TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of foods (meals). - کتاب کھانوں کے بیان میں - Book 71 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 71 of Sahih Bukhari, with 58 chapters and 94 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

94 Hadith · 58 Chapters
(1) CHAPTER. Statement of Allah: [O you who believe (In the Oneness of Allah - Islamic Monotheism)] Eat of the lawful things that We have provided you with...” (V.2:172)
کتاب کھانوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ». قَالَ سُفْيَانُ وَالْعَانِي الأَسِيرُ.
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari: The Prophet said, Give food to the hungry, pay a visit to the sick and release (set free) the one in captivity (by paying his ransom).
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں منصور نے ان سے ابووائل نے بیان کیا، اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھوکے کو کھلاؤ پلاؤ، بیمار کی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔ سفیان ثوری نے کہا کہ ( حدیث میں ) لفظ «عاني» سے مراد قیدی ہے۔
5373
Sahih
(1) CHAPTER. Statement of Allah: [O you who believe (In the Oneness of Allah - Islamic Monotheism)] Eat of the lawful things that We have provided you with...” (V.2:172)
کتاب کھانوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى قُبِضَ .
Narrated Abu Huraira: The family of Muhammad did not eat their fill for three successive days till he died.
ہم سے یوسف بن عیسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوحازم (سلمہ بن اشجعی) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ کچھ دن برابر انہوں نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا ہو اور اسی سند سے۔
5374
Sahih
(1) CHAPTER. Statement of Allah: [O you who believe (In the Oneness of Allah - Islamic Monotheism)] Eat of the lawful things that We have provided you with...” (V.2:172)
کتاب کھانوں کے بیان میں
وَعَنْ أَبي حَازِمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ ، فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ ، فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ ، فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنَ الْجَهْدِ وَالْجُوعِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي بِي ، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَحْلِهِ ، فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : عُدْ يَا أَبَا هِرٍّ ، فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ قَالَ : عُدْ ، فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ حَتَّى اسْتَوَى بَطْنِي فَصَارَ كَالْقِدْحِ ، قَالَ : فَلَقِيتُ عُمَرَ وَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِي ، وَقُلْتُ لَهُ : فَوَلَّى اللَّهُ ذَلِكَ مَنْ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ يَا عُمَرُ ، وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقْرَأْتُكَ الْآيَةَ وَلَأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْكَ ، قَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لَأَنْ أَكُونَ أَدْخَلْتُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ حُمْرِ النَّعَمِ .
Narrated Abu Huraira: Once while I was in a state of fatigue (because of severe hunger), I met 'Umar bin Al-Khattab, so I asked him to recite a verse from Allah's Book to me. He entered his house and interpreted it to me. (Then I went out and) after walking for a short distance, I fell on my face because of fatigue and severe hunger. Suddenly I saw Allah's Apostle standing by my head. He said, O Abu Huraira! I replied, Labbaik, O Allah's Apostle, and Sadaik! Then he held me by the hand, and made me get up. Then he came to know what I was suffering from. He took me to his house, and ordered a big bowl of milk for me. I drank thereof and he said, Drink more, O Abu Hirr! So I drank again, whereupon he again said, Drink more. So I drank more till my belly became full and looked like a bowl. Afterwards I met 'Umar and mentioned to him what had happened to me, and said to him, Somebody, who had more right than you, O 'Umar, took over the case. By Allah, I asked you to recite a Verse to me while I knew it better than you. On that Umar said to me, By Allah, if I admitted and entertained you, it would have been dearer to me than having nice red camels.
ابوحازم سے روایت ہے کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( بیان کیا کہ فاقہ کی وجہ سے ) میں سخت مشقت میں مبتلا تھا، پھر میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور ان سے میں نے قرآن مجید کی ایک آیت پڑھنے کے لیے کہا۔ انہوں نے مجھے وہ آیت پڑھ کر سنائی اور پھر اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد میں بہت دور تک چلتا رہا۔ آخر مشقت اور بھوک کی وجہ سے میں منہ کے بل گر پڑا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر کے پاس کھڑے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ! میں نے کہا حاضر ہوں، یا رسول اللہ! تیار ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کیا۔ آپ سمجھ گئے کہ میں کس تکلیف میں مبتلا ہوں۔ پھر آپ مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کا ایک بڑا پیالہ منگوایا۔ میں نے اس میں دودھ پیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوبارہ پیو ( ابوہریرہ! ) میں نے دوبارہ پیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور پیو۔ میں نے اور پیا۔ یہاں تک کہ میرا پیٹ بھی پیالہ کی طرح بھرپور ہو گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنا سارا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ اے عمر! اللہ تعالیٰ نے اسے اس ذات کے ذریعہ پورا کرا دیا، جو آپ سے زیادہ مستحق تھی۔ اللہ کی قسم! میں نے تم سے آیت پوچھی تھی حالانکہ میں اسے تم سے بھی زیادہ بہتر طریقہ پر پڑھ سکتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں نے تم کو اپنے گھر میں داخل کر لیا ہوتا اور تم کو کھانا کھلا دیتا تو لال لال ( عمدہ ) اونٹ ملنے سے بھی زیادہ مجھ کو خوشی ہوتی۔
5375
Sahih
(2) CHAPTER. One should mention the Name of Allah on starting to eat, and one should eat with his right hand.
