Surat us Shams
Surah: 91
Verse: 1
سورة الشمس
وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾
By the sun and its brightness
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی ۔
وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾
By the sun and its brightness
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی ۔
Allah swears by His Creation that the Person Who purifies Himself will be Successful and the Person Who corrupts Himself will fail وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا By the sun and Duhaha. Mujahid said, "This means, by its light." Qatadah said, وَضُحَـهَا wa Duhaha. "The whole day." Ibn Jarir said, "The correct view is what has been said, `Allah swears by the sun and its daytime, because the clear light of the sun is daytime."' وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ : حضرت مجاہد فرماتے ہیں ضحا سے مراد روشنی ہے قتادہ فرماتے ہیں پورا دن مراد ہے امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے ، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے ، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے ۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے ، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ یغشاہا میں بھی یہ معنی ٹھی بیٹھتے ، اسی لیے حضرت مجاہد فرماتے ہیں دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے ، امام ابن جریر اس قوم کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر ھاکا مرجع شمس ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے ، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے ، یزید بن ذی حمایہ کہتے ہیں کہ جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیے ، ( ابن ابی حاتم ) پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو ماہے یہ مصدیہ بھی ہو سکتا ہے ، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم ، حضرت قتادہ کا قول یہی ہے اور یہ مامعنی میں من کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ، یعنی خود اللہ کی ، مجاہد یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں بنا کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے والسماء بنینٰھا بایدٍالخ ، یعنی آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچجا ہم بچھانے والے ہیں ، اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے ، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی ، اس کی مخلوق کی قسم زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے ، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے ، جوہری فرماتے ہیں طحو تہ مثل وحولۃ کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے پھر فرمایا نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا جیسے اور جگہ ہے فاقم وجھک الخ ، اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے ، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ، حدیث میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے ( بخاری و مسلم ) صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلالیا ، پھر فرماتا ہے کہ اللہ نے اس کے لیے بدکارری و پرہیز گاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ، ابن عباس فرماتے ہیں یعنی خیرو شر ظاہر کردیا ، ابن جریر میں ہے حضرت ابو الاسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء کے پاس آچکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی میں جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے حضرت عمران نے کہا پھر یہ طلم تو نہ ہوگا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہاکہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کرسکتا ہے میرا یہ جواب سن کر حضرت عمران بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے دسرتگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے ، سنو ایک شخص مزینہ جھینہ قبیلے کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا ؟ آپ نے جوابا ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک وتعالیٰٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ونفس وما سواھا فالھمھا فجورھا وتقوٰھایہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے ، مسند احمد میں بھی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور بامراد ہو ا ، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکنکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے جیسے اور جگہ ہے قد افلح من تزکی وذکرا سم ربٖہ فصلی جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام دیا کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پالی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا ، نافرمانیوں میں پڑگیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرادیاوہ برباد ، خائب اور خاسر رہا ، عوفی اور علی بن ابو طلحہ حضرت ابن عباس سے یہی روایت کرتیہیں ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قد افلح من زکھا پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پالیا لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں ، طبرانی کی حدیث میں ہے کہ فالھمھا فجورھا وتقوٰھاپڑھ کر آپ نے یہ دعا پڑھی اللھم ائت نفسی تقوٰھا انت ولیھاومولاھا وخیر من زکاھا ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے اللھم ائت نفسی تقوٰھا وزکھا انت خیر من زکاھا انت ولیھا ومولاھاکمسند احمد کی حدیث میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر نہیں اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو یرے ہاتھ آپ پر پڑے آپ اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے رب اعط نفسی تقوٰھا وزکھا انت خیر من زکاھا انت ولیھا ومولاھاکیہ حدیث صرف مسھد احمد میں ہی ہے ، مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعامانگتے تھے اللھم انی اعو ذبک من العجز والکسل والھرم والجبن والبخل وعذاب القبر اللھم ائت نفسی تقوھا وزکھا انت خیر من زکاھا انت ولیھا ومولاھا اللھم انی اوذبک من قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع وعلم لا ینفع ودعوۃ لا یستجاب لھا کیا اللہ میں عاجزی ، بےچارگی ، سستی تھکاوٹ بڑھاپے نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے توہی اس کا والی اور مولیٰ ہے ، اے اللہ مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچاجو قبول نہ کی جائے ، راوی حدیث میں حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلعم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمھیں سکھاتے ہیں ۔
1۔ 1 یا اس کی روشنی کی، یا مطلب ضحیٰ سے دن ہے، یعنی سورج کی اور دن کی۔
[١] ضُحٰی کے معنی چاشت کا وقت بھی ہے جب سورج خاصا بلند ہوجاتا ہے اور اس وقت کی دھوپ بھی جبکہ روشنی کے علاوہ سورج کی گرمی بھی اہل زمین کو متاثر کرنا شروع کردیتی ہے۔
والشمس وضحھا : پہلی آیت سے لے کر آٹھویں آیت سے لے کر آٹھویں آیت تک تمام قسموں کا جواب قسم یہ ہے کہ ” جس شخص نے اپنے نفس کو پاک کر لیاوہ کامیاب ہوا اور جس نے اسے مٹی میں دبا دیا وہ ناکام ہوا۔ “ ان قسموں اور جواب قسم کی مناسبت یہ ہے (واللہ اعلم) کو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لئے پیدا فرمایا، جیسا کہ فرمایا :(ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً (البقرۃ : ٢٩)” وہ ذات کہ زمین میں جو کچھ ہے اس نے سب تمہارے لئے پیدا فرمایا۔ “ حتیٰ کہ آسمان کی چھت ، زمین کا فرش، سورج اور اس کی دھوپ ، اس کے بعد چاند اور اس کی چاندنی اور دن کو آفتاب کا اجالا، پھر رات کا اس کو ڈھانپ لینا اسی کے فائدے کے لئے ہے، فرمایا :(وسخر لکم الشمس والقمر دآئبین ، وسخر لکم الیل والنھار) (ابراہیم : ٣٣)” اور اس نے تمہارے لئے سورج اور چاند کو مسخر کردیا جو مسلسل چلنے والے ہیں اور تمہارے لئے رات اور دن کو مسخر کردیا۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا اور نفس انسانی کو بہترین شکل و صورت میں بنا کر اسے نیکی اور بدی کی پہچانبھی کر ادی۔ ہر آدمی ان سب چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور شعور سے محسوس کرتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص ان عظیم الشان مخلوقات کو اور ان کے خلاق کے احسانات کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر اپنے آپ کو کفر و شرکت اور ظلم و زیادتی سے پاک کرلیتا ہے یقیناً وہ اپنا مقصد تخلیق پورا کردینے کی وجہ سے کامیاب ہے اور جو شخص ان سب چیزوں سے آنکھیں بند کر کے اپنے نفس کو شہوت، غضب اور شرک و کفر کے کیچڑ میں دبا دیتا ہے وہ ناکام ہے۔
Commentary Allah swears by the objects and phenomena mentioned in verses [ 1-7], which gives these creations an added significance and draws man&s attention to them. Man ought to reflect on these phenomena and try to appreciate their value and the purpose of their creation. The first oath is taken by: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا (I swear by the sun and his broad light,...91:1). The phrase and his broad light& is, though conjoined to &by the sun& by means of the conjunctive particle &and&, the context indicates that &broad light& is in adjectival position qualifying shams &the sun&, that is to say, &I swear by the sun when it is in the time of forenoon. The word duha is that part of the day when the sun rises [ early in the morning ] and goes up slightly higher [ on the sky ], and its light spreads on the earth. Man observes it to be near to himself and observes it fully on account of lack of heat.
