TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of foods (meals). - کتاب کھانوں کے بیان میں - Book 71 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 71 of Sahih Bukhari, with 58 chapters and 94 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

94 Hadith · 58 Chapters
(33) CHAPTER. Ad-Dubba (gourd).
کدو کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَوْلًى لَهُ خَيَّاطًا ، فَأُتِيَ بِدُبَّاءٍ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُهُ ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ .
Narrated Anas: Allah's Apostle went to (the house of) his slave tailor, and he was offered (a dish of) gourd of which he started eating. I have loved to eat gourd since I saw Allah's Apostle eating it.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے شمامہ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک درزی غلام کے پاس تشریف لے گئے، پھر آپ کی خدمت میں ( پکا ہوا ) کدو پیش کیا گیا اور آپ اسے ( رغبت کے ساتھ ) کھانے لگے۔ اسی وقت سے میں بھی کدو پسند کرتا ہوں کیونکہ میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
5433
Sahih
(34) CHAPTER. A man may take the trouble to prepare a meal for (Muslim) brethren.
اپنے دوستوں اور مسلمان بھائیوں کی دعوت کے لیے کھانا تکلف سے تیار کرائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو شُعَيْبٍ ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ ، فَقَالَ : اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ ، قَالَ : بَلْ أَذِنْتُ لَهُ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ ، يَقُولُ : إِذَا كَانَ الْقَوْمُ عَلَى الْمَائِدَةِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوا مِنْ مَائِدَةٍ إِلَى مَائِدَةٍ أُخْرَى وَلَكِنْ يُنَاوِلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي تِلْكَ الْمَائِدَةِ أَوْ يَدَعُ .
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari: There was a man called Abu Shu'aib, and he had a slave who was a butcher. He said (to his slave), Prepare a meal to which I may invite Allah's Apostle along with four other men. So he invited Allah's Apostle and four other men, but another man followed them whereupon the Prophet said, You have invited me as one of five guests, but now another man has followed us. If you wish you can admit him, and if you wish you can refuse him. On that the host said, But I admit him. Narrated Muhammad bin Isma`il: If guests are sitting at a dining table, they do not have the right to carry food from other tables to theirs, but they can pass on food from their own table to each other; otherwise they should leave it.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جماعت انصار میں ایک صاحب تھے جنہیں ابوشعیب کہا جاتا تھا۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچتا تھا۔ ابوشعیب رضی اللہ عنہ نے ان غلام سے کہا کہ تم میری طرف سے کھانا تیار کر دو۔ میں چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ بلا کر لائے۔ ان کے ساتھ ایک صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم پانچ آدمیوں کی تم نے دعوت کی ہے مگر یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں، اگر چاہو تو انہیں اجازت دو اور اگر چاہو منع کر دو۔ ابوشعیب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے انہیں بھی اجازت دے دی۔ محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ میں نے محمد بن اسماعیل سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب لوگ دستر خوان پر بیٹھے ہوں تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ ایک دستر خوان والے دوسرے دستر خوان والوں کو اپنے دستر خوان سے اٹھا کر کوئی چیز دیں۔ البتہ ایک ہی دستر خوان پر ان کے شرکاء کو اس میں سے کوئی چیز دینے نہ دینے کا اختیار ہے۔
5434
Sahih
(35) CHAPTER. Whoever invited a man to a meal and then went to carry on his job.
صاحب خانہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ مہمان کے ساتھ آپ بھی وہ کھائے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ النَّضْرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ غُلَامًا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُلَامٍ لَهُ خَيَّاطٍ فَأَتَاهُ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ وَعَلَيْهِ دُبَّاءٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أَجْمَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ الْغُلَامُ عَلَى عَمَلِهِ ، قَالَ أَنَسٌ : لَا أَزَالُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مَا صَنَعَ .
Narrated Anas: I was a young boy when I once was walking with Allah's Apostle . Allah's Apostle entered the house of his slave tailor and the latter brought a dish filled with food covered with pieces of gourd. Allah's Apostle started picking and eating the gourd. When I saw that, I started collecting and placing the gourd before him. Then the slave returned to his work. Anas added: I have kept on loving gourd since I saw Allah's Apostle doing what he was doing.