کھانے کے شروع میں بسماللہ پڑھنا اوردائیں ہاتھ سے کھانا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ : أَخْبَرَنِي ، أَنَّهُ سَمِعَ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، يَقُولُ : كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا غُلَامُ ، سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ ، فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ .
Narrated `Umar bin Abi Salama: I was a boy under the care of Allah's Apostle and my hand used to go around the dish while I was eating. So Allah's Apostle said to me, 'O boy! Mention the Name of Allah and eat with your right hand, and eat of the dish what is nearer to you. Since then I have applied those instructions when eating.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی، انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا، انہوں نے عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بچہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور ( کھاتے وقت ) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو۔ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔
5376
Sahih
(3) CHAPTER. To eat of the dish what is nearer to you.
برتن میں سامنے سے کھانا اور حضرت انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کھانے سے پہلے ) اللہ کا نام لیا کرو اور ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے 2
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَكَلْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا ، فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ نَوَاحِي الصَّحْفَةِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلْ مِمَّا يَلِيكَ .
Narrated `Umar bin Al Salama: Who was the son of Um Salama, the wife of the Prophet: Once I ate a meal with Allah's Apostle and I was eating from all sides of the dish. So Allah's Apostle said to me, Eat of the dish what is nearer to you.
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ دیلی نے بیان کیا، ان سے وہب بن کیسان ابونعیم نے بیان کیا، ان سے عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے (ابوسلمہ سے) بیٹے ہیں۔ بیان کیا کہ ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا اور برتن کے چاروں طرف سے کھانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اپنے نزدیک سے کھا۔
5377
Sahih
(3) CHAPTER. To eat of the dish what is nearer to you.
برتن میں سامنے سے کھانا اور حضرت انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کھانے سے پہلے ) اللہ کا نام لیا کرو اور ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے 2
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ : سَمِّ اللَّهَ ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ .
Narrated Wahb bin Kaisan Abi Nu'aim: A meal was brought to Allah's Apostle while his step-son, `Umar bin Abi Salama was with him. Allah's Apostle said to him, Mention the Name of Allah and eat of the dish what is nearer to you.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، ان سے ابونعیم وہب بن کیسان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا، آپ کے ساتھ آپ کے ربیب عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھ اور اپنے سامنے سے کھا۔
5378
Sahih
(4) CHAPTER. Eating from around the dish while taking one's meal with someone else if he knows that his companion does not dislike that.
جس نے اپنے ساتھی کے ساتھ کھاتے وقت پیالے میں چاروں طرف ہاتھ بڑھا ئے بشرطیکہ ساتھی کی طرف سے معلوم ہو کہ اسے کراہیت نہیں ہوگی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ ، قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ .
Narrated Anas bin Malik: A tailor invited Allah's Apostle to a meal which he had prepared. I went along with Allah's Apostle and saw him seeking to eat the pieces of gourd from the various sides of the dish. Since that day I have liked to eat gourd. `Umar bin Abi Salama said: The Prophet, said to me, Eat with your right hand.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے کی دعوت کی جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی گیا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کرتے تھے ( کھانے کے لیے ) بیان کیا کہ اسی دن سے کدو مجھ کو بھی بہت بھانے لگا۔
5379
Sahih
(5) CHAPTER. To eat with one's right hand, and to start with the right side in doing other things, etc.
کھانے پینے میں داہنے ہاتھ کا استعمال کرنا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ ، وَكَانَ قَالَ بِوَاسِطٍ قَبْلَ هَذَا فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ .
Narrated `Aisha: The Prophet used to love to start doing things from the right side whenever possible, in performing ablution, putting on his shoes, and combing his hair. (Al-Ash'ath said: The Prophet used to do so in all his affairs.)
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں اشعث نے، انہیں ان کے والد نے، انہیں مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ممکن ہوتا پاکی حاصل کرنے میں، جوتا پہننے اور کنگھا کرنے میں داہنی طرف سے ابتداء کرتے۔ اشعث اس حدیث کا راوی جب واسط شہر میں تھا تو اس نے اس حدیث میں یوں کہا تھا کہ ہر ایک کام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم داہنی طرف سے ابتداء کرتے۔
5380
Sahih
(6) CHAPTER. Whoever ate till he was satisfied.
پیٹ بھر کر کھانا کھانا درست ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ : لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا ، فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : بِطَعَامٍ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ : قُومُوا ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ ، فَقَالَتْ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، مَا عِنْدَكِ ؟ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا ، فَأَدَمَتْهُ ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ خَرَجُوا ، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ أَذِنَ لِعَشَرَةٍ ، فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ ثَمَانُونَ رَجُلًا .
