Surat us Sharah

Surah: 94

Verse: 7

سورة الشرح

فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ ۙ﴿۷﴾

So when you have finished [your duties], then stand up [for worship].

پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 یعنی نماز سے، یا تبلیغ سے یا جہاد سے، تو دعا میں محنت کر، یا اتنی عبادت کر کہ تو تھک جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) فاذا فرعت فانصب…: آپ کے دنیا کے کام ہوں یا تبلیغ دین یا جہاد فی سبیل اللہ، اگرچہ یہ سب عبادات اور نیکیاں ہیں مگر ان میں پھر بھی مخلوق سے کچھ نہ کچھ رابطہ رہتا ہے، جب بھی ان کاموں سے کچھ فراغت ملے، تو ہر چیز سے منقطع ہو کر اپنے رب سے تعلق جوڑ کر ذکر الٰہی، تلاوت قرآن، قیام اور رکوع و سجود کی محنت کریں اور اپنی متام رغبت اپنے رب ہی کی طرف رکھیں۔ یہ وہی بات ہے جو سورة مزمل کے شروع میں کہی گئی ہے، فرمایا :(ان لک فی النھار سبحاً طویلاً ، واذکر اسم ربک وتبتل الیہ تبتیلاً (المزمل : ٨: ٨) ” یقیناً تجھے دن میں بہت لمبی مصروفیت ہے اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے کٹ کر اسی کی طرف متوجہ ہوجا۔ “ (٢) فانصب :” نصب ینصب نصباً “ (س) کے مفہوم میں محنت و مشقت کے ساتھ تھکن بھی اشملہے، یعنی صرف راحت کے وقت ہی نہیں، طبیعت کے نہ چاہتے ہوئے بھی عبادت اور ذکر الٰہی کی مشقت جاری رکھ۔ چناچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے وقت اتنا قیام کرتے کہ آپ کے پاؤں پر ورم آجاتا، جیسا کہ صحیحین میں عائشہ (رض) سے مروی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Command for Teachers and Preachers to Remember Allah During Spare Hours فَإِذَا فَرَ‌غْتَ فَانصَبْ وَإِلَىٰ رَ‌بِّكَ فَارْ‌غَب (So when you are free [ from collective services ], exert yourself [ in worship ], and towards your Lord turn with eagerness....94:8). The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is commanded in these verses that when he has finished his day&s work of teaching and training his followers and other temporal affairs, he should turn to Allah as ever with all his heart, that is, prayers, remembrance of Allah, supplication and seeking Allah&s pardon. This is the interpretation assigned to this verse by most commentators. Some scholars have interpreted it differently, but the foregoing interpretation appears to be the closest. The sum total of this interpretation is as follows: The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) exerted himself greatly to spread the word of Allah and reform human beings. Exerting himself to human reform was his greatest form of &worship& but it was &indirect worship& through planning and executing the plan of human reform. The verse purports to say that the indirect worship is not sufficient. So, when he is free from collective services to humanity, he should devote time to turn to Him by carrying out &direct worship& by turning to Allah in prayer for the success of his efforts, because this &direct worship& is what man is created for. Probably, that is why the &indirect worship& has been mentioned as something that may be finished and one may be free from, because that is based on need, and a believer can free himself from it, but the &direct worship& of Allah is such that he cannot free himself from it. He has to spend his entire life and expend all his energy in it. Note This indicates that scholars [ who are involved in education, propagation and human reform ] should not be unmindful of &direct worship&. Some time should be devoted specifically, in privacy, to attentiveness to, and remembrance of Allah as the biography of the righteous predecessors bear testimony to the fact that without it neither education nor preaching can be effective. It would be devoid of light and blessings. Note The word fansab derived from nasab means &to be tired&. The verse signifies that one should tire oneself when carrying out acts of worship. One should not carry out acts of worship only when one finds it convenient. Binding oneself to a wazifah (a usual course of optional worships) is itself quite exerting and tiring, no matter how little. Al-hamdulillah The Commentary on Surah Al-Inshirah Ends here

