Surat uz Dhuha

Surah: 93

Verse: 10

سورة الضحى

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾

And as for the petitioner, do not repel [him].

اور نہ سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And repulse not the one who asks. meaning, `just as you were astray and Allah guided you, then do not scorn the one who asks for knowledge seeking to be guided.' Ibn Ishaq said, وَأَمَّا السَّأيِلَ فَلَ تَنْهَرْ (And repulse not the one who asks). "This means do not be oppressive, arrogant, wicked, or mean to the weak among Allah's servants." Qatadah said, "This means respond to the poor with mercy and gentleness." وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 یعنی اس سے سختی اور تکبر نہ کر، نہ درشت اور تلخ لہجہ اختیار کر، بلکہ جواب بھی دینا ہو تو پیار اور محبت سے دو ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] سائل سے نرم برتاؤ :۔ سائل کا معنی کوئی چیز مانگنے والا بھی ہے اور کوئی بات پوچھنے والا بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے یہ مطلب ہے کہ اگر تم سے کوئی چیز مانگنے والا آئے تو اسے کچھ نہ کچھ ضرور دے دو اور دینے کو کچھ نہ ہو تو نرمی سے معذرت کردو۔ یعنی سائل کو جھڑک دینا جائز نہیں۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ ١۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب کوئی سائل آتا یا کوئی شخص اپنی حاجت بیان کرتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ سے فرماتے کہ تم بھی سفارش کرو۔ تمہیں اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی زبان سے جو چاہے گا حکم دے گا۔ (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعۃ فیھا) ٢۔ عبدالرحمن بن بجید اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ && بعض دفعہ کوئی سائل میرے دروازے پر آن کھڑا ہوتا ہے جسے میرے پاس دینے کو کچھ نہیں ہوتا تو میں کیا کروں ؟ && آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : && اگر تم فقیر کو دینے کے لیے بکری کے ایک جلے ہوئے کھر کے سوا کچھ نہ پاؤ تو وہی اس کے ہاتھ میں رکھ دو && (ترمذی۔ ابو اب الزکوٰۃ، باب ماجاء فی حق السائل) ٣۔ ایک دفعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : && کیا میں تمہیں ایسے آدمی کی خبر نہ دوں جو سب سے بدتر ہے ؟ && صحابہ نے عرض کیا : && ہاں بتائیے && فرمایا : && وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ کچھ نہ دے && (نسائی۔ کتاب الزکٰوۃ، عمن یسئل باللٰہ عزوجل ولایعطی بہ) خ عادی سائل کو جھڑکنے میں مضائقہ نہیں :۔ البتہ اگر مانگنے والا عادی سائل ہو اور چمٹ کر سوال کرنے والا ہو تو اسے جھڑکنے میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے سائلوں کو بھی اس آیت کی رو سے کچھ نہ کچھ دے ہی دیتے تھے۔ مگر یہ دینا آپ کو سخت ناگوار ہوتا تھا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : ١۔ سیدنا معاویہ کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ سے چمٹ کر سوال نہ کیا کرو۔ جو شخص بھی تم میں سے مجھ سے کوئی سوال کرتا ہے تو میں اسے کچھ نہ کچھ دے دیتا ہوں۔ حالانکہ میں اس کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ اس طرح اس چیز میں برکت نہیں رہتی جو میں اسے دیتا ہوں۔ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب النہی عن المسئلۃ) ٢۔ سیدنا عمر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کا کچھ مال تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کی۔ && یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کی قسم اس کے مستحق تو اور لوگ تھے۔ اس کے جواب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان لوگوں نے دو باتوں میں سے مجھے کسی ایک بات پر مجبور کردیا یا تو بےحیائی اور ڈھٹائی سے مجھ سے مانگیں یا میں ان کے آگے بخیل ٹھہروں اور میں بخل کرنے والا نہیں ہوں && (مسلم، کتاب الزکوۃ۔ باب اعطاء المؤلفۃ۔۔ ) ایسی ہی احادیث سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ غیر مستحق & عادی قسم کے اور چمٹ کر سوال کرنے والوں کو جھڑکنے میں کچھ حرج نہیں۔ اور اگر سائل کے معنی کوئی بات یا مسئلہ پوچھنے والا لیا جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ سوال کرنے والا غیر مہذب، اجڈ قسم کا انسان ہو۔ ایسے شخص کو جھڑکنا نہیں چاہیے بلکہ لاعلمی کو جہالت پر محمول کرتے ہوئے مسئلہ بتادینا اور پوری طرح سمجھا دینا چاہیے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ علم رکھنے والا خود اپنے علم کا زعم اور غرور رکھتا ہو اور اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھتا ہو اور اپنی اسی بدمزاجی پر عام لوگوں کو کوئی سوال کرنے یا مسئلہ پوچھنے پر جواب دینا پسند ہی نہ کرے اور انہیں جھڑک دے۔ یہ بڑے گناہ کی بات ہے اور اس آیت میں اسی چیز سے منع کیا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(واما السآئل فلا تنھر : اسی طرح آپ نے تنگ دستی دیکھی ہے اور اللہ تعالیٰ کا غنی کرنا بھی، ان دونوں کا تقاضا ہے کہ سائل کی ضرورت پوری کرو۔ اگر نہیں کرسکتے تو لطف و کرم سے پیش آؤ، جھڑکی نہ دو اور آپ نے کتاب اور ایمان سے نا واقفی کا زمانہ دیکھا ہے، پھر اللہ نے آپ کو یہ نعمتیں دیں، اب اگر کوئی علم کے متعلق سوال کرے یا کسی چیز کا سوال کرے تو اسے ڈانٹنا ہرگز نہیں ! بلکہ کوئی علم کا طالب ہو یا ملا کا، اس سے حسن خلق کے ساتھ پیش ائٓیں، اس کی حاجت پوری کریں یا اچھے طریقے سے عذر پیش کردیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Injunction [ 2] وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ‌ (and as for the beggar, do not scold him....93:10). The verb tanhar is derived from nahr which means &to scold&. The word sa&il means &one who asks&. It includes a person who asks people&s wealth, that is, a beggar, and it also includes the one who asks a question of knowledge, that is, an academic investigator. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has forbidden to berate either of them. The best course of action is to give the beggar something. If one is unable to give a beggar anything, one should at least apologise to him politely [ so as not to give him any further grief ]. Likewise, anyone who is searching knowledge and asks questions, it is forbidden to respond to him harshly and unkindly. The teacher should reply kindly and politely. However, if the investigator is unreasonable in his approach, it is permissible to scold him to the degree that is necessary.