خلاصہ تفسیر قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب سورج (کے غروب) سے پیچھے آوے ( یعنی طلوع ہو مراد اس سے وسط ماہ کی بعض شبوں کا چاند ہے کہ سورج کے چھپنے کے بعد طلوع ہوتا ہے اور یہ قید شاید اس لئے ہو کہ وہ وقت کمال نور کا ہوتا ہے جیسا کہ ضحاہا کا اشارہ ہے کہ کمال نور آفتاب کی طرف اور یا اس وقت دو آیة قدرت علی سبیل التعاقب والاتصال ظاہر ہوتی ہیں غروب شمس وطلوع قمر) اور (قسم ہے) دن کی جب وہ اس (سورج) کی خوب روشن کردے اور (قسم ہے) رات کی جب وہ اس (سورج) کو (اور اس کے آثار وانوار کو بالکیہ) چھپالے (یعنی خوب رات ہوجاوے کہ دن کی روشنی کا کچھ اثر نہ رہے اور چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے ان میں جو قیدیں لگائی گئی ہیں وہ ان کے کمال کے اعتبار سے ہیں، یعنی ہر ایک کی قسم ان کی حالت کمال کے اعتبار سے ہے) اور (قسم ہے) آسمان کی اور اس (ذات) کی جس نے اس کو بنایا (مراد اللہ تعالیٰ ہے اس طرح ماطحاہا اور ماسواہا میں بھی اور مخلوق کی قسم کو خالق کی قسم پر مقدم فرمانا اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس میں ذہن کو دلیل سے مدلول کی طرف منتقل کرنا ہے کیونکو مصنوع دلیل ہے صانع پر، تو اس میں استدلال علی التوحید کی طرف بھی اشارہ ہوگیا) اور (قسم ہے) زمین کی اور اس (ذات) کی جس نے اس کو بچھایا اور (قسم ہے انسان کی جان کی اور اس (ذات) کی جس نے اس کو (ہر طرح صورت وشکل اعضا سے) درست بنایا پھر اس کی بدکرداری اور پرہیزگاری (دونوں باتوں کا اس کو القا کیا) یہ اسناد باعتبار تخلیق کے ہے یعنی قلب میں جو نیکی کا رجحان ہوتا ہے یا جو بدی کی طرف میلانہوتا ہے دونوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، گو القاء اول میں فرشتہ واسطہ ہوتا ہے اور ثانی میں شیطان پھر وہ رجحان ومیلان کبھی مرتبہ غرم تک پہنچ جاتا ہے جو کہ انسان کے قصد واختیار سے صادر ہوتا ہے اسی قصد واختیار پر عذاب وثواب مرتب ہوتا ہے جس کے بعد صدور فعل تخلیق حق ہوتا ہے اور کبھی عزم تک نہیں پہنچتا وہ معاف ہے۔ آگے مضمون کی تکمیل کے لئے اہل فجور و اہل تقویٰ کا مال بتلاتے ہیں کہ) یقینا وہ مراد کو پہنچا جس نے اس (جان) کو پاک کرلیا (یعنی نفس کو فجور سے روکا اور تقویٰ اختیار کرلیا) اور نامراد ہوا جس نے اس کو (فجور میں) دبا دیا (اور فجور سے مغلوب کردیا، اس کے بعد جو اب قسم مقدر ہے یعنی اے کفار مکہ جب تم اہل فجور ہو تو ضرور مبتلائے غضب وہلاک ہوگئے آخرت میں تو یقینا اور دنیا میں بعض اوقات جیسا کہ قوم ثمود اور فجوری وجہ سے غضب الٰہی اور عذاب کا مورد بنی جن کا قصہ یہ ہے کہ) قوم ثمود نے اپنی شرارت کے سبب (صلاح (علیہ السلام) کی) تکذیب کی (اور یہ اس زمانہ کا قصہ ہے) جبکہ اس قوم میں جو سب سے زیادہ بد بخت تھا وہ (اونٹنی کے قتل کرنے کے لئے) اٹھ کھڑا ہوا (یعنی آمادہ ہوگیا اور اسکے ساتھ اور لوگ بھی شریک تھے) تو ان لوگوں سے اللہ کے پیغمبر (صالح علیہ السلام) نے (جب ان کو اس عزم قتل کی اطلاع ہوئی کذافی الخازن) فرمایا کہ اللہ کی (اس) اونٹنی سے اور اسکے پانی پینے سے خبردار رہنا (یعنی اس کو قتل مت کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا، چونکہ ارادہ قتل کا اصل سبب بھی پانی کی باری تھی اسلئے اس کی تصریح فرمائی۔ اور اللہ کی اونٹنی اسلئے کہا کہ خدا تعالیٰ نے اس کو معجزہ کے طور پر عجیب طرح سے پیدا کرکے دلیل نبوت بنادیا اور اس کے احترام کو واجب فرمایا) سو انہوں نے پیغمبر کو (یعنی دلیل نبوت کو جو ناقة اللہ کے ذریعہ ظاہر ہوئی) جھٹلایا (کیونکہ وہ ان کو نبی نہ سمجھتے تھے) پھر اس اونٹنی کو مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے انکے گناہ کے سبب ان پر ہلاکت نازل فرمائی پھر اس (ہلاکت) کو (تمام قوم کے لئے) عام فرمایا اور اللہ تعالیٰ کو اس ہلاکت کے اخیر میں کسی خرابی (نکلنے) کا (کسی سے) اندیشہ نہیں ہوا (جیسے ملوک دنیا کو بعض اوقات کسی قوم کی سزا دینے کے بعد احتمال ہوتا ہے کہ اس پر کوئی شورش وہنگامہ ملکی مرتب نہو) مفصل قصہ ثمود کا اونٹنی کا سورة اعراف میں گزرچکا ہے۔ معارف ومسائل اس سورت کے شروع میں سات چیزوں کی قسم آئی ہے اور ساتوں چیزوں کے ساتھ ان کی حالت کمال کے اعتبار سے کچھ اوصاف اور قیود ذکر کئے گئے ہیں۔ پہلی قسم والشمس وضحھا، یہاں اگرچہ ضحا کو واوعطف کے ساتھ ذکر کیا ہے مگر بقرینہ بعد کی اشیاء کے ضحیٰ کا ذکر بطور وصف شمس کے ہے یعنی قسم ہے آفتاب کی جبکہ وہ وقت ضحیٰ میں ہو۔ ضحیٰ اس وقت کو کہا جاتا ہے جب آفتاب طلوع ہو کر کچھ بلند ہوجائے اور اس کی روشنی زمین پر پھیل جائے، اس وقت میں وہ انسان کو قریب نظر آتا ہے اور تمازت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو پوری طرح دیکھ بھی سکتے ہیں۔