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے نضر سے سنا، انہیں ابن عون نے خبر دی، کہا کہ مجھے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نوعمر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک درزی غلام کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ ایک پیالہ لایا جس میں کھانا تھا اور اوپر کدو کے قتلے تھے۔ آپ کدو تلاش کرنے لگے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں نے یہ دیکھا تو کدو کے قتلے آپ کے سامنے جمع کر کے رکھنے لگا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنے کے بعد ) غلام اپنے کام میں لگ گیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اسی وقت سے میں کدو پسند کرنے لگا، جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل دیکھا۔
5435
Sahih
(36) CHAPTER. Soup.
شوربہ کا بیان ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ، فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمِئِذٍ .
Narrated Anas bin Malik: A tailor invited the Prophet to a meal which he had prepared, and I went along with the Prophet . The tailor presented barley bread and soup containing gourd and cured meat. I saw the Prophet picking the pieces of gourd from around the dish, and since then I have kept on liking gourd.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جَو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا گیا۔ جس میں کدو اور خشک گوشت کے ٹکڑے تھے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے تھے، اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔
5436
Sahih
(37) CHAPTER. Cured meat.
خشک کئے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ يَأْكُلُهَا .
Narrated Anas: I saw the Prophet being served with soup and containing gourd and cured meat, and I saw him picking and eating the pieces of gourd.
ہم سے حکیم ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شوربہ لایا گیا۔ اس میں کدو اور سوکھے گوشت کے ٹکڑے تھے، پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو کے قتلے تلاش کر کر کے کھا رہے تھے۔
5437
Sahih
(37) CHAPTER. Cured meat.
خشک کئے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : مَا فَعَلَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ ، وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلَاثًا .
Narrated `Aisha: The Prophet did not do that (i.e., forbade the storage of the meat of sacrifices for three days) except (he did so) so that the rich would feed the poor. But later we used to keep even trotters to cook, fifteen days later. The family of Muhammad did not eat wheat bread with meat or soup to their satisfaction for three successive days.
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا کہ تین دن سے زیادہ گوشت قربانی والا رکھنے سے منع فرمایا ہو۔ صرف اس سال یہ حکم دیا تھا جس سال قحط کی وجہ سے لوگ فاقے میں مبتلا تھے۔ مقصد یہ تھا کہ جو لوگ غنی ہیں وہ گوشت محتاجوں کو کھلائیں ( اور جمع کر کے نہ رکھیں ) اور ہم تو بکری کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور پندرہ دن بعد تک ( کھاتے تھے ) اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر سیر ہو کر نہیں کھائی۔
5438
Sahih
(38) CHAPTER. Whoever handed over or presented something to the companion across the dining table.
جس نے ایک ہی دسترخوان پرکوئی چیزاٹھا کر اپنے دوسرے ساتھی کو دی یا اس کے سامنے رکھی ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ ، قَالَ أَنَسٌ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوْلِ الصَّحْفَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ . وَقَالَ ثُمَامَةُ : عَنْ أَنَسٍ ، فَجَعَلْتُ أَجْمَعُ الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْهِ .
Narrated Anas bin Malik: A tailor invited Allah's Apostle to a meal which he had prepared. I went with Allah's Apostle to that meal, and the tailor served the Prophet with barley bread and soup of gourd and cured meat. I saw Allah's Apostle picking the pieces of gourd from around the dish, and since then I have kept on liking gourd.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دعوت میں گیا۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور شوربہ، جس میں کدو اور خشک کیا ہوا گوشت تھا، پیش کیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے ہیں۔ اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔ شمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو کے قتلے ( تلاش کر کر کے ) اکٹھے کرنے لگا۔
5439
Sahih
(39) CHAPTER. The eating of snake cucumber with fresh dates.
تازہ کھجور اور ککڑی ایک ساتھ کھانا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ .
Narrated `Abdullah bin Ja`far bin Abi Talib: I saw Allah's Apostle eating fresh dates with snake cucumber
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھاتے دیکھا ہے۔
5440
Sahih
(40) CHAPTER.
