TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The merits of al-ansar. - انصار کے مناقب - Book 64 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 64 of Sahih Bukhari, with 53 chapters and 173 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

173 Hadith · 53 Chapters
(1) CHAPTER. The merits of Al- Ansar.
انصار رضوان اللہ علیہم کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : أَرَأَيْتَ اسْمَ الْأَنْصَارِ كُنْتُمْ تُسَمَّوْنَ بِهِ أَمْ سَمَّاكُمُ اللَّهُ ، قَالَ : بَلْ سَمَّانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , كُنَّا نَدْخُلُ عَلَى أَنَسٍ فَيُحَدِّثُنَا بِمَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ وَمَشَاهِدِهِمْ وَيُقْبِلُ عَلَيَّ أَوْ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ ، فَيَقُولُ : فَعَلَ قَوْمُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا , كَذَا وَكَذَا .
Narrated Ghailan bin Jarir: I asked Anas, Tell me about the name 'Al-Ansar.; Did you call yourselves by it or did Allah call you by it? He said, Allah called us by it. We used to visit Anas (at Basra) and he used to narrate to us the virtues and deeds of the Ansar, and he used to address me or a person from the tribe of Al-Azd and say, Your tribe did so-and-so on such-and-such a day.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا ہم سے غیلان بن جریر نے بیان کیا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا بتلائیے ( انصار ) اپنا نام آپ لوگوں نے خود رکھ لیا تھا یا آپ لوگوں کا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہمارا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ غیلان کی روایت ہے کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ہم سے انصار کی فضیلتیں اور غزوات میں ان کے مجاہدانہ واقعات بیان کیا کرتے پھر میری طرف یا قبیلہ ازد کے ایک شخص کی طرف متوجہ ہو کر کہتے: تمہاری قوم ( انصار ) نے فلاں دن فلاں دن فلاں فلاں کام انجام دیے۔
3776
Sahih
(1) CHAPTER. The merits of Al- Ansar.
انصار رضوان اللہ علیہم کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ يَوْمُ بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ ، وَقُتِلَتْ : سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا , فَقَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ .
Narrated `Aisha: The day of Bu'ath (i.e. Day of fighting between the two tribes of the Ansar, the Aus and Khazraj) was brought about by Allah for the good of His Apostle so that when Allah's Apostle reached (Medina), the tribes of Medina had already divided and their chiefs had been killed and wounded. So Allah had brought about the battle for the good of H is Apostle in order that they (i.e. the Ansar) might embrace Islam.
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی جنگ کو ( جو اسلام سے پہلے اوس اور خزرج میں ہوئی تھی ) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقدم کر رکھا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ میں تشریف لائے تو یہ قبائل آپس کی پھوٹ کا شکار تھے اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے، کچھ زخمی تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو آپ سے پہلے اس لیے مقدم کیا تھا تاکہ وہ آپ کے تشریف لاتے ہی مسلمان ہو جائیں۔
3777
Sahih
(1) CHAPTER. The merits of Al- Ansar.
انصار رضوان اللہ علیہم کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : وَأَعْطَى قُرَيْشًا , وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاءِ قُرَيْشٍ وَغَنَائِمُنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَعَا الْأَنْصَارَ ، قَالَ : فَقَالَ : مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ ، فَقَالُوا : هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ ، قَالَ : أَوَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ إِلَى بُيُوتِهِمْ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ .
