Surat ul Alaq

Surah: 96

Verse: 6

سورة العلق

کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ﴿۶﴾

No! [But] indeed, man transgresses

سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says; كَلَّ إِنَّ الاِْنسَانَ لَيَطْغَى أَن رَّاهُ اسْتَغْنَى

طالب علم اور طالب دنیا: فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور ، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے ۔ مال کی بابت بھی سوال ہو گا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا ۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے ۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر طالب علموں کی فضیلت کے بیان کی یہ آیت تلاوت کی انما یخشی اللّٰہ من عبادہ العما ءُ یہ حدیث مرفوعاً یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے بھی مروی ہے کہ دو لالچی ہیں جو شکم پر نہیں ہوتے طالب علم اور طالب دنیا اس کے بعد کی آیات ابو جہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا ۔ پس پہلے تو اسے بہترین طریقہ سمجھا گیا کہ جنھیں تو روکتا ہے یہی اگر سیدھی راہ پر ہوں انہی کی باتیں تقوے کی طرف بلاتی ہوں ، پھر تو انہیں پر تشدد کرے اور خانہ اللہ سے روکے تو تیری بد قسمتی کی انتہا ہے یا نہیں ؟ کیا یہ روکنے والا جو نہ صرف خود حق کی راہنمائی سے محروم ہے بلکہ راہ حق سے روکنے کے درپے ہے اتنا بھی نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اس کا کلام سن رہا ہے اور اس کے کلام اور کام پر اسے سزا دے گا ، اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرارہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت ، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑ دی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں ، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلالے ۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے ۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا ؟ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو جہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے دوسری روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کردیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا ، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے ( ملاحظہ ہو ترمذی وغیرہ ) مسند احمد میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو جہل نے کہا اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لونگا تو اس کی گردن توڑ دوں گا ۔ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے نہ اپنے بال بچوں کو پاتے ۔ ابن جریر میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری ۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابو جہل موجود تھا اور آپ نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا ؟ اس نے کہا کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہوگئے ۔ ابن عباس فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابو جہل نے پوچھا کہ کیا محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تمھارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا ہاں تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملادوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بد حواسی سے پیچھے ہٹا ۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے ؟ کہنے لگا کہ میرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ ذرا قریب آجاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے پس یہ آیتیں کلا ان الا نسان لیطغٰی سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں ۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام حضرت ابو ہریرہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند مسلم ، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے پھر فرمایا کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تم اس مردود کی بات نہ ماننا ، عبادت پر مداومت کرنا اور بکثرت عبادت کرتے رہنا اور جہاں جی چاہے نماز پڑھتے رہنا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرنا ۔ اللہ تعالیٰ خود تیرا حافظ وناصر ہے ۔ وہ تجھے دشمنوں سے محفوظ رکھے گا ، تو سجدے میں اور قرب اللہ کی طلب میں مشغول رہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو پہلے یہ حدیث بھی گذر چکی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورہ اذالسماء نشقت میں اور اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورہ اقراء کی تفسیر ختم ہوئی ۔ اللہ کا شکر و احسان ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) کلا ان الانسان لیطغی …:” کلا “ کا معنی ” ہرگز نہیں “ ،” خبر ’ ار “ اور ” حق یہ ہے “ میں سے موقع کی مناسبت سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔” الرجعی “” رجع یرجع “ ) (ض) سے ” بشری “ کے وزن پر مصدر ہے۔ (٢) یہ آیات پہلی پانچ آیات کے بعد وقفہ سے نازل ہوئیں، جب ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آیا اور کہنے لگا :” کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا ؟ “ یہ بات اس نے تین بار کہی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو اسے ڈانٹا، اس پر ابوجہل کہنے لگا :” تم جانتے ہو اس شہر میں مجلس کے ساتھ مجھ سے زیادہ کسی کے نہیں۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں :(فلیدع نادیہ، سندع الربانیۃ) (العلق : ١٨، ١٨) ’ پس وہ اپنی مجلس کو بلا لے۔ ہم عنقریب جہنم کے فرشوتں کو بلا لیں گے۔ “ (ترمذی : تفسیر القرآن، باب ومن سورة اقرا باسم ربک : ٣٣٣٩) ترمذی اور البانی (رح) نے اسے صحیح کا ہے۔ (٣) سورت کی ابتدائی پانچ آیات کے ساتھ ان آیات کی مناسبت یہ ہے کہ انسان اتنی نعمتیں جو اوپر ذکر ہوئیں، ملنے کے باوجود احسان ماننے اور شکر کرنے کے بجائے سرکشی اختیار کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ اسے ضرورت کی ہر چیز دے کر دوسروں سے غنی کردیتا ہے تو وہ بندگی کی حد سے نکل کر مقابلے پر آجاتا ہے۔ فرمایا، بندے ! جتنی چاہے سرکشی کرلے، یقیناً تجھے اپنے رب کے پاس واپس آنا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verses [ 6-7] كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ أَن رَّ‌آهُ اسْتَغْنَىٰ (The fact is that man crosses the limits, because he deems himself to be free of need.) Although the verse immediately refers to a particular person, namely, Abu Jahl who insulted the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the statement is general which draws man&s attention to one of his weaknesses. So long as man is in need of others, he walks straight; but when he thinks that he does not need anyone, he tends towards transgression, and develops the tendency to wrong-doing, tyranny and oppression. This is generally the behavior of the affluent people, government officials, and people with abundant children and friends or servants. They become purse-proud and intoxicated with the leadership power they exercise on their groups. Abu Jahl was a typical example of this. He was one of the well-to-do and prosperous people of Makkah. All the members of his tribe and inhabitants of the city respected and obeyed him. He became arrogant and insulted the leader of all the Prophets - the noblest of creation. The next verse warns such arrogant people about the evil consequences of their behavior.

کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی، اس آیت کا روئے سخن اگرچہ ایک خاص شخص یعنی ابوجہل کی طرف ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کی تھی مگر عنوان عام رکھا ہے جس میں عام انسانوں کی ایک کمزوری بیان کی گئی وہ یہ ہے کہ انسان جب تک دوسروں کا محتاج رہتا ہے تو سیدھا چلتا ہے اور جب اس کو یہ گمان ہوجائے کہ میں کسی کا محتاج نہیں سب سے بےنیاز ہوں تو اس کے نفس میں طغیان یعنی سرکشی وغیرہ اور دوسروں پر ظلم وجور کے رجحانات پیدا ہوجاتے ہیں، جیسا کہ عموماً مالداروں اور اقتدار حکومت والوں اور اولاد و احباب یا خدام کی کثرت رکھنے الوں میں اس کا بکثرت مشاہدہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمول اور جماعت جتھے کی طاقت میں مست ہو کر کسی کو نظر میں نہیں لاتے، چونکہ ابوجہل کا بھی یہی حال تھا کہ مکہ مکرمہ کے خوشحال لوگوں میں سے تھا اور اس کے قبیلے بلکہ پورے شہر کے لوگ اس کی تعظیم و تکریم کرتے اور بات مانتے تھے وہ بھی اسی پندار میں مبتلا ہوا یہاں تک کہ سید الانبیاء اور اشرف الخلائق کی شان میں گستاخی کر بیٹھا۔ اگلی آیت میں ایسے سرکشوں کے برے انجام پر تنبیہ ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى۝ ٦ ۙ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں ( سے ) عہد لے لیا ہے ہر گز نہیں ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ہرگز نہیں ۔ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] کچھ شک نہیں کہ خدا نے سے جو حکم دیا ۔ اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت آیات ہیں ۔ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔ طغی طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] ( ط غ ی) طغوت وطغیت طغوانا وطغیانا کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں اور أَطْغَاهُ ( افعال) کے معنی ہیں اسے طغیان سرکشی پر ابھارا اور طغیان کے معنی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] وہ بےحد سرکش ہوچکا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(6 ۔ 7) کافر کھانے، پینے، لباس اور سواری میں حد آدمیت سے نکل جاتا ہے اسوجہ سے کہ وہ اپنے آپ کو مال کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے مستغنی سمجھتا ہے آخر میں سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا ہوگا۔ شان نزول : كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى الخ ابن منذر نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ابوجہل کہنے لگا کیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے درمیان نماز پڑھتے ہیں جواب میں کہا گیا ہاں ! تو وہ بدبخت کہنے لگا لات و عزی کی قسم اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو نعوذ باللہ ان کی گردن پر پیر رکھ دوں گا ان کے چہرہ انور کو مٹی میں رگڑ دوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى الخ

