Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 71

سورة التوبة

وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیۡعُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ سَیَرۡحَمُہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾

The believing men and believing women are allies of one another. They enjoin what is right and forbid what is wrong and establish prayer and give zakah and obey Allah and His Messenger. Those - Allah will have mercy upon them. Indeed, Allah is Exalted in Might and Wise.

مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے ( مددگار و معاون ) اور دوست ہیں ، وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ، نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکٰو ۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالٰی بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Qualities of Faithful Believers After Allah mentioned the evil characteristics of the hypocrites, He then mentioned the good qualities of the believers, وَالْمُوْمِنُونَ وَالْمُوْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ ... The believers, men and women, are supporters of one another; they help and aid each other. Surely, an authentic Hadith states, الْمُوْمِنُ لِلْمُوْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا The believer to the believer is just like a building, its parts support each other. and the Prophet crossed his fingers together. In the Sahih it is recorded, مَثَلُ الْمُوْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَايِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَر The example of the believers in the compassion and mercy they have for each other, is the example of one body: if a part of it falls ill, the rest of the body suffers with fever and sleeplessness. Allah's statement, ... يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ... ...they enjoin good, and forbid evil, this is similar to, وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ Let there arise out of you a group of people inviting to all that is good, enjoining Al-Ma`rufand forbidding the Munkar... (3:104) Allah said next, ... وَيُقِيمُونَ الصَّلَةَ وَيُوْتُونَ الزَّكَاةَ ... they perform the Salah, and give the Zakah, they obey Allah and are kind to His creation, ... وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ ... and obey Allah and His Messenger, concerning what he commands and refraining from what he prohibits, ... أُوْلَـيِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ ... Allah will have mercy on them. Therefore, Allah will give mercy to those who have these qualities, ... إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ ... Surely, Allah is All-Mighty, He grants glory to those who obey Him, for indeed, might and glory is from Allah Who gives it to His Messenger and the believers, ... حَكِيمٌ All-Wise, in granting these qualities to the believers, while giving evil characteristics to hypocrites. Surely, Allah's wisdom is perfect in all His actions; praise and glory be to Him.

مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں منافقوں کی بدخصلتیں بیان فرما کر مسلمانوں کی نیک صفتیں بیان فرما رہا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ایک دوسرے کا دست و بازو بنے رہتے ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ مومن مومن کے لئے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے آپ نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کردکھا بھی دیا ۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ مومن اپنی دوستی اور سلوک میں مثل ایک جسم کی مانند ہیں کہ ایک حصے کو بھی اگر تکلیف ہو تو تمام جسم بیماری اور بیداری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ یہ پاک نفس لوگوں اوروں کی تربیت سے بھی غافل نہیں رہتے ۔ سب کو بھلائیاں دکھاتے ہیں اچھی باتیں بتاتے ہں برے کاموں سے بری باتوں سے امکان بھر روکتے ہیں ۔ حکم الٰہی بھی یہی ہے ۔ فرماتا ہے تم میں ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہئے جو بھلائیوں کا حکم کرے برائیوں سے منع کرے ۔ یہ نمازی ہوتے ہیں ۔ ساتھ ہی زکوٰۃ بھی دیتے ہیں تاکہ ایک طرف اللہ کی عبات ہو دوسری جانب مخلوق کی دلجوئی ہو ۔ اللہ رسول کی اطاعت ہی ان کا دلچسپ مشغلہ ہے جو حکم ملا بجا لائے جس سے روکا رک گئے ۔ یہی لوگ ہیں جو رحم الٰہی کے مستحق ہیں ۔ یہی صفتیں ہیں جن سے اللہ کی رحمت انکی طرف لپکتی ہے ۔ اللہ عزیز ہے وہ اپنے فرماں برداروں کی خود بھی عزت کرتا ہے اور انہیں ذی عزت بنا دیتا ہے ۔ دراصل عزت اللہ ہی کے لئے ہے اور اس نے اپنے رسولوں اور اپنے ایماندار غلاموں کو بھی عزت دے رکھی ہے اس کی حکمت ہے کہ ان میں یہ صفتیں رکھیں اور منافقوں میں وہ خصلتیں رکھیں ، اس کی حکمت کی تہہ کو کون پہنچ سکتا ہے؟ جو چاہے کرے وہ برکتوں اور بلندیوں والا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71۔ منافقین کی صفات مذمومہ کے مقابلے مومنین کی صفات محمودہ کا ذکر ہو رہا ہے پہلی صفت وہ ایک دوسرے کے دوست، معاون و غم خوار ہیں جس طرح حدیث میں ہے (المؤمن للمؤمن کالبنیان، یشد بعضہ بعضا) (صحیح بخاری) مومن مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کی مضبوطی کا ذریعہ ہے دوسری حدیث میں فرمایا : (مثل المؤمنین فی تو ادھم وتراحمھم کمثل الجسد الواحد اذا اشتکی منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد بالحمی والسھر) (صحیح مسلم) مومنوں کی مثال، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے اور رحم کرنے میں ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم تپ کا شکار ہوجاتا ہے اور بیدار رہتا ہے۔ 