TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5496 صحیح بخاری

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
(14) CHAPTER. The utensils of Magians and (the eating of) dead flesh.
مجوسیوں کا برتن استعمال کرنا اور مردار کا کھانا کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ ، وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي ، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ فَلَا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا بُدًّا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْهُ .
Narrated Abu Tha`laba Al-Khushani: I came to the Prophet and said, O Allah's Apostle! We are living in the land of the people of the Scripture, and we take our meals in their utensils, and there is game in that land and I hunt with my bow and with my trained hound and with my untrained hound. The Prophet said, As for your saying that you are in the land of people of the Scripture, you should not eat in their utensils unless you find no alternative, in which case you must wash the utensils and then eat in them As for your saying that you are in the land of game, if you hunt something with your bow, mention Allah's Name (while hunting the game) and eat; and if you hunt something with your trained hound, mention Allah's Name on sending and eat; and if you hunt something with your untrained hound and get it alive, slaughter it and you can eat of it.
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ربیعہ بن یزید دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں اور میں اپنے تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور سدھائے ہوئے کتے سے اور بےسدھائے کتے سے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو تو ان کے برتنوں میں نہ کھایا کرو۔ البتہ اگر ضرورت ہو اور کھانا ہی پڑ جائے تو انہیں خوب دھو لیا کرو اور جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو تو جو شکار تم اپنے تیر کمان سے کرو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو وہ بھی کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بلا سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو اسے کھاؤ۔
5496
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

395
1
(29) CHAPTER. Eating in a dish decorated with silver.
چاندی کے برتن میں کھانا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
2
Chapter: What Has Been Related About The Skins Of Dead Animals When They Are Tanned
باب: دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال کے استعمال کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Eating From Utensils Of The Disbelievers
باب: کفار و مشرکین کے برتنوں میں کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
5
(27) CHAPTER. To drink in gold utensils.
سونے کے برتن میں کھانا اور پینا حرام ہے
Sahih Bukhari
6
(56) CHAPTER. The taking of poison and treating with it,or with what may be dangerous, or with an impure or polluted thing (medicine, etc.).
زہر پینا یا زہریلی اور خوفناک دوا یا ناپاک دوا کا استعمال کرنا
Sahih Bukhari
7
CHAPTER: Mixing One’s Food With The Food Of An Orphan.
باب: یتیم کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شریک کرنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: Regarding eating while reclining.
باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: Regarding eating the fish that die in the sea and float.
باب: مر کر پانی کے اوپر آ جانے والی مچھلی کا کھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
10
CHAPTER: Regarding using the vessel of the people of the book.
باب: اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے برتنوں میں کھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
11
CHAPTER: Whoever Reported That Skins Of Dead Animals Cannot Be Used.
باب: مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Eating Or Drinking Forgetfully
باب: روزہ دار بھول کر کچھ کھا پی لے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Selling Skins Of Dead Animals And Idols
باب: مردار کی کھالوں اور بتوں کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Oath Along With A Witness
باب: ایک گواہ کے ساتھ مدعی قسم کھانا دعویٰ کو ثابت کرنا ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About: Whatever Is Cut From Something Living, Then It Is Dead Flesh
باب: زندہ جانور سے کاٹا ہوا گوشت مردار کے حکم میں ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Using The Containers Of The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے برتن استعمال کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Tasmiyah For Eating
باب: کھانا پر ”بسم اللہ“ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What One Says When Eating Food
باب: کھانا کھا کر کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
19
اس چیز کا بیان کہ مردار کے چمڑوں کو کھانا حرام ہے، اگرچہ ان کو رنگ کر پاک کر لیا جائے
Musnad Ahmad
20
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
21
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
22
زندہ جانور سے علیحدہ کئے ہوئے حصے کے مردار ہو نے اور ان ذبیحوں کا بیان، جن کو کھانا جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
23
(4) CHAPTER. Concerning variety of words used by the narrators conveying different significations regarding the concept of narrating and which has importance for the Hadith scholars only.
محدث کا لفظ حدثنا واخبرنا وانبانا استعمال کرنا صحیح ہے
Sahih Bukhari
24
(33) CHAPTER. What is said regarding the water with which human hair has been washed.
جس پانی سے آدمی کے بال دھوئے جائیں اس پانی کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
25
(40) CHAPTER. The using of the remaining water after ablution.
لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا
Sahih Bukhari
26
(43) CHAPTER. The performance of ablution by a man along with his wife. The utilization of water remaining after a woman has performed ablution.
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ وضو کرنا اور عورت کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
27
(50) CHAPTER. Not repeating ablution after eating mutton and As-Sawiq.
