TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3621 صحیح بخاری

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 51 of 64 in this chapter
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنِ انْفُخْهُمَا ، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي فَكَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ .
Abu Huraira told me that Allah's Apostle; said, While I was sleeping, I saw (in a dream) two gold bracelets round my arm, and that worried me too much. Then I was instructed divinely in my dream, to blow them off and so I blew them off, and they flew away. I interpreted the two bracelets as symbols of two liars who would appear after me. And so one of them was Al-Ansi and the other was Musailama Al-Kadhdhab from Al-Yamama.
(ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ) مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ( خواب میں ) سونے کے دو کنگن اپنے ہاتھوں میں دیکھے۔ مجھے اس خواب سے بہت فکر ہوا، پھر خواب میں ہی وحی کے ذریعہ مجھے بتلایا گیا کہ میں ان پر پھونک ماروں۔ چنانچہ جب میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس سے یہ تعبیر لی کہ میرے بعد جھوٹے نبی ہوں گے۔“ پس ان میں سے ایک تو اسود عنسی ہے اور دوسرا یمامہ کا مسیلمہ کذاب تھا۔
3621
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

2,100
1
(37) CHAPTER. The asking of (angel) Jibril (Gabriel) from the Prophet about Belief, Islam, Ihsan (perfection) and the knowledge of the Hour (Doomsday) .
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان ، اسلام ، احسان اور قیامت کے علم کے بارے میں پوچھنا
Sahih Bukhari
2
(146) CHAPTER. Whoever considered that the first Tashah-hud is not compulsory. As the Prophet stood up after the second Raka (without sitting for Tashah-hud) and did not perform it.
اس شخص کی دلیل جو پہلے تشہد کو ( چار رکعت یا تین رکعت نماز میں ) واجب نہیں جانتا ( یعنی فرض ) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں ۔
Sahih Bukhari
3
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
Sahih Bukhari
4
(102) CHAPTER. The invitation of the Prophet (p.b.u.h) to embrace Islam, and to believe in his Prophethood and not to take each other as Lords instead of Allah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( غیر مسلموں کو ) اسلام کی طرف دعوت دینا
Sahih Bukhari
5
(15) CHAPTER. Al-Wasil (the one who keeps good relations with his kith and kin) is not the one who recompenses the good done to him by his relatives.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ناطہٰ اگر قائم رکھ کر تروتازہ رکھا جائے ( یعنی ناطہٰ کی رعایت کی جائے ) تو دوسرا بھی ناطہٰ کو تروتازہ رکھے گا ۔
Sahih Bukhari
6
(1) CHAPTER. What has been said about the Prophet (p.b.u.h.) inviting his followers (nation) to Tauhid Allah i.e., Islamic Monotheism (worshiping none but Allah Alone).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا
Sahih Bukhari
7
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
8
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
Musnad Ahmad
9
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
Musnad Ahmad
10
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
Musnad Ahmad
11
(42) CHAPTER. The statement of the Prophet : Religion is An-Nasihah (to be sincere and true) to Allah, to His Messenger (Muhammad ), to the Muslim rulers, and to all the Muslims.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا نام ہے
Sahih Bukhari
12
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
13
(45) CHAPTER. Offering Salat (prayer) in front of the people with the sole intention of teaching them the Salat of the Prophet and his Sunna (legal ways etc.).
کوئی شخص صرف یہ بتلانے کے لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیوں کر پڑھا کرتے تھے اور آپ کا طریقہ کیا تھا نماز پڑھائے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
14
(48) CHAPTER. If somebody is leading the Salat (prayer) and (in the meanwhile) the first (usual) Imam comes, the Salat is valid whether the former retreats or does not retreat.