ردی کھجور ( بوقت ضرورت راشن تقسیم کرنے ) کے بیان میں ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا فَكَانَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ يَعْتَقِبُونَ اللَّيْلَ أَثْلَاثًا ، يُصَلِّي هَذَا ثُمَّ يُوقِظُ هَذَا ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابهِ تَمْرًا ، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ .
Narrated Abu `Uthman: I was a guest of Abu Huraira for seven days. Abu Huraira, his wife and his slave used to get up and remain awake for one-third of the night by turns. Each would offer the night prayer and then awaken the other. I heard Abu Huraira saying, Allah's Apostle distributed dates among his companions and my share was seven dates, one of which was a Hashafa (a date which dried on the tree before it was fully ripe).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں سات دن تک مہمان رہا، وہ اور ان کی بیوی اور ان کے خادم نے رات میں ( جاگنے کی ) باری مقرر کر رکھی تھی۔ رات کے ایک تہائی حصہ میں ایک صاحب نماز پڑھتے رہے پھر وہ دوسرے کو جگا دیتے اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں ایک مرتبہ کھجور تقسیم کی اور مجھے بھی سات کھجوریں دیں، ایک ان میں خراب تھی۔
5441
Sahih
(41) CHAPTER. Fresh dates and dry dates.
تازہ کھجور اورخشک کھجور کے بیان میں ۔
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ : عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ
Aishah (ra) said, When Allah's Messenger (saws) died, we had been satisfied by the two black things, i.e., dates and water.
اور محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور ابن صفیہ نے، ان سے ان کی والدہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ہم پانی اور کھجور ہی سے ( اکثر دنوں میں ) پیٹ بھرتے رہے۔
5442
Sahih
(41) CHAPTER. Fresh dates and dry dates.
تازہ کھجور اورخشک کھجور کے بیان میں ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ بِالْمَدِينَةِ يَهُودِيٌّ وَكَانَ يُسْلِفُنِي فِي تَمْرِي إِلَى الْجِدَادِ وَكَانَتْ لِجَابِرٍ الْأَرْضُ الَّتِي بِطَرِيقِ رُومَةَ ، فَجَلَسَتْ فَخَلَا عَامًا ، فَجَاءَنِي الْيَهُودِيُّ عِنْدَ الْجَدَادِ وَلَمْ أَجُدَّ مِنْهَا شَيْئًا ، فَجَعَلْتُ أَسْتَنْظِرُهُ إِلَى قَابِلٍ ، فَيَأْبَى فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : امْشُوا نَسْتَنْظِرْ لِجَابِرٍ مِنَ الْيَهُودِيِّ ، فَجَاءُونِي فِي نَخْلِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ الْيَهُودِيَّ ، فَيَقُولُ أَبَا الْقَاسِمِ : لَا أُنْظِرُهُ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ ، ثُمَّ جَاءَهُ فَكَلَّمَهُ فَأَبَى فَقُمْتُ فَجِئْتُ بِقَلِيلِ رُطَبٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ عَرِيشُكَ يَا جَابِرُ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : افْرُشْ لِي فِيهِ ، فَفَرَشْتُهُ فَدَخَلَ فَرَقَدَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَامَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَامَ فِي الرِّطَابِ فِي النَّخْلِ الثَّانِيَةَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا جَابِرُ ، جُدَّ وَاقْضِ فَوَقَفَ فِي الْجَدَادِ فَجَدَدْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ مِنْهُ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَشَّرْتُهُ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، عُرُوشٌ وَعَرِيشٌ بِنَاءٌ . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَعْرُوشَاتٍ مَا يُعَرَّشُ مِنَ الْكُرُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ ، يُقَالُ : عُرُوشُهَا أَبْنِيَتُهَا .
