Surat uz Dhuha

Surah: 93

Verse: 11

سورة الضحى

وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿۱۱﴾٪  18

But as for the favor of your Lord, report [it].

اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And proclaim the grace of your Lord. meaning, `just as you were poor and needy, and Allah made you wealthy, then tell about Allah's favor upon you.' Abu Dawud recorded from Abu Hurayrah that the Prophet said, لاَا يَشْكُرُ اللهَ مَنْ لاَا يَشْكُرُ النَّاس Whoever is not thankful to the people, then he is not thankful to Allah. At-Tirmidhi also recorded this Hadith and he said, "Sahih". Abu Dawud recorded from Jabir that the Prophet said, مَنْ أُبْلِيَ بَلَءً فَذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَه Whoever overcomes some test (i.e., calamity) and mentions it (to others), then he is indeed thankful. And whoever conceals it, then indeed he was ungrateful. Abu Dawud was alone in recording this Hadith. This is the end of the Tafsir of Surah Ad-Duha, and unto Allah is due all praise and thanks.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 یعنی اللہ نے تجھ پر جو احسانات کیے ہیں، مثلا ہدایت اور رسالت و نبوت سے نوازا، یتیمی کے باوجود تیری کفالت و سرپرستی کا انتظام کیا، تجھے قناعت و تونگری عطا کی وغیرہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] تحدیثنعمت کا مطلب :۔ کچھ نعمتوں کا ذکر تو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں کردیا۔ ان کے علاوہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ کے بیشمار احسانات تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے ذکر اور اظہار کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تہ دل سے اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔ اور قطعاً یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھ میں کوئی خاص اہلیت اور قابلیت تھی جس کی وجہ سے مجھ پر اللہ نے یہ احسان کیے۔ بلکہ انہیں محض اللہ کے فضل و کرم پر محمول کیا جائے اور ان نعمتوں کا اسی جذبہ کے تحت دوسرے لوگوں کے سامنے بھی اقرار و اعتراف کیا جائے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اس اقرار و اعتراف میں فخر و مباہات کا شائبہ تک نہ ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(واما بنعمۃ ربک فحدث : اور شکر ادا کرنے کے لئے اپنے رب کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے رہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Injunction [ 3] وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَ‌بِّكَ فَحَدِّثْ (And about the bounty of your Lord, do talk....93:11). The verb haddith is derived from tahdith which means &to talk& meaning, &just as you were poor and needy, and Allah made you wealthy, then talk about Allah&s favours upon you&. Talking about Divine favours to people is one way of thanking Allah. If a person has done something good to another, he should be thanked. Therefore, the Holy Prophet is reported to have said: |"Whoever is not thankful to people on their favours is not thankful to Allah.|" [ This is transmitted by Ahmad. The chain of authorities are reliable - vide Mazhari ]. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: |"Whoever has done good to you, you ought to return the good. If you are unable to return the pecuniary good, then praise him in public, because he who praises people in public fulfils his moral obligation.|" [ Al-Baghawi transmitted it from Jabir Ibn ` Abdullah, vide Mazhari ]. Ruling It is obligatory to offer gratitude to Allah on every favour He has bestowed. (But the way of offering gratitude may be different.) If Allah has granted a person wealth, a part of that wealth may be spent with the sincerity in Allah&s way. If Allah has given a person strong body, his bodily strength may be utilised in fulfilling Divine obligations. If Allah has granted a person Divine knowledge, he should impart it to others. [ Mazhari ]. Ruling It is sunnah to recite takbir at the beginning of every Surah from Surah Duha to the end of the Qur&an. The wordings of the takbir, according to Shaikh Salih al-Misri, are as follows: لَٓا اَلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکبَرُ &There is no god except Allah and Allah is the greatest& [ Mazhari ]. According to Ibn Kathir, the takbir may be recited at the end of every Surah and, according to Baghawi, it may be recited once at the beginning of every Surah. [ Mazhari ]. Either way the requirement of sunnah will be fulfilled. And Allah knows best! Note In most Surahs from Surah Duha to the end of Qur&an, Allah&s special favours upon the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his special virtues and characteristics are mentioned. In a few of the Surahs, the Day of Judgment and its conditions are mentioned. The earlier part of the Qur&an asserts the greatness and authenticity of the Qur&an, while the later part asserts the greatness of the personality to whom the Qur&an was revealed. Al-hamdulillah The Commentary on Surah Ad-Duha Ends here