تعلیم و تبلیغ کرنے والوں کو خلوص میں ذکر اللہ اور توجہ الی اللہ بھی ضروری ہے : فاذا فرغت فانصب، والی ربک فارغب یعنی جب آپ ایک محنت یعنی دعوت حق اور تبلیغ احکام سے فارغ ہوں تو (دوسری) محنت کے لئے تیار ہو جایئے وہ یہ کہ نماز اور ذکر اللہ اور دعا و استغفار میں لگ جائیں۔ اکثر حضرات مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ بعض حضرات نے دوسری تفسیریں بھی لکھی ہیں مگر اقرب وہی ہے جو اوپر لکھی گئی۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت و تبلیغ اور خلق خدا کو راستہ دکھانا ان کی اصلاح کی فکر یہ آپ کی سب سے بڑی عبادت تھی مگر یہ عبادت بواسطہ مخلوق ہے کہ ان کی اصلاح پر توجہ دیں اور اس کی تدبیر کریں، آیت کا مقصود یہ ہے کہ صرف اس عبادت بالواسطہ پر آپ قناعت نہ کریں بلکہ جب اس سے فرصت ملے تو بلاواسطہ خلوت میں حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اسی سے ہر کام میں کامیابی کی دعا کریں کہ اصل مقصود جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ ذکر اللہ اور عبادت بلاواسطہ ہی ہے اور شاید اسی لئے پہلی قسم یعنی عبادت بالواسطہ سے فراغت کا ذکر فرمایا کہ وہ کام ایک ضرورت کے لئے ہے اس سے فراغت ہو سکتی ہے اور دوسرا کام یعنی توجہ الی اللہ ایسی چیز ہے کہ اس سے فراغت مومن کو کبھی نہیں ہو سکتی بلکہ اپنی ساری عمر اور توانائی کو اس میں صرف کرنا ہے۔ فائدہ :۔ اس سے معلوم ہوا کہ علماء جو تعلیم و تبلیغ اور اصلاح خلق کا کام کرنے والے ہیں ان کو اس سے غفلت نہ ونا چاہئے کہ انکا کچھ وقت خلوت میں توجہ الی اللہ اور ذکر اللہ کے لئے بھی مخصوص ہنا چاہئے جیسا کہ علماء سلف کی سیرتیں اس پر شاید ہیں اس کے بغیر تعلیم و تبلیغ بھی موثر نہیں ہوتی ان میں نور و برکت نہیں ہوتی۔ فائدہ :۔ لفظ فانصب، نصب سے مشتق ہے جس کے اصلی معنے تعب اور تکان کے ہیں اس میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ عبادت اور ذکر اللہ اس حد تک جاری رکھا جائے کہ کچھ مشقت اور تکان محسوس ہونے لگے صرف نفس کی راحت و خوشی ہی پر اس کا مدارنہ رہے اور کسی وظیفہ اور معمول کی پابندی خود ایک مشقت اور تعجب ہے، خواہ کام مختصر ہی ہو۔ تمت سورة الانشراح والحمد للہ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ۝ ٧ ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) فرغ الفَرَاغُ : خلاف الشّغل، وقد فَرَغَ فَرَاغاً وفُرُوغاً ، وهو فَارِغٌ. قال تعالی: سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] ، وقوله تعالی: وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] ، أي : كأنّما فَرَغَ من لبّها لما تداخلها من الخوف وذلک کما قال الشاعر : كأنّ جؤجؤه هواء «1» وقیل : فَارِغاً من ذكره، أي أنسیناها ذكره حتی سکنت واحتملت أن تلقيه في الیمّ ، وقیل : فَارِغاً ، أي : خالیا إلّا من ذكره، لأنه قال : إِنْ كادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] ، ومنه قوله تعالی: فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] ، وأَفْرَغْتُ الدّلو : صببت ما فيه، ومنه استعیر : أَفْرِغْ عَلَيْنا صَبْراً [ الأعراف/ 126] ، وذهب دمه فِرْغاً «2» ، أي : مصبوبا . ومعناه : باطلا لم يطلب به، وفرس فَرِيغٌ: واسع العدو كأنّما يُفْرِغُ العدو إِفْرَاغاً ، وضربة فَرِيغَةٌ: واسعة ينصبّ منها الدّم . ( ف ر غ ) الفراغ یہ شغل کی ضد ہے ۔ اور فرغ ( ن ) فروغا خالی ہونا فارغ خالی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] اور موسٰی کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا ۔ یعنی خوف کی وجہ سے گویا عقل سے خالی ہوچکا تھا جیسا کہ شاعر نے کہا ہے کان جو جو ہ ھواء گویا اس کا سینہ ہوا ہو رہا تھا ۔ اور بعض نے فارغا کے معنی موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال سے خالی ہونا کئے ہیں یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا خیال ان کے دل سے بھلا دیا حتی کہ وہ مطمئن ہوگئیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو دریامیں ڈال دینا انہوں نے گوارا کرلیا بعض نے فارغا کا معنی اس کی یاد کے سوا باقی چیزوں سے خالی ہونا بھی کئے ہیں ۔ جیسا کہ اس کے بعد کی آیت : ۔ إِنْ كادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلا أَنْ رَبَطْنا عَلى قَلْبِها [ القصص/ 10] اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کرتے تو قریب تھا کہ وہ اس قصے کو ظاہر کردیں سے معلوم ہوتا ہے اور اسی سے فرمایا : ۔ فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] تو جب فارغ ہوا کرو عبادت میں محنت کیا کروں سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلانِ [ الرحمن/ 31] اے دونوں جماعتوں ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ اور افرغت الدلو کے معنی ڈول سے پانی بہا کر اسے خالی کردینا کے ہیں چناچہ آیت کریمہ : ۔ أَفْرِغْ عَلَيْنا صَبْراً [ الأعراف/ 126] ہم پر صبر کے دہانے کھول دے بھی اسی سے مستعار ہے ذھب دمہ فرغا اس کا خون رائیگاں گیا ۔ فرس فریغ وسیع قدم اور تیز رفتار گھوڑا گویا وہ دوڑ کر پانی کی طرح بہہ ر ہا ہے ۔ ضربۃ فریغۃ وسیع زخم جس سے خون زور سے بہہ رہا ہو ۔ نصب نَصْبُ الشیءِ : وَضْعُهُ وضعاً ناتئاً كنَصْبِ الرُّمْحِ ، والبِنَاء والحَجَرِ ، والنَّصِيبُ : الحجارة تُنْصَبُ علی الشیءِ ، وجمْعُه : نَصَائِبُ ونُصُبٌ ، وکان للعَرَبِ حِجَارةٌ تعْبُدُها وتَذْبَحُ عليها . قال تعالی: كَأَنَّهُمْ إِلى نُصُبٍ يُوفِضُونَ [ المعارج/ 43] ، قال : وَما ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ [ المائدة/ 3] وقد يقال في جمعه : أَنْصَابٌ ، قال : وَالْأَنْصابُ وَالْأَزْلامُ [ المائدة/ 90] والنُّصْبُ والنَّصَبُ : التَّعَبُ ، وقرئ : بِنُصْبٍ وَعَذابٍ [ ص/ 41] و ( نَصَبٍ ) وذلک مثل : بُخْلٍ وبَخَلٍ. قال تعالی: لا يَمَسُّنا فِيها نَصَبٌ [ فاطر/ 35] وأَنْصَبَنِي كذا . أي : أَتْعَبَنِي وأَزْعَجَنِي، قال الشاعرُ : تَأَوَّبَنِي هَمٌّ مَعَ اللَّيْلِ مُنْصِبٌوهَمٌّ نَاصِبٌ قيل : هو مثل : عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ والنَّصَبُ : التَّعَبُ. قال تعالی: لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . وقد نَصِبَ فهو نَصِبٌ ونَاصِبٌ ، قال تعالی: عامِلَةٌ ناصِبَةٌ [ الغاشية/ 3] . والنَّصِيبُ : الحَظُّ المَنْصُوبُ. أي : المُعَيَّنُ. قال تعالی: أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ [ آل عمران/ 23] ، فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] ويقال : نَاصَبَهُ الحربَ والعَداوةَ ، ونَصَبَ له، وإن لم يُذْكَر الحربُ جَازَ ، وتَيْسٌ أَنْصَبُ ، وشَاةٌ أو عَنْزَةٌ نَصْبَاءُ : مُنْتَصِبُ القَرْنِ ، وناقةٌ نَصْبَاءُ : مُنْتَصِبَةُ الصَّدْرِ ، ونِصَابُ السِّكِّين ونَصَبُهُ ، ومنه : نِصَابُ الشیءِ : أَصْلُه، ورَجَعَ فلانٌ إلى مَنْصِبِهِ. أي : أَصْلِه، وتَنَصَّبَ الغُبارُ : ارتَفَع، ونَصَبَ السِّتْرَ : رَفَعَهُ ، والنَّصْبُ في الإِعراب معروفٌ ، وفي الغِنَاءِ ضَرْبٌ منه ( ن ص ب ) نصب الشئیء کے منعی کسی چیز کو کھڑا کرنے یا گاڑ دینے کے ہیں مثلا نیزے کے گاڑنے اور عمارت یا پتھر کو کھڑا کرنے پر نصب کا لفظ بولا جاتا ہے اور نصیب اس پتھر کو کہتے ہیں جو کسی مقام پر ( بطور نشان کے ) گاڑ دیا جاتا ہے اس کی جمع نصائب ونصب آتی ہے ۔ جاہلیت میں عرب جن پتھروں کی پوجا کیا کرتے اور ان پر جانور بھینٹ چڑہا یا کرتے تھے ۔ انہیں نصب کہا ۔ جاتا تھا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَأَنَّهُمْ إِلى نُصُبٍ يُوفِضُونَ [ المعارج/ 43] جیسے وہ عبارت کے پتھروں کی طرف دوڑتے ہیں ۔ نیز فرمایا : ۔ وَما ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ [ المائدة/ 3] اور وہ جانور بھی جو تھا ن پر ذبح کیا جائے ۔ اس کی جمع انصاب بھی آتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالْأَنْصابُ وَالْأَزْلامُ [ المائدة/ 90] اور بت اور پا سے ( یہ سب ) ناپاک کام اعمال شیاطین سے ہیں ۔ اور نصب ونصب کے معنی تکلیف ومشقت کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ لا يَمَسُّنا فِيها نَصَبٌ [ فاطر/ 35] ایذا اور تکلیف میں ایک قراءت نصب بھی ہے اور یہ بخل وبخل کی طرح ہے قرآن میں ہے : ۔ یہاں نہ ہم کو رنج پہنچے گا ۔ وانصبنی کذا کے معنی کسی کو مشقت میں ڈالنے اور بےچین کرنے کے ہیں شاعر نے کہا ہے ( 427 ) تاو بنی ھم مع اللیل منصب میرے پاس رات کو تکلیف وہ غم بار بار لوٹ کر آتا ہے ۔ اور عیشۃ راضیۃ کی طرح ھم ناصب کا محاورہ بھی بولا جاتا ہے ۔ النصب کے معنی مشقت کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] اس سفر سے ہم کو بہت تھکان ہوگئی ہے ۔ اور نصب ( س ) فھو نصب وناصب کے معنی تھک جانے یا کسی کام میں سخت محنت کرنے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ عامِلَةٌ ناصِبَةٌ [ الغاشية/ 3] سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے ۔ فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] تو جب فارغ ہوا کرو ۔ تو عبادت میں محنت کیا کرو النصب کے معنی معین حصہ کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ [ آل عمران/ 23] بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ۔ اور ناصبۃ الحر ب والعدۃ ونصب لہ کے معنی کسی کے خلاف اعلان جنگ یا دشمنی ظاہر کرنے کے ہیں ۔ اس میں لفظ حر ب یا عداوۃ کا حزف کر نا بھی جائز ہے تئیس انصب وشاۃ او عنزۃ نصباء کھڑے سینگوں والا مینڈ ھایا بکری ۔ ناقۃ نصباء ابھرے ہوئے سینہ والی اونٹنی نصاب السکین ونصبۃ کے معنی چھری کے دستہ ہیں ۔ اور اسی سے نصاب الشئی کا محاورہ ہے جس کے معنی اصل الشئی ہیں ۔ تنصب الغبار غبار کا اڑنا نصب الستر پر دہ اٹھانا نصب ( اعراب زبر کو کہتے ہیں اور نصب ایک قسم کا راگ بھی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

فرصت کے بعد عبادت قول باری ہے (فاذافرغت فانصب۔ لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جائو) حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے ” جب تم فرائض سے فارغ ہوجائو تو ان اعمال میں لگ جائو جن کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں ترغیب دی ہے۔ “ حسن کا قول ہے ” جب تم اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب کی عبادت میں لگ جائو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” تم جب اپنی نماز سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب سے دعائیں مانگنے میں لگ جائو۔ مجاہد کا قول ہے ” جب تم اپنے دنیاوی کاموں سے فارغ ہوجائو تو اپنے رب کی عبادت میں لگ جائو) آیت کے الفاظ میں ان تمام معافی کا احتمال ہے اور درست صورت یہ ہے کہ لفظ کو ان تمام معانی پر محمول کیا جائے اس طرح تمام معانی مراد لیے جائیں ۔ اگرچہ اس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے تاہم تمام مکلفین مراد ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧ ‘ ٨{ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ - وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ۔ } ” پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (فرائض نبوت سے) فارغ ہوجائیں تو اسی کام میں لگ جایئے ۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجایئے۔ “ تو اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب آپ اپنے فرضِ منصبی سے فارغ ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہوجائے تو پھر آپ یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ نوٹ کیجیے ! سورة النصر میں بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بالکل یہی پیغام ہے : { اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ - وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُطٓ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا ۔ } یعنی جب غلبہ دین کے حوالے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشن مکمل ہوجائے تو پھر ہمہ تن ‘ ہمہ وقت آپ اللہ کی طرف متوجہ ہوجایئے گا اور تقرب الی اللہ کے لیے محنت شروع کردیجیے گا۔ چناچہ جونہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فوراً محبوب کی طرف مراجعت کا فیصلہ کرلیا (اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الاَعْلٰی) کہ اے اللہ اب میں اپنے فرائض منصبی سے فارغ ہوگیا ہوں ‘ اب مجھ میں مزید انتظار کا یارا نہیں ! واضح رہے کہ انبیاء و رسل - کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مزید رہنے یا کوچ کرنے سے متعلق اختیار عطا فرماتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ آخری ایام میں ایک دن جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض میں افاقہ ہواتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لے گئے۔ منبرپر فروکش ہوئے اور خطبہ دیا۔ اس کے بعد منبر سے نیچے تشریف لائے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور چند اہم نصیحتیں فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا : ” ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی چمک دمک اور زیب وزینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے دے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کرلے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کرلیا “۔ یہ بات سن کر ابوبکر (رض) رونے لگے اور فرمایا : ” ہم اپنے ماں باپ سمیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان ! “ اس پر لوگوں کو تعجب ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ارشاد فرما رہے ہیں اور اس پر ابوبکر (رض) کیا کہہ رہے ہیں ! لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے اور ابوبکر صدیق (رض) صحابہ کرام (رض) میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔ یہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کا ذکر کرتے ہوئے میرے دل کی بات زبان پر آگئی ہے۔۔۔۔ وہ یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل سے مجھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں میں پہنچا دیا تو میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکوہ کرنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ حضور ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت جلدی کی … حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مانا کہ ہجر و فراق کا ایک ایک لمحہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مشکل تھا… مگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوئے تھے وہ بھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیضانِ نظر کے محتاج تھے… حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر تھوڑا سا وقت ان کو بھی مل جاتا تو… مہاجرین (رض) و انصار (رض) کی طرز پر ان کی تربیت بھی ہو جاتی…! ! !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: ظاہر ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کی مصروفیات تمام تر دِین ہی کے لئے تھی، تبلیغ ہو یا تعلیم، جہاد ہو یا حکمرانی، سارے کام ہی دین کے لئے ہونے کی وجہ سے بذاتِ خود عبادت کا درجہ رکھتے تھے، لیکن فرمایا جارہا ہے کہ جب ان کاموں سے فراغت ہو تو خالص عبادت مثلاً نفلی نمازوں اور زبانی ذکر وغیرہ میں اتنے لگئے کہ جسم تھکنے لگے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دِین کی خدمت میں لگے ہوئے ہوں اُن کو بھی کچھ وقت خالص نفلی عبادتوں کے لئے مخصوص کرنا چاہئے، اِسی سے اﷲ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے، اور اسی سے دُوسرے دِینی کاموں میں برکت پیدا ہوتی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(94:7) فاذا فرغت فانصب : اذا شرطیہ ہے۔ فاذا فرغت جملہ شرطیہ ہے۔ ف جواب شرط کے لئے ہے انصب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر، نصب (باب سمع) مصدر سے ۔ جس کے معنی جدوجہد کرنا ہے۔ اس جگہ عبادت میں جدوجہد کا حکم ہے۔ جب تو (تبلیغ احکام سے) فارغ ہوجائے تو عبادت میں محنت کیا کر۔ حضرت ابن عباس، قتادہ ، حضاک، مقاتل، اور کلبی نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جب فرض نماز یا مطلق نماز سے فارغ ہوجاؤ تو دعا کرنے کے لئے محنت کرو۔ اور رب سے مانگنے کی طرف راغب ہو۔ حسن اور زید بن اسلم نے کہا کہ :۔ جب دشمن سے جہاد کرنے سے فارغ ہوجاؤ تو عبادت کے لئے محنت کرو۔ منصور کی روایت سے مجاہد کا قول منقول ہے کہ جب امور دنیا سے فارغ ہوجاؤ تو عبادت رب میں محنت کرو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انسان کا فرض بنتا ہے کہ اسے جب آسانی اور کامیابی حاصل ہو تو اپنے رب کو یاد رکھے اور اس کا شکریہ ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر جو خصوصی انعامات فرمائے۔ اس لیے حکم ہوا کہ کامیابی، آسانی اور فراغت کے وقت اپنے رب کو رغبت یعنی پوری توجہ کے ساتھ یاد کیا کریں۔ فراغت کے وقت یاد کرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ فراغت میسر نہ ہو تو اپنے رب کو بھول جایا جائے۔ اس سورت میں نبوت کی ذمہ داریوں اور اس کی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ جب بھی دعوت کے کام سے فرصت میسر ہو تو نفلی نماز اور ذکر وفکر میں مصروف ہوجایا کریں۔ اس میں ایک مبلغ اور مدرس کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ بیشک دعوت اور تعلیم وتعلّم کا کام نیکی ہے لیکن اس میں بھی وقت نکال کر داعی کو پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کا ذکر کرنا چاہیے، گویا کہ دعوت کے کام کے لیے ایمان کی بیٹری چارج کرنا اور اس کام پر اپنے رب کا شکر گزار ہونا لازم ہے بصورت دیگر ایک سچا داعی اپنے دل میں ایک خلا اور تشنگی محسوس کرتا ہے جس داعی کے دل میں ” اللہ “ کی یاد اور اس کے شکریہ کا احساس نہ ہو۔ اس کا کام ایک فن کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے جس سے ہر صورت بچنا چاہیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم : (اِذْہَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْکَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِکْرِیْ اِذْہَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی۔ فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی۔ ) (طٰہٰ : ٤٢ تا ٤٥) ” موسیٰ تو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ اور میری یاد سے غافل نہ ہونا۔ دونوں فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ سرکش ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ “ (فَاصْبِرْ اِِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بالْعَشِیِّ وَالْاِِبْکَارِ ) (المومن : ٥٥) ” پس اے نبی صبر کر۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے، اپنی کوتاہی کی معافی مانگ، اور صبح وشام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتا رہ۔ “ (عَنِ الْمُغِےْرَۃِ (رض) قَالَ قَام النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ فَقِےْلَ لَہُ لِمَ تَصْنَعُ ھٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْر) (مشکوٰۃ : باب التحریض علی قیام الیل) ” حضرت مغیرہ (رض) ذکر کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو اس قدر قیام کرتے کہ آپ کے قدم سوج جایا کرتے تھے۔ آپ سے عرض کی گئی کہ آپ اس قدر کیوں قیام فرماتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا مجھے اس کا شکرگزار بندہ نہیں بننا چاہیے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ کَان النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ ) (رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِی حَالِ الْجَنَابَۃِ وَغَیْرِہَا) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر حال میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے۔ “ مسائل ١۔ آدمی کو فرصت کے وقت اپنے رب کو ضرور یاد کرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کو توجہ اور پوری رغبت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کو یاد کرنے کے فوائد : ١۔ اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : ٩٨) ٢۔ ” اللہ “ کے ذکر سے غافل لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں۔ (المنافقون : ٩) ٣۔ ” اللہ “ کے ذکر سے اعراض کرنا اس کی ناراضگی کو دعوت دینا ہے۔ (الجن : ١٧) ٤۔ ” اللہ “ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : ٣٥) ٥۔ ” اللہ “ کا ذکر دلوں کے لیے سکون و اطمینان کا باعث ہے۔ (الرعد : ٢٨) ٦۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ (البقرۃ : ١٥٢) ٧۔ ” اللہ “ کو کثرت کے ساتھ یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الجمعہ : ١٠ )