Narrated Anas bin Malik: Abu Talha said to Um Sulaim, I have heard the voice of Allah's Apostle which was feeble, and I think that he is hungry. Have you got something (to eat)? She took out some loaves of barley bread, then took her face-covering sheet and wrapped the bread in part of it, and pushed it under my garment and turned the rest of it around my body and sent me to Allah's Apostle . I went with that, and found Allah's Apostle in the mosque with some people. I stood up near them, and Allah's Apostle asked me, Have you been sent by Abu Talha? I said, Yes. He asked, With some food (for us)? I said, Yes. Then Allah's Apostle said to all those who were with him, Get up! He set out (and all the people accompanied him) and I proceeded ahead of them till I came to Abu Talha. Abu Talha then said, O Um Sulaim! Allah's Apostle has arrived along with the people, and we do not have food enough to feed them all. She said, Allah and His Apostle know better. So Abu Talha went out till he met Allah's Apostle. Then Abu Talha and Allah's Apostle came and entered the house. Allah's Apostle said, Um Sulaim ! Bring whatever you have. She brought that very bread. The Prophet ordered that it be crushed into small pieces, and Um Sulaim pressed a skin of butter on it. Then Allah's Apostle said whatever Allah wished him to say (to bless the food) and then added, Admit ten (men). So they were admitted, ate their fill and went out. The Prophet then said, Admit ten (more). They were admitted, ate their full, and went out. He then again said, Admit ten more! They were admitted, ate their fill, and went out. He admitted ten more, and so all those people ate their fill, and they were eighty men.
ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میں ضعف و نقاہت کو محسوس کیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ فاقہ سے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹہ نکالا اور اس کے ایک حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ( یعنی انس رضی اللہ عنہ کے ) کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور ایک حصہ مجھے چادر کی طرح اوڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ بیان کیا کہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو مسجد میں پایا اور آپ کے ساتھ صحابہ تھے۔ میں ان سب حضرات کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے انس! تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہو گا۔ میں نے عرض کی جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کھانے کے ساتھ؟ میں نے عرض کی، جی ہاں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ کھڑے ہو جاؤ۔ چنانچہ آپ روانہ ہوئے۔ میں سب کے آگے آگے چلتا رہا۔ جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس پہنچا تو انہوں نے کہا: ام سلیم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لائے ہیں، حالانکہ ہمارے پاس کھانے کا اتنا سامان نہیں جو سب کو کافی ہو سکے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا اس پر بولیں کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ( استقبال کے لیے ) نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور گھر میں داخل ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ یہاں لاؤ۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا روٹی لائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا چورا کر لیا گیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اپنے گھی کے ڈبہ میں سے گھی نچوڑ کر اس کا ملیدہ بنا لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دعا کرانی چاہی، اس کے بعد فرمایا کہ ان دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلا لو۔ چنانچہ دس صحابہ کو بلایا۔ سب نے کھایا اور شکم سیر ہو کر باہر چلے گئے۔ پھر فرمایا کہ دس کو اور بلا لو، انہیں بلایا گیا اور سب نے شکم سیر ہو کر کھایا اور باہر چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ دس صحابہ کو اور بلا لو، پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اور ان لوگوں نے بھی خوب پیٹ بھر کر کھایا اور باہر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اس طرح تمام صحابہ نے پیٹ بھر کر کھایا، اس وقت اسی ( 80 ) صحابہ کی جماعت وہاں موجود تھی۔
5381
Sahih
(6) CHAPTER. Whoever ate till he was satisfied.
پیٹ بھر کر کھانا کھانا درست ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَحَدَّثَ أَبُو عُثْمَانَ أَيْضًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ ؟ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ ، أَوْ قَالَ : هِبَةٌ ، قَالَ : لَا ، بَلْ بَيْعٌ ، قَالَ : فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً ، فَصُنِعَتْ ، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ يُشْوَى وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَهَا لَهُ ، ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا قَصْعَتَيْنِ ، فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ ، فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ .
Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Bakr: We were one hundred and thirty men sitting with the Prophet. The Prophet said, Have anyone of you any food with him? It happened that one man had one Sa of wheat flour (or so) which was turned into dough then. After a while a tall lanky pagan came, driving some sheep. The Prophet asked, 'Will you sell us (a sheep), or give (it to) us as a gift? The pagan said, No, but I will sell it So the Prophet bought from him a sheep which was slaughtered, and then the Prophet ordered that the liver, the kidneys, lungs and heart, etc., of that sheep be roasted. By Allah, none of those one hundred and thirty men but had his share of those things. The Prophet gave to those who were present, and also kept a share for those who were absent He then served that cooked sheep in two big trays and we all ate together our fill; yet there remained a part of it in those two trays which I carried on the camel.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابوعثمان نہدی نے بھی بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے۔ ایک صاحب نے اپنے پاس سے ایک صاع کے قریب آٹا نکالا، اسے گوندھ لیا گیا، پھر ایک مشرک لمبا تڑنگا اپنی بکریاں ہانکتا ہوا ادھر آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ بیچنے کی ہیں یا عطیہ ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عطیہ کے بجائے ) ہبہ فرمایا۔ اس شخص نے کہا کہ نہیں بلکہ بیچنے کی ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی پھر ذبح کی گئی اور آپ نے اس کی کلیجی بھونے جانے کا حکم دیا اور قسم اللہ کی ایک سو تیس لوگوں کی جماعت میں کوئی شخص ایسا نہیں رہا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کی کلیجی کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو مگر وہ موجود تھا تو اسے وہیں دے دیا اور اگر وہ موجود نہیں تھا تو اس کا حصہ محفوظ رکھا، پھر اس بکری کے گوشت کو پکا کر دو بڑے کونڈوں میں رکھا اور ہم سب نے ان میں سے پیٹ بھر کر کھایا پھر بھی دونوں کونڈوں میں کھانا بچ گیا تو میں نے اسے اونٹ پر لاد لیا۔ عبدالرحمٰن راوی نے ایسا ہی کوئی کلمہ کہا۔
5382
Sahih
(6) CHAPTER. Whoever ate till he was satisfied.
پیٹ بھر کر کھانا کھانا درست ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ .
Narrated `Aisha: The Prophet died when we had satisfied our hunger with the two black things, i.e. dates and water.
ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ (صفیہ بن شبیہ) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، ان دنوں ہم پانی اور کھجور سے سیر ہو جانے لگے تھے۔
5383
Sahih
(7) CHAPTER. “There is no restriction on the blind… (V.24:61)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النور میں فرمانا کہ ” اندھے پر کوئی حرج نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ مریض پر کوئی حرج ۔ ۔ ۔ آخر آیت لعلکم تعقلون تک ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : سَمِعْتُ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ ، قَالَ يَحْيَى : وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَلُكْنَاهُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ عَوْدًا وَبَدْءًا .
Narrated Suwaid bin An-Nu`man: We went out with Allah's Apostle to Khaibar, and when we were at As-Sahba', (Yahya, a sub-narrator said, As-Sahba' is a place at a distance of one day's journey to Khaibar). Allah's Apostle asked the people to bring their food, but there was nothing with the people except Sawiq. So we all chewed and ate of it. Then the Prophet asked for some water and he rinsed his mouth, and we too, rinsed our mouths. Then he led us in the Maghrib prayer without performing ablution (again).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہا یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، انہوں نے بشیر بن یسار سے سنا، کہا کہ ہم سے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف ( سنہ 7 ھ میں ) نکلے جب ہم مقام صہباء پر پہنچے۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ صہباء خیبر سے دوپہر کی راہ پر ہے تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی، پھر ہم نے اسی کو سوکھا پھانک لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی، ہم نے بھی کلی کی۔ اس کے بعد آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ( مغرب کے لیے کیونکہ پہلے سے باوضو تھے ) ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے اس حدیث میں یوں سنا کہ آپ نے نہ ستو کھاتے وقت وضو کیا نہ کھانے سے فارغ ہو کر۔
5384
Sahih
(8) CHAPTER. Thin bread and eating at an eating table, or a dining table.
( میدہ کی باریک ) چپاتیاں کھانا اور خوان ( دبیز ) اور دسترخوان پر کھانا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ خَبَّازٌ لَهُ ، فَقَالَ : مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مُرَقَّقًا وَلَا شَاةً مَسْمُوطَةً حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ .
Narrated Qatada: We were in the company of Anas whose baker was with him. Anas said, The Prophet did not eat thin bread, or a roasted sheep till he met Allah (died).
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، ان سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہا کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت ان کا روٹی پکانے والا خادم بھی موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چپاتی ( میدہ کی روٹی ) نہیں کھائی اور نہ ساری دم پختہ بکری کھائی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے۔
5385
Sahih
(8) CHAPTER. Thin bread and eating at an eating table, or a dining table.
( میدہ کی باریک ) چپاتیاں کھانا اور خوان ( دبیز ) اور دسترخوان پر کھانا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ عَلِيٌّ هُوَ الْإِسْكَافُ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَلَى سُكْرُجَةٍ قَطُّ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَطُّ وَلَا أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ قَطُّ ، قِيلَ لِقَتَادَةَ : فَعَلَى مَا كَانُوا يَأْكُلُونَ ؟ قَالَ : عَلَى السُّفَرِ .
