Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 39

سورة التوبة

اِلَّا تَنۡفِرُوۡا یُعَذِّبۡکُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۬ ۙ وَّ یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ وَ لَا تَضُرُّوۡہُ شَیۡئًا ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾

If you do not go forth, He will punish you with a painful punishment and will replace you with another people, and you will not harm Him at all. And Allah is over all things competent.

اگر تم نے کوچ نہ کیا تو تمہیں اللہ تعالٰی دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل لائے گا تم اللہ تعالٰی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِلاَّ تَنفِرُواْ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ... If you march not forth, He will punish you with a painful torment, Ibn Abbas said, "Allah's Messenger called some Arabs to mobilize, but they lagged behind and Allah withheld rain from coming down on them, and this was their torment." Allah said, ... وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ... and will replace you by another people, who will give aid to His Prophet and establish his religion. Allah said in another Ayah, الْفُقَرَاءُ وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُواْ And if you turn away (from the obedience to Allah), He will exchange you for some other people and they will not be your likes. (47:38) ... وَلاَ تَضُرُّوهُ شَيْيًا ... and you cannot harm Him at all, you can never harm Allah when you lag behind and stay away from joining Jihad, ... وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ and Allah is able to do all things. He is able to destroy the enemies without your help.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

39۔ 1 شام کے عیسائی بادشاہ ہرقل کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی تیاری کر رہا ہے چناچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کے لئے تیاری کا حکم دے دیا۔ یہ شوال سن 9 / ہجری کا واقعہ ہے۔ موسم سخت گرمی کا تھا اور سفر بہت لمبا تھا۔ بعض مسلمانوں اور منافقین پر یہ حکم گراں گزرا، جس کا اظہار اس آیت میں کیا گیا ہے اور انہیں لعنت و ملامت کی گئی ہے۔ یہ جنگ تبوک کہلاتی ہے جو حقیقت میں ہوئی نہیں۔ 20 روز مسلمان ملک شام کے قریب تبوک میں رہ کر واپس آگئے۔ اس کو جیش العسرۃ کہا جاتا ہے کیونکہ اس لمبے سفر میں اس لشکر کو کافی دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اثاقلْتُمْ یعنی سستی کرتے اور پیچھے رہنا چاہتے ہو۔ اس کا مظاہرہ بعض لوگوں کی طرف سے ہوا لیکن اس کو منسوب سب کی طرف کردیا گیا (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٢] اسلامی حکومت کے اعلان پر جہاد فرض عین ہے :۔ یعنی یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے اسلام کی سر بلندی کے لیے تمہیں منتخب کرلیا ہے ورنہ وہ تمہارے بجائے دوسرے لوگوں سے بھی یہ خدمت لے سکتا ہے اور تمہارے انکار کی صورت میں تمہیں ان سے پٹوا بھی سکتا ہے اور خود بھی سزا دے سکتا ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اگر اسلامی حکومت جہاد کا اعلان عام کر دے تو جہاد فرض عین ہوجاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا : عذاب الیم یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی، محکومیت اور غلامی اور آخرت میں آگ کا عذاب جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ (وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ) یعنی یہ نہ سمجھو کہ اگر ہم جہاد کے لیے نہ نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ کا کام پورا ہونے سے رہ جائے گا، ہرگز نہیں، اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور انھیں اسلام غالب کرنے کے لیے جہاد کی سعادت سے نوازے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے، کیونکہ وہ تمہاری یا کسی اور کی مدد کے بغیر خود اکیلا ہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