71۔ 2 یہ ایل ایمان کی دوسری خاص صفت ہے معروف وہ ہے جسے شریعت نے معروف (یعنی نیکی اور بھلائی) اور منکر وہ ہے جسے شریعت نے منکر (یعنی برا) قرار دیا ہے۔ نہ کہ وہ جسے لوگ اچھا یا برا کہیں۔ 71۔ 3 نماز، حقوق اللہ میں نمایاں ترین عبادت ہے اور زکٰو ۃ۔ حقوق العباد کے لحاظ سے، امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے ان دونوں کا بطور خاص تذکرہ کر کے فرما دیا گیا کہ وہ ہر معاملے میں اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٦] منافق کے مقابلہ میں مومنوں کی زندگی :۔ اب منافقوں کے مقابلہ میں اس آیت میں سچے مومنوں کے خصائل کا ذکر کیا جا رہا ہے اور بتلایا جا رہا ہے کہ اگرچہ منافق بھی مسلمانوں میں شامل رہتے ہیں اور ان سے ملے جلے رہتے ہیں مگر ان دونوں طبقوں کے اخلاقی مزاج، عادات و خصائل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ منافق برے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور ان میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو مومن برے کاموں سے خود بھی بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی منع کرتے ہیں منافق اچھے کاموں پر خود بھی عمل پیرا نہیں ہوتے اور دوسروں کو بھی ان سے منع کرتے ہیں یا ایسے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کردیتے ہیں جبکہ مومن خود بھی بھلے کام کرتے، دوسروں کو ان کی تلقین کرتے اور ایسے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کرتے ہیں۔ منافق کی نماز دکھلاوے کی ہوتی ہے جسے وہ ایک بیگار سمجھ کر ادا کرتا ہے، اسی طرح وہ زکوٰۃ بھی جرمانہ اور تاوان سمجھ کر ادا کرتا ہے تاکہ اسے مسلمانوں میں سے ہی سمجھا جاسکے جبکہ مومن یہ دونوں کام اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کے اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ وہ یہ کام دل کی خوشی سے کرتے ہیں تاکہ انہیں اللہ کی رضا حاصل ہو۔ اس لحاظ سے مومن اور منافق اگرچہ ایک ہی امت کے اجزاء ہیں تاہم یہ ایک دوسرے کی عین ضد ہیں اور اسی لحاظ سے منافقوں کے کفر میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ وہ مومنوں کی عین ضد ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ : منافق مردوں اور منافق عورتوں کی بد عادات ذکر کرنے کے بعد اب اہل ایمان مردوں اور اہل ایمان عورتوں کے خصال حمیدہ کا ذکر ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے اولیاء، یعنی دوست، محبت رکھنے والے اور مدد کرنے والے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہوسکتا، حتیٰ کہ وہ اپنے (مسلم) بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ “ [ بخاری، الإیمان، باب من الإیمان أن یحب لأخیہ : ١٣، عن أنس ] نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مومنوں کی مثال آپس کی محبت، ایک دوسرے پر رحم اور شفقت میں ایک جسم کی ہے، جس کے اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو بقیہ سارے اعضا بخار اور بےچینی کی صورت میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ “ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین۔۔ : ٢٥٨٦ ] اور فرمایا : ” ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کی بعض اینٹیں بعض کو سہارا دیتی ہیں۔ “ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین۔۔ : ٢٥٨٥ ] اس کے بعد مومنوں کی مزید صفات جو منافقوں کے بالکل برعکس ہیں، بیان فرمائیں اور ان پر رحم کا وعدہ فرمایا، ساتھ ہی اپنے ہر چیز پر غلبے اور کمال حکمت کا ذکر فرمایا کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے مگر اس کا غلبہ اندھا غلبہ نہیں بلکہ کمال حکمت کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Previous verses mentioned hypocrites - their conspiracies, hostili¬ties, and the punishment waiting for them. The characteristic style of the Qur&an required that true believers should also be mentioned at this place giving a view of their life style, rewards and ranks. The verses cited above do just that. It is interesting that the text, while making a comparison between hypocrites and true believers on this occasion, has this to say: بَعْضُهُم مِّن بَعْضٍ (they are all alike - 67). However, what it has to say about true be¬lievers is: بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ (the believers are friends to each other - 71). This releases a hint about the nature of their mutual relationships. Hypocrites base it on functional cooperation between kinsfolk or on self-interest. Such bonds do not last long, nor do they bring the kind of spiritual benefits that are the hallmarks of a heart-to-heart friendship. Juxtaposed against hypocrites there are the true believers. They are sincere friends and wish well of each other. (Qurtubi) Moreover, since this friendship and concern for each other is for Allah alone, it is always constant. It remains the same under all condi¬tions, open or secret, present or absent. And it is lasting. This is the mark of a true believer. It is in the very nature of &Iman (faith) and Al-Amal as-Salih اَلاَعمَال اصَآالح (good deed) that they generate mutual love and friendship. The Holy Qur&an confirms it when it says: سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّ‌حْمَـٰنُ وُدًّا (19:96). It means that among those who have believed and taken to consistent good conduct in life, Allah Ta` ala creates friendship that is deeply root¬ed into their hearts. What has happened to us in our time? May be we are short on the faith in our hearts and the concern for good in our conduct. That is why mutual relationships among Muslims do not seem to be what the Qur&an would like them to be. Unfortunately, these are subservient to worldly needs and interests - and are not for the sake of Allah alone, as they should be.

