TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of ar-riqaq (softening of the hearts). - کتاب دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں - Book 82 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 82 of Sahih Bukhari, with 53 chapters and 182 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

182 Hadith · 53 Chapters
(1) CHAPTER. Health and leisure (free time for doing good deeds). There is no life worth living except the life in the Hereafter.
صحت اور فراغت کے بیان میں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ : الصِّحَّةُ ، وَالْفَرَاغُ ، قَالَ عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, There are two blessings which many people lose: (They are) Health and free time for doing good.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن سعید نے خبر دی، وہ ابوہند کے صاحب زادے ہیں، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، صحت اور فراغت۔“ عباس عنبری نے بیان کیا کہ ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی ہند نے، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح۔
6412
Sahih
(1) CHAPTER. Health and leisure (free time for doing good deeds). There is no life worth living except the life in the Hereafter.
صحت اور فراغت کے بیان میں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ ، فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ ، وَالْمُهَاجِرَهْ .
Narrated Anas: The Prophet said, O Allah! There is no life worth living except the life of the Hereafter, so (please) make righteous the Ansar and the Emigrants.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأصلح الأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں۔ پس تو انصار و مہاجرین میں صلاح کو باقی رکھ۔“
6413
Sahih
(1) CHAPTER. Health and leisure (free time for doing good deeds). There is no life worth living except the life in the Hereafter.
صحت اور فراغت کے بیان میں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، كُنَّا مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَحْفِرُ ، وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ وَيَمُرُّ بِنَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَالْمُهَاجِرَهْ ، تَابَعَهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi: We were in the company of Allah's Apostle in (the battle of) Al-Khandaq, and he was digging the trench while we were carrying the earth away. He looked at us and said, O Allah! There is no life worth living except the life of the Hereafter, so (please) forgive the Ansar and the Emigrants.
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خندق کھودتے جاتے تھے اور ہم مٹی کو اٹھاتے جاتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے فرماتے «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره،‏‏‏‏ فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے، پس تو انصار و مہاجرین کی مغفرت کر۔“ اس روایت کی متابعت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
6414
Sahih
(2) CHAPTER. The example of this world in contrast with the Hereafter.
آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
Narrated Sahl: I heard the Prophet saying, A (small) place equal to an area occupied by a whip in Paradise is better than the (whole) world and whatever is in it; and an undertaking (journey) in the forenoon or in the afternoon for Allah's Cause, is better than the whole world and whatever is in it.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے اور اللہ کے راستے میں صبح کو یا شام کو تھوڑا سا چلنا بھی «الدنيا وما فيها» سے بہتر ہے۔
6415
Sahih
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Be in this world as if you were a stranger.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو المُنْذِرِ الطُّفَاوِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي ، فَقَالَ : كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ : إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ .
Narrated Mujahid: `Abdullah bin `Umar said, Allah's Apostle took hold of my shoulder and said, 'Be in this world as if you were a stranger or a traveler. The sub-narrator added: Ibn `Umar used to say, If you survive till the evening, do not expect to be alive in the morning, and if you survive till the morning, do not expect to be alive in the evening, and take from your health for your sickness, and (take) from your life for your death.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن ابومنذر طفاوی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا ”دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔
6416
Sahih
(4) CHAPTER. About hope and hoping too much (for long life and worldly pleasures).
آرزو کی رسی کا دراز ہونا
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا مُرَبَّعًا ، وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ ، وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ ، وَقَالَ : هَذَا الْإِنْسَانُ ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ ، أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِهِ ، وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ أَمَلُهُ ، وَهَذِهِ الْخُطَطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا ، وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا .
