TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of ar-riqaq (softening of the hearts). - کتاب دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں - Book 82 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 82 of Sahih Bukhari, with 53 chapters and 182 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

182 Hadith · 53 Chapters
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّهُ .
Narrated Khabbab: We migrated with the Prophet..(This narration is related in the chapter of migration).
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے اعمش نے ان سے ابووائل نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی اور اس کا قصہ بیان کیا۔
6432
Sahih
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “O mankind! Verily the Promise of Allah is true. So let not this present life deceive you, and let not the chief deceiver (Satan) deceive you about Allah. Surely, Satan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy. He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the Blazing Fire.” (V.35:5,6)
اللہ پاک کا سورۃ فاطر میں فرمانا
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِطَهُورٍ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى الْمَقَاعِدِ ، فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَهُوَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ هَذَا الْوُضُوءِ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ جَلَسَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، قَالَ : وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَغْتَرُّوا .
Narrated Ibn `Abbas: I brought water to `Uthman bin `Affan to perform the ablution while he was sitting on his seat. He performed the ablution in a perfect way and said, I saw the Prophet performing the ablution in this place and he performed it in a perfect way and said, Whoever performs the ablution as I have done this time and then proceeds to the mosque and offers a two-rak`at prayer and then sits there (waiting for the compulsory congregational prayers), then all his past sins will be forgiven. The Prophet further added, Do not be conceited (thinking that your sins will be forgiven because of your prayer).
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم قرشی نے بیان کیا کہ مجھے معاذ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں حمران بن ابان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے وضو کا پانی لے کر آیا وہ چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے اچھی طرح وضو کیا۔ اس کے بعد کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح وضو کیا، پھر فرمایا کہ جس نے اس طرح وضو کیا اور پھر مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر یہ بھی فرمایا کہ اس پر مغرور نہ ہو جاؤ۔
6433
Sahih
(9) CHAPTER. The righteous people will depart (die).
صالحین کا گزر جانا
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ ، وَيَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ ، لَا يُبَالِيهِمُ اللَّهُ بَالَةً ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : يُقَالُ حُفَالَةٌ وَحُثَالَةٌ .
Narrated Mirdas Al-Aslami: The Prophet said, The righteous (pious people will depart (die) in succession one after the other, and there will remain (on the earth) useless people like the useless husk of barley seeds or bad dates.
مجھ سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزر جائیں گے اس کے بعد جَو کہ بھوسے یا کھجور کے کچرے کی طرح کچھ لوگ دنیا میں رہ جائیں گے جن کی اللہ پاک کو کچھ ذرا بھی پروا نہ ہو گی۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «حفالة» اور «حثالة‏.‏» دونوں کے ایک معنی ہیں۔
6434
Sahih
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ ، وَالدِّرْهَمِ ، وَالْقَطِيفَةِ ، وَالْخَمِيصَةِ ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Perish the slave of Dinar, Dirham, Qatifa (thick soft cloth), and Khamisa (a garment), for if he is given, he is pleased; otherwise he is dissatisfied.
مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر بن عیاش نے خبر دی، انہیں ابوحصین (عثمان بن عاصم) نے، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دینار و درہم کے بندے، عمدہ ریشمی چادروں کے بندے، سیاہ کملی کے بندے، تباہ ہو گئے کہ اگر انہیں دیا جائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض رہتے ہیں۔“
6435
Sahih
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ ، إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ .
Narrated Ibn `Abbas: I heard the Prophet saying, If the son of Adam (the human being) had two valley of money, he would wish for a third, for nothing can fill the belly of Adam's son except dust, and Allah forgives him who repents to Him.
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو ( دل سے ) سچی توبہ کرتا ہے۔“
6436
Sahih
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِثْلَ وَادٍ مَالًا لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ ، وَلَا يَمْلَأُ عَيْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَا أَدْرِي مِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا ، قَالَ : وَسَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ .
Narrated Ibn `Abbas: I heard Allah's Apostle saying, If the son of Adam had money equal to a valley, then he will wish for another similar to it, for nothing can satisfy the eye of Adam's son except dust. And Allah forgives him who repents to Him. Ibn `Abbas said: I do not know whether this saying was quoted from the Qur'an or not. `Ata' said, I heard Ibn AzZubair saying this narration while he was on the pulpit.