Narrated Jabir bin `Abdullah: There was a Jew in Medina who used to lend me money up to the season of plucking dates. (Jabir had a piece of land which was on the way to Ruma). That year the land was not promising, so the payment of the debt was delayed one year. The Jew came to me at the time of plucking, but gathered nothing from my land. I asked him to give me one year respite, but he refused. This news reached the Prophet whereupon he said to his companions, Let us go and ask the Jew for respite for Jabir. All of them came to me in my garden, and the Prophet started speaking to the Jew, but he Jew said, O Abu Qasim! I will not grant him respite. When the Prophet saw the Jew's attitude, he stood up and walked all around the garden and came again and talked to the Jew, but the Jew refused his request. I got up and brought some ripe fresh dates and put it in front of the Prophet. He ate and then said to me, Where is your hut, O Jabir? I informed him, and he said, Spread out a bed for me in it. I spread out a bed, and he entered and slept. When he woke up, I brought some dates to him again and he ate of it and then got up and talked to the Jew again, but the Jew again refused his request. Then the Prophet got up for the second time amidst the palm trees loaded with fresh dates, and said, O Jabir! Pluck dates to repay your debt. The Jew remained with me while I was plucking the dates, till I paid him all his right, yet there remained extra quantity of dates. So I went out and proceeded till I reached the Prophet and informed him of the good news, whereupon he said, I testify that I am Allah's Apostle.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے قرض اس شرط پر دیا کرتا تھا کہ میری کھجوریں تیار ہونے کے وقت لے لے گا۔ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک زمین بئررومہ کے راستہ میں تھی۔ ایک سال کھجور کے باغ میں پھل نہیں آئے۔ پھل چنے جانے کا جب وقت آیا تو وہ یہودی میرے پاس آیا لیکن میں نے تو باغ سے کچھ بھی نہیں توڑا تھا۔ اس لیے میں آئندہ سال کے لیے مہلت مانگنے لگا لیکن اس نے مہلت دینے سے انکار کیا۔ اس کی خبر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ چلو، یہودی سے جابر رضی اللہ عنہ کے لیے ہم مہلت مانگیں گے۔ چنانچہ یہ سب میرے باغ میں تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی سے گفتگو فرماتے رہے لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ ابوالقاسم میں مہلت نہیں دے سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور کھجور کے باغ میں چاروں طرف پھرے پھر تشریف لائے اور اس سے گفتگو کی لیکن اس نے اب بھی انکار کیا پھر میں کھڑا ہوا اور تھوڑی سی تازہ کھجور لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تناول فرمایا پھر فرمایا جابر! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں میرے لیے کچھ فرش بچھا دو۔ میں نے بچھا دیا تو آپ داخل ہوئے اور آرام فرمایا پھر بیدار ہوئے تو میں ایک مٹھی اور کھجور لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر آپ کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو فرمائی۔ اس نے اب بھی انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ باغ میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ جابر! جاؤ اب پھل توڑو اور قرض ادا کر دو۔ آپ کھجوروں کے توڑے جانے کی جگہ کھڑے ہو گئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجوریں توڑ لیں جن سے میں نے قرض ادا کر دیا اور اس میں سے کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث میں جو «عروش» کا لفظ ہے «عروش» اور «عريش» عمارت کی چھت کو کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( سورۃ الانعام میں لفظ ) «معروشات» سے مراد انگور وغیرہ کی ٹٹیاں ہیں۔ دوسری آیت ( سورۃ البقرہ ) «عروشها خاویة علی» یعنی اپنی چھتوں پر گرے ہوئے۔
5443
Sahih
(42) CHAPTER. The eating of a spadix of the palm tree.
کھجور کے درخت کا گوند کھانا جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ إِذَا أُتِيَ بِجُمَّارِ نَخْلَةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لَمَا بَرَكَتُهُ كَبَرَكَةِ الْمُسْلِمِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي النَّخْلَةَ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا عَاشِرُ عَشَرَةٍ أَنَا أَحْدَثُهُمْ ، فَسَكَتُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ النَّخْلَةُ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: While we were sitting with the Prophet, fresh dates were brought to him. The Prophet said, There is a tree among the trees which is as blessed as a Muslim I thought that it was the date palm tree and intended to say, It is the date-palm tree, O Allah's Apostle! but I looked behind to see that I was the tenth and youngest of ten men present there, so I kept quiet' Then the Prophet said, It is the datepalm tree.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کھجور کے درخت کا گابھہ لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض درخت ایسے ہوتے ہیں جن کی برکت مسلمان کی برکت کی طرح ہوتی ہے۔ میں نے خیال کیا کہ آپ کا اشارہ کھجور کے درخت کی طرف ہے۔ میں نے سوچا کہ کہہ دوں کہ وہ درخت کھجور کا ہوتا ہے، یا رسول اللہ! لیکن پھر جو میں نے مڑ کر دیکھا تو مجلس میں میرے علاوہ نو آدمی اور تھے اور میں ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس لیے میں خاموش رہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ درخت کھجور کا ہے۔
5444
Sahih
(43) CHAPTER. At-Ajwa (a special kind of date).
