TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-janaiz (funerals). - کتاب جنازے کے احکام و مسائل - Book 24 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 24 of Sahih Bukhari, with 97 chapters and 158 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

158 Hadith · 97 Chapters
(28) CHAPTER. (If) somebody prepared his shroud (before his death) (in the lifetime of the Prophet and the Prophet did not object to that).
ان کے بیان میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنا کفن خود ہی تیار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں فرمایا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا حَاشِيَتُهَا ، أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ ؟ , قَالُوا : الشَّمْلَةُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : نَسَجْتُهَا بِيَدِي فَجِئْتُ لِأَكْسُوَكَهَا ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ فَحَسَّنَهَا فُلَانٌ , فَقَالَ : اكْسُنِيهَا مَا أَحْسَنَهَا ؟ , قَالَ : الْقَوْمُ مَا أَحْسَنْتَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ، ثُمَّ سَأَلْتَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ ، قَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهُ إِنَّمَا سَأَلْتُهُ لِتَكُونَ كَفَنِي ؟ , قَالَ سَهْلٌ : فَكَانَتْ كَفَنَهُ .
Narrated Sahl: A woman brought a woven Burda (sheet) having edging (border) to the Prophet, Then Sahl asked them whether they knew what is Burda, they said that Burda is a cloak and Sahl confirmed their reply. Then the woman said, I have woven it with my own hands and I have brought it so that you may wear it. The Prophet accepted it, and at that time he was in need of it. So he came out wearing it as his waist-sheet. A man praised it and said, Will you give it to me? How nice it is! The other people said, You have not done the right thing as the Prophet is in need of it and you have asked for it when you know that he never turns down anybody's request. The man replied, By Allah, I have not asked for it to wear it but to make it my shroud. Later it was his shroud.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ لائی۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ( حاضرین سے ) پوچھا کہ تم جانتے ہو چادر کیا؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں! شملہ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں شملہ ( تم نے ٹھیک بتایا ) خیر اس عورت نے کہا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اسے بنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس وقت ضرورت بھی تھی پھر اسے ازار کے طور پر باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک صاحب ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ یہ تو بڑی اچھی چادر ہے ‘ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہنا دیجئیے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے ( مانگ کر ) کچھ اچھا نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ضرورت کی وجہ سے پہنا تھا اور تم نے یہ مانگ لیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں نے اپنے پہننے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر نہیں مانگی تھی۔ بلکہ میں اسے اپنا کفن بناؤں گا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہی چادر ان کا کفن بنی۔
1277
Sahih
(29) CHAPTER. (Is it permissible for) women to accompany the funeral procession?
عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : نُهِينَا عَنْ إتباع الجنائز وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا .
Narrated Um 'Atiyya: We were forbidden to accompany funeral processions but not strictly.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے ام ہذیل حفصہ بنت سیرین نے ‘ ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں ( عورتوں کو ) جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا مگر تاکید سے منع نہیں ہوا۔
1278
Sahih
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , قَالَ : تُوُفِّيَ ابْنٌ لِأُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ دَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَتَمَسَّحَتْ بِهِ , وَقَالَتْ نُهِينَا أَنْ نُحِدَّ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ إِلَّا بِزَوْجٍ .
Narrated Muhammad bin Seereen: One of the sons of Um 'Atiyya died, and when it was the third day she asked for a yellow perfume and put it over her body, and said, We were forbidden to mourn for more than three days except for our husbands.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سلمہ بن علقمہ نے اور ان سے محمد بن سیرین نے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے تیسرے دن انہوں نے ”صفرہ خلوق“ ( ایک قسم کی زرد خوشبو ) منگوائی اور اسے اپنے بدن پر لگایا اور فرمایا کہ خاوند کے سوا کسی دوسرے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔
1279
Sahih
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى , قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَتْ : لَمَّا جَاءَ نَعْيُأَبِي سُفْيَانَ مِنْ الشَّأْمِ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِصُفْرَةٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ ، فَمَسَحَتْ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا , وَقَالَتْ : إِنِّي كُنْتُ عَنْ هَذَا لَغَنِيَّةً لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا .
Narrated Zainab bint Abi Salama: When the news of the death of Abu Sufyan reached from Sham, Um Habiba on the third day, asked for a yellow perfume and scented her cheeks and forearms and said, No doubt, I would not have been in need of this, had I not heard the Prophet saying: It is not legal for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days for any dead person except her husband, for whom she should mourn for four months and ten days.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے حمید بن نافع نے زینب بنت ابی سلمہ سے خبر دی کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر جب شام سے آئی تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ( ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المؤمنین ) نے تیسرے دن ”صفرہ“ ( خوشبو ) منگوا کر اپنے دونوں رخساروں اور بازوؤں پر ملا اور فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے اور شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن کرے۔ تو مجھے اس وقت اس خوشبو کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی۔
1280
Sahih
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا .
