TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان

Chapter 4 of حیض، استحاضہ اور نفاس کے خونوں کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 13 · 15 Hadith
۔ (۹۳۷)۔عَنْ مَیْمُوْنَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُبَاشِرُ نِسَائَ ہُ فَوْقَ الْاِزَارِ وَہُنَّ حُیَّضٌ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۹۱)
سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنی بیویوں کے ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کر لیتے تھے، جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھیں۔
Takhreej
(۹۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴، وعلقہ البخاری عقب الروایۃ: ۳۰۳(انظر: ۲۶۸۵۴)
Explanation
فوائد:… اس حصے کو استعمال کرنے سے مراد بوس و کنار اور چھونا وغیرہ ہے، شادی شدہ لوگ سمجھتے ہیں۔
937
Sahih
۔ (۹۳۸)۔عَنْ عَائِشَۃَؓعَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۴۷)
سیدہ عائشہ ؓ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۲، ومسلم: ۲۹۳ (انظر: ۲۴۰۴۶)
938
Sahih
۔ (۹۳۹)۔عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُ اِحْدَانَا اِذَا حَاضَتْ تَأْتَزِرُ ثُمَّ یُبَاشِرُہَا۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۳۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کو حکم دیتے کہ وہ ازار باندھ لے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے جسم ساتھ جسم ملاتے۔
Takhreej
(۹۳۹) تخریج: انظر الحدیث السابق
939
Sahih
۔ (۹۴۰)۔عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُبَاشِرُنِی وَأَنَا حَائِضٌ وَیَدْخُلُ مَعِیَ فِی لِحَافِیْ وَأَنَا حَائِضٌ وَلٰکِنْ کَانَ أَمْلَکَکُمْ لِاِرْبِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۳۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میرے جسم کے ساتھ جسم ملاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور آپ میرے لحاف میں میرے ساتھ داخل ہو جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنی شرمگاہ پر زیادہ کنٹرول کرنے والے تھے۔
Takhreej
(۹۴۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۵۱، ۱۸۹ (انظر: ۲۴۸۲۴)
940
Sahih
۔ (۹۴۱)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ یَأْمُرُنِیْ فَأَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ یُبَاشِرُنِیْ، وَکُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَہُ وَہُوَ مُعْتَکِفٌ وَأَنَا حَائِضٌ۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۸۴)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھے حکم دیتے کہ میں ازار باندھ لوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ میرے ساتھ لیٹ جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سر کی کنگھی کرتی تھی، جبکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔
Takhreej
(۹۴۱) تخریج: انظر الحدیث رقم: (۹۳۸)
941
Sahih
۔ (۹۴۲)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَنَامُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فِرَاشٍ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَیَّ ثَوْبٌ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۹۳)
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بچھونے پر سوتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، لیکن مجھ پر کپڑا ہوتا تھا۔
Takhreej
(۹۴۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۷۵۵۲ (انظر: ۲۴۴۸۸)
942
Sahih
۔ (۹۴۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَشَّحُنِیْ وَیَنَالُ مِنْ رَأْسِیْ وَأَنَا حَائِضٌ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۵۸)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھ سے معانقہ کرتے تھے اور میرے سر پر بوسہ وغیرہ دیتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
Takhreej
(۹۴۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۵۱۷، والدارمی: ۱۰۵۲، وابویعلی: ۴۴۸۷، والبیھقی: ۱/ ۳۱۲ (انظر: ۲۵۵۴۲)
943
Sahih
۔ (۹۴۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُجَاوِرُ فِی الْمَسْجِدِ فَیُصْغِیْ اِلَیَّ رَأْسَہُ فَأُرَجِّلُہُ وَأَنَا حَائِضٌ۔ (مسند أحمد: ۲۴۷۴۲)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے اور اپنے سر مبارک کو میری طرف جھکاتے تھے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی کنگھی کرتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
Takhreej
(۹۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۲۸(انظر: ۲۴۲۳۸)
944
Sahih
۔ (۹۴۵)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الرَّجُلِ یُبَاشِرُ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ، قَالَ: ((لَہُ مَا فَوْقَ الْاِزَارِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۹۴۰)
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ ازار سے اوپر والا حصہ استعمال کر سکتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا یہ ارشاد اس شخص کے بارے میں ہے، جو حائضہ بیوی کے جسم ساتھ جسم ملا ہے۔
Takhreej
(۹۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۲۸(انظر: ۲۴۲۳۸)
945
Zaeef
