TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The merits of al-ansar. - انصار کے مناقب - Book 64 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 64 of Sahih Bukhari, with 53 chapters and 173 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

173 Hadith · 53 Chapters
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، إِذَا قِيلَ لَهُ : هَاجَرَ قَبْلَ أَبِيهِ يَغْضَبُ ، قَالَ : وَقَدِمْتُ أَنَا وَعُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَجَدْنَاهُ قَائِلًا , فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَنْزِلِ , فَأَرْسَلَنِي عُمَرُ ، وَقَالَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ هَلِ اسْتَيْقَظَ , فَأَتَيْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ , فَبَايَعْتُهُ , ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى عُمَرَ , فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ , فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ نُهَرْوِلُ هَرْوَلَةً حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَبَايَعَهُ . ثُمَّ بَايَعْتُهُ .
Narrated Abu `Uthman: I heard that Ibn `Umar used to become angry if someone mentioned that he had migrated before his father (`Umar), and he used to say, `Umar and I came to Allah's Apostle and found him having his midday rest, so we returned home. Then `Umar sent me again (to the Prophet ) and said, 'Go and see whether he is awake.' I went to him and entered his place and gave him the pledge of allegiance. Then I went back to `Umar and informed him that the Prophet was awake. So we both went, running slowly, and when `Umar entered his place, he gave him the pledge of allegiance and thereafter I too gave him the pledge of allegiance.
مجھ سے محمد بن صباح نے خود بیان کیا یا ان سے کسی اور نے نقل کر کے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے عاصم احول نے، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے میں نے سنا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ تم نے اپنے والد سے پہلے ہجرت کی تو وہ غصہ ہو جایا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے، اس لیے ہم گھر واپس آ گئے پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا اور فرمایا کہ جا کر دیکھ آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیدار ہوئے یا نہیں چنانچہ میں آیا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے ) اس لیے اندر چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی پھر میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے کی خبر دی۔ اس کے بعد ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے عمر رضی اللہ عنہ بھی اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور میں نے بھی ( دوبارہ ) بیعت کی۔
3916
Sahih
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : ابْتَاعَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ عَازِبٌ عَنْ مَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُخِذَ عَلَيْنَا بِالرَّصَدِ , فَخَرَجْنَا لَيْلًا فَأَحْثَثْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ , ثُمَّ رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ فَأَتَيْنَاهَا وَلَهَا شَيْءٌ مِنْ ظِلٍّ ، قَالَ : فَفَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْوَةً مَعِي , ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْطَلَقْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ , فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ قَدْ أَقْبَلَ فِي غُنَيْمَةٍ يُرِيدُ مِنَ الصَّخْرَةِ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا , فَسَأَلْتُهُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ ، فَقَالَ : أَنَا لِفُلَانٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ لَهُ : هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ , فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : انْفُضْ الضَّرْعَ ، قَالَ : فَحَلَبَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ , وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ عَلَيْهَا خِرْقَةٌ قَدْ رَوَّأْتُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَضِيتُ , ثُمَّ ارْتَحَلْنَا وَالطَّلَبُ فِي إِثْرِنَا .
Narrated Al-Bara: Abu Bakr bought a (camel's) saddle from `Azib, and I carried it for him. `Azib (i.e. my father) asked Abu Bakr regarding the journey of the migration of Allah's Apostle. Abu Bakr said, Close observers were appointed by our enemies to watch us. So we went out at night and travelled throughout the night and the following day till it was noon, then we perceived a rock and went towards it, and there was some shade under it. I spread a cloak I had with me for Allah's Apostle and then the Prophet layed on it. I went out to guard him and all of a sudden I saw a shepherd coming with his sheep looking for the same, the shade of the rock as we did, I asked him, 'O boy, to whom do you belong?' He replied, 'I belong to so-and-so.' I asked him, 'Is there some milk in your sheep?' He replied in the affirmative. I asked him, 'Will you milk?' He replied in the affirmative. Then he got hold of one of his sheep. I said to him, 'Remove the dust from its udder.' Then he milked a little milk. I had a water-skin with me which was tied with a piece of cloth. I had prepared the water-skin for Allah's Apostle . So I poured some water over the milk (container) till its bottom became cold. Then I brought the milk to the Prophet and said, 'Drink, O Allah's Apostle.' Allah's Apostle drank till I became pleased. Then we departed and the pursuers were following us.
ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ان سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن یوسف نے، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے حدیث سنی وہ بیان کرتے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان خریدا اور میں ان کے ساتھ اٹھا کر پہنچانے لایا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عازب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت کا حال پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ چونکہ ہماری نگرانی ہو رہی تھی ( یعنی کفار ہماری تاک میں تھے ) اس لیے ہم ( غار سے ) رات کے وقت باہر آئے اور پوری رات اور دن بھر بہت تیزی کے ساتھ چلتے رہے، جب دوپہر ہوئی تو ہمیں ایک چٹان دکھائی دی۔ ہم اس کے قریب پہنچے تو اس کی آڑ میں تھوڑا سا سایہ بھی موجود تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا جو میرے ساتھ تھا۔ آپ اس پر لیٹ گئے، اور میں قرب و جوار کی گرد جھاڑنے لگا۔ اتفاق سے ایک چرواہا نظر پڑا جو اپنی بکریوں کے تھوڑے سے ریوڑ کے ساتھ اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا اس کا مقصد اس چٹان سے وہی تھا جس کے لیے ہم یہاں آئے تھے ( یعنی سایہ حاصل کرنا ) میں نے اس سے پوچھا لڑکے تو کس کا غلام ہے؟ اس نے بتایا کہ فلاں کا ہوں۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی بکریوں سے کچھ دودھ نکال سکتے ہو اس نے کہا کہ ہاں پھر وہ اپنے ریوڑ سے ایک بکری لایا تو میں نے اس سے کہا کہ پہلے اس کا تھن جھاڑ لو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر اس نے کچھ دودھ دوہا۔ میرے ساتھ پانی کا ایک چھاگل تھا۔ اس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ یہ پانی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ساتھ لے رکھا تھا۔ وہ پانی میں نے اس دودھ پر اتنا ڈالا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا دودھ نوش فرمایئے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا جس سے مجھے بہت خوشی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد ہم نے پھر کوچ شروع کیا اور ڈھونڈنے والے لوگ ہماری تلاش میں تھے۔
3917
Sahih
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
قَالَ الْبَرَاءُ : فَدَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ عَلَى أَهْلِهِ فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى , فَرَأَيْتُ أَبَاهَا فَقَبَّلَ خَدَّهَا ، وَقَالَ : كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ ؟ .
Al-Bara added: I then went with Abu Bakr into his home (carrying that saddle) and there I saw his daughter `Aisha Lying in a bed because of heavy fever and I saw her father Abu Bakr kissing her cheek and saying, How are you, little daughter?
براء نے بیان کیا کہ جب میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوا تھا تو آپ کی صاحبزادی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آ رہا تھا میں نے ان کے والد کو دیکھا کہ انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا اور دریافت کیا بیٹی! طبیعت کیسی ہے؟
3918
Sahih
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ وَسَّاجٍ ، حَدَّثَهُ , عَنْ أَنَسٍ خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي أَصْحَابِهِ أَشْمَطُ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ , فَغَلَفَهَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ .
Narrated Anas: (the servant of the Prophet) When the Prophet arrived (at Medina), there was not a single companion of the Prophet who had grey and black hair except Abu Bakr, and he dyed his hair with Henna' and Katam (i.e. plants used for dying hair).
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن ابی عبلہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن وساج نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ منورہ ) تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی آپ کے اصحاب میں ایسا نہیں تھا جس کے بال سفید ہو رہے ہوں، اس لیے آپ نے مہندی اور وسمہ کا خضاب استعمال کیا تھا۔
3919
Sahih
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
وَقَالَ دُحَيْمٌ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ أَسَنَّ أَصْحَابِهِ أَبُو بَكْرٍ فَغَلَفَهَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ , حَتَّى قَنَأَ لَوْنُهَا .
Through another group of narrators, Anas bin Malik said: When the Prophet arrived at Medina, the eldest amongst his companions was Abu Bakr. He dyed his hair with Hinna and Katam till it became of dark red color.
اور دحیم نے بیان کیا، ان سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابو عبید نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن وساج نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے زیادہ عمر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تھی اس لیے انہوں نے مہندی اور وسمہ کا خضاب استعمال کیا۔ اس سے آپ کے بالوں کا رنگ خوب سرخی مائل بہ سیاہی ہو گیا۔
3920
Sahih
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ كَلْبٍ ، يُقَالُ لَهَا : أُمُّ بَكْرٍ , فَلَمَّا هَاجَرَ أَبُو بَكْرٍ طَلَّقَهَا , فَتَزَوَّجَهَا ابْنُ عَمِّهَا هَذَا الشَّاعِرُ الَّذِي ، قَالَ هَذِهِ الْقَصِيدَةَ رَثَى كُفَّارَ قُرَيْشٍ : وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ مِنَ الشِّيزَى تُزَيَّنُ بِالسَّنَامِ وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ مِنَ الْقَيْنَاتِ وَالشَّرْبِ الْكِرَامِ تُحَيِّينَا السَّلَامَةَ أُمُّ بَكْرٍ وَهَلْ لِي بَعْدَ قَوْمِي مِنْ سَلَامِ يُحَدِّثُنَا الرَّسُولُ بِأَنْ سَنَحْيَا وَكَيْفَ حَيَاةُ أَصْدَاءٍ وَهَامِ .