ایک شخص نے امامت شروع کر دی پھر پہلا امام آ گیا اب پہلا شخص ( مقتدیوں میں ملنے کے لیے ) پیچھے سرک گیا یا نہیں سرکا ، بہرحال اس کی نماز جائز ہو گی اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
Sahih Bukhari
15
(6) CHAPTER. Standing of the Prophet [for the Salat (prayer)] at night.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز میں اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج جاتے
Sahih Bukhari
16
(11) CHAPTER. The waking up of the Prophet from his sleep for the night prayer and what (how much) was cancelled from the night prayer.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رات میں اور سوجانا اور رات کی نماز میں سے جو منسوخ ہوا ( اس کا بیان )
Sahih Bukhari
17
(5) CHAPTER. The superiority of the place between the pulpit and the grave (of the Prophet ).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرشریف اور منبر مبارک کے درمیانی حصہ کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
18
(35) CHAPTER. He who tears off his clothes (when afflicted with a calamity) is not from us.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ گریبان چاک کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں
Sahih Bukhari
19
(32) CHAPTER. Whoever assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet (for Hajj and Umra) in the lifetime of the Prophet (without being objected by the Prophet ).
جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے احرام میں یہ نیت کی جو نیت آنحضرت کی ہے
Sahih Bukhari
20
(9) CHAPTER. The Itikaf and coming of the Prophet out of Itikaf in the morning of the twentieth (of Ramadan).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کا اور بیسویں کی صبح کو آپ کا اعتکاف سے نکلنے کا بیان
Sahih Bukhari
21
(89) CHAPTER. What is said regarding the armour of the Prophet (p.b.u.h) and the coat of mail during the battle.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا
Sahih Bukhari
22
(121) CHAPTER. What has been said regarding the flag of the Prophet (p.b.u.h) .
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان
Sahih Bukhari
23
(122) CHAPTER. The Statement of the prophet (p.b.u.h) : I have been made victorious for a distance of one month journey with terror (cast in the hearts of the enemy).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب ( کافروں کے دلوں میں ) ڈال کر میری مدد کی ہے
Sahih Bukhari
24
(13) CHAPTER. Blessed is the wealth of a living or a dead Ghazi (i.e., Muslim fighter) who fought aling with the Prophet (p.b.u.h) or along with the ruler.
اللہ پاک نے مجاہدین کرام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے بادشاہان اسلام کے ساتھ ہو کر لڑے کیسی برکت دی تھی ‘ اس کا بیان
Sahih Bukhari
25
(16) CHAPTER. The free emancipation of the captives by the Prophet (p.b.u.h) without taking out the Khumus from the booty.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان رکھ کر قیدیوں کو مفت چھوڑ دینا ، اور خمس وغیرہ نہ نکالنا
Sahih Bukhari
26
(19) CHAPTER. What the Prophet (p.b.u.h) used to give to those Muslims whose faith was not so firm, and to other Muslims, from the Khumus or other resources.
تالیف قلوب کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض کافروں وغیرہ نو مسلموں یا پرانے مسلمانوں کو خمس میں سے دینا
Sahih Bukhari
27
(3) CHAPTER. The advice to take care of non-Muslims who have a covenant of Allah's Messenger (p.b.u.h).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کافروں کو امان دی ( اپنے ذمہ میں لیا ) ان کے امان کو قائم رکھنے کی وصیت کرنا
Sahih Bukhari
28
(4) CHAPTER. What grants the Prophet (p.b.u.h) gave from the land of Bahrain, and what he promised to give (some people) from the Bahrain money resources and from Al-Jizya. And to whom should the Fai (i.e., booty gained without fight) and the Jizya be distributed?
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بحرین سے ( مجاہدین کو کچھ معاش ) دینا اور بحرین کی آمدنی اور جزیہ میں سے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ کرنا اس کا بیان اور اس کا کہ جو مال کافروں سے بن لڑے ہاتھ آئے یا جزیہ وہ کن لوگوں کو تقسیم کیا جائے ۔
Sahih Bukhari
29
(18) CHAPTER. The last (i.e., the end) of all the Prophets (Muhammad (p.b.u.h)).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ۔
Sahih Bukhari
30
(27) CHAPTER. The demand of Al-Mushrikun to the Prophet (p.b.u.h) to show them a miracle. The Prophet (p.b.u.h) showed them the splitting of the moon.