Narrated Zainab bint Abi Salama: I went to Um Habiba, the wife of Prophet, who said, I heard the Prophets saying, 'It is not legal for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any dead person for more than three days except for her husband, (for whom she should mourn) for four months and ten days'.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن عمرو بن حزم نے ‘ ان سے حمید بن نافع نے ‘ ان کو زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے شوہر کے سوا کسی مردے پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے۔ ہاں شوہر پر چار مہینے دس دن تک سوگ منائے۔
1281
Sahih
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ بِهِ , ثُمَّ قَالَتْ : مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ : لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا .
Later I went to Zainab bint Jahsh when her brother died; she asked for some scent, and after using it she said, I am not in need of scent but I heard Allah's Apostle saying, 'It is not legal for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days for any dead person except her husband, (for whom she should mourn) for four months and ten days.'
پھر میں زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے یہاں گئی جب کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوا ‘ انہوں نے خوشبو منگوائی اور اسے لگایا ‘ پھر فرمایا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ کسی بھی عورت کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو ‘ جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ لیکن شوہر کا سوگ ( عدت ) چار مہینے دس دن تک کرے۔
1282
Sahih
(31) CHAPTER. Visiting the graves.
قبروں کی زیارت کرنا
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ , فَقَالَ : اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، قَالَتْ : إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي وَلَمْ تَعْرِفْهُ ، فَقِيلَ لَهَا : إِنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ ، فَقَالَتْ : لَمْ أَعْرِفْكَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet passed by a woman who was weeping beside a grave. He told her to fear Allah and be patient. She said to him, Go away, for you have not been afflicted with a calamity like mine. And she did not recognize him. Then she was informed that he was the Prophet . so she went to the house of the Prophet and there she did not find any guard. Then she said to him, I did not recognize you. He said, Verily, the patience is at the first stroke of a calamity.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ بولی جاؤ جی پرے ہٹو۔ یہ مصیبت تم پر پڑی ہوتی تو پتہ چلتا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی تھی۔ پھر جب لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اب وہ ( گھبرا کر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر پہنچی۔ وہاں اسے کوئی دربان نہ ملا۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو پہچان نہ سکی تھی۔ ( معاف فرمائیے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو جب صدمہ شروع ہو اس وقت کرنا چاہیے ( اب کیا ہوتا ہے ) ۔
1283
Sahih
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ , وَمُحَمَّدٌ قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , قَالَ : حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ ، فَأْتِنَا فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ , وَيَقُولُ : إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى ، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا ، فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ ، فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ , قَالَ : حَسِبْتُهُ أَنَّهُ قَالَ : كَأَنَّهَا شَنٌّ ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ , فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا ؟ , فَقَالَ : هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ .
Narrated Usama bin Zaid: The daughter of the Prophet (p.b.u.h) sent (a messenger) to the Prophet requesting him to come as her child was dying (or was gasping), but the Prophet returned the messenger and told him to convey his greeting to her and say: Whatever Allah takes is for Him and whatever He gives, is for Him, and everything with Him has a limited fixed term (in this world) and so she should be patient and hope for Allah's reward. She again sent for him, swearing that he should come. The Prophet got up, and so did Sa`d bin 'Ubada, Mu`adh bin Jabal, Ubai bin Ka`b, Zaid bin Thabit and some other men. The child was brought to Allah's Apostle while his breath was disturbed in his chest (the sub-narrator thinks that Usama added: ) as if it was a leather water-skin. On that the eyes of the Prophet (p.b.u.h) started shedding tears. Sa`d said, O Allah's Apostle! What is this? He replied, It is mercy which Allah has lodged in the hearts of His slaves, and Allah is merciful only to those of His slaves who are merciful (to others).
ہم سے عبد ان اور محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم کو عاصم بن سلیمان نے خبر دی ‘ انہیں ابوعثمان عبدالرحمٰن نہدی نے ‘ کہا کہ مجھ سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرائی کہ میرا ایک لڑکا مرنے کے قریب ہے ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور کہلوایا کہ اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے ‘ جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے وقت مقررہ پر ہی واقع ہوتی ہے۔ اس لیے صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو۔ پھر زینب رضی اللہ عنہا نے قسم دے کر اپنے یہاں بلوا بھیجا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانے کے لیے اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد بن عبادہ ‘ معاذ بن جبل ‘ ابی بن کعب ‘ زید بن ثابت اور بہت سے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا۔ جس کی جانکنی کا عالم تھا۔ ابوعثمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جیسے پرانا مشکیزہ ہوتا ہے ( اور پانی کے ٹکرانے کی اندر سے آواز ہوتی ہے۔ اسی طرح جانکنی کے وقت بچہ کے حلق سے آواز آ رہی تھی ) یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ سعد رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ یا رسول اللہ! یہ رونا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ( نیک ) بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے ان رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔
1284
Sahih
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : شَهِدْنَا بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ , قَالَ : فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ , قَالَ : فَقَالَ هَلْ مِنْكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ ؟ , فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَنَا ، قَالَ : فَانْزِلْ ، قَالَ : فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا .
Narrated Anas bin Malik: We were (in the funeral procession) of one of the daughters of the Prophet and he was sitting by the side of the grave. I saw his eyes shedding tears. He said, Is there anyone among you who did not have sexual relations with his wife last night? Abu Talha replied in the affirmative. And so the Prophet told him to get down in the grave. And so he got down in her grave.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن علی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی ( ام کلثوم رضی اللہ عنہا ) کے جنازہ میں حاضر تھے۔ ( وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ جن کا 5 ھ میں انتقال ہوا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے کہ جو آج کی رات عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قبر میں تم اترو۔ چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔
1285
Sahih
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ ، وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا , أَوْ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا ، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ : أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ .
Narrated `Abdullah bin 'Ubaidullah bin Abi Mulaika: One of the daughters of `Uthman died at Mecca. We went to attend her funeral procession. Ibn `Umar and Ibn `Abbas were also present. I sat in between them (or said, I sat beside one of them. Then a man came and sat beside me.) `Abdullah bin `Umar said to `Amr bin `Uthman, Will you not prohibit crying as Allah's Apostle has said, 'The dead person is tortured by the crying of his relatives.
ہم سے عبد ان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک صاحبزادی ( ام ابان ) کا مکہ میں انتقال ہو گیا تھا۔ ہم بھی ان کے جنازے میں حاضر ہوئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لائے۔ میں ان دونوں حضرات کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا یا یہ کہا کہ میں ایک بزرگ کے قریب بیٹھ گیا اور دوسرے بزرگ بعد میں آئے اور میرے بازو میں بیٹھ گئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن عثمان سے کہا ( جو ام ابان کے بھائی تھے ) رونے سے کیوں نہیں روکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ میت پر گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔
1286
Sahih
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ، ثُمَّ حَدَّثَ , قَالَ : صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ , فَقَالَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا صُهَيْبٌ , فَأَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ : ادْعُهُ لِي فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ , فَقُلْتُ : ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي , يَقُولُ : وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ , وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ .
Ibn `Abbas said, `Umar used to say so. Then he added narrating, I accompanied `Umar on a journey from Mecca till we reached Al-Baida. There he saw some travelers in the shade of a Samura (A kind of forest tree). He said (to me), Go and see who those travelers are. So I went and saw that one of them was Suhaib. I told this to `Umar who then asked me to call him. So I went back to Suhaib and said to him, Depart and follow the chief of the faithful believers. Later, when `Umar was stabbed, Suhaib came in weeping and saying, O my brother, O my friend! (on this `Umar said to him, O Suhaib! Are you weeping for me while the Prophet said, The dead person is punished by some of the weeping of his relatives?
اس پر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی تائید کی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی فرمایا تھا۔ پھر آپ بیان کرنے لگے کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے چلا جب ہم بیداء تک پہنچے تو سامنے ایک ببول کے درخت کے نیچے چند سوار نظر پڑے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا کر دیکھو تو سہی یہ کون لوگ ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا تو صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر جب اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ انہیں بلا لاؤ۔ میں صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس دوبارہ آیا اور کہا کہ چلئے امیرالمؤمنین بلاتے ہیں۔ چنانچہ وہ خدمت میں حاضر ہوئے۔ ( خیر یہ قصہ تو ہو چکا ) پھر جب عمر رضی اللہ عنہ زخمی کئے گئے تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ وہ کہہ رہے تھے ہائے میرے بھائی! ہائے میرے صاحب! اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ صہیب رضی اللہ عنہ! تم مجھ پر روتے ہو ‘ تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔
1287
Sahih
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , فَقَالَتْ : رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ ، وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ، وَقَالَتْ : حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : عِنْدَ ذَلِكَ , وَاللَّهُ هُوَ أَضْحَكَ , وَأَبْكَى , قَالَ : ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَيْئًا .
Ibn Abbas added, When `Umar died I told all this to Aisha and she said, 'May Allah be merciful to `Umar. By Allah, Allah's Apostle did not say that a believer is punished by the weeping of his relatives. But he said, Allah increases the punishment of a non-believer because of the weeping of his relatives. Aisha further added, The Qur'an is sufficient for you (to clear up this point) as Allah has stated: 'No burdened soul will bear another's burden.' (35.18). Ibn `Abbas then said, Only Allah makes one laugh or cry. Ibn `Umar did not say anything after that.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے اس حدیث کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ رحمت عمر رضی اللہ عنہ پر ہو۔ بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اللہ مومن پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب کرے گا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اور زیادہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد کہنے لگیں کہ قرآن کی یہ آیت تم کو بس کرتی ہے کہ ”کوئی کسی کے گناہ کا ذمہ دار اور اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں۔“ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت ( یعنی ام ابان کے جنازے میں ) سورۃ النجم کی یہ آیت پڑھی ”اور اللہ ہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔“ ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ تقریر سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ جواب نہیں دیا۔
1288
Sahih
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا ، فَقَالَ :إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) Once Allah's Apostle passed by (the grave of) a Jewess whose relatives were weeping over her. He said, They are weeping over her and she is being tortured in her grave.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ آپ نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی عورت پر ہوا جس کے مرنے پر اس کے گھر والے رو رہے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ رو رہے ہیں حالانکہ اس کو قبر میں عذاب کیا جا رہا ہے۔
1289
Sahih
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ وَهْوَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ صُهَيْب يَقُولُ : وَا أَخَاهُ , فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ .
Narrated Abu Burda: That his father said, When `Umar was stabbed, Suhaib started crying: O my brother! `Umar said, 'Don't you know that the Prophet said: The deceased is tortured for the weeping of the living'?
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا ‘ ان سے علی بن مسہر نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق شیبانی نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ان کے والد ابوموسیٰ اشعری نے کہ جب عمر رضی اللہ کو زخمی کیا گیا تو صہیب رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے آئے ‘ ہائے میرے بھائی! اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مردے کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے۔
1290
Sahih
(33) CHAPTER. What (sort of) wailing over a deceased is disliked.
میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ .
Narrated Al-Mughira: I heard the Prophet saying, Ascribing false things to me is not like ascribing false things to anyone else. Whosoever tells a lie against me intentionally then surely let him occupy his seat in Hell-Fire. I heard the Prophet saying, The deceased who is wailed over is tortured for that wailing.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن عبید نے ‘ ان سے علی بن ربیعہ نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی سنا کہ کسی میت پر اگر نوحہ و ماتم کیا جائے تو اس نوحہ کی وجہ سے بھی اس پر عذاب ہوتا ہے۔
1291
Sahih
(33) CHAPTER. What (sort of) wailing over a deceased is disliked.
میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ، تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَقَالَ آدَمُ عَنْ شُعْبَةَ ، الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ .
Narrated Ibn 'Umar from his father: The Prophet said, The deceased is tortured in his grave for the wailing done over him. Narrated Shu'ba: The deceased is tortured for the wailing of the living ones over him .
ہم سے عبد ان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں قتادہ نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے ‘ انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے باپ عمر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کو اس پر نوحہ کئے جانے کی وجہ سے بھی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ عبدان کے ساتھ اس حدیث کو عبدالاعلیٰ نے بھی یزید بن زریع سے روایت کیا۔ انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قتادہ نے۔ اور آدم بن ابی ایاس نے شعبہ سے یوں روایت کیا کہ میت پر زندے کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔
1292
Sahih
(34) CHAPTER.
باب
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ قَدْ مُثِّلَ بِهِ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُجِّيَ ثَوْبًا فَذَهَبْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَائِحَةٍ , فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ , فَقَالُوا : ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو ، قَالَ : فَلِمَ تَبْكِي أَوْ لَا تَبْكِي ، فَمَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: On the day of the Battle of Uhud, my father was brought and he had been mutilated (in battle) and was placed in front of Allah's Apostle and a sheet was over him. I went intending to uncover my father but my people forbade me; again I wanted to uncover him but my people forbade me. Allah's Apostle gave his order and he was shifted away. At that time he heard the voice of a crying woman and asked, Who is this? They said, It is the daughter or the sister of `Amr. He said, Why does she weep? (or let her stop weeping), for the angels had been shading him with their wings till he (i.e. the body of the martyr) was shifted away.
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ میرے والد کی لاش احد کے میدان سے لائی گئی۔ ( مشرکوں نے ) آپ کی صورت تک بگاڑ دی تھی۔ نعش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی گئی۔ اوپر سے ایک کپڑا ڈھکا ہوا تھا ‘ میں نے چاہا کہ کپڑے کو ہٹاؤں۔ لیکن میری قوم نے مجھے روکا۔ پھر دوبارہ کپڑا ہٹانے کی کوشش کی۔ اس مرتبہ بھی میری قوم نے مجھ کو روک دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے جنازہ اٹھایا گیا۔ اس وقت کسی زور زور سے رونے والے کی آواز سنائی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ عمرو کی بیٹی یا ( یہ کہا کہ ) عمرو کی بہن ہیں۔ ( نام میں سفیان کو شک ہوا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روتی کیوں ہیں؟ یا یہ فرمایا کہ روؤ نہیں کہ ملائکہ برابر اپنے پروں کا سایہ کئے رہے ہیں جب تک اس کا جنازہ اٹھایا گیا۔
1293
Sahih
(35) CHAPTER. He who tears off his clothes (when afflicted with a calamity) is not from us.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ گریبان چاک کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ .
Narrated `Abdullah: the Prophet said, He who slaps his cheeks, tears his clothes and follows the ways and traditions of the Days of Ignorance is not one of us.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہ ہم سے سفیان ثوری نے ‘ ان سے زبید یامی نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورتیں ( کسی کی موت پر ) اپنے چہروں کو پیٹتی اور گریبان چاک کر لیتی ہیں اور جاہلیت کی باتیں بکتی ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔
1294
Sahih
(36) CHAPTER. The sorrow of the Prophet for Sa'd bin Khaula.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر افسوس کرنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وقاص عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي , فَقُلْتُ : إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ، قَالَ : لَا ، فَقُلْتُ : بِالشَّطْرِ ، فَقَالَ : لَا ، ثُمَّ قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ أَوْ كَثِيرٌ ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ؟ , قَالَ : إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً ، ثُمَّ لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ .
Narrated 'Amir bin Sa`d bin Abi Waqqas: That his father said, In the year of the last Hajj of the Prophet I became seriously ill and the Prophet used to visit me inquiring about my health. I told him, 'I am reduced to this state because of illness and I am wealthy and have no inheritors except a daughter, (In this narration the name of 'Amir bin Sa`d is mentioned and in fact it is a mistake; the narrator is `Aisha bint Sa`d bin Abi Waqqas). Should I give two-thirds of my property in charity?' He said, 'No.' I asked, 'Half?' He said, 'No.' then he added, 'Onethird, and even one-third is much. You'd better leave your inheritors wealthy rather than leaving them poor, begging others. You will get a reward for whatever you spend for Allah's sake, even for what you put in your wife's mouth.' I said, 'O Allah's Apostle! Will I be left alone after my companions have gone?' He said, 'If you are left behind, whatever good deeds you will do will upgrade you and raise you high. And perhaps you will have a long life so that some people will be benefited by you while others will be harmed by you. O Allah! Complete the emigration of my companions and do not turn them renegades.' But Allah's Apostle felt sorry for poor Sa`d bin Khaula as he died in Mecca. (but Sa`d bin Abi Waqqas lived long after the Prophet (p.b.u.h).)
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی۔ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اور انہیں ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے سال ( 10 ھ میں ) میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں سخت بیمار تھا۔ میں نے کہا کہ میرا مرض شدت اختیار کر چکا ہے میرے پاس مال و اسباب بہت ہے اور میری صرف ایک لڑکی ہے جو وارث ہو گی تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کو خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا آدھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک تہائی کر دو اور یہ بھی بڑی خیرات ہے یا بہت خیرات ہے اگر تو اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ محتاجی میں انہیں اس طرح چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ یہ یاد رکھو کہ جو خرچ بھی تم اللہ کی رضا کی نیت سے کرو گے تو اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا۔ حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو۔ پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرے ساتھی تو مجھے چھوڑ کر ( حجتہ الوداع کر کے ) مکہ سے جا رہے ہیں اور میں ان سے پیچھے رہ رہا ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں رہ کر بھی اگر تم کوئی نیک عمل کرو گے تو اس سے تمہارے درجے بلند ہوں گے اور شاید ابھی تم زندہ رہو گے اور بہت سے لوگوں کو ( مسلمانوں کو ) تم سے فائدہ پہنچے گا اور بہتوں کو ( کفار و مرتدین کو ) نقصان۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ) اے اللہ! میرے ساتھیوں کو ہجرت پر استقلال عطا فرما اور ان کے قدم پیچھے کی طرف نہ لوٹا۔ لیکن مصیبت زدہ سعد بن خولہ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکہ میں وفات پا جانے کی وجہ سے اظہار غم کیا تھا۔
1295
Sahih
(37) CHAPTER. Shaving the head on the falling of a calamity is forbidden.
غمی کے وقت سر منڈوانے کی ممانعت
وَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا شَدِيدًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا , فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنْ : الصَّالِقَةِ , وَالْحَالِقَةِ , وَالشَّاقَّةِ
Narrated Abu Burda bin Abi Musa: Abu Musa got seriously ill, fainted and could not reply to his wife while he was lying with his head in her lap. When he came to his senses, he said, I am innocent of those, of whom Allah's Messenger (saws) was innocent. Allah's Messenger (saws) is innocent of a woman who cries aloud (or slaps her face) who shaves her head and who tear off her clothes (on the falling of a calamity)
اور حکم بن موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن جابر نے کہ قاسم بن مخیمرہ نے ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ‘ ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی ام عبداللہ بنت ابی رومہ کی گود میں تھا ( وہ ایک زور کی چیخ مار کر رونے لگی ) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ بول نہ سکے لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسی غم کے وقت ) چلا کر رونے والی ‘ سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا تھا۔
1296
Sahih

Chapters

97
01
(1) CHAPTER. What is said about funerals, and those whose last words were: La ilaha illallah (none has the right to be worshipped but Allah).
جنازوں کے باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان کا بیان اور جس شخص کا آخری کلام لا الہٰ الا اللہ ہو ، اس کابیان
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. The order of following the funeral procession.
جنازہ میں شریک ہونے کاحکم
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا ( جائز ہے )
4 Hadith
04
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
آدمی اپنی ذات سے موت کی خبر میت کے وارثوں کو سنا سکتا ہے
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. What is said regarding conveying the news of the funeral (procession).