Narrate Aisha: Abu Bakr married a woman from the tribe of Bani Kalb, called Um Bakr. When Abu Bakr migrated to Medina, he divorced her and she was married by her cousin, the poet who said the following poem lamenting the infidels of Quraish: What is there kept in the well, The well of Badr, (The owners of) the trays of Roasted camel humps? What is there kept in the well, The well of Badr, (The owners of) lady singers And friends of the honorable companions; who used to drink (wine) together, Um Bakr greets us With the greeting of peace, But can I find peace After my people have gone? The Apostle tells us that We shall live again, But what sort of life will owls and skulls live?:
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنوکلب کی ایک عورت ام بکر نامی سے شادی کر لی تھی۔ پھر جب انہوں نے ہجرت کی تو اسے طلاق دے آئے۔ اس عورت سے پھر اس کے چچا زاد بھائی ( ابوبکر شداد بن اسود ) نے شادی کر لی تھی، یہ شخص شاعر تھا اور اسی نے یہ مشہور مرثیہ کفار قریش کے بارے میں کہا تھا ”مقام بدر کے کنوؤں کو میں کیا کہوں کہ انہوں نے ہمیں درخت شیزیٰ کے بڑے بڑے پیالوں سے محروم کر دیا جو کبھی اونٹ کے کوہان کے گوشت سے بہتر ہوا کرتے تھے، میں بدر کے کنوؤں کو کیا کہوں! انہوں نے ہمیں گانے والی لونڈیوں اور اچھے شرابیوں سے محروم کر دیا ام بکر تو مجھے سلامتی کی دعا دیتی رہی لیکن میری قوم کی بربادی کے بعد میرے لیے سلامتی کہاں ہے یہ رسول ہمیں دوبارہ زندگی کی خبریں بیان کرتا ہے۔ کہیں الو بن جانے کے بعد پھر زندگی کس طرح ممکن ہے۔
3921
Sahih
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِأَقْدَامِ الْقَوْمِ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْ أَنَّ بَعْضَهُمْ طَأْطَأَ بَصَرَهُ رَآنَا ، قَالَ : اسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ اثْنَانِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا .
Narrated Abu Bakr: I was with the Prophet in the Cave. When I raised my head, I saw the feet of the people. I said, O Allah's Apostle! If some of them should look down, they will see us. The Prophet said, O Abu Bakr, be quiet! (For we are) two and Allah is the Third of us.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے جو سر اٹھایا تو قوم کے چند لوگوں کے قدم ( باہر ) نظر آئے میں نے کہا، اے اللہ کے نبی! اگر ان میں سے کسی نے بھی نیچے جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابوبکر! خاموش رہو ہم ایسے دو ہیں جن کا تیسرا اللہ ہے۔“
3922
Sahih
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ :حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَتُعْطِي صَدَقَتَهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَتَحْلُبُهَا يَوْمَ وُرُودِهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ , فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا .
Narrated Abu Sa`id: Once a bedouin came to the Prophet and asked him about the migration. The Prophet said, Mercy of Allah be on you! The migration is a quite difficult matter. Have you got some camels? He replied in the affirmative. Then the Prophet said, Do you give their Zakat? He replied in the affirmative. The Prophet said, Do you let others benefit by their milk gratis? He replied in the affirmative. Then the Prophet asked, Do you milk them on their watering days and give their milk to the poor and needy? He replied in the affirmative. The Prophet, said, Go on doing like this from beyond the seas, and there is no doubt that Allah will not overlook any of your good deeds.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم دمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، (دوسری سند) اور محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا مجھ سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عطاء بن یزید لیثی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کا حال پوچھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تجھ پر افسوس! ہجرت تو بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟“ اس نے کہا جی ہاں ہیں۔ فرمایا ”تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا جی ہاں ادا کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اونٹنیوں کا دودھ دوسرے ( محتاجوں ) کو بھی دوہنے کے لیے دے دیا کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا کہ ایسا بھی کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انہیں گھاٹ پر لے جا کر ( محتاجوں کے لیے ) دوہتے ہو؟“ اس نے عرض کیا ایسا بھی کرتا ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر تم سات سمندر پار عمل کرو، اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کا بھی ثواب کم نہیں کرے گا۔“
3923
Sahih
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ , سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ ,وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ , ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ , وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ .
Narrated Al-Bara: The first people who came to us (in Medina) were Mus`ab bin `Umar and Ibn Um Maktum. Then came to us `Ammar bin Yasir and Bilal.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق نے خبر دی، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے یوں بیان کیا کہ سب سے پہلے ( ہجرت کر کے ) ہمارے یہاں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما اور بلال رضی اللہ عنہ آئے۔
3924
Sahih
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ , وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَا يُقْرِئَانِ النَّاسَ , فَقَدِمَ بِلَالٌ , وَسَعْدٌ , وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى جَعَلَ الْإِمَاءُ يَقُلْنَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ : سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فِي سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ .
Narrated Al-Bara bin Azib: The first people who came to us (in Medina) were Mus`ab bin `Umar and Ibn Um Maktum who were teaching Qur'an to the people. Then their came Bilal. Sa`d and `Ammar bin Yasir. After that `Umar bin Al-Khattab came along with twenty other companions of the Prophet. Later on the Prophet himself (to Medina) and I had never seen the people of Medina so joyful as they were on the arrival of Allah's Apostle, for even the slave girls were saying, Allah's Apostle has arrived! And before his arrival I had read the Sura starting with:-- Glorify the Name of your Lord, the Most High (87.1) together with other Suras of Al-Mufassal.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ سب سے پہلے ہمارے یہاں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( نابینا ) آئے یہ دونوں ( مدینہ کے ) مسلمانوں کو قرآن پڑھنا سکھاتے تھے۔ اس کے بعد بلال، سعد اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم آئے۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس صحابہ کو ساتھ لے کر آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عامر بن فہیرہ کو ساتھ لے کر ) تشریف لائے۔ مدینہ کے لوگوں کو جتنی خوشی اور مسرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ہوئی میں نے کبھی انہیں کسی بات پر اس قدر خوش نہیں دیکھا۔ لونڈیاں بھی ( خوشی میں ) کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اس سے پہلے میں مفصل کی دوسری کئی سورتوں کے ساتھ «سبح اسم ربك الأعلى‏» بھی سیکھ چکا تھا۔
3925
Sahih
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ , وَبِلَالٌ ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ , وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ قَالَتْ : فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ الْحُمَّى يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ وَيَقُولُ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ : اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا , وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا , وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ .
Narrated `Aisha: When Allah's Apostle came to Medina, Abu Bakr and Bilal got fever, and I went to both of them and said, O my father, how do you feel? O Bilal, how do you feel? Whenever Abu Bakr's fever got worse, he would say, Every man will meet his death once in one morning while he will be among his family, for death is really nearer to him than his leather shoe laces (to his feet). And whenever fever deserted Bilal, he would say aloud, Would that I know whether I shall spend a night in the valley (of Mecca) with Idhkhir and Jalil (i.e. kinds of grass) around me, and whether I shall drink one day the water of Mijannah, and whether I shall see once again the hills of Shamah and Tafil? Then I went to Allah's Apostle and told him of that. He said, O Allah, make us love Medina as much as or more than we used to love Mecca, O Allah, make it healthy and bless its Sa' and Mud (i.e. measures), and take away its fever to Al-Juhfa.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما کو بخار چڑھ آیا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: والد صاحب! آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار چڑھا تو یہ شعر پڑھنے لگے۔ ”ہر شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ صبح کرتا ہے اور موت تو جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے.“ اور بلال رضی اللہ عنہ کے بخار میں جب کچھ تخفیف ہوتی تو زور زور سے روتے اور یہ شعر پڑھتے ”کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ کبھی میں ایک رات بھی وادی مکہ میں گزار سکوں گا جب کہ میرے اردگرد ( خوشبودار گھاس ) اذخر اور جلیل ہوں گی، اور کیا ایک دن بھی مجھے ایسا مل سکے گا جب میں مقام مجنہ کے پانی پر جاؤں گا اور کیا شامہ اور طفیل کی پہاڑیوں کو ایک نظر دیکھ سکوں گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد،‏‏‏‏ وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها،‏‏‏‏ وانقل حماها فاجعلها بالجحفة» ”اے اللہ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں اتنی پیدا کر دے جتنی مکہ کی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ، یہاں کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا۔ ہمارے لیے یہاں کے صاع اور مد ( اناج ناپنے کے پیمانے ) میں برکت عنایت فرما اور یہاں کے بخار کو مقام جحفہ میں بھیج دے۔
3926
Sahih
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ،أَخْبَرَهُ دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ . ح وَقَالَ بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ , وَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ , وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ هَاجَرْتُ هِجْرَتَيْنِ وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَبَايَعْتُهُ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ . تَابَعَهُ إِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ مِثْلَهُ .
Narrated 'Ubaidullah bin Ad bin Khiyair: I went to `Uthman. After reciting Tashah-hud, he said,. Then after no doubt, Allah sent Muhammad with the Truth, and I was amongst those who responded to the Call of Allah and His Prophet and believed in the message of Muhammad. Then took part in the two migrations. I became the son-in-law of Allah's Apostle and gave the pledge of allegiance to him By Allah, I never disobeyed him, nor did I deceive him till Allah took him unto Him.
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی نے خبر دی کہ میں عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا ( دوسری سند ) اور بشر بن شعیب نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے زہری نے کہا، مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے حمد و شہادت پڑھنے کے بعد فرمایا: امابعد! کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر ( ابتداء ہی میں ) لبیک کہا اور میں ان تمام چیزوں پر ایمان لایا جنہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے۔ پھر میں نے دو ہجرت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف مجھے حاصل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بیعت کی اللہ کی قسم کہ میں نے آپ کی نہ کبھی نافرمانی کی اور نہ کبھی آپ سے دھوکہ بازی کی، یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ شعیب کے ساتھ اس روایت کی متابعت اسحاق کلبی نے بھی کی ہے، ان سے زہری نے اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا۔
3927
Sahih
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَهُوَ بِمِنًى فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ فَوَجَدَنِي ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ , وَإِنِّي أَرَى أَنْ تُمْهِلَ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ وَالسَّلَامَةِ وَتَخْلُصَ لِأَهْلِ الْفِقْهِ , وَأَشْرَافِ النَّاسِ وَذَوِي رَأْيِهِمْ ، قَالَ عُمَرُ : لَأَقُومَنَّ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ .
Narrated Ibn `Abbas: During the last Hajj led by `Umar, `Abdur-Rahman bin `Auf returned to his family at Mina and met me there. `AbdurRahman said (to `Umar), O chief of the believers! The season of Hajj is the season when there comes the scum of the people (besides the good amongst them), so I recommend that you should wait till you go back to Medina, for it is the place of Migration and Sunna (i.e. the Prophet's tradition), and there you will be able to refer the matter to the religious scholars and the nobles and the people of wise opinions. `Umar said, I will speak of it in Medina on my very first sermon I will deliver there.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمہ کی طرف واپس آ رہے تھے۔ یہ عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج کا واقعہ ہے تو ان کی مجھ سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ( عمر رضی اللہ عنہ حاجیوں کو خطاب کرنے والے تھے اس لیے ) میں نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین! موسم حج میں معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے سب طرح کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور شور و غل بہت ہوتا ہے اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ اپنا ارادہ موقوف کر دیں اور مدینہ پہنچ کر ( خطاب فرمائیں ) کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا گھر ہے اور وہاں سمجھدار معزز اور صاحب عقل لوگ رہتے ہیں۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو، مدینہ پہنچتے ہی سب سے پہلی فرصت میں لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے ضرور کھڑا ہوں گا۔
3928
Sahih
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُمْ فِي السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ ، قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ : فَاشْتَكَى عُثْمَانُ عِنْدَنَا , فَمَرَّضْتُهُ حَتَّى تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ , فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ ، قَالَتْ : قُلْتُ : لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ ، قَالَ : أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ وَاللَّهِ الْيَقِينُ وَاللَّهِ , إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَمَا أَدْرِي وَاللَّهِ وَأَنَا رَسُولُ اللَّه مَا يُفْعَلُ بِي ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ ، قَالَتْ : فَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَنِمْتُ فَرِيتُ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَيْنًا تَجْرِي , فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : ذَلِكِ عَمَلُهُ .
Narrated 'Um Al-`Ala: An Ansari woman who gave the pledge of allegiance to the Prophet that the Ansar drew lots concerning the dwelling of the Emigrants. `Uthman bin Maz'un was decided to dwell with them (i.e. Um Al-`Ala's family), `Uthman fell ill and I nursed him till he died, and we covered him with his clothes. Then the Prophet came to us and I (addressing the dead body) said, O Abu As-Sa'ib, may Allah's Mercy be on you! I bear witness that Allah has honored you. On that the Prophet said, How do you know that Allah has honored him? I replied, I do not know. May my father and my mother be sacrificed for you, O Allah's Apostle! But who else is worthy of it (if not `Uthman)? He said, As to him, by Allah, death has overtaken him, and I hope the best for him. By Allah, though I am the Apostle of Allah, yet I do not know what Allah will do to me, By Allah, I will never assert the piety of anyone after him. That made me sad, and when I slept I saw in a dream a flowing stream for `Uthman bin Maz'un. I went to Allah's Apostle and told him of it. He remarked, That symbolizes his (good) deeds.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے کہ (ان کی والدہ) ام علاء رضی اللہ عنہا (ایک انصاری خاتون جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) نے انہیں خبر دی کہ جب انصار نے مہاجرین کی میزبانی کے لیے قرعہ ڈالا تو عثمان بن مظعون ان کے گھرانے کے حصے میں آئے تھے۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں بیمار پڑ گئے۔ میں نے ان کی پوری طرح تیمارداری کی وہ نہ بچ سکے۔ ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا تھا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے تو میں نے کہا: ابوسائب! ( عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ) تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری تمہارے متعلق گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے اکرام سے نوازا ہے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اکرام سے نوازا ہے؟ میں نے عرض کیا مجھے تو اس سلسلے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ! لیکن اور کسے نوازے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں تو واقعی کوئی شک و شبہ نہیں کہ ایک یقینی امر ( موت ) ان کو آ چکا ہے۔ اللہ کی قسم کہ میں بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر خواہی کی امید رکھتا ہوں لیکن میں حالانکہ اللہ کا رسول ہوں خود اپنے متعلق نہیں جان سکتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا پھر اللہ کی قسم کہ اس کے بعد میں اب کسی کے بارے میں اس کی پاکی نہیں کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ پر مجھے بڑا رنج ہوا۔ پھر میں سو گئی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان بن مظعون کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ ہے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اپنا خواب بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان کا عمل تھا۔
3929
Sahih
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ ، وَقُتِلَتْ سَرَاتُهُمْ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ .
Narrated `Aisha: The day of Bu'ath was a day (i.e. battle) which Allah caused to take place just before the mission of His Apostle so that when Allah's Apostle came to Medina, they (the tribes) had divided (into hostile groups) and their nobles had been killed; and all that facilitated their conversion to Islam.