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦{ کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی ۔ } ” کوئی نہیں ! انسان سرکشی پر آمادہ ہو ہی جاتا ہے۔ “ انسان سرکشی اور ظلم و زیادتی پر کیوں اتر آتا ہے ؟ اس کی وجہ اگلی آیت میں بتائی گئی :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7 That is, man should never adopt an attitude of ignorance and rebellion against the Bountiful God Who has been so generous to him

سورة العلق حاشیہ نمبر : 7 یعنی ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ جس خدائے کریم نے انسان پر اتنا بڑا کرم فرمایا ہے اس کے مقابلہ میں وہ جہالت برت کر وہ رویہ اختیار کرے جو آگے بیان ہورہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: یہاں سے سورت کے آخر تک جو آیتیں ہیں، وہ غارِ حرا کے مذکورہ بالا واقعے کے کافی بعد نازل ہوئی تھیں۔ اور اُن کا واقعہ یہ ہے کہ ابوجہل آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا سخت دُشمن تھا، ایک دن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم حرم میں نماز پڑھ رہے تھے، اُس نے آپ کو نماز پڑھنے سے منع کیا، اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ نے نماز پڑھی تو میں (معاذاللہ) آپ کی گردن کو پاوں سے کچل دُوں گا، اِس موقع پر یہ آیات نازل ہوئی تھیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦۔ ١٩۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام طور پر انسان کی عادت کا ذکر فرمایا کہ مال دار ہو کر اپنے آپے سے باہر ہوجانا یہ انسان کی ایک جبلی عادت ہے پھر جو کچھ فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل اگر راستہ پر آجاتا تو اس کے لئے اچھا تھا جب وہ راستہ پر نہیں آیا تو اللہ اس کے کرتوت دیکھ رہا ہے ایک دن اس کا کیا اس کے آگے آئے گا پھر فرمایا کہ ابوجہل آئندہ حرم میں نماز پڑھنے کو جو منع کرتا ہے اے رسول اللہ کے تم کو اس کا کہنا نہیں ماننا چاہئے اور ہمیشہ حرم میں نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے قربت ڈھونڈنی چاہئے اور حفاظت تمہاری اللہ کے ہاتھ ہے اگر ابوجہل اپنے حمایتوں اور اپنی مجلس کے لوگوں کو اپنی مدد کے لئے بلائے گا تو اللہ تعالیٰ بھی دوزخ کے فرشتوں کو اس کے پے چھ لگا دے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(96:6) کلا ان الانسان لیطغی : کلا کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) کلا بمعنی حقا ہے۔ یہ الکسائی کا مذہب ہے۔ (2) ابن حیان کا قول ہے کہ کلا تنبیہ کے طور پر بمعنی الا آیا ہے جیسا کہ آیت الا انھم ہم المفسدون (2:12) میں ہے۔ (3) علامہ پانی پتی (رح) تحریر فرماتے ہیں :۔ جو مشرک حد سے بڑھ کر رسالت کے منکر تھے اور نماز سے روکتے تھے۔ ان کو بازداشت کی گئی ہے اگرچہ اس کا ذکر کلام میں نہیں ہے۔ مگر سیاق کلام یا حال اس پر دلالت کر رہا ہے۔ (4) علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں :۔ ردع لمن کفر بنعمۃ اللہ بطغیانہ وان لم یذکر لدلالۃ الکلام علیہ۔ ردع اس کے لئے ہے جو سرکشی کرتا ہوا اللہ کی نعمت سے انکار کرتا ہے۔ اگرچہ اس کا ذکر کلام میں نہیں ہے۔ مگر کلام اس پر دلالت کر رہا ہے۔ ان حرف تحقیق ہے۔ حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ الانسان اسم ان لیطغی اس کی خبر۔ یطغی مضارع کا واحد مذکر غائب طغیان (باب فتح) مصدر سے بمعنی حد سے بڑھنا سرکشی کرنا۔ الانسان میں اگرچہ الف لام جنسی ہے مگر اس میں بعض افراد کا لحاظ پیش نظر ہے مدارک التنزیل میں ہے :۔ نزلت فی ابی جھل الیٰ اخر السورۃ (اس سورة کے اخیر تک کلام ابی جہل کے بارے میں نازل ہوا) لہٰذا بعض کے نزدیک الانسان سے مراد ابو جہل ہے اس لئے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ابو جہل کفر میں اور اللہ تعالیٰ کے مقابل غرور و سرکشی میں حد سے بڑھ رہا ہے۔ بعض نے الانسان سے مراد عام انسان ہی لیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اسے علم اور فہم کے ذریعے دوسری مخلوق سے معزز بنایا لیکن انسان اپنے رب کا تابعدار ہونے کی بجائے اس کا باغی بن جاتا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ سورة التّین میں چار قسمیں اٹھاکر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے نہ صرف اسے بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے بلکہ انسان کو قلم کے ذریعے علم کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ اس بنا پر انسان دوسری مخلوق کو اپنے تابع بنا لیتا ہے، چاہیے تو یہ کہ انسان اپنے رب کا تابع فرمان اور شکرگزار ہوتا لیکن اکثر انسانوں کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں کچھ اختیارات اور وسائل حاصل ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے رب کے باغی بن جاتے ہیں بلکہ دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور اپنے خالق کی ذات اور اس کے احکام کی پرواہ نہیں کرتے۔ انسان کو مال مل جائے تو بخیل ہوجاتا ہے، اختیارات حاصل ہوں تو سرکش بنتا ہے، قوت حاصل ہو تو دھنگا فساد کرتا ہے، وسائل مل جائیں تو دوسروں پر ظلم کرتا ہے۔ وہ یہ حقیقت بھول جاتا ہے کہ میں نے بالآخر اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اس سے اگلی آیات میں ایسے شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے۔ (وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّمَّسَّہٗ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (یونس : ١٢) ” اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر بیٹھا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کے وقت جو اسے پہنچی ہو پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے عمل مزین کردیے گئے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ (وَاِِذَا اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاَی بِجَانِبِہِ وَاِِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِیضٍ ) (حم السجدۃ : ٥١) ” انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے، اور جب اسے کوئی آفت آتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ “ (عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ (رض) عَنِ النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِذَا رَأَیْتَ اللَّہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلَی مَعَاصِیہِ مَا یُحِبُّ فَإِنَّمَا ہُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَلاَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاہُمْ بَغْتَۃً فَإِذَا ہُمْ مُبْلِسُونَ ) (رواہ احمد : مسند عقبۃ بن عامر قال البانی صحیح) حضرت عقبہ بن عامر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں جب اللہ بندے کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود عطا کرتا جائے جس کا بندہ خواہش مند ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کو بھول جاتا ہے، یہی وہ مہلت ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی (جب اس بات کو بھول گئے جس کی ہم نے انہیں نصیحت کی تھی تو ہم نے ان کے لیے ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ وہ اس پر خوش ہوگئے تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کے رہ گئے۔ “ مسائل ١۔ انسان کو وسائل حاصل ہوں تو وہ اپنے رب کا تابع فرمان ہونے کی بجائے اس کا نافرمان بن جاتا ہے۔ ٢۔ کوئی تابعدار ہو یا باغی بالآخر اس نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہرشخص نے مر کر اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے : ١۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے۔ (الرعد : ٣٦) ٢۔ ” اللہ “ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : ٨٥) ٣۔ زمین اور جو کچھ اس میں ہے ہم ہی اس کے وارث ہیں اور وہ ہماری طرف لوٹیں گے (مریم : ٤٠) ٤۔ اللہ کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور اسی کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ (الزمر : ٤٤) ٥۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اسی کے حضور تم نے پیش ہونا ہے (یونس : ٥٦) ٦۔ میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے رہیے بالآخر تم نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ (لقمان : ١٤) ٧۔ ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے، پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (یونس : ٤٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انسان یہ نہیں سوچتا کہ اسے دینے والا اور غنی کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ اس سے قبل اسے پیدا بھی اللہ نے کیا اور تمام مخلوقات سے مکرم بھی بنایا اور اسے تعلم بھی دی لیکن انسان کا عمومی رویہ یہ ہے کہ جب اسے دیا جاتا ہے اور غنی بنا دیا جاتا ہے تو یہ بالمعموم شکر رب ادا نہیں کرتا الایہ کہ کسی کو اس کا ایمان اس ناشکری سے بچادے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اس سرچشمے کا احساس بھی نہیں ہوتا جس سے یہ عطا اور غنا آرہی ہوتی ہے ، حالانکہ اس کو دینے والا اور غنی بنانے والا وہی ہوتا ہے جس نے اسے پیدا کیا ، عزت بخشی اور علم دیا۔ لیکن انسان نہ صرف یہ کہ اس منعم کا احساس مند نہیں ہوتا بلکہ وہ نہایت سرکشی اور فسق وفجور کی راہ اختیار کرتا ہے بغاوت کرتا ہے اور تکبر کرتا ہے جبکہ اس کا حق یہ تھا کہ وہ اللہ کے انعامات کو جانتا اور شکر کرتا۔ یہ ایک سرکش انسان کی تصویر کھینچ دی گئی جو اپنی تخلیق کو بھی بھول چکا ہے اور جس کو دوبت مندی نے سخت بگاڑدیا ہے ، تو ایک ملفوف اور بالواسطہ انداز میں اسے دھمکی دی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