Narrated Anas: On the day of the Conquest of Mecca, when the Prophet had given (from the booty) the Quraish, the Ansar said, By Allah, this is indeed very strange: While our swords are still dribbling with the blood of Quraish, our war booty are distributed amongst them. When this news reached the Prophet he called the Ansar and said, What is this news that has reached me from you? They used not to tell lies, so they replied, What has reached you is true. He said, Doesn't it please you that the people take the booty to their homes and you take Allah's Apostle to your homes? If the Ansar took their way through a valley or a mountain pass, I would take the Ansar's valley or a mountain pass.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو ( غزوہ حنین کی ) غنیمت کا سارا مال دے دیا تو بعض نوجوان انصار یوں نے کہا ( اللہ کی قسم! ) یہ تو عجیب بات ہے ابھی ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا حاصل کیا ہوا مال غنیمت صرف انہیں دیا جا رہا ہے، اس کی خبر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے انصار کو بلایا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو خبر مجھے ملی ہے کیا وہ صحیح ہے؟ انصار لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے انہوں نے عرض کر دیا کہ آپ کو صحیح اطلاع ملی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس سے خوش اور راضی نہیں ہو کہ جب سب لوگ غنیمت کا مال لے کر اپنے گھروں کو واپس ہوں اور تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیے اپنے گھروں کو جاؤ گے؟ انصار جس نالے یا گھاٹی میں چلیں گے تو میں بھی اسی نالے یا گھاٹی میں چلوں گا۔
3778
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “But for the emigration, I would have been one of the Ansar.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں نے مکہ سے ہجرت نہ کی ہوتی میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّ الْأَنْصَارَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ فِي وَادِي الْأَنْصَارِ , وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : مَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي آوَوْهُ وَنَصَرُوهُ , أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى .
Narrated Abu Huraira: The Prophet or Abul-Qasim said, If the Ansar took their way through a valley or a mountain pass, I would take Ansar's valley. And but for the migration, I would have been one of the Ansar. Abu Huraira used to say, The Prophet is not unjust (by saying so). May my parents be sacrificed for him, for the Ansar sheltered and helped him, or said a similar sentence.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا ( یوں بیان کیا کہ ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار جس وادی یا گھاٹی میں جائیں تو میں بھی انہیں کی وادی میں جاؤں گا۔ اور اگر میں ہجرت نہ کرتا تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ نے یہ کوئی ظلم والی بات نہیں فرمائی آپ کو انصار نے اپنے یہاں ٹھہرایا اور آپ کی مدد کی تھی یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( اس کے ہم معنی ) اور کوئی دوسرا کلمہ کہا۔
3779
Sahih
(3) CHAPTER. The Prophet estabilished the bone of brotherhood (fraternity) between the Ansar and the Muhajirun (i.e., emigrants).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِنِّي أَكْثَرُ الْأَنْصَارِ مَالًا فَأَقْسِمُ مَالِي نِصْفَيْنِ وَلِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَعْجَبَهُمَا إِلَيْكَ فَسَمِّهَا لِي أُطَلِّقْهَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا ، قَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ , أَيْنَ سُوقُكُمْ ؟ فَدَلُّوهُ عَلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَمَا انْقَلَبَ إِلَّا وَمَعَهُ فَضْلٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ ثُمَّ تَابَعَ الْغُدُوَّ , ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْيَمْ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ ، قَالَ : كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا ، قَالَ : نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . شَكَّ إِبْرَاهِيمُ .
Narrated Sa`d's father: When the emigrants reached Medina. Allah's Apostle established the bond of fraternity between `Abdur-Rahman and Sa`d bin Ar-Rabi. Sa`d said to `Abdur-Rahman, I am the richest of all the Ansar, so I want to divide my property (between us), and I have two wives, so see which of the two you like and tell me, so that I may divorce her, and when she finishes her prescribed period (i.e. 'Idda) of divorce, then marry her. `Abdur-Rahman said, May Allah bless your family and property for you; where is your market? So they showed him the Qainuqa' market. (He went there and) returned with a profit in the form of dried yogurt and butter. He continued going (to the market) till one day he came, bearing the traces of yellow scent. The Prophet asked, What is this (scent)? He replied, I got married. The Prophet asked, How much Mahr did you give her? He replied, I gave her a datestone of gold or a gold piece equal to the weight of a date-stone. (The narrator, Ibrahim, is in doubt as to which is correct.)