وَالشَّمْسِ وَضُحٰىہَا ١ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔ شمس یومنا واشمس ۔ دن کا دھوپ ولا ہونا شمس فلان شماسا گھوڑے کا بدکنا ایک جگہ پر قرار نہ پکڑناز ۔ گویا قرار نہ پکڑنے ہیں میں سورج کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ ضحی الضُّحَى: انبساطُ الشمس وامتداد النهار، وسمّي الوقت به . قال اللہ عزّ وجل : وَالشَّمْسِ وَضُحاها[ الشمس/ 1] ، إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها [ النازعات/ 46] ، وَالضُّحى وَاللَّيْلِ [ الضحی/ 1- 2] ، وَأَخْرَجَ ضُحاها [ النازعات/ 29] ، وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى [ طه/ 59] ، وضَحَى يَضْحَى: تَعَرَّضَ للشمس . قال : وَأَنَّكَ لا تَظْمَؤُا فِيها وَلا تَضْحى[ طه/ 119] ، أي : لك أن تتصوّن من حرّ الشمس، وتَضَحَّى: أَكَلَ ضُحًى، کقولک : تغدّى، والضَّحَاءُ والغداءُ لطعامهما، وضَاحِيَةُ كلِّ شيءٍ : ناحیتُهُ البارزةُ ، وقیل للسماء : الضَّوَاحِي ولیلة إِضْحِيَانَةٌ ، وضَحْيَاءُ : مُضيئةٌ إضاءةَ الضُّحَى. والأُضْحِيَّةُ جمعُها أَضَاحِي وقیل : ضَحِيَّةٌ وضَحَايَا، وأَضْحَاةٌ وأَضْحًى، وتسمیتها بذلک في الشّرع لقوله عليه السلام : «من ذبح قبل صلاتنا هذه فليُعِدْ» ( ض ح و ) الضحی ٰ ۔ کے اصل معنی دہوپ پھیل جانے اور دن چڑھ آنے کے ہیں پھر اس وقت کو بھی ضحی کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَالشَّمْسِ وَضُحاها[ الشمس/ 1] سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی ۔ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها [ النازعات/ 46] ایک شام یا صبح وَالضُّحى وَاللَّيْلِ [ الضحی/ 1- 2] آفتاب کی روشنی کی قسم اور رات کی تاریکی کی جب چھاجائے ۔ وَأَخْرَجَ ضُحاها [ النازعات/ 29] اور اسکی روشنی نکالی ۔ وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى[ طه/ 59] اور یہ لوگ ( اس دن چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں ۔ ضحی یضحیٰ شمسی یعنی دھوپ کے سامنے آنا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّكَ لا تَظْمَؤُا فِيها وَلا تَضْحى[ طه/ 119] اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ۔ یعنی نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاؤ گے ۔ تضحی ضحی کے وقت کھانا کھانا جیسے تغدیٰ ( دوپہر کا کھانا کھانا ) اور اس طعام کو جو ضحی اور دوپہر کے وقت کھایا جائے اسے ضحاء اور غداء کہا جاتا ہے ۔ اور ضاحیۃ کے معنی کسی چیز کی کھلی جانب کے ہیں اس لئے آسمان کو الضواحی کہا جاتا ہے لیلۃ اضحیانۃ وضحیاء روشن رات ( جس میں شروع سے آخر تک چاندنی رہے ) اضحیۃ کی جمع اضاحی اور ضحیۃ کی ضحایا اور اضحاۃ کی جمع اضحیٰ آتی ہے اور ان سب کے معنی قربانی کے ہیں ( اور شرقا قربانی بھی چونکہ نماز عید کے بعد چاشت کے وقت دی جاتی ہے اس لئے اسے اضحیۃ کہاجاتا ہے حدیث میں ہے (9) من ذبح قبل صلوتنا ھذہ فلیعد کہ جس نے نما زعید سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کردیا وہ دوبارہ قربانی دے ۔ ضحی کے معنی میں متعدد اقوال ہیں۔ (1) طلوع کے وقت آفتاب کی روشنی۔ ( مجاہد، کلبی) (2) ضحی سے مراد پورا دن ہے۔ ( قتادہ) (3) ضحی سے سورج کی گرمی مراد ہے۔ ( مقاتل) (4) قاموس میں ہے ضحیۃ بروزن عشیۃ دن چڑھ جانا۔ ضحی بغیر مدہ کے اور ضحا مدہ کے ساتھ قریب دوپہر۔
(1 ۔ 6) قسم ہے سورج کی روشنی اور پہلی رات کے چاند کی جب سورج کے غروب ہونے کے بعد آئے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے، اور رات کی جب وہ دن کی روشنی کو ختم کردے اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پیدا کیا، اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پانی پر بچھایا۔
1 The word duha as used in the original applies both to the light of the sun and to its heat. Although in Arabic its well known meaning is the time between sunrise and meridian when the sun has risen high, at that height it does not only give light but heat too. Therefore, when the word duha is attributed to the sun, its full meaning can be expressed more appropriately by its radiant brightness than by its light, or by the time of the day that it indicates.