It is interesting that the modern world would very much like to eradicate crimes but it would do so by not having to bother about God and the Hereafter. To achieve this purpose, it invents, introduces and surrounds itself with things to live with - a lifestyle which would nev¬er allow human beings to turn their attention towards God and Hereafter. The result of this negative approach is no mystery. We are watching it with our own eyes. Even in the face of ever better laws, all legal systems seem to be failing. Crimes are there as they were, in fact, they are increasing with dangerous speed. To conclude, we wish that intelligent people among countries and nations of the world would think of using this Qur&anic prescription, at least for once, and discover for themselves how easily crimes can be controlled. Now, as we move to the second verse (39), the text has, after serving a notice of warning to the lazy and the listless about their disease and its treatment, delivered its verdict by saying: ` If you do not come out for Jihad, Allah will have you go through a painful punishment and bring in your place a na¬tion other than you, and (by your refusal to follow Islam) you can bring no loss to Allah (or His Messenger) because Allah is powerful over everything.&

دوسری آیت میں سستی اور کاہلی برتنے والوں کو ان کے مرض اور علاج پر متنبہ کرنے کے بعد آخری فیصلہ یہ بھی سنا دیا کہ : اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردیں گے اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو کھڑا کردیں گے، اور دین پر عمل نہ کرنے سے تم اللہ کو یا اللہ کے رسول کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے “

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۝ ٠ۥۙ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْہُ شَـيْــــًٔـا۝ ٠ ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ ٣٩ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے ) بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . وقال تعالی: فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] ، وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] ، وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ، ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] أي : تغيّر عن حالها، أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] ، وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] ، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] ، وقوله : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] أي : لا يغيّر ما سبق في اللوح المحفوظ، تنبيها علی أنّ ما علمه أن سيكون يكون علی ما قد علمه لا يتغيّرعن حاله . وقیل : لا يقع في قوله خلف . وعلی الوجهين قوله تعالی: تَبْدِيلَ لِكَلِماتِ اللَّهِ [يونس/ 64] ، لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ [ الروم/ 30] قيل : معناه أمر وهو نهي عن الخصاء . والأَبْدَال : قوم صالحون يجعلهم اللہ مکان آخرین مثلهم ماضین «1» . وحقیقته : هم الذین بدلوا أحوالهم الذمیمة بأحوالهم الحمیدة، وهم المشار إليهم بقوله تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] والبَأْدَلَة : ما بين العنق إلى الترقوة، والجمع : البَئَادِل «2» ، قال الشاعر : 41- ولا رهل لبّاته وبآدله ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] تو جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے ۔ وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] جب ہم گوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔ وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] کے معنی یہ ہیں کہ زمین کی موجودہ حالت تبدیل کردی جائے گی ۔ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] کہ وہ ( کہیں گی ) تہمارے دین کو ( نہ ) بدل دے ۔ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] اور جس شخص نے ایمان ( چھوڑ کر اس کے بدلے کفر اختیار کیا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] 47 ۔ 38 ) اور اگر تم منہ پھروگے تو وہ تہماری جگہ اور لوگوں کو لے آئیگا ۔ اور آیت کریمہ : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا پس اس میں تنبیہ ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وقوع پذیر ہوگی وہ اس کے علم کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوگی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کے وعدہ میں خلف نہیں ہوتا ۔ اور فرمان بار ی تعالیٰ : { وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ } ( سورة الأَنعام 34) قوانین خدا وندی کو تبدیل کرنے والا نہیں ۔{ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ } ( سورة الروم 30) نیز : لا تبدیل لخلق اللہ فطرت الہیٰ میں تبدیل نہیں ہوسکتی ( 30 ۔ 30 ) بھی ہر دو معافی پر محمول ہوسکتے ہیں مگر بعض نے کہاں ہے کہ اس آخری آیت میں خبر بمعنی امر ہے اس میں اختصاء کی ممانعت ہے الا ابدال وہ پاکیزہ لوگ کہ جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا قائم مقام فرمادیتے ہیں ؟ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں ۔ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں جہنوں نے صفات ذمیمہ کی بجائے صفات حسنہ کو اختیار کرلیا ہو ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنکی طرف آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] میں ارشاد فرمایا ہے ۔ البادلۃ گردن اور ہنسلی کے درمیان کا حصہ اس کی جمع بادل ہے ع ( طویل ) ولارھل لباتہ وبآدلہ اس کے سینہ اور بغلوں کا گوشت ڈھیلا نہیں تھا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں قَدِيرُ : هو الفاعل لما يشاء علی قَدْرِ ما تقتضي الحکمة، لا زائدا عليه ولا ناقصا عنه، ولذلک لا يصحّ أن يوصف به إلا اللہ تعالی، قال : إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ البقرة/ 20] . والمُقْتَدِرُ يقاربه نحو : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ، لکن قد يوصف به البشر، وإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فمعناه القَدِيرُ ، وإذا استعمل في البشر فمعناه : المتکلّف والمکتسب للقدرة، يقال : قَدَرْتُ علی كذا قُدْرَةً. قال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] . القدیر اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے ۔ لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے ۔ اور یہی معنی تقریبا مقتقدر کے ہیں جیسے فرمایا : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ [ الزخرف/ 42] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قدرت علی کذا قدرۃ کہ میں نے فلاں چیز پر قدرت حاصل کرلی ۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٩ (اِلاَّ تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًالا وَّیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلاَ تَضُرُّوْہُ شَیْءًا ط) اللہ کو تو اپنے دین کا جھنڈا اٹھوانا ہے ‘ اگر تم نہیں اٹھاؤ گے تو تمہیں ہٹا کر اس مقصد کے لیے کسی اور قوم کو آگے لے آئے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :40 اسی سے یہ مسئلہ نکلا ہے کہ جب تک نفیر عام ( جنگی خدمت کے لیے عام بلاوا ) نہ ہو ، یا جب تک کسی علاقے کی مسلم آبادی یا مسلمانوں کے کسی گروہ کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم نہ دیا جائے ، اس وقت تک تو جہاد فرض کفایہ رہتا ہے ، یعنی اگر کچھ لوگ اسے ادا کرتے رہیں تو باقی لوگوں پر سے اس کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے ۔ لیکن جب امام المسلمین کی طرف سے مسلمانوں کو جہاد کا عام بلاوا ہو جائے ، یا کسی خاص گروہ یا خاص علاقے کی آبادی کو بلاوا دے دیا جائے تو ، پھر جنہیں بلاوا دیا گیا ہو ان پر جہاد فرض عین ہے ، حتٰی کہ جو شخص کسی حقیقی معذوری کےبغیر نہ نکلے اس کا ایمان تک معتبر نہیں ہے ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :41 یعنی خدا کا کام کچھ تم منحصر نہیں ہے کہ تم کرو گے تو ہوگا ورنہ نہ ہوگا ۔ درحقیقت یہ تو خدا کا فضل و احسان ہے کہ وہ تمہیں اپنے دین کی خدمت کا زرین موقع دے رہا ہے ۔ اگر تم اپنی نادانی سے اس موقع کو کھو دو گے تو خدا کسی اور قوم کو اس کی توفیق بخش دے گا اور تم نامراد رہ جاؤ گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:39) الا۔ ان لا۔ الا تنفروا۔ اگر تم نہیں نکلو گے (اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے) ۔ یعذبکم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ مجزوم بواجہ شرط کے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یستبدل۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ واحد مذکر حاضر۔ وہ بدل کرلے آئے گا۔ ولا تضروہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے ۔ جو کہ محذوف ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یہ نہ سمجھو کہ اگر جہاد کے لے ہم نہ نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ کا کام بگڑ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی کوئی پروا نہیں۔ وہ اپنے پیغمبر کی ہر طرح سے غالب کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے طریقے سے جہاد کی ترغیب دی ہے۔ ( کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ خطاب ایک متعین واقعہ میں ایک متعین جماعت کو ہے۔ لیکن اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ ہر صاحب عقیدہ اور نظریہ کے لیے عام ہے۔ یہ عذاب جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے صرف آخرت کا عذاب ہی نہیں ہے۔ یہ دنیاوی عذاب بھی ہے۔ جو لوگ جہد و جہاد سے پہلو تہی کرتے ہیں اور غلبہ و سربلندی کے لیے جہد مسلسل نہیں کرتے وہ محروم رہتے ہیں اور ذلت کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھلائی کے کاموں میں حصہ لینے سے محروم رہتے ہیں۔ اور یہ میدان وہ اپنے دشمنوں کے لیے خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور اسلام کی راہ میں جدوجہد کی راہ چھوڑ دینے کے نتیجے میں نظریاتی لوگوں کا جانی اور مالی نقصان جہاد و قتال میں حصہ لینے کی صورت میں ہوتا ہے۔ جہاد کا شریفانہ عمل ان سے جس قربانی کا مطالبہ کرتا ، اس کے مقابلے میں ذلت اور پست ہستی ان سے زیادہ قربانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ غرض جس قوم نے بھی جہاد کے عمل کو ترک کیا ، اس کے مقدر میں ذلت لکھ دی جاتی ہے۔ وہ دشمن کے لیے لقمہ تر بن جاتی ہے اور دشمن اسے بڑی آسانی کے ساتھ غلام بنا لیتا ہے۔ ویستبدل قوما غیرکم : " تمہاری جگہ اور گروہ اٹھائے گا " یہ دوسرا گروہ ایسا ہوگا جو اپنے نظریات پر مضبوطی سے قائم ہوگا ، وہ اپنی عزت اور وقات کے لیے قربانی دینے والا ہوگا اور وہ اللہ کے دشمنوں پر سربلندی حاصل کرنے والا ہوگا۔ ولا تضروہ شیئا " تم خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکوگے " پھر تمہاری کوئی حیثیت نہ ہوگی اور نہ صف اول میں تمہاری حیثیت ہوگی اور نہ صف آخر میں۔ واللہ علی کل شیئ قدیر " اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے " وہ اس بات سے عاجز نہیں ہے کہ تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ دوسری اقوام کو اٹھا لائے اور تمہیں نظر انداز کرکے گوشہ گم نامی میں ڈال دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیاوی مفادات سے بلند ہونا اور نفس انسانی کی کمزوریوں پر قابو پانا ، در اصل مقام شرافت و کرامت کو پانا ہے۔ اس کے نتیجے میں بلند ترین زندگی عطا ہوتی ہے لیکن ذلت کو اختیار کرکے زمین سے چمٹ جانا اور دشمن سے خائف ہونا کرامت اور شریعت اور عظمت کی زندگی کی نفی ہے۔ اور اللہ کے معیار کے مطابق یہ فنا اور ذلت ہے اور روحانی و اقدار کی تباہی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک تاریخی واقعہ کو ذکر کرکے ایک مثال بیان فرماتے ہیں۔ یہ مثال ان کے علم میں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ بعض حساس مواقع پر دست قدر نے کس طرح رسول اللہ اور اسلامی تحریک کی دستگیری فرمائی۔ اس میں افراد تحریک کا وئی دخل نہ تھا۔ یہ خالص غیبی امداد تھی اور مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایک شخص بھی اس وقت امداد کے لیے موجود نہ تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مزید فرمایا (اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا) (الآیۃ) اگر تم اللہ کی راہ میں نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب دے گا۔ اور تمہارے بدلہ دوسری قوم کو پیدا فرما دے گا اور تم اللہ کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ آخر میں فرمایا (وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اللہ ہر چیز پر قادر ہے) وہ عذاب دے سکتا ہے اور تمہارے بدلہ دوسری قوم بھی پیدا فرما سکتا ہے (جو تم سے زیادہ فرمانبر دار ہو) اور دشمنوں کو تمہارے سفر اور تمہارے جنگ کیے بغیر بھی ہلاک کرسکتا ہے۔ لہٰذا یہ سمجھ لیں کہ اگر ہم جہاد میں نہ گئے تو اللہ کو یا اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جو جائے گا اپنا ثواب پائے گا آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوگا۔ (یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا) کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے آخرت کا عذاب مراد ہے اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس سے دنیا میں بارش کو روک لینا مراد ہے۔ (معالم التنزیل) حضرت ابن عباس (رض) کا یہ قول مقام کے اعتبار سے مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ کھیتوں اور باغوں کی پیداوار جمع کرنے کا موقعہ آگیا تھا اسے چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتادیا گیا کہ اگر تم جہاد کے لیے نہ نکلے تو بارش روک دی جائے گی۔ اگر اس سال غلے اور پھل حاصل کر بھی لیے تو آئندہ آنے والے برسوں میں بارش رک جانے کی وجہ سے ان چیزوں سے محروم ہونگے۔ جن لوگوں نے سستی دکھائی ان کی تعداد زیادہ نہ تھی کیونکہ اس سورت میں دوسری جگہ ان کے بارے میں (مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْھُمْ ) فرمایا ہے، سستی کے بعد یہ حضرات غزوہ میں شریک ہوگئے تھے گو سستی چند افراد سے ظاہر ہوئی لیکن خطاب تمام مومنین سے فرمایا تاکہ ہمیشہ رہتی دنیا تک تمام مسلمانوں کو سبق مل جائے اور اللہ کی راہ میں خوشی خوشی نکل کھڑے ہوں اور حقیر دنیا کے لیے آخرت کی ابدی نعمتوں سے محروم نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمانے پر مسلمانوں کی بہت بڑی جمعیت تبوک جانے کے لیے نکل کھڑی ہوئی جس میں تیس ہزار مسلمان تھے اور اس سے پہلے کبھی بھی مسلمانوں کی تعداد اس قدر کسی جنگ میں بھی شریک نہ ہوئی تھی اور ہو ابھی صرف آنا جانا اور چند روز قیام کرنا، کیونکہ ان حضرات کے تبوک پہنچنے سے دشمنوں کے حوصلے پست ہوگئے۔ اور مقابلہ میں آنے کی ہمت نہ کرسکے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