جنازہ تیار ہو تو لوگوں کو خبر دینا
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
4 Hadith
07
(7) CHAPTER. The saying of a man to a woman at the grave, “Be patient.”
کسی مرد کا کسی عورت سے قبر کے پاس یہ کہنا کہ صبر کر
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The bath of a dead (Muslim) and his ablution with water and Sidr (lote-tree leaves).
میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا اور وضو کرانا
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. It is desirable to wash (the dead body) for an odd number of times.
میت کو طاق مرتبہ غسل دینا مستحب ہے
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To start from the right side while giving a bath to a dead body.
اس بیان میں کہ ( غسل ) میت کی دائیں طرف سے شروع کیا جائے
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. (To start with) the parts of the dead body which are washed in ablution.
اس بارے میں کہ پہلے میت کے اعضاء وضو کو دھویا جائے
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Can a woman be shrouded in the waist-sheet of a man?
اس بیان میں کہ کیا عورت کو مرد کے ازار کا کفن دیا جا سکتا ہے ؟
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. To Sprinkle camphor on the dead body as the last thing (before shrouding).
میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے
2 Hadith
14
(14) CHAPTER. To undo the hair of a (dead) female.
میت عورت ہو تو غسل کے وقت اس کے بال کھولنا
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. How to shroud a dead body.
میت پر کپڑا کیونکر لپیٹنا چا ہیے
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. To entwine the head-hair of a (dead) woman in three braids.
اس بیان میں کہ کیا عورت میت کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے جائیں ؟
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. To make the hair of a (dead) woman fall at her back.
عورت کے بالوں کی تین لٹیں بنا کر اس کے پیچھے ڈال دی جائیں
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. White cloth for the shroud.
اس بارے میں کہ کفن کے لیے سفید کپڑے ہونے مناسب ہیں
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. Shrouding in two pieces of cloth.
دو کپڑوں میں کفن دینا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. The perfuming of a dead body with Hanut (a kind of perfume).
میت کو خوشبو لگانا
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. How to shroud a Muhrim.
محرم کو کیونکر کفن دیا جائے
2 Hadith
22
(22) CHAPTER. To shroud one in a shirt, stitched or unstitched.
قمیص میں کفن دینا اور اس کاحاشیہ سلا ہوا ہو یا بغیر سلا ہوا ہو اور بغیر قمیص کے کفن دینا
2 Hadith
23
(23) CHAPTER. To shroud (a dead) body without using a shirt.
بغیر قمیص کے کفن دینا
2 Hadith
24
(24) CHAPTER. Using no turban in shrouding.
عمامہ کے بغیر کفن دینے کا بیان
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. To shroud one with (the price of) all of one's property.
کفن کی تیاری میت کے سارے مال میں سے کرنا چاہیے
1 Hadith
26
(26) CHAPTER. If there is nothing except one piece of cloth (for shrouding).
اگر میت کے پاس ایک ہی کپڑا نکلے
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. If sufficient cloth for the shroud is not available but only that much which covers the head or the feet, then the head is to be covered.
جب کفن کا کپڑا چھوٹا ہو کہ سر اور پاؤں دونوں نہ ڈھک سکیں تو سر چھپا دیں ( اور پاؤں پر گھاس وغیرہ ڈال دیں )
1 Hadith
28
(28) CHAPTER. (If) somebody prepared his shroud (before his death) (in the lifetime of the Prophet and the Prophet did not object to that).
ان کے بیان میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنا کفن خود ہی تیار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں فرمایا
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. (Is it permissible for) women to accompany the funeral procession?
عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا کیسا ہے ؟
1 Hadith
30
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
4 Hadith
31
(31) CHAPTER. Visiting the graves.
قبروں کی زیارت کرنا
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
7 Hadith
33
(33) CHAPTER. What (sort of) wailing over a deceased is disliked.
میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے
2 Hadith
34
(34) CHAPTER.
باب
2 Hadith
35
(35) CHAPTER. He who tears off his clothes (when afflicted with a calamity) is not from us.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ گریبان چاک کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں
1 Hadith
36
(36) CHAPTER. The sorrow of the Prophet for Sa'd bin Khaula.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر افسوس کرنا
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Shaving the head on the falling of a calamity is forbidden.
غمی کے وقت سر منڈوانے کی ممانعت
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. He who slaps his cheeks is not from us.
رخسار پیٹنے والے ہم میں سے نہیں ہیں ( یعنی ہماری امت سے خارج ہیں )
1 Hadith
39
(39) CHAPTER. Prohibition of wailing and following the traditions of the Days of Ignorance when afflicted with a calamity.
اس بارے میں کہ مصیبت کے وقت جاہلیت کی باتیں اور واویلا کرنے کی ممانعت ہے
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. Whoever sat down and looked sad when afflicted with a calamity.
جو شخص مصیبت کے وقت ایسا بیٹھے کہ وہ غمگین دکھائی دے
2 Hadith
41
(41) CHAPTER. Whoever shows no signs of grief and sorrow on the falling of a calamity.
جو شخص مصیبت کے وقت ( اپنے نفس پر زور ڈال کر ) اپنا رنج ظاہر نہ کرے
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. Patience is to be observed at the first stroke of a calamity.