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بیشک سختی کے بعد آسانی ہے ، تنگی کے بعد فراخی ہے ، اور اس کے اسباب یہ ہیں ، ان پر عمل کیجئے کہ جب آپ لوگوں کے ساتھ اپنی مشغولیات سے فارغ ہوجائیں اور دنیا کے امور سے فارغ ہوجائیں اور زندگی کی سرگرمیوں قدرے رک جائیں ، جب آپ ان امور سے فارغ ہوجائیں تو پھر اس میدان میں اتر جائیں جس میں آپ کو محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے یعنی اللہ کی عبادت ، اللہ کی طرف توجہ۔ والی ربک فارغب (8:94) ” اپنے رب کی طرف راغب ہوجاﺅ“۔ تو پھر آپ صرف رب کی طرف راغب ہوجائیں ، تمام دنیاوی امور چھوڑدیں ، یہاں تک کہ دعوت اسلامی کی سرگرمیاں بھی چھوڑدیں ، یہ ہے زادراہ۔ ہر سفر کے لئے کوئی نہ کوئی سازوسامان ہوتا ہے اور یہ ہے سازو سامان اس سفر کا۔ جہاڈ کے لئے تیاری کی ضرورت ہے اور یہ ہے تیاری اور اس کے نتیجے میں تنگی کی بجائے فراخی آجائے گی۔ مشکل میں کشادگی آجائے گی اور یہی ہے صحیح طریقہ کار۔ اس سورت کا خاتمہ بھی الضحیٰ کی طرح ہوتا ہے ۔ اختتام پر دل میں دو قسم کے احساسات جاگزیں ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو حضور اکرم کے ساتھ نہایت ہی عظیم محبت ہے اور عالم بالا سے اس محبت کے تازہ بہ تازہ جھونکے دم بدم رہے ہیں ، دوسری یہ بات کہ محبت کے ساتھ ساتھ ذات باری کو حضور اکرم کے ساتھ بےحد شفقت اور ہمدردی ہے۔ اور دونوں سورتوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت حضور نہایت مشکل دور سے گزر رہے تھے ۔ لہٰذا عالم بالا کی طرف سے اس محبت اور شفقت کے اظہار کی ضرورت تھی ۔ یہ حق کی دعوت کی بھاری ذمہ داری ہے۔ کمر توڑ دینے والا ہے لیکن جو لوگ یہ کام کرتے ہیں ان پر اللہ کا نور اور رحمت ہر وقت چوکس رہتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد اللہ جل شانہٗ نے حکم فرمایا ﴿ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ٠٠٧﴾ (جب آپ فارغ ہوجائیں تو محنت کے کام میں لگ جائیں) یعنی داعیانہ محنت میں آپ کا اشتغال خوب زیادہ ہے آپ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو دین حق کی دعوت دیتے ہیں اللہ کے احکام پہنچاتے ہیں اس میں بہت سا وقت خرچ ہوجاتا ہے یہ خیر ہے اللہ تعالیٰ شانہ کے حکم سے ہے اس میں مشغول ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور اس کا اجر بھی بہت زیادہ ہے لیکن ایسی عبادت جس میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع ہو بندوں کا توسط بالکل ہی نہ ہو ایسی عبادت کرنا ضروری ہے جب آپ کو دعوت اور تبلیغ کے کاموں میں فرصت مل جایا کرے تو آپ اپنی خلوتوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگ جایا کریں، تاکہ اس عبادت کا کیف بھی حاصل ہو اور وہ اجر وثواب بھی ملے جو براہ راست عبادت اور انابت میں ہے۔ اور حقیقت میں یہ جو بلاواسطہ ہے یہی اصل عبادت ہے بندوں کو جو توحید اور ایمان کی دعوت دی جاتی ہے اس کا حاصل بھی تو یہی ہے کہ سب لوگ ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوں جس کے لیے ان کی تخلیق ہوئی ہے جسے سورة ٴ والذاریات کی آیت ﴿وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ٠٠٥٦﴾ میں بیان فرمایا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر عمل کرتے تھے فرائض بھی ادا کرتے تھے ان کے ساتھ عبادات میں بھی مشغول رہتے تھے آپ راتوں رات نماز میں کھڑے رہتے تھے جس سے آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” فاذا فرغت “ خلق خدا کو توحید کی دعوت دو ۔ جب اس سے فراغت ملے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگ جاؤ، ای اذا فرغت من دعوۃ الخلق فاجتہد فی عبادۃ الرب (مدارک) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اپنے ضروری کاموں سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں کوشش کرو۔ عن مجاد اذا فرغت من امر الدنیا فانصب فی عبادۃ ربک وصل (معالم) ۔ حاصل یہ ہے کہ اپنے تمام اوقات کو تبلیغ و دعوت، جہاد اور عبادت میں مصروف رکھو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) اور آپ جب خلق کی خدمت سے فرصت پائیں تو محنت کیا کیجئے۔