The Bedouins are the Worst in Disbelief and Hypocrisy
Allah says;
الاَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلاَّ يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى رَسُولِهِ
...
The Bedouins are the worst in disbelief and hypocrisy, and more likely to not know the limits which Allah has revealed to His Messenger.
Allah states that there are disbelievers, hypocrites and believers among the Bedouins. He also states that the disbelief and hypocrisy of the Bedouins is worse and deeper than the disbelief and hypocrisy of others. They are the most likely of being ignorant of the commandments that Allah has revealed to His Messenger.
Al-A`mash narrated that Ibrahim said,
"A Bedouin man sat next to Zayd bin Sawhan while he was speaking to his friends. Zayd had lost his hand during the battle of Nahawand. The Bedouin man said, `By Allah! I like your speech. However, your hand causes me suspicion.'
Zayd said, `Why are you suspicious because of my hand, it is the left hand (that is cut).'
The Bedouin man said, `By Allah! I do not know which hand they cut off (for committing theft), is it the right or the left?'
Zayd bin Sawhan said, `Allah has said the truth,
الاَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلاَّ يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى رَسُولِهِ
The Bedouins are the worst in disbelief and hypocrisy, and more likely to not know the limits which Allah has revealed to His Messenger."
Imam Ahmad narrated that Ibn Abbas said that the Messenger of Allah said,
مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا
وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ
وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِن
He who lives in the desert becomes hard-hearted,
he who follows the game becomes heedless, and
he who associates with the rulers falls into Fitnah.
Abu Dawud, At-Tirmidhi and An-Nasa'i collected this Hadith.
At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib."
The Prophet once had to give a Bedouin man many gifts because of what he gave him as a gift, until the Bedouin became satisfied. The Prophet said,
لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيَ أَوْ ثَقَفِيَ أَوْ أَنْصَارِيَ أَوْ دَوْسِي
I almost decided not to accept a gift except from someone from Quraysh, Thaqafi, the Ansar or Daws.
This is because these people lived in cities, Makkah, At-Ta'if, Al-Madinah and Yemen, and therefore, their conduct and manners are nicer than that of the hard-hearted Bedouins.
Allah said next,
...
وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
And Allah is All-Knower, All-Wise.
Allah knows those who deserve to be taught faith and knowledge, He wisely distributes knowledge or ignorance, faith or disbelief and hypocrisy between His servants. He is never questioned as to what He does, for He is the All-Knower, All-Wise.
Allah also said that;
دیہات ، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار و منافق بھی ہیں اور مومن مسلمان بھی ہیں ۔ لیکن کافروں اور منافقوں کا کفر و نفاق نہایت سخت ہے ۔ ان میں اس بات کی مطلقاً اہلیت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدوں کا علم حاصل کریں جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمائی ہیں ۔ چنانچہ ایک اعرابی حضرت زید بن صوحان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت یہ اس مجلس میں لوگوں کو کچھ بیان فرما رہے تھے ۔ نہاوند والے دن انکا ہاتھ کٹ گیا تھا ۔ اعرابی بول اٹھا کہ آپ کی باتوں سے تو آپ کی محبت میرے دل میں پیدا ہوتی ہے ۔ لیکن آپ کا یہ کٹا ہوا ہاتھ مجھے اور ہی شبہ میں ڈالتا ہے ۔ آپ نے فرمایا اس سے تمہیں کیا شک ہوا یہ تو بایاں ہاتھ ہے ۔ تو اعرابی نے کہا واللہ مجھے نہیں معلوم کہ دایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا بایاں؟ انہوں نے فرمایا اللہ عزوجل نے سچ فرمایا کہ اعراب بڑے ہی سخت کفر ونفاق والے اور اللہ کی حدوں کے بالکل ہی نہ جاننے والے ہیں ۔ مسند احمد میں ہے جو بادیہ نشین ہوا اس نے غلط و جفا کی ۔ اور جو شکار کے پیچھے پڑ گیا اس نے غفلت کی ۔ اور جو بادشاہ کے پاس پہنچا وہ فتنے میں پڑا ۔ ابو داؤد ترمذی اور نسانی میں بھی یہ حدیث ہے ۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں چونکہ صحرا نشینوں میں عموماً سختی اور بدخلقی ہوتی ہے ، اللہ عزوجل نے ان میں سے کسی کو اپنی رسالت کے ساتھ ممتاز نہیں فرمایا بلکہ رسول ہمیشہ شہری لوگ ہوتے رہے ۔ جیسے فرمان اللہ ہے ۔ ( آیت وما ارسلنا من قبلک الا رجلا نوحی الیھم من اھل القری ) ہم نے تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب انسان مرد تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے تھے وہ سب متمدن بستیوں کے لوگ تھے ۔ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ہدیہ پیش کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہدیہ سے کئی گناہ زیادہ انعام دیا جب جا کر بمشکل تمام راضی ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب سے میں نے قصد کیا ہے کہ سوائے قریشی ، ثقفی ، انصاری یا دوسی کے کسی کا تحفہ قبول نہ کروں گا ۔ یہ اس لئے کہ یہ چاروں شہروں کے رہنے والے تھے ۔ مکہ ، طائف ، مدینہ اور یمن کے لوگ تھے ، پس یہ فطرتاً ان بادیہ نشینوں کی نسبت نرم اخلاق اور دور اندیش لوگ تھے ، ان میں اعراب جیسی سختی اور کھردرا پن نہ تھا ۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ ایمان و علم عطا فرمائے جانے کا اہل کون ہے؟ وہ اپنے بندوں میں ایمان و کفر ، علم وجہل ، نفاق و اسلام کی تقسیم میں باحکمت ہے ۔ اس کے زبردست علم کی وجہ سے اس کے کاموں کی بازپرس اس سے کوئی نہیں کر سکتا ۔ اور اس حکمت کی وجہ سے اس کا کوئی کام بےجا نہیں ہوتا ۔ ان بادیہ نشینوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ کی راہ کے خرچ کو ناحق اور تاوان اور اپنا صریح نقصان جانتے ہیں اور ہر وقت اسی کے منتظر رہتے ہیں کہ تم مسلمانوں پر کب بلا و مصیبت آئے ، کب تم حوادث و آفات میں گھر جاؤ لیکن ان کی یہ بد خواہی انہی کے آگے آئے گی ، انہی پر برائی کا زوال آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کا سننے والا ہے ۔ اور خوب جانتا ہے کہ مستحق امداد کون ہے اور ذلت کے لائق کون ہے ۔
دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں ، مبتدع نہیں
اعراب کی اس قوم کو بیان فرما کر اب ان میں سے بھلے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں آخرت کو مانتے ہیں ۔ راہ حق میں خرچ کر کے اللہ کی قربت تلاش کرتے ہیں ، ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں لیتے ہیں ۔ بیشک ان کو اللہ کی قربت حاصل ہے ۔ اللہ انہیں اپنی رحمتیں عطا کر دے گا ۔ وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے ۔