صبر وہی ہے جو مصیبت آتے ہی کیا جائے
1 Hadith
43
(43) CHAPTER. The saying of the Prophet (at the death of his son Ibrahim): “ Indeed we are grieved by your separation.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اے ابراھیم ! ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں
1 Hadith
44
(44) CHAPTER. To weep near a patient.
مریض کے پاس رونا کیسا ہے ؟
1 Hadith
45
(45) CHAPTER. The forbiddance of wailing and crying aloud; and scolding those who practise them.
کس طرح کے نوحہ و بکا سے منع کرنا اور اس پر جھڑکنا چاہیے
2 Hadith
46
(46) CHAPTER. Standing for the funeral procession.
جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا
1 Hadith
47
(47) CHAPTER. When should one sit after standing for the funeral procession?
اگر کوئی جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو جائے تو اسے کب بیٹھنا چاہئے ؟
1 Hadith
48
(48) CHAPTER. Whoever accompanies a funeral procession should not sit till the coffin is put down from the shoulders of men, and if someone sits before this, then he is to be ordered to stand up.
جو شخص جنازہ کے ساتھ ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ لوگوں کے کاندھوں سے اتار کر زمین پر نہ رکھ دیا جائے اور اگر پہلے بیٹھ جائے تو اس سے کھڑا ہونے کے لیے کہا جائے
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. Standing for the funeral procession of a Jew.
اس شخص کے بارے میں جو یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو گیا
3 Hadith
50
(50) CHAPTER. Men, and not women, are to carry the coffin.
اس بارے میں کہ عورتیں نہیں بلکہ مرد ہی جنازے کو اٹھائیں
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. Hurrying up with the coffin.
جنازے کو جلد لے چلنا
1 Hadith
52
(52) CHAPTER. The saying of the deceased while he is being carried on the bier, “Take me quickly.”
نیک میت چارپائی پر کہتا ہے کہ مجھے آگے بڑھائے چلو ( جلد دفناؤ )
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. Whoever aligned in two or three rows behind the Imam for a funeral Salat (prayer).
امام کے پیچھے جنازہ کی نماز کے لیے دو یا تین صفیں کرنا
1 Hadith
54
(54) CHAPTER. The rows for funeral prayer.
جنازہ کی نماز میں صفیں باندھنا
3 Hadith
55
(55) CHAPTER. The lining up of boys in rows with men in the funeral prayer.
جنازے کی نماز میں بچے بھی مردوں کے برابر کھڑے ہوں
1 Hadith
56
(56) CHAPTER. The legal way of offering the funeral prayer.
جنازے پر نماز کا مشروع ہونا
1 Hadith
57
(57) CHAPTER. Superiority of accompanying funeral processions.
جنازہ کے ساتھ جانے کی فضیلت
2 Hadith
58
(58) CHAPTER. Whoever waits till the deceased is buried.
جو شخص دفن ہونے تک ٹھہرا رہے
1 Hadith
59
(59) CHAPTER. The offering of the funeral Salat (prayer) by boys along with the men.
بڑوں کے ساتھ بچوں کا بھی نماز جنازہ میں شریک ہونا
1 Hadith
60
(60) CHAPTER. To offer the funeral Salat (prayer) at a Musalla and in the mosque.
نماز جنازہ عیدگاہ میں اور مسجد میں ( ہر دو جگہ جائز ہے )
3 Hadith
61
(61) CHAPTER. What is disliked of establishing places for worship (mosques) over the graves.
قبروں پر مسجد بنانا مکروہ ہے
1 Hadith
62
(62) CHAPTER. The offering of the funeral Salat (prayer) of a woman who died during the delivery (of a child).
اگر کسی عورت کا نفاس کی حالت میں انتقال ہو جائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھنا
1 Hadith
63
(63) CHAPTER. Where should the Imam stand while leading the funeral prayer of a female or a male?
اس بارے میں کہ عورت اور مرد کی نماز جنازہ میں کہاں کھڑا ہوا جائے ؟
1 Hadith
64
(64) CHAPTER. There are four Takbir in the funeral prayers.
نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنا
2 Hadith
65
(65) CHAPTER. The recitation of Surat-al-Fatiha in the funeral Salat.
نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ( ضروری ہے )
1 Hadith
66
(66) CHAPTER. To offer the (funeral) Salat (prayer) on the grave after the burial of the deceased.
مردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنا
2 Hadith
67
(67) CHAPTER. A dead person hears the footsteps (of the living).
اس بیان میں کہ مردہ لوٹ کر جانے والوں کے جوتوں کی آواز سنتا ہے
1 Hadith
68
(68) CHAPTER. Whoever desired to be buried in the Sacred Land or something like it.
جو شخص ارض مقدس یا ایسی ہی کسی برکت والی جگہ دفن ہونے کا آرزو مند ہو
1 Hadith
69
(69) CHAPTER. Burial at night and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was buried at night.