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے کہ جب مہاجر لوگ مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں انصار میں سب سے زیادہ دولت مند ہوں اس لیے آپ میرا آدھا مال لے لیں اور میری دو بیویاں ہیں آپ انہیں دیکھ لیں جو آپ کو پسند ہو اس کے متعلق مجھے بتائیں میں اسے طلاق دے دوں گا۔ عدت گزرنے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں۔ اس پر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہارے اہل اور مال میں برکت عطا فرمائے تمہارا بازار کدھر ہے؟ چنانچہ میں نے بنی قینقاع کا بازار انہیں بتا دیا، جب وہاں سے کچھ تجارت کر کے لوٹے تو ان کے ساتھ کچھ پنیر اور گھی تھا پھر وہ اسی طرح روزانہ صبح سویرے بازار میں چلے جاتے اور تجارت کرتے آخر ایک دن خدمت نبوی میں آئے تو ان کے جسم پر ( خوشبو کی ) زردی کا نشان تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہے انہوں نے بتایا کہ میں نے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہر کتنا ادا کیا ہے؟ عرض کیا کہ سونے کی ایک گٹھلی یا ( یہ کہا کہ ) ایک گٹھلی کے وزن برابر سونا ادا کیا ہے، یہ شک ابراہیم راوی کو ہوا۔
3780
Sahih
(3) CHAPTER. The Prophet estabilished the bone of brotherhood (fraternity) between the Ansar and the Muhajirun (i.e., emigrants).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ وَكَانَ كَثِيرَ الْمَالِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : قَدْ عَلِمَتْ الْأَنْصَارُ أَنِّي مِنْ أَكْثَرِهَا مَالًا سَأَقْسِمُ مَالِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَيْنِ , وَلِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَعْجَبَهُمَا إِلَيْكَ فَأُطَلِّقُهَا حَتَّى إِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ فَلَمْ يَرْجِعْ يَوْمَئِذٍ حَتَّى أَفْضَلَ شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ , فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْيَمْ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : مَا سُقْتَ فِيهَا ، قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ , أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ .
Narrated Anas: When `Abdur-Rahman bin `Auf came to us, Allah's Apostle made a bond of fraternity between him and Sa`d bin Ar-Rabi` who was a rich man, Sa`d said, The Ansar know that I am the richest of all of them, so I will divide my property into two parts between me and you, and I have two wives; see which of the two you like so that I may divorce her and you can marry her after she becomes lawful to you by her passing the prescribed period (i.e. 'Idda) of divorce. `Abdur Rahman said, May Allah bless you your family (i.e. wives) for you. (But `Abdur-Rahman went to the market) and did not return on that day except with some gain of dried yogurt and butter. He went on trading just a few days till he came to Allah's Apostle bearing the traces of yellow scent over his clothes. Allah's Apostle asked him, What is this scent? He replied, I have married a woman from the Ansar. Allah's Apostle asked, How much Mahr have you given? He said, A date-stone weight of gold or a golden date-stone. The Prophet said, Arrange a marriage banquet even with a sheep.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ بہت دولت مند تھے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: انصار کو معلوم ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں اس لیے میں اپنا آدھا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میرے گھر میں دو بیویاں ہیں جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا اس کی عدت گزر جانے پر آپ اس سے نکاح کر لیں۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہارے اہل و مال میں برکت عطا فرمائے، ( مجھ کو اپنا بازار دکھلا دو ) پھر وہ بازار سے اس وقت تک واپس نہیں آئے جب تک کچھ گھی اور پنیر بطور نفع بچا نہیں لیا۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جسم پر زردی کا نشان تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ بولے کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا مہر کیا دیا ہے؟ بولے ایک گٹھلی کے برابر سونا یا ( یہ کہا کہ ) سونے کی ایک گٹھلی دی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اب ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔
3781
Sahih
(3) CHAPTER. The Prophet estabilished the bone of brotherhood (fraternity) between the Ansar and the Muhajirun (i.e., emigrants).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو هَمَّامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَتْ الْأَنْصَارُ : اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ النَّخْلَ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : يَكْفُونَا الْمَئُونَةَ وَتشْرِكُونَا فِي التَّمْرِ ، قَالُوا : سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا .
