Surat ul Bayyina

Surah: 98

Verse: 4

سورة البينة

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ؕ﴿۴﴾

Nor did those who were given the Scripture become divided until after there had come to them clear evidence.

اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آ جانے کے بعد ہی ( اختلاف میں پڑ کر ) متفرق ہوگئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the People of the Scripture differed not until after there came to them the Bayyinah. This is similar to Allah's statement, وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَأءَهُمُ الْبَيِّنَـتُ وَأُوْلَـيِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ And be not as those who divided and differed among themselves after the Bayyinat came to them. It is they for whom there is an awful torment. (3:105) This refers to the people of those divinely revealed Scriptures that were sent down to the nations that were before us. After Allah established the proofs and evidences against them, they divided and differed concerning that which Allah had intended in their Scriptures, and they had many differences. This is like what has been reported in a Hadith that has many routes of transmission, إِنَّ الْيَهُودَ اخْتَلَفُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَإِنَّ النَّصَارَى اخْتَلَفُوا عَلى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الاْإُمَّةُ عَلَى ثَلَإثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلاَّ وَاحِدَة - Verily, the Jews differed until they became seventy-one sects. - And verily, the Christians differed until they became seventy-two sects. - And this Ummah will divide into seventy-three sects, and all of them will be in the Fire except one. They said, "Who are they, O Messenger of Allah" He replied, مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي (Those who are upon), what I and my Companions are upon. The Command of Allah was merely that They make their Religion solely for Him Allah says, وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ .... And they were commanded not, but that they should worship Allah, making religion purely for Him alone, This is similar to Allah's statement, وَمَأ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ And We did not send any Messenger before you but We revealed to him: La ilaha illa Ana. (21:25) Thus, Allah says, ... حُنَفَاء ... Hunafa' meaning, avoiding Shirk and being truly devout to Tawhid. This is like Allah's statement, وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ And Verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah, and avoid the Taghut (false deities)." (16:36) A discussion of the word Hanif has already been mentioned previously and in Surah Al-An`am, so there is no need to repeat it here. ...

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے قبل اکھٹے تھے، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعث ہوگئی، اس کے بعد یہ متفرق ہوگئے، ان میں سے کچھ مومن ہوگئے لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعث و رسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نقطہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالانکہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیونکہ یہ بہرحال علم والے تھے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] فرقہ بندی کی اصل وجہ :۔ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ان اہل کتاب کے پاس محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسے جلیل القدر پیغمبر اور قرآن جیسی روشن کتاب آنے کے بعد ان میں تفرقہ پیدا ہوگیا۔ کچھ تھوڑے بہت لوگ ایمان لے آئے باقی کافر کے کافر ہی رہے حالانکہ ان کے پاس واضح دلائل آچکے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے بعد ان کی امت جو فرقوں میں بٹنا شروع ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ان کے پاس روشن دلائل موجود نہیں ہوتے یا ان پر حق بات مبہم رہ جاتی ہے۔ بلکہ وہ اپنی اپنی اغراض، مفادات اور جاہ طلبی کی ہوس میں فرقہ در فرقہ بٹتے چلے جاتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وما تفرق الذین اوتوا الکب…: اس آیت میں اہل کتاب کے ایک جرم کا ذکر فرمایا، مشرکین کا نام نہیں لیا، کیونکہ جب پڑھے لکھوں کا یہ حال ہے تو جاہل مشرکین کی ضد اور عناد کا اندازہ خود کرلیں۔ اہل کتاب کا یہ جرم ان کا باہمی تفرقہ تھا اور اس جرم کا ارتکاب انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے بھی کیا اور آپ کی آمد پر بھی۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے وہ بہتر (٧٢) فرقوں میں بٹ چکے تھے۔ اس آیت میں وضاحت فرمائی کہ ان کے لاگ الگ بہتر (٧٢) فرقے بننے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اللہ کے حکم کا علم نہ تھا، نہیں ! بلکہ ” البینۃ “ (کھلی دلیل اور واضح حکم) موجود ہونے کے باوجود باہمی ضد اور عناد کی وجہ سے کسی نے احبارو رہبان میں سے کسی ایک کے اقوال کو حجت مان کر اس کے نام پر فرقہ بنا لیا اور سک نے دوسرے کے نام پر یہی حال مسلمانوں کا ہوا۔ ابوہریرہ (رض) عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(تفرقت الیھود علی احدی و سبعین فرقۃ او اثنتین وسبعین فرقۃ ، والنصاری مثل ذلک، وتفترق امتی علی ثلاث وسبعین فرقۃ) (ترمذی، الایمان، باب ما جاء فی افتراق ھذہ الامۃ : ٢٦٣٠، وقال ترمذی والالبانی حسن صحیح)” یہود اکہتر (٧١) یا بہتر (٧٢) فرقوں میں ب ٹ گئے، نصرانیوں کا بھی یہی حال ہوا اور میری امت تہتر (٧٣) فرقوں میں بٹ جائے گی۔ “ اس افترقا کا حل پہلے بھی یہ تھا اور اب بھی یہی ہے کہ تمام امت اللہ کے نازل کردہ احکام پر متفق ہوجائے، علماء کے اقوال سے کتاب و سنت مسجھنے میں مدد لی جائے مگر ان میں سے کسی کے قول کو شروع سمجھ کر فرقہ نہ بنایا جائے، بلکہ جہاں اس کی بات وحی الٰہی کے خلاف ہو، خواہ کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، اسے یکسر ترک کردیا جائے۔ (٢) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے بعد آپ پر اہل کتاب کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہرگز نہ تھی کہ انہیں آپ کے سچا ہونے ک میں کوئی شک تھا، بلکہ پہلی کتابوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی واضح بشارت اور نشانیاں موجود ہونے کی وجہ سے وہ آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پہچانتے تھے، مگر محض حسد اور عناد کی وجہ سے آپ کے بارے میں جدا جدا ہوگئے، کوئی ایمان لے آیا اور کوئی کفر پر ڈٹا رہاے۔ حسد اور عناد ایک تو یہ تھا کہ آپ نبی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل سے کیوں ہیں اور ایمان لے آیا اور کوئی کفر پر ڈٹا رہا۔ حسد اور عناد ایک تو یہ تھا کہ آپ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسمایعل سے کیوں ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی مذہبی سرداری چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse [ 4] وَمَا تَفَرَّ‌قَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ (And those who were given the Book did not disagree but after the Clear Proof came to them.) The verb tafarraqa here means &to deny, reject or differ and disagree&. The verse means to say that the People of the Book had eagerly awaited the advent of a great Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about whom clear prophecies were found in their Scriptures, clear description of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was given, in that the Qur&an would descend upon him and it would be compulsory for them to obey and follow him, but when he appeared in fact, then instead of accepting him, they rejected him. The Qur&an points out that there was a complete agreement among the Jews and the Christians that the Final Messenger t will make his appearance, as in [ 2:89] وَكَانُوا مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُ‌وا |"...while earlier, they used to seek help against those who disbelieved...|" That is, the Torah had in several places foretold the coming of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In fact, the Jews themselves used to tell the pagan Arabs that a new Prophet was soon to come who will vanquish them, and the Jews claimed that they would be with him, so they would be victorious. Further in [ 2:89] the Qur&an states فَلَمَّا جَاءَهُم مَّا عَرَ‌فُوا كَفَرُ‌وا بِهِ |"...yet when there came to them that they did identify, they denied it... |". The phrase &that they did identify& could refer to the &Final Messenger& (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) or the &new Divine Book [ the Qur&an ] & or the &religion of Truth&. The same theme runs through the verse under comment: Many people accepted the new Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the new Book and the new religion in terms of the prophecies made in their revealed Scriptures, but a large number, especially the Christians, rejected them. It is a strange phenomenon that before his advent they believed in him without a single dissenting voice, but when he appeared as the Clear Proof, dissention arose and a large number rejected him while a small number believed in him. Since this phenomenon was restricted to the People of the Book, it did not include the pagans, unlike verse [ 1] which includes the pagans also. Allah knows best!