تیسرا حکم واما بنعمة ربک فحدث حدث، تحدیب سے مشتق ہے جس کے معنے بات کرنے کے ہیں مراد یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا لوگوں کے سامنے ذکر کیا کریں کہ یہ بھی ایک طریقہ شکر گزاری کا ہے یہاں تک کہ آدمی جو کسی آدمی پر احسان کرے اس کا بھی شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے جو شخص لوگوں کے احسان پر ان کا شکر نہیں کرتے وہ اللہ کا بھی شکر نہیں کریگا ( رواہ احمد درداتہ ثفات، مظہری) ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص تم پر کوئی احسان کرے تو چاہئے کہ آپ بھی اس کے احسان کا بدلہ دو ، اور اگر مالی بدلہ دینے کی استطاعت نہیں تو یہی کرو کہ لوگوں کے سامنے اس کی تعریف کرو کیونکہ جس نے لوگوں کے جمع میں اس کی ثناء و تعریف کی تو اس نے شکر گزاری کا حق ادا کردیا (رواہ البغوی عن جابر بن عبداللہ، مظہری) مسئلہ :۔ ہر نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے مالی نعمت کا شکریہ ہے کہ اس مال میں سے کچھ اللہ کے لئے اخلاص نیت کے ساتھ خرچ کرے اور نعمت بدن کا شکریہ ہے کہ جسمانی طاقت کو اللہ تعالیٰ کے واجبات ادا رنے میں صرف کرے اور علم و معرفت کی نعمت کا شکریہ ہے کہ دوسروں کو اس کی تعلیم دے (مظہری) مسئلہ :۔ سورة والضحیٰ سے آخر قرآن تک ہر سوت کیساتھ تکبیر کہنا سنت ہے اور اس تکبیر کے الفاظ شیخ صالح مصری نے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر بتلائے ہیں۔ (مظہری) ابن کثیر نے ہر سورت کے ختم پر اور بغوی نے ہر سورت کے شروع میں ایک مرتبہ تکبیر کہنے کو سنت کہا ہے (مظہری دونوں میں سے جو صورت بھی اختیار کرے سنت ادا ہوجائے گی۔ واللہ اعلم فائدہ :۔ سورة ضحیٰ سے آخر قرآن کریم تک بیشتر سورتوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حق تعالیٰ کے خاص انعامات اور آپ کے مخصوص فضائل کا ذکر ہے اور چند سورتوں میں قیامت اور اس کے احوال کا۔ قرآن حکیم کا شروع خود قرآن کی عظمت اور ناقبال شک و شبہ ہونے سے کیا گیا اور ختم قرآن اس ذات کی عظمت و شان پر کیا گیا جس پر قرآن نازل ہوا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۝ ١١ ۧ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے جیسے امابعد فانہ کذا ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١{ وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ ۔ } ” اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کریں۔ “ یہ ہدایت جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا ہوئی ہے ‘ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر شکر کا تقاضا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی اس نعمت کا چرچا کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلائیں۔ اس حکم میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہدایت کی نعمت کو اگر انسان اپنی ذات تک محدود کر کے بیٹھ رہے تو اس کا یہ طرزعمل بخل کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا جس کسی کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی دولت سے نوازے اسے چاہیے کہ اس خیر کو عام کرے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 The word ni 'mat . (bounty) is general, which also implies those bounties, which Allah had bestowed on His Messenger until the revelation of this Surah as well as those which He bestowed on him afterwards according to the promise made in this Surah, which He fulfilled completely. Then, it is enjoined:"O Prophet, mention and proclaim every bounty that Allah has favoured you with." Now, obviously, there can be different forms and ways of mentioning and proclaiming the bounties and every bounty in view of its nature, requires a special form or its mention and proclamation. As a whole, the way of proclaiming the bounties is that Allah be thanked with the tongue and the truth be acknowledged that all the bounties received are only due to His grace and favour and none is the result of any personal excellence and merit on his part. The blessing of Prophethood can be proclaimed by preaching and conveying its message in the best way possible. The blessing of the Qur'an can be proclaimed by publicising it widely and impressing its teachings on the peoples minds as far as one can. The blessing of Allah's guidance can be proclaimed by showing the right way to the people who are gone astray and by enduring patiently all the bitternesses and hardships of the way. The favour that AIIah has done of helping during orphanhood, demands that the orphans be treated well. The favour that Allah did of enriching after poverty requires that Allah's needy servants be helped and supported. In short, this is a very comprehensive instruction which Allah gave His Messenger (upon whom be His peace) in this brief sentence after having described His bounties and blessings.