مشرکین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شق القمر دکھانا ۔
Sahih Bukhari
31
(2) CHAPTER. The Prophet's prediction about whom he thought would be killed at Badr.
بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں مارے جائیں گے ۔ اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کا بیان
Sahih Bukhari
32
(26) CHAPTER. (Allah's Statement):- “Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammad )... (V.3:172)
وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا ( یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے )
Sahih Bukhari
33
(58) CHAPTER. The Sariya (i.e., an army unit sent by the Prophet ) which was sent towards Najd.
نجد کی طرف جو لشکرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا ، اس کا بیان
Sahih Bukhari
34
(61) CHAPTER. The sending of Abu Musa and Mu'adh to Yemen before the Hajjat-al-Wada.
حجۃالوداع سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰاشعری اور حضرت معاذبنجبل رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
Sahih Bukhari
35
(81) CHAPTER. The dismounting of the Prophet at (the place called) Al-Hijr.
حجر بستی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا
Sahih Bukhari
36
(92) CHAPTER. The Statement of Allah: “Men are protectors and maintainers of women.” (V.4:34)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں کو اس طرح پر چھوڑنا کہ ان کے گھر ہی میں نہیں گئے ۔
Sahih Bukhari
37
(10) CHAPTER. The Prophet never used to eat anything unless it was named for him so that he might know what it was.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کھانا ( جو پہچانا نہ جاتا ) نہ کھاتے جب تک لوگ بتلانہ دیتے کہ فلانا کھانا ہے اور آپ کو جب معلوم نہ ہو جاتا نہ کھاتے تھے ۔
Sahih Bukhari
38
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
Sahih Bukhari
39
(31) CHAPTER. The Prophet used to be contented with whatever clothes or mats were available.
اس بیان میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی لباس یا فرش کے پابند نہ تھے جیسا مل جاتا اسی پر قناعت کرتے
Sahih Bukhari
40
(54) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “None should have the same engraving made on his ring as the engraving on my ring.”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ کوئی شخص اپنی انگوٹھی پرلفظ ” محمد رسول اللہ “ کا نقش نہ کھدوائے
Sahih Bukhari
41
(38) CHAPTER. The Prophet was neither a Fahish (one who speaks bad words) nor a Mutafahhish (one who speaks obscene evil words to make people laugh).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سختگو اور بدزبان نہ تھے
Sahih Bukhari
42
(103) CHAPTER. The saying of someone (to another): “Let my father and mother be sacrificed for you.
کسی شخص کا کہنا کہ ” میرے باپ اور ماں تم پر قربان ہوں “ اس میں زبیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے
Sahih Bukhari
43
(1) CHAPTER. Health and leisure (free time for doing good deeds). There is no life worth living except the life in the Hereafter.
صحت اور فراغت کے بیان میں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے
Sahih Bukhari
44
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Allah will not punish you for what is unintentional in your oaths, but He will punish you for your deliberate oaths; for its expiation (a deliberate oath) feed ten poor persons, on a scale of the average of that with which you feed your own families; or clothe them; or manumit a slave. But whosoever cannot afford (that), then he should fast for three days. That is the expiation for the oath when you have sworn. And protect your oaths (i.e., do not swear much). Thus Allah make clear to you His Ayat (proofs, evidances, verses, lessons, signs, revelations, etc.) that you may be grateful. (V.5:89)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں قسم کھانا ” وایم اﷲ “ ( اللہ کی قسم )
Sahih Bukhari
45
(16) CHAPTER. The Prophet did not cauterize (the amputated limbs of) those who fought (against Allah and His Messenger) and of those who were renegades (reverted from Islam) (therefore they bled) till they died.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مرتد ڈاکوؤں کے ( زخموں پر ) داغ نہیں لگوایا ، یہاں تک کہ وہ مرگئے
Sahih Bukhari
46
(4) CHAPTER. If a Dhimmi or somebody else abuses the Prophet by playing upon words but not frankly, e.g., by saying, As-Samu Alaika.