۔ (۹۴۶)۔عَنْ مَیْمُونَۃَ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُبَاشِرُ الْمَرْأَۃَ مِنْ نِسَائِہِ وَہِیَ حَائِضٌ، اِذَا کَانَ عَلَیْہَا اِزَارٌ یَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَیْنِ أَوِ الرُّکْبَتَیْنِ مُحْتَجِزَۃً بِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۸۷)
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنی بیویوں میں سے حائضہ کے جسم کے ساتھ جسم ملا لیا کرتے تھے، جبکہ اس پر (کم از کم) ایسا ازار ہوتا جو نصف رانوں تک یا گھٹنوں تک پہنچ جاتا تھا، وہ اس سے (مخصوص جگہ کو) محفوظ کر لیتی تھیں۔
Takhreej
(۹۴۶) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: یبلغ انصاف الفخذین او الرکبتین أخرجہ مسلم: ۲۹۵ بلفظ: عن میمونۃ، قالت: کان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یضطجع معی وانا حائض، وبینی وبینہ ثوب۔ (انظر: ۲۶۸۵۰)
Explanation
فوائد:… قرآن مجید میں ہے: {وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضُِّ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ} (البقرۃ: ۲۲۲) اور وہ تجھ سے حیض کے بارے پوچھے ہیں۔ کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے۔ پس حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ اس آیت کو سامنے رکھ کر کچھ لوگ اس باب کے تحت آنے والی احادیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں آ رہا ہے کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو۔ جب کہ احادیث باب سے عورتوں کے ساتھ میل جول اور ان کے ساتھ مباشرت (ساتھ لیٹنا، جسم کے ساتھ جسم ملانا) ثابت ہو رہا ہے جو کہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اس لیے اس احادیث جو قرآن کے خلاف ہوں ان کو ایسے صحیح کہا جا سکتا ہے۔ حالانکہ باب کے تحت آنے والے احادیث سے آیت کا مفہوم واضح ہو رہا ہے کہ حائض سے میل ملاقات اور اس کے ساتھ لیٹ جانا منع نہیں بلکہ اس کے قریب نہ جانے سے مراد جماع نہ کرنا ہے۔ اور اس کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جو انسؓ سے مروی ہے کہ یہود میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ گھر میں اس کے ساتھ اکٹھے رہتے۔ صحابہ کرام نے اس بارے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس بارے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضُِّ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ} (اس کا ترجمہ شروع ذکر کیا گیا ہے) تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جماع کے علاوہ سب کچھ کرو۔ (مسلم: ۳۰۲) معلوم ہونا مذکورہ الصدر آیت اور احادیث باب کے درمیان کوئی تعارض نہیں بلکہ یہ احادیث کے اندر کیڑے تلاش کرنے والوں کی ذہنی اختراع ہے اور بس۔ (عبداللہ رفیق)
946
Sahih
۔ (۹۴۷)۔ عَنِ ابْنِ قُرَیْظَۃَ الصَّدَفِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَؓ: أَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُضَاجِعُکِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، اِذَا شَدَدتُّ عَلَیَّ اِزَارِیْ وَلَمْ یَکُنْ لَنَا اِذْ ذَاکَ اِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ، فَلَمَّا رَزَقَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِرَاشًا آخَرَ اِعْتَزَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۱۳)
ابن قریظہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا: جب آپ حائضہ ہوتی تھیں تو کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آپ کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب میں ازار کو اپنے اوپر کس لیتی تھی اور اس وقت سرے سے ہمارا بچھونا ہی ایک تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور بچھونا دے دیاتھا تو میں اس حالت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے الگ ہو جاتی تھی۔
Takhreej
(۹۴۷) اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن قریظہ الصدفی، وقد اختلف فیہ علی یزید بن ابی حبیب (انظر: ۲۴۶۰۶)
947
Zaeef
۔ (۹۴۸)۔عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عُمَیْرٍ التَّیْمِیِّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِیْ وَخَالَتِیْ اِلٰی عَائِشَۃَؓفَسَأَلْتُہَا: کَیْفَ کَانَتْ اِحْدَاکُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا عَرَکَتْ؟ فَقَالَتْ: کَانَ اِذَا کَانَ ذَالِکَ مِن احْدَانَا، اِئْتَزَرَتْ بِالْاِزَارِ الْوَاسِعِ ثُمَّ اِلْتَزَمَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدَیْہَا وَنَحْرِہَا۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۳۶)
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں: میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا اور میں نے سوال کیا: جب تم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تھی تو وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے کیا کرتی تھی؟ انھوں نے کہا: جب ہم میں سے کوئی اس حالت میں ہوتی تھی تو وہ کھلا سا ازار باندھ لیتی تھی اور اپنے ہاتھوں اور سینے کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو چمٹ جاتی تھی۔
Takhreej
(۹۴۸)تخریج:اسنادہ ضعیف جدا شبہ موضوع، صدقۃ بن سعید الحنفی، تکلموا علیہ، حتی قال ابن حبان: کان رافضیا یضع الحدیث۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۸۹(انظر: ۲۴۹۲۳)
948
Zaeef