Narrated `Abdullah: The Prophet drew a square and then drew a line in the middle of it and let it extend outside the square and then drew several small lines attached to that central line, and said, This is the human being, and this, (the square) in his lease of life, encircles him from all sides (or has encircled him), and this (line), which is outside (the square), is his hope, and these small lines are the calamities and troubles (which may befall him), and if one misses him, an-other will snap (i.e. overtake) him, and if the other misses him, a third will snap (i.e. overtake) him.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ قطان نے خبر دی، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے منذر بن یعلیٰ نے، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکھٹا خط کھینچا۔ پھر اس کے درمیان ایک خط کھینچا جو چوکھٹے کے درمیان میں تھا۔ اس کے بعد درمیان والے خط کے اس حصے میں جو چوکھٹے کے درمیان میں تھا چھوٹے چھوٹے بہت سے خطوط کھینچے اور پھر فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ جو ( بیچ کا ) خط باہر نکلا ہوا ہے وہ اس کی امید ہے اور چھوٹے چھوٹے خطوط اس کی دنیاوی مشکلات ہیں۔ پس انسان جب ایک ( مشکل ) سے بچ کر نکلتا ہے تو دوسری میں پھنس جاتا ہے اور دوسری سے نکلتا ہے تو تیسری میں پھنس جاتا ہے۔
6417
Sahih
(4) CHAPTER. About hope and hoping too much (for long life and worldly pleasures).
آرزو کی رسی کا دراز ہونا
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوطًا ، فَقَالَ : هَذَا الْأَمَلُ وَهَذَا أَجَلُهُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ الْخَطُّ الْأَقْرَبُ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet drew a few lines and said, This is (man's) hope, and this is the instant of his death, and while he is in this state (of hope), the nearer line (death) comes to Him.
ہم سے مسلم بن ابراہیم فراہیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند خطوط کھینچے اور فرمایا کہ یہ امید ہے اور یہ موت ہے، انسان اسی حالت ( امیدوں تک پہنچنے کی ) میں رہتا ہے کہ قریب والا خط ( موت ) اس تک پہنچ جاتا ہے۔
6418
Sahih
(5) CHAPTER. If somebody reaches sixty years of age, he has no right to ask Allah for a new lease of life (to make up for his past shortcomings), for Allah says: ...Did We not give you lives long enough, so that whoever would receive admonition - could receive it? And the warner (of Allah) came to you... (V.35:37)
جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا
حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً ، تَابَعَهُ أَبُو حَازِمٍ ، وَابْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Allah will not accept the excuse of any person whose instant of death is delayed till he is sixty years of age.
ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمر بن علی بن عطاء نے بیان کیا، ان سے معن بن محمد غفاری نے، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے عذر کے سلسلے میں حجت تمام کر دی جس کی موت کو مؤخر کیا یہاں تک کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا۔“ اس روایت کی متابعت ابوحازم اور ابن عجلان نے مقبری سے کی۔
6419
Sahih
(5) CHAPTER. If somebody reaches sixty years of age, he has no right to ask Allah for a new lease of life (to make up for his past shortcomings), for Allah says: ...Did We not give you lives long enough, so that whoever would receive admonition - could receive it? And the warner (of Allah) came to you... (V.35:37)
جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا يَزَالُ قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَتَيْنِ : فِي حُبِّ الدُّنْيَا ، وَطُولِ الْأَمَلِ ، قَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، وَابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ .
Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, The heart of an old man remains young in two respects, i.e., his love for the world (its wealth, amusements and luxuries) and his incessant hope.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوصفوان عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ہم کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بوڑھے انسان کا دل دو چیزوں کے بارے میں ہمیشہ جوان رہتا ہے، دنیا کی محبت اور زندگی کی لمبی امید۔“ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور یونس نے ابن شہاب سے بیان کیا کہ مجھے سعید اور ابوسلمہ نے خبر دی۔
6420
Sahih
(5) CHAPTER. If somebody reaches sixty years of age, he has no right to ask Allah for a new lease of life (to make up for his past shortcomings), for Allah says: ...Did We not give you lives long enough, so that whoever would receive admonition - could receive it? And the warner (of Allah) came to you... (V.35:37)
جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَكْبَرُ ابْنُ آدَمَ ، وَيَكْبَرُ مَعَهُ اثْنَانِ : حُبُّ الْمَالِ ، وَطُولُ الْعُمُرِ ، رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, The son of Adam (i.e. man) grows old and so also two (desires) grow old with him, i.e., love for wealth and (a wish for) a long life.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان کی عمر بڑھتی جاتی ہے اور اس کے ساتھ دو چیزیں اس کے اندر بڑھتی جاتی ہیں، مال کی محبت اور عمر کی درازی۔“ اس کی روایت شعبہ نے قتادہ سے کی ہے۔
6421
Sahih
(6) CHAPTER. The deed which is done seeking Allah‘s Countenance (i.e., for the sake of Allah).