اگر ذمی کافر یا کوئی اور اشارے کنائے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہے جیسے یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( السلامعلیکم کے بدلے ) السام علیک کہا کرتے تھے ۔
Sahih Bukhari
47
(33) CHAPTER. Whoever does not care slanders made by ignorant people against the Amirs (leaders).
حکم ( بیوقوف اور غائب لوگوں کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کو بیچ سکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام بن نحام کے ہاتھ بیچ ڈالا
Sahih Bukhari
48
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): “If I had formerly known what I came to know lately...”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ کاش ایسا اور ایسا ہوتا
Sahih Bukhari
49
(8) CHAPTER. Whenever the Prophet (p.b.u.h.) was asked about something regarding which no Verse was revealed, he would either say, I do not know, or give no reply, but he never gave a verdict based on opinion or on Qiyas.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسئلہ رائے یا قیاس سے نہیں بتلا یا ۔
Sahih Bukhari
50
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Sahih Muslim
5935
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ، فَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدَةٍ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ، قَالَ: «لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا، وَلَنْ أَتَعَدَّى أَمْرَ اللهِ فِيكَ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللهُ، وَإِنِّي لَأُرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيكَ مَا أُرِيتُ، وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي» ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّكَ أَرَى الَّذِي أُرِيتُ فِيكَ مَا أُرِيتُ» فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا، فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِي، فَكَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَاءَ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ»
Ibn `Abbas reported that Musailima al-Kadhdhab (the greater liar) (who claimed prophethood after the death of the Holy Prophet) came during the lifetime of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to Medina and said: If Muhammad assigns his caliphate to me after him I would follow him, and there came along with him a large body of persons of his tribe, and there came to him Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) along with Thabit b. Qais b. Shammas and the Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had a piece of wood in his hand until he came in front of Musailima in the company of his companions and said: If you were to ask even this (wood), I would never give it to you. I am not going to do anything against the will of God in your case, and if you turn away (from what I say) Allah will destroy you. And I find you in the same state which I was shown (in the dream) and here is Thabit and he would answer you on my behalf. He (the Holy Prophet) then went back. Ibn `Abbas said: I asked the (meaning of the) words of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): You are the same what I was made to see about you in my dream. and Abu Huraira reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: While I was sleeping I saw in my hands two gold bangles. This had a disturbing effect upon me and I was given a suggestion in the sleep that I should blow over them, so I blew over them and they were no more. And I interpreted these (two bangles) as the two great liars who would appear after me and the one amongst them was Al-`Anasi the inhabitant of San`a' and the other one Musailima the inhabitant of Yamama.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے اپنے بعد خلافت دیں تو میں ان کی پیروی کرتا ہوں ۔ مسیلمہ کذاب اپنے ساتھ اپنی قوم کے بہت سے لوگ لے کر آیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی کا ایک ٹکڑا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے لوگوں کے پاس ٹھہرے اور فرمایا کہ اے مسیلمہ! اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا مانگے تو بھی تجھ کو نہ دوں گا اور میں اللہ کے حکم کے خلاف تیرے بارے میں فیصلہ کرنے والا نہیں اور اگر تو میرا کہنا نہ مانے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ کو قتل کرے گا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا صحیح ہو گیا ) اور یقیناً تجھے وہی جانتا ہوں جو مجھے تیرے بارہ میں خواب میں دکھایا گیا ہے اور یہ ثابت تجھے میری طرف سے جواب دے گا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں تیرے بارے دکھلایا گیا ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں سو رہا تھا کہ میں نے ( خواب میں ) اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے ، وہ مجھے برے معلوم ہوئے اور خواب ہی میں مجھ پر القا کیا گیا کہ ان کو پھونک مارو ، میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے ۔ میں نے ان کی تعبیر یہ کی کہ اس سے مراد دو جھوٹے ہیں ، جو میرے بعد نکلیں گے ۔ ان میں سے ایک عنسی صنعاء والا اور دوسرا یمامہ والا ( مسیلمہ کذاب ) ہے ۔
Sahih Bukhari
4374
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ أُرَى الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا أَرَيْتُ ، فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا ، فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي ، أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ .
I asked about the statement of Allah's Apostle : You seem to be the same person who was shown to me in my dream, and Abu Huraira informed me that Allah's Apostle said, When I was sleeping, I saw (in a dream) two bangles of gold on my hands and that worried me. And then I was inspired Divinely in the dream that I should blow on them, so I blew on them and both the bangles flew away. And I interpreted it that two liars (who would claim to be prophets) would appear after me. One of them has proved to be Al Ansi and the other, Musailima.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا کہ ”میرا خیال تو یہ ہے کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔“ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا، میں نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن دیکھے، مجھے انہیں دیکھ کر بڑا دکھ ہوا پھر خواب ہی میں مجھ پر وحی کی گئی کہ میں ان میں پھونک مار دوں۔ چنانچہ میں نے ان میں پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جو میرے بعد نکلیں گے۔ ایک اسود عنسی تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب، جن ہر دو کو خدا نے پھونک کی طرح ختم کر دیا۔
Jam e Tirmazi
2292
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَنْفُخَهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَوَّلْتُهُمَا كَاذِبَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِي، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا:‏‏‏‏ مُسَيْلِمَةُ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَنْسِيُّ صَاحِبُ صَنْعَاءَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Ibn 'abbas narrated fro Abu Hurairah that the Messengr of Allah (s.a.w) said: I had a dream while sleeping as if there were two gold bracelets in my hands which bothered me very much. So it was reveled to me to blow them off. I blew them off and they flew away. I interpreted thwm to be two liars who would appear after me. One of them caled Masalamah of Yamamah, and (the other) Al-'ansi of San'a'. (sahih)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں، ان کے حال نے مجھے غم میں ڈال دیا، پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں، لہٰذا میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے ان دونوں کنگنوں کی تعبیر ( نبوت کا دعویٰ کرنے والے ) دو جھوٹوں سے کی جو میرے بعد نکلیں گے: ایک کا نام مسیلمہ ہو گا جو یمامہ کا رہنے والا ہو گا اور دوسرے کا نام عنسی ہو گا، جو صنعاء کا رہنے والا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Mishkat
4619
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي كَفَّيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَبُرَا عَلَيَّ فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا مُسَيْلِمَةُ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ وَالْعَنْسِيُّ صَاحِبُ صَنْعَاءَ» لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي (الصَّحِيحَيْنِ) وَذكرهَا صَاحب الْجَامِع عَن التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسی اثنا میں کہ میں سو رہا تھا کہ مجھ پر زمین کے خزانے پیش کیے گئے ، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے تو وہ مجھ پر گراں گزرے ، پھر میری طرف وحی کی گئی کہ میں انہیں پھونک ماروں ، میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں جاتے رہے ، میں نے ان کی یہ تعبیر کی کہ اس سے مراد وہ دو جھوٹے شخص ہیں ، میں ان کے درمیان ہوں ، ایک (اسود عنسی) صنعاء سے اور ایک (مسیلمہ کذاب) یمامہ سے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ ان دونوں میں سے ایک مسیلمہ یمامہ کا رہنے والا اور عنسی صنعاء کا رہنے والا ۔‘‘ لیکن میں نے یہ روایت صحیحین میں نہیں پائی اور صاحب الجامع نے اسے ترمذی سے روایت کیا ہے ۔ متفق علیہ و الترمذی ۔
Sahih Bukhari
4375
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ ، فَوُضِعَ فِي كَفِّي سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَكَبُرَا عَلَيَّ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا ، فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, While I was sleeping, I was given the treasures of the earth and two gold bangles were put in my hands, and I did not like that, but I received the inspiration that I should blow on them, and I did so, and both of them vanished. I interpreted it as referring to the two liars between whom I am present; the ruler of Sana and the Ruler of Yamaha.
