Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 48

سورة التوبة

لَقَدِ ابۡتَغَوُا الۡفِتۡنَۃَ مِنۡ قَبۡلُ وَ قَلَّبُوۡا لَکَ الۡاُمُوۡرَ حَتّٰی جَآءَ الۡحَقُّ وَ ظَہَرَ اَمۡرُ اللّٰہِ وَ ہُمۡ کٰرِہُوۡنَ ﴿۴۸﴾

They had already desired dissension before and had upset matters for you until the truth came and the ordinance of Allah appeared, while they were averse.

یہ تو اس سے پہلے بھی فتنے کی تلاش کرتے رہے ہیں اور تیرے لئے کاموں کو الٹ پلٹ کرتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب آگیا باوجودیکہ وہ ناخوشی میں ہی رہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah encourages His Prophet against hypocrites Allah says; لَقَدِ ابْتَغَوُاْ الْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُواْ لَكَ الاُمُورَ ... Verily, they had plotted sedition before, and had upset matters for you, `For a long time,' Allah says, hypocrites thought and plotted against you and your Companions, as well as, failing and attempting to extinguish your religion.' This occurred soon after the Prophet migrated to Al-Madinah, when pagan Arabs joined force and the Jews and hypocrites of Al-Madinah waged war against the Messenger. When Allah gave victory to the Prophet in Badr and raised high his word, Abdullah bin Ubayy and his fellows said, "This (Islam) is a matter that has prevailed." They embraced Islam outwardly, and whenever Allah elevated Islam and its people in might, hypocrites increased in rage and disappointment, ... حَتَّى جَاء الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ until the truth (victory) came and the decree of Allah became manifest though they hated it.

فتنہ و فساد کی آگ منافق اللہ تعالیٰ منافقین سے نفرت دلانے کے لئے فرما رہا ہے کہ کیا بھول گئے مدتوں تو یہ فتنہ و فساد کی آگ سلگاتے رہے ہیں اور تیرے کام کے الٹ دینے کی بیسیوں تدبیریں کر چکے ہیں مدینے میں آپ کا قدم آتے ہی تمام عرب نے ایک ہو کرمصیبتوں کی بارش آپ پر برسا دی ۔ باہر سے وہ چڑھ دوڑے اندر سے یہود مدینہ اور منافقین مدینہ نے بغاوت کر دی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ہی دن میں سب کی کمانیں توڑ دیں ان کے جوڑ ڈھیلے کر دیئے ان کے جوش ٹھنڈے کر دیئے بدر کے معرکے نے ان کے ہوش حواس بھلا دیئے اور ان کے ارمان ذبح کر دیئے ۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے صاف کہدیا کہ بس اب یہ لوگ ہمارے بس کے نہیں رہے اب تو سوا اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ظاہر میں اسلام کی موافقت کی جائے دل میں جو ہے سو ہے وقت آنے دو دیکھا جائے گا اور دکھا دیا جائے گا ۔ جیسے جیسے حق کی بلندی اور توحید کا بول بالا ہوتا گیا یہ لوگ حسد کی آگ میں جلتے گئے آخر حق نے قدم جمائے ، اللہ کا کلمہ غالب آ گیا اور یہ یونہی سینہ پیٹتے اور ڈنڈے بجاتے رہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

48۔ 1 اس لئے اس نے گزشتہ اور آئندہ امور کی تمہیں اطلاع دے دی ہے اور یہ بھی بتلا دیا ہے کہ یہ منافقین جو ساتھ نہیں گئے، تو تمہارے حق میں اچھا ہوا، اگر یہ جاتے تو یہ یہ خرابیاں ان کی وجہ سے پیدا ہوتیں۔ 48۔ 2 یعنی یہ منافقین تو، جب سے آپ مدینہ میں آئے ہیں، آپ کے خلاف فتنے تلاش کرنے اور معاملات کو بگاڑنے میں سرگرم رہے ہیں۔ حتیٰ کے بدر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و غلبہ عطا فرما دیا، جو ان کے لئے بہت ہی ناگوار تھا، اسی طرح جنگ احد کے موقعے پر بھی ان منافقین نے راستے سے ہی واپس ہو کر مشکلات پیدا کرنے کی اور اس کے بعد بھی ہر موقعے پر بگاڑ کی کوشش کرتے رہے۔ حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا اور اکثر عرب مسلمان ہوگئے جس پر کف حسرت و افسوس مل رہے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٢] عبداللہ بن ابی کا فتنہ :۔ منافقوں کی فتنہ انگیزیوں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ عبداللہ بن ابی کو دراصل آپ کی مدینہ میں تشریف آوری ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ آپ کی آمد سے پیشتر عبداللہ بن ابی کے سر پر اوس و خزرج دونوں کی سرداری کا تاج رکھا جانے والا تھا۔ آپ تشریف لائے تو اس کی سرداری کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔ یہی وہ حسد اور کینہ تھا جس نے اسے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی پر عمر بھر اکسائے رکھا۔ غزوہ بدر سے پہلے اس کی قریش مکہ سے مراسلت رہی۔ پھر جب بدر میں قریش مکہ کو شکست فاش اور مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی تو یہ جل بھن گیا مگر اپنے مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ظاہری طور پر تو اسلام قبول کرلیا مگر دل میں اسلام دشمنی بدستور موجود رہی۔ جنگ احد میں اس نے مسلمانوں سے غداری کی اور نہایت نازک موقع پر اپنے تین سو ساتھیوں کو لشکر سے کاٹ لایا تاکہ مسلمان شکست سے دو چار ہوں۔ زندگی بھر اس کی ہمدردیاں یہودیوں سے رہیں۔ انہیں اکسا کر مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنا اس کا پسندیدہ شغل تھا۔ وہ بھی اس کی مہربانی سے مسلمانوں کے ہاتھوں پٹتے ہی رہے اور ہر موقعہ پر اللہ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال رہی۔ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر اس نے سیدۃ عائشہ (رض) پر تہمت لگا دی اور رسول اللہ اور مسلمانوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا کیے رکھا تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے سیدۃ عائشہ (رض) کی بریت نازل فرمائی۔ اسی غزوہ میں اس نے انصار کو اکسایا کہ اس نبی کو مدینہ سے نکال دو ۔ پھر مسجد ضرار تعمیر کر کے انہی ناپاک سازشوں کے لیے ایک نیا اڈا بنا لیا۔ اور قیصر روم سے ساز باز شروع کردی۔ غرض ہر موقع پر اس کی انتہائی کوشش یہ ہوتی تھی کہ اسلام مغلوب ہو اور مدینہ کا رئیس اعظم میں بن جاؤں۔ آخر یہی حسرت دل میں لیے ہوئے اس نے اس جہان سے کوچ کیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ : اس آیت میں ان کے خبث باطن اور مزید مکاریوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے، یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف مکر و فریب کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ پہلے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی تدبیریں کرتے رہے، مگر جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو ان کے نہ چاہتے ہوئے غلبہ عطا فرمایا تو یہ بظاہر اسلام میں داخل ہوگئے، پھر بھی شرارتوں سے باز نہ آئے، جیسا کہ عبداللہ بن ابی منافق نے غزوۂ احد کے دن کیا کہ عین میدان جنگ سے اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر لوٹ آیا۔ ہر موقع پر ان کی ہمدردیاں یہودیوں کے ساتھ رہیں، بنو نضیر اور دوسرے کئی یہودیوں کو قتل سے بچایا، بنو قریظہ کو ابھارتے رہے، ام المومنین عائشہ (رض) پر بہتان لگایا، مسجد ضرار بنا کر مسلمانوں کے خلاف مورچہ تعمیر کیا، تبوک میں جانے پر بددلی پھیلاتے رہے۔ واپسی پر جب موقع ملا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چھپ کر حملہ آور ہونے سے بھی دریغ نہ کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد سے مکہ فتح ہونے اور تبوک کی فتح کے بعد سارا عرب اسلام میں داخل ہوگیا اور یہ بےبسی سے ہاتھ ملتے رہ گئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The opening sentence of the sixth verse (48): لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ (They sought disorder even earlier...) refers to what had happened in the battle of &Uhud. The statement وَظَهَرَ‌ أَمْرُ‌ اللَّـهِ وَهُمْ كَارِ‌هُونَ (… and the will of Allah prevailed, though they disliked it) at the end of the verse indicates that victory is in the hands of Allah. This has been proved on earlier occasions when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was blessed with victory. The same will happen in this Jihad as well when all tricks played by hypocrites will fail.