بکری کا گوشت اور ستو کھا کر نیا وضو نہ کرنا ثابت ہے
Sahih Bukhari
28
(69) CHAPTER. If a dead body or a polluted thing is put on the back of a person offering Salat (prayer), his Salat will not be annulled (rejected by Allah).
جب نمازی کی پشت پر ( اچانک ) کوئی نجاست یا مردار ڈال دیا جائے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی
Sahih Bukhari
29
(42) CHAPTER. (What should one do) if the meal has been served and Iqama has been pronounced for As-Salat (the prayer).
جب کھانا حاضر ہو اور نماز کی تکبیر ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے ؟
Sahih Bukhari
30
(5) CHAPTER. Eating on the Day of Nahr (10th of Dhul-Hijjah).
بقرہ عید کے دن کھانا
Sahih Bukhari
31
(13) CHAPTER. To Sprinkle camphor on the dead body as the last thing (before shrouding).
میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے
Sahih Bukhari
32
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
Sahih Bukhari
33
(98) CHAPTER. Talking about the wicked among the dead.
برے مردوں کی برائی بیان کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
34
(22) CHAPTER. To perform Hajj on behalf of a dead person and to fulfil his vows. A man can perform Hajj on behalf of a woman.
میت کی طرف سے حج اور نذر ادا کرنا اور مرد کسی عورت کے بدلہ میں حج کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
35
(94) CHAPTER. The sale and eating of spadix (edible pith growing at the upper part of the trunk of a palm tree).
کھجور کا گابھا بیچنا یا کھانا ( جو سفید سفید اندر سے نکلتا ہے )
Sahih Bukhari
36
(101) CHAPTER. The hides of dead animals before tanning.
دباغت سے پہلے مردار کی کھال ( کا بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟ )
Sahih Bukhari
37
(103) CHAPTER. The fat of the dead animal should not be melted, nor should it be sold.
مردار کی چربی گلانا اور اس کا بیچنا جائز نہیں
Sahih Bukhari
38
(112) CHAPTER. The sale of dead animals and idols.
مردار اور بتوں کا بیچنا
Sahih Bukhari
39
(92) CHAPTER. What is said about the knife.
چھری کا استعمال کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
40
(70) CHAPTER. Whoeever gave a bigger Walima (wedding banquet) on marrying some wives than on marrying the other wives of his.
کسی بیوی کے ولیمہ میں کھانا زیادہ تیار کرنا کسی کے ولیمہ میں کم ، جائز درست ہے ۔
Sahih Bukhari
41
(48) CHAPTER. Qust (incense) may be used by a mourning lady after being cleaned from her menses.
زمانہ عدت میں حیض سے پاکی کے وقت عود کا استعمال کرنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
42
(3) CHAPTER. To eat of the dish what is nearer to you.
برتن میں سامنے سے کھانا اور حضرت انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کھانے سے پہلے ) اللہ کا نام لیا کرو اور ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے 2
Sahih Bukhari
43
(5) CHAPTER. To eat with one's right hand, and to start with the right side in doing other things, etc.
کھانے پینے میں داہنے ہاتھ کا استعمال کرنا ۔
Sahih Bukhari
44
(8) CHAPTER. Thin bread and eating at an eating table, or a dining table.
( میدہ کی باریک ) چپاتیاں کھانا اور خوان ( دبیز ) اور دسترخوان پر کھانا ۔
Sahih Bukhari
45
(13) CHAPTER. To eat while leaning (against something).
تکیہ لگا کر کھانا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
46
(18) CHAPTER. To seize and catch flesh with the teeth (to strip the bone of its flesh) (while eating).
گوشت کے پکنے سے پہلے اسے ہانڈی سے نکال کر کھانا اور منہ سے نوچنا ۔
Sahih Bukhari
47
(39) CHAPTER. The eating of snake cucumber with fresh dates.
تازہ کھجور اور ککڑی ایک ساتھ کھانا ۔
Sahih Bukhari
48
(42) CHAPTER. The eating of a spadix of the palm tree.
کھجور کے درخت کا گوند کھانا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
49
(1) CHAPTER. The mentioning of Allah's Name while hunting.
شکار پر بسماللہ پڑھنا اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا کہ تم پر مردار کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔
Sahih Bukhari
50
(13) CHAPTER. The eating of locusts.
ٹڈی کھانا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

57
Sahih Bukhari
5478
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أَفَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ ؟ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ ، وَبِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ فَمَا يَصْلُحُ لِي ؟ قَالَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا ، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ، وَكُلُوا فِيهَا وَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ غَيْرِ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ .
Narrated Abu Tha`laba Al-Khushani: I said, O Allah's Prophet! We are living in a land ruled by the people of the Scripture; Can we take our meals in their utensils? In that land there is plenty of game and I hunt the game with my bow and with my hound that is not trained and with my trained hound. Then what is lawful for me to eat? He said, As for what you have mentioned about the people of the Scripture, if you can get utensils other than theirs, do not eat out of theirs, but if you cannot get other than theirs, wash their utensils and eat out of it. If you hunt an animal with your bow after mentioning Allah's Name, eat of it. and if you hunt something with your trained hound after mentioning Allah's Name, eat of it, and if you hunt something with your untrained hound (and get it before it dies) and slaughter it, eat of it.
ہم سے عبداللہ بن یزید مقبری نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ربیعہ بن یزید دمشقی نے خبر دی، انہیں ابوادریس عائذ اللہ خولانی نے، انہیں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم اہل کتاب کے گاؤں میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتن میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہوتا ہے۔ میں تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا نہیں ہے اور اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا ہے تو اس میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا ہے تو اگر تمہیں اس کے سوا کوئی اور برتن مل سکے تو اس میں نہ کھاؤ لیکن تمہیں کوئی دوسرا برتن نہ ملے تو ان کے برتن کو خوب دھو کر اس میں کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنی تیر کمان سے کرو اور ( تیر پھینکتے وقت ) اللہ کا نام لیا ہو تو ( اس کا شکار ) کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور شکار خود ذبح کیا ہو تو اسے کھا سکتے ہو۔
Jam e Tirmazi
1464
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ،‏‏‏‏ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ. ح وَالْحَجَّاجُ،‏‏‏‏ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ،‏‏‏‏ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلَ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّا أَهْلُ رَمْيٍ قَالَ:‏‏‏‏ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ فَكُلْ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ،‏‏‏‏ وَالنَّصَارَى،‏‏‏‏ وَالْمَجُوسِ،‏‏‏‏ فَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا،‏‏‏‏ فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ،‏‏‏‏ ثُمَّ كُلُوا فِيهَا،‏‏‏‏ وَاشْرَبُوا ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَعَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ:‏‏‏‏ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ،‏‏‏‏ وَاسْمُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ:‏‏‏‏ جُرْثُومٌ،‏‏‏‏ وَيُقَالُ:‏‏‏‏ جُرْثُمُ بْنُ نَاشِبٍ،‏‏‏‏ وَيُقَالُ:‏‏‏‏ ابْنُ قَيْسٍ.
Narrated Abu Tha'labah Al-Khushani: I said: 'O Messenger of Allah! We are a people who hunt.' He said: 'If you send your dog and you mentioned the Name of Allah upon it, and he catches something for you, then eat it.' I said: 'Even if he kills it?' He said: 'Even if he kills it.' I said: 'We are a people who shoot (at game).' He said: 'What you catch with your bow, then eat it.' He said: Then I said:'Indeed we are a people who travel. We come across Jews, Christians, and Zoroastrians, and we do not find vessels other than theirs.' He said: 'If you do not find other than them, then wash them with water, then eat and drink from it.'
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں؟ ( شکار کے احکام بتائیے؟ ) آپ نے فرمایا: ”جب تم ( شکار کے لیے ) اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھ لو پھر وہ تمہارے لیے شکار کو روک رکھے تو اسے کھاؤ؟ میں نے کہا: اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالے، آپ نے فرمایا: ”اگرچہ مار ڈالے، میں نے عرض کیا: ہم لوگ تیر انداز ہیں ( تو اس کے بارے میں فرمائیے؟ ) آپ نے فرمایا: ”تمہارا تیر جو شکار کرے اسے کھاؤ“، میں نے عرض کیا: ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں، یہود و نصاریٰ اور مجوس کی بستیوں سے گزرتے ہیں اور ان کے برتنوں کے علاوہ ہمارے پاس کوئی برتن نہیں ہوتا ( تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیں؟ ) آپ نے فرمایا: ”اگر تم اس کے علاوہ کوئی برتن نہ پاس کو تو اسے پانی سے دھو لو پھر اس میں کھاؤ پیو“ ۱؎۔ اس باب میں عدی بن حاتم سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوثعلبہ خشنی کا نام جرثوم ہے، انہیں جرثم بن ناشب اور جرثم بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔
Mishkat
4066
وَعَن أبي ثَعْلَبَة الْخُشَنِي قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قوم أهل كتاب أَفَنَأْكَلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَبِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ فَمَا يصلح؟ قَالَ: «أما ذَكَرْتَ مِنْ آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فاغسلوها وَكُلُوا فِيهَا وَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ غَيْرِ معلم فأدركت ذَكَاته فَكل»
