Verse [ 4] وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ (And those who were given the Book did not disagree but after the Clear Proof came to them.) The verb tafarraqa here means &to deny, reject or differ and disagree&. The verse means to say that the People of the Book had eagerly awaited the advent of a great Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about whom clear prophecies were found in their Scriptures, clear description of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was given, in that the Qur&an would descend upon him and it would be compulsory for them to obey and follow him, but when he appeared in fact, then instead of accepting him, they rejected him. The Qur&an points out that there was a complete agreement among the Jews and the Christians that the Final Messenger t will make his appearance, as in [ 2:89] وَكَانُوا مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا |"...while earlier, they used to seek help against those who disbelieved...|" That is, the Torah had in several places foretold the coming of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In fact, the Jews themselves used to tell the pagan Arabs that a new Prophet was soon to come who will vanquish them, and the Jews claimed that they would be with him, so they would be victorious. Further in [ 2:89] the Qur&an states فَلَمَّا جَاءَهُم مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ |"...yet when there came to them that they did identify, they denied it... |". The phrase &that they did identify& could refer to the &Final Messenger& (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) or the &new Divine Book [ the Qur&an ] & or the &religion of Truth&. The same theme runs through the verse under comment: Many people accepted the new Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the new Book and the new religion in terms of the prophecies made in their revealed Scriptures, but a large number, especially the Christians, rejected them. It is a strange phenomenon that before his advent they believed in him without a single dissenting voice, but when he appeared as the Clear Proof, dissention arose and a large number rejected him while a small number believed in him. Since this phenomenon was restricted to the People of the Book, it did not include the pagans, unlike verse [ 1] which includes the pagans also. Allah knows best!
وما تفرق الذین اوتوا الکتب الامن بعد ماجآءتہم البینة تفرق سے مراد اس جگہ انکار و اختلاف ہے۔ قرآن اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت سے جس پر تمام اہل کتاب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت اور بعثت سے پہلے متفق تھے کیونکہ ان کی آسمانی کتب تورات و انجیل میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت و نبوت کا اور آپ کی خاص خاص صفات اور آپ پر قرآن نازل ہونے کا واضح ذکر موجود تھا اس لئے کسی یہودی نصرانی کو اس میں اختلاف نہیں تھا کہ آخر زمانے میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاویں گے۔ آپ پر قرآن نازل ہوگا آپ ہی کا اتابع سب پر لازم ہوگا، جیسا کہ قرآن کریم میں بھی ان کے اس اتفاق کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ وکانوا من قبل یستفخون علی الذین کفروا یعنی یہ اہل کتاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آپ کے آنے کے منتظر تھے اور جب کبھی مشرکین سے ان کا مقابلہ ہوتا تو آنے والے نبی کے واسطے سے اپنی فتح مانگتے تھے یعنی اللہ سے دعا کرتے تھے کہ نبی آخر الزماں جو آنے والے ہیں ان کی برکت سے ہمیں فتح نصیب فرما دے یا یہ کہ یہ مشرکین سے ہوا کرتے تھے تم لوگ ہمارے خلاف زور آزمائی کرتے ہو مگر عنقریب ایک ایسے رسول آنے والے ہیں جو تم سب کو زیر کردیں گے اور ہم چونکہ ان کے ساتھ ہوں گے تو ہماری فتح ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے تو اہل کتاب سب کے سب آپ کی نبوت و رسالت پر متفق تھے مگر جب آپ تشریف لے آئے تو منکر ہوگئے۔ اسی مضمون کو قرآن میں ایک جگہ فرمایا فلما جآءھم ماعرفوا کفروابہ، یعنی جب ان لوگوں کے پاس وہ رسول یا دنی حق یا قرآن آ گیا جس کو انہوں نے بھی اپنی آسمانی کتابوں کی پیش گوئی کے مطابق پہچان لیا تو لگے کفر کرنے اور آیت مذکورہ میں اس مضمون کو اس طرح ذکر فرمایا کہ وما تفرق الذین اوتوا الکتب الآیتہ، یعنی یہ عجیب بات ہے کہ آپ کے آنے اور دیکھنے سے پہلے تو ان لوگوں کو آپ سے کوئی اختلاف نہیں تھا سب آپ کی نبوت کے اعتقاد پر جمع تھے مگر جب یہ اللہ کا بینہ واضحہ یعنی رسول آخر الزمان تشریف لے آئے تو ان میں افتراق پیدا ہوگیا کچھ لوگ تو آپ پر ایمان لائے اور بہت سے انکار کرنے لگے۔ یہ معاملہ چونکہ اہل کتاب ہی کے ساتھ مخصوص تھا اس لئے اس آیت میں صرف اہل کتاب ہی کا ذکر فرمایا ہے مشرکین کو شالم نہیں کیا بلکہ فرمایا وما تفرق الذین اوتوا الکتب آلایہ، اور پہلا معاملہ مشرکین اور اہل کتاب دونوں کو عام اور شامل تھا اس لئے وہاں فرمایا لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب و المشرکین منفکین اور خلاصہ تفسیر مذکور میں معاملہ ثانیہ کو بھی مشرکین اور اہل کتاب دونوں میں عام قرار دے کر اس کے مطابق تقریر کی گئی ہے واللہ اعلم