ایسا کام جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَزَعَمَ مَحْمُودٌ ، أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ كَانَتْ فِي دَارِهِمْ .
Narrated Mahmud bin Ar-Rabi'a: I remember that the Allah's Messenger (saws) took water from a bucket (which was in our home used for getting water out of well) with his mouth (and threw it on my face).
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے محمود بن ربیع انصاری نے خبر دی اور وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات خوب میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ انہیں یاد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک ڈول میں سے پانی لے کر مجھ پر کلی کر دی تھی۔
6422
Sahih
(6) CHAPTER. The deed which is done seeking Allah‘s Countenance (i.e., for the sake of Allah).
ایسا کام جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو
قَالَ : سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ ، ثُمَّ أَحَدَ بَنِي سَالِمٍ ، قَالَ : غَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَنْ يُوَافِيَ عَبْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ .
Narrated `Utban bin Malik Al-Ansari: who was one of the men of the tribe of Bani Salim: Allah's Apostle came to me and said, If anybody comes on the Day of Resurrection who has said: La ilaha illal-lah, sincerely, with the intention to win Allah's Pleasure, Allah will make the Hell-Fire forbidden for him.
انہوں نے بیان کیا کہ عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا، پھر بنی سالم کے ایک صاحب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور فرمایا ”کوئی بندہ جب قیامت کے دن اس حالت میں پیش ہو گا کہ اس نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کیا ہو گا اور اس سے اس کا مقصود اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو گی تو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس پر حرم کر دے گا۔“
6423
Sahih
(6) CHAPTER. The deed which is done seeking Allah‘s Countenance (i.e., for the sake of Allah).
ایسا کام جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ ، إِلَّا الْجَنَّةُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Allah says, 'I have nothing to give but Paradise as a reward to my believer slave, who, if I cause his dear friend (or relative) to die, remains patient (and hopes for Allah's Reward).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
6424
Sahih
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، كَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ، فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ ، فَوَافَتْهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَعَرَّضُوا لَهُ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ ، وَقَالَ : أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ ، وَأَنَّهُ جَاءَ بِشَيْءٍ ، قَالُوا : أَجَلْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا ، وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ .
Narrated `Amr bin `Auf: (An ally of the tribe of Bani 'Amir bin Lu'ai and one of those who had witnessed the battle of Badr with Allah's Apostle) Allah's Apostle sent Abu 'Ubaida bin AlJarrah to Bahrain to collect the Jizya tax. Allah's Apostle had concluded a peace treaty with the people of Bahrain and appointed Al 'Ala bin Al-Hadrami as their chief; Abu Ubaida arrived from Bahrain with the money. The Ansar heard of Abu 'Ubaida's arrival which coincided with the Fajr (morning) prayer led by Allah's Apostle. When the Prophet finished the prayer, they came to him. Allah's Apostle smiled when he saw them and said, I think you have heard of the arrival of Abu 'Ubaida and that he has brought something. They replied, Yes, O Allah's Apostle! He said, Have the good news, and hope for what will please you. By Allah, I am not afraid that you will become poor, but I am afraid that worldly wealth will be given to you in abundance as it was given to those (nations) before you, and you will start competing each other for it as the previous nations competed for it, and then it will divert you (from good) as it diverted them. '
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور انہیں مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنی عامر بن عدی کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بحرین وہاں کا جزیہ لانے کے لیے بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کر لی تھی اور ان پر علاء بن الحضرمی کو امیر مقرر کیا تھا۔ جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے جزیہ کا مال لے کر آئے تو انصار نے ان کے آنے کے متعلق سنا اور صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا میرا خیال ہے کہ ابوعبیدہ کے آنے کے متعلق تم نے سن لیا ہے اور یہ بھی کہ وہ کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہیں خوشخبری ہو تم اس کی امید رکھو جو تمہیں خوش کر دے گی، اللہ کی قسم! فقر و محتاجی وہ چیز نہیں ہے جس سے میں تمہارے متعلق ڈرتا ہوں بلکہ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر بھی اسی طرح کشادہ کر دی جائے گی، جس طرح ان لوگوں پر کر دی گئی تھی جو تم سے پہلے تھے اور تم بھی اس کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی اسی طرح کوشش کرو گے جس طرح وہ کرتے تھے اور تمہیں بھی اسی طرح غافل کر دے گی جس طرح ان کو غافل کیا تھا۔
6425
Sahih
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا ، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إِنِّي فَرَطُكُمْ ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا .
Narrated `Uqba bin 'Amir: The Prophet went out and offered the funeral prayer for the martyrs of the (battle of) Uhud and then ascended the pulpit and said, I am your predecessor and I am a witness against you. By Allah, I am now looking at my Tank-lake (Al-Kauthar) and I have been given the keys of the treasures of the earth (or the keys of the earth). By Allah! I am not afraid that after me you will worship others besides Allah, but I am afraid that you will start competing for (the pleasures of) this world.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے بیان کیا اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور جنگ احد کے شہیدوں کے لیے اس طرح نماز پڑھی جس طرح مردہ پر نماز پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا آخرت میں میں تم سے آگے جاؤں گا اور میں تم پر گواہ ہوں گا، واللہ میں اپنے حوض کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا ( فرمایا کہ ) زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور اللہ کی قسم! میں تمہارے متعلق اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے تمہارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو گے۔
6426
Sahih
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَكْثَرَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ الْأَرْضِ ، قِيلَ : وَمَا بَرَكَاتُ الْأَرْضِ ؟ قَالَ : زَهْرَةُ الدُّنْيَا ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : هَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ ، فَقَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ ، قَالَ : أَنَا ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَقَدْ حَمِدْنَاهُ حِينَ طَلَعَ ذَلِكَ ، قَالَ : لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرَةِ ، أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ، فَاجْتَرَّتْ ، وَثَلَطَتْ ، وَبَالَتْ ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ مَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: Allah's Apostle said, The thing I am afraid of most for your sake, is the worldly blessings which Allah will bring forth to you. It was said, What are the blessings of this world? The Prophet said, The pleasures of the world. A man said, Can the good bring forth evil? The Prophet kept quiet for a while till we thought that he was being inspired divinely. Then he started removing the sweat from his forehead and said, Where is the questioner? That man said, I (am present). Abu Sa`id added: We thanked the man when the result (of his question) was such. The Prophet said, Good never brings forth but good. This wealth (of the world) is (like) green and sweet (fruit), and all the vegetation which grows on the bank of a stream either kills or nearly kills the animal that eats too much of it, except the animal that eats the Khadira (a kind of vegetation). Such an animal eats till its stomach is full and then it faces the sun and starts ruminating and then it passes out dung and urine and goes to eat again. This worldly wealth is (like) sweet (fruit), and if a person earns it (the wealth) in a legal way and spends it properly, then it is an excellent helper, and whoever earns it in an illegal way, he will be like the one who eats but is never satisfied.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطا بن یسار نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے متعلق سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ زمین کی برکتیں تمہارے لیے نکال دے گا۔ پوچھا گیا زمین کی برکتیں کیا ہیں؟ فرمایا کہ دنیا کی چمک دمک، اس پر ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا بھلائی سے برائی پیدا ہو سکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے خیال کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اس کے بعد اپنی پیشانی کو صاف کرنے لگے اور دریافت فرمایا، پوچھنے والے کہاں ہیں؟ پوچھنے والے نے کہا کہ حاضر ہوں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب اس سوال کا حل ہمارے سامنے آ گیا تو ہم نے ان صاحب کی تعریف کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھلائی سے تو صرف بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے لیکن یہ مال سرسبز اور خوشگوار ( گھاس کی طرح ) ہے اور جو چیز بھی ربیع کے موسم میں اگتی ہیں وہ حرص کے ساتھ کھانے والوں کو ہلاک کر دیتی ہیں یا ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہیں۔ سوائے اس جانور کے جو پیٹ بھر کے کھائے کہ جب اس نے کھا لیا اور اس کی دونوں کوکھ بھر گئیں تو اس نے سورج کی طرف منہ کر کے جگالی کر لی اور پھر پاخانہ پیشاب کر دیا اور اس کے بعد پھر لوٹ کے کھا لیا اور یہ مال بھی بہت شیریں ہے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور حق میں خرچ کیا تو وہ بہترین ذریعہ ہے اور جس نے اسے ناجائز طریقہ سے حاصل کیا تو وہ اس شخص جیسا ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا۔