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر انسان کے پاس مال ( بھیڑ بکری ) کی پوری وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اسے ویسی ہی ایک اور مل جائے اور انسان کی آنکھ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو اللہ سے توبہ کرتا ہے، وہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ منبر پر کہتے سنا تھا۔
6437
Sahih
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ بِمَكَّةَ فِي خُطْبَتِهِ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : لَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ أُعْطِيَ وَادِيًا مَلْئًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَانِيًا ، وَلَوْ أُعْطِيَ ثَانِيًا أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَالِثًا ، وَلَا يَسُدُّ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ ، إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ .
Narrated Sahl bin Sa`d: I heard Ibn Az-Zubair who was on the pulpit at Mecca, delivering a sermon, saying, O men! The Prophet used to say, If the son of Adam were given a valley full of gold, he would love to have a second one; and if he were given the second one, he would love to have a third, for nothing fills the belly of Adam's son except dust. And Allah forgives he who repents to Him. Ubai said, We considered this as a saying from the Qur'an till the Sura (beginning with) 'The mutual rivalry for piling up of worldly things diverts you..' (102.1) was revealed.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سلیمان بن غسیل نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مکہ مکرمہ میں منبر پر یہ کہتے سنا۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اے لوگو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر انسان کو ایک وادی سونا بھر کے دے دیا جائے تو وہ دوسری کا خواہشمند رہے گا اگر دوسری دے دی جائے تو تیسری کا خواہشمند رہے گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ پاک اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔
6438
Sahih
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, If Adam's son had a valley full of gold, he would like to have two valleys, for nothing fills his mouth except dust. And Allah forgives him who repents to Him.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ دو ہو جائیں اور اس کا منہ قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔“
6439
Sahih
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
وَقَالَ لَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ : كُنَّا نَرَى هَذَا مِنَ الْقُرْآنِ حَتَّى نَزَلَتْ : أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ .
Ubayy said (referring to the hadith above), We considered this as a saying from the Qur'an till the Surah (beginning with): The mutual rivalry (for piling up of worldly things) diverts you' (102:1) was revealed.
اور ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، ان سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہ ہم اسے قرآن ہی میں سے سمجھتے تھے یہاں تک کہ آیت «ألهاكم التكاثر‏» نازل ہوئی۔
6440
Sahih
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Wealth is (like) green sweet (fruit).” And the Statement of Allah: Beautified for men is the love of things they covet: women, children... (V.3:14)
نبی کریم کا یہ فرمان کہ یہ ( دنیا کا ) مال سرسبز میٹھا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا الْمَالُ ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ لِي : يَا حَكِيمُ ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى .
Narrated Hakim bin Hizam: I asked the Prophet (for some money) and he gave me, and then again I asked him and he gave me, and then again I asked him and he gave me and he then said, This wealth is (like) green and sweet (fruit), and whoever takes it without greed, Allah will bless it for him, but whoever takes it with greed, Allah will not bless it for him, and he will be like the one who eats but is never satisfied. And the upper (giving) hand is better than the lower (taking) hand.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، وہ کہتے تھے کہ مجھے عروہ اور سعید بن مسیب نے خبر دی، انہیں حکیم بن حزام نے، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا۔ میں نے پھر مانگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرمایا۔ میں نے پھر مانگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرمایا۔ پھر فرمایا کہ یہ مال۔ اور بعض اوقات سفیان نے یوں بیان کیا کہ ( حکیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ) اے حکیم! یہ مال سرسبز اور خوشگوار نظر آتا ہے پس جو شخص اسے نیک نیتی سے لے اس میں برکت ہوتی ہے اور جو لالچ کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے مال میں برکت نہیں ہوتی بلکہ وہ اس شخص جیسا ہو جاتا ہے جو کھاتا جاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔
6441
Sahih
(12) CHAPTER. Whatever one spends from his money (on good deeds) will be better for him (in the Hereafter).
آدمی جو اللہ کی راہ میں دیدے وہی اس کا اصلی مال ہے
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, Who among you considers the wealth of his heirs dearer to him than his own wealth? They replied, O Allah's Apostle! There is none among us but loves his own wealth more. The Prophet said, So his wealth is whatever he spends (in Allah's Cause) during his life (on good deeds) while the wealth of his heirs is whatever he leaves after his death.
مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا، ان سے حارث بن سوید نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پیارا ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں کوئی ایسا نہیں جسے مال زیادہ پیارا نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر اس کا مال وہ ہے جو اس نے ( موت سے ) پہلے ( اللہ کے راستہ میں خرچ ) کیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو وہ چھوڑ کر مرا۔“
6442
Sahih
(13) CHAPTER. The rich (who do not spend their wealth on good deeds) are infact the poor (i.e., little rewarded).