سورة الشَّمْس حاشیہ نمبر :1 اصل میں لفظ ضحی استعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی اور اس کی حرارت ، دونوں پر دلالت کرتا ہے ۔ اگرچہ عربی زبان میں اس کے معروف معنی چاشت کے وقت کے ہیں جبکہ سورج طلوع ہونے کے بعد خاصا بلند ہو جاتا ہے ۔ لیکن جب سورج چڑھتا ہے تو صرف روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ گرمی بھی دیتا ہے ، اس لیے ضحی کا لفظ جب سورج کی طرف منسوب ہو تو اس کا پورا مفہوم اس کی روشنی ، یا اس کی بدولت نکلنے والے دن کے بجائے اس کی دھوپ ہی سے زیادہ صحیح طور پر ادا ہوتا ہے ۔
1: سورج کو عربی میں ’’شمس‘‘ کہتے ہیں، اور اِسی کے نام پر اس سورت کا نام سورۃ الشمس ہے۔ سورت میں اصل مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہر اِنسان کے دِل میں نیکی اور بدی دونوں قسم کے تقاضے پیدا فرمائے ہیں، اب اِنسان کا کام یہ ہے کہ وہ نیکی کے تقاضوں پر عمل کرے، اور بُرائی سے اپنے آپ کو روکے۔ یہ بات کہنے کے لئے اﷲ تعالیٰ نے سورج، چاند اور دن اور رات کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس میں شاید اشارہ ہے کہ جس طرح اﷲ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی روشنی بھی پیدا کی ہے، اور رات کا اندھیرا بھی، اسی طرح اِنسان کو نیکی کے کاموں کی بھی صلاحیت دی ہے، اور بدی کے کاموں کی بھی۔
١۔ ١٠۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے اس آیت کی تفسیر اور طرح بھی کی ہے لیکن صحیح ١ ؎ مسلم اور مسند امام احمد کی حضرت عمران بن حصین کی روایت میں خود صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو اس آیت کی تفسیر کی ہے اس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے اس واسطے جن مفسروں نے اس صحیح حدیث کے موافق تفسیر کی ہے وہی صحیح ہے۔ صحیح ٢ ؎ مسلم مسند امام احمد نسائی مصنف ابن ابی شیبہ کی حضرت زید بن ارقم کی اور مسند امام احمد کی حضرت عائشہ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ تو میرے دل کو پرہیزگاری کی خواہش نصیب کر اور میرے دل کو بری خواہش سے پاک کر دے یا اللہ تجھ سے بہتر کوئی انسان کے دل کا پاک کرنے والا نہیں ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دعا بھی اس آیت کی اسی تفسیر کے موافق ہے جو تفسیر اوپر بیان کی گئی ہے ان آیتوں اور حدیثوں سے اگرچہ بعض علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ ہر ایک شخص کے نیک و بدعمل دیکھ کر دنیا میں ہی یقینی طور پر جنتی اور دوزخی کو پہچانا جاسکتا ہے لیکن صحیح قول یہی ہے کہ نیک عمل ایک ظاہری علامت نیک ہونے کی ہے۔ رہیں یہ باطنی باتیں کہ کس شخص کا خاتمہ نیک ہوگا اور کونسا عمل ریا سے پاک ہونے اور نیت کے خالص ہونے اور شریعت کے قاعدہ کے موافق صحیح ہونے کے سبب سے بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوگیا اور کونسا عمل مقبول نہیں ہوا۔ اس کا علم اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب قضاء و قدر کا مسئلہ صحابہ کے رو برو بیان فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا تھا کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب جنتی اور دوزخی پہلے ہی قرار پا چکے تو اب ہم نیک عمل کیوں کریں جس فریق میں ہماری گنتی ہوچکی ہے اسی فریق میں ہمارا انجام ہوجائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں تم نیک عمل کی کوشش کرتے جاؤجس انجام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک شخص کو پیدا کیا ہے وہ خواہ مخواہ اسی ڈھنگ پر لگ جاتا ہے حاصل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جواب کا یہ ہے کہ بندہ کو بندگی کرنی چاہئے تاکہ سرکشی نہ ثابت ہو رہی یہ بات کہ وہ بندگی مولا کی مرضی کے موافق ہے یا اس بندگی کے ظہور میں آنے سے پہلے مولا نے جن بعض غلاموں کو اپنے ایک اندازہ سے فرمانبردار غلاموں میں لکھ لیاہو ‘ وہ کون سے غلام ہیں اس کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے جو آدمی کے قیاس سے باہر ایک بات ہے پھر ایسی قیاس سے باہر ایک بات کی بنیاد پر جو بندہ اپنے آگا کی بندگی چھوڑے گا وہ فرمانبردار غلام کیونکر کہلا سکتا ہے ہاں ظاہری چند روزہ فرمانبرداروں اور مرتے دم کے فرمانبرداروں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اندازہ سے جان لیا ہے اس لئے آخر کو ہر شخص اسی اندازہ کے ڈھنگ سے جا لگتا ہے اور یہ ڈھنگ ایک غیب کی بات ہے بغیر آخری وقت کے ظہور میں نہیں آسکتی۔
(91:1) والشمس وضحھا۔ واؤ قسمیہ، الشمس مقسم بہ۔ قم ہے آفتاب کی۔ واؤ قسمیہ ضحھا مضاف مضاف الیہ مل کر مقسم بہٖ ۔ ضحی کے معنی میں متعدد اقوال ہیں۔ (1) طلوع کے وقت آفتاب کی روشنی۔ (مجاہد، کلبی) (2) ضحی سے مراد پورا دن ہے۔ (قتادہ) (3) ضحی سے سورج کی گرمی مراد ہے۔ (مقاتل) (4) قاموس میں ہے ضحیۃ بروزن عشیۃ دن چڑھ جانا۔ ضحی بغیر مدہ کے اور ضحا مدہ کے ساتھ قریب دوپہر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الشمس کی طرف راجع ہے۔ قسم ہے آفتاب کی اور اس کی روشنی کی۔