سورة الضُّحٰی حاشیہ نمبر :11 نعمت کا لفظ عام ہے جس سے مراد وہ نعمتیں بھی ہیں جو اس سورہ کے نزول کے وقت تک اللہ تعالی نے اپنے رسول پاک کو عطا فرمائی تھیں ، اور وہ نعمتیں بھی جو بعد میں اس نے اپنے ان وعدوں کے مطابق آپ کو عطا کیں جو اس سورہ میں اس نے کیے تھے اور جن کو اس نے بدرجہ اتم پورا کیا ۔ پھر حکم یہ ہے کہ اے نبی ہر نعمت جو اللہ نے تم کو دی ہے اس کا ذکر اور اس کا اظہار کرو ۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ نعمتوں کے ذکر و اظہار کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں اور ہر نعمت اپنی نوعیت کے لحاظ سے اظہار کی ایک خاص صورت چاہتی ہے ۔ مجموعی طور پر تمام نعمتوں کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ زبان سے اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اس بات کا اقرار و اعتراف کیا جائے کہ جو نعمتیں بھی مجھے حاصل ہیں یہ سب اللہ کا فضل و احسان ہیں ورنہ کوئی چیز بھی میرے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں ہے ۔ نعمت نبوت کا اظہار اس طریقہ سے ہو سکتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا حق ادا کیا جائے ۔ نعمت قرآن کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ اس کی اشاعت کی جائے اور اس کی تعلیمات لوگوں کے ذہن نشین کی جائیں ۔ نعمت ہدایت کا اظہار اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ بتایا جا ئے ۔ اور اس کام کی ساری تلخیوں اور ترشیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے ۔ یتیمی میں دستگیری کا جو احسان اللہ تعالی نے کیا اس کا اظہار یہی صورت چاہتا ہے کہ اللہ کے محتاج بندوں کی مدد کی جائے ۔ غرض یہ ایک بڑی جامع ہدایت تھی جو اللہ تعالی نے اپنے انعامات و احسانات بیان کرنے کے بعد اس مختصر فقرے میں اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(93:11) واما بنعمۃ ربک فحدث واؤ عاطفہ، اما (ملاحظہ ہو 93:9 مذکورہ بالا) نعمۃ۔ انعامات۔ مضاف ، ربک مضاف مضاف الیہ مل کر نعمۃ کا مضاف الیہ ۔ حدث فعل امر واحد مذکر حاضر کا صیغہ ، تحدث (تفعیل) مصدر سے۔ تو بیان کر تو بیان کرتا رہ۔ شکر ادا کر۔ یا ۔ کرتارہ۔ نعمتوں سے کیا مراد ہے ؟ تین نعمتیں تو اوپر بیان ہوئیں ۔ (1) یتیمی میں سہارے کا بندوبست۔ (2) راہ حق کی طلب میں راہ نمائی۔ (3) تنگ دستی سے خلاصی دلا کرکے غنی بنادینا۔ علاوہ ازیں بعض کے نزدیک فھدی میں ہدایت کی نعمت سے مراد نبوت ہے۔ جو بلاشبہ بہت بڑی نعمت ہے۔ ان کے علاوہ اور ان گنت نعمتیں جو پروردگار عالم نے اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر طرف سے نش اور کیں ان سب نعمتوں کے شکر ادا کرنے کا حکم ہو رہا ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی یعنی ہو سکے تو کچھ دے دو اور نہ ہو سکے تو شادہ روئی اور نرمی سے جواب دے دو ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (رح) ٠٠١١﴾ (اور آپ اپنے رب کی نعمت کو بیان کیجئے) ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بڑی تعداد میں نعمتیں عطا فرمائیں، دنیا میں بھی نعمتوں سے سرفراز فرمایا، مال بھی دیا، شہرت و عظمت بھی دی اور سب سے