۔ (۹۴۹)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ثَوْبِہِ، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ: ((أَنَفِسْتِ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَجَدْتُّ مَا تَجِدُ النِّسَائُ، قَالَ: ((ذَاکِ مَا کُتِبَ عَلٰی بَنَاتِ آدَمَ۔)) قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِیْ فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ ثُمَّ جِئْتُ مَعَہُ فِی لِحَافِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۶۰)
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں میں اس وقت حائضہ ہو گئی، جب میں اوررَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک کپڑے میں تھے، پس میں کھسک گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں اسی چیز میں مبتلا ہو گئی ہوں، جس میں خواتین ہو جاتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ چیز تو پھر بناتِ آدم پر لکھ دی گئی ہے۔ بہرحال میں چلی گئی اور اپنی حالت کو سنوار کر ایک کپڑے سے لنگوٹ کس لیا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ لحاف میں آ کر لیٹ گئی۔
Takhreej
(۹۴۹)تخریج:أخرجہ البخاری: ۳۲۲، ومسلم: ۲۹۶ (انظر: ۲۶۵۲۵)
949
Sahih
۔ (۹۵۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: حِضْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فِرَاشِہِ فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ لِیْ: ((أَحِضْتِ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَشُدِّیْ عَلَیْکِ اِزَارَکِ ثُمَّ عُوْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۰۳۰)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بستر پر تھی کہ میں حائضہ ہو گئی، اس لیے میں وہاں سے کھسک گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ سے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنا ازار اپنے اوپر کس لے اور پھر واپس آ جا۔
Takhreej
(۹۵۰) حدیث حسن لغیرہ۔ أخرجہ مالک: ۱/ ۵۸، والطبرانی فی الاوسط : ۵۴۹، والبیھقی: ۱/ ۳۱۱ (انظر: ۲۵۵۱۴)
950
Sahih
۔ (۹۵۱)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ بُدَیَّۃَ قَالَتْ: أَرْسَلَتْنِیْ مَیْمُوْنَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اِلَی امْرَأَۃِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍؓ وَکَانَتْ بَیْنَہُمَا قِرَابَۃٌ، فَرَأَیْتُ فِرَاشَہَا مُعْتَزِلًا فِرَاشَہُ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَالِکَ لِہِجْرَانٍ، فَسَأَلْتُہَا فَقَالَتْ: لَا وَلٰـکِنِّیْ حَائِضٌ، فَاِذَا حِضْتُ لَمْ یَقْرَبْ فِرَاشِیْ، فَأَتَیْتُ مَیْمُوْنَۃَ فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لَہَا فَرَدَّتْنِیْ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: أَرَغْبَۃً عَنْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ لَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنَامُ مَعَ الْمَرْأَۃِ مِنْ نِسَائِہِ الْحَائِضِ وَمَا بَیْنَہُمَا اِلَّا ثَوْبٌ مَا یُجَاوِزُ الرُّکْبَتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۵۶)
بُدَیّہ کہتی ہیں: زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث ؓ نے مجھے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓکی بیوی کی طرف بھیجا، ان دو کے درمیان رشتہ داری تھی، میں نے دیکھا کہ اس کا بستر سیدنا ابن عباسؓ کے بستر سے الگ تھلگ تھا، میں نے سمجھا کہ ناراضگی کی وجہ سے ایسا ہو گا، لیکن جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کوئی ناراضگی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ میں حائضہ ہوں اور جب میرا حیض شروع ہو تا ہے تو وہ میرے قریب نہیں آتے، پس میں سیدہ میمونہ کے پاس آگئی اور ان کو یہ صورتحال بتائی، انھوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی طرف واپس کر دیا اور ان کی طرف یہ پیغام بھیجا: کیا تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت سے بے رغبتی کر رہے ہو؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اپنی حائضہ بیویوں کے ساتھ سو تے تھے، جبکہ ان کے درمیان صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جو گھٹنوں سے بھی تجاوز نہیں کرتا تھا۔
Takhreej
(۹۵۱) تخریج: صحیح دون قولہ: ما یجاوز الرکبتین وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ بدیۃ مولاۃ میمونۃ، ومحمد بن اسحاق مدلس۔ أخرجہ مسلم: ۲۹۵ بلفظ: عن میمونۃ قالت: کان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یضطجع معنی وانا حائض وبینی وبینہ ثوب۔ (انظر: ۲۶۸۱۹)
951
Sahih

Chapters

13
01
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
4 Hadith
02
حیض کے ایام میں بیوی سے ہم بستری کرنے سے ڈرانے کا بیان
1 Hadith
03
جس نے حائضہ بیوی سے جماع کر لیا، اس کے کفارے کا بیان
2 Hadith
04
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
15 Hadith
05
حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جوٹھے کے پاک ہونے کا بیان
2 Hadith
06
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
6 Hadith
07
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
4 Hadith
08
حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
3 Hadith
09
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
10
اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے
2 Hadith
11
جس مستحاضہ کی عادت بھی نامعلوم ہو اور وہ خون میں تمیز بھی نہ کر سکتی ہو، وہ کیا کرے؟
1 Hadith
12
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
2 Hadith
13
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
4 Hadith
No chapter matched that.