Narrated Abu Huraira: The Ansar said (to the Prophet ), Please divide the date-palm trees between us and them (i.e. emigrants). The Prophet said, No. The Ansar said, Let them (i.e. the emigrants) do the labor for us in the gardens and share the date-fruits with us. The emigrants said, We accepted this.
ہم سے ابوہمام صلت بن محمد نے بیان کیا کہا میں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ انصار نے کہا: یا رسول اللہ! کھجور کے باغات ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں کروں گا اس پر انصار نے ( مہاجرین سے ) کہا پھر آپ ایسا کر لیں کہ کام ہماری طرف سے آپ انجام دیا کریں اور کھجوروں میں آپ ہمارے ساتھی ہو جائیں۔ مہاجرین نے کہا ہم نے آپ لوگوں کی یہ بات سنی اور ہم ایسا ہی کریں گے۔
3782
Sahih
(4) CHAPTER. To love the Ansar is a sign of Faith.
انصار سے محبت رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْأَنْصَارُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ ، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ .
Narrated Al-Bara: I heard the Prophet saying (or the Prophet said), None loves the Ansar but a believer, and none hates them but a hypocrite. So Allah will love him who loves them, and He will hate him who hates them.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا یا یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ پس جو شخص ان سے محبت کرے اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا ( معلوم ہوا کہ انصار کی محبت نشان ایمان ہے اور ان سے دشمنی رکھنا بے ایمان لوگوں کا کام ہے ) ۔
3783
Sahih
(4) CHAPTER. To love the Ansar is a sign of Faith.
انصار سے محبت رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, The sign of Belief is to love the Ansar, and the sign of hypocrisy is to hate the Ansar.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن جبیر نے کہا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایمان کی نشانی انصار سے محبت رکھنا ہے اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض رکھنا ہے۔“
3784
Sahih
(5) CHAPTER. The statement of the Prophet to the Ansar: “You are from the most beloved people to me.”
انصار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ مُقْبِلِينَ ، قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مِنْ عُرُسٍ , فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ , قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ .
Narrated Anas: The Prophet saw the women and children (of the Ansar) coming forward. (The sub-narrator said, I think that Anas said, 'They were returning from a wedding party. ) The Prophet stood up and said thrice, By Allah! You are from the most beloved people to me.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصار کی ) عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا اللہ ( گواہ ہے ) تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو، تین بار آپ نے ایسا ہی فرمایا۔
3785
Sahih
(5) CHAPTER. The statement of the Prophet to the Ansar: “You are from the most beloved people to me.”
انصار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَكَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ أَحَبُّ النَّاسِ , إِلَيَّ مَرَّتَيْنِ .
Narrated Anas bin Malik: Once an Ansari woman, accompanied by a son of hers, came to Allah's Apostle. Allah's Apostle spoke to her and said twice, By Him in Whose Hand my life is, you are the most beloved people to me.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ہشام بن زید نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ انصار کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ان کے ساتھ ایک ان کا بچہ بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کلام کیا پھر فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔
3786
Sahih
(6) CHAPTER. The followers of the Ansar.
انصار کے تابعدار لوگوں کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو , سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعٌ وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا , فَدَعَا بِهِ , فَنَمَيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَدْ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ .
Narrated Zaid bin Al-Arqam: The Annwar said, O Allah's Apostle! Every prophet has his own followers and we have followed you. So will you invoke Allah to let our followers be considered from us (as Ansar too)? So he invoked Allah accordingly.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، انہوں نے ابوحمزہ سے سنا اور انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر نبی کے تابعدار لوگ ہوتے ہیں اور ہم نے آپ کی تابعداری کی ہے۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرمائی۔ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث بیان کی تھی۔
3787
Sahih
(6) CHAPTER. The followers of the Ansar.