روایت احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئیں۔ ابو جہل کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت زیادہ دشمنی تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرام میں تشریف لاتے تھے اور نماز ادا فرماتے تھے ایک دن ابو جہل نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مٹی میں اپنا چہرہ ملائیں گے (یعنی سجدہ میں جائیں گے) تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ کی گردن مبارک پر پاؤں رکھنے کے لیے آگے بڑھا فوراً الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور وہ ہاتھوں کو اس طرح ہلا رہا تھا جیسے کسی چیز سے بچاؤ کر رہا ہو، لوگوں نے کہا کیا ہوا ؟ کہنے لگا کے میرے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان آگ کی ایک خندق ہے اور ڈراؤنی حالت ہے اور بازوؤں والی مخلوق ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر یہ مجھ سے قریب ہوجاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو کر کے اچک لیتے۔ اس پر آیت کریمہ ﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤىۙ٠٠٦﴾ سے آخر سورت تک نازل ہوئیں۔ (رواہ مسلم صفحہ ٣٧٢: ج ٢) اب سبب نزول جاننے کے بعد آیات کا مطلب اور ترجمہ سمجھ لیجئے ﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤىۙ٠٠٦﴾ (یہ تحقیقی بات ہے کہ انسان ضرور ضرور سرکشی اختیار کرلیتا ہے) یعنی آدمیت کی حد سے نکل جاتا ہے اور اپنے کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اپنے خالق کی نافرمانی اور سرکشی میں لگ جاتا ہے۔ ﴿ اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ٠٠٧﴾ (اس کا یہ سرکشی پر اتر آنا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی دیکھتا ہے) یعنی مال اور دولت کی وجہ سے یوں سمجھتا ہے کہ اب مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے میں ہی سب کچھ ہوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی نے سب کچھ دیا ہے وہ دے بھی سکتا ہے اور چھین بھی سکتا ہے۔ سرکش انسان پیدا کرنے والے، مال دینے والے کی طرف بالکل متوجہ نہیں ہوتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” کلا ان الانسان “ یہاں الانسان سے اکثر مفسرین کے نزدیک ابو جہل مراد ہے یا اس سے جنس مشرک انسان مراد ہے۔ کلا بمعنی حقا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ایسے انعامات اور ایسے واضح بیانات کے باوجود مشرک انسان سرکشی کرتا اور عصیان و فسوق میں حد سے تجاوز کرتا ہے۔ ” ان راہ استغنی “ لام تعلیل مقدر ہے۔ ای لان رای نفسہ استغنی ای صار ذا مال وثروۃ (قرطبی ج 20 ص 123) ۔ مشرک انسان اس لیے سرکش اور طاغی ہوا ہے کہ وہ دولت مند ہے اس لیے اسے دین و ایمان کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ نادان بدبخت یہ سمجھتا ہے کہ پس دنیا کی دولت ہی اصل چیز ہے اسی سے انسان کی عزت و عظمت ہے

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) سچ تو یہ ہے کہ انسان حد سے بڑھ جاتا ہے یعنی آدمیت اور انسانیت کی حد سے نکل جاتا ہے۔