Surat ul Bayyina

Surah: 98

Verse: 8

سورة البينة

جَزَآؤُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿۸﴾  23

Their reward with Allah will be gardens of perpetual residence beneath which rivers flow, wherein they will abide forever, Allah being pleased with them and they with Him. That is for whoever has feared his Lord.

ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جنکے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ تعا لٰی ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

جَزَاوُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ... Their reward with their Lord, meaning, on the Day of Judgement. ... جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاَْنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ... is Eternal Gardens underneath which rivers flow. They will abide therein forever, meaning, having no end, no break and no conclusion. ... رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ... Allah will be pleased with them, and they well-pleased with Him. The condition of Him being pleased with them is more illustrious than all of the everlasting delights that they will be given. وَرَضُواْ عَنْهُ and they well-pleased with Him, Due to the comprehensive favors He has given them. Then Allah says, ... ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ That is for him who fears his Lord. meaning, this is the reward that will be attained by those who revere Allah and fear Him as He deserves to be feared. This is the person who worships Allah as if he sees Him, and he knows that even though he does not see Him, indeed Allah sees him. Imam Ahmad recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah said, Shall I not inform you of the best of creation? They said, "Of course, O Messenger of Allah!" He said, رَجُلٌ اخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ كُلَّمَا كَانَتْ هَيْعَةٌ اسْتَوَى عَلَيْهِ A man who takes the reins of his horse in the way of Allah, and whenever there is a fearful cry from the enemy, he climbs upon it. Shall I not inform you of the best of creation? They said, "Of course, O Messenger of Allah!" He said, رَجُلٌ فِي ثُلَّةٍ مِنْ غَنَمِهِ يُقِيمُ الصَّلَةَ وَيُوْتِي الزَّكَاةَ A man who has a flock of sheep and he establishes the prayer and gives the obligatory charity. Shall I not inform you of the worst of creation? They said, "Of course." He said, الَّذِي يُسْأَلُ بِاللهِ وَلاَ يُعْطِي بِه The person who is asked by Allah and he does not give by Him. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Bayyinah, and all praise and thanks are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 ان کے ایمان وطاعت اور اعمال صالحہ کے سبب۔ اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے (ورضوان من اللہ اکبر) 8۔ 2 اس لئے کہ اللہ نے انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیا، جن میں ان کی روح اور بدن دونوں کی سعادتیں ہیں۔ 8۔ 3 یعنی یہ جزا اور رضامندی ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہے اور اس کے ڈر کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کے ارکاب سے بچتے رہے۔ اگر کبھی نافرمانی کرلی بھی تو توبہ کرلی۔ اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلی، حتیٰ کہ ان کی موت اسی اطاعت پر ہوئی نہ کہ معصیت پر۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرنے والا معصیت پر اصرار اور دوام نہیں کرسکتا اور جو ایسا کرتا ہے، حقیقت میں اس کا دل اللہ کے خوف سے خالی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] یعنی ایمان اور عمل صالح کی توفیق اسی صورت میں ملتی ہے جبکہ انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے اور ہر بات میں اس کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے زندگی گزارے۔ اللہ ایسے ہی لوگوں سے خوش ہوتا ہے اور وہ بھی اللہ کی مشیئت پر ہر وقت خوش رہتے ہیں اور جب انہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ جنت اور بیش بہا نعمتیں عطا فرمائے گا تو وہ اللہ سے اور بھی زیادہ راضی ہوجائیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse [ 8 - the concluding phrase ] ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَ‌بَّهُ (…That is for him who has awe of his Lord.) The word &fear& or &awe& here is not used in the sense of an &agitated, disturbed or perturbed feeling& which we naturally have for an enemy, a beast, a ferocious animal or an obnoxious thing that might harm us. &Khashyatullah& (Allah&s awe) is, on the contrary, a feeling of deep, reverential awe that leads man to Allah&s obedience. It is the awe of Allah&s Majesty and His Incomparability that makes the perfect slave do every work under every circumstance to attain the Divine pleasure and evade every occasion of His displeasure. This is the axis on which rotates the religious perfection and all bounties of the Hereafter. Al-hamdulillah The Commentary on Surah Al-Bayyinah Ends here