انصار کے تابعدار لوگوں کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ : إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ أَتْبَاعًا وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَتْبَاعَهُمْ مِنْهُمْ ، قَالَ عَمْرٌو : فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَدْ زَعَمَ ذَاكَ زَيْدٌ ، قَالَ : شُعْبَةُ أَظُنُّهُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ .
Narrated Abu Hamza: (A man from the Ansar) The Ansar said, Every nation has followers and (O Prophet) we have followed you, so invoke Allah to let our followers be considered from us (as Ansar like ourselves). So the Prophet said, O Allah! Let their followers be considered as Ansar like themselves.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے کہ میں نے انصار کے ایک آدمی ابوحمزہ سے سنا کہ انصار نے عرض کیا ہر قوم کے تابعدار ( ہالی موالی ) ہوتے ہیں، ہم تو آپ کے تابعدار بنے۔ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! ان کے تابعداروں کو بھی انہیں میں سے کر دے۔“ عمرو نے بیان کیا کہ پھر میں نے اس حدیث کا تذکرہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے کیا تو انہوں نے ( تعجب کے طور پر ) کہا زید نے ایسا کہا؟ شعبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ زید، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں ( نہ اور کوئی زید جیسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے ابن ابی لیلیٰ نے گمان کیا ) ۔
3788
Sahih
(7) CHAPTER. The superiority of the families (houses) of the Ansar.
انصار کے گھرانوں کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ : بَنُو النَّجَّارِ ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ ، فَقَالَ سَعْدٌ : مَا أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا ، فَقِيلَ : قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، وَقَالَ : سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ .
Narrated Abu Usaid: The Prophet said, The best of the Ansar's families (homes) are those of Banu An-Najjar and then (those of) Banu `Abdul Ash-hal, then (those of) Banu Al-Harith bin Al-Khazraj and then (those of) Banu Sa`ida; nevertheless, there is good in all the families (houses) of the Ansar. On this, Sa`d (bin Ubada) said, I see that the Prophet has preferred some people to us. Somebody said (to him), No, but he has given you superiority to many.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنو نجار کا گھرانہ انصار میں سے سب سے بہتر گھرانہ ہے پھر بنو عبدالاشہل کا، پھر بنو الحارث بن خزرج کا، پھر بنو ساعدہ بن کعب بن خزرج اکبر کا،، جو اوس کا بھائی تھا، خزرج اکبر اور اوس دونوں حارثہ کے بیٹے تھے اور انصار کا ہر گھرانہ عمدہ ہی ہے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے کئی قبیلوں کو ہم پر فضیلت دی ہے، ان سے کسی نے کہا تجھ کو بھی تو بہت سے قبیلوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضیلت دی ہے اور عبدالصمد نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی، اس روایت میں سعد کے باپ کا نام عبادہ مذکور ہے۔
3789
Sahih
(7) CHAPTER. The superiority of the families (houses) of the Ansar.
انصار کے گھرانوں کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ الطَّلْحِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : أَخْبَرَنِي أَبُو أُسَيْدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : خَيْرُ الْأَنْصَارِ , أَوْ قَالَ : خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ : بَنُو النَّجَّارِ ، وَبَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، وَبَنُو الْحَارِثِ ، وَبَنُو سَاعِدَةَ .
Narrated Abu Usaid: That he heard the Prophet saying, The best of the Ansar, or the best of the Ansar families (homes) are Banu An-Najjar, Bani `Abdul Ash-hal, Banu Al-Harith and Banu Sai'da.
ہم سے سعد بن حفص طلحی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے کہ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ مجھے ابواسید رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ انصار میں سب سے بہتر یا انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر بنو نجار، بنو عبدالاشھل، بنو حارث اور بنو ساعدہ کے گھرانے ہیں۔
3790
Sahih
(7) CHAPTER. The superiority of the families (houses) of the Ansar.
انصار کے گھرانوں کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ : دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، ثُمَّ عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ , وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ , فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، فَقَالَ : أَبَا أُسَيْدٍ أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ الْأَنْصَارَ فَجَعَلَنَا أَخِيرًا , فَأَدْرَكَ سَعْدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خُيِّرَ دُورُ الْأَنْصَارِ فَجُعِلْنَا آخِرًا ، فَقَالَ : أَوَلَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ .
Narrated Abu Humaid: The Prophet said, The best of the Ansar families (homes) are the families (homes) of Banu An- Najjar, and then that of Banu `Abdul Ash-hal, and then that of Banu Al-Harith, and then that of Banu Saida; and there is good in all the families (homes) of the Ansar. Sa`d bin 'Ubada followed us and said, O Abu Usaid ! Don't you see that the Prophet compared the Ansar and made us the last of them in superiority? Then Sa`d met the Prophet and said, O Allah's Apostle! In comparing the Ansar's families (homes) as to the degree of superiority, you have made us the last of them. Allah's Apostle replied, Isn't it sufficient that you are regarded amongst the best?
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل نے اور ان سے ابو حمید ساعدی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انصار کا سب سے بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے پھر بنو عبدالاشھل کا پھر بنی حارث کا، پھر بنی ساعدہ کا اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے۔ پھر ہماری ملاقات سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو وہ ابواسید رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے تمہیں معلوم نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بہترین گھرانوں کی تعریف کی اور ہمیں ( بنو ساعدہ ) کو سب سے اخیر میں رکھا تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انصار کے سب سے بہترین خاندانوں کا بیان ہوا اور ہم سب سے اخیر میں کر دیئے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا خاندان بھی بہترین خاندان ہے۔
3791
Sahih
(8) CHAPTER. The statement of the prophet to the Ansar: “Be patient till you meet me at Al-Haud [the tank (i.e., Al-Kauthar)]”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا ، قَالَ : سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ .
Narrated Usaid bin Hudair: A man from the Ansar said, O Allah's Apostle! Will you appoint me as you have appointed so-andso? The Prophet said, After me you will see others given preference to you; so be patient till you meet me at the Tank (i.e. Lake of Kauthar). (on the Day of Resurrection).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے کہ ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں شخص کی طرح مجھے بھی آپ حاکم بنا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد ( دنیاوی معاملات میں ) تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔“
3792
Sahih
(8) CHAPTER. The statement of the prophet to the Ansar: “Be patient till you meet me at Al-Haud [the tank (i.e., Al-Kauthar)]”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ : إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي ، وَمَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said to the Ansar, After me you will see others given preference to you; so be patient till you meet me, and your promised place (of meeting) will be the Tank (i.e. Lake of Kauthar).
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی، پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو اور میری تم سے ملاقات حوض پر ہو گی۔“
3793
Sahih
(8) CHAPTER. The statement of the prophet to the Ansar: “Be patient till you meet me at Al-Haud [the tank (i.e., Al-Kauthar)]”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ خَرَجَ مَعَهُ إِلَى الْوَلِيدِ ، قَالَ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ إِلَى أَنْ يُقْطِعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ ، فَقَالُوا : لَا إِلَّا أَنْ تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا ، قَالَ : إِمَّا لَا فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي فَإِنَّهُ سَيُصِيبُكُمْ بَعْدِي أَثَرَةٌ .
Narrated Yahya bin Sa`id: That he heard Anas bin Malik when he went with him to Al-Walid, saying, Once the Prophet called the Ansar in order to give them the territory of Bahrain they said, 'No, unless you give to our emigrant brethren a similar share.' On that he said 'If you do not agree to it, then be patient till you meet me, for after me others will be given preference to you. '
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا جب وہ انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے یہاں جانے کے لیے نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا ملک بطور جاگیر انہیں عطا فرما دیں۔ انصار نے کہا جب تک آپ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی اسی جیسی جاگیر نہ عطا فرمائیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو جب آج تم قبول نہیں کرتے ہو تو پھر میرے بعد بھی صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو، کیونکہ میرے بعد قریب ہی تمہاری حق تلفی ہونے والی ہے۔“
3794
Sahih
(9) CHAPTER. The invocation of the Prophet : “O Allah! Improve and make right the state of the Ansar and the Muhajirun (i.e., the emigrants).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا کہ ( اے اللہ ! ) انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ . وَعَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, There is no life except the life of the Hereafter; so, O Allah! Improve the state of the Ansar and the Muhajirun. And Anas added that the Prophet also said, O Allah! Forgive the Ansar.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوایاس نے بیان کیا ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خندق کھودتے وقت ) فرمایا ”حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے، پس اے اللہ! انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔“ اور قتادہ سے روایت ہے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح، اور انہوں نے بیان کیا اس میں یوں ہے ”پس انصار کی مغفرت فرما دے۔“
3795
Sahih

Chapters

53
01
(1) CHAPTER. The merits of Al- Ansar.