عجوہ کھجور کا بیان ۔
حَدَّثَنَا جُمْعَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَصَبَّحَ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ .
Narrated Sa`d: Allah's Apostle said, He who eats seven 'Ajwa dates every morning, will not be affected by poison or magic on the day he eats them.
ہم سے جمعہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مروان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو عامر بن سعد نے خبر دی اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہر دن صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیں، اسے اس دن نہ زہر نقصان پہنچا سکے گا اور نہ جادو۔
5445
Sahih
(44) CHAPTER. To eat two dates at a time.
دو کھجور وں کو ایک ساتھ ملا کر کھانا ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، قَالَ : أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَرَزَقَنَا تَمْرًا ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَأْكُلُ ، وَيَقُولُ : لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْقِرَانِ ، ثُمَّ يَقُولُ : إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ، قَالَ شُعْبَةُ : الْإِذْنُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ .
Narrated Jabala bin Suhaim.: At the time of Ibn Az-Zubair, we were struck with famine, and he provided us with dates for our food. `Abdullah bin `Umar used to pass by us while we were eating, and say, Do not eat two dates together at a time, for the Prophet forbade the taking of two dates together at a time (in a gathering). Ibn `Umar used to add, Unless one takes the permission of one's companions.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ( جب وہ حجاز کے خلیفہ تھے ) ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے راشن میں ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا سوا اس صورت کے جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے ( جو کھانے میں شریک ہے ) اس کی اجازت لے لے۔ شعبہ نے بیان کیا کہ اجازت والا ٹکڑا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔
5446
Sahih
(45) CHAPTER. The snake cucumber.
ککڑی کھانے کا بیان ۔
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ .
Narrated `Abdullah bin Ja`far: I saw the Prophet eating fresh dates with snake cucumbers.
مجھ سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کو ککڑی کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھا۔
5447
Sahih
(46) CHAPTER. The goodness of the date-palm tree.
کھجور کے درخت کی برکت کا بیان ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً تَكُونُ مِثْلَ الْمُسْلِمِ وَهِيَ النَّخْلَةُ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said, There is a tree among the trees which is similar to a Muslim (in goodness), and that is the date palm tree.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مثل مسلمان کے ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔
5448
Sahih
(47) CHAPTER. The taking of two kinds of fruit or two kinds of food at a time.
ایک وقت میں دو طرح کے ( پھل ) یا دو قسم کے کھانے جمع کر کے کھانا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ .
Narrated `Abdullah bin Ja`far: I saw Allah's Apostle eating fresh dates with snake cucumbers.
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ککڑی کے ساتھ کھجور کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
5449
Sahih
(48) CHAPTER. Whoever admitted the guests in batches of ten persons (by turns).
دس دس مہمانوں کوایک ایک بار بلاکرکھانے پر بٹھانا ۔
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وَعَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَعَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّهُ عَمَدَتْ إِلَى مُدٍّ مِنْ شَعِيرٍ جَشَّتْهُ وَجَعَلَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً وَعَصَرَتْ عُكَّةً عِنْدَهَا ، ثُمَّ بَعَثَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَدَعَوْتُهُ ، قَالَ : وَمَنْ مَعِي ، فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُ يَقُولُ وَمَنْ مَعِي ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ صَنَعَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَدَخَلَ فَجِيءَ بِهِ ، وَقَالَ : أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً ، فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ قَالَ : أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً ، فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ قَالَ : أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً ، حَتَّى عَدَّ أَرْبَعِينَ ، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْءٌ .
