Surat ul Balad

Surah: 90

Verse: 14

سورة البلد

اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِیۡ یَوۡمٍ ذِیۡ مَسۡغَبَۃٍ ﴿ۙ۱۴﴾

Or feeding on a day of severe hunger

یا بھو ک والے دن کو کھانا کھلانا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَوْ إِطْعَامٌ ... And what will make you know the path that is steep? - Freeing a neck, - or giving food..." Imam Ahmad recorded from Sa`id bin Marjanah that he heard Abu Hurayrah saying that the Messenger of Allah said, مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُومِنَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ إِرْبٍ أَيْ عُضْوٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ حَتْى إِنَّهُ لَيُعْتِقُ بِالْيَدِ الْيَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَبِالْفَرْجِ الْفَرْج Whoever frees a believing slave, Allah will free for every limb (of the slave) one of his limbs from the Fire. This is to such an extent that He (Allah) will free a hand for a hand, a leg for a leg, and a private part for a private part. Ali bin Al-Husayn then said (to Sa`id), "Did you hear this from Abu Hurayrah" Sa`id replied, "Yes." Then `Ali bin Al-Husayn said to a slave boy that he owned who was the swiftest of his servants, "Call Mutarrif!" So when the slave was brought before him he said, "Go, for you are free for the Face of Allah." Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i, all recorded this Hadith from Sa`id bin Marjanah. Imam Ahmad recorded from `Amr bin `Abasah that the Prophet said, مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِيُذْكَرَ اللْهُ فِيهِ بَنَى اللْهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ أَعْتَقَ نَفْسًا مُسْلِمَةً كَانَتْ فِدْيَتَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الاِْسْلَمِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَة - Whoever builds a Masjid so that Allah may be remembered in it, Allah will build a house for him in Paradise; - and whoever frees a Muslim person, then it will be his ransom from Hell; - and whoever grows grey in Islam, then it will be a light for him on the Day of Judgement.) According to another route of transmission, Ahmad recorded from Abu Umamah, who reported from `Amr bin `Abasah that As-Sulami said to him, "Narrate a Hadith to us that you heard from the Messenger of Allah, without any deficiency or mistakes." He (`Amr) said, "I heard him saying, مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَثَةُ أَوْلاَدٍ فِي الاِْسْلَمِ فَمَاتُوا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ رَمَى بِسَهْم فِي سَبِيلِ اللهِ بَلَغَ بِهِ الْعَدُوَّ أَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ كَانَ لَهُ عِتْقُ رَقَبَةٍ وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُوْمِنَـةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ فَإِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ يُدْخِلُهُ اللهُ مِنْ أَيِّ بَابٍ شَاءَ مِنْهَا - Whoever has three children born to him in Islam, and they die before reaching the age of puberty, Allah will enter him into Paradise by virtue of His mercy to them. - And whoever grows gray in the way of Allah (fighting Jihad), then it will be a light for him on the Day of Judgement. - And whoever shoots an arrow in the way of Allah (fighting Jihad) that reaches the enemy, whether it hits or misses, he will get the reward of freeing a slave. - And whoever frees a believing slave, then Allah will free each of his limbs from the Fire for every limb that the slave has. - And whoever equipped two riding animals in the way of Allah (for fighting Jihad), then indeed Paradise has eight gates, and Allah will allow him to enter any of them he choses." Ahmad recorded this Hadith from different routes of transmission that are good and strong, and all praise is due to Allah. Allah said, ... فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ Or giving food in a day full of Masghabah, Ibn `Abbas said, "Of hunger." ` Ikrimah, Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah and others all said the same. The word `Saghb' means hunger. Then Allah says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(او اطعم فی یوم ذی مسغبۃ…: یوں تو قحط اور بھوک کے وقت کسی بھی یتیم کو کھانا کھلانا ثواب کا کام ہے، لیکن جو یتیم رشتہ دار بیھ ہو اس کی خبر گیری کرنا مزید اجر کا باعث ہے۔ اسی معنی میں سلیمان بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، (الصدقۃ علی المسکین صدقۃ، وانھا علی ذی الرحم اثنان ، صدقۃ وصلۃ) (مسند احمد : ٣/٢١٣، ح : ١٨٨٩١ ترمذی : ٦٥٨ ابن ماجہ : ١٨٣٣، وصححہ الالبانی)” مسکین پر صدقہ کرنا (صرف) صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوْ اِطْعٰمٌ فِيْ يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَۃٍ۝ ١٤ ۙ طعم الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، طَعاماً ذا غُصَّةٍ [ المزمل/ 13] ، طَعامُ الْأَثِيمِ [ الدخان/ 44] ، وَلا يَحُضُّ عَلى طَعامِ الْمِسْكِينِ [ الماعون/ 3] ، أي : إِطْعَامِهِ الطَّعَامَ ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا [ الأحزاب/ 53] ، وقال تعالی: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ جُناحٌ فِيما طَعِمُوا [ المائدة/ 93] ، قيل : وقد يستعمل طَعِمْتُ في الشّراب کقوله : فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي[ البقرة/ 249] ، وقال بعضهم : إنّما قال : وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ تنبيها أنه محظور أن يتناول إلّا غرفة مع طَعَامٍ ، كما أنه محظور عليه أن يشربه إلّا غرفة، فإنّ الماء قد يُطْعَمُ إذا کان مع شيء يمضغ، ولو قال : ومن لم يشربه لکان يقتضي أن يجوز تناوله إذا کان في طَعَامٍ ، فلما قال : وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ بَيَّنَ أنه لا يجوز تناوله علی كلّ حال إلّا قدر المستثنی، وهو الغرفة بالید، وقول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم في زمزم : «إنّه طَعَامُ طُعْمٍ وشِفَاءُ سُقْمٍ» «3» فتنبيه منه أنه يغذّي بخلاف سائر المیاه، واسْتَطْعَمَهُ فَأْطْعَمَهُ. قال تعالی: اسْتَطْعَما أَهْلَها[ الكهف/ 77] ، وَأَطْعِمُوا الْقانِعَ وَالْمُعْتَرَّ [ الحج/ 36] ، وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ [ الإنسان/ 8] ، أَنُطْعِمُ مَنْ لَوْ يَشاءُ اللَّهُ أَطْعَمَهُ [يس/ 47] ، الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ [ قریش/ 4] ، وَهُوَ يُطْعِمُ وَلا يُطْعَمُ [ الأنعام/ 14] ، وَما أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ [ الذاریات/ 57] ، وقال عليه الصلاة والسلام : «إذا اسْتَطْعَمَكُمُ الإمامُ فَأَطْعِمُوهُ» «1» أي : إذا استفتحکم عند الارتیاج فلقّنوه، ورجلٌ طَاعِمٌ: حَسَنُ الحالِ ، ومُطْعَمٌ: مرزوقٌ ، ومِطْعَامٌ: كثيرُ الإِطْعَامِ ، ومِطْعَمٌ: كثيرُ الطَّعْمِ ، والطُّعْمَةُ : ما يُطْعَمُ. ( ط ع م ) الطعم ( س) کے معنی غذا کھانے کے ہیں ۔ اور ہر وہ چیز جو بطورغذا کھائی جائے اسے طعم یا طعام کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] اور اس کا طعام جو تمہارے فائدہ کے لئے ۔ اور کبھی طعام کا لفظ خاص کر گیہوں پر بولا جاتا ہے جیسا کہ ابوسیعد خدری سے ۔ روایت ہے ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امر بصدقۃ الفطر صاعا من طعام اوصاعا من شعیر ۔ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ فطر میں ایک صحابی طعام یا ایک صاع جو د ینے کے حکم دیا ۔ قرآن میں ہے : وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] اور نہ پیپ کے سوا ( اس کے ) لئے کھانا ہے ۔ طَعاماً ذا غُصَّةٍ [ المزمل/ 13] اور گلوگیرکھانا ہے ۔ طَعامُ الْأَثِيمِ [ الدخان/ 44] گنہگار کا کھانا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ وَلا يَحُضُّ عَلى طَعامِ الْمِسْكِينِ [ الماعون/ 3] اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو ترغیب نہیں دیتا ۔ میں طعام بمعنی اوطعام یعنی کھانا کھلانا کے ہے فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا[ الأحزاب/ 53] اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ جُناحٌ فِيما طَعِمُوا[ المائدة/ 93] جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اور انپر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھاچکے ۔ بعض نے کہا ہے کہ کبھی طعمت بمعنی شربت آجاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي[ البقرة/ 249] جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا توہ وہ مجھ دے نہیں ہے اور جو شخص اس سے پانی نہ پیے گا ( اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ ) میرا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں من لم یشربہ بجائے ومن لم یطعمہ کہہ کر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس طرح چلو بھر سے زیادہ محض پانی کا استعمال ممنوع ہے اسی طرح طعام کے ساتھ بھی اس مقدار سے زائد پانی پینا ممنوع ہے کیونکہ جو پانی کھانے کے ساتھ پیاجاتا ہے اس پر بھی طعمت کا لفظ بولا جاسکتا ہے ۔ لہذا اگر من لمیشربہ لایا جاتا تو اس سے کھانے کے ساتھ پانی پینے کی ممانعت ثابت نہ ہوتی اس کے برعکس یطعمہ کے لفظ سے یہ ممانعت بھی ثابت ہوجاتی اور معین مقدار سے زائد پانی کا پینا بہر حالت ممنوع ہوجاتا ہے ۔ اور ایک حدیث (20) میں آنحضرت نے زم زم کے پانی کے متعلق انہ طعام طعم و شفاء سقم ( کہ یہ کھانے کا کھانا اور بیماری سے شفا ہے ) فرماکر تنبیہ کی ہے کہ بیر زمزم کے پانی میں غذائیت بھی پائی جاتی ہے جو دوسرے پانی میں نہیں ہے ۔ استطعمتہ فاطعمنی میں نے اس سے کھانا مانگا چناچہ اس نے مجھے کھانا کھلایا ۔ قرآن میں ہے : اسْتَطْعَما أَهْلَها[ الكهف/ 77] اور ان سے کھانا طلب کیا ۔ وَأَطْعِمُوا الْقانِعَ وَالْمُعْتَرَّ [ الحج/ 36] اور قناعت سے بیٹھے رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ [ الإنسان/ 8] اور وہ کھانا کھلاتے ہیں أَنُطْعِمُ مَنْ لَوْ يَشاءُ اللَّهُ أَطْعَمَهُ [يس/ 47] بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا ۔ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ [ قریش/ 4] جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا ۔ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلا يُطْعَمُ [ الأنعام/ 14] دہی سب کو کھانا کھلاتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا ۔ وَما أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ [ الذاریات/ 57] اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھانا کھلائیں ۔ اور (علیہ السلام) نے فرمایا (21) اذا استطعمکم الامام فاطعموہ یعنی جب امام ( نماز میں ) تم سے لقمہ طلب کرے یعنی بھول جائے تو اسے بتادو ۔ رجل طاعم خوش حال آدمی رجل مطعم جس کو وافروزق ملا ہو مطعم نیک خورندہ ۔ مطعام بہت کھلانے والا ، مہمان نواز طعمۃ کھانے کی چیز ۔ رزق ۔ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ سغب قال تعالی: أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ [ البلد/ 14] ، من السَّغَبِ ، وهو الجوع مع التّعب، وقد قيل : في العطش مع التّعب، يقال : سَغِبَ سَغَباً وسُغُوباً وهو سَاغِبٌ ، وسَغْبَانُ ، نحو : عطشان . ( س غ ب ) المسغبۃ ( س ن ) بھوک چناچہ آیت کریمہ : ۔ أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ [ البلد/ 14] یا بھوک کے دن کھانا کھلانا ۔ میں مسغبۃ سغب سے مشتق ہے جس کے معنی بھوک سے درماندہ ہوجانے کے ہیں اور پیاس سے نڈھال ہونے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے سغب ( س ) سغبا وسغوبا وھو ساغب اور صفت کا صیغہ سغبان مثل عطشان بھی آتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (ذی مسغبۃ فاقے کے دن) یعنی بھوک والے دن۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤{ اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۔ } ” یا کھانا کھلا دینا بھوک کے دن میں۔ “ یعنی کسی شخص کا قحط سالی کے دوران بھوکوں کو کھانا کھلانا ۔ خصوصی طور پر ایسی صورت حال میں جب اسے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت کا خیال بھی پریشان کیے دے رہا ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(90:14) او اطعم فی یوم ذی مسغبۃ : او حرف عطف ہے اطعام کا عطف فک پر ہے۔ ای او ہی اطعم ۔۔ الخ اطعام (باب افعال) سے مصدر بمعنی کھانا کھلانا۔ فی حرف جر یوم مجرور۔ موصوف۔ ذی مسغبۃ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت یوم کی۔ مسغبۃ مصدر میمی۔ بھوک۔ کھانے کی خواہش۔ فی یوم ذی مسغبۃ۔ بھوک والے دن میں۔ بھوکے ہونے کی نسبت یوم کی طرف حقیقی نہیں (دن بھوکا نہیں ہوتا) مجازی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) یا بھوک کے دن کھانا کھلا دینا۔