34: اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں ہلاک کر کے تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم اپنے دین کی نصرت و تائید کے لیے کھڑی کردے گا۔ اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکو گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

39 اگر تم جہاد کے لئے کوچ نہ کرو گے اور گھروں سے نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو دردناک سزا دے گا اور تمہارے بدلے کسی اور قوم کو تمہاری جگہ لے آئے گا اور تم اللہ تعالیٰ کے دین کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکوگے اور اللہ تعالیٰ ہر شئے پر پوری طرح قادر ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے مذکور ہے جنگ تبوک کا جب اسلام غالب ہوا اور عرب میں پھیلاشام کے رئیس تھے قوم غسان تابع شاہ روم کے اس فکر میں لگے کہ شاہ روم کو اس طرف لاویں اور جنگ مچادیں۔ حضرت کو خبر ہوئی آپ نے بھی ان پر قصد کیا اور خط لکھا روم کے شاہ کو دین اسلام کی دعوت پر۔ اس پر ثابت ہوئی حضرت کی نبوت لیکن قوم نے رفاقت نہ کی وہ بھی اسلام سے محروم رہا جب شام والوں نے خبر پائی حضرت کے ارادے کی شاہ روم سے ظاہر کیا اس نے مدد کا ذمہ لیا ان لوگوں نے اطاعت کی لیکن مسلمان نہ ہوئے پھر عنقریب حضرت کی وفات ہوئی بعد اس کے خلافت حضرت عمر (رض) میں تمام ملک شام فتح ہوا اس جنگ میں دشمن قوی نظر آیا اور سفر دراز دیکھا اور اسباب کم منافق لگے بہانے لانے حضرت نے سب کو رخصت دی جب اللہ کے فضل سے غالب و منصور پھر آئے تب منافق فضیحت ہوئے اس سورت میں اکثر منافقوں کا بیان ہے۔ 12