Narrated Anas: My mother, Um Sulaim, took a Mudd of barley grain, ground it and made porridge from it, and pressed (over it), a butter skin she had with her. Then she sent me to the Prophet, and I reached him while he was sitting with his companions. I invited him, whereupon he said, And those who are with me?' I returned and said, He says, 'And those who are with me? Abu Talha went out to him and said, O Allah's Apostle! It is just a meal prepared by Um Sulaim. The Prophet entered and the food was brought to him. He said, Let ten persons enter upon me. Those ten entered and ate their fill. Again he said, 'Let ten (more) enter upon me. Those ten entered and ate their fill. Then he said, Let ten (more) enter upon me. He called forty persons in all Then Allah's Apostle ate and got up. I started looking (at the food) to see if it decreased or not.
سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے جعد ابوعثمان نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور (اس کی روایت حماد نے) ہشام سے بھی کی، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور سنان ابوربیعہ سے (بھی کی) اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک مد جَو لیا اور ان سے پیس کر اس کا «خطيفة» ( آٹے کو دودھ میں ملا کر پکاتے ہیں ) پکایا اور ان کے پاس جو گھی کا ڈبہ تھا اس میں اس پر سے گھی نچوڑا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( بلانے کے لیے ) بھیجا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ کو کھانا کھانے کے لیے بلایا۔ آپ نے دریافت فرمایا اور وہ لوگ بھی جو میرے ساتھ ہیں؟ چنانچہ میں واپس آیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ جو میرے ساتھ موجود ہیں وہ بھی چلیں گے۔ اس پر ابوطلحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو ایک چیز ہے جو ام سلیم نے آپ کے لیے پکائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھانا آپ کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو میرے پاس اندر بلا لو۔ چنانچہ دس صحابہ داخل ہوئے اور کھانا پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا دس آدمیوں کو میرے پاس اور بلا لو۔ یہ دس بھی اندر آئے اور پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا اور دس آدمیوں کو بلا لو۔ اس طرح انہوں نے چالیس آدمیوں کا شمار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر آپ کھڑے ہوئے تو میں دیکھنے لگا کہ کھانے میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔
5450
Sahih
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : قِيلَ لِأَنَسٍ : مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الثُّومِ ، فَقَالَ : مَنْ أَكَلَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا .
Narrated `Abdul `Aziz: It was said to Anas What did you hear the Prophet saying about garlic? Anas replied, Whoever has eaten (garlic) should not approach our mosque.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لہسن کے بارے میں کچھ کہتے نہیں سنا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ( لہسن ) کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔
5451
Sahih
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا زَعَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا .
Narrated Jabir bin `Abdullah: The Prophet said, Whoever has eaten garlic or onion should keep away from us (or should keep away from our mosque).'
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصفوان عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لہسن یا پیاز کھائی ہو تو اسے چاہئے کہ ہم سے دور رہے، یا یہ فرمایا کہ ہماری مسجد سے دور رہے۔
5452
Sahih

Chapters

58
01
(1) CHAPTER. Statement of Allah: [O you who believe (In the Oneness of Allah - Islamic Monotheism)] Eat of the lawful things that We have provided you with...” (V.2:172)
کتاب کھانوں کے بیان میں
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. One should mention the Name of Allah on starting to eat, and one should eat with his right hand.
کھانے کے شروع میں بسماللہ پڑھنا اوردائیں ہاتھ سے کھانا ۔
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. To eat of the dish what is nearer to you.
برتن میں سامنے سے کھانا اور حضرت انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کھانے سے پہلے ) اللہ کا نام لیا کرو اور ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے 2
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. Eating from around the dish while taking one's meal with someone else if he knows that his companion does not dislike that.
جس نے اپنے ساتھی کے ساتھ کھاتے وقت پیالے میں چاروں طرف ہاتھ بڑھا ئے بشرطیکہ ساتھی کی طرف سے معلوم ہو کہ اسے کراہیت نہیں ہوگی
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. To eat with one's right hand, and to start with the right side in doing other things, etc.
کھانے پینے میں داہنے ہاتھ کا استعمال کرنا ۔
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. Whoever ate till he was satisfied.
پیٹ بھر کر کھانا کھانا درست ہے ۔
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. “There is no restriction on the blind… (V.24:61)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النور میں فرمانا کہ ” اندھے پر کوئی حرج نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ مریض پر کوئی حرج ۔ ۔ ۔ آخر آیت لعلکم تعقلون تک ۔
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. Thin bread and eating at an eating table, or a dining table.