(آیت) لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ یعنی یہ لوگ اس سے پہلے بھی ایسا فتنہ و فساد پھیلا چکے ہیں جیسے غزوہ احد میں پیش آیا تھا، وَظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ كٰرِهُوْنَ ، یعنی غالب آیا حکم اللہ کا حالانکہ منافقین اس سے بہت پیچ و تاب میں تھے، اس سے اشارہ فرما دیا کہ غلبہ اور فتح حق تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، جیسا پہلے واقعات میں آپ کو فتح دی گئی، اس جہاد میں بھی ایسا ہی ہوگا اور منافقین کی سب چالیں ناکام ہوجائیں گی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰي جَاۗءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ اَمْرُ اللہِ وَہُمْ كٰرِہُوْنَ۝ ٤٨ وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ( ب غ ی ) البغی الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ ظَهَرَ ظاهر هونا الشّيءُ أصله : أن يحصل شيء علی ظَهْرِ الأرضِ فلا يخفی، وبَطَنَ إذا حصل في بطنان الأرض فيخفی، ثمّ صار مستعملا في كلّ بارز مبصر بالبصر والبصیرة . قال تعالی: أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسادَ [ غافر/ 26] ، ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأعراف/ 33] ، إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] ، يَعْلَمُونَ ظاهِراً مِنَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الروم/ 7] ، أي : يعلمون الأمور الدّنيويّة دون الأخرويّة، والعلمُ الظَّاهِرُ والباطن تارة يشار بهما إلى المعارف الجليّة والمعارف الخفيّة، وتارة إلى العلوم الدّنيوية، والعلوم الأخرويّة، وقوله : باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذابُ [ الحدید/ 13] ، وقوله : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] ، أي : كثر وشاع، وقوله : نِعَمَهُ ظاهِرَةً وَباطِنَةً [ لقمان/ 20] ، يعني بالظَّاهِرَةِ : ما نقف عليها، وبالباطنة : ما لا نعرفها، وإليه أشار بقوله : وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها [ النحل/ 18] ، وقوله : قُرىً ظاهِرَةً [ سبأ/ 18] ، فقد حمل ذلک علی ظَاهِرِهِ ، وقیل : هو مثل لأحوال تختصّ بما بعد هذا الکتاب إن شاء الله، وقوله : فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً [ الجن/ 26] ، أي : لا يطلع عليه، وقوله : لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ [ التوبة/ 33] ، يصحّ أن يكون من البروز، وأن يكون من المعاونة والغلبة، أي : ليغلّبه علی الدّين كلّه . وعلی هذا قوله : إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] ، وقوله تعالی: يا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ [ غافر/ 29] ، فَمَا اسْطاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ [ الكهف/ 97] ، وصلاة الظُّهْرِ معروفةٌ ، والظَّهِيرَةُ : وقتُ الظُّهْرِ ، وأَظْهَرَ فلانٌ: حصل في ذلک الوقت، علی بناء أصبح وأمسی . قال تعالی: وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ [ الروم/ 18] . ظھر الشئی کسی چیز کا زمین کے اوپر اس طرح ظاہر ہونا کہ نمایاں طور پر نظر آئے اس کے بالمقابل بطن کے معنی ہیں کسی چیز کا زمین کے اندر غائب ہوجانا پھر ہر وہ چیز اس طرح پر نمایاں ہو کہ آنکھ یابصیرت سے اس کا ادراک ہوسکتا ہو اسے ظاھر کہہ دیا جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسادَ [ غافر/ 26] یا ملک میں فساد ( نہ ) پیدا کردے ۔ ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأعراف/ 33] ظاہر ہوں یا پوشیدہ ۔ إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] مگر سرسری سی گفتگو ۔ اور آیت کریمہ : يَعْلَمُونَ ظاهِراً مِنَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الروم/ 7] یہ دنیا کی ظاہری زندگی ہی کو جانتے ہیں کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ صرف دنیو یامور سے واقفیت رکھتے ہیں اخروی امور سے بلکل بےبہر ہ ہیں اور العلم اظاہر اور الباطن سے کبھی جلی اور خفی علوم مراد ہوتے ہیں اور کبھی دنیوی اور اخروی ۔ قرآن پاک میں ہے : باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذابُ [ الحدید/ 13] جو اس کی جانب اندورنی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب ۔ اور آیت کریمہ : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ۔ میں ظھر کے معنی ہیں زیادہ ہوگیا اور پھیل گیا اور آیت نِعَمَهُ ظاهِرَةً وَباطِنَةً [ لقمان/ 20] اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ۔ میں ظاہرۃ سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو ہمارے علم میں آسکتی ہیں اور باطنۃ سے وہ جو ہمارے علم سے بلا تر ہیں چناچہ اسی معنی کی طرح اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها [ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ اور آیت کریمہ : قُرىً ظاهِرَةً [ سبأ/ 18] کے عام معنی تو یہی ہیں کہ وہ بستیاں سامنے نظر آتی تھیں مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بطور مثال کے انسانی احوال کیطرف اشارہ ہو جس کی تصریح اس کتاب کے بعد دوسری کتاب ہیں ) بیان کریں گے انشاء اللہ ۔ اظھرہ علیہ اسے اس پر مطلع کردیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً [ الجن/ 26] کے معنی یہ ہیں کہ اللہ اپنے غائب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا اور آیت کریمہ : لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ [ التوبة/ 33] میں یظھر کے معنی نمایاں کرنا بھی ہوسکتے ہیں اور معاونت اور غلبہ کے بھی یعنی تمام ادیان پر اسے غالب کرے چناچہ اس دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے ۔ يا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ [ غافر/ 29] اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو ۔ فَمَا اسْطاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ [ الكهف/ 97] پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس کے اوپر چڑھ سکیں ۔ صلاۃ ظھر ظہر کی نماز ظھیرۃ ظہر کا وقت ۔ اظھر فلان فلاں ظہر کے وقت میں داخل ہوگیا جیسا کہ اصبح وامسیٰ : صبح اور شام میں داخل ہونا ۔ قرآن پاک میں ہے : وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ [ الروم/ 18] اور آسمان اور زمین میں اسی کیلئے تعریف ہے اور سہ پہر کے وقت بھی اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو ۔ كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگر چہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (لقد ابتغوا الفتنۃ میں قبل۔ اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں) یعنی انہوں نے فتنہ انگریزی کی ہے۔ یہاں فتنہ سے مراد وہ اختلاف ہے جو الفت کے بعد فرقت کا موجب ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے جڑے ہوئے دل ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ قول باری ہے (وقلبوا لک الامور۔ اور تمہیں ناکام کرنے کے لئے یہ ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کرچکے ہیں) یعنی کسی نہ کسی تدبیر اور چال تک رسائی کے لئے جس کے ذریعے اللہ کا روشن کیا ہوا ہدایت کا چراغ بجھ جائے اور اسلام کا کام ختم ہوجائے، انہوں نے اپنی تدابیر کا کئی پہلوئوں سے جائزہ لیا ہے اور انہیں کئی طریقوں سے آزمایا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب کرنے، اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت اور مرتبہ کو بلند کرنے اور آپ کو ان کے مکرو فریب اور چالوں سے بچانے کے سوا کسی اور بات پر راضی نہ ہوا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٨) ان لوگوں نے تو غزوہ تبوک سے پہلے بھی فتنہ پھیلانا چاہا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی تدابیر کرتے رہے یہاں تک کہ مومنین کی کثرت ہوگئی اور دین اسلام کا غلبہ ہوگیا اور ان کو ناگوار ہی گزرتا رہا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٨ (لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ ) یاد رہے کہ یہی لفظ فتنہ اس حدیث میں بھی آیا ہے جس کا ذکر علمائے سو کے کردار کے سلسلے میں قبل ازیں آیت ٣٤ کے ضمن میں ہوچکا ہے : (عُلَمَاءُ ھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَہُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ ) یعنی ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین لوگ ہوں گے ‘ فتنہ ان ہی میں سے برآمد ہوگا اور ان ہی میں پلٹ جائے گا۔ یعنی وہ آپس میں لڑائی جھگڑوں ‘ فتویٰ پردازیوں اور تفرقہ بازیوں میں مصروف ہوں گے۔ (وَقَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ ) یہ لوگ اپنی امکانی حدتک کوشش کرتے رہے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاملات کو تلپٹ کردیں۔ (حَتّٰی جَآءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ اَمْرُ اللّٰہِ وَہُمْ کٰرِہُوْنَ ) یعنی جزیرہ نمائے عرب کی حد تک ان لوگوں کی خواہشوں اور کوششوں کے علی الرغم اللہ کا دین غالب ہوگیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

41: اس سے مسلمانوں کی فتوحات کی طرف اشارہ ہے جن میں فتح مکہ اور غزوہ حنین کی فتح سر فہرست ہے۔ منافقین کی پوری کوشش تو یہ تھی کہ مسلمان کامیاب نہ ہونے پائیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم غالب آیا، اور یہ منہ دیکھتے رہ گئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٨۔ اس آیت میں بھی انہیں منافقوں کا حال بیان فرمایا کہ کچھ اسی لڑائی پر موقوف نہیں ہے یہ لوگ پہلے ہی سے فتنہ و فساد برپا کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ خدا کا دین دب جائے پھر فرمایا کہ ان کی کوئی تدبیر کار آمد نہیں ہوئی آخر اللہ ہی کا بول بالا رہا اور یہ ناخوش ہی ہوتے رہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تھے تو مدینہ کے یہودو منافق جنگ پر آمادہ ہوئے تھے پھر جب مدد کی لڑائی میں آپ کو بہت بڑی فتح ہوئی تو ابن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ اب کیا کرنا چاہئے ان کا دین سچا معلوم ہوتا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ظاہر طور پر اسلام میں داخل ہوجاؤ غرض کہ یہ لوگ دل میں کینہ رکھ کر ظاہری مسلمان ہوگئے اور جب مسلمانوں کو لڑائیوں میں