Narrated Anas: To the best of my knowledge, the Prophet did not take his meals in a big tray at all, nor did he ever eat well-baked thin bread, nor did he ever eat at a dining table.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، علی بن عبداللہ المدینی نے کہا کہ یہ یونس اسکاف ہیں (نہ کہ یونس بن عبید بصریٰ) ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تشتری رکھ کر ( ایک وقت مختلف قسم کا ) کھانا کھایا ہو اور نہ کبھی آپ نے پتلی روٹیاں ( چپاتیاں ) کھائیں اور نہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میز پر کھایا۔ قتادہ سے پوچھا گیا کہ پھر کس چیز پر آپ کھاتے تھے؟ کہا کہ آپ سفرہ ( عام دستر خوان ) پر کھانا کھایا کرتے تھے۔
5386
Sahih
(8) CHAPTER. Thin bread and eating at an eating table, or a dining table.
( میدہ کی باریک ) چپاتیاں کھانا اور خوان ( دبیز ) اور دسترخوان پر کھانا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِي بِصَفِيَّةَ ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ ، فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالْأَقِطُ وَالسَّمْنُ ، وَقَالَ عَمْرٌو : عَنْ أَنَسٍ ، بَنَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ .
Narrated Anas: The Prophet halted to consummate his marriage with Safiyya. I invited the Muslims to his wedding banquet. He ordered that leather dining sheets be spread. Then dates, dried yoghurt and butter were put on those sheets. Anas added: The Prophet consummated his marriage with Safiyya (during a journey) whereupon Hais (sweet dish) was served on a leather dining sheet.
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا مجھ کو حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ راستے میں قیام کیا اور میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی دعوت میں بلایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھایا گیا، پھر آپ نے اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا اور عمرو بن ابی عمرو نے کہا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ صحبت کی، پھر ایک چمڑے کے دستر خوان پر ( کھجور، گھی، پنیر ملا کر بنا ہوا ) حلوہ رکھا۔
5387
Sahih
(8) CHAPTER. Thin bread and eating at an eating table, or a dining table.
( میدہ کی باریک ) چپاتیاں کھانا اور خوان ( دبیز ) اور دسترخوان پر کھانا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ : كَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ يُعَيِّرُونَ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُونَ : يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ . فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ : يَا بُنَيَّ ، إِنَّهُمْ يُعَيِّرُونَكَ بِالنِّطَاقَيْنِ ، هَلْ تَدْرِي مَا كَانَ النِّطَاقَانِ ؟ إِنَّمَا كَانَ نِطَاقِي شَقَقْتُهُ نِصْفَيْنِ ، فَأَوْكَيْتُ قِرْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدِهِمَا وَجَعَلْتُ فِي سُفْرَتِهِ آخَرَ ، قَالَ : فَكَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ إِذَا عَيَّرُوهُ بِالنِّطَاقَيْنِ ، يَقُولُ : إِيهًا وَالْإِلَهِ تِلْكَ شَكَاةٌ ظَاهِرٌ عَنْكَ عَارُهَا .
Narrated Wahb bin Kaisan: The People of Sham taunted `Abdullah bin Az-Zubair by calling him The son of Dhatin-Nataqain (the woman who has two waist-belts). (His mother) (Asma, said to him, O my son! They taunt you with Nataqain . Do you know what the Nataqain were? That was my waist-belt which I divided in two parts. I tied the water skin of Allah's Apostle with one part, and with the other part I tied his food container.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور وہب بن کیسان نے بیان کیا کہ اہل شام ( حجاج بن یوسف کے فوجی ) شام کے لوگ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو عار دلانے کے لیے کہنے لگے ”یا ابن ذات النطاقین“ اے دو کمر بند والی کے بیٹے اور ان کی والدہ، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا، اے بیٹے! یہ تمہیں دو کمر بند والی کی عار دلاتے ہیں، تمہیں معلوم ہے وہ کمر بند کیا تھے؟ وہ میرا کمر بند تھا جس کے میں نے دو ٹکڑے کر دیئے تھے اور ایک ٹکڑے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن کا منہ باندھا تھا اور دوسرے سے دستر خوان بنایا ( اس میں توشہ لپیٹا ) ۔ وہب نے بیان کیا کہ پھر جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اہل شام دو کمر بند والی کی عار دلاتے تھے، تو وہ کہتے ہاں۔ اللہ کی قسم! یہ بیشک سچ ہے اور وہ یہ مصرعہ پڑھتے «تلك شكاة ظاهر عنك عارها‏.» یہ تو ویسا طعنہ ہے جس میں کچھ عیب نہیں ہے۔
5388
Sahih
(8) CHAPTER. Thin bread and eating at an eating table, or a dining table.
( میدہ کی باریک ) چپاتیاں کھانا اور خوان ( دبیز ) اور دسترخوان پر کھانا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا ، فَدَعَا بِهِنَّ ، فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَتَرَكَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُسْتَقْذِرِ لَهُنَّ ، وَلَوْ كُنَّ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ .
Narrated Ibn `Abbas: that his aunt, Um Hufaid bint Al-Harith bin Hazn, presented to the Prophet butter, dried yoghurt and mastigures. The Prophet invited the people to those mastigures and they were eaten on his dining sheet, but the Prophet did not eat of it, as if he disliked it. Nevertheless. if it was unlawful to eat that, the people would not have eaten it on the dining sheet of the Prophet nor would he have ordered that they be eaten.
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ام حفید بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی، پنیر اور ساہنہ ہدیہ کے طور پر بھیجی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بلایا اور انہوں نے آپ کے دستر خوان پر ساہنہ کو کھایا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند کرتے ہیں۔ لیکن اگر ساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر کھایا نہ جاتا اور نہ آپ انہیں کھانے کے لیے فرماتے۔
5389
Sahih
(9) CHAPTER. As-Sawiq.
ستو کھانے کے بیان میں ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ عَلَى رَوْحَةٍ مِنْ خَيْبَرَ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَلَمْ يَجِدْهُ إِلَّا سَوِيقًا فَلَاكَ مِنْهُ ، فَلُكْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ثُمَّ صَلَّى وَصَلَّيْنَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
Narrated Suwaid bin An-Nu`man: that while they were with the Prophet at As-Sahba' which was at a distance of one day's journey from Khaibar the prayer became due, and the Prophet asked the people for food but there was nothing with the people except Sawiq. He ate of it and we ate along with him, and then he asked for water and rinsed his mouth (with it), and then offered the (Maghrib) prayer and we too offered the prayer but the Prophet did not perform ablution (again after eating the Sawiq.).
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے بشیر بن یسار نے، انہیں سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام صہبا میں تھے۔ وہ خیبر سے ایک منزل پر ہے۔ نماز کا وقت قریب تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھانک لیا اور ہم نے بھی پھانکا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے ( اس نماز کے لیے نیا ) وضو نہیں کیا۔
5390
Sahih
(10) CHAPTER. The Prophet never used to eat anything unless it was named for him so that he might know what it was.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کھانا ( جو پہچانا نہ جاتا ) نہ کھاتے جب تک لوگ بتلانہ دیتے کہ فلانا کھانا ہے اور آپ کو جب معلوم نہ ہو جاتا نہ کھاتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدْ قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ ، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ : أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ ، هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَنِ الضَّبِّ ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي ، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ، قَالَ خَالِدٌ : فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيَّ .
Narrated Khalid bin Al-Walid: That he went with Allah's Apostle to the house of Maimuna, who was his and Ibn `Abbas' aunt. He found with her a roasted mastigure which her sister Hufaida bint Al-Harith had brought from Najd. Maimuna presented the mastigure before Allah's Apostle who rarely started eating any (unfamiliar) food before it was described and named for him. (But that time) Allah's Apostle stretched his hand towards the (meat of the) mastigure whereupon a lady from among those who were present, said, You should inform Allah's Apostle of what you have presented to him. O Allah's Apostle! It is the meat of a mastigure. (On learning that) Allah's Apostle withdrew his hand from the meat of the mastigure. Khalid bin Al-Walid said, O Allah's Apostle! Is this unlawful to eat? Allah's Apostle replied, No, but it is not found in the land of my people, so I do not like it. Khalid said, Then I pulled the mastigure (meat) towards me and ate it while Allah's Apostle was looking at me.
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن یعلیٰ نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے ابوامامہ بن سہل بن حنیف انصاری نے خبر دی، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جو سیف اللہ ( اللہ کی تلوار ) کے لقب سے مشہور ہیں، خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے۔ ام المؤمنین ان کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ہیں۔ ان کے یہاں بھنا ہوا ساہنہ موجود تھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا نجد سے لائی تھیں۔ انہوں نے وہ بھنا ہوا ساہنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ ایسا بہت کم ہوتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کھانے کے لیے اس وقت تک ہاتھ بڑھائیں جب تک آپ کو اس کے متعلق بتا نہ دیا جائے کہ یہ فلاں کھانا ہے لیکن اس دن آپ نے بھنے ہوئے ساہنے کے گوشت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اتنے میں وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا کیوں نہیں دیتیں کہ اس وقت آپ کے سامنے جو تم نے پیش کیا ہے وہ ساہنہ ہے، یا رسول اللہ! ( یہ سن کر ) آپ نے اپنا ہاتھ ساہنہ سے ہٹا لیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! کیا ساہنہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں لیکن یہ میرے ملک میں چونکہ نہیں پایا جاتا، اس لیے طبیعت پسند نہیں کرتی۔ خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھایا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ رہے تھے۔
5391
Sahih
(11) CHAPTER. The food of one person is sufficient for two persons.