ذلک لمن خشی ربہ، آخر سورت میں تمام کمالات دینی اور نعمائے اخروی کا جس پر مدار ہے وہ بتلا دیا یعنی خشیتہ اللہ، خشیت اس خوف کو نہیں کہا جاتا جو کسی دشمن یا درندے یا موذی چیز سے طبعاً ہوتا ہے بلکہ خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی انتہائی عظمت و جلال کی وجہ سے پیدا ہو جس کا مقتضایہ ہوتا ہے کہ وہ ہر کام ہر حال میں اس کی رضا جوئی کی فکر کرتا ہے اور ناراضی کے شبہ سے بھی بچتا ہے یہی وہ چیز ہے جو انسان کو عبد کامل اور مقبول بنانے والی ہے۔ تمت سورة البینہ بحمداللہ تعالیٰ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

جَزَاۗؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝ ٠ ۭ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ۝ ٠ ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّہٗ۝ ٨ ۧ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ عدن قال تعالی: جَنَّاتِ عَدْنٍ [ النحل/ 31] ، أي : استقرار وثبات، وعَدَنَ بمکان کذا : استقرّ ، ومنه المَعْدِنُ : لمستقرّ الجواهر، وقال عليه الصلاة والسلام : «المَعْدِنُ جُبَارٌ» . ( ع د ن ) عدن ( ن ض ) کے معنی کسی جگہ قرار پکڑنے اور ٹہر نے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ عدن بمکان کذا یعنی اس نے فلاں جگہ قیام کیا قرآن میں ہے : ۔ جَنَّاتِ عَدْنٍ [ النحل/ 31] یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات ۔ اسی سے المعدن ( کان ) ہے کیونکہ کا ن بھی جواہرات کے ٹھہر نے اور پائے جانے کی جگہ ہوتی ہے حدیث میں ہے ۔ المعدن جبار کہ اگر کوئی شخص کان میں گر کر مرجائیں تو کان کن پر اس کی دیت نہیں ہے ۔ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها : جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] ، وقال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] ، ويقال للحوصلة : جِرِّيَّة إمّا لانتهاء الطعام إليها في جريه، أو لأنها مجری الطعام . والإِجْرِيَّا : العادة التي يجري عليها الإنسان، والجَرِيُّ : الوکيل والرسول الجاري في الأمر، وهو أخصّ من لفظ الرسول والوکيل، وقد جَرَيْتُ جَرْياً. وقوله عليه السلام : «لا يستجرینّكم الشّيطان» يصح أن يدّعى فيه معنی الأصل . أي : لا يحملنّكم أن تجروا في ائتماره وطاعته، ويصح أن تجعله من الجري، أي : الرسول والوکيل ومعناه : لا تتولوا وکالة الشیطان ورسالته، وذلک إشارة إلى نحو قوله عزّ وجل : فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] ، وقال عزّ وجل : إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] . ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے اور آیت کریمہ ؛ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم لو گوں کو کشتی میں سوار کرلیا ۔ میں جاریۃ سے مراد کشتی ہے اس کی جمع جوار آتی ہے جیسے فرمایا ؛۔ وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] اور جہاز جو اونچے کھڑے ہوتے ہیں ۔ وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں ( جو ) گویا یا پہاڑ ہیں ۔ اور پرند کے سنکدانہ کو جریۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کھانا چل کر وہاں پہنچتا ہے اور یا اس لئے کہ وہ طعام کا مجریٰ بنتا ہے ۔ الاجریات عاوت جس پر انسان چلتا ہے ۔ الجری وکیل ۔ یہ لفظ رسول اور وکیل سے اخص ہی ۔ اور جرمت جریا کے معنی وکیل بنا کر بھینے کے ہیں اور حدیث میں ہے :۔ یہاں یہ لفظ اپنے اصل معنی پر بھی محمول ہوسکتا ہے یعنی شیطان اپنے حکم کی بجا آوری اور اطاعت میں بہ جانے پر تمہیں بر انگیختہ نہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ جری بمعنی رسول یا وکیل سے مشتق ہو اور معنی یہ ہونگے کہ شیطان کی وکالت اور رسالت کے سرپر ست مت بنو گویا یہ آیت کریمہ ؛ فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] شیطان کے مددگاروں سے لڑو ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اور فرمایا :إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] یہ ( خوف دلانے والا ) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈرتا ہے ۔ تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ نهر النَّهْرُ : مَجْرَى الماءِ الفَائِضِ ، وجمْعُه : أَنْهَارٌ ، قال تعالی: وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، ( ن ھ ر ) النھر ۔ بافراط پانی بہنے کے مجری کو کہتے ہیں ۔ کی جمع انھار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔ ابد قال تعالی: خالِدِينَ فِيها أَبَداً [ النساء/ 122] . الأبد : عبارة عن مدّة الزمان الممتد الذي لا يتجزأ كما يتجرأ الزمان، وذلک أنه يقال : زمان کذا، ولا يقال : أبد کذا . وكان حقه ألا يثنی ولا يجمع إذ لا يتصور حصول أبدٍ آخر يضم إليه فيثنّى به، لکن قيل : آباد، وذلک علی حسب تخصیصه في بعض ما يتناوله، کتخصیص اسم الجنس في بعضه، ثم يثنّى ويجمع، علی أنه ذکر بعض الناس أنّ آباداً مولّد ولیس من کلام العرب العرباء . وقیل : أبد آبد وأبيد أي : دائم «2» ، وذلک علی التأكيد . وتأبّد الشیء : بقي أبداً ، ويعبّر به عما يبقی مدة طویلة . والآبدة : البقرة الوحشية، والأوابد : الوحشیات، وتأبّد البعیر : توحّش، فصار کالأوابد، وتأبّد وجه فلان : توحّش، وأبد کذلک، وقد فسّر بغضب . اب د ( الابد) :۔ ایسے زمانہ دراز کے پھیلاؤ کو کہتے ہیں ۔ جس کے لفظ زمان کی طرح ٹکڑے نہ کئے جاسکیں ۔ یعنی جس طرح زمان کذا ( فلا زمانہ ) کہا جا سکتا ہے ابدکذا نہیں بولتے ، اس لحاظ سے اس کا تنبیہ اور جمع نہیں بننا چا ہیئے ۔ اس لئے کہ ابد تو ایک ہی مسلسل جاری رہنے والی مدت کا نام ہے جس کے متوازی اس کی جیسی کسی مدت کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ کہ اسے ملاکر اس کا تثنیہ بنا یا جائے قرآن میں ہے { خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا } [ النساء : 57] وہ ابدالاباد ان میں رہیں گے ۔ لیکن بعض اوقات اسے ایک خاص مدت کے معنی میں لے کر آباد اس کی جمع بنا لیتے ہیں جیسا کہ اسم جنس کو بعض افراد کے لئے مختص کر کے اس کا تثنیہ اور جمع بنا لیتا جاتا ہے بعض علمائے لغت کا خیال ہے کہ اباد جمع مولّدہے ۔ خالص عرب کے کلام میں اس کا نشان نہیں ملتا اور ابدابد وابدابید ( ہمیشہ ) ہمیشہ کے لئے ) میں دوسرا لفظ محض تاکید کے لئے لایا جاتا ہے تابدالشئی کے اصل معنی تو کسی چیز کے ہمیشہ رہنے کے ہیں مگر کبھی عرصہ درازتک باقی رہنا مراد ہوتا ہے ۔ الابدۃ وحشی گائے ۔ والجمع اوابد وحشی جانور) وتأبّد البعیر) اونٹ بدک کر وحشی جانور کی طرح بھاگ گیا ۔ تأبّد وجه فلان وأبد ( اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے ) بعض کے نزدیک اس کے معنی غضب ناک ہونا بھی آتے ہیں ۔ رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقال عزّ وجلّ : وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] ، والرِّضْوَانُ : الرّضا الکثير، ولمّا کان أعظم الرِّضَا رضا اللہ تعالیٰ خصّ لفظ الرّضوان في القرآن بما کان من اللہ تعالی: قال عزّ وجلّ : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] ، وقال تعالی: يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] ، وقال : يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ، وقوله تعالی: إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، أي : أظهر كلّ واحد منهم الرّضا بصاحبه ورَضِيَهُ. ( ر ض و ) رضی ( س ) رضا فھو مرضی و مرضو ۔ راضی ہونا ۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ قضائے الہیٰ سے اس پر وارد ہو وہ اسے خوشی سے بر داشت کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے اپنے اوامر کا بجا لانے والا اور منہیات سے رکنے والا پائے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] تو اللہ تعالیٰ ضرور ان مسلمانوں سے خوش ہوتا ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] اور ہم نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا : ۔ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] کیا آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر قناعت کر بیٹھے ہو ۔ يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] اپنی زبانی باتوں سے تو تم کو رضا مند کردیتے ہیں اور ان کے دل ہیں کہ ان باتوں سے انکار کرتے ہیں ۔ وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ ( بھی ) تم ان کو دوگے وہ ( لے کر سب ) راضی ہوجائیں گی ۔ الرضوان رضائے کثیر یعنی نہایت خوشنودی کو کہتے ہیں ۔ چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اس لئے قرآن پاک میں خاص کر رضا الہی ٰ کے لئے رضوان کا لفظ استعما ل ہوا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] اور ( لذت ) دنیا کا چھوڑ بیٹھنا جس کو انہوں نے از خود ایجاد کیا تھا ہم نے وہ طریق ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر ( ہاں ) انہوں نے اس کو خدا ( ہی ) کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایجاد کیا تھا ۔ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] اور خدا کے فضل اور خوشنودی کی طلب گاری میں لگے رہتے ہیں ۔ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضامندی کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔۔ : إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، جب جائز طور پر آپس میں وہ راضی ہوجائیں ۔ میں تراضوا باب تفاعل سے ہے جس کے معنی باہم اظہار رضامندی کے ہیں ، خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨{ جَزَآؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط } ” ان کا بدلہ ہوگا ان کے رب کے پاس دائمی قیام کے باغات کی صورت میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ ان میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔ “ یہاں پر ضمنی طور پر یہ علمی نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ قرآن مجید میں دو مقامات ایسے ہیں جہاں اہل جنت اور اہل جہنم کے فوری تقابل (simultaneous contrast) میں اہل جنت کے لیے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا } جبکہ اہل جہنم کے لیے صرف { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا } کے الفاظ آئے ہیں۔ ان میں ایک مقام تو یہی ہے۔ یعنی اس سورت کی زیر مطالعہ آیت میں اہل جنت کے لیے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَـآ اَبَدًا } کے الفاظ آئے ہیں ‘ جبکہ اس سے پہلے آیت ٦ میں اہل جہنم کا ذکر کرتے ہوئے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا } کے الفاظ تک اکتفاء فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورة التغابن کی آیت ٩ اور آیت ١٠ میں بھی اہل جنت اور اہل جہنم کے تقابل کے حوالے سے یہی فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ ان دونوں مقامات میں مذکورہ فرق کی بنیاد پر امت مسلمہ کی دو بہت بڑی علمی شخصیات نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں تو ابدی ہیں ‘ لیکن جہنم ابدی نہیں ہے اور یہ کہ کبھی ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اہل جہنم میں سے خیر کے حامل آخری عناصر کو نکال کر باقی لوگوں کو مدت مدید تک مبتلائے عذاب رکھنے کے بعد بالآخر اس میں جلا کر معدوم کردیا جائے گا اور اس کے بعد جہنم کو بھی ختم کردیا جائے گا۔ اس موقف کی حامل دو شخصیات میں ایک تو شیخ اکبر محی الدین ابن عربی (رح) ہیں جن کا شمار چوٹی کے صوفیاء میں ہوتا ہے اور دوسری شخصیت امام ابن تیمیہ (رح) کی ہے جو سلفی حضرات کے نزدیک اسلامی دنیا کے سب سے بڑے امام اور عالم ہیں۔ امام ابن تیمیہ (رح) کا اس نکتے پر محی الدین ابن عربی (رح) سے متفق ہوجانا یقینا ایک اہم بات اور ” متفق گردید رائے بوعلی بارائے من “ والا معاملہ ہے ‘ کیونکہ مجموعی طور پر وہ محی الدین ابن عربی (رح) کے خیالات ونظریات سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ جہنم کے ابدی نہ ہونے سے متعلق میں نے یہاں مذکورہ دو شخصیات کی آراء کا ذکر محض ایک علمی نکتے کے طور پر کیا ہے ‘ عام اہل سنت کا عقیدہ بہرحال یہ نہیں ہے۔ اہل سنت علماء کے نزدیک جہنم بھی جنت کی طرح ابدی ہی ہے۔ { رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط } ” اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے ۔ “ یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ وہ اللہ سے خوش ہوجائیں گے۔ { ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ ۔ } ” یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ “ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین ‘ ثم آمین !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 In other words, the person who did not live in the world fearless and independent of God, but feared Him at every step lest.he should do something which might entail His wrath and punishment, will have this reward resolved for him with Allah.