6427
Sahih
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَيْرُكُمْ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، قَالَ عِمْرَانُ : فَمَا أَدْرِي ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَوْلِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ ، وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ .
Narrated Zahdam bin Mudarrib: `Imran bin Husain said: The Prophet said, The best people are my contemporaries (i.e., the present (my) generation) and then those who come after them (i.e., the next generation). `Imran added: I am not sure whether the Prophet repeated the statement twice after his first saying. The Prophet added, And after them there will come people who will bear witness, though they will not be asked to give their witness; and they will be treacherous and nobody will trust them, and they will make vows, but will not fulfill them, and fatness will appear among them.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوحمزہ سے سنا، کہا کہ مجھ سے زہدم بن مضرب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔“ عمران نے بیان کیا کہ مجھے نہیں معلوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کو دو مرتبہ دہرایا یا تین مرتبہ۔ پھر اس کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے لیکن ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، وہ خیانت کریں گے اور ان پر سے اعتماد جاتا رہے گا۔ وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے اور ان میں مٹاپا پھیل جائے گا۔
6428
Sahih
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, The best people are those of my generation, and then those who will come after them (the next generation), and then those who will come after them (i.e. the next generation), and then after them, there will come people whose witness will precede their oaths, and whose oaths will precede their witness.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا جو اس کے بعد ہوں گے پھر جو ان کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔“
6429
Sahih
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى يَوْمَئِذٍ سَبْعًا فِي بَطْنِهِ ، وَقَالَ : لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِالْمَوْتِ ، إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضَوْا وَلَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا بِشَيْءٍ ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ .
Narrated Qais: I heard Khabbab, who had branded his `Abdomen with seven brands, saying, Had Allah's Apostle not forbidden us to invoke Allah for death, I would have invoked Allah for death. The companions of Muhammad have left this world without taking anything of their reward in it (i.e., they will have perfect reward in the Hereafter), but we have collected of the worldly wealth what we cannot spend but on earth (i.e. on building houses).
مجھ سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد کوفی نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ میں نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سنا، اس دن ان کے پیٹ میں سات داغ لگائے گئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اپنی موت کی دعا کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ گزر گئے اور دنیا نے ان کے ( اعمال خیر میں سے ) کچھ نہیں گھٹایا اور ہم نے دنیا سے اتنا کچھ حاصل کیا کہ مٹی کے سوا اس کی کوئی جگہ نہیں۔
6430
Sahih
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : أَتَيْتُ خَبَّابًا : وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ فَقَالَ : إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا شَيْئًا ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ شَيْئًا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ .
Narrated Qais: I came to Khabbab while he was building a wall, and he (Khabbab) said, Our companions who have left this world, did not enjoy anything of their reward therein, while we have collected after them, much wealth that we cannot spend but on earth (i.e., on building).