( میدہ کی باریک ) چپاتیاں کھانا اور خوان ( دبیز ) اور دسترخوان پر کھانا ۔
5 Hadith
09
(9) CHAPTER. As-Sawiq.
ستو کھانے کے بیان میں ۔
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. The Prophet never used to eat anything unless it was named for him so that he might know what it was.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کھانا ( جو پہچانا نہ جاتا ) نہ کھاتے جب تک لوگ بتلانہ دیتے کہ فلانا کھانا ہے اور آپ کو جب معلوم نہ ہو جاتا نہ کھاتے تھے ۔
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The food of one person is sufficient for two persons.
ایک آدمی کا پورا کھانا دو کے لیے کافی ہو سکتا ہے ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. A believer eats in one intestine (i.e., he is satisfied with a little food).
مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ( اور کافر سات آنتوں میں ) اس باب میں ایک حدیث مرفوع حضرت ابوہریرہ رضیاللہعنہ سے مروی ہے
5 Hadith
13
(13) CHAPTER. To eat while leaning (against something).
تکیہ لگا کر کھانا کیسا ہے ؟
2 Hadith
14
(14) CHAPTER. (What is said regarding) roasted (meat).
بھنا ہوا گوشت کھانا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان پھر وہ بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے لفظ حنیذ کے معنی بھنا ہوا ہے ۔
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. Al-Khazira (a kind of dish prepared from white flour with fat).
خزیرہ کا بیان اورنضر بن شمیل نے کہا کہ خزیرہ بھو سی سے بنتا ہے اور حریرہ دودھ سے ۔
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. (What is said about) Al-Aqit (dried yoghourt).
پنیر کا بیان ۔
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. (What is said regarding) As-Salq (a kind of beet) and barley.
چقندر اور جو کھانے کا بیان ۔
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. To seize and catch flesh with the teeth (to strip the bone of its flesh) (while eating).
گوشت کے پکنے سے پہلے اسے ہانڈی سے نکال کر کھانا اور منہ سے نوچنا ۔
3 Hadith
19
(19) CHAPTER. To eat the flesh of a foreleg (by stripping the bone of its meat with the teeth).
بازو کا گوشت نوچ کر کھانا درست ہے ۔
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. To cut the meat with a knife.
گوشت چھری سے کاٹ کر کھانا ۔
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. The Prophet never criticized any food (that was offered to him).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی قسم کے کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا ہے ۔
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. To blow (powdered) barley (to remove the husk).
جوکو پیس کر منہ سے پھونک کر اس کا بھوسہ اڑادینا درست ہے ۔
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. What the Prophet and his Companions used to eat.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام رضیاللہعنہم کی خوارک کا بیان ۔
6 Hadith
24
(24) CHAPTER. At-Talbina (a kind of dish prepared from flour or bran, and sometimes honey, is added).
تلبینہ یعنی حریرہ کا بیان ۔
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. Ath-Tharid (a special dish prepared from meat and bread).
ثرید کے بیان میں ۔
3 Hadith
26
(26) CHAPTER. A roasted sheep (and the eating of a piece of meat) from the shoulder of mutton or from the ribs.
کھال سمیت بھنی ہوئی بکری اور شانہ اورپسلی کے گوشت کا بیان ۔
2 Hadith
27
(27) CHAPTER. What our predecessors used to store of food, meat, etc., in their houses and carry with them while on a journey.
سلف صالحین اپنے گھروں میں اور سفروں میں جس طرح کا کھانا میسر ہوتا اور گوشت وغیرہ محفوظ رکھ لیا کرتے تھے ۔
2 Hadith
28
(28) CHAPTER. Al-Hais (special dish prepared from dried yoghourt, butter and dates).
حیس کا بیان
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. Eating in a dish decorated with silver.
چاندی کے برتن میں کھانا کیسا ہے ؟
1 Hadith
30
(30) CHAPTER. The mention of food.
کھانے کا بیان ۔
3 Hadith
31
(31) CHAPTER. Al-Udm (additional food taken with bread).
سالن کا بیان ۔
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. Sweet edible things and honey.