بڑی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے سرفراز فرمایا وہ نبوت اور رسالت کی نعمت ہے، آپ کے کروڑوں امتی گزر چکے ہیں اور کروڑوں موجود ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ کروڑوں قیامت تک آئیں گے اور ہر وقت آپ پر کروڑوں درود بھیجے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان نعمتوں کی قدردانی کریں اس قدردانی میں یہ بھی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان فرمائیں۔ اس میں آپ کی امت کو بھی تعلیم دے دی کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کیا کریں۔ (البتہ تحدیث بالنعمت کے نام پر ریاکاری اور خود ستائی اور فخر و مباہات نہ ہو) ۔ حضرت ابو الاحوص (رض) نے اپنے والد سے روایت کی (جس کا نام مالک بن نضر تھا) کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں گھٹیا درجے کے کپڑے پہنے ہوئے تھا، آپ نے دریافت فرمایا کیا تیرے پاس مال ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! فرمایا کون سے اموال میں سے ہے ؟ میں نے کہا ہر قسم کا مال اللہ نے مجھے دیا ہے اونٹ، گائے، بکری اور گھوڑے اور غلام سب موجود ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تجھے اللہ تعالیٰ نے مال دیا تو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور کرامت کا اثر تجھ پر نظر آئے۔ (رواہ احمد والنسائی كما فی المشکوٰۃ صفحہ ٣٧٥) معلوم ہوا تحدیث بالنعمت اپنے حال اور مال اور قال تینوں سے ہونی چاہیے شرط وہی ہے کہ صرف اللہ کی نعمت ذکر کرنے کی نیت ہو بڑائی بگھارنا اور ریاکاری مقصود نہ ہو۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ کل ماشئت والبس ماشئت ما اخطلک اثنتان سرف ومخیلة (كھا جو چاہے اور پہن جو چاہے جب تک کہ دو چیزیں نہ ہوں، ایک فضول خرچی دوسرے تکبر) ۔ (رواہ البخاری فی ترجمۃ الباب کما فی المشکوٰۃ) فائدہ : سورة والضحیٰ سے لے کر آخری سورت سورة والناس کے ختم تک ہر سورة کے ختم پر تکبیر پڑھنا حضرات قراء کرام کے نزدیک سنت سے ثابت ہے جسے وہ اپنی کتابوں میں سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ امام القراء حضرت شیخ ابن جزری (رح) نے اپنی معروف کتاب النشر فی القراءت العشر کے آخر میں صفحہ ٤٠٥ سے لے کر صفحہ ٤٣٨ تک اس پر بہت لمبی بحث کی ہے اور حصر کے صیغے اور حضرات قراء کرام کا عمل اور حدیث کی سند پر خوب جی کھول کر لکھا ہے اور مستدرک حاکم کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس سلسلہ میں حضرات محدثین کرام حدیث مسلسل بالقراء بھی نقل کرتے ہیں جو قاری مقری عبداللہ بن کثیر مکی (احد القرء السبعة) کے راوی ابو الحسن محمد بن احمد البزی (رض) سے مرفوعاً مروی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رض) نے بھی اس کو اپنی مسلسلات میں ذکر کیا ہے چونکہ حضرت امام بزی (رض) حدیث کے راوی ہیں اس لیے ان کے نزدیک تو تکبیر پڑھنا مشروع اور مسنون ہے ہی دیگر قراء سے بھی اس کا پڑھنا مروی ہے پھر بعض قراء صرف اللہ اکبر پر اکتفاء کرتے ہیں اور بعض قراء سے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر دونوں لفظ کہنا منقول ہے جن سورتوں کے درمیان تکبیر