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہا کہ میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اپنے مکان کی دیوار بنوا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو گزر گئے دنیا نے ان کے نیک اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کی لیکن ان کے بعد ہم کو اتنا پیسہ ملا کہ ہم اس کو کہاں خرچ کریں بس اس مٹی اور پانی یعنی عمارت میں ہم کو اسے خرچ کا موقع ملا ہے۔
6431
Sahih

Chapters

53
01
(1) CHAPTER. Health and leisure (free time for doing good deeds). There is no life worth living except the life in the Hereafter.
صحت اور فراغت کے بیان میں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The example of this world in contrast with the Hereafter.
آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Be in this world as if you were a stranger.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. About hope and hoping too much (for long life and worldly pleasures).
آرزو کی رسی کا دراز ہونا
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. If somebody reaches sixty years of age, he has no right to ask Allah for a new lease of life (to make up for his past shortcomings), for Allah says: ...Did We not give you lives long enough, so that whoever would receive admonition - could receive it? And the warner (of Allah) came to you... (V.35:37)
جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. The deed which is done seeking Allah‘s Countenance (i.e., for the sake of Allah).
ایسا کام جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
8 Hadith
08
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “O mankind! Verily the Promise of Allah is true. So let not this present life deceive you, and let not the chief deceiver (Satan) deceive you about Allah. Surely, Satan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy. He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the Blazing Fire.” (V.35:5,6)
اللہ پاک کا سورۃ فاطر میں فرمانا
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The righteous people will depart (die).
صالحین کا گزر جانا
1 Hadith
10
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
6 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Wealth is (like) green sweet (fruit).” And the Statement of Allah: Beautified for men is the love of things they covet: women, children... (V.3:14)
نبی کریم کا یہ فرمان کہ یہ ( دنیا کا ) مال سرسبز میٹھا ہے ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whatever one spends from his money (on good deeds) will be better for him (in the Hereafter).
آدمی جو اللہ کی راہ میں دیدے وہی اس کا اصلی مال ہے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The rich (who do not spend their wealth on good deeds) are infact the poor (i.e., little rewarded).
جو لوگ دنیا میں زیادہ ( مالدار ) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet : “It would not please me to have gold equal to this rnoutain of Uhud.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو تو بھی مجھ کو یہ پسند نہیں
2 Hadith
15
(15) CHAPTER. True riches is self-contentment.
مالدار وہ ہے جس کا دل غنی ہو
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The superiority of being poor.
فقر کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
17
(17) CHAPTER. How the Prophet and his Companions used to live, and how they gave up their interest in the world.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا سے کنارہ کشی کا بیان
5 Hadith
18
(18) CHAPTER. The adoption of a middle course (not to go to extremes), and the regularity of one's deeds.
نیک عمل پر ہمیشگی کرنا اور درمیانی چال چلنا ( نہ کمی ہو نہ زیادتی )
8 Hadith
19
(19) CHAPTER. Hope (that Allah will forgive one's sins and will accept one's good deeds) with fear (of Allah).
اللہ کے خوف کے ساتھ امید بھی رکھنا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
2 Hadith
21
(21) CHAPTER. “...And whosoever puts his trust in Allah, then He (Allah) will suffice him... (V.65:3)
جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ بھی اس کے لئے کافی ہو گا ( الطلاق 3 )
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. What is disliked about Qil and Qal (i.e., sinful and useless talk).
بےفائدہ بات چیت کرنا منع ہے
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. To protect one's tongue (from illegal talk, e.g., laying, abusing or backbiting, etc.).
زبان کی ( غلط باتوں سے ) حفاظت کرنا
5 Hadith
24
(24) CHAPTER. Weeping out of fear of Allah.
اللہ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. To be afraid of Allah.
اللہ سے ڈرنے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. To give up sinful deeds.
گناہوں سے باز رہنے کا بیان
3 Hadith
27
(27) CHAPTER. The saying of the Prophet : “If you knew that which I know, you would laugh little and weep much.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد
2 Hadith
28
(28) CHAPTER. The (Hell) Fire is surrounded by all kinds of desires and passions.