سورة البینہ حاشیہ نمبر : 11 بالفاظ دیگر جو شخص خدا سے بے خوف اور اس کے مقابلہ میں جری و بے باک بن کر نہیں رہا بلکہ دنیا میں قدم قدم پر اس بات سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ کہیں مجھ سے ایسا کوئی کام نہ ہوجائے جو خدا کے ہاں میری پکڑ کا موجب ہو ، اس کے لیے خدا کے پاس یہ جزا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

################

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(98:8) جزاؤہم عند ربھم جنت عدن تجری من تحتھا الانھر : جزاؤھم مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا۔ (ہم ضمیر جمع مذکر غائب اولئک (آیت سابقہ) کی طرف راجع ہے) عند ظرف مکان ہے بمعنی پاس۔ قریب۔ مضاف، ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ عند ربھم (اپنے رب کی ہاں) ظرف ہے جس کا تعلق جزاء سے ہے۔ جنت عدن : مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء کی خبر۔ عدن۔ رہنا بسنا۔ کسی جگہ مقیم ہونا۔ یہ مصدر ہے اور اس کا فعل باب ضرب اور نصر سے آتا ہے۔ جنت عدن کا معنی ہے۔ رہنے بسنے کے باغات۔ یعنی وہ جنتیں جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ تجری من تحتھا الانھر۔ یہ جملہ صفت ہے جنت کی۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنت ہے۔ خلدین فیھا ابدا۔ یہ حال ہے جزاء ہم کی ضمیر ہم سے۔ ابدا تاکید کے لئے ہے۔ یا یہ خلدین کا ظرف ہے یعنی ان باغات میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔ یہ جزاء ہم کی خبر ثانی ہے۔ رضی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ وہ راضی ہوا۔ وہ خوش ہوا۔ رضی (باب سمع) مصدر سے۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ اللہ کا بندے سے راضی ہونا یہ کہ اس کو اپنے حکم کا فرماں بردار۔ اور اپنی نہی سے پرہیزگار دیکھے۔ اور یہ کہ جو کچھ اس پر قضاء الٰہی سے جاری ہو وہ اسے مکروہ نہ سمجھے۔ رضوا ماضی جمع مذکر غائب رضی مصدر۔ وہ راضی ہوئے۔ ذلک لمن خشی ربہ : ذلک مبتدائ۔ لمن خشی ربہ اس کی خبر۔ ذلک اسم اشارہ بعید واحد مذکر۔ اس میں ذا اسم اشارہ ہے اور ک حرف خطاب ہے۔ خشی ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ خشیۃ (باب سمع) مصدر سے ۔ وہ ڈرا۔ اس نے خوف کھایا۔ ربہ مضاف، مضاف الیہ مل کر خشی کا مفعول۔ اپنے رب سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی نہ ان سے کوئی معصیت ہوگی اور نہ ان کو کوئی امر مکروہ پیش آئے گا، جس سے احتمال عدم رضا کا جانبین سے ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جزاءھم ................................ ابدا (8:98) ” ان کی جزا ان کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے “۔ ایسے باغات جن کی نعمتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں مکمل امن ہوگا ۔ اور ان کے فنا ہونے اور رک جانے کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ فنا ہونے اور امن و اطمینان کا ختم ہوجانا دنیا کی تمام سہولیات اور طیبات کا مزہ خراب کردیتا ہے اور ان تروتازہ باغوں کے نیچے نہروں کا بہنا ، اس طرف اشارہ ہے کہ ان باغات میں تازگی اور بہار دائمی ہوگی اور یہ زندگی اور جمال سے بھرپور ہوں گے۔ اس دائمی نعمت و رحمت کی تصویر کسی میں سیاق کلام دوقدم اور آگے جاتا ہے۔ (رض) ............................ ربہ (8:98) ” اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے “۔ یہ رضامندی اللہ کی جانب سے ہے او یہ تمام نعمتوں سے برتر اور تمام خوشیوں سے تروتازہ ہے۔ خود ان اہل ایمان کے دلوں میں جو رضامندی ہے وہ رب کی رضامندی ہے۔ اور یہ رضامندی ہے کہ ان کے بارے میں تقدیر الٰہی جو فیصلہ کرتی ہے وہ اس پر راضی ہیں۔ اور اللہ نے ان پر جو انعامات کیے ہیں اس پر بھی وہ راضی ہیں اور اپنے اور اللہ کے درمیان پائے جانے والے تعلق پر بھی راضی ہیں۔ یہ ایسی رضامندی ہے کہ اس سے انسان گہری خوشی اور مسرت و اطمینان محسوس کرتا ہے۔ یہ انداز کہ ” اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں “۔ ایک ایسا انداز ہے جس کی تعبیر کیسی دوسرے الفاظ میں نہیں جاسکتی۔ ذلک لمن خشی ربہ (8:98) ” یہ کچھ ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو “۔ یہ آخری تاکید ہے ، یہ کہ یہ سب کچھ اس پر موقوف ہے کہ کسی کا تعلق باللہ کیسا ہے۔ اور اس تعلق کی نوعیت کیسی ہے۔ یاد رہے کہ کسی دل میں جب خدا کے خوف کا شعور پیدا ہوتا ہے تو یہ شعور انسان کو نیکی پر آمادہ کرتا ہے اور ہر قسم کی کج روی سے انسان کو روکتا ہے۔ یہی شعور ہے جو انسان کی آنکھوں کے سامنے سے تمام پردے ہٹا دیتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ واحدوقہار کے سامنے براہ راست کھڑا ہوتا ہے ، اور اس شعور کی وجہ سے انسان کی عبادت اور اس کے اعمال صالح ہر قسم کی شرک ، ریاکاری سے پاک ہوجاتا ہیں۔ اس لئے کہ جو شخص اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ اس کا دل غیر اللہ کے ڈر سے خالی ہوجاتا ہے ، کسی دوسرے کی رو رعایت وہ نہیں کرتا۔ یہ شعور انسان کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ اللہ تمام ایسے اعمال کو رد کردیتا ہے جن میں اس کی رضامندی کے سوا کوئی اور جذبہ بھی ہو ، اللہ غنی بادشاہ ہے ، اس کے لئے تو خالص عمل ہوگا ورنہ وہ اسے رد کردے گا۔ اسی مختصر سی سورت میں یہ چار عظیم حقائق قلم بند کیئے گئے ہیں اور قرآن نے ان حقائق کو اپنے مخصوص اسلوب میں بیان کیا ہے اور یہ اسلوب ان چند سطروں والی سورت میں بہت اچھی طرح نمایاں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا ﴾ (ان لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس ایسے باغ ہیں جو رہنے کے باغ ہیں، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) ۔ ﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ ﴾ (اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت بھی راضی تھا جب دنیا میں تھے اور عالم آخرت میں بھی ان سے راضی ہوگا) ۔ ﴿ وَ رَضُوْا عَنْهُ ١ؕ﴾ (اور جو بندے جنت میں داخل ہوں گے اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے) انہیں اتنا ملے گا اتنا ملے گا کہ ان کے تصور سے باہر ہوگا اور وہ اس سب پر بہت بڑی خوشی کے ساتھ راضی ہوں گے کوئی طلب اور تمنا باقی نہ رہے گی۔ حضرت ابو سعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائیں گے کہ اے جنت والو ! وہ کہیں گے کہ اے رب ہم حاضر ہیں اور فرمانبرداری کے لیے موجود ہیں اور ساری خیر آپ ہی کے قبضے میں ہے ؟ پھر ان سے اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کیا تم راضی ہوگئے ؟ وہ عرض کریں گے کہ اے رب ہم کیوں راضی نہ ہوں گے آپ نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں جو کسی کو بھی نہیں دیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کیا میں تمہیں اس سے افضل عطا نہ کر دوں، وہ عرض کریں گے کہ اے پروردگار اس سے افضل اور کیا چیز ہوگی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ خبردار میں تم پر ہمیشہ کے لیے اپنی رضا مندی نازل کرتا ہوں، اس کے بعد کبھی ناراض نہ ہوں گا۔ (رواہ البخاری صفحہ ٩٦٩: ج ٢) ﴿ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗ (رح) ٠٠٨﴾ (یہ نعمتیں اس کے لیے ہیں جو اپنے رب سے ڈرا) ۔ یعنی اس نے اپنے رب کی شان خالقیت اور شان ربوبیت اور شان انتقام کو سامنے رکھا اور اس بات کو بھی سامنے رکھا کہ قیامت کا دن ہوگا اس دن ایمان اور کفر کے فیصلے ہوں گے رب تعالیٰ شانہ منکرین کا مواخذہ فرمائے گا اور عذاب میں داخل کرے گا لہٰذا مجھے اسی دنیا میں رہتے ہوئے صاحب ایمان اور صاحب اعمال صالحہ ہونا چاہیے جب دنیا میں فکر مند ہوا اور اپنے رب سے ڈرتا رہا تو قیامت میں جا کر وہ نعمتیں پالے گا جن کا وپر ذکر ہوا۔ واللہ المستعان علی کل خیر