فتح ہوتی گئی ان کا غصہ اور نفاق بڑھتا گیا اور دین حق کی ترقی ان کو بری معلوم ہوتی گئی اسی کو اللہ پاک نے فرمایا کہ حتی جاء الحق وظہر امر اللہ وھم کارھون اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ یہ منافق لوگ اس تبوک کی لڑائی سے پہلے بھی فتنہ وفساو اور لشکر اسلام کے انتظام میں بگاڑ ڈالنے کی تلاش میں لگے رہے ہیں اس کی تفسیر بنی مصطلق کی لڑائی کے وہی عبداللہ بن ابی منافقوں کے سردار کے قصہ میں ہے جس کا ذکر اوپر گذرا علاوہ ان قصوں کے سورة حشر کی وہ آیتیں بھی اس آیت کی تفسیر میں جن آیتوں میں یہ ذکر آوے گا کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی نضر اور بنی قریظہ پر ہاتھ ڈالنا چاہا تو ان مدینہ کے منافقوں نے ان یہود کے دونوں قبیلوں سے خفیہ طور پر یہ کہلا بھیجا تھا کہ جلا وطنی میں اور مسلمانوں سے تمہاری لڑائی اگر ٹھن گئی تو اس لڑائی میں غرض ہر طرح ہم تمارے ساتھ ہیں لیکن آخر پھر انہوں نے اپنی وہی منافقانہ بدعہدی برتی کہ وقت پر ان دونوں قبیلوں میں سے ایک کا بھی کچھ ساتھ نہ دیا اور ان دونوں قبیلوں پر مسلمانون کا جو غلبہ ہوا اس سے یہ منافق دل میں اگرچہ ناخوش ہوئے لیکن ان کی ناخوشی سے کیا ہوتا ہے اللہ کو جو منظور تھا آخرس کا ظہور ہوا کہ ان دونوں قبیلوں میں سے بنی نضیر کا اخراج ہوا اور بنی قریظہ کا قتل۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:48) ابتغوا۔ ابتغی یبتغی ابتغاء (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے تلاش کیا۔ انہوں نے چاہا۔ لقد ابتغوا الفتنۃ۔ انہوں نے فتنہ انگیزی میں کوشش کی۔ انہوں نے فتنہ بپا کرنا چاہا۔ من قیل۔ اس سے قبل یعنی جنگ احد کے موقعہ پر جب عبد اللہ بن ابی راستہ میں تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا تھا۔ قلبوا لک الامور۔ قلب یقلب ۔ قلب پلٹنا ۔ الٹنا۔ موڑ دینا۔ پھیر دینا۔ اوپر کے حصہ کو نیچے۔ نیچے کے حصہ کو اوپر۔ اندر کے حصہ کو باہر اور باہر کے حصہ کو اندر کرنا۔ ولب الارض للزراعۃ۔ زراعت کے لئے ہل پھالے سے زمین کو الٹ پلٹ کرنا۔ قلب الامر۔ معاملہ کو الٹ پلٹ کر دیکھنا اور جانچنا کہ اس کا ہر پہلو صاف ظاہر ہوجائے۔ قلب (باب تفعیل) سے مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ معاملہ کو خوب الٹ پلٹ کر پرکھنا اور جانچنا ۔ قلبوا لک الامور۔ ریتے لئے بہت سی باتوں کو خوب الٹ پلٹ کر دیکھتے رہے۔ (کہ تیرے خلاف ان کو کس طرح استعمال کیا جائے) حتی جاء الحق۔ یہاں تک کہ حو وقوع پذیر ہوگیا۔ (اور ان کی سازشیں اور مکاریاں ناکام ہوگئیں۔ ظھر (ظاہر ہوا۔ آشکارا ہوا۔ غالب آگیا۔ امر اللہ۔ اللہ کا حکم۔ اللہ کا دین۔ وہم کارھون۔ باوجود یکہ وہ خاموش ہی رہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

اس لیے اس نے پسند نہ فرمایا کہ اس قسم کے لوگ تمہارے ساتھ جہاد کے لیے نکلیں جو کفر ونفاق کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر بھی ظلم کرتے ہیں اور دوسروں میں افتراق اور شبہات پیدا کر کے ان پر ان بھی ظلم کرتے ہیں ( ابن کثیر۔ ابن کثیر۔ کبیر)6 اس آیت میں ان کے خبث باطن اور مزید مکاریوں کا پر دہ چاک کیا گیا ہے یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف مکرو فریب کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔ پہلے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی تد بیر کرتے رہے جیسا کہ میدا جنگ تبوک سے واپسی پر دس منا فق آدمی ثینتہ الواد پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے تھے۔ ( کبیر)7 یعنی تمہیں ناکام کرنے کے لیے انہوں نے متعدد مرتبہ کتنی ہی تد بیر سوچیں اور روکیں اور مگر و فریب کرنے کے لیے انی انتہائی کو ششیں صرف کیں۔ ( کبیر)8 یعنی ان کے دلوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کامیابی اور اسلام کی ترقی برابر کھلتی رہی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی جنگ احد وغیرہ میں۔ 3۔ اوپر منافقین کے احوال مشترکہ کا بیان تھا آگے کئی آیتوں میں جو لفظ منھم سے شروع ہوئی ہیں بعض کے احوال و اقوال مختصہ اور درمیان درمیان میں احوال مشترکہ بھی مذکور ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کی مزیدعادات کا بیان جاری ہے۔ اس سے پہلے یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر منافق لشکر اسلام کے ساتھ شامل ہوتے تو فتنہ پر وری کے سوا کسی بات میں اضافہ نہ کرتے کیونکہ یہ پہلے بھی مختلف موقعوں پر شر انگیزی اور فتنہ پردازی کرچکے ہیں۔ جس کی مثالیں احد، احزاب، فتح مکہ کے حوالے سے دی جا چکی ہیں ان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ معاملات کو گڑ بڑ کردیا جائے اور مسلمان کامیابی کی بجائے ناکامیوں سے دو چار ہوتے رہیں۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر فضل ہے کہ اس نے منافقوں اور کفار کی کوئی سازش بھی کارگر نہ ہونے دی اور وہی کچھ ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے وعدہ کر رکھا تھا۔ منافقین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کی کامیابیوں پر خوش ہونے کی بجائے ہمیشہ اسے ناپسند کرتے رہے۔ ان میں ایسا شخص بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ مجھے جنگ کے فتنہ میں نہ ڈالیے۔ کیا اسے خبر نہیں کہ یہ تو پہلے ہی منافقت کے فتنہ میں مبتلا ہوچکا ہے درحقیقت منافقت کفر کی ہی ایک صورت ہے یقیناً جہنم کفر کرنے والوں کو گھیرلے گی۔ ایک شخص سے مراد ایک کردار ہے۔ یہاں مفسرین نے منافقوں کے سردار جد بن قیس کا ذکر کیا ہے کہ وہ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بڑی معصومیت کے ساتھ کہنے لگا کہ آپ مجھے تبوک کے محاذ سے پیچھے چھوڑجائیں اگر میں آپ کے ساتھ گیا تو رومی دوشیزاؤں کو دیکھ کر میرا ایمان خطرے میں پڑجائے گا۔ گویا کہ جنگ سے جان بچانے کے لیے اس نے مصنوعی تقدس کا بہانہ بنایا جس پر کہا گیا کہ کیا ایسے لوگ نہیں سوچتے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ منافقت کرنے سے بڑھ کر آدمی کے لیے کوئی اور آزمائش اور فتنہ کیا ہوسکتا ہے ؟ ظاہر ہے منافقت سے بڑھ کر ایمان برباد کردینے والا کوئی اور فتنہ نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ منافقت اختیار کرنے اور جہاد سے پیچھے رہنے کے لیے اس طرح کے بہانے بناتے ہیں دنیا میں تو شاید ان کی سازشوں اور شرارتوں کا کوئی احاطہ نہ کرسکے لیکن جہنم میں ان پر پوری طرح قابو پاکر ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ مسائل ١۔ منافقین ہر وقت دین اسلام سے راہ فرار ڈھونڈتے ہیں۔ ٢۔ منافق سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ میں رکاوٹیں ڈالا کرتے تھے۔ ٣۔ منافق فطرتاً شرارتی ہوتا ہے۔ ٤۔ منافق اسلام کی سربلندی کو پسند نہیں کرتا۔ ٥۔ فتنہ کا معنی شرارت اور آزمائش ہوتا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور منصوبہ کو غالب کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن فتنہ کیا ہے ؟ ١۔ مال و دولت اور دنیا کی زندگی انسان کے لیے فتنہ ہے۔ (طٰہ : ١٣١ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے گھروں سے روکنا بہت بڑا فتنہ ہے۔ (البقرۃ : ٢١٧) ٣۔ کیا وہ خیال نہیں کرتے کہ انہیں ہر سال ایک مرتبہ یا دو مرتبہ آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ (التوبۃ : ١٢٦) ٤۔ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ پھیلانے کے لیے متشابہ آیات کی پیروی کرتے ہیں۔ (آل عمران : ٧) ٥۔ تھور کا درخت جہنمیوں کے لیے آزمائش ہے۔ (الصٰفٰت : ٦٣) ٦۔ تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہے۔ (التغابن : ١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ واقعہ اس وقت ہوا جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عوامی تائید کے ذریعے مدینہ تشریف لائے اور حالات یہ تھے کہ ابھی تک انہیں اپنے دشمنوں پر فیصلہ کن غلبہ حاصل نہ ہوا تھا اور مدینہ میں جب حضور کو کامیابی نصیب ہوتی رہیں تو ان اعداء نے بھی سر جھکا دئیے لیکن دل سے وہ تحریک جدید کو بدستور ناپسند کرتے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ اسلام پر کوئی برا وقت آئے اور انہیں ریشہ دوانیوں کا موقع ملے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ ) کہ (اس غزوہ سے پہلے بھی وہ فتنہ کی راہ تلاش کرچکے ہیں) یہ لوگ غزوۂ احد کے موقع پر بھی راستہ سے واپس چلے گئے تھے۔ (وَ قَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ ) اور آپ کو تکلیف دینے کی کار روائیوں میں الٹ پھیر اور طرح طرح کی مکاریوں اور ایذاء پہنچانے کی تدبیر کرتے رہے ہیں۔ (حَتّٰی جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَھَرَ اَمْرُ اللّٰہِ وَ ھُمْ کٰرِھُوْنَ ) (یہاں تک کہ سچا وعدہ آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب ہوا اگرچہ انہیں نا گوار ہو رہا تھا) اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ ان کی تدبیریں اور شرارتیں پہلے سے جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے محفوظ فرمایا۔ آئندہ کے لیے بھی ان کی مفسدانہ کار روائیوں کا خیال نہ لانا اور اب جو یہ لوگ تبوک کے لیے آپ کے ہمراہ روانہ نہ ہوئے اس سے بھی رنجیدہ نہ ہوں۔ اللہ کی راہ میں جہاد نہ کرنا اور اسلام اور داعی اسلام کی دشمنی پر کمر بستہ رہنا یہ ان کی پرانی عادت ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

47: یعنی اس سے پہلے وہ ہر طرح سے آپ کی مخالفت کرچکے ہیں اور وہ کونسا حیلہ ہے جو انہوں نے آپ کی مخالفت میں استعمال نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہر کوشش کو ناکام اور ان کے ہر حیلہ کو باطل کردیا اور دین حق کو ان کے باطل پر غلبہ عطا فرما دیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

48 اور ان منافقوں کا یہ طرز عمل آج کوئی نیا نہیں ہے بلکہ یہ لوگ پہلے سے فتنہ و فساد کی جستجو میں ہیں اور انہوں نے پہلے بھی فتنہ برپا کرنا چاہا تھا اور آپ کے متعلق مختلف تدابیر کی الٹ پلٹ کرتے رہے یہاں تک کہ سچا وعدہ آپہنچا اور اللہ تعالیٰ کا حکم غالب رہا اور ان کو ناگوار ہی گزرتا رہا۔ یعنی غزوئہ احد وغیرہ میں بھی یہ فتنہ برپا کرنے کی تلاش میں تھے اور آپ کو نقصان پہنچانے کی تدابیر میں تو لگے ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا سچا وعدہ آگیا اور اس کا حکم غالب رہا۔