میٹھی چیز اور شہد کا بیان ۔
2 Hadith
33
(33) CHAPTER. Ad-Dubba (gourd).
کدو کا بیان
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. A man may take the trouble to prepare a meal for (Muslim) brethren.
اپنے دوستوں اور مسلمان بھائیوں کی دعوت کے لیے کھانا تکلف سے تیار کرائے ۔
1 Hadith
35
(35) CHAPTER. Whoever invited a man to a meal and then went to carry on his job.
صاحب خانہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ مہمان کے ساتھ آپ بھی وہ کھائے ۔
1 Hadith
36
(36) CHAPTER. Soup.
شوربہ کا بیان ۔
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Cured meat.
خشک کئے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کا بیان ۔
2 Hadith
38
(38) CHAPTER. Whoever handed over or presented something to the companion across the dining table.
جس نے ایک ہی دسترخوان پرکوئی چیزاٹھا کر اپنے دوسرے ساتھی کو دی یا اس کے سامنے رکھی ۔
1 Hadith
39
(39) CHAPTER. The eating of snake cucumber with fresh dates.
تازہ کھجور اور ککڑی ایک ساتھ کھانا ۔
1 Hadith
40
(40) CHAPTER.
ردی کھجور ( بوقت ضرورت راشن تقسیم کرنے ) کے بیان میں ۔
1 Hadith
41
(41) CHAPTER. Fresh dates and dry dates.
تازہ کھجور اورخشک کھجور کے بیان میں ۔
2 Hadith
42
(42) CHAPTER. The eating of a spadix of the palm tree.
کھجور کے درخت کا گوند کھانا جائز ہے ۔
1 Hadith
43
(43) CHAPTER. At-Ajwa (a special kind of date).
عجوہ کھجور کا بیان ۔
1 Hadith
44
(44) CHAPTER. To eat two dates at a time.
دو کھجور وں کو ایک ساتھ ملا کر کھانا ۔
1 Hadith
45
(45) CHAPTER. The snake cucumber.
ککڑی کھانے کا بیان ۔
1 Hadith
46
(46) CHAPTER. The goodness of the date-palm tree.
کھجور کے درخت کی برکت کا بیان ۔
1 Hadith
47
(47) CHAPTER. The taking of two kinds of fruit or two kinds of food at a time.
ایک وقت میں دو طرح کے ( پھل ) یا دو قسم کے کھانے جمع کر کے کھانا ۔
1 Hadith
48
(48) CHAPTER. Whoever admitted the guests in batches of ten persons (by turns).
دس دس مہمانوں کوایک ایک بار بلاکرکھانے پر بٹھانا ۔
1 Hadith
49
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
2 Hadith
50
(50) CHAPTER. Al-Kabath, i.e., the leaves of Al-Arak.
کباث کا بیان اور وہ پیلو کے درخت کا پھل ہے ۔
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. To rinse the mouth after taking meals.
کھانا کھانے کے بعد کلی کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
52
(52) CHAPTER. To lick and suck the fingers before cleaning them with a handkerchief.
رو مال سے صاف کرنے سے پہلے انگلیوں کو چاٹنا ۔
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. The handkerchief.
رو مال کا بیان ۔
1 Hadith
54
(54) CHAPTER. What one should say after finishing one's meal.
کھانا کھانے کے بعد کیا دعاپڑھنی چاہیئے ؟
2 Hadith
55
(55) CHAPTER. To eat with one's servant.
خادم کو بھی ساتھ میں کھانا کھلانا مناسب ہے ۔
1 Hadith
56
(57) CHAPTER. A man is invited to a meal, whereupon he says, “May this (person) come with me too?”
کسی شخص کی کھانے کی دعوت ہو ۔
1 Hadith
57
(58) CHAPTER. If super or dinner is served then one should not hurry to finish it [when the time for Salat (prayer) is due].
شام کا کھانا حاضر ہو تو نماز کے لیے جلدی نہ کرے ۔
4 Hadith
58
(59) CHAPTER. The Statement of Allah: “And when you have taken your meal disperse. (V.33:53)
اللہ تعالیٰ کاارشاد پھر جب تم کھانا کھا چکو تو دعوت والے کے گھر سے اٹھ کر چلے جاؤ ۔
1 Hadith
No chapter matched that.