دوسرا حکم اما السائل فلاتنھر، تنہر، نہر سے مشتق ہے جس کے معنے زجر اور جھڑکنے کے ہیں اور سائل کے معنے سوال کرنے والا، اس میں وہ بھی داخل ہے جو کسی مال کا سوال کرے اور وہ بھی جو علمی تحقیق کا سوال کرے، دونوں کو جھڑکنے ڈانٹنے سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منع فرمایا گیا، بتر یہ ہے کہ سائل کو کچھ دے کر رخصت کرے اور نہیں دے سکتا تو نرمی سے عذر کر دے اسی طرح کسی علمی مسئلہ کا سوال کرنے والے کے جواب میں بھی سختی اور بدخوئی ممنوع ہے نرمی اور شفقت سے جواب دینا چاہئے بجز اس کے کہ سائل کسی طرح مانے ہی نہیں تو بضرورت زجر بھی جائز ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَمَّا السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْہَرْ۝ ١٠ ۭ سَّائِلَ ويعبّر عن الفقیر إذا کان مستدعیا لشیء بالسّائل، نحو : وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَرْ [ الضحی/ 10] ، وقوله : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] . فقیر کو بھی جب وہ کسی چیز کی استدعا کرے تو اسے سائل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَرْ [ الضحی/ 10] اور مانگنے کو جھڑی کی نہ دینا ۔ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] مانگنے والے اور نہ مانگنے والے ۔ نَّهْرُ ) جھڑکنا) والانتهارُ : الزّجر بمغالظة، يقال : نَهَرَهُ وانتهره، قال : فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُما[ الإسراء/ 23] ، وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَرْ [ الضحی/ 10] . النھروالانتھار ۔ سختی سے جھڑکنا ۔ قرآن میں ہے : فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُما[ الإسراء/ 23] تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا ۔ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَرْ [ الضحی/ 10] اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

