The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اور قرض دار کے لیے
Tap any part above to see where else it appears
اَلْغُرْمُ (مفتی کا تاوان یا جرمانہ) وہ مالی نقصان جو کسی قسم کی خیانت یا جنایت (جرم) کا ارتکاب کیے بغیر انسان کو اٹھانا پڑے غَرِمَ کَذَا غَرْمًا وَمَغْرَمًا فلاں نے نقصان اٹھایا اُغْرِمَ فُلَانٌ غَرَامَۃً اس پر تاوان پڑگیا۔ قرآن پاک میں ہے۔ (اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ ) (۵۶:۶۶) (کہ ہائے) ہم مفت تاوان میں پھنس گئے۔ (فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ) (۵۲:۴۰) کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑرہا ہے۔ (یَّتَّخِذُ مَا یُنۡفِقُ مَغۡرَمًا) (۹:۹۸) کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں۔ اور غَرِیْمٌ کا لفظ مقروض اور قرض خواہ دونوں کے لیے آتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔ (وَ الۡغٰرِمِیۡنَ وَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ) (۹:۶۰) اور قرض داروں (کے قرض ادا کرنے) کے لیے اور خدا کی راہ میں ۔ اور جو تکلیف یا مصیبت انسان کو پہنچتی ہے اسے غَرَامٌ کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔ (اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا) (۲۵:۶۵) کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔ یہ ھُوَ مُغْرَمٌ بِالنِّسَآئِ (وہ عورتوں کا دلدادہ ہے) کے محاورہ سے ماخوذ ہے یعنی وہ شخص جو غَرِیْمٌ (قرض خواہ) کی طرح عورتوں کے پیچھے پیچھے پھرتا ہو۔ حسن رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں(1) کُلُّ غَرِیْمٍ مُفَارِقٌ غَرِیْمَہٗ اِلَّا النَّارُ یعنی ہر قرض خواہ اپنے مقروض کو چھوڑسکتا ہے۔ لیکن آگ اپنے غُرَمَائُ کو نہیں چھوڑے گی۔ بعض نے عذاب جہنم کو غرام کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ وہ عذاب ان کا اسی طرح پیچھا کرے گا یا وہ انہیں ہلاک کرنے پر شیفتہ ہے۔
1 results