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی لڑائی کو ( انصار کے قبائل اوس و خزرج کے درمیان ) اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں آنے سے پہلے ہی برپا کرا دیا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو انصار میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی اور ان کے سردار قتل ہو چکے تھے۔ اس میں اللہ کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ انصار اسلام قبول کر لیں۔
3930
Sahih
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى , وَعِنْدَهَا قَيْنَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاذَفَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا , وَإِنَّ عِيدَنَا هَذَا الْيَوْمُ .
Narrated Aisha: That once Abu Bakr came to her on the day of `Id-ul-Fitr or `Id ul Adha while the Prophet was with her and there were two girl singers with her, singing songs of the Ansar about the day of Buath. Abu Bakr said twice. Musical instrument of Satan! But the Prophet said, Leave them Abu Bakr, for every nation has an `Id (i.e. festival) and this day is our `Id.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف رکھتے تھے عیدالفطر یا عید الاضحی کا دن تھا، دو لڑکیاں یوم بعاث کے بارے میں وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جو انصار کے شعراء نے اپنے فخر میں کہے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ شیطانی گانے باجے! ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ) دو مرتبہ انہوں نے یہ جملہ دہرایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابوبکر! انہیں چھوڑ دو۔ ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور ہماری عید آج کا یہ دن ہے۔“
3931
Sahih
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ ، يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ ، قَالَ : فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي سُيُوفِهِمْ ، قَالَ : وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفَهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ , فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا ، فَقَالَ : يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي حَائِطَكُمْ هَذَا ، فَقَالُوا : لَا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ ، قَالَ : فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ , وَكَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ , فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ , وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ , وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ ، قَالَ : فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً ، قَالَ : جَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَاكَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ ، يَقُولُونَ : اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ .
Narrated Anas bin Malik: When Allah's Apostle arrived at Medina, he alighted at the upper part of Medina among the people called Bani `Amr bin `Auf and he stayed with them for fourteen nights. Then he sent for the chiefs of Bani An-Najjar, and they came, carrying their swords. As if I am just now looking at Allah's Apostle on his she-camel with Abu Bakr riding behind him (on the same camel) and the chiefs of Bani An- Najjar around him till he dismounted in the courtyard of Abu Aiyub's home. The Prophet used to offer the prayer wherever the prayer was due, and he would pray even in sheepfolds. Then he ordered that the mosque be built. He sent for the chiefs of Banu An-Najjar, and when they came, he said, O Banu An-Najjar! Suggest to me the price of this garden of yours. They replied No! By Allah, we do not demand its price except from Allah. In that garden there were the (following) things that I will tell you: Graves of pagans, unleveled land with holes and pits etc., and date-palm trees. Allah's Apostle ordered that the graves of the pagans be dug up and, the unleveled land be leveled and the date-palm trees be cut down. The trunks of the trees were arranged so as to form the wall facing the Qibla. The Stone pillars were built at the sides of its gate. The companions of the Prophet were carrying the stones and reciting some lyrics, and Allah's Apostle . . was with them and they were saying, O Allah! There is no good Excel the good of the Hereafter, so bestow victory on the Ansar and the Emigrants.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے والد عبدالوارث سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوالتیاح یزید بن حمید ضبعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بلند جانب قباء کے ایک محلہ میں آپ نے ( سب سے پہلے ) قیام کیا جسے بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہا جاتا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں چودہ رات قیام کیا پھر آپ نے قبیلہ بنی النجار کے لوگوں کو بلا بھیجا۔ انہوں نے بیان کیا کہ انصار بنی النجار آپ کی خدمت میں تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے۔ راوی نے بیان کیا گویا اس وقت بھی وہ منظر میری نظروں کے سامنے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسی سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہیں اور بنی النجار کے انصار آپ کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے مسلح پیدل چلے جا رہے ہیں۔ آخر آپ ابوایوب انصاری کے گھر کے قریب اتر گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابھی تک جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا وہیں آپ نماز پڑھ لیتے تھے۔ بکریوں کے ریوڑ جہاں رات کو باندھے جاتے وہاں بھی نماز پڑھ لی جاتی تھی۔ بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر کا حکم فرمایا۔ آپ نے اس کے لیے قبیلہ بنی النجار کے لوگوں کو بلا بھیجا۔ وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے بنو النجار! اپنے اس باغ کی قیمت طے کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں لے سکتے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس باغ میں وہ چیزیں تھیں جو میں تم سے بیان کروں گا۔ اس میں مشرکین کی قبریں تھیں، کچھ اس میں کھنڈر تھا اور کھجوروں کے درخت بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مشرکین کی قبریں اکھاڑ دی گئیں، جہاں کھنڈر تھا اسے برابر کیا گیا اور کھجوروں کے درخت کاٹ دیئے گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ کھجور کے تنے مسجد کی طرف ایک قطار میں بطور دیوار رکھ دیئے گئے اور دروازہ میں ( چوکھٹ کی جگہ ) پتھر رکھ دیئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ جب پتھر لا رہے تھے تو شعر پڑھتے جاتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ خود پتھر لاتے اور شعر پڑھتے۔ صحابہ یہ شعر پڑھتے کہ اے اللہ! آخرت ہی کی خیر، خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔
3932
Sahih
(47) CHAPTER. The stay of the emigrants in Makkah after performing all the ceremonies of Hajj.