پڑھی جائے وقف اور وصل کے قواعد کا خیال رکھا جائے سورت کو ختم کر کے اللہ اکبر کہہ کر آئندہ سورت کے شروع کرنے کے لیے ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ پڑھے اور ایک ہی سانس میں پڑھ لے یہ بھی درست ہے یہ وصل کل کی صورت ہے اور اگر تینوں پر قطع کرے تو یہ بھی درست ہے جو فصل کی صورت ہے البتہ وصل اول اور وصل ثانی کے ساتھ فصل ثالث نہ کرے کیونکہ اس صورت میں بسملہ آنے والی سورت سے منفصل ہوجائے گی۔ جب کہ ﴿ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ﴾ اوائل سور کے لیے مشروع ہے یہ جو کہا کہ وصل اور وقف کے قواعد کا خیال رکھا جائے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ساکن کو حرکت دیتے ہوئے اور ہمزہ وصل کو ساقط کرتے ہوئے پڑھتے چلے جائیں مثلاً سورة ٴ والضحیٰ ختم کر کے یوں پڑھے ﴿فحدث اللہ اکبر﴾ اور سورة العادیات کو ختم کر کے یوں پڑھا جائے : لخبیر اللہ اکبر بسم اللہ الرحمن الرحیم القارعة۔ اسی طرح سورة ٴ ہمزہ کے ختم پر نون تنوین کو کسرہ دے کر اللہ اکبر کے لام سے ملا دیا جائے یہ بات حضرات اساتذہ کرام سے سمجھنے اور مشق کرنے سے متعلق ہے حافظ ابو عمر و دانی (رض) کی کتاب التسیر کی عبارت نقل کردی گئی ہے اہل علم ملاحظہ فرما لیں۔ (قال ابو عمرو فاعلم ایدک اللہ تعالیٰ ان البزی روی عن ابن کثیر باسنادہ انہ کان یکبر من اٰخر والضحی مع فراغہ من کل سورة الی اخر ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ یصل التکبیر باخر السورة وان شاء القاری قطع علیہ وابتداء بالتسمیة موصولة باول السورة التی بعدھا وان شاء وصل التکبیر بالتسمیة باول السورة ولا یجوز القطع علی التسمیة اذا وصلت بالتکبیر وقد کان بعض اھل الاداء یقطع علٰی اواخر السور ثم یبتدی بالتکبیر موصولا بالتسمیة وکذا روی النقاش عن ابی ربیعة عن البزی وبذلک قرات علی الفارسی عنہ والاحادیث الواردة عن للکیین بالتکبیر دالة علی ما ابتدانا بہ لان فیھا مع وھی تدل علی الصحة والاجتماع واذا کبر فی اخر سورة الناس قراء فاتحة الکتاب وخمس ایات من اول سورة البقرة علی عدد الکوفیین الی قولہ تعالیٰ ﴿وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ٠٠٥﴾ ثم دعا بدعاء الختمة وھذا یسمی الحال المرتحل وفی جمیع ما قدمناہ احادیث مشھورة یرویھا العلماء یوید بعضھا بعضا تدل علی صحة ما فعلہ ابن کثیر ولھا موضع غیر ھذا قد ذکرنا ھا فیہ واختلف اھل الاداء فی لفظ التکبیر فکان بعض ھم یقول اللہ اکبر لا غیر و دلیلھم علی صحة ذلک جمیع الاحادیث الواردة بذلک من غیر زیادة كما حدثنا ابو الفتح شیخنا قال حدثنا ابو الحسن المقری قال حدثنا احمد بن سالم قال حدثنا الحسن بن مخلد قال حدثنا البزی قال قرات علی عکرمة بن سلیمان وقال قرات علی اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین فلما بلغت والضحٰی كبر حتی تختم مع خاتمة كل سورة فانی قرات علی عبداللہ بن کثیر فامرنی بذلک واخبرنی ابن کثیر انہ قراء علی مجاھد فامرہ بذلک واخبرہ مجاھد انہ قرا علی عبداللہ بن عباس (رض) عنھما فامرہ بذلک واخبرہ ابن عباس انہ قرأ علی ابی بن کعب (رض) فامرہ بذلک واخبرہ ابی انہ قرأ علی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فامرہ بذٰلک وکان اخرون یقولون لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیھللون قبل التکبیر واستدلوا علی صحة ذلک بما حدثنا فارس بن احمد المقری قال حدثنا عبد الباقی بن الحسن قال حدثنا احمد بن سلم الختلی واحمد بن صالح قالا حدثنا الحسن بن الحباب قال سالت البزی عن التکبیر کیف ھو فقال لی لا الہ الا اللہ واللہ اکبر قال ابو عمر و ابن الحباب ھذا من اھل الاتقان والضبط وصدق اللھجة بمکان لا یجھلہ احد من علماء ھذہ الصنعة وبھذا قرات علی ابن الفتح وقرات علی غیرہ بماتقدم۔ واعلم ان القاری اذا وصل التکبیر باخر السورة فان کان اخرھا ساکنا کسرہ لا لتقاء الساکنین نحو فحدث اللہ اکبر فارغب اللہ اکبر وان کان منونا کسرہ ایضا کذلک سواء کان الحرف المنون مفتوحا او مضمومًا اور مکسورًا نحو توّابًا نِ اللہ اکبر ولخبیرُ نِ اللہ اکبر ومن مسد ن اللہ اکبر وشبھہ وان کان آخر السورة مفتوحا فتحہ وان کان اخر السورة مکسورًا کسرہ وان کان مضموما ضمہ نحو قولہ تعالیٰ اذا حسد اللہ اکبر والناس اللّٰہ اکبر والابئر اللہ اکبر وشبھہ وان کان اخر السورة ھاء کنایة موصولة بو او حذف صل تھا للساکنین نحوربہ اللہ اکبر وشرایرہ اللہ اکبر قال ابو عمرو واسقطت الف الوصل التی فی اول اسم اللہ تعالیٰ فی جمیع ذلک استغناء عنھا۔ فاعلم ایدک اللہ تعالیٰ ذلک موفقا لطریق الحق ومنھاج الصواب والیہ المرجع والماب۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) اور آپ اپنے پروردگار کے احسانات کا تذکرہ کرتے رہا کیجئے یہ بھی ایک طریقہ محسن کے شکرادا کرنے کا ہے کہ اس کے احسان کا تذکرہ کیا جائے اور وہ جدک ضالاً فہدی کا یہی شکر ہے کہ اس کا چرچا کرو اور لوگوں کو اس ہدایت کی دعوت دو جس سے آپ کو نوازا گیا ہے اور یہی تحدیث اصل میں تبلیغ ہے بعض نے کہا اس نعمت سے مراد قرآن ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن مخلوق کو سناتے رہیے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت میں ہے جس شخص نے کسی کے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا شکریہ ہے کہ اس بھی کچھ دے اور اگر دینے کو نہ ہو تو اس کی تعریف کرے اور اس کی ثنا بیان کرے اور اس کے لئے دعا کیا کرو، اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو اس نے محسن کے ساتھ کفر کیا۔ بہرحال تحدیث نعت بطور فخرومباہات نہ ہو بلکہ محسن کے احسان کو ظاہر کرنے کی نیت سے ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ سرکار دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والضحیٰ کے ختم پر اور اس کے بعد کی تمام سورتوں پر تکبیر کہتے تھے یعنی اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے سورة والضحیٰ سے لے کر سورة ناس تک تمام سورتوں کے مضامین ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور عام طور سے ان میں رسالت و توحید اور قیامت کا ذکر ہے جو عقائد اسلامی میں نہایت اہم چیزیں ہیں۔ سورة والضحیٰ کے ختم پر شاید اللہ اکبر کہنے کی وجہ یہ ہو چونکہ ایک عرصے کے بعد بحالت انتظار یہ سورت نازل ہوئی تھی اس لئے بےساختہ آپ کے منہ سے اللہ اکبر نکلا ہو اور پھر ہر سورت کے بعد آپ اللہ اکبر فرماتے ہوں۔