وما تفرق الذین اوتوا الکتب الامن بعد ماجآءتہم البینة تفرق سے مراد اس جگہ انکار و اختلاف ہے۔ قرآن اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت سے جس پر تمام اہل کتاب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت اور بعثت سے پہلے متفق تھے کیونکہ ان کی آسمانی کتب تورات و انجیل میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت و نبوت کا اور آپ کی خاص خاص صفات اور آپ پر قرآن نازل ہونے کا واضح ذکر موجود تھا اس لئے کسی یہودی نصرانی کو اس میں اختلاف نہیں تھا کہ آخر زمانے میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاویں گے۔ آپ پر قرآن نازل ہوگا آپ ہی کا اتابع سب پر لازم ہوگا، جیسا کہ قرآن کریم میں بھی ان کے اس اتفاق کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ وکانوا من قبل یستفخون علی الذین کفروا یعنی یہ اہل کتاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آپ کے آنے کے منتظر تھے اور جب کبھی مشرکین سے ان کا مقابلہ ہوتا تو آنے والے نبی کے واسطے سے اپنی فتح مانگتے تھے یعنی اللہ سے دعا کرتے تھے کہ نبی آخر الزماں جو آنے والے ہیں ان کی برکت سے ہمیں فتح نصیب فرما دے یا یہ کہ یہ مشرکین سے ہوا کرتے تھے تم لوگ ہمارے خلاف زور آزمائی کرتے ہو مگر عنقریب ایک ایسے رسول آنے والے ہیں جو تم سب کو زیر کردیں گے اور ہم چونکہ ان کے ساتھ ہوں گے تو ہماری فتح ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے تو اہل کتاب سب کے سب آپ کی نبوت و رسالت پر متفق تھے مگر جب آپ تشریف لے آئے تو منکر ہوگئے۔ اسی مضمون کو قرآن میں ایک جگہ فرمایا فلما جآءھم ماعرفوا کفروابہ، یعنی جب ان لوگوں کے پاس وہ رسول یا دنی حق یا قرآن آ گیا جس کو انہوں نے بھی اپنی آسمانی کتابوں کی پیش گوئی کے مطابق پہچان لیا تو لگے کفر کرنے اور آیت مذکورہ میں اس مضمون کو اس طرح ذکر فرمایا کہ وما تفرق الذین اوتوا الکتب الآیتہ، یعنی یہ عجیب بات ہے کہ آپ کے آنے اور دیکھنے سے پہلے تو ان لوگوں کو آپ سے کوئی اختلاف نہیں تھا سب آپ کی نبوت کے اعتقاد پر جمع تھے مگر جب یہ اللہ کا بینہ واضحہ یعنی رسول آخر الزمان تشریف لے آئے تو ان میں افتراق پیدا ہوگیا کچھ لوگ تو آپ پر ایمان لائے اور بہت سے انکار کرنے لگے۔ یہ معاملہ چونکہ اہل کتاب ہی کے ساتھ مخصوص تھا اس لئے اس آیت میں صرف اہل کتاب ہی کا ذکر فرمایا ہے مشرکین کو شالم نہیں کیا بلکہ فرمایا وما تفرق الذین اوتوا الکتب آلایہ، اور پہلا معاملہ مشرکین اور اہل کتاب دونوں کو عام اور شامل تھا اس لئے وہاں فرمایا لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب و المشرکین منفکین اور خلاصہ تفسیر مذکور میں معاملہ ثانیہ کو بھی مشرکین اور اہل کتاب دونوں میں عام قرار دے کر اس کے مطابق تقریر کی گئی ہے واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُمُ الْبَيِّنَۃُ۝ ٤ ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ تَّفْرِيقُ ( فرقان) أصله للتّكثير، ويقال ذلک في تشتیت الشّمل والکلمة . نحو : يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ، وقوله : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ، إنما جاز أن يجعل التّفریق منسوبا إلى (أحد) من حيث إنّ لفظ (أحد) يفيد في النّفي، وقال : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] ، وقرئ : فَارَقُوا «1» والفِراقُ والْمُفَارَقَةُ تکون بالأبدان أكثر . قال : هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] ، وقوله : وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] ، أي : غلب علی قلبه أنه حين مفارقته الدّنيا بالموت، وقوله : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] ، أي : يظهرون الإيمان بالله ويکفرون بالرّسل خلاف ما أمرهم اللہ به . وقوله : وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] ، أي : آمنوا برسل اللہ جمیعا، والفُرْقَانُ أبلغ من الفرق، لأنه يستعمل في الفرق بين الحقّ والباطل، وتقدیره کتقدیر : رجل قنعان : يقنع به في الحکم، وهو اسم لا مصدر فيما قيل، والفرق يستعمل في ذلک وفي غيره، وقوله : يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، أي : الیوم الذي يفرق فيه بين الحقّ والباطل، والحجّة والشّبهة، وقوله : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] ، أي : نورا وتوفیقا علی قلوبکم يفرق به بين الحق والباطل «1» ، فکان الفرقان هاهنا کالسّكينة والرّوح في غيره، وقوله : وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] ، قيل : أريد به يوم بدر «2» ، فإنّه أوّل يوم فُرِقَ فيه بين الحقّ والباطل، والفُرْقَانُ : کلام اللہ تعالی، لفرقه بين الحقّ والباطل في الاعتقاد، والصّدق والکذب في المقال، والصالح والطّالح في الأعمال، وذلک في القرآن والتوراة والإنجیل، قال : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] ، وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] ، تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] ، شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] . والفَرَقُ : تَفَرُّقُ القلب من الخوف، واستعمال الفرق فيه کاستعمال الصّدع والشّقّ فيه . قال تعالی: وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] ، ويقال : رجل فَرُوقٌ وفَرُوقَةٌ ، وامرأة كذلك، ومنه قيل للناقة التي تذهب في الأرض نادّة من وجع المخاض : فَارِقٌ وفَارِقَةٌ «3» ، وبها شبّه السّحابة المنفردة فقیل : فَارِقٌ ، والْأَفْرَقُ من الدّيك : ما عُرْفُهُ مَفْرُوقٌ ، ومن الخیل : ما أحد وركيه أرفع من الآخر، والفَرِيقَةُ : تمر يطبخ بحلبة، والفَرُوقَةُ : شحم الکليتين . التفریق اصل میں تکثیر کے لئے ہے اور کسی چیز کے شیر ازہ اور اتحاد کو زائل کردینے پر بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ [ البقرة/ 102] جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں ، رَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ طه/ 94] کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا ۔ اور آیت کریمہ : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ [ البقرة/ 285] ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے ۔ نیز آیت : ۔ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ البقرة/ 136] ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے میں احد کا لفظ چونکہ حرف نفی کے تحت واقع ہونے کی وجہ سے جمع کے معنی میں ہے لہذا تفریق کی نسبت اس کی طرف جائز ہے اور آیت کریمہ : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ [ الأنعام/ 159] جن لوگوں نے اپنے دین میں بہت سے رستے نکالے ۔ میں ایک قرات فارقوا ہے اور فرق ومفارقۃ کا لفظ عام طور پر اجسام کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هذا فِراقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ [ الكهف/ 78] اب مجھ میں اور تجھ میں علیحد گی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِراقُ [ القیامة/ 28] اس ( جان بلب ) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ بس اب دنیا سے مفارقت کا وقت قریب آپہنچا ہے اور آیت کریمہ : وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ [ النساء/ 150] اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں مگر حکم الہی کی مخالفت کر کے اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ [ النساء/ 152] اور ان میں کسی میں فرق نہ کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ الفرقان یہ فرق سے ابلغ ہے کیونکہ یہ حق اور باطل کو الگ الگ کردینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ رجل وقنعان ( یعنی وہ آدمی جس کے حکم پر قناعت کی جائے ) کی طرح اسم صفت ہے مصدر نہیں ہے اور فرق کا لفظ عام ہے جو حق کو باطل سے الگ کرنے کے لئے بھی آتا ہے اور دوسری چیزوں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقاناً [ الأنفال/ 29] مومنوں اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دیگا ( یعنی تم کو ممتاز کر دے گا ۔ میں فر قان سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کے اندر نور اور توفیق پیدا کر دیگا جس کے ذریعہ تم حق و باطل میں امتیاز کرسکو گے تو گویا یہاں فرقان کا لفظ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ سکینۃ اور روح کے الفاظ ہیں اور قرآن نے یوم الفرقان اس دن کو کہا ہے جس روز کہ حق و باطل اور صحیح وغلط کے مابین فرق اور امتیاز ظاہر ہوا چناچہ آیت : ۔ وَما أَنْزَلْنا عَلى عَبْدِنا يَوْمَ الْفُرْقانِ [ الأنفال/ 41] اور اس ( نصرت ) پر ایمان رکھتے ہو جو ( حق و باطل میں ) فرق کرنے کے دن نازل فرمائی ۔ میں یوم الفرقان سے جنگ بدر کا دن مراد ہے کیونکہ وہ ( تاریخ اسلام میں ) پہلا دن ہے جس میں حق و باطل میں کھلا کھلا امتیاز ہوگیا تھا ۔ اور کلام الہی ( وحی ) بھی فرقان ہوتی ہے کیونکہ وہ حق اور باطل عقائد میں فرق کردیتی ہے سچی اور جھوٹی باتوں اور اچھے برے اعمال کو بالکل الگ الگ بیان کردیتی ہے اس لئے قرآن کریم تورات اور انجیل کو فرقان سے تعبیر فرما گیا ہے چناچہ توراۃ کے متعلق فرمایا : ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون هْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقانِ [ البقرة/ 185] (علیہ السلام) کو ہدایت اور گمراہی میں ) فرق کردینے والی ۔ ،۔۔ عطا کی ۔ تَبارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقانَ [ الفرقان/ 1] وہ خدائے عزوجل بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے ۔ وَلَقَدْ آتَيْنا مُوسی وَهارُونَ الْفُرْقانَ [ الأنبیاء/ 48] اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو معجزے دیئے روزوں کا مہینہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( اول اول ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور جس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور حق و باطل کو ) الگ الگ کرنے والا ہے الفرق کے معنی خوف کی وجہ سے دل کے پرا گندہ ہوجانے کے ہیں اور دل کے متعلق اس کا استعمال ایسے ہی ہے جس طرح کہ صدع وشق کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ [ التوبة/ 56] اصل یہ ہے کہ یہ ڈر پوک لوگ ہے ۔ اور فروق وفروقۃ کے معنی ڈرپوک مرد یا عورت کے ہیں اور اسی سے اس اونٹنی کو جو درندہ کی وجہ سے بدک کر دور بھاگ جائے ۔ فارق یا فارقۃ کہا جاتا ہے اور تشبیہ کے طور پر اس بدلی کو بھی فارق کہا جاتا ہے جو دوسری بد لیوں سے علیحد ہ ہو ۔ وہ مرغ جس کی کلفی شاخ در شاخ ہو ( 2 ) وہ گھوڑا جس کا ایک سرین دوسرے سے اونچا ہو ۔ الفریقۃ دودھ میں پکائی ہوئی کھجور ۔ الفریقہ گردوں کی چربی ۔ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے ) قرآن میں ہے :۔ { هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ } ( سورة آل عمران 119) دیکھو ! تم ایسے لوگ ہو کچھ ان سے دوستی رکھتے ہواولائک علیٰ ھدی (2 ۔ 5) یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور کبھی اس میں تصرف ( یعنی بحذف ہمزہ آخر ) بھی کرلیا جاتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع (22) ھؤلا ثم ھؤلاء کلا اعطیتہ ت نوالا محذوۃ بمشال ( ان سب لوگوں کو میں نے بڑے بڑے گرانقدر عطیئے دیئے ہیں جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ بَيِّنَة والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . ( ب ی ن ) البَيِّنَة کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔ خواہ وہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسۃ اور شاھدان ( دو گواہ ) کو بھی بینۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے : کہ مدعی پر گواہ لانا ہے اور مدعا علیہ پر حلف ۔ قرآن میں ہے أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل ( روشن رکھتے ہیں ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] تاکہ جو مرے بصیرت پر ( یعنی یقین جان کر ) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر ) یعنی حق پہچان کر ) جیتا رہے ۔ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں کے کر آئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤{ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَـیِّنَۃُ ۔ } ” اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے تفرقہ نہیں کیا تھا مگر اس کے بعد جبکہ ان کے پاس البیِّنہ آچکی تھی۔ “ یعنی اسی طرح اس سے پہلے بنی اسرائیل کے پاس بھی البیِّنہ (اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی کتاب) آئی تھی ‘ مگر وہ لوگ اس کے بعد بھی راہ راست پر آنے کے بجائے تفرقہ بازی میں پڑگئے۔ ان میں سے کچھ لوگ یہودی بن گئے اور کچھ نصاریٰ ۔ بعد میں نصاریٰ مزید کئی فرقوں میں بٹتے چلے گئے۔ چناچہ البَیِّنہ کے آجانے کے بعد بھی راہ راست پر نہ آنے کے جرم کی پاداش میں وہ لوگ شدید ترین سزا کے مستحق ہوچکے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6 That is, the reason why the people of the Book before this were divided into countless sects because of different kinds of errors and deviation, was not that Allah had failed to send "a clear evidence" from Himself for their guidance, but the fact that they adopted the wrong way after guidance had come from Allah; therefore, they themselves were responsible for their deviation, for Allah had fulfilled His obligation towards them. Likewise, since their scriptures are no longer pure and their books no longer consist of original and correct teachings, Allah by sending a Messenger of His, as a clear evidence, with a hallowed Book, containing sound and pure teachings, has again fulfilled His obligation towards them, so that if even after that they remained divided, they themselves should be responsible for it and should have no excuse left to plead before Allah. This thing has been stated at many places in the Qur'an, e.g. see AI-Baqarah: 213, 253; AI-`Imran: 19: Al-Ma'idah: 44-50; Yunus: 93; Ash-Shura: 13-I5; Al-Jathiyah: 16-18, along with the corresponding notes for fuller understanding.

سورة البینہ حاشیہ نمبر : 6 یعنی اس سے پہلے اہل کتاب جو مختلف گمراہیوں میں بھٹک کر بے شمار فرقوں میں بٹ گئے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالی نے اپنی طرف سے ان کی رہنمائی کے لیے دلیل روشن بھیجنے میں کوئی کسر اٹھا رکھی تھی ، بلکہ یہ روشن انہوں نے اللہ کی جانب سے رہنمائی آجانے کے بعد اختیار کی تھی ، اس لیے اپنی گمراہی کے وہ خود ذمہ داری تھے ، کیونکہ ان پر حجت تمام کی جاچکی تھی ۔ اسی طرح اب چونکہ ان کے صحیفے پاک نہیں رہے ہیں اور ان کی کتابیں بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل نہیں رہی ہیںِ اس لیے اللہ تعالی نے ایک دلیل روشن کی حیثیت سے اپنا ایک رسول بھیج کر اور اس کے ذریعہ سے پاک صحیفے بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل پیش کر کے ان پر پھر حجت تمام کردی ہے ، تاکہ اس کے بعد بھی اگر وہ متفرق رہیں تو اس کی ذمہ داری انہی پر ہو ، اللہ کے مقابلہ میں وہ کوئی حجت پیش نہ کرسکیں ۔ یہ بات قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر فرمائی گئی ہے ۔ مثال کے طور پر ملاحظہ البقرہ ، آیات 213 ۔ 253 ۔ آل عمران 19 ۔ المائدہ 44 تا 50 ۔ یونس 93 ۔ الشوری 13 تا 15 ۔ الجاثیہ 16 تا 18 ۔ اس کے ساتھ اگر وہ حواشی بھی پیش نظر رکھے جائیں جو تفہیم القرآن میں ان آیات پر ہم نے لکھے ہیں تو بات سمجھنے میں مزید آسانی ہوگی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: یہ اُن اہلِ کتاب کی بات ہورہی ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت کے روشن دلائل دیکھنے کے بعد بھی آپ پر ایمان نہیں لائے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کی تشریف آوری کو ایک نعمت سمجھنے کے بجائے ان لوگوں نے ضد، حسد کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مانی اور الگ الگ راستہ اختیار کرلیا، حالانکہ ان کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(98:4) وما تفرق الذین اوتوا الکتب الا من بعد ما جاء تھم البینۃ : جملہ مستانفہ ہے۔ واؤ عاطفہ، ما نافیہ۔ تفرق مضارع صیغہ واحد مذکر غائب۔ تفرق (تفعل) مصدر سے۔ وہ متفرق ہوگیا۔ وہ پھوٹا۔ وہ جدا ہوا۔ الذین اسم موصول۔ اوتوا الکتب صلہ۔ الذین اوتوا الکتب فاعل تفرق کا۔ اوتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ بمعنی دئیے گئے۔ ان کو دی گئی۔ الکتب مفعول ثانی اوتوا کا۔ الذین اوتوا الکتب۔ جن کو کتاب دی گئی۔ یعنی اہل کتاب (یہود و نصاری) الا۔ استثناء مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکورنہ ہو) البینۃ۔ مراد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہے۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 12 مذکورہ بالا) ترجمہ ہوگا :۔ اور نہیں بٹے فرقوں میں اہل کتاب مگر بعد اس کے کہ آگئی ان کے پاس روشن دلیل (یعنی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے کے بعد ہی رسول پر ایمان لانے کے متعلق اہل کتاب کے اندر اختلاف پیدا ہوا۔ ورنہ تو آپ کی بعثت سے پہلے تو یہ آنے والے رسول کی تصدیق پر سب کا اتفاق و اتحاد تھا۔ اور سب بعثت نبی کے منتظر تھے۔ کافروں کے خلاف نبی منتظر کے وسیلے سے فتح کی دعا کیا کرتے تھے (وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما ھاء ہم ما عرفوا کفروا بہ (2:89) یعنی وہ پہلے (ہمیشہ) حضور کے وسیلہ سے کفار پر فتح طلب کیا کرتے تھے۔ لیکن جب حضور کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لے آئے تو انہوں نے نہ پہچانا آپ کے ساتھ کفر کرنا شروع کردیا۔ (ضیاء القرآن) لیکن جب وہ جانا پہچانا نبی آگیا تو محض حسد و عناد کی وجہ سے اس کی تصدیق نہیں کی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اگرچہ بعض اہل کتاب کا عقیدہ صفات الٰہیہ کے متعلق درست نہ تھا۔ اللہ کو مخلوق کا باپ قرار دیتے تھے (اور بعض اہل کتاب کا عقیدہ درست تھا) لیکن بعثت نبی پر سب کا اتفاق تھا۔ کیونکہ آنے والے نبی کے اوصاف ان کی کتابوں میں بیان کر دئیے گئے تھے۔ چونکہ قبل البعثت تصدیق نبی پر صرف اہل کتاب کا اتفاق تھا اور مشرکین اس اتفاق میں شریک نہ تھے۔ اس لئے اس آیت میں صرف اہل کتاب کا ذکر کیا تاکہ جن اہل کتاب نے تصدیق رسول نہیں کی ان کی مزید شناخت ہوجائے۔ (تفسیر مظہری)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی ان کے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لانے کی وجہ ہرگز یہ نہ تھی کہ انہیں آپ کی صداقت میں شک تھا وہ تو سب نشانیاں اور بشارتیں جو پچھلی کتابوں میں آپ کے بارے میں بیان ہوئی تھیں، خوب اچھی طرح جانتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ آپ ہی پیغمبر آخر الزماں ہیں لیکن اس کے باوجود محض حسد اور عناد کی وجہ سے آپ کے بارے میں جدا جدا ہوگئے کوئی ایمان لایا اور کوئی اپنے کفر پر ڈٹا رہا۔ حسد اور عناد یہی تھا کہا آپ کی بعثت بنی اسماعیل میں کیوں ہوئی حالانکہ آپ سے پہلے تمام انبیاء بنی اسرائیل میں آتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ معمولی درجہ کے مجرم نہیں ہیں بلکہ بڑے درجہ کے مجرم ہیں جو جانتے بوجھتے حق کو جھٹلا رہے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی دین حق سے بھی اختلاف کیا اور باہمی اختلافات جو پہلے سے تھے ان کو بھی دین حق کا اتباع کر کے دور نہ کیا اور مشرکین کو بدرجہ اولی اس لئے کہا کہ ان کے پاس تو پہلے سے بھی کوئی سماوی علم نہ تھا اور قرآن کو صحف اور اس کے مضامین کو کتب فرمانا باعتبار قوة کے ہے، حاصل یہ کہ ایسے رسول اور ایسی کتاب عظیم الشان کا آنا مقتضی تھا اجتماع علی الدین الھق کو مگر ان لوگوں نے سبب اجتماع کو سبب تفرق بنالیا، اور قرینہ مقابلہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن لوگوں نے تفق اور خلاف نہیں کیا وہ اہل ایمان ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : واضح ہدایات آجانے کے باوجود اہل کتاب کا منفی کردار۔ اس فرمان میں بظاہر صرف اہل کتاب کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن اس خطاب میں مشرکین بھی برابر کے شریک ہیں۔ اہل کتاب کا الگ اس لیے ذکر کیا ہے کہ مشرکین عرب بظاہر کسی آسمانی کتاب کے قائل نہیں تھے لیکن اہل کتاب آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہاں ان کی مذہبی حالت بیان کرکے اشارہ کیا ہے کہ جب اہل کتاب کے کفر و شرک کی حالت یہ تھی اور ہے تو مشرکین کے شرک کی حالت کیا ہوگی ؟ اس کے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اہل کتاب کے فکری انتشار اور ان کے کفرو شرک کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس رسول، آسمانی کتابیں اور کھلے معجزات نہیں آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس رسول اور کتابیں آئیں اور انبیاء کرام (علیہ السلام) نے انہیں معجزات دکھائے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ آپس میں تقسیم ہوگئے حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ کسی اور کی عبادت کرنے کی بجائے دین حق کی ہدایت کے مطابق یکسو ہو کر صرف ایک ” اللہ “ کی عبادت کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں یہی سچا اور مستحکم دین ہے۔ لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے لاپرواہی کی جس وجہ سے نہ اللہ کی خالص بندگی پر قائم رہے اور نہ ہی نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرسکے جس کے نتیجے میں نہ صرف دین خالص سے دور ہوئے بلکہ آپس میں بھی فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ دین قیم کے الفاظ لاکر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دین میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ یاد رہے کہ دین واضح ہونے کے ساتھ اس کے بنیادی اصول ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ ان کا بنیادی تقاضا ہے کہ دین کے ماننے والے بھی آپس میں متحد اور ایک رہیں۔ ” حضرت عوف بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہودی اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے، ان کے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا۔ عیسائی بہتر فرقوں میں بٹ گئے، ان کے اکہترفرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں داخل ہوگا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے اور ایک جنتی ہوگا۔ صحابہ نے عرض کی جنت میں جانے والے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر چلنے والے ہیں۔ “ (رواہ ابن ماجۃ : باب افْتِرَاقِ الأُمَم، قال الالبانی ھٰذا حدیث حسن) دین کے معانی اطاعت : (تَنْزِےْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِےْزِ الْحَکِےْمِ اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَےْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّےْنَ اَ لَا لِلّٰہِ الدِّےْنُ الْخَالِصُ ) (الزمر : ١ تا ٣) ” یہ کتاب اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ (اے محمد) یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف برحق نازل کی ہے۔ لہٰذا اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ کی بندگی کرو خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے۔ “ قانون اور ضابطہ : (فَبَدَاَ بِاَوْعِےَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِےْہِ ثُّمَّ اسْتَخْرَجَھَا مِنْ وِّعَاءِ اَخِےْہِ کَذٰلِکَ کِدْنَا لِےُوْسُفَ مَا کَانَ لِےَاْخُذَ اَخَاہُ فِی دِےْنِ الْمَلِکِ ۔۔ ) (یوسف : ٧٦) ” یوسف نے اپنے بھائی سے پہلے دوسروں کی تھیلوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کے تھیلے سے گم شدہ چیز برآمد کرلی۔ اس طرح ہم نے یوسف کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔ اسے یہ اختیار نہ تھا کہ بادشاہ کے دین یعنی مصر کے شاہی قانون کے مطابق اپنے بھائی کو پکڑلیتا۔ “ نظام حکومت : (وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْےَدْعُ رَبَّہٗ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِےْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْھِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ ) (غا فر : ٢٦) ” ایک دن فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا، چھوڑو مجھے میں موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں اور یہ پکار دیکھے اپنے رب کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔ “ دین بمعنٰی دین (مذہب): (قَا تِلُوْا الَّذِےْنَ لَا ےُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَلَا بالْےَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا ےُحَرّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا ےَدِےْنُوْنَ دِےْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِےْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوْا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ ) (التوبۃ : ٢٩) ” جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں جانتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں سمجھتے ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور ماتحت بن کر رہیں۔ “ دین سے مراد قیامت : (یَّصْلَوْنَھَا ےَوْمَ الدِّےْنِ وَمَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآءِبِےْنَ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا ےَوْمُ الدِّےْنِ ثُمَّ مَآ اَدْرٰکَ مَا ےَوْمُ الدِّےْنِ ےَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَےْءًا وَاْلَامْرُ ےَوْمَءِذٍ لِّلّٰہِ ) (الانفطار : ٥ ١ تا ١٩) ” جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے۔ اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟ ہاں تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟ یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، فیصلہ اس دن صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا۔ “ دین بمعنٰی جزأ و سزا : (مٰلِکِ ےَوْمِ الدِّےْنِ ) (فاتحہ : ٣) ” روز جزا کا مالک ہے۔ “ مسائل ١۔ اہل کتاب واضح دلائل پانے کے باوجود فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ٢۔ اہل کتاب کو حکم تھا کہ وہ آسمانی دین کے مطابق صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ ٣۔ اہل کتاب کو حکم تھا کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیتے رہیں۔ ٤۔ صرف ایک اللہ کی یکسو ہو کر عبادت کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا دین خالص کے بنیادی اصول ہیں۔ تفسیر بالقرآن دین قیم کے بنیادی اصول : ١۔ غیب پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : ١) ٢۔ قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : ٤) ٣۔ اللہ اور کتب سماوی پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : ١٣٦) ٤۔ آخرت پر یقین رکھنا۔ (البقرۃ : ٤) ٥۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان میں فرق نہ کرنا۔ (آل عمران : ٨٤) ٦۔ ایمان کی تفصیل۔ (البقرۃ : ٢٨٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

پہلا اختلاف تو یہودیوں کے درمیان ہوا ، یہ اختلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے قبل ہوا۔ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور کئی فرقے اور پارٹیاں بن گئے۔ حالانکہ ان کا رسول (علیہ السلام) ایک تھا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب بھی ایک تھی ۔ یعنی تورات۔ یہ پانچ فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ مثلاً صدوتی ، فریسی ، آسین ، غالی اور سامری۔ ان فرقوں میں سے ہر ایک کے اپنے اپنے عقائد ، خصائص اور اپنا اپنا رخ تھا اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعث ہوئی تو یہودی اور عیسائی تنازعہ شروع ہوگیا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے آخری نبی تھے اور آپ نے تورات کی تصدیق فرمائی۔ یہودی اور مسیحی اختلافات اس قدر بڑھے کہ یہ دشمنی اور عداوت کی شکل اختیار کر گئے۔ اور دونوں فریقوں کے درمیان شدید نفرت پیدا ہوگئی اور اس کے نتیجے میں جو قل عام ہوتارہا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ ایسا قتل عام تھا کو جب انسان ان واقعات کو آج بھی پڑھتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ” چھٹی صدی کے آخر میں یہودیوں اور عیسائیوں کی باہمی رقابت اور منافرت اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ ان میں سے کوئی دوسرے فریق کو ذلیل کرنے اور اس سے اپنی قوم کا انتقام لینے اور مفتوح کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا تھا۔ 