دوزخ کو خواہشات نفسانی سے ڈھک دیا گیا ہے
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. Paradise is nearer to anyone of you than the Shirak of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی ہے
1 Hadith
30
(29) CHAPTER. Paradise is nearer to anyone of you than the Shirak of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
اسے دیکھنا چاہئے جو نیچے درجہ کا ہے اسے نہیں دیکھنا چاہئے جس کا مرتبہ اس سے اونچاہے
2 Hadith
31
(31) CHAPTER. Whoever intended to do a good deed or a bad deed.
جس نے کسی نیکی یا بدی کا ارادہ کیا اس کا نتیجہ کیا ہے ؟
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. What minor sins should be warded off.
چھوٹے اور حقیر گناہوں سے بھی بچتے رہنا
1 Hadith
33
(33) CHAPTER. The (results of) deeds done depend upon the last actions. And that one should be afraid of it.
عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے اور خاتمہ سے ڈرتے رہنا
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. Seclusion is better for a believer than to have evil companions.
بری صحبت سے تنہا ئی بہتر ہے
2 Hadith
35
(35) CHAPTER. The disappearance of Al-Amanah.
( آخر زمانہ میں ) دنیا سے امانت داری کا اٹھ جانا
3 Hadith
36
(36) CHAPTER. Showing Off.
ریا اور شہرت طلبی کی مذمت میں
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Whoever compelled himself to obey Allah.
جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. The humility or modesty or lowliness (to lower oneself).
عاجزی کرنے کے بیان میں
2 Hadith
39
(39) CHAPTER. The saying of the Prophet : “I have been sent, and the Hour (is at hand) as these two (fingers).” And the Statement of Allah: ...And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly! Allah is Able to do all things. (V.16:77)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میں اور قیامت دونوں ایسے نزدیک ہیں جیسے یہ ( کلمہ اور بیچ کی انگلیاں ) نزدیک ہیں
3 Hadith
40
(40) CHAPTER. The rising of the sun from the west.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
41
(41) CHAPTER. Whoever loves to meet Allah, Allah (too) loves to meet him.
جو اللہ سے ملاقات کو پسند رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے
3 Hadith
42
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
7 Hadith
43
(43) CHAPTER. The blowing of the Trumpet, on the Day of Resurrection.
صور پھونکنے کا بیان
2 Hadith
44
(44) CHAPTER. On the Day of Resurrection, Allah will grasp (or hold) the whole (planet of) earth (in His Hand).
اللہ تعالیٰ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
3 Hadith
45
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
8 Hadith
46
(46) CHAPTER. The Saying (of Allah): ...Verily, the earthquake of the Hour (of judgement) is a terrible thing. (V.22:1)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحج میں ارشاد کہ
1 Hadith
47
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “Think they not that they will be resurrected (for reckoning), on a Great Day. The Day when (all) mankind will stand before the Lord of Al-Alamin (mankind, jinn and all that exists).” (V.83:4-6)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المطففین میں یوں فرمانا کہ
3 Hadith
48
(48) CHAPTER. AI-Qisas (retaliation) on the Day of Resurrection.
قیامت کے دن بدلہ لیا جانا
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. Anybody whose account (record) is questioned will surely be punished.
جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب کیا جائے گا
5 Hadith
50
(50) CHAPTER. Seventy thousand (persons) will enter Paradise without accounts.
جنت میں ستر ہزار آدمی بلاحساب داخل ہوں گے
1 Hadith
51
(50) CHAPTER. Seventy thousand (persons) will enter Paradise without accounts.
جنت و جہنم کا بیان
31 Hadith
52
(52) CHAPTER. As-Sirat is a bridge across the Hell.
صراط ایک پل ہے جو دوزخ پر بنایاگیا ہے
2 Hadith
53
(53) CHAPTER. (What is said) regarding Al-Haud (the Prophet's Tank - Al-Kauthar).
حوضکوثر کے بیان میں
19 Hadith
No chapter matched that.