سائل کو نہ جھڑکو قول باری ہے (واما السائل فلا تنھر۔ اور سائل کو نہ جھڑکو) اس میں سائل کو سخت بات کہنے کی ممانعت ہے کیونکہ انتھار کے معنی جھڑکنے اور سخت بات کہنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے آیت میں سائل کو اچھی بات کہنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے (واما تعرصن عنھم ابتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا فقل لھم قولا میسورا۔ اور اگر ان سے (یعنی حاجتمند رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کررہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو ) اگرچہ آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے لیکن اس سے تمام مکلفین مراد ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠{ وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ ۔ } ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔ “ ایک وقت تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت عطا فرمائی تھی۔ اب اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی سائل اپنی حاجت لے کر آئے تو اس کی حاجت روائی کریں اور اسے جھڑکیں نہیں۔ ظاہر ہے سائل بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کوئی مالی معاونت کے لیے سوال کرتا ہے تو کوئی علم کی تلاش میں لوگوں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 It has two meanings. (1) If sa Ul is taken in the sense of a needy person, who asks for help, it would mean that if you can,, you should help him; if you cannot you should excuse yourself politely, but should never scold him. In this sense the instruction corresponds to Allah's this favour: "You were poor, then Allah enriched you. " And if sa'il is taken in the sense of the one who inquires, i. e. asks for enlightenment on a religious matter or injunction, it would mean that even if such a person be extremely ignorant and ill-mannered and might put the question, or present his problem, impolitely, you should in any case answer him politely and kindly, and should not turn him away like the rude people proud of their knowledge. In this meaning, the instruction corresponds to Allah's this favour: "You were unaware of the Way, then he guided you." Hadrat Abud-Darda`, Hasan Basri, Sufyan Thauri and some other scholars have preferred this second meaning, for in view of the order and sequence this instruction corresponds to: wa wajadaka daalllan fa hada.