جو لوگ دنیا میں زیادہ ( مالدار ) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ وَلَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ ، قَالَ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ، قُلْتُ : أَبُو ذَرٍّ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ، قَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، تَعَالَهْ ، قَالَ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً ، فَقَالَ : إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا ، فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ ، وَشِمَالَهُ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ ، وَوَرَاءَهُ ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا ، قَالَ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً ، فَقَالَ لِي : اجْلِسْ هَا هُنَا ، قَالَ : فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ ، فَقَالَ لِي : اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ ، فَلَبِثَ عَنِّي ، فَأَطَالَ اللُّبْثَ ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَهُوَ يَقُولُ : وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى ، قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا ، قَالَ : ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ ، قَالَ : بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ سَرَقَ ، وَإِنْ زَنَى ، قَالَ : نَعَمْ ، وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ ، قَالَ النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، بِهَذَا . قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مُرْسَلٌ ، لَا يَصِحُّ إِنَّمَا أَرَدْنَا لِلْمَعْرِفَةِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : مُرْسَلٌ أَيْضًا لَا يَصِحُّ ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ ، وَقَالَ : اضْرِبُوا عَلَى حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، هَذَا إِذَا مَاتَ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ .
Narrated Abu Dhar: Once I went out at night and found Allah's Apostle walking all alone accompanied by nobody, and I thought that perhaps he disliked that someone should accompany him. So I walked in the shade, away from the moonlight, but the Prophet looked behind and saw me and said, Who is that? I replied, Abu Dhar, let Allah get me sacrificed for you! He said, O Abu Dhar, come here! So I accompanied him for a while and then he said, The rich are in fact the poor (little rewarded) on the Day of Resurrection except him whom Allah gives wealth which he gives (in charity) to his right, left, front and back, and does good deeds with it. I walked with him a little longer. Then he said to me, Sit down here. So he made me sit in an open space surrounded by rocks, and said to me, Sit here till I come back to you. He went towards Al-Harra till I could not see him, and he stayed away for a long period, and then I heard him saying, while he was coming, Even if he had committed theft, and even if he had committed illegal sexual intercourse? When he came, I could not remain patient and asked him, O Allah's Prophet! Let Allah get me sacrificed for you! Whom were you speaking to by the side of Al-Harra? I did not hear anybody responding to your talk. He said, It was Gabriel who appeared to me beside Al-Harra and said, 'Give the good news to your followers that whoever dies without having worshipped anything besides Allah, will enter Paradise.' I said, 'O Gabriel! Even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse?' He said, 'Yes.' I said, 'Even if he has committed theft or committed illegal sexual intercourse?' He said, 'Yes.' I said, 'Even if he has committed theft or committed illegal sexual intercourse?' He said, 'Yes.'
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک روز میں باہر نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے میں سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ اس وقت کوئی رہے۔ اس لیے میں چاند کے سائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ اس کے بعد آپ مڑے تو مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: ابوذر! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوذر! یہاں آؤ۔ بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ ( دنیا میں ) زیادہ مال و دولت جمع کئے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور انہوں نے اسے دائیں بائیں، آگے پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو۔ ( ابوذر رضی اللہ عنہ نے ) بیان کیا کہ پھر تھوڑی دیر تک میں آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں بیٹھ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور فرمایا کہ یہاں اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔ پھر آپ پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ آپ وہاں رہے اور دیر تک وہیں رہے۔ پھر میں نے آپ سے سنا، آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے تھے ”چاہے چوری ہو، چاہے زنا ہو“ ابوذر کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے۔ اس پتھریلی زمین کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے تو کسی دوسرے کو آپ سے بات کرتے نہیں دیکھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ پتھریلی زمین ( حرہ ) کے کنارے وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ اپنی امت کو خوشخبری سنا دو کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا: اے جبرائیل! خواہ اس نے چوری کی ہو، زنا کیا ہو؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ہاں، خواہ اس نے شراب ہی پی ہو۔ نضر نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ( کہا ) ہم سے حبیب بن ابی ثابت، اعمش اور عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے زید بن وہب نے اسی طرح بیان کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ابوصالح نے جو اسی باب میں ابودرداء سے روایت کی ہے وہ منقطع ہے ( ابوصالح نے ابودرداء سے نہیں سنا ) اور صحیح نہیں ہے ہم نے یہ بیان کر دیا تاکہ اس حدیث کا حال معلوم ہو جائے اور صحیح ابوذر کی حدیث ہے ( جو اوپر مذکور ہوئی ) کسی نے امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا عطاء بن یسار نے بھی تو یہ حدیث ابودرداء سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا وہ بھی منقطع ہے اور صحیح نہیں ہے۔ آخر صحیح وہی ابوذر کی حدیث نکلی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ابودرداء کی حدیث کو چھوڑو ( وہ سند لینے کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ منقطع ہے ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ابوذر کی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مرتے وقت آدمی «لا إله إلا الله» کہے اور توحید پر خاتمہ ہو ( تو وہ ایک نہ ایک دن ضرور جنت میں جائے گا گو کتنا ہی گنہگار ہو ) ۔ بعض نسخوں میں یہ ہے «هذا اذا تاب وقال لا إله إلا الله عند الموت» یعنی ابوذر کی حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جو گناہ سے توبہ کرے اور مرتے وقت «لا إله إلا الله» کہے۔