ابوثعلبہ خشنی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! ہم اہل کتاب کی سرزمین پر رہائش پذیر ہیں ، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیا کریں ، اور اسی سرزمین پر میں اپنی کمان اور اپنے غیر سدھائے ہوئے اور سدھائے ہوئے کتے کے ذریعے شکار کرتا ہوں ، تو میرے لیے کیا درست ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے جو اہل کتاب کے برتنوں کا ذکر کیا ہے تو اگر تمہیں ان کے علاوہ برتن میسر آ جائیں تو پھر ان میں مت کھاؤ ، اور اگر میسر نہ آئیں تو پھر انہیں دھو کر ان میں کھا لو ۔ اور تم نے اپنی کمان سے جو شکار کیا ہے اگر تم نے اس پر اللہ کا نام ذکر کیا ہے تو کھا لو ، اور تم نے جو اپنے سدھائے ہوئے کتے کے ساتھ شکار کیا ہے اور اللہ کا نام ذکر کیا ہے تو کھا لو اور تم نے اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے سے جو شکار کیا ہے اگر اسے ذبح کر لو تو کھا لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
5488
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ ، وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي ، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَالَّذِي لَيْسَ مُعَلَّمًا ، فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ مُعَلَّمًا فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ .
Narrated Abu Tha`laba Al-Khushani: I came to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! We are living in the land of the people of the Scripture and we take our meals in their utensils, and in the land there is game and I hunt with my bow and trained or untrained hounds; please tell me what is lawful for us of that. He said, As for your saying that you are living in the land of the people of the Scripture and that you eat in their utensils, if you can get utensils other than theirs, do not eat in their utensils, but if you do not find (other than theirs), then wash their utensils and eat in them. As for your saying that you are in the land of game, if you hung something with your bow, and have mentioned Allah's Name while hunting, then you can eat (the game). And if you hunt something with your trained hound, and have mentioned Allah's Name on sending it for hunting then you can eat (the game). But if you hunt something with your untrained hound and you were able to slaughter it before its death, you can eat of it.
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے حیوہ بن شریح نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا، مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، ان سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا کہ میں نے ربیعہ بن یزید دمشقی سے سنا، کہا کہ مجھے ابوادریس عائذ اللہ نے خبر دی، کہا کہ میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتن میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں، جہاں میں اپنے تیر سے شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے سے۔ تو اس میں سے کیا چیز ہمارے لیے جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو اور ان کے برتن میں بھی کھاتے ہو تو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے سوا دوسرے برتن مل جائیں تو ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ لیکن ان کے برتنوں کے سوا دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو کر پھر ان میں کھاؤ اور تم نے شکار کی سر زمین کا ذکر کیا ہے تو جو شکار تم اپنے تیر سے مارو اور تیر چلاتے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بلا سدھائے کتے سے کیا ہو اور اسے ذبح بھی خود ہی کیا ہو تو اسے بھی کھاؤ۔
Sahih Muslim
4983
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، أَوْ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ، فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ، فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، ثُمَّ كُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، ثُمَّ كُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ، فَكُلْ
Abu Tha'laba al-Khushani reported: I came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, we are in the land of the People of the Book, (so) we eat in their utensils, and (live) in a hunting region. where I hunt with, the help of my bow, and hunt with my trained dog, or with my dog which is not trained. So inform me what is lawful (Halal) for us out of that. He (the Holy Prophet) said: Regarding what you have mentioned of the fact that you live in the land belonging to the People of the Book and so you eat in their utensils, but if you can get utensils other than theirs, then don't eat in them; but if you do not find any, then wash them and eat in them. And regarding what you have mentioned about (your living) in a hunting region, what you hunt, (strike) with the help of your bow, recite the name of Allah (while shooting an arrow) and then eat; and what you catch with the help of your trained dog, recite the name of Allah (while letting oil) the dog and then eat it, and what you get with the help of your untrained dog, (if you find it alive) and slaughter it (according to the law of the Shari'ah), eat it.