ایک آدمی کا پورا کھانا دو کے لیے کافی ہو سکتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The food for two persons is sufficient for three, and the food of three persons is sufficient for four persons.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا چار کے لیے کافی ہے۔
5392
Sahih

Chapters

58
01
(1) CHAPTER. Statement of Allah: [O you who believe (In the Oneness of Allah - Islamic Monotheism)] Eat of the lawful things that We have provided you with...” (V.2:172)
کتاب کھانوں کے بیان میں
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. One should mention the Name of Allah on starting to eat, and one should eat with his right hand.
کھانے کے شروع میں بسماللہ پڑھنا اوردائیں ہاتھ سے کھانا ۔
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. To eat of the dish what is nearer to you.
برتن میں سامنے سے کھانا اور حضرت انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کھانے سے پہلے ) اللہ کا نام لیا کرو اور ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے 2
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. Eating from around the dish while taking one's meal with someone else if he knows that his companion does not dislike that.
جس نے اپنے ساتھی کے ساتھ کھاتے وقت پیالے میں چاروں طرف ہاتھ بڑھا ئے بشرطیکہ ساتھی کی طرف سے معلوم ہو کہ اسے کراہیت نہیں ہوگی
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. To eat with one's right hand, and to start with the right side in doing other things, etc.
کھانے پینے میں داہنے ہاتھ کا استعمال کرنا ۔
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. Whoever ate till he was satisfied.
پیٹ بھر کر کھانا کھانا درست ہے ۔
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. “There is no restriction on the blind… (V.24:61)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النور میں فرمانا کہ ” اندھے پر کوئی حرج نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ مریض پر کوئی حرج ۔ ۔ ۔ آخر آیت لعلکم تعقلون تک ۔
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. Thin bread and eating at an eating table, or a dining table.
( میدہ کی باریک ) چپاتیاں کھانا اور خوان ( دبیز ) اور دسترخوان پر کھانا ۔
5 Hadith
09
(9) CHAPTER. As-Sawiq.
ستو کھانے کے بیان میں ۔
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. The Prophet never used to eat anything unless it was named for him so that he might know what it was.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کھانا ( جو پہچانا نہ جاتا ) نہ کھاتے جب تک لوگ بتلانہ دیتے کہ فلانا کھانا ہے اور آپ کو جب معلوم نہ ہو جاتا نہ کھاتے تھے ۔
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The food of one person is sufficient for two persons.
ایک آدمی کا پورا کھانا دو کے لیے کافی ہو سکتا ہے ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. A believer eats in one intestine (i.e., he is satisfied with a little food).
مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ( اور کافر سات آنتوں میں ) اس باب میں ایک حدیث مرفوع حضرت ابوہریرہ رضیاللہعنہ سے مروی ہے
5 Hadith
13
(13) CHAPTER. To eat while leaning (against something).
تکیہ لگا کر کھانا کیسا ہے ؟
2 Hadith
14
(14) CHAPTER. (What is said regarding) roasted (meat).
بھنا ہوا گوشت کھانا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان پھر وہ بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے لفظ حنیذ کے معنی بھنا ہوا ہے ۔
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. Al-Khazira (a kind of dish prepared from white flour with fat).
خزیرہ کا بیان اورنضر بن شمیل نے کہا کہ خزیرہ بھو سی سے بنتا ہے اور حریرہ دودھ سے ۔
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. (What is said about) Al-Aqit (dried yoghourt).
پنیر کا بیان ۔
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. (What is said regarding) As-Salq (a kind of beet) and barley.
چقندر اور جو کھانے کا بیان ۔
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. To seize and catch flesh with the teeth (to strip the bone of its flesh) (while eating).
گوشت کے پکنے سے پہلے اسے ہانڈی سے نکال کر کھانا اور منہ سے نوچنا ۔
3 Hadith
19
(19) CHAPTER. To eat the flesh of a foreleg (by stripping the bone of its meat with the teeth).
بازو کا گوشت نوچ کر کھانا درست ہے ۔
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. To cut the meat with a knife.
گوشت چھری سے کاٹ کر کھانا ۔
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. The Prophet never criticized any food (that was offered to him).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی قسم کے کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا ہے ۔
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. To blow (powdered) barley (to remove the husk).
جوکو پیس کر منہ سے پھونک کر اس کا بھوسہ اڑادینا درست ہے ۔
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. What the Prophet and his Companions used to eat.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام رضیاللہعنہم کی خوارک کا بیان ۔
6 Hadith
24
(24) CHAPTER. At-Talbina (a kind of dish prepared from flour or bran, and sometimes honey, is added).
تلبینہ یعنی حریرہ کا بیان ۔
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. Ath-Tharid (a special dish prepared from meat and bread).
ثرید کے بیان میں ۔
3 Hadith
26
(26) CHAPTER. A roasted sheep (and the eating of a piece of meat) from the shoulder of mutton or from the ribs.
کھال سمیت بھنی ہوئی بکری اور شانہ اورپسلی کے گوشت کا بیان ۔
2 Hadith
27
(27) CHAPTER. What our predecessors used to store of food, meat, etc., in their houses and carry with them while on a journey.