خلاصہ تفسیر اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے ( دینی) رفیق ہیں، نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانتے ہیں ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالیٰ رحمت کرے گا) جسکی تفصیل وَعَدَ اللّٰهُ میں عنقریب آتی ہے) بلا شبہ اللہ تعالیٰ قادر ( مطلق) ہے ( جزائے تام دے سکتا ہے) حکمت والا ہے ( جزائے مناسب دیتا ہے، اب اس رحمت کا بیان ہوتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور نفیس مکانوں کا ( وعدہ کر رکھا ہے) جو کہ ان ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گے اور ( ان سب نعمتوں کے ساتھ) اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ( جو اہل جنت سے ہمیشہ ہمیشہ رہے گی، ان) سب ( نعمتوں) سے بڑی چیز ہے یہ ( جزائے مذکورہ) بڑی کامیابی ہے اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار ( سے بالسنان) اور منافقین سے ( باللسان) جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے ( دنیا میں تو یہ اس کے مستحق ہیں) اور ( آخرت میں) انکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔ معارف ومسائل سابقہ آیات میں منافقین کے حالات، ان کی سازشوں اور ایذاؤں اور ان کے عذاب کا بیان تھا، قرآنی اسلوب کے مطابق مناسب تھا کہ اس جگہ مومنین مخلصین کے حالات اور ان کے ثواب اور درجات کا بھی بیان آجائے، آیات مذکورہ میں اسی کا بیان ہے۔ یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ اس موقع پر منافقین اور مومنین مخلصین کے حالات کا تقابل ذکر کیا گیا مگر ایک جگہ منافقین کے بارے میں تو یہ فرمایا کہ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ، اور اس کے مقابل مومنین کا ذکر آیا تو اس میں فرمایا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ، اس میں اشارہ ہے کہ منافقین کے باہمی تعلقات اور روابط تو محض خاندانی اشتراک یا اغراض پر مبنی ہوتے ہیں نہ ان کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور نہ ان پر وہ ثمرات مرتب ہوتے ہیں جو دلی دوستی اور قلبی ہمدردی کے تعلق پر مرتب ہوتے ہیں، بخلاف مومنین کے کہ وہ ایک دوسرے کے مخلص دوست اور سچی ہمدرد ہوتے ہیں۔ ( قرطبی) اور چونکہ دوستی اور ہمدردی خالص اللہ کے لئے ہوتی ہے وہ ظاہراً و باطناً اور حاضر و غائب یکساں ہوتی ہے، ہمیشہ پا ئیدار رہتی ہے، مومن مخلص کی یہی علامت ہے، ایمان اور عمل صالح کا خاصہ ہے یہ کہ باہم دوستی اور محبت پیدا کرتا ہے، قرآن کریم کا ارشاد اسی کے متعلق ہے (آیت) سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا، یعنی جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کے پابند ہوئے اللہ تعالیٰ ان کے آپس میں قلبی اور گہری دوستی پیدا فرما دیتے ہیں، آجکل ہمارے ایمان و عمل صالح ہی کی کوتاہی ہے کہ مسلمانوں کے باہم تعلقات کبھی ایسے نظر نہیں آتے، بلکہ اغراض کے تابع ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝ ٠ ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَيُطِيْعُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۝ ٠ ۭ اُولٰۗىِٕكَ سَيَرْحَمُہُمُ اللہُ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝ ٧١ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے معْرُوفُ : اسمٌ لكلّ فعل يُعْرَفُ بالعقل أو الشّرع حسنه، والمنکر : ما ينكر بهما . قال : يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ آل عمران/ 104] ، وقال تعالی: وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ لقمان/ 17] ، وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفاً [ الأحزاب/ 32] ، ولهذا قيل للاقتصاد في الجود : مَعْرُوفٌ ، لمّا کان ذلک مستحسنا في العقول وبالشّرع . نحو : وَمَنْ كانَ فَقِيراً فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ [ النساء/ 6] المعروف ہر اس قول یا فعل کا نام ہے جس کی خوبی عقل یا شریعت سے ثابت ہو اور منکر ہر اس بات کو کہاجائے گا جو عقل و شریعت کی رو سے بری سمجھی جائے ۔ قرآن پاک میں ہے : يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ آل عمران/ 104] اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ۔ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفاً [ الأحزاب/ 32] اور دستور کے مطابق ان سے بات کیا کرو ۔ یہی وجہ ہے کہ جود ( سخاوت ) میں اعتدال اختیار کرنے کو بھی معروف کہاجاتا ہے کیونکہ اعتدال عقل و شریعت کے اعتبار سے قابل ستائش ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : وَمَنْ كانَ فَقِيراً فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ [ النساء/ 6] اور جو بےمقدور ہو وہ مناسب طور پر یعنی بقدر خدمت کچھ لے لے ۔ مُنْكَرُ والمُنْكَرُ : كلُّ فِعْلٍ تحكُم العقولُ الصحیحةُ بقُبْحِهِ ، أو تتوقَّفُ في استقباحِهِ واستحسانه العقولُ ، فتحکم بقبحه الشّريعة، وإلى ذلک قصد بقوله : الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ التوبة/ 112] اور المنکر ہر اس فعل کو کہتے ہیں جسے عقول سلیمہ قبیح خیال کریں یا عقل کو اس کے حسن وقبیح میں تو قف ہو مگر شریعت نے اس کے قبیح ہونے کا حکم دیا ہو ۔ چناچہ آیات : ۔ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ التوبة/ 112] نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے ۔ اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43] الاقامتہ ( افعال ) فی المکان کے معنی کسی جگہ پر ٹھہرنے اور قیام کرنے کے ہیں اوراقامتہ الشیی ( کسی چیز کی اقامت ) کے معنی اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے ہوتے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] کہو کہ اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ اور انجیل ۔۔۔۔۔ کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے یعنی جب تک کہ علم وعمل سے ان کے پورے حقوق ادا نہ کرو ۔ اسی طرح فرمایا : ۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] اور اگر وہ توراۃ اور انجیل کو ۔۔۔۔۔ قائم کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے یا نماز یوں کی تعریف کی گئی ہے ۔ وہاں اقامتہ کا صیغۃ استعمال کیا گیا ہے ۔ جس میں اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ نماز سے مقصود محض اس کی ظاہری ہیبت کا ادا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اسے جملہ شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی زكا أصل الزَّكَاةِ : النّموّ الحاصل عن بركة اللہ تعالی، ويعتبر ذلک بالأمور الدّنيويّة والأخرويّة . يقال : زَكَا الزّرع يَزْكُو : إذا حصل منه نموّ وبرکة . وقوله : أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] ، إشارة إلى ما يكون حلالا لا يستوخم عقباه، ومنه الزَّكاةُ : لما يخرج الإنسان من حقّ اللہ تعالیٰ إلى الفقراء، وتسمیته بذلک لما يكون فيها من رجاء البرکة، أو لتزکية النّفس، أي : تنمیتها بالخیرات والبرکات، أو لهما جمیعا، فإنّ الخیرین موجودان فيها . وقرن اللہ تعالیٰ الزَّكَاةَ بالصّلاة في القرآن بقوله : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] ( زک و ) الزکاۃ : اس کے اصل معنی اس نمو ( افزونی ) کے ہیں جو برکت الہیہ سے حاصل ہو اس کا تعلق دنیاوی چیزوں سے بھی ہے اور اخروی امور کے ساتھ بھی چناچہ کہا جاتا ہے زکا الزرع یزکو کھیتی کا بڑھنا اور پھلنا پھولنا اور آیت : ۔ أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] کس کا کھانا زیادہ صاف ستھرا ہے ۔ میں ازکیٰ سے ایسا کھانا مراد ہے جو حلال اور خوش انجام ہو اور اسی سے زکوۃ کا لفظ مشتق ہے یعنی وہ حصہ جو مال سے حق الہیٰ کے طور پر نکال کر فقراء کو دیا جاتا ہے اور اسے زکوۃ یا تو اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس میں برکت کی امید ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ اس سے نفس پاکیزہ ہوتا ہے یعنی خیرات و برکات کے ذریعہ اس میں نمو ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے تسمیہ میں ان ہر دو کا لحاظ کیا گیا ہو ۔ کیونکہ یہ دونوں خوبیاں زکوۃ میں موجود ہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نما ز کے ساتھ ساتھ زکوۃٰ کا بھی حکم دیا ہے چناچہ فرمایا : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] نماز قائم کرو اور زکوۃ ٰ ادا کرتے رہو ۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧١) اور تصدیق کرنے والے مسلمان مرد اور عورتیں ظاہر و باطن کے اعتبار سے ایک دوسرے کے دینی رفیق ہیں، توحید اور پیروی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم دیتے اور کفر وشرک اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت سے روکتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دیں گے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنی حکومت وسلطنت میں قادر مطلق ہے اور اپنے احکامات اور فیصلوں میں زبردست حکمت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :80 ”جس طرح منافقین ایک الگ اُمت ہیں اسی طرح اہل ایمان بھی ایک الگ امت ہیں ۔ اگرچہ ایمان کا ظاہری اقرار اور اسلام کی پیروی کا خارجی اظہار دونوں گروہوں میں مشترک ہے ۔ لیکن دونوں کے مزاج ، اخلاق ، اطوار ، عادات اور طرز عمل میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔ جہاں زبان پر ایمان کا دعویٰ ہے ، مگر دل سچے ایمان سے خالی ہیں وہاں زندگی کا سارا رنگ ڈھنگ ایسا ہے جو اپنی ایک ایک ادا سے دعوائے ایمان کی تکذیب کر رہا ہے ۔ اوپر کے لیبل پر تو لکھا ہے کہ یہ مشک ہے مگر لیبل کے نیچے جو کچھ ہے وہ اپنے پورے وجود سے ثابت کر رہا ہے کہ یہ گوبر کے سوا کچھ نہیں ۔ بخلاف اس کے جہاں ایمان اپنی اصل حقیقت کے ساتھ موجود ہے وہاں مشک اپنی صورت سے ، اپنی خوشبو سے ، اپنی خاصیتوں سے ہر آزمائش اور ہر معاملہ میں اپنا مشک ہونا کھولے دے رہا ہے ۔ اسلام و ایمان کے عربی نام نے بظاہر دونوں گروہوں کو ایک اُمت بنا رکھا ہے ، مگر فی الواقع منافق مسلمانوں کا اخلاقی مزاج اور رنگ طبیعت کچھ اور ہے اور صادق الایمان مسلمانوں کا کچھ اور ۔ اسی وجہ سے منافقانہ خصائل رکھنے والے مرد و زن ایک الگ جتھا بن گئے ہیں جن کو خدا سے غفلت ، برائی سے دلچسپی ، نیکی سے بعد اور خیر سے عدم تعاون کی مشترک خصوصیات نے ایک دوسرے سے وابستہ اور اہل ایمان سے عملا بے تعلق کر دیا ہے ۔ اور دوسری جانب سچے مومن مرد و زن ایک دوسرا گروہ بن گئے ہیں جس کے سارے افراد میں یہ خصوصیت مشترک ہے کہ نیکی سے وہ دلچسپی رکھتے ہیں ، بدی سے نفرت کرتے ہیں ، خدا کی یاد ان کے لیے غذا کی طرح زندگی کی ناگزیر ضروریات میں شامل ہے ، راہ خدا میں خرچ کرنے کے لیے ان کے دل اور ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، اور خدا اور رسول کی اطاعت ان کی زندگی کا وتیرہ ہے ۔ اس مشترک اخلاقی مزاج اور طرز زندگی نے انہیں آپس میں ایک دوسرے سے جوڑا اور منافقین کے گروہ سے توڑ دیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧١۔ اللہ پاک نے منافقوں کے برے اوصاف بیان کر کے ان کے مقابلہ میں یہ ایماندار لوگوں کے اوصاف بیان فرمائے مختصر طور پر اس مقابلہ کا فائدہ اوپر کی آیت کی تفسیر میں بیان کردیا گیا ہے ایمانداروں کے اوصاف میں سے پہلا وصف یہ بیان کیا کہ مومن آپس میں ایک دوسرے کے مددگار غمخوار رنج وغم میں ساتھ دینے والے ہیں جب ایک مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو دوسرا بےچین ہوجاتا ہے جس طرح دیوار کی حالت ہوتی ہے کہ ایک اینٹ کو دوسری اینٹ سے مضبوطی اور قیام ہوتا ہے اسب طرح سب مومن باہم ملے جلے ہیں ایک کو ایک سے تقویت ہے صحیح بخاری ومسلم میں نعمان بن (رض) بشیر سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مومنوں کی آپس کی غمخواری اور مدد گاری کی مثال ایسی ہے جیسے اعضاء آدمی کے آپس میں ایک دوسرے کے غمخوا اور اور مددگار ہیں کہ جب ایک عضو کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے عضو کو بھی اس کا اثر پہنچتا ہے مثلا ایک انگلی دکھے تو سر سے پیڑ تک بخار کی حرارت ہوجاتی ہے دوسری تعریف مومنوں کی یہ بیان فرمائی کہ جس طرح منافق بری باتوں کو اختیار کرتے ہیں اور اچھے کاموں سے باز رہتے ہیں اس کے برخلاف جو یہ نیک خصلت ہے کہ اچھی باتوں کو اختیار کیا جائے اور بری باتوں سے پرہیز کیا جائے وہ وصف مومنوں کے اندر پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ناجائز باتوں سے بچتے ہیں اور حکم شرع کے موافق جو کرنے کی باتیں ہیں ان کو چٹکی سے بجالاتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی نصیحت کرتے رہتے ہیں پھر یہ تعریف بیان کی کہ نماز وزکوۃ کے پابند ہیں نماز بھی پڑہتے ہیں اور زکوۃ بھی دیتے ہیں بدنی اور مالی ہر طرح کی عبادت کیا کرتے ہیں پھر فرمایا کر یہ اوصاف ان لوگوں میں اس لئے ہیں کہ یہ لوگ ہر ایک امر میں خدا اور رسول کے محکوم بندے ہیں ہر وقت اس کے فرمانبروار خدا اور رسول کا جو کچھ انہیں حکم ہوگا اس کی بجا آوری میں کسی قسم کی کوتاہی ان سے نہ ہوگی پھر فرمایا کہ یہ لوگ جن میں یہ صفتیں پائی جاتی ہیں اللہ ان پر اپنی خاص رحمت نازل کریگا وہ بڑا ہی حکمت والا ہے اس کا کوئی کام انصاف اور حکمت سے خالی نہیں زبردست وہ ایسا ہے کہ جو کچھ وہ کرنا چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ وو آدمیوں میں ایک سی عادت کا ہونا اور بات ہے اور دو آدمیوں کا ایک سی عادت پر ہو کر آپس میں غمخواری کا برتاؤ رکھنا اور بات ہے اور پھر دو آدمی جس دین پر ہوں اس دین کے موافق باتوں میں دو آدمیوں کا ایک سی عادت پر ہونا اور بات ہے ‘ اور اس دین کی مخالف باتوں میں ایک سی عادت پر ہونا اور بات ہے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی شان میں بعضہم من بعض جو فرمایا اس کا مطلب یہی ہے کہ اپنی جان اپنا مال بچانے کے لئے اگرچہ یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اسلام کی مخالفت میں یہ سب کمربستہ اور ایک سی عادت کے ہیں اور مخالف اسلام لوگوں کا جتھا قائم رکھنا اللہ کو منظور نہیں ہے اس لئے ان میں آپ کی غمخواری نہیں ہے پھر ایماندار لوگوں کا حال فرمایا کہ اللہ اور رسول کے حکم پر چلتے ہی یہ سب ایک سی عادت کے ہیں اور ایسے لوگوں کے جتھے کو قائم رکھنا اللہ کو منظور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان میں آپس کو غمخواری پیدا کردی ہے اس کی ان حکمتوں کو وہی خوب جانتا ہے صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے زینب (رض) بنت حجش (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عالم لوگوں کے وعظ نصیحت کو چھوڑ دینے سے جس بستی کے عام لوگوں میں گناہوں کی کثرث ہوجاویگی تو ایسی بستی کے تمام لوگوں پر کوئی عذاب آجاویگا صحیح بخاری اور مسلم میں اسامہ بن زید (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن بعضے عالم لوگوں کو طرح طرح کہ عذاب میں گرفتار دیکھ کر عام دوزخی لوگ ان عالموں سے پوچھیں گے کہ تم تو ہمیں گناہوں سے بچنے کی نصیحت کیا کرتے تھے پھر تم کیونکر اس عذاب میں گرفتار ہوگئے وہ عالم لوگ جواب دیویں گے کہ ہم خود اس نصیحت کے موافق عمل نہیں کرتے تھے اس واسطے ہم پر یہ بلا آگئی آیت میں ایماندار لوگوں کی آپس کی نصیحت کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ ایماندار عالموں کی نشانی یہ ہے کہ وہ عام لوگوں کو شریعت کی پابندی کی نصیحت کرتے رہیں اور خود بھی اس کے موافق عمل کریں عام لوگوں کی ایمانداری کی نشانی یہ ہے کہ وہ عالموں کی نصیحت کے پابند ہوں جس بستی کے عالموں اور عام لوگوں میں سے یہ باتیں اٹھ جاویں گی تو ان سب پر کوئی عذاب الہٓی دنیا میں بھی نازل ہوجاویگا اور عقبیٰ میں بھی کا ٹھکانا دوزخ ٹھہریگا۔ اہل سنت کے اعتقاد کے موافق اگرچہ کبیرہ گناہوں کے وہ گنہگار آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں جاویں گے جن کے اعتقاد میں شرک نہ ہوگا لیکن آگ میں جلنے کا عذاب تو وہ بلا ہے جس کی گھڑی دو گھڑی کی برداشت بھی انسان سے نہیں ہوسکتی پھر آگ بھی وہ آگ جو دنیا کی آگ سے انہتر درجہ زیادہ تیز ہے اور عذاب بھی عذاب جو برسوں رہنے والا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مسلمان کو اس بلا سے بچاوے بعضے آریہ لوگوں نے اسلام کے طریقہ نماز پر طرح طرح سے اعتراض کئے ہیں اہل اسلام نے اس کے جواب میں اہل اسلام کی نماز اور آریہ فرقہ کی سندھیا کا مقابلہ کر کے ان باتوں کو تفصیل سے لکھا ہے کہ اسلام کی نماز میں اللہ کے وحدانیت اور اسی کی خالص بندگی ہے اور سندھیا میں اندر وشنود وغیرہ دیوتاؤں کی پوجا ہے نہ اس میں اللہ کی وحدانیت ہے نہ اس کی خالص بندگی ہے سندھیا کے سوا کوئی طریق نماز کا فرقہ آریہ کے مذہب میں نہیں ہے اور اس سندھیا کا وہ حال ہے جو اوپر بیان کیا گیا پھر معلوم نہیں ایسے فرقہ کے لوگوں کو خالص وحدانیت الہٓی کے طریقہ عبادت پر اعتراض کرنے کا حق کونسی وید نے دیا ہے اگر سندھیا کی حقانیت کے خیال سے یہ اعتراض کیا گیا ہے تو سندھیا کی حقانیت تو خود وید سے ہی نہیں نکلتی کیونکہ سندھیا کا پتہ ونشان کہیں کسی وید میں نہیں ہے چاروں وید اس کے ذکر سے خالی ہیں پھر ایسے بےپتہ طریقہ کی حقانیت کا خیال ہی کیا ضرور ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:71) سیرحمہم اللہ میں س تاکید اور مبالغہ کے لئے آیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ضرور ان پر اپنی رحمت فرمائے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ل المومن اللمئو من کا لنبیان یشد بعضہ بعضا۔ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کے مانند ہے جس کی بعض اینٹیں بعض کو سہارا دیتی ہیں۔ دوسری حدیث میں ہے : مثل المئو منین فی توادھم وتر جھم کمثل الجسدالواحد اذا اشتر کی عنہ عضوتد اعی ٰ لہ سائر الجسد باالحمنیٰ والسھر۔ آپس کی محبت، ہمدردی اور شفقت میں مسلمانوں کی مثال جسم کی ہے جس کے اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو بقیہ سارے اعضا بخار اور بےچینی کی صورت میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ( ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 72 یطیعون (اطاعت کرتے ہیں) سیرحم (بہت جلد وہ رحم کرے گا) مسکن طیبۃ (پاکیزہ مکانات) اکبر (زیادہ بڑا، زیادہ بڑھ کر) الفوز العظیم (بڑی کامیابی) تشریح : آیت نمبر 71 تا 72 گزشتہ آیات میں منافقون کی علامات بیان کی گئی تھیں اور بتایا گیا تھا کہ ان کا انجام کیا ہے ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی پہچان کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہے ؟ یہ درحقیقت ایک تقابلی موازنہ ہے تاکہ منافقین اور مومنین کا فرق واضح طور سے سامنے آجائے۔ 1) منافقین کا آپس میں وقتی مفادات پر اشتراک اور تعاون تو ضرور ہے لیکن وہ ایک دوسرے کے دوست نہیں ہیں اسی لئے فرمایا گیا ” بعضھم من بعض “ لیکن ممنین کے لئے فرمایا گیا ” بعضھم اولیاء بعض “ یعنی مومن ایک دوسرے سے ذاتی دوستی اور قلبی بھائی چارہ رکھتے ہیں یہ دوستی خلاص فی سبیل اللہ ہوتی ہے اس لئے ان کی دوستی اور قلبی تعلق بہت پائیدار اور مضبوط ہوتا ہے غائب اور حاضر دونوں صورتوں میں وہ ایک دوسرے کے مخلص ہوتے ہیں ایک ہی مقصد کے تحت رہنے اور باہم مل جل کر ایک امیر کے تحت کام کرنے سے ان کا جذبہ خلوص و محبت بڑھتا جاتا ہے۔ 2) منافقین کا کام یہ ہے کہ وہ برائی کے کاموں میں مدد کے لئے اور نیکیوں کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے اور اس کی روک تھام کے لئے اپنی تمام تر طاقتیں لگا دیتے ہیں جب کہ مومنین نیکی کے کاموں میں مدد کے لئے اور برائیوں کی روک تھام اور انسداد میں اپنی توانائیاں لگا دیتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ خود بھی اور دوسرے بھی نیکیوں میں آگ بڑھتے چلے جائیں۔ انہیں گناہوں سے نفرت اور نیکیوں اور نیک کام کی توفیق مل جائے۔ 3) وہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی وہ صرف نماز ہی نہیں پڑھتے بلکہ وہ مساجد کا ایسا انتظام کرتے ہیں کہ جس میں نمازوں کا نظام قائم ہو سکے۔ نمازیں جماعت کے ساتھ ہوں، جہاں اذان، وضو اور امامت کا باقاعدہ انتظام ہو۔ اس کے معنی ہیں کہ وہ ایک ایسی سوسائٹی قائم کرتے ہیں جس میں ایک دوسرے سے تعاون، خلوص اور اجتماعیت کی شان ہوتا کہ وہاں سے کافی مقدار میں ایسے لوگ نکل سکیں جو صلوۃ با جماعت کے لئے اپنے دوسرے بھائیوں کو جمع کرسکیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو سکیں اس سوسائٹی کے قائم ہونے سے ان میں تبلیغ ، تنظیم اور جہاد کے جذبے بیدار ہوتے ہیں وہاں اسلام ایک زندہ و تابندہ قوت بن کر ابھرتا ہے۔ صلوۃ میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہوتا ہے اور وہ معاہدات، تنظیم اور جہاد کا مطالبہ کرتا ہے۔ محض ظاہری بےجان رسمیات کا نام نماز نہیں ہے بلکہ نماز کا ایک ایسا نظام قائم ہوتا ہے جس میں اخوت، محبت اور ایک دوسرے سے ہمدردی کے جذبات پروان چڑھتے ہوئے دکھائی دیں۔ 4) وہ زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ آج کل زکوۃ انفرادی طور پر نکالی جاتی ہے جس میں کسی تنظیم کو دخل نہیں ہے اس لئے زکوۃ جو مسلمانوں کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے وہ محض خیرات اور بھیک بن کر رہ گئی ہے جس سے وہ نتائج سامنے نہیں آ رہے ہیں جو اس عبادت کو قائم کرنے کا مقصد تھا۔ 5) اہل ایمان کی یہ پہچان بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں۔ اسی لئے ان سے رحمت کا بھی وعدہ ہے اور جنت کا بھی جہاں انہیں اللہ کی رضا و خوشنوید حاصل ہوگی اور یہی ان کیلئے سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے بعد مومنین کا تذکرہ۔ ان کے اوصاف اور اجر وثواب کا بیان۔ پہلے پانچ پاروں کی تفسیر کے دوران دو تین مرتبہ عرض کیا ہے کہ قرآن مجید کا مستقل اسلوب ہے کہ وہ جنت اور جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کرتا ہے تاکہ قاری تلاوت قرآن کرتے ہوئے ایک لمحہ میں فیصلہ کرسکے کہ اس نے دونوں میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کا یہ بھی طرز بیان ہے کہ وہ کفار اور منافقین کے بعد اکثر مقامات پر مومنوں کے اوصاف کا تذکرہ کرتا ہے تاکہ قرآن مجید پڑھنے والا موقعہ پر فیصلہ کرپائے کہ مجھے کون سا کردار اختیار کرنا چاہیے۔ اسی اصول کے پیش نظر منافقوں کے بعد مخلص مسلمانوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اگر منافق ایک دوسرے کے ساتھی ہیں تو ایمان والے بھی ایک دوسرے کے جانثار اور خیر خواہ ہیں۔ اسی بھائی چارے اور خیر خواہی کا نتیجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نیکی کی تلقین کرتے اور حکم دیتے ہیں اور برائی سے ایک دوسرے کو روکتے ہیں۔ نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے کے ساتھ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہر حال میں اطاعت کرتے ہیں۔ ایسے خوش بخت لوگوں پر اللہ ضرور کرم فرمائے گا اللہ تعالیٰ ہر فیصلہ کرنے پر غالب اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ آیت کے آخر میں عزیز کا لفظ استعمال فرما کر مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ایک دوسرے کی خیر خواہی اور نیکی کے کاموں پر عمل کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور غالب کرے گا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَنْ دَعَا إِلَی ہُدًی کَانَ لَہٗ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْءًا وَّمَنْ دَعَا إِلَی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِہِمْ شَیْءًا) [ رواہ مسلم : کتاب العلم، باب من سن سنۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو کوئی کسی کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے اس کے لیے اتنا ہی اجر ہوگا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور اس کے اجر سے کچھ بھی کم نہیں ہوگا اور جو کوئی گمراہی کی طرف بلائے اس کے لیے بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس کی پیروی کرنے والوں پر۔ اور مجرموں کے گناہوں سے کچھ کم نہیں ہوگا۔ “ مسائل ١۔ مومن ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ ٢۔ مومن وہ ہے جو نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔ ٣۔ مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتا ہے۔ ٤۔ مومن ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مومنوں کے کردار کی ایک جھلک : ١۔ مومن ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (التوبۃ : ٧١) ٢۔ مومنوں کے سامنے جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوجاتا ہے اور جب اللہ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مومن اپنے رب پہ توکل کرتے ہیں۔ (الانفال : ٢) ٣۔ مومن ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ (الانفال : ٧٤) ٤۔ مومن نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں۔ (المؤمنون : ١ تا ٢) ٥۔ مومن دنیا کے لاؤ لشکر کو دیکھ کر ڈرتے نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ سچا ہے۔ (الاحزاب : ٢٢) ٦۔ مومن اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور مشکلات و مصائب کی وجہ سے ایمان سے پھرتے نہیں۔ (الحجرات : ١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اور کفار و منافقین کا محاذ بالمقابل کیا ہے ، اور اس کا انجام کیا ہوگا یہ مومنین و صادقین ہیں۔ ان کا مزاج منافقین اور کفار سے یکدم مختلف ہے۔ ان کا طرز عمل ان سے بالکل الٹ ہے۔ اور ان کا انجام بھی ان کے انجام سے بالکل مختلف ہے۔ اگر منافقین ایک دوسرے کے دوست ہیں اور ایک ہی فطرت رکھتے ہیں اور ایک ہی مزاج رکھتے ہیں تو مومنین و مومنات بھی ایک ہی مزاج اور ایک ہی نظریات کے قائل ہیں اور ایک دوسرے کے محب اور دوست ہیں۔ لیکن منافقین باوجود ہم طبع اور ہم جنس ہونے کے مومنین اور مومنات کی طرح شیر و شکر نہیں ہیں کیونکہ دوست تو وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو بہادر ہوں ، جو ایک دوسرے کی مدد کو پہنچنے والے ہوں اور باہم معاون و انصار ہوں جبکہ منفاقت کا مزاج ہی ان باتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ کیونکہ بہادری کے مقابلے میں منافق بزدل اور ذلیل ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ہمدرد نہیں ہوتے اور نہ ہی باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور نہ باہم معاون و کفیل ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کے خیالات اور ان کا طرز عمل ایک دوسرے کے ساتھ ملتا جلتا ہوتا ہے۔ قرآن کریم دونوں کے لیے قدرے مختلف اسلوب اختیار کرتا ہے۔ منافقین کے لی صرف یہ لفظ ہیں بعضھم من بعض (وہ ایک دوسرے سے ہیں اور اہل ایمان کے لیے الفاظ ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ بعضھم اولیاء بعض ایک مومن کا مزاج امت مومنہ کا مزاج ہوتا ہے وہ اجتماعی ذہن رکھتا ہے۔ وہ اتحاد ، باہم متکافل اور مددگار ہوتا ہے اور اس کا یہ اتحاد اور باہم نصرت حصول خیر اور دفع شر کے لی ہوتی ہے۔ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۔ مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حک دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ اور یہ مقاصد یعنی خیر کو حاصل کرنا اور شر کی مدافعت کرنا اس قدر اونچے اور مشکل مقاصد ہیں جن کے لیے ایک ایسی جماعت کی ضرورت ہے جو یک جان دو قلب ہو۔ اس کے افراد باہم محبت کرنے والے اور مدد کرنے والے ہوں اور وہ شر کے مقابلے میں ایک صف میں صٖف آرا ہونے والے ہون اور ان میں تفرقہ اور جدائی اور عدم اتفاق کا کوئی عامل موجود نہ ہو۔ اور جب جماعت مسلمہ کے اندر تفرقہ پیدا ہوجائے تو وہاں لازما جماعت کے اندر کوئی ایسا عنصر داخل ہوگا جو اس کے مزاج کے خلاف ہوگا ، جو اس کے نظریات کے ساتھ لگا نہ کھاتا ہوگا اور اسی عنصر کی وجہ سے تفرقہ جماعت کے اندر داخل ہوگا۔ تفرقے کی وجہ سے جماعت کے اندر پھر امراض اور اعراض پیدا ہوں گی اور اب اس کے پیش نظر نہ وہ مقصد رہے گا جو اس کا اصل مقصد ہے اور نہ اس کے اندر امت کی صف اول موجود رہے گی یعنی بعضھم اولیاء بعض۔ غرض اس صفت کی وجہ سے یعنی سٖت ولایت ہی کی وجہ سے جماعت مسلمہ اپنا فرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ادا کرتی ہے اور وہ دنیا کے اندر اعلائے کلمۃ الہ کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ و یقیموں الصلوۃ۔ اقامت صلوۃ اس کی علامت ہوتی ہے۔ و یوتون الزکوۃ ادائے زکوۃ وہ فریضہ ہے جو افراد جماعت کو باہم مربوط کرتا ہے اور اس کے ذریعے افراد جماعت کے اندر روحانی اور جسمانی رابطے پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے ہیں۔ و یطیعون اللہ و رسولہ " وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں " اور یہ ہے ایک مومن کا اصلی ہدف۔ لہذا حکم الہی اور حکم رسول کے سوا ان کے لیے کوئی اور حکم قانون نہیں ہوتا۔ اور اللہ کی شریعت اور رسول کی سنت کے سوا ان کے لیے کوئی دستور نہیں ہوتا۔ اور اللہ اور رسول کے دین کے سوا ان کے لیے کوئی اور نظام نہیں ہوتا اور جب کسی قضیے کا فیصلہ اللہ اور رسول اللہ کردیں تو وہ چون و چرا نہیں کرتے۔ ان کے سامنے ایک ہی راہ ، راہ مستقیم ہوتی ہے اور وہ ادھر ادھر کی پگڈنڈیوں کی طرف نہیں لپکتے۔ اولئک سیرحمہم اللہ " یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوگی " اور یہ رحمت صرف عالم آخرت تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس رحمت کا آغآز اس جہاں سے ہی ہوجاتا ہے اور یہ رحمت اس فرد پر بھی ہوتی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضۃ سر انجام دیتا ہے اور نماز کی اقامت اور زکوۃ کی ادائیگی کرتا ہے۔ اور ایسے افراد سے جو جماعت تشکیل پاتی ہے اس پر بھی رحمت کی بارش ہوتی ہے۔ یہ رحمت اطمینان قلوب کی شکل میں بھی ہوتی ہے ، تعلق باللہ کی شکل میں بھی ہوتی اور حادثات اور فتنوں سے بچانے کی شکل میں بھی ہوتی ہے اور جماعت کی اصلاح ، اس کی ثابت قدمی اور اطمینان اور اس کے افراد کے درمیان باہم محبت اور تکافل کی شکل میں بھی ہوتی ہے اور جذبہ اخلاص اور رضائے الہی پیدا ہوجانے کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔ مومنین کی یہ چار صٖات منافقین کی چار صٖات کے بالمقابل ہیں۔ مومنین کی صفات امر بالمعروف ، نہی عن المنکر ، ادائے صلوۃ ، اداء زکوۃ ہیں اور منافقین کی صٖات نہی عن المعروف ، امر بالمنکر اللہ کو بھلانا اور بخل کرنا۔ نتیج یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی جانب سے مومنین پر نزول رحمت ہوتا ہے اور۔ اور منافقین کے لیے اس کے بدلے میں لعنت ہوتی ہی اور ان صفات کے نتیجے ہی میں اللہ نے مومنین کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ انہیں فتح و نصرت اور زمین کے اوپر اقتدار و برتری ملے گی اور اس طرح وہ پوری انسانیت کے صالح اور مصلح نگران ہوں۔ ان اللہ عزیز حکیم " یقینا الہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے "۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جماعت مومنین کو ایک دوسرے کا دوست بنائے اور ان کو اعزاز بخشے اور وہ پھر اللہ کے احکام و فرائض ادا کریں۔ اور وہ حکیم ہے اور اپنی حکمت کے ذریعے اس جماعت کی نصرت کرتا ہے اور اسے اعزاز دیتا ہے تاکہ یہ جماعت برسر اقتدار آ کر زمین میں اصلاح کا کام کرے اور لوگوں کے درمیان اللہ کے کلمے کی حفاظت کرے۔ ایک طرف جہنم کا عذاب منافقین اور کافرین کے انتظار میں ہے۔ اور اللہ کی جانب سے لعنت و ملامت ان کے گھات میں بیٹھی ہے۔ اور یہ وعید بھی ان کے لیے سوہان روح ہے کہ اللہ ان کو نسیا منسیا کردے گا تو دوسری جانب اہل ایمان کے لیے خوشیوں کے سامان ہیں اور یہ دائمی خوشیاں ان کے انتظار میں ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مؤمنین کی خاص صفات، اور ان کے لیے رحمت اور جنت کا وعدہ منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں وعیدیں بیان فرمانے اور ان کو پہلی امتوں کے واقعات یاد دلانے کے بعد مومنین کی صفات بیان فرمائیں۔ اولا تو یوں فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں اولیاء ہیں یعنی ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ دینی کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں پھر فرمایا (یَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ) کہ یہ لوگ بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، بر عکس منافقین کے کہ وہ برائیوں کا حکم کرتے ہیں اور بھلائیوں سے روکتے ہیں پھر مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ ) وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور صرف نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر ہی بس نہیں کرتے بلکہ ہر موقعہ پر اور ہر معاملہ میں اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان سے اپنی مہربانی کا وعدہ فرمایا کہ (اُولٰٓءِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰہُ ) (اللہ عنقریب ان پر رحم فرمائے گا) دنیا میں ان پر رحم فرما دیا کہ ان کو ایمان کی توفیق دے دی اور آخرت میں ان پر رحم فرمائے گا اور نعمتوں سے نوازے گا۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (بےشک اللہ تعالیٰ عزت والا ہے حکمت والا ہے) وہ غالب ہے ہر چیز پر قادر ہے جس چیز کا ارادہ فرمائے اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور اس کے سب کام اور فیصلے حکمت کے موافق ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

67:“ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُوْمِنَاتُ الخ ” منافقین کے مقابلہ میں مومنین کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور ہمدرد ہیں۔ نیک کاموں کی ترغیب دیتے اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے، زکوۃ دیتے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ “ اُوْلٓئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰهُ ” تا “ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ” مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

71 اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں جو بھلے کامو کا حکم دیتے ہیں اور نیک باتوں کو سکھاتے ہیں اور برائی کی باتوں سے منع کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اورا للہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کہنا مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ضرور رحم فرمائے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