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خواب میں میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے۔ یہ مجھ پر بڑا شاق گزرا۔ اس کے بعد مجھے وحی کی گئی کہ میں ان میں پھونک ماروں۔ میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جن کے درمیان میں، میں ہوں یعنی صاحب صنعاء ( اسود عنسی ) اور صاحب یمامہ ( مسیلمہ کذاب ) ۔“
Sahih Bukhari
7037
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُوتِيتُ خَزَائِنَ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا ، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا ، صَاحِبَ صَنْعَاءَ ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ .
Allah's Apostle further said, ''While sleeping, I was given the treasures of the world and two golden bangles were put in my hands, but I felt much annoyed, and those two bangles distressed me very much, but I was inspired that I should blow them off, so I blew them and they flew away. Then I interpreted that those two bangles were the liars between whom I was (i.e., the one of San`a' and the one of Yamama).
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے اور میرے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن رکھ دئیے گئے جو مجھے بہت شاق گزرے۔ پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جن کے درمیان میں میں ہوں ایک صنعاء کا اور دوسرا یمامہ کا۔“
Sahih Muslim
5936
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ خَزَائِنَ الْأَرْضِ فَوَضَعَ فِي يَدَيَّ أُسْوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا: صَاحِبَ صَنْعَاءَ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: While I was sleeping, the treasures of the earth were presented to me and I was made to wear in my hands two gold bangles. I felt a sort of burden upon me and I was disturbed and it was suggested to me that I should blow over them, so I blew and both of them disappeared. I interpreted them as two great liars who would appear at any time, one is the inhabitant of San`a' and the other is that of Yamama.
ہمام بن منبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ۔ انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب میں سو رہا تھا تو زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے ۔ اس ( خزانے کو لانے والے ) نے سونے کے دو کنگن میرے ہاتھوں میں ڈال دیے ، یہ دونوں مجھ پر گراں گزرے اور انھوں نے مجھے تشویش میں مبتلا کردیا ، تو میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں پھونک ماریں ، میں نے دونوں کو پھونک ماری تو وہ چلے گئے ۔ میں نے ان سے مراد دو کذب لئے ، میں ان کے وسط میں ( مقیم ) ہوں ۔ ایک ( دائیں ہاتھ پر واقع ) صنعاء کا رہنے والا اور دوسرا بائیں ہاتھ پر ) یمامہ کارہنے والا ۔ "
Silsila Sahih
2590
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي يَدِي سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَاُوْحِىَ إِلَيَّ: أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا: الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا: صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کڑے رکھے گئے۔ وہ مجھ پر بھاری ہو گئے اور مجھے پریشان کر دیا۔ میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں پر پھونک ماروں، میں نے ان دونوں پر پھونک ماری تو وہ دونوں ختم ہو گئے۔ میں نے ان دونوں کی تعبیر ان دو جھوٹے(نبوت کے دعویدار)آدمیوں سے کی جن کے درمیان میں میں ہوں۔ یعنی صاحب صنعاء اور صاحب یمامہ
Sunnan Ibn e Maja
3922
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ فِي يَدِي سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَنَفَخْتُهُمَا،‏‏‏‏ فَأَوَّلْتُهُمَا هَذَيْنِ الْكَذَّابَيْنِ مُسَيْلِمَةَ،‏‏‏‏ وَالْعَنْسِيَّ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “I saw wristbands of gold on my arms, so I blew into them, and I interpreted them as being these two liars, Musailimah and ‘Ansi.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں سونے کے دو کنگن دیکھے، پھر میں نے انہیں پھونک ماری ( تو وہ اڑ گئے ) ، پھر میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ اس سے مراد نبوت کے دونوں جھوٹے دعوے دار مسیلمہ اور عنسی ہیں ۱؎۔