انصار رضوان اللہ علیہم کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “But for the emigration, I would have been one of the Ansar.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں نے مکہ سے ہجرت نہ کی ہوتی میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The Prophet estabilished the bone of brotherhood (fraternity) between the Ansar and the Muhajirun (i.e., emigrants).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
3 Hadith
04
(4) CHAPTER. To love the Ansar is a sign of Faith.
انصار سے محبت رکھنے کا بیان
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. The statement of the Prophet to the Ansar: “You are from the most beloved people to me.”
انصار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو
2 Hadith
06
(6) CHAPTER. The followers of the Ansar.
انصار کے تابعدار لوگوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. The superiority of the families (houses) of the Ansar.
انصار کے گھرانوں کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
08
(8) CHAPTER. The statement of the prophet to the Ansar: “Be patient till you meet me at Al-Haud [the tank (i.e., Al-Kauthar)]”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ
3 Hadith
09
(9) CHAPTER. The invocation of the Prophet : “O Allah! Improve and make right the state of the Ansar and the Muhajirun (i.e., the emigrants).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا کہ ( اے اللہ ! ) انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما
3 Hadith
10
(10)CHAPTER. The Statement of Allah: “…And (they) give them (emigrants) preference over themselves, even though they were in need of that...” (V.59:9)
اس آیت کی تفسیر میں ” اور اپنے نفسوں پر وہ دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں ، اگرچہ خود وہ فاقہ ہی میں مبتلاہوں “
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Accept the good (deeds) of the good-doers amongst them, and excuse the wrong-doers amongst them.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ” انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرو “
3 Hadith
12
(12) CHAPTER. The merits of Sad bin Muadh.
حضرت سعدبنمعاذ رضیاللہعنہ کے فضائل کابیان
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. The merits of Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr.
اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہماکی فضیلت کا بیان
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. The virtues of Muadh bin Jabal.
معاذبنجبل رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. The virtues of Sad bin Ubada.
حضرت سعدبنعبادہ رضیاللہعنہ کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The virtues or Ubayy bin Kab.
ابی بن کعب رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
2 Hadith
17
(17) CHAPTER. The virtues of Zaid bin Thabit.
حضرت زیدبنثابت رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. The virtues of Abu Talha.
حضرت ابوطلحہ رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. The virtues Abdullah bin Salam.
حضرت عبداللہبنسلام رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
3 Hadith
20
(20) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Khadija ا and her superiority.
حضرت خدیجہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
21
(21) CHAPTER. The narration about Jarir bin Abdullah Al-Bajali.
جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا بیان
2 Hadith
22
(22) CHAPTER. The narration about Hudhaifa bin Al-Yaman Al-Absy.
حذیفہبنیمان عبسی کا بیان
1 Hadith
23
(23)CHAPTER. The narration about Hind bint Utba bin Rabia.
ہند بنت عتبہ ربیعہ رضیاللہعنہا کا بیان
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. Narration about Zaid bin Amr bin Nufail.
حضرت زید بنعمرو بن نفیل کابیان
3 Hadith
25
(25) CHAPTER. The building of the Kabah.
قریش نے جو کعبہ کی مرمت کی تھی اس کا بیان
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. The days of Pre-Islamic Period of Ignorance.