سورة الشمس۔ آیات ١٥١ اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی کی تمیز ، پھر راہنمائی یہ اتنا وسیع نظام اپنے ہر ہر پہلو میں اس بات پہ گواہ ہے کہ جس نے نور ایمان ، ذکر الٰہی ، عبادت اور اطاعت سے اپنے آپ کو بری عادات اور برے کردار سے پاک کرلیا اور محبت و اطاعت الٰہی اور اتباع نبوی سے اپنا آپ سنوار لیا اور وہ کامیاب وکامران ہوا اور جس نے خود کو نافرمانی کی دلدل میں دھنسا دیاتباہ ہوگیا اس کی مثالیں دنیا میں بھی موجود ہیں گوآخرت کی تباہی تو یقینی ہے مگر ثمود کو صالح (علیہ السلام) کی قوم کو دیکھ لو جنہوں نے صالح (علیہ السلام) کی بات ماننے سے انکار کردیا اور اپنی شرارت ، اپناغیرعادلانہ اور ظالمانہ رویہ جاری رکھا پھر جب ان میں سے ایک بدبخت آگے لگا اور دوسروں کو ساتھ ملاکر اللہ کے نبی کے خلاف محاذ بنالیا اور جب صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ خبردار اللہ نے جو اونٹنی بطور معجزہ ان کے لیے چٹان سے پیدا کردی ہے اسے کچھ مت کہنا اور اس کے پانی کی باری کو مت روکنا کہ اسی بات سے وہ خفا تھے تو انہوں نے ان کی بات نہ مانی اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اسے ہلاک کردیا تو اللہ کا عذاب ان پر آپڑا جیسے باربار برسا اور ان کے گناہوں کے سبب انہیں تباہ وبرباد کردیا اور اللہ ایساعظیم سلطان ہے کہ اسے ان کی ہلاکت سے ذرہ برابر پرواہ نہ ہوئی کہ کوئی ردعمل ہوگا یا کوئی دم مارسکے گا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی اور نبی کریم کا لایا ہوانظام۔ کس قدر باعث عبرت ہے کہ صالح (علیہ السلام) کی معجزاتی اونٹنی جو ایک روز کا ساراپانی پی لیتی تھی اور انہیں شکایت تھی کہ یہ پانی بھی ہمارے مویسی پیاکریں انہوں نے قتل کردی تو تباہ ہوگئے ان لوگوں کا کیا ہوگا جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لایا ہوا معجزاتی نظام روک کربیٹھے ہیں کہ یہ توہرفرد کو اس کا حق دیتا ہے تو ہم کیسے عیش کرسکیں گے۔ (فاعتبروایا اولوالابصار) ۔
لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر کرکے سچائی تک پہنچ سکے۔ اس سورت میں سات مختلف اور ایک دسرے کے مقابل چیزوں کی قسمکھا کر بتایا گیا ہے کہ جب دو چیزیں جو ایک دوسرے کی ضد میں ایک جیسی نہیں ہیں تو نیکی اور برائی کا انجام ایک جیسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ دھوپ اور چھاؤں، روشنی اور اندھیرا، رات اور دن، آسمان اور زمین، خیر اور شر جب دونوں ایک جیسے نہیں ہیں تو کامیاب اور ناکام، اطاعت گزار اور نافرمان، جنتی اور جہنمی ایک جیسے کیسے ہوسکتے ہیں اور دونوں کا انجام ایک جیسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ سورۃ التمش میں سات چیزوں کی قسم کھا کر اس بات کو ایک نئے اور اچھوتے انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ جس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ جیسے یہ ناممکن ہے کہ سورج ہو اور اس کی دھوپ نہ ہو، چاند ہو اور وہ سورج کے بعد نہ آئے، دن ہو اور روشن نہ ہو، رات ہو اور تاریک نہ ہو، زمین ہو اور پست نہ ہو، نفس ہو اور خیر و شر کا مجموعہ نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ جس نے اپنا تزکیہ کرلیا (صفائی و پاکی حاصل کرلی ہو) وہ کامیاب نہ ہوا اور جس نے اپنے نفس کو (خواہشوں اور بےجا تمناؤں کے نیچے) دبا لیا ہو وہ ناکام نہ ہو۔ قوم ثمود جو نافرمانیوں میں حد سے باہر نکل گئی تھی۔ ایک ظالم شخص نے قوم کی رضا مندی کے مطابق جب اس اونٹنی کو ذبح کردیا جو ان کے مطالبے پر معجزہ کے طور پر عطا کی گئی تھی جب کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کہتے رہے گئے کہ دیکھو یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے تمہیں دی گئی ہے اس کو اپنی باری پر پانی پینے سے مت روکو ورنہ اللہ کا عذاب نازل ہوجائے گا۔ مگر پوری قوم نے حضرت صالح کی بات ماننے سے انکار کردیا اور انہوں نے اونٹنی کو ذبح کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کی اتنی ترقی یافتہ، خوش حال اور پہاڑوں کی تراش کو عظیم الشان اور بےمثال بلڈنگیں بنانے والی قوم جس نے اپنے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) کی بات نہ مان کر اپنے تزکیہ نفس سے غفلت برتی اس طرح دنیا سے مٹ گئی کہ آج نہ ان کی دولت رہی نہ تہذیب و تمدن اور ان کے چھوڑے ہوئے کھنڈرات عبرت کا نشان بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر وہ قوم اپنے پیغمبر کی بات مان کر اپنے دلوں کو پاک صاف کرلیتی یعنی تزکیہ نفس کرلیتی تو اللہ اس سے زیادہ ان کو دنیا کی دولت عطا کردیتا اور قیامت کے دن ان کو سرخ رو کرتا مگر اس قوم نے اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کرلیا۔ یہ سورت اگر چہ بہت مختصر ہے مگر توحید اور آخرت کی پوری دعوت اور اس کو نہ ماننے کے نتائج کو اس میں پوری طرح سمیٹ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا تزکیہ نفس کرنے اور دین پرچلنے کو آسان فرما دے اور ہمارا انجام بخیر فرمائے۔ آمین۔