رات میں دفن کرنا کیسا ہے ؟ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رات میں دفن کئے گئے
1 Hadith
70
(70) CHAPTER. Building a mosque (a place of worship) at a grave.
قبر پر مسجد تعمیر کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
71
(71) CHAPTER. Who may get down in the grave of a woman.
عورت کی قبر میں کون اترے ؟
1 Hadith
72
(72) CHAPTER. The funeral Salat (prayer) of a martyr.
شہید کی نماز جنازہ پڑھیں یا نہیں ؟
2 Hadith
73
(73) CHAPTER. The burial of two or three men in one grave.
دو یاتین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرنا
1 Hadith
74
(74) CHAPTER. Whoever thinks that no bath is required for the martyrs.
اس شخص کی دلیل جو شہداء کا غسل مناسب نہیں سمجھتا
1 Hadith
75
(75) CHAPTER. Who should be put first in the Lahd (a side extension of a grave) and it is called Lahd because it is to the side. If it is a straight one (i.e. has no side extension), it is called Darih.
بغلی قبر میں کون آگے رکھا جائے
2 Hadith
76
(76) CHAPTER. The placing of Idhkhir (a kind of shrub with a fragrant smell) and grass in the grave.
اذخر اور سوکھی گھاس قبر میں بچھانا
1 Hadith
77
(77) CHAPTER. Can the dead body be taken out of its grave and Lahd for some reason?
باب کہ میت کو کسی خاص وجہ سے قبر یا لحد سے باہر نکالا جا سکتا ہے ؟
3 Hadith
78
(78) CHAPTER. The Lahd and the (straight) cut in the grave.
بغلی یا صندوقی قبر بنانا
1 Hadith
79
(79) CHAPTER. If a boy becomes a Muslim and then dies, should a funeral prayer be offered for him? Should Islam be explained to a boy (below the age of puberty)?
ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا ‘ تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے ؟
6 Hadith
80
(80) CHAPTER. If Al-Mushrik says, “La ilaha illallah (none has the right to be worshipped but Allah) at the time of his death.
جب ایک مشرک موت کے وقت لا الٰہ الا اللہ کہہ لے
1 Hadith
81
(81) CHAPTER. Placing a leaf of a date-palm over the grave.
قبر پر کھجور کی ڈالیاں لگانا
1 Hadith
82
(82) CHAPTER. Preacher delivering a lecture at a grave and the sitting of his companions around him.
قبر کے پاس عالم کا بیٹھنا اور لوگوں کو نصیحت کرنا اور لوگوں کا اس کے اردگرد بیٹھنا
1 Hadith
83
(83) CHAPTER. What is said about committing suicide.
جو شخص خودکشی کرے اس کی سزا کے بیان میں
3 Hadith
84
(84) CHAPTER. It is disliked to offer the funeral prayer for the hypocrites, and to ask Allah's Forgiveness for the Mushrikun.
منافقوں پر نماز جنازہ پڑھنا اور مشرکوں کے لیے طلب مغفرت کرنا ناپسند ہے
1 Hadith
85
(85) CHAPTER. The praising of a deceased by the people.
لوگوں کی زبان پر میت کی تعریف ہو تو بہتر ہے
2 Hadith
86
(86) CHAPTER. Wha is said regarding the punishment in the grave.
عذاب قبر کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ الانعام میں ) فرمایا
6 Hadith
87
(87) CHAPTER. To seek refuge with Allah from the punishment in the grave.
قبر کے عذاب سے پناہ مانگنا
3 Hadith
88
(88) CHAPTER. Punishment in the grave because of back-biting and soiling one's clothes with urine.
غیبت اور پیشاب کی آلودگی سے قبر کا عذاب ہونا
1 Hadith
89
(89) CHAPTER. The deceased is shown his actual place (in Paradise or in Hell) both in the morning and in the afternoon.
مردے کو دونوں وقت صبح اور شام اس کا ٹھکانا بتلایا جاتا ہے
1 Hadith
90
(90) CHAPTER. The speech of the deceased after it is lifted upon the bier.
میت کا چارپائی پر بات کرنا
1 Hadith
91
(91) CHAPTER. What is said regarding the dead children of Muslims.
مسلمانوں کی نابالغ اولاد کہاں رہے گی ؟
2 Hadith
92
(92) CHAPTER. What is said regarding the (dead) children of Al-Mushrikun.
مشرکین کی نابالغ اولاد کا بیان
3 Hadith
93
(94) CHAPTER. Dying on Monday.
پیر کے دن مرنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
94
(95) CHAPTER. Sudden unexpected death.
ناگہانی موت کا بیان
1 Hadith
95
(96) CHAPTER. What is said regarding the graves of the Prophet , Abu Bakr, and Umar.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کا بیان
4 Hadith
96
(97) CHAPTER. What is forbidden as regards: Abusing the dead.
اس بارے میں کہ مردوں کو برا کہنے کی ممانعت ہے
1 Hadith
97
(98) CHAPTER. Talking about the wicked among the dead.
برے مردوں کی برائی بیان کرنا درست ہے
1 Hadith
No chapter matched that.