حج کی ادائیگی کے بعد مہاجر کا مکہ میں قیام کرنا کیسا ہے
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ , السَّائِبَ ابْنَ أُخْتِ الْنَّمِرِ ، مَا سَمِعْتَ فِي سُكْنَى مَكَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلَاثٌ لِلْمُهَاجِرِ بَعْدَ الصَّدَرِ .
Narrated `Abdur-Rahman bin Humaid Az-Zuhri: I heard `Umar bin `Abdul-Aziz asking As-Sa'ib, the nephew of An-Nimr. What have you heard about residing in Mecca? The other said, I heard Al-Ala bin Al-Hadrami saying, Allah's Apostle said: An Emigrant is allowed to stay in Mecca for three days after departing from Mina (i.e. after performing all the ceremonies of Hajj)
مجھ سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حمید زہری نے بیان کیا، انہوں نے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز سے سنا، وہ نمر کندی کے بھانجے سائب بن یزید سے دریافت کر رہے تھے کہ تم نے مکہ میں ( مہاجر کے ) ٹھہرنے کے مسئلہ میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مہاجر کو ( حج میں ) طواف وداع کے بعد تین دن ٹھہرنے کی اجازت ہے۔“
3933
Sahih
(48) CHAPTER. At-Tarikh (Date-definition of time). When did the Muslim calendar start?.
اسلامی تاریخ کب سے شروع ہوئی ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : مَا عَدُّوا مِنْ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مِنْ وَفَاتِهِ مَا عَدُّوا إِلَّا مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ .
Narrated Sahl bin Sa`d: The Prophet's companions did not take as a starting date for the Muslim calendar, the day, the Prophet had been sent as an Apostle or the day of his death, but the day of his arrival at Medina.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابوحازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ تاریخ کا شمار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے سال سے ہوا اور نہ آپ کی وفات کے سال سے بلکہ اس کا شمار مدینہ کی ہجرت کے سال سے ہوا۔
3934
Sahih
(48) CHAPTER. At-Tarikh (Date-definition of time). When did the Muslim calendar start?.
اسلامی تاریخ کب سے شروع ہوئی ؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُرِضَتْ أَرْبَعًا وَتُرِكَتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْأُولَى . تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ .
Narrated `Aisha: Originally, two rak`at were prescribed in every prayer. When the Prophet migrated (to Medina) four rak`at were enjoined, while the journey prayer remained unchanged(i.e. two rak`at).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( پہلے ) نماز صرف دو رکعت فرض ہوئی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو وہ فرض رکعات چار رکعات ہو گئیں۔ البتہ سفر کی حالت میں نماز اپنی حالت میں باقی رکھی گئی۔ اس روایت کی متابعت عبدالرزاق نے معمر سے کی ہے۔
3935
Sahih

Chapters

53
01
(1) CHAPTER. The merits of Al- Ansar.
انصار رضوان اللہ علیہم کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “But for the emigration, I would have been one of the Ansar.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں نے مکہ سے ہجرت نہ کی ہوتی میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The Prophet estabilished the bone of brotherhood (fraternity) between the Ansar and the Muhajirun (i.e., emigrants).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
3 Hadith
04
(4) CHAPTER. To love the Ansar is a sign of Faith.
انصار سے محبت رکھنے کا بیان
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. The statement of the Prophet to the Ansar: “You are from the most beloved people to me.”
انصار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو
2 Hadith
06
(6) CHAPTER. The followers of the Ansar.
انصار کے تابعدار لوگوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. The superiority of the families (houses) of the Ansar.
انصار کے گھرانوں کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
08
(8) CHAPTER. The statement of the prophet to the Ansar: “Be patient till you meet me at Al-Haud [the tank (i.e., Al-Kauthar)]”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ
3 Hadith
09
(9) CHAPTER. The invocation of the Prophet : “O Allah! Improve and make right the state of the Ansar and the Muhajirun (i.e., the emigrants).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا کہ ( اے اللہ ! ) انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما
3 Hadith
10
(10)CHAPTER. The Statement of Allah: “…And (they) give them (emigrants) preference over themselves, even though they were in need of that...” (V.59:9)
اس آیت کی تفسیر میں ” اور اپنے نفسوں پر وہ دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں ، اگرچہ خود وہ فاقہ ہی میں مبتلاہوں “
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Accept the good (deeds) of the good-doers amongst them, and excuse the wrong-doers amongst them.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ” انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرو “
3 Hadith
12
(12) CHAPTER. The merits of Sad bin Muadh.
حضرت سعدبنمعاذ رضیاللہعنہ کے فضائل کابیان
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. The merits of Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr.
اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہماکی فضیلت کا بیان
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. The virtues of Muadh bin Jabal.
معاذبنجبل رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. The virtues of Sad bin Ubada.
حضرت سعدبنعبادہ رضیاللہعنہ کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The virtues or Ubayy bin Kab.
ابی بن کعب رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
2 Hadith
17
(17) CHAPTER. The virtues of Zaid bin Thabit.