610 ء میں یہودیوں نے انطلاکیہ میں عیسائیوں کے خلاف بلوہ کیا ، شہنشاہ موت اس نے اس کی سرکوبی کے لئے مشہور فوجی افسر بنو سوس کو بھیجا۔ اس نے پوری پوری آبادی کا اس طرح خاتمہ کیا کہ ہزاروں کو تلوار سے ، سینکڑوں کو دریا میں غرق کرکے آگ میں جلا کر اور درندوں کے سامنے ڈال کر ہلا کردیا “۔ (دنیا اور مسلمانوں کے عروج وزوال کا ائر ، ص 47) ” مقریزی کی کتاب الخطط میں ہے ، فوق اس روم کے شہنشاہ کے زمانے میں ایران کے شہنشاں کسریٰ نے شام اور مصر پر فوج کشی کی۔ اس فوج نے بیت المقدس ، فلسطین اور شاک کے گرجاﺅں کو مسمار کیا اور شام کے تمام عیسائیوں کو قتل کردیا ۔ پھر وہ عیسائیوں کی تلاش میں مصر آیا ، جہاں اس کی فوج نے عیسائیوں کو بہت بڑی تعداد میں قتل کیا اور بےحد و حساب افراد کو قید کرلیا۔ عیسائیوں کے خلاف اس جنگ میں اور گرجاﺅں کو مسمار کرنے میں یہودیوں نے ایرانیوں کی مدد کی اور وہ طربیہ ، جبل ، الجلیل ، قریہ ، ناصرہ ، صور اور بلادقدس سے ایرانیوں کے پاس آئے اور انہوں نے عیسائیوں سے خوب انتقام لیا اور انہیں اذیت رسانی ، اور قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا۔ قدس میں ان کے دوگرجاﺅں کو مسمار کردیا اور تمام مکانات کو جلاکر خاکستر کردیا۔ مقدس عود صلیب کا ٹکڑا ساتھ لے گئے اور قدس کے پوپ اور ان کے بہت سے ساتھیوں کو قید کرلیا “۔ یہی مصنف قدس مفتوح ہونے کا ذکر یوں کرتا ہے : ” اس اثنا میں یہودیوں نے صور کے شہر میں بغاوت کردی۔ انہوں نے اپنے نمائندوں کو دوسرے شہروں میں بھیجا۔ چناچہ یہودیوں نے عیسائیوں پر شدید حملہ کرنے اور انہیں قتل کر ڈالنے کے عہد وپیماں کیے۔ اس کے بعد دونوں فریقوں میں جنگ چھڑ گئی۔ یہودی بیس ہزار کی تعداد میں مجتمع ہوکر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے صور کے باہر کے گرجاﺅں کو مسمار کردیا۔ اس پر عیسائیوں نے کثیر تعداد میں جمع ہوکر یہودیوں پر حملہ کیا۔ یہودیوں کو شکست فاش ہوئی اور ان کی بہت بڑی تعداد مقتول ہوئی۔ اس زمانے میں ہرقل قسطنطنیہ میں روم فرماں روا ہوا۔ اس نے ایک تدبیر سے جو اس نے شاہ ایران کے خلاف کی ایرانیوں کو شکست دے دی اور وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ اس فتح کے بعد ہرقل قسطنطنیہ سے روانہ ہوا تاکہ شام اور مصر کا نظم حکومت درست کرے۔ اور ایرانیوں نے جن مقامات کو تباہ وبرباد کیا ہے ، ان کی تعمیرنو کرے۔ یہودی طربیہ سے آکر ہر قل کے پاس حاضر ہوئے ، اس گراں قدر تحفے دیئے اور اس سے حلفیہ امان طلب کی ۔ ہر قل نے انہیں حلفیہ امان دے دی۔ اس کے بعد ہرقل بیت المقدس پہنچا۔ عیسائیوں نے انجیلوں ، صلیبوں ، بخور اور جلتی ہوئی مشعلوں سے اس کا استقبال کیا۔ ہرقل نے شہر اور اس کے گرجاﺅں کو برباد پایا ، جس سے اسے شدید صدمہ ہوا۔ عیسائیوں نے ہر قل کو بتایا کہ کس طرح یہودی ایرانیوں کے ساتھ مل کر عیسائیوں کے خلاف حملہ آور ہوئے۔ انہیں قتل کیا اور ان کے گرجاﺅں کو مسمار کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قتل و غارت گری میں وہ ایرانیوں سے بھی بدتر تھے اور انہوں نے عیسائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کوئی کمی نہ کی۔ عیسائیوں نے ہرقل کو ابھرا کہ وہ یہودیوں کو بیخ کنی کرے اور اس کے اچھے پہلو اس کے سامنے واضح کیے۔ ہرقل نے معذوری ظاہر کی اور کہا کہ وہ انہیں امان دے چکا ہے اور اس نے ان سے حلفیہ وعدہ کیا ہے۔ عیسائیوں کے پادریوں ، پوپوں اور مشائخ نے فتویٰ دیا کہ یہودیوں کو قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ہر قل سے یہ امان دھوکہ دے کر حاصل کی ہے ، اس لئے کہ ہرقل کو یہ نہیں بتایا گیا کہ عیسائیوں پر کیا کیا مظالم ہوئے۔ انہوں نے کہا وہ ہر قل کے کفارے کے طور پر یہ سال ایک جمعہ کو روزہ رکھا کریں گے۔ یہ روزہ لازمی ہوگا۔ اور تمام عیسائیوں کو اس کا پابند بنائیں گے۔ تب ہر قل نے ان کی بات مان لی اور یہودیوں پر شدید حملہ کیا اور انہیں نیست ونابود کردیا۔ چناچہ مصر وشام کی رومی سلطنت میں کوئی یہودی زندہ نہ بچا۔ سوائے ان کے جو بھاگ کر کہیں چھپ گئے۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں قومیں یہودونصاریٰ سنگدل ، انسانی خون بہانے کی ہوس اور دشمن کو تباہ کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اسی معاملے میں یہ کس حد پر جاکر نہیں رکتے “۔ ماذا حسر العالم استاد ندوی ص 9 تا 11، طبع اول) اس کے بعد عیسائیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے شروع ہوگئے ، حالانکہ ان کی کتاب بھی ایک تھی ، نبی بھی ایک تھا ، سب سے پہلے ان کے اختلافات بنیادی عقائد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد وہ فرقے فرقے بن گئے۔ یہ فرقے ایک دوسرے سے سخت نفرت کرتے ، ایک دوسرے کو سخت دشمن بن گئے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ذات اور ماہیت کے بارے میں اختلافات پیدا ہوئے کہ ان کی ماہیت لا ہوتی ہے یا ناسوتی۔ پھر ان کی ماں کی ماہیت کے بارے میں اختلافات رونما ہوئے۔ پھر ٹریینٹی یعنی تثلیث کے مسئلہ پر اختلافات ہوئے۔ ان کے خیال میں خدا تینوں کا ایک تھا۔ قرآن کریم نے ان کے ان عقائد کو نقل کرکے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ لوگ کافر ہوگئے ہیں۔ لقد کفر ............................ ابن مریم (72:5) ” یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تو یہی مسیح ابن مریم ہیں “۔ لقد کفر ............................ ثلثة (مائدہ :73) ’ دیقینا وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے “۔ واذقال .................................... دون اللہ (مائدہ :116) ” اور اس بات کو یاد کرو جب اللہ قیامت کے دن عیسیٰ ابن مریم سے کہے گا ، کیا تم نے لوگوں سے کیا تھا کہ مجھے اور میری ماں اللہ کے سوا خدا بنالو “۔ ان اختلافات کے نتیجے میں وہ شدید ترین تنازعہ پیدا ہوا جو شام کے عیسائیوں اور روم اور مصر کے عیسائیوں کے درمیان پیدا ہوا۔ اس کا ایک فریق روم اور شام کے ملکانی عیسائی تھے اور دوسرا فریق مصر کا منوفنشی فرقہ تھا۔ ملکانی عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح کی فطرت کے جو اجزاء ہیں ایک ملکوتی اور دسرا ناسوتی جبکہ مصر کے منوفینشی عیسائی کہتے تھے کہ ان کی ایک ہی فطرت ہے جو اس طرح فنا ہوگئی جس طرح سر کے کا ایک قطرہ سمندر میں گر کر فنا ہوجاتا ہے۔ چھٹی اور ساتویں صدی میں یہ اختلاف ان دو فرقوں کے درمیان بہت شدت اختیار کر گیا “۔ اور یوں نظر آنے لگا کہ یہ دو فرقے نہیں بلکہ دو الگ الگ دین و مذہب ہیں۔ جس طرح یہودی اور عیسائی دو الگ الگ اہل مذہب ہیں اور ہر ایک دوسرے کے بارے میں یہ تصور کرتا ہے کہ اس کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں ہے “۔ (مسلمانوں کا عروج وزوال ، ابو الحسن علی ندوی) ” 628 ء میں ہرقل نے ایرانیوں پر فتح پائی ، اس کے بعد اس نے عیسائیوں کے باہم برسرپیکار اور متحارک مسلکوں کو جمع کرنے اور ان کے اندر موافقت اور مصالحت پیدا کرنے کی سعی کی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ لوگ حضرت مسیح کی فطرت کے موضوع پر بحث کرنے سے پرہیز کریں ، کہ ان کی فطرت ایک تھی یا دو تھیں۔ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ اللہ کا ارادہ اور فیصلہ ایک ہی ہے۔ 631 ء کے اوائل میں یہ بات طے ہوگئی کہ مینوتھیلین مذہب ہی حکومت اور کلیسا دونوں کا سرکاری مذہب ہوگا۔ ہر قل نے مختلف فرقوں کو ختم کرکے ایک مسلک پر ہونے کی سعی کی اور اس کے لئے ہر حربہ استعمال کیا ، مگر مصر کے قبطیوں نے اس بدعت اور تحریف سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور شدید مخالفت کی ، اور اپنے پرانے عقیدے کو جاری رکھنے کے لئے جان کی بازی لگادی۔ یہ لوگ اس کے دشمن ہوگئے۔ ہر قل نے دوبارہ مختلف فرقوں کو ایک کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ لوگ صرف اس پر متحد ہوجائیں کہ اللہ کا ارادہ ایک ہے۔ رہا یہ کہ اللہ کا ارادہ نافذ کس طرح ہوتا ہے۔ اس پر بحث نہ کی جائے۔ اس نے حکم دیا کہ اس موضوع پر کوئی مناظرہ نہ کیا جائے۔ ایک سرکاری پیغام مرتب کرکے مشرق کے اطراف واکناف میں پھیلایا۔ اس سے بھی مصر کا مذہبی طوفان نہ روک سکا۔ اس پر اسے غصہ آیا اور دس سال تک وہ مصر کے لوگوں پر شدید ترین ظلم اور ستم کرتارہا۔ اس نے جو مظالم کیے ان کی روئید اوپڑھ کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کو اذیت ناک سزا دی جاتی ، پھر انہیں دریا میں غرق کردیا جتا۔ مشعل جلا کر ان کے جسموں پربچھائی جاتی۔ یہاں تک کہ بندن کی چربی پگھل کر زمین پر گرتی۔ ریت کے بوروں میں قیدیوں کو بند کرکے دریا برد کردیا جاتا اور اس طرح کی دوسری لرزہ خیز سزائیں دی جاتیں “۔ (ماذا اخسرالعالم ابوالحسن ندوی ، ص 3 تا 5) اہل کتاب کے درمیان یہ اختلافات اور یہ عداوتیں اس کے بعد تھیں کہ ان کے پاس دلائل آچکے تھے۔ من بعد .................... البینة (4:98) لیکن یہ علم اور یہ دلائل ان کے لئے مفید نہ تھے ، خواہش نفس اور گمراہی ان کو حق سے دور کرتی چلی جارہی تھی۔ حالانکہ دین اپنی اصلی اور ابتدائی شکل میں بالکل واضح تھا اور دینی عقائد بالکل واضح اور صاف تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” وما تفرق “ اہل کتاب کے عناد و شقاق کا ذکر ہے۔ اہل کتاب، یہود و نصاریٰ نے دین میں جو مختلف راہیں نکالی ہیں یہ سب کچھ انہوں نے لاعلمی سے نہیں کیا۔ بلکہ البیۃ آجانے کے بعد جان بوجھ کر عمداً قصداً محض ضد وعناد کی وجہ سے کیا ہے۔ یہ اختلاف ڈالنے والے اہل کتاب کے باغی علماء تھے اور یہ اختلاف انہوں نے اللہ کی طرف سے علم اور بینات آجانے کے بعد کیا اور محض ضد وعناد کی وجہ سے کیا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وما تفرقوا الا من بعد ماجاءھم العلم بغیا بینہم “ (شوری رکوع 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) مگر جب ان کے پاس وہ واضح اور کھلی دلیل آگئی تو اس کے بعد ہی وہ لوگ جو اہل کتاب تھے اختلاف میں پڑ کر متفرق ہوگئے۔ یعنی دین کو قبول کرنے سے بھی انحراف کیا اور ان کے باہمی اختلافات جو پہلے سے چلے آرہے تھے وہ اور ابھرگئے اور ان میں اور جان پڑگئی اور سالام قبول کرکے ان اختلافات کو دور نہ کیا۔ صاحب کشاف نے اس آیت پر تقریر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی نظیر ایسی ہے جیسے کوئی مفلس اور فقیر فاسق تھا اور جب کوئی اس کو نصیحت کرتا تو وہ اپنے ناصح سے کہتا اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو غنی اور دولت مند کردے تو میں فسق سے توبہ کرلوں گا اور فسق سے باز آجائوں گا۔ حسن اتفاق سے وہ فاسق فقیر غنی ہوگیا تو بجائے تائب ہونے کے اور زیادہ فاسق ہوگیا یہی حالت ان اہل کتاب کی ہے کہ جب تک نبی آخرالزماں ؐ تشریف نہ لائے تھے تو کہا کرتے تھے وہ آخری نبی سابقہ پیشین گوئیوں کے ماتحت آجائے تو ہم اس پر ایمان لاکر اپنی اصلاح کرلیں گے مگر جب وہ نبی آخرالزماں یعنی بینۃ آگیا تو منکر ہوگئے۔ سورہ بقرہ میں گزرا ہے فلما جاء ھم ماعرفوا کفروابہ اس آیت کو علماء نے اصعب مانی القرآن نظماً وتفسیراً فرمایا ہے۔ اسی لئے امام رازی نے بہت بحث فرمانے کے بعد اس طرح خلاصہ کیا ہے کہ لم یکن الذین کفروا سے بینہ تک تو ان کی حکایت مذکور ہے یعنی مشرکین اور اہل کتاب کی اور وما تفرق الذین واقع سے خبر دنیا ہے چناچہ فرماتے ہیں۔ والمغی ان الذی وقع کان بخلاف ماارھوا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس رسول اور اس کتاب کے آئے پیچھے شبہ نہ کرو پھر اب اہل کتاب ضد سے مخالف ہیں شبہ سے نہیں۔ بہرحال بعض حضرات کفر پر قائم رہے ضد سے اور بعض صلاحیت پسند ایمان لیآئے آگے فرماتے ہیں کہ جو کچھ یہ آخری نبی فرماتے ہیں کتب سابقہ میں بھی یہی مرقوم ہے۔