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6: ” جزاءہم “ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی جزاء یہ ہے کہ ان کے لیے جنت کے دائمی باغات ہیں جن میں تمام انواع مشروبات کی ندیاں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے نہ جنت کی نعمتوں کو زوال ہوگا نہ اہل جنت کو موت آئیگی، نہ ان کو جنتوں سے نکالا ہی جائیگا اور نہ وہ خود ہی ان سے نکلنا پسند کریں گے۔ ” (رض) “ یہ ان کے ایمان خالص، یقین کامل اور عمل صالح کا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور وہ بھی انعام و اکرام پر راضی ہیں۔ یہ اعزاز واکرام اور یہ انعام وافضال ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈر کر اس کے احکام کی اطاعت کریں اور اس کے محرمات سے دور رہیں۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) ان کا صلہ ان کے پروردگار کیپ اس ایسے دائمی باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی یہ جنت اور رضا اس شخص کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال سے خوش ہوا اور وہ لوگ اس کی عطا سے راضی ہوئے اور جو خیروکرامت اور بزرگی ان کو دی جائے گی وہ اس سے راضی رہیں گے خشیت خداوندی چونکہ اس راہ میں اہم امر ہے۔ اس لئے آخر میں فرمایا ذلک لمن خشی ربہ یعنی یہ رضائے مولیٰ جو سب مرتبوں سے بڑا مرتبہ ہے جیسا کہ سورة توبہ میں گزر چکا ہے۔ ورضوان من اللہ اکبر تو ایسی بڑی چیز کے وہی بندے مستحق ہوں گے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے اور خوف کھاتے رہتے ہیں اور خوف کی وجہ سے اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں یہ خشیت علماء حق کا حصہ ہے۔ سوہ فاطر میں ارشاد ہے۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ، یعنی خشیت علماء کا حصہ ہے یہاں فرمایا ذلک لمن خشی ربہ ، یعنی خشیت والوں کے لئے رضائے خداوندی ہے۔ لہٰذا علماء کے لئے رضائے الٰہی مخصوص ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن کعب سے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم فرمایا ہے کہ تم مجھ کو لم یکن الذین کفروا کی سورت سنائو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں۔ اس پر ابی کعب نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا رب العلمین کی بارگاہ میں یاد کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں یہ سن کر ابی بن کعب روپڑے۔ تم تفسیر سورة البینۃ