فہم القرآن ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔ سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی اور بدی کا القا کردیا ہے۔ نفس میں برائی اور نیکی کا القا فرما کر یہ احساس بخشا کہ اے انسان ! تجھے نیک کام کرنے اور برائی سے بچنے کی کوشش کرنا ہے اور یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ اگر نیکی کرے گا تو اس کا اجر پائے گا اور اگر برائی کرے گا تو اس کی سزا پائے گا۔ یقیناً وہ شخص کامیاب ہوگا جس نے اپنے آپ کو فسق وفجور اور کفر و شرک سے پاک کرلیا اور وہ شخص ہر صورت ناکام ہوگا جس نے اپنے نفس کو خاک آلود کرلیا، خاک آلود کرنا ہر زبان میں ایک محاورہ ہے جس کا معنٰی گھٹیا کاموں میں ملوث ہونا اور اپنے آپ کو اخلاقی اعتبار سے گرانا ہے۔ جو شخص گھٹیا کاموں میں ملوث ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو ذلیل کرلیتا ہے اور جو شخص اپنے آپ کو برے کاموں سے بچاتا ہے وہ معزز بن جاتا ہے اور وہی کامیاب ہوگا۔ آیت پانچ، چھ اور سات میں ” مَا “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے کچھ اہل علم کو یہ مغالطہ پیش آیا کہ ” مَا “ کا لفظ ذوالعقول کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ ان آیات میں ” مَا “ مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور ” مَا “ بمعنی ” مَنْ “ بھی ہوسکتا ہے۔ امام حسن بصری اور مجاہد (رح) کا فرمان ہے کہ ” مَا “ بمعنی ” مَنْ “ ہے۔ رہا یہ شبہ کہ ” مَا “ کا استعمال بےجان مخلوق اور غیر عاقل اشیاء کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں ” مَا “ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کیسے مراد لی جاسکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں ” مَا “ بکثرت ” مَنْ “ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً (وَلاَ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ ) (الکافرون : ٣) ” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ “ (فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ ) (النساء : ٣) ” پس عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرلو۔ “ (وَ لَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ ) (النساء : ٢٢) ” اور جن عورتوں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرو۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی قدرت کی گیارہ نشانیاں بیان کرتے ہوئے ان کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں برائی اور نیکی کا القاء فرمایا ہے۔ دل میں برائی اور نیکی کے القاء کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دل میں نیکی اور برائی کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا کی ہے بشرطیکہ اس کا دل روحانی طور پر زندہ ہو اگر دل گناہوں کی وجہ سے مردہ ہوجائے تو اس میں نیکی اور برائی کے درمیان فرق کرنے والی قوت بھی دب جاتی ہے جس بنا پر مجرمانہ دل رکھنے والا انسان گناہ اور برائی میں تمیز کرنے سے محروم ہوجاتا ہے تاہم پھر بھی کبھی نہ کبھی اس کا دل اس برائی سے نفرت کا اظہار ضرور کرتا ہے۔ (اَلْإِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ أَنْ یَّطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ ) (رواہ مسلم : باب تفسیر البر والإثم) ” گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کو اس کا علم ہونا پر تجھے ناگوار گزرے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے گیارہ قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا کہ اس نے انسان کے دل میں برائی اور نیکی کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت القاء فرمائی ہے۔ ٢۔ جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگا اور جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے آلودہ کرلیا وہ تباہ ہوجائے گا۔
والشمس وضحہا .................................... من دسھا یہاں اللہ تعالیٰ جس طرح بعض کائناتی مخلوق اور بعض مظاہر کی قسم اٹھاتا ہے ، اسی طرح نفس انسانی کی تخلیق اور متناسب بنانے اور اسے اچھی طرح ہموار کرنے اور نیک وبد کے الہام کی قسم اٹھاتا ہے۔ اور اس قسم اٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ مخلوقات خدا اہم بن جائیں ، لوگ ان کو اہمیت دیں اور ان چیزوں پر غور وفکر کرکے معلوم کرلیں کہ ان کی اہمیت اور قدر و قیمت کیا ہے اور ان چیزوں کے اشارات کیا ہیں ، ان میں نشانات قدرت کیا ہیں تاکہ وہ یہ بات سمجھ لیں کہ کن وجوہات سے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کھائی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان کے دل اور ان مناظر فطرت کے درمیان ایک مکالمہ ہوتا ہے ، ان دونوں کے درمیا ایک خاص خفیہ زبان ہے ، یہ زبان گہرے انسانی شعور اور انسانی فطرت کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ ان مناظر کے درمیان ، خواہ وہ جیسے بھی ہوں ، اور انسانی فطرت اور شعور کے درمیان ایک گہری ہم آہنگی بھی ہے ، دونوں کے درمیان مکالمہ ہوتا رہتا ہے ، بغیر اس کے کہ کوئی آواز نکلے یا ریکارڈ پر کوئی سوئی لگائی جائے ۔ یہ مناظر دل سے بات کرتے ہیں اور انسانی روح کی طرف ان کے اشارات ہوتے ہیں ، اور ان کے اندر ایک ایسی زندگی رواں دواں ہے ، جو ایک زندہ انسان کے ساتھ مانوس اور ہمکلام ہے۔ جب بھی ایک زندہ انسان ان مناظر سے دوچار ہو ، تو ان مناظر میں اپنے لئے محبت اور انس کے جذبات جانے گا اور یہ مناظر نہایت ہی ہم آہنگی کے ساتھ اس کے ہمقدم ہوں گے اور اپنا پیغام اسے اپنی مخصوص زبان میں سگنل کردیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید بڑی کثرت سے ، مختلف اسالیب کے ذریعہ کائناتی مشاہد کی طرف انسان کی توجہ مبذول کراتا ہے اور اس سلسلے میں کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ، کبھی تو قرآن مجید براہ راست یہ ہدایت دیتا ہے کہ ان مناظر فطرت پر غور کرو اور کبھی ضمنی اشارات کے ذریعہ جیسا کہ یہاں بعض تخلیقات اور بعض مناظر کی قسم اٹھا کر ان کی طرف یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ مناظر بھی آنے والے حقائق کے فریم ورک کے اندر ہی ہیں اور اس آخری پارے میں ہم نے اس بات کو بار بار نوٹ کیا ہے کہ اس قسم کی ہدایات اور اشارات بہت زیادہ ہیں۔ کوئی ایسی سورت نہیں ہے جس میں یہ ہدایت اور یہ اشارہ نہ ہو کہ ذرا کتاب کائنات کو پڑھو اور اس کائنات میں ہم آہنگی اور اشارات تلاش کرو ، اور اس کائنات کے ساتھ اس کی مخصوص زبان میں مکالمہ کرو اور اس کے استدلال کو سنو۔ والشمس وضحھا (1:91) ” سورج اور اس کی دھوپ کی قسم “۔ یہاں سورج اور اس کے وقت ضحی اور چاشت اور دھوپ نکلنے کی قسم کھائی گئی ہے۔ جب سورج نکلتا ہے اور اس کی دھوپ مکمل پھیل جاتی ہے تو اس وقت وہ نہایت ہی خوبصورت اور نہایت ہی اچھا بلکہ خوشگوار اور میٹھا ہوتا ہے اور سردیوں میں تو لوگ اس وقت دھوپ میں گرمی حاصل کرتے ہیں اور یہ وقت نہایت خوشگواری کا ہوتا ہے ، اور گرمیوں میں بھی یہ اشراق کا وقت ہوتا ہے ، خوبصورت ہوتا ہے اور دوپہر کی سخت گرمی سے قبل کا وقت ہوتا ہے ، غرض چاشت کے وقت سورج اپنے مکمل حسن کے ساتھ جلوہ افروز ہوتا ہے ۔ بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ یہاں چاشت کے وقت سے مراد پورا دن ہے ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ” ضحی “ کے وقت اور لفظی مفہوم سے آگے بڑھ کر ہم کیوں پورا دن مراد لیں ، کیونکہ چاشت کے وقت میں حسن اور خوشگواری کے زیادہ اشارات ہیں ، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے سورج کی اور اس کی روشنی کی قسم کھائی ہے اور چاند کی بھی قسم کھائی ہے اس میں اِذَا تَلٰىهَا کا بھی اضافہ فرمایا یعنی چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے سے آجائے یعنی سورج غروب ہونے کے بعد طلوع ہوجائے اس سے مہینوں کی درمیان یعنی تیرہ چودہ پندرہ تواریخ کی راتیں مراد ہیں ان راتوں میں جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے چاند نکل آتا ہے اور خوب زیادہ روشن رہتا ہے اور پوری رات اس کی روشنی کامل رہتی ہے جس طرح وضحھا فرما کر آفتاب کی کامل روشنی کی طرف اشارہ فرمایا اسی طرح چاند کے کمال نور کی طرف اِذَا تَلٰىهَا فرما کر اشارہ فرما دیا اس کے بعد دن کی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ٠٠٣﴾ (قسم ہے دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دے) یہ اسناد مجازی ہے چونکہ دن میں آفتاب کی روشنی ہوتی ہے اس لیے روشنی کو دن کی طرف منسوب فرما دیا۔
2:۔ ” والشمس “ ” ضحیٰ “ سے مراد ضوء اور روشنی ہے وضحاھا ای ضوئھا، ” والقمر اذا تلاھا “ ای تبعہا ولحقہا۔ چاند کے سورج کے پیچھے آنے سے مراد یہ ہے کہ سورج کے غروب کے فورا بعد طلوع ہوا یہ چودھویں رات کا چاند ہے۔ یا مراد ہے کہ سورج کے طلوع کے بعد اس کا طلوع ہو یہ مہینے کی ابتدا میں ہوتا ہے۔ ان دنوں میں چاند کا جو حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے وہ بےنور ہوتا ہے اس لیے نظر نہیں آتا یا بہت تھوڑا سا حصہ نظر آتا ہے جو سورج کے بالمقابل ہوتا ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے بقرینہ تقابل لیل ونہار ارض و سماء دوسرے مفہوم کو ترجیح دی ہے اسی طرح نفس کی دونوں حالتوں فجور وتقوی کا ذکر بھی قرینہ مرجحہ ہے۔ سورج کی روشنی اور چاند کا مذکورہ وقت میں بےنور ہونا شاہد ہے کہ کہ نفس زکیہ اور نفس خبیثہ برابر نہیں۔