ابن مبارک نے حیوہ بن شریح سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ربیعہ بن یزید دمشقی کو کہتے ہوئے سنا : مجھے ابو ادریس عائذ اللہ نے خبر دی ، کہا : میں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب ( یعنی یہود یا نصاریٰ ) کے ملک میں رہتے ہیں ، ان کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں اور ہمارا ملک شکار کا ملک ہے ، تو میں اپنی کمان سے ، سکھائے ہوئے کتے اور اس کتے سے شکار کرتا ہوں جو سکھایا نہیں گیا ، تو مجھ سے وہ طریقہ بیان کیجئے جو کہ حلال ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے جو کہا کہ اہل کتاب کے ملک میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں تو اگر تم کو اور برتن مل سکیں ، تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ اور اگر اور برتن نہ ملیں تو ان کو دھو لو اور پھر ان میں کھاؤ ۔ اور جو تو نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو پس جس کو تیر پہنچے اور تو اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے ، تو اسے کھا لے اور اگر تو اپنے شکاری کتے سے شکار کرے اور اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو کھا لے اور اگر ایسے کتے کا شکار ہو جو شکاری نہ ہو اور تو اسے زندہ پالے تو ذبح کر کے کھا لے ۔
Sunnan Ibn e Maja
3207
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَصِيدُ بِكَلْبِي، ‏‏‏‏‏‏الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ فِي أَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا، ‏‏‏‏‏‏فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ الصَّيْدِ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ .
It was narrated that Abu Tha’labah Al-Khushani said: “I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, we live in a land of the People of the Book and we eat from their vessels. And we live in a land (where there is) game, so I hunt with my bow and with my trained dog and with my untrained dog.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘As for what you say about living in a land of the People of the Book, do not eat from their vessels unless you can find no alternative. If you can fidn no alternative then wash them and eat from them. With regard to what you say about hunting, whatever you catch with your bow, say the Name of Allah over it and eat. Whatever you catch with your trained dog, say the Name of Allah over it and eat. But whatever you catch with your untrained dog, then catch it, slaughter it, then eat.’”
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب ( یہود و نصاری ) کے ملک میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہے، میں اپنی کمان اور سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، اور ان کتوں سے بھی جو سدھائے ہوئے نہیں ہوتے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہی یہ بات جو تم نے ذکر کی کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، اِلا یہ کہ کوئی چارہ نہ ہو، اگر اس کے علاوہ تم کوئی چارہ نہ پاؤ تو پھر انہیں دھو ڈالو، اور ان میں کھاؤ، رہا شکار کا معاملہ جو تم نے ذکر کیا تو جو شکار تم اپنے کمان سے کرو اس پر اللہ کا نام لے کر شکار کرو اور کھاؤ، اور جو شکار سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو کتا چھوڑتے وقت اللہ کا نام لو اور کھاؤ، اور جو شکار ایسے کتے کے ذریعہ کیا گیا ہو جو سدھایا ہوا نہ ہو تو اگر تم اسے ذبح کر سکو تو کھاؤ ( ورنہ نہیں ) ۱؎۔
Mishkat
4086
وَعَن أبي ثَعْلَبَة الْخُشَنِي قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَهْلُ سفر تمر الْيَهُود وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ فَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ ثُمَّ كلوا فِيهَا وَاشْرَبُوا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابو ثعلبہ خشنی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم مسافر لوگ ہیں ، ہم یہود و نصاریٰ اور مجوسیوں کے پاس سے گزرتے ہیں ، ہمیں ان کے برتن ہی دستیاب ہوتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم ان کے علاوہ نہ پاؤ تو انہیں پانی کے ساتھ دھو لو پھر ان میں کھاؤ پیو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Sunnan Abu Dawood
2856
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَايُونُسُ بْنُ سَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ وَكَلْبُكَ زَادَ عَنْ ابْنِ حَرْبٍ الْمُعَلَّمُ وَيَدُكَ فَكُلْ ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِيٍّ .
Narrated Abu Thalabah al-Khushani: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said to me: Abu Thalabah, eat what returns to you by your bow and your dog. Ibn Harb's version adds: The trained (dog), and your hand, then eat, whether it has been slaughtered or not slaughtered .
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عرض کیا: ابوثعلبہ! جس جانور کو تم اپنے تیر و کمان سے یا اپنے کتے سے مارو اسے کھاؤ ۔ ابن حرب کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ: وہ کتا سدھایا ہوا ( شکاری ) ہو، اور اپنے ہاتھ سے ( یعنی تیر سے ) شکار کیا ہوا جانور ہو تو کھاؤ خواہ اس کو ذبح کر سکو یا نہ کر سکو ۔
Jam e Tirmazi
670
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا الطَّعَامُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا . وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
Abu Umamah Al-Bahili said: During a sermon of his in the year of the Farewell Hajj, I heard the Messenger of Allah say: 'A woman is not to spend anything from her husbands house without her husband's permission.' They said: 'O Messenger of Allah! What about food?' He said: 'That is our most virtuous wealth.'
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: ”عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، اسماء بنت ابی بکر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