سلف صالحین اپنے گھروں میں اور سفروں میں جس طرح کا کھانا میسر ہوتا اور گوشت وغیرہ محفوظ رکھ لیا کرتے تھے ۔
2 Hadith
28
(28) CHAPTER. Al-Hais (special dish prepared from dried yoghourt, butter and dates).
حیس کا بیان
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. Eating in a dish decorated with silver.
چاندی کے برتن میں کھانا کیسا ہے ؟
1 Hadith
30
(30) CHAPTER. The mention of food.
کھانے کا بیان ۔
3 Hadith
31
(31) CHAPTER. Al-Udm (additional food taken with bread).
سالن کا بیان ۔
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. Sweet edible things and honey.
میٹھی چیز اور شہد کا بیان ۔
2 Hadith
33
(33) CHAPTER. Ad-Dubba (gourd).
کدو کا بیان
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. A man may take the trouble to prepare a meal for (Muslim) brethren.
اپنے دوستوں اور مسلمان بھائیوں کی دعوت کے لیے کھانا تکلف سے تیار کرائے ۔
1 Hadith
35
(35) CHAPTER. Whoever invited a man to a meal and then went to carry on his job.
صاحب خانہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ مہمان کے ساتھ آپ بھی وہ کھائے ۔
1 Hadith
36
(36) CHAPTER. Soup.
شوربہ کا بیان ۔
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Cured meat.
خشک کئے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کا بیان ۔
2 Hadith
38
(38) CHAPTER. Whoever handed over or presented something to the companion across the dining table.
جس نے ایک ہی دسترخوان پرکوئی چیزاٹھا کر اپنے دوسرے ساتھی کو دی یا اس کے سامنے رکھی ۔
1 Hadith
39
(39) CHAPTER. The eating of snake cucumber with fresh dates.
تازہ کھجور اور ککڑی ایک ساتھ کھانا ۔
1 Hadith
40
(40) CHAPTER.
ردی کھجور ( بوقت ضرورت راشن تقسیم کرنے ) کے بیان میں ۔
1 Hadith
41
(41) CHAPTER. Fresh dates and dry dates.
تازہ کھجور اورخشک کھجور کے بیان میں ۔
2 Hadith
42
(42) CHAPTER. The eating of a spadix of the palm tree.
کھجور کے درخت کا گوند کھانا جائز ہے ۔
1 Hadith
43
(43) CHAPTER. At-Ajwa (a special kind of date).
عجوہ کھجور کا بیان ۔
1 Hadith
44
(44) CHAPTER. To eat two dates at a time.
دو کھجور وں کو ایک ساتھ ملا کر کھانا ۔
1 Hadith
45
(45) CHAPTER. The snake cucumber.
ککڑی کھانے کا بیان ۔
1 Hadith
46
(46) CHAPTER. The goodness of the date-palm tree.
کھجور کے درخت کی برکت کا بیان ۔
1 Hadith
47
(47) CHAPTER. The taking of two kinds of fruit or two kinds of food at a time.
ایک وقت میں دو طرح کے ( پھل ) یا دو قسم کے کھانے جمع کر کے کھانا ۔
1 Hadith
48
(48) CHAPTER. Whoever admitted the guests in batches of ten persons (by turns).
دس دس مہمانوں کوایک ایک بار بلاکرکھانے پر بٹھانا ۔
1 Hadith
49
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
2 Hadith
50
(50) CHAPTER. Al-Kabath, i.e., the leaves of Al-Arak.
کباث کا بیان اور وہ پیلو کے درخت کا پھل ہے ۔
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. To rinse the mouth after taking meals.
کھانا کھانے کے بعد کلی کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
52
(52) CHAPTER. To lick and suck the fingers before cleaning them with a handkerchief.
رو مال سے صاف کرنے سے پہلے انگلیوں کو چاٹنا ۔
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. The handkerchief.
رو مال کا بیان ۔
1 Hadith
54
(54) CHAPTER. What one should say after finishing one's meal.
کھانا کھانے کے بعد کیا دعاپڑھنی چاہیئے ؟
2 Hadith
55
(55) CHAPTER. To eat with one's servant.
خادم کو بھی ساتھ میں کھانا کھلانا مناسب ہے ۔
1 Hadith
56
(57) CHAPTER. A man is invited to a meal, whereupon he says, “May this (person) come with me too?”
کسی شخص کی کھانے کی دعوت ہو ۔
1 Hadith
57
(58) CHAPTER. If super or dinner is served then one should not hurry to finish it [when the time for Salat (prayer) is due].
شام کا کھانا حاضر ہو تو نماز کے لیے جلدی نہ کرے ۔
4 Hadith
58
(59) CHAPTER. The Statement of Allah: “And when you have taken your meal disperse. (V.33:53)
اللہ تعالیٰ کاارشاد پھر جب تم کھانا کھا چکو تو دعوت والے کے گھر سے اٹھ کر چلے جاؤ ۔
1 Hadith
No chapter matched that.