6443
Sahih
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet : “It would not please me to have gold equal to this rnoutain of Uhud.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو تو بھی مجھ کو یہ پسند نہیں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ ، فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : مَا يَسُرُّنِي أَنَّ عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا تَمْضِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَمِنْ خَلْفِهِ ، ثُمَّ مَشَى ، فَقَالَ : إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ : هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَمِنْ خَلْفِهِ ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ، ثُمَّ قَالَ لِي : مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ، ثُمَّ انْطَلَقَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَارَى ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا قَدِ ارْتَفَعَ ، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَهُ لِي : لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَتَانِي ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتًا تَخَوَّفْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ ، فَقَالَ : وَهَلْ سَمِعْتَهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي ، فَقَالَ : مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ .
Narrated Abu Dhar: While I was walking with the Prophet in the Harra of Medina, Uhud came in sight. The Prophet said, O Abu Dhar! I said, Labbaik, O Allah's Apostle! He said, I would not like to have gold equal to this mountain of Uhud, unless nothing of it, not even a single Dinar of it remains with me for more than three days, except something which I will keep for repaying debts. I would have spent all of it (distributed it) amongst Allah's Slaves like this, and like this, and like this. The Prophet pointed out with his hand towards his right, his left and his back (while illustrating it). He proceeded with his walk and said, The rich are in fact the poor (little rewarded) on the Day of Resurrection except those who spend their wealth like this, and like this, and like this, to their right, left and back, but such people are few in number. Then he said to me, Stay at your place and do not leave it till I come back. Then he proceeded in the darkness of the night till he went out of sight, and then I heard a loud voice, and was afraid that something might have happened to the Prophet .1 intended to go to him, but I remembered what he had said to me, i.e. 'Don't leave your place till I come back to you,' so I remained at my place till he came back to me. I said, O Allah's Apostle! I heard a voice and I was afraid. So I mentioned the whole story to him. He said, Did you hear it? I replied, Yes. He said, It was Gabriel who came to me and said, 'Whoever died without joining others in worship with Allah, will enter Paradise.' I asked (Gabriel), 'Even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse? Gabriel said, 'Yes, even if he had committed theft or committed illegal sexual intercourse.
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے زید بن وہب نے کہ ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے علاقہ میں چل رہا تھا کہ احد پہاڑ ہمارے سامنے آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس سے بالکل خوشی نہیں ہو گی کہ میرے پاس اس احد کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گذر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوا اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑ دوں بلکہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح خرچ کروں اپنی دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا، زیادہ مال جمع رکھنے والے ہی قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوا اس شخص کے جو اس مال کو اس اس طرح دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے خرچ کرے اور ایسے لوگ کم ہیں۔ پھر مجھ سے فرمایا، یہیں ٹھہرے رہو، یہاں سے اس وقت تک نہ جانا جب تک میں آ نہ جاؤں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی جو بلند تھی۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دشواری نہ پیش آ گئی ہو۔ میں نے آپ کی خدمت میں پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کا ارشاد یاد آیا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، جب تک میں نہ آ جاؤں۔ چنانچہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے میں وہاں سے نہیں ہٹا۔ پھر آپ آئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک آواز سنی تھی، مجھے ڈر لگا لیکن پھر آپ کا ارشاد یاد آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے سنا تھا؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا خواہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو۔
6444
Sahih
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet : “It would not please me to have gold equal to this rnoutain of Uhud.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو تو بھی مجھ کو یہ پسند نہیں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا ، لَسَرَّنِي أَنْ لَا تَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ ، إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ .
Narrated Abu Huraira: Allah Apostle said, If I had gold equal to the mountain of Uhud, it would not please me that anything of it should remain with me after three nights (i.e., I would spend all of it in Allah's Cause) except what I would keep for repaying debts.
مجھ سے احمد بن شبیب نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے اس میں خوشی ہو گی کہ تین دن بھی مجھ پر اس حال میں نہ گزرنے پائیں کہ اس میں سے میرے پاس کچھ بھی باقی بچے۔ البتہ اگر کسی کا قرض دور کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں تو یہ اور بات ہے۔
6445
Sahih
(15) CHAPTER. True riches is self-contentment.
مالدار وہ ہے جس کا دل غنی ہو
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Riches does not mean, having a great amount of property, but riches is selfcontentment.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تونگری یہ نہیں ہے کہ سامان زیادہ ہو، بلکہ امیری یہ ہے کہ دل غنی ہو۔“
6446
Sahih
(16) CHAPTER. The superiority of being poor.
فقر کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ : مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ : هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا .
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`id: A man passed by Allah's Apostle and the Prophet asked a man sitting beside him, What is your opinion about this (passer-by)? He replied, This (passer-by) is from the noble class of people. By Allah, if he should ask for a lady's hand in marriage, he ought to be given her in marriage, and if he intercedes for somebody, his intercession will be accepted. Allah's Apostle kept quiet, and then another man passed by and Allah's Apostle asked the same man (his companion) again, What is your opinion about this (second) one? He said, O Allah's Apostle! This person is one of the poor Muslims. If he should ask a lady's hand in marriage, no-one will accept him, and if he intercedes for somebody, no one will accept his intercession, and if he talks, no-one will listen to his talk. Then Allah's Apostle said, This (poor man) is better than such a large number of the first type (i.e. rich men) as to fill the earth.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سے جو آپ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے، پوچھا کہ اس شخص ( گزرے والے ) کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ معزز لوگوں میں سے ہے اور اللہ کی قسم! یہ اس قابل ہے کہ اگر یہ پیغام نکاح بھیجے تو اس سے نکاح کر دیا جائے۔ اگر یہ سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کر لی جائے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے متعلق بھی پوچھا کہ ان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا، یا رسول اللہ! یہ صاحب مسلمانوں کے غریب طبقہ سے ہیں اور یہ ایسے ہیں کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجیں تو ان کا نکاح نہ کیا جائے، اگر یہ کسی کی سفارش کریں تو ان کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر کچھ کہیں تو ان کی بات نہ سنی جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ اللہ کے نزدیک یہ پچھلا محتاج شخص اگلے مالدار شخص سے، گو ویسے آدمی زمین بھر کر ہوں، بہتر ہے۔
6447
Sahih
(16) CHAPTER. The superiority of being poor.
فقر کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : عُدْنَا خَبَّابًا ، فَقَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ نَمِرَةً ، فَإِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الْإِذْخِرِ ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا .
Narrated Abu Wail: We paid a visit to Khabbab who was sick, and he said, We migrated with the Prophet for Allah's Sake and our wages became due on Allah. Some of us died without having received anything of the wages, and one of them was Mus`ab bin `Umar, who was martyred on the day of the battle of Uhud, leaving only one sheet (to shroud him in). If we covered his head with it, his feet became uncovered, and if we covered his feet with it, his head became uncovered. So the Prophet ordered us to cover his head with it and put some Idhkhir (a kind of grass) over his feet. On the other hand, some of us have had the fruits (of our good deed) and are plucking them (in this world).
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا کہ میں نے ابووائل سے سنا، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی۔ چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ذمہ رہا۔ پس ہم میں سے کوئی تو گزر گیا اور اپنا اجر ( اس دنیا میں ) نہیں لیا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ( انہی ) میں سے تھے، وہ جنگ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے اور ایک چادر چھوڑی تھی ( اس چادر کا ان کو کفن دیا گیا تھا ) اس چادر سے ہم اگر ان کا سر ڈھکتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں اور کوئی ہم میں سے ایسے ہوئے جن کے پھل خوب پکے اور وہ مزے سے چن چن کر کھا رہے ہیں۔
6448
Sahih
(16) CHAPTER. The superiority of being poor.