سورة الضُّحٰی حاشیہ نمبر :10 اس کے دو معنی ہیں اگر سائل کو مدد مانگنے والے حاجت کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مدد کر سکتے ہو تو کر دو ، نہ کر سکتے ہو تو نرمی کے ساتھ معذرت کر دو ، مگر بہرحال اسے جھڑکو نہیں ۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ ہدایت اللہ تعالی کے اس احسان کے جواب میں ہے کہ تم نادار تھے پھر اس نے تمہیں مالدار کر دیا ۔ اور اگر سائل کو پوچھنے والے ، یعنی دین کا کوئی مسئلہ یا حکم دریافت کرنے والے کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص خواہ کیسا ہی جاہل اور ا جڈ ہو ، اور بظاہر خواہ کتنے ہی نامعقول طریقے سے سوال کرے یا اپنے ذہن کی الجھن پیش کرے ، بہرحال شفقت کے ساتھ اسے جواب دو اور علم کا زعم رکھنے والے بد مزاج لوگوں کی طرح اسے جھڑک کر دور نہ بھگا دو ۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ ارشاد اللہ تعالی کے اس احسان کے جواب میں ہے کہ تم ناواقف راہ تھے پھر اس نے تمہیں ہدایت بخشی ۔ حضرت ابو الدردا ، حسن بصری ، سفیان ثوری اور بعض دوسرے بزرگوں نے اسی دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ ترتیب کلام کے لحاظ سے یہ ارشاد وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ کے جواب میں آتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: سوال کرنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہوسکتا ہے جو مالی مدد چاہتا ہو، اور وہ بھی جو حق طلبی کے ساتھ دین کے بارے میں کوئی سوال کرنا چاہتا ہو۔ دونوں کو جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو نرمی سے معذرت کرلینی چاہئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی ہو سکے تو کچھ دے دو اور نہ ہو سکے تو کشادہ روئی اور نرمی سے جواب دے دو ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ٠٠١٠﴾ (اور سوال کرنے والے کو مت جھڑکیے) جس طرح یتیم بچہ بےیارو مددگار ہوتا ہے اس کے لیے رحمت اور شفقت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بعض مرتبہ غیر یتیم بھی حاجت مند ہوجاتا ہے اور حاجت مندی اسے سوال کرنے پر مجبور کردیتی ہے جب کوئی سوال کرنے آئے تو اسے کچھ دیکر خوش کر کے رخصت کیا جائے اگر اپنے پاس کچھ دینے کے لیے نہ ہو تو کم از کم اس سے نرمی سے بات کرلیں تاکہ اس تکلیف پر اضافہ نہ ہو جس نے سوال کرنے پر مجبور کیا، سائل جو جھڑکنا ظلم و زیادتی کی بات ہے ایک تو اس کو کچھ دیا نہیں اور پھر اوپر سے جھڑک دیا، یہ اہل ایمان کی شان کے خلاف ہے۔ ایک حدیث میں یہ ارشاد ہے : ردوا السائل ولو بظلف محرق (سوال کرنے والے کو کچھ دیکر واپس کیا کرو اگرچہ جلا ہوا کھر ہی ہو) ۔ بہت سے پیشہ ور سائل ہوتے ہیں جو حقیقت میں محتاج نہیں ہوتے، ایسے لوگوں کو سوال نہیں کرنا چاہیے ہر شخص کو اپنی اپنی ذمہ داری بتادی گئی۔ مانگنے والا مانگنے سے پرہیز کرے اور جس سے مانگا جائے وہ سائل کی مجبوری دیکھ کر خرچ کر دے سائل کو جھڑکے بھی نہیں کیا معلوم مستحق بھی ہو اور غور و فکر بھی کرے حاجت مندوں کو تلاش بھی کرے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اور آپ مانگنے والے کو نہ جھڑکیے یعنی جیسا ہم نے آپ کو یتیمی پر آپ کے ساتھ مہربانی اور شفقت کی آپ بھی اس کے شکر میں یتیم پر کوئی بےجا دبائو نہ ڈالیے جس طرح ہم نے تم کو ٹھکانا دیا آپ بھی ٹھکانا دیجئے یہ مکارم اخلاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وصف اور اس کے اخلاق کو اختیار کیا جائے۔ تخلقوا ب اخلاق اللہ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سے وہ گھر بہتر ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کا جاتا ہو اور تمام گھروں میں سے وہ گھر بدترین ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہو نیز سائل کو نہ جھڑکیے کیونکہ ہم نے آپ کو فقر کو دیکھ کر آپ کو غنی کیا اس کا شکریہ ہے کہ آپ بھی سائل کو بلاوجہ نہ جھڑکیے۔ سائل کا زجر ممنوع ہے مگر یہ کہ کوئی سائل اڑ جائے اور جانے کا نام نہ لے جیسا کہ آج کل اکثر سائل اس کے عادی ہیں اور الحاف ان کی عادت میں داخل ہے اور ایسا تنگ کرتے ہیں کہ ان سے پیچھا چھڑانامشکل ہوجاتا ہے تو ایسے سائل کے زجر کی رخصت (کما قال صاحب الرح)