حضرت زیدبنثابت رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. The virtues of Abu Talha.
حضرت ابوطلحہ رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. The virtues Abdullah bin Salam.
حضرت عبداللہبنسلام رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
3 Hadith
20
(20) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Khadija ا and her superiority.
حضرت خدیجہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
21
(21) CHAPTER. The narration about Jarir bin Abdullah Al-Bajali.
جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا بیان
2 Hadith
22
(22) CHAPTER. The narration about Hudhaifa bin Al-Yaman Al-Absy.
حذیفہبنیمان عبسی کا بیان
1 Hadith
23
(23)CHAPTER. The narration about Hind bint Utba bin Rabia.
ہند بنت عتبہ ربیعہ رضیاللہعنہا کا بیان
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. Narration about Zaid bin Amr bin Nufail.
حضرت زید بنعمرو بن نفیل کابیان
3 Hadith
25
(25) CHAPTER. The building of the Kabah.
قریش نے جو کعبہ کی مرمت کی تھی اس کا بیان
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. The days of Pre-Islamic Period of Ignorance.
جاہلیت کے زمانے کا بیان
14 Hadith
27
(27) CHAPTER. AI-Qasama in the Pre-Islamic Period of Ignorance.
زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان
6 Hadith
28
(28) CHAPTER. The advent of the Prophet , (as Messenger of Allah).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بیان
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. (The troubles which) the Mushrikun of Makkah caused the Prophet and his Companions to suffer.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہکرام رضیاللہعنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامناکیا ان کا بیان
5 Hadith
30
(30) CHAPTER. The conversion of Abu Bakr As-Siddiq to Islam.
حضرت ابوبکر صدیق رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کابیان
1 Hadith
31
(31) CHAPTER. The conversion of Sad to Islam.
حضرت سعدبنابیوقاص رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کا بیان
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. Narrations about jinns.
جنوں کا بیان
2 Hadith
33
(33) CHAPTER. The conversion of Abu Dhar Al-Ghifari to Islam.
حضرت ابوذر رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ ۔
2 Hadith
34
(35) CHAPTER. The conversion of Umar bin Al-Khattab to Islam.
سعید بنزید بنعمرو بن نفیل رضیاللہعنہ کا اسلام قبول کرنا
3 Hadith
35
(35) CHAPTER. The conversion of Umar bin Al-Khattab to Islam.
حضرت عمر بنخطاب رضیاللہعنہ کے اسلام لانے کا واقعہ
2 Hadith
36
(36) CHAPTER. The splitting of the moon (into two pieces).
چاند کے پھٹ جانے کابیان
4 Hadith
37
(37) CHAPTER. The emigration to Ethiopia.
مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان
5 Hadith
38
(38) CHAPTER. The death of An-Najashi (the Negus).
نجاشی ( حبشہ کے بادشاہ ) کی وفات کا بیان
5 Hadith
39
(39) CHAPTER. The oath taken by the Mushrikun against the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکین کا عہد و پیمان کرنا
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. The story of Abu Talib.
ابوطالب کا واقعہ
3 Hadith
41
(41) CHAPTER. The narration about Al-Isra (Journey by Night).
بیتالمقدس تک جانے کا قصہ
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. Al-Mi'raj (i.e., Ascension of the Prophet to the heavens with his body and soul).
معراج کابیان
2 Hadith
43
(43) CHAPTER. The deputation of the Ansar to the Prophet at Makkah, and the Al-'Aqaba Pledge.
مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے وفود کا آنا اور بیعت عقبہ کا بیان
5 Hadith
44
(44) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Aishah, and Aishah,s arrival at Al-Madina, and the Prophet,s consummation of that marriage.
حضرت عائشہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کرنا اور آپ کامدینہ میں تشریف لانا اور حضرت عائشہ رضیاللہعنہا کی رخصتی کا بیان
3 Hadith
45
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
27 Hadith
46
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
9 Hadith
47
(47) CHAPTER. The stay of the emigrants in Makkah after performing all the ceremonies of Hajj.
حج کی ادائیگی کے بعد مہاجر کا مکہ میں قیام کرنا کیسا ہے
1 Hadith
48
(48) CHAPTER. At-Tarikh (Date-definition of time). When did the Muslim calendar start?.
اسلامی تاریخ کب سے شروع ہوئی ؟
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Complete the emigration of my Companions,” and his lamentation for those (emigrants) who died in Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کہ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھ اور جومہاجر مکہ میں انتقال کر گئے ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار رنج و غم
1 Hadith
50
(50) CHAPTER. How the Prophet established the bond of brotherhood between his Companions.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان کس طرح بھائی چارہ قائم کرایا تھا
1 Hadith
51
(51) CHAPTER
۔ ۔ ۔
3 Hadith
52
(52) CHAPTER. The coming of the Jews to the Prophet on his arrival at Al-Madina.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان
5 Hadith
53
(53) CHAPTER. The conversion of Salman Al-Farisi to Islam.
حضرت سلمان فارسی رضیاللہعنہ کے ایمان لانے کا واقعہ
3 Hadith
No chapter matched that.