جاہلیت کے زمانے کا بیان
14 Hadith
27
(27) CHAPTER. AI-Qasama in the Pre-Islamic Period of Ignorance.
زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان
6 Hadith
28
(28) CHAPTER. The advent of the Prophet , (as Messenger of Allah).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بیان
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. (The troubles which) the Mushrikun of Makkah caused the Prophet and his Companions to suffer.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہکرام رضیاللہعنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامناکیا ان کا بیان
5 Hadith
30
(30) CHAPTER. The conversion of Abu Bakr As-Siddiq to Islam.
حضرت ابوبکر صدیق رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کابیان
1 Hadith
31
(31) CHAPTER. The conversion of Sad to Islam.
حضرت سعدبنابیوقاص رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کا بیان
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. Narrations about jinns.
جنوں کا بیان
2 Hadith
33
(33) CHAPTER. The conversion of Abu Dhar Al-Ghifari to Islam.
حضرت ابوذر رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ ۔
2 Hadith
34
(35) CHAPTER. The conversion of Umar bin Al-Khattab to Islam.
سعید بنزید بنعمرو بن نفیل رضیاللہعنہ کا اسلام قبول کرنا
3 Hadith
35
(35) CHAPTER. The conversion of Umar bin Al-Khattab to Islam.
حضرت عمر بنخطاب رضیاللہعنہ کے اسلام لانے کا واقعہ
2 Hadith
36
(36) CHAPTER. The splitting of the moon (into two pieces).
چاند کے پھٹ جانے کابیان
4 Hadith
37
(37) CHAPTER. The emigration to Ethiopia.
مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان
5 Hadith
38
(38) CHAPTER. The death of An-Najashi (the Negus).
نجاشی ( حبشہ کے بادشاہ ) کی وفات کا بیان
5 Hadith
39
(39) CHAPTER. The oath taken by the Mushrikun against the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکین کا عہد و پیمان کرنا
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. The story of Abu Talib.
ابوطالب کا واقعہ
3 Hadith
41
(41) CHAPTER. The narration about Al-Isra (Journey by Night).
بیتالمقدس تک جانے کا قصہ
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. Al-Mi'raj (i.e., Ascension of the Prophet to the heavens with his body and soul).
معراج کابیان
2 Hadith
43
(43) CHAPTER. The deputation of the Ansar to the Prophet at Makkah, and the Al-'Aqaba Pledge.
مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے وفود کا آنا اور بیعت عقبہ کا بیان
5 Hadith
44
(44) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Aishah, and Aishah,s arrival at Al-Madina, and the Prophet,s consummation of that marriage.
حضرت عائشہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کرنا اور آپ کامدینہ میں تشریف لانا اور حضرت عائشہ رضیاللہعنہا کی رخصتی کا بیان
3 Hadith
45
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
27 Hadith
46
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
9 Hadith
47
(47) CHAPTER. The stay of the emigrants in Makkah after performing all the ceremonies of Hajj.
حج کی ادائیگی کے بعد مہاجر کا مکہ میں قیام کرنا کیسا ہے
1 Hadith
48
(48) CHAPTER. At-Tarikh (Date-definition of time). When did the Muslim calendar start?.
اسلامی تاریخ کب سے شروع ہوئی ؟
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Complete the emigration of my Companions,” and his lamentation for those (emigrants) who died in Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کہ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھ اور جومہاجر مکہ میں انتقال کر گئے ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار رنج و غم
1 Hadith
50
(50) CHAPTER. How the Prophet established the bond of brotherhood between his Companions.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان کس طرح بھائی چارہ قائم کرایا تھا
1 Hadith
51
(51) CHAPTER
۔ ۔ ۔
3 Hadith
52
(52) CHAPTER. The coming of the Jews to the Prophet on his arrival at Al-Madina.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان
5 Hadith
53
(53) CHAPTER. The conversion of Salman Al-Farisi to Islam.
حضرت سلمان فارسی رضیاللہعنہ کے ایمان لانے کا واقعہ
3 Hadith
No chapter matched that.