفص کی عام قراءت نہایت ہی موثر ہے۔ یہ لفظ جس مفہوم کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک جثہ ہے جو زمین پر گرنے کے لیے ڈھیلا پڑ رہا ہے۔ لوگ اسے مشکل سے اوپر کی طرف اٹھانے کی سعی کرتے ہیں لیکن وہ اس قدر بوجھل ہوچکا ہے کہ وہ زمین پر گرجاتا ہے۔ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ : ان الفاظ میں سے اظہار ہوتا ہے کہ زمین اسے اپنی جانب کھینچ رہی ہے لیکن روحانی قوت اور تحریک اور شوق کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اوپر اٹھے جہاد کے لیے اٹھنے کا عمل در اصل اپنے آپ کو اس زمین کی کشش ثقل سے آزاد کرنا ہے۔ زمین کے اندر پائی جانے والی گوشت و پوست کی آلودگیوں سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کا عمل ہے۔ انسان کو روحانی دنیا اور بلند مقاصد کی دنیا کی طرف مشتاق کرنے کا عمل ہے۔ انسانی روح کو دنیاوی قید و بند سے آزاد کردینے کا عمل ہے۔ اس عارضی اور مختصر زندگی کو ترک کرکے دائمی اور طویل زندگی میں داخل ہونے کا عمل ہے۔ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ: " کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا " کسی عقیدے اور نظریے کے پیروکار اگر جہاد فی سبیل اللہ سے روکتے ہیں یا اپنے نظریات کی خاطر جنگ نہیں کرتے تو اس کا صرف ایک ہی سبب ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے نظریہ اور عقیدہ کے اندر فتور اور کمزوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں من مات و لم یغزوا ولم یحدث نفسہ بغزو مات علی شعبۃ من شعب نفاق۔ جو شخص مر گیا اور اس نے نہ تو جہاد میں حصہ لیا اور نہ اس کو کبھی اس کا خیال گزرا تو ایسا شخص نفاق کے شعبوں میں سے ایک شعبے پر مرا لہذا نفاق جب کسی عقیدے میں داخل ہوتا ہے تو اسے بلندی اور کمال سے روکتا ہے۔ یہ نفاق ہی ہے جو انسان کو موت سے ڈرا کر ، فقر و فاقے سے ڈرا کر جہاد سے روکتا ہے حالانکہ موت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور رزق ہر شخص کا اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آخرت کے مقابلے میں اس پوری زندگی کا مال و متاع شیئ قلیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگے یہ بیان آتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

خروج فی سبیل اللہ کے لیے کہا جائے تو نکل کھڑے ہو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے گا اور تمہارے بدلہ دوسری قوم کو لے کر آئے گا ! معالم التنزیل (ص ٢٩٢ ج ٢) میں لکھا ہے کہ آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَاقِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا) (الآیۃ) غزوہ تبوک میں شرکت کرنے کی ترغیب دینے کے لیے نازل ہوئی جس کا واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف کے حصار کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو آپ نے حکم دیا کہ اب رومیوں سے جہاد کرنے کے لیے چلو (خبر ملی تھی کہ رومی مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے شام کی سرحد پر جمع ہوگئے ہیں) صوبہ شام اس وقت رومیوں کے زیر نگین تھا اور وہاں ہرقل کی حکومت تھی جو رومیوں کا بادشاہ تھا۔ آپ نے ارادہ فرمایا کہ ان سے وہیں چل کر مقابلہ کرلیا جائے اور دفاع کیا جائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ طریقہ تھا کہ جب جہاد کے لیے جانا ہوتا تھا تو توریہ سے کام لیتے تھے (یعنی نام لے کر واضح طور پر نہیں بتاتے تھے کہ فلاں مقام پر جانا اور فلاں قوم سے جنگ کرنا ہے) یہ موقعہ ایسا تھا کہ پھل پک رہے تھے کھیتیاں تیار تھیں ان کے کاٹنے کا زمانہ تھا اور تنگدستی بھی چل رہی تھی۔ گرمی سخت تھی اور سفر دور کا تھا اور درمیان میں خوفناک میدان تھے اور دشمن بھی تعداد میں زیادہ تھا۔ آپ نے واضح طور پر مسلمانوں کو بتادیا کہ تبوک جانا ہے تاکہ دشمن سے مقابل ہونے کے لیے تیاری کرلیں۔ اس موقعہ پر آپ کا جہاد کے لیے حکم فرمانا بھاری پڑگیا اور مسلمانوں میں سستی اپنا اثر کرنے لگی، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اہل ایمان کو خطاب فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو زمین پر بوجھل بن گئے، کیا آخرت کے بدلہ میں دنیا والی زندگی پر راضی ہوگئے حالانکہ دنیا والی زندگی آخرت کے مقابلہ میں بہت تھوڑی سی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

33: حصہ دوم : یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ بیان دعویٰ کے بعد اب یہاں سے منافقین پر زجر اور مومنوں کیلئے ترغیب الی القتال کا ذکر ہے۔ “ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ” یعنی جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو تم زمین پر گرے پڑتے ہو۔ کیا تم آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہو لیکن یاد رکھو دنیا کا سارا مال و متاع آخرت کے انعامات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں “ فی الاخرة بدل الاخرة ”۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

38 اے ایمان لانے والو ! تم کو کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے کوچ کرو اور گھروں سے نکلو تو تم زمین سے چپکے جاتے ہو اور زمین پر ڈھیر ہوئے جاتے ہو اور زمین پر ڈھئے جاتے ہو کیا تم آخرت کے مقابلے میں اور آخرت کے بدلے میں دنیوی زندگی پر قانع اور رضامند ہوگئے ہو تو آخرت کے فوائد اور تمتع کے مقابلے میں تو دنیوی منافع کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی تھوڑے اور بہت ہی کم۔ غزوئہ تبوک کی تیاری کا حکم ملا تو سخت گرمی کا موسم تھا تبوک مدینہ سے چودہ منزل ہے کچھ لوگ شش و پنج میں پڑگئے غزوئہ تبوک کا حکم 9؁ھ میں دیا گیا۔