Surat us Shams
Surah: 91
Verse: 6
سورة الشمس
وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا طَحٰہَا ۪ۙ﴿۶﴾
And [by] the earth and He who spread it
قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے کی ۔
وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا طَحٰہَا ۪ۙ﴿۶﴾
And [by] the earth and He who spread it
قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے کی ۔
By the earth and Ma Tahaha. Mujahid said, "Tahaha means He spread it out." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas that he said, وَمَا طَحَـهَا (and Ma Tahaha.), "This means what He created in it." ` Ali bin Abi Talhah reported from Ibn Abbas that he said, "Tahaha means that He proportioned it." Mujahid, Qatadah, Ad-Dahhak, As-Suddi, Ath-Thawri, Abu Salih and Ibn Zayd all said that طَحَـهَا (Tahaha) means, He spread it out. Allah then says, وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا
[٦] یعنی زمین کو اس طرح پھیلا دیا کہ وہ مخلوق کی بودو باش کے قابل بن جائے۔ انہیں کھانے کو رزق بھی فراہم ہوتا رہے اور رہائش بھی۔ آیت نمبر ٥ کی طرح اس کے بھی دونوں مطلب ہوسکتے ہیں۔
والارض وما طحھا :” طحا یطحو طحوا “ (ن) اور ”’ حا یدحو دحوا “ (ن) کا ایک ہی معنی ہے، بچھانا۔ اور زمین کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا !
The sixth oath is: وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا (and by the earth, and the One who spread it...91:6). The ma in this phrase too stands for masdariyyah or infinitival particle, signifying &by the earth and its expanse&. The word tahwun means &to spread&. Thus in the two verses above attention has been focused on the great Designer and Architect of the sky and earth [ that is, the universe ], and on the perfection and complete freedom from flaw or defect in the design and creation of the universe. Sayyidna Qatadah and others reported this interpretation. Kashshaf, Baidawi and Qurtubi preferred this interpretation. Some of the commentators have taken ma in the sense of man &the One Who& and refer it to &Allah&, signifying &by the sky and its Maker and by the earth and One who spreads it. Thus far, all the oaths were taken by the created objects and phenomena. In between is taken oath by Allah. And Allah knows best! The seventh oath is taken thus:
اسی طرح چھٹی قسم والارض وما طحھا میں بمعنے مصدر لے کر ترجمہ یہ ہوا کہ قسم ہے زمین اور اسکے بچھانے پھیلانے کی، کیونکہ طحو مصدر کے معنے بچھانے پھیلانے کے آتے ہیں۔ اس میں آسمان کے ساتھ بنانیکا اور زمین کے ساتھ بچھانے پھیلانے کا ذکر بھی اسی حالت کمال کو بتلانے کے لئے ہے کہ قسم ہے آسمان کی اس حالت میں جبکہ اس کی تخلیق وتکوین مکمل ہوگئی، اور قسم ہے زمین کی جبکہ اس کو پھیلا کر اس کی تخلیق مکمل کردی گئی۔ حضرت قتادہ وغیرہ سے یہی تفسیر منقول ہے۔ کشاف اور یبضاوی و قرطبی نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ صرف ما کو بمعنے من لے کر اس کی مراد حق تعالیٰ کی ذات لی ہے کہ قسم ہے آسمان کی اور اسکے بنانے والے کی، اسی طرح والارض وما طحھا، کا مفہوم یہ بیان کیا گیا کہ قسم ہے زمین اور اس کے پھیلانے والے کی۔ مگر یہاں جتنی قسمیں اب تک مذکور ہوئیں اور جو آگے آرہی ہیں وہ سب مخلوقات کی قسمیں ہیں، درمیان میں ذات حق کی قسم آجانا نسق اور ترتیب سے بعید معلوم ہوتا ہے اور اس صورت میں جو اوپر لکھی گئی ہے یہ اشکال بھی نہیں لازم آتا کہ مخلوقات کی قسم کو ذات خالق پر مقدم کیوں بیان کیا گیا۔ واللہ اعلم
وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰىہَا ٦ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ طحا الطَّحْوُ : کالدّحو، وهو بسط الشیء والذّهاب به . قال تعالی: وَالْأَرْضِ وَما طَحاها [ الشمس/ 6] ، قال الشاعر : طَحَا بک قلب في الحسان طروب أي : ذهب . ( ط ح وی ) طحو اور دحو دونوں ہم معنی ہیں اور ( ان کی معنی کسی چیز کو پھیلانے اور لے جانیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَالْأَرْضِ وَما طَحاها[ الشمس/ 6] اور قسم زمین اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل) (290) طحابک قلب فی الحسان طروب تجھے حسن پرست دل کہاں سے کہاں لے گیا ۔
آیت ٦{ وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰٹہَا ۔ } ” اور قسم ہے زمین کی اور جیسا کہ اسے بچھا دیا۔ “ نوٹ کیجیے ! یہ تمام قسمیں جوڑوں کی صورت میں آئی ہیں۔ پہلے سورج اور چاند کا ‘ پھر دن اور رات کا اور اب آسمان اور زمین کا ذکر ہوا۔ ان ظاہری تضادات کی مثالوں سے دراصل نفس انسانی کے روشن اور تاریک پہلوئوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جس طرح کائنات میں ہر جگہ تم لوگوں کو تضادات نظر آتے ہیں ‘ سورج ہے تو اس کے ساتھ چاند ہے ‘ اندھیرا ہے تو اس کے ساتھ اجالا ہے ‘ بلندی ہے تو اس کے ساتھ پستی ہے ‘ اسی طرح انسان کی ذات یا شخصیت کے بھی دو رُخ ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں تو تمام انسان ایک جیسے نظر آتے ہیں ‘ لیکن حقیقت میں یہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی حیوانی اور نفسانی خواہشات کے راستے پر چل رہا ہے تو کسی نے اپنے نفس کا تزکیہ کر کے فلاح کی منزل حاصل کرلی ہے۔
(91:6) والارض وما طحھا : واؤ قسمیہ، واؤ ثانی قسمیہ یا عاطفہ۔ ما مصدریہ یا موصولہ۔ طحی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ طحی وطحو (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھیلانا۔ امام رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے :۔ اللیث نے کہا ہے کہ طحو۔ دحو کے ہم معنی ہے جس کے معنی بسط یعنی پھیلانے کے ہیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الارض ہے۔ ترجمہ :۔ (بصورت ما مصدریہ) اور قسم ہے زمین کی اور اس کی فراخی اور کشائش کی۔ (یعنی کیا ہی اس میں وسعت اور کشائس رکھی ہے) ۔ ترجمہ :۔ (بصورت ما موصولہ) اور قسم ہے زمین کی اور اس کی جس نے اس کو وسعت بخشی فراخ و کشادہ بنایا۔
والارض وما طحھا (6:91) ” اور زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم “۔ طحی الطحو سے ہے جس کے معنی بچھانے کے ہیں ، جس طرح الدحو کا مفہوم ہے بچھانا ، اور زندگی کے لئے ہموار کرنا۔ اور یہ ایک عظیم اور نمایاں حقیقت ہے جس کے اوپر انسانوں اور تمام حیوانوں کی زندگی کا دارومدار ہے۔ آسمان و زمین کے اندر اللہ نے جو ہم آہنگی پیدا فرمائی ہے ، یہ اسی کی برکت ہے جس کی وجہ سے یہاں زندگی ممکن ہوئی اور یہ سب کام صرف اللہ کے تدبیر اور اندازوں کی وجہ سے ہوا ۔ ہمارے لئے یہی واضح اور ظاہری حقیقت کافی ہے کہ اگر ان خصائص اور ہم آہنگیوں میں سے کوئی چیز بھی خلل پذیر ہوجائے تو نہ اس زمین میں زندگی کا وجود ہوتا اور نہ یہ زندگی اس انداز پر چلتی۔ زمین کا ” الطحو “ جو یہاں استعمال ہوا ہے یا ” الدحو “ جو سورة نازعات (31:30) میں استعمال ہوا ہے۔ والارض ................................ ومرعھا (31:79) ” زمین کو اس کے بعد بچھایا اور اس کا پانی اور اس میں سے نباتات نکالی “۔ دونوں مفہوم بچھانا ہے اور یہ بچھانا ان خصائص اور ہم آہنگیوں میں سے بڑی ہم آہنگی ہے۔ اور یہ صرت دست قدرت کا کارنامہ ہے۔ یہاں اس بچھانے کا ذکر کرکے اشارہ قدرت الٰہیہ کی طرف ہے اور قلب انسانی کو اس بات پر اکسایا جاتا ہے کہ ذرا اس پر غور کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ ان قسموں اور ان کے اندر پائے جانے والے مظاہر کائنات اور مناظر فطرت کے بعد اب نفس انسانی کے عظیم حقائق پیش کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کائنات کے عجائبات میں یہ عظیم ترعجوبہ ہے۔ جو اس زمین و آسمان کی ان ہم آہنگیوں کی وجہ سے قائم ہے۔