فقر کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ، تَابَعَهُ أَيُّوبُ ، وَعَوْفٌ ، وَقَالَ صَخْرٌ ، وَحَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
Narrated `Imran bin Husain: The Prophet said, I looked into Paradise and found that the majority of its dwellers were the poor people, and I looked into the (Hell) Fire and found that the majority of its dwellers were women.
ہم سے ابوولید نے بیان کیا، کہا ہم سے سلم بن زریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے بیان کیا، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے جنت میں جھانکا تو اس میں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو اس کی رہنے والیاں اکثر عورتیں تھیں۔“ ابورجاء کے ساتھ اس حدیث کو ایوب سختیانی اور عوف اعرابی نے بھی روایت کیا ہے اور صخر بن جویریہ اور حماد بن نجیح دونوں اس حدیث کو ابورجاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔
6449
Sahih
(16) CHAPTER. The superiority of being poor.
فقر کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمْ يَأْكُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ ، وَمَا أَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتَّى مَاتَ .
Narrated Anas: The Prophet did not eat at a table till he died, and he did not eat a thin nicely baked wheat bread till he died.
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن محمد بن عمرو بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور نہ وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی باریک چپاتی تناول فرمائی۔
6450
Sahih
(16) CHAPTER. The superiority of being poor.
فقر کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ ، إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي ، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ فَكِلْتُهُ ، فَفَنِيَ .
Narrated `Aisha: When the Prophet died, nothing which can be eaten by a living creature was left on my shelf except some barley grain. I ate of it for a period and when I measured it, it finished.
ہم سے ابوبکر عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ خانہ میں کوئی غلہ نہ تھا جو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا، سوا تھوڑے سے جَو کے جو میرے توشہ خانہ میں تھے، میں ان میں ہی سے کھاتی رہی آخر اکتا کر جب بہت دن ہو گئے تو میں نے انہیں ناپا تو وہ ختم ہو گئے۔
6451
Sahih

Chapters

53
01
(1) CHAPTER. Health and leisure (free time for doing good deeds). There is no life worth living except the life in the Hereafter.
صحت اور فراغت کے بیان میں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The example of this world in contrast with the Hereafter.
آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Be in this world as if you were a stranger.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. About hope and hoping too much (for long life and worldly pleasures).
آرزو کی رسی کا دراز ہونا
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. If somebody reaches sixty years of age, he has no right to ask Allah for a new lease of life (to make up for his past shortcomings), for Allah says: ...Did We not give you lives long enough, so that whoever would receive admonition - could receive it? And the warner (of Allah) came to you... (V.35:37)
جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. The deed which is done seeking Allah‘s Countenance (i.e., for the sake of Allah).
ایسا کام جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
8 Hadith
08
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “O mankind! Verily the Promise of Allah is true. So let not this present life deceive you, and let not the chief deceiver (Satan) deceive you about Allah. Surely, Satan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy. He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the Blazing Fire.” (V.35:5,6)
اللہ پاک کا سورۃ فاطر میں فرمانا
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The righteous people will depart (die).
صالحین کا گزر جانا
1 Hadith
10
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
6 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Wealth is (like) green sweet (fruit).” And the Statement of Allah: Beautified for men is the love of things they covet: women, children... (V.3:14)
نبی کریم کا یہ فرمان کہ یہ ( دنیا کا ) مال سرسبز میٹھا ہے ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whatever one spends from his money (on good deeds) will be better for him (in the Hereafter).
آدمی جو اللہ کی راہ میں دیدے وہی اس کا اصلی مال ہے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The rich (who do not spend their wealth on good deeds) are infact the poor (i.e., little rewarded).
جو لوگ دنیا میں زیادہ ( مالدار ) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet : “It would not please me to have gold equal to this rnoutain of Uhud.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو تو بھی مجھ کو یہ پسند نہیں
2 Hadith
15
(15) CHAPTER. True riches is self-contentment.
مالدار وہ ہے جس کا دل غنی ہو
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The superiority of being poor.
فقر کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
17
(17) CHAPTER. How the Prophet and his Companions used to live, and how they gave up their interest in the world.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا سے کنارہ کشی کا بیان
5 Hadith
18
(18) CHAPTER. The adoption of a middle course (not to go to extremes), and the regularity of one's deeds.
نیک عمل پر ہمیشگی کرنا اور درمیانی چال چلنا ( نہ کمی ہو نہ زیادتی )
8 Hadith
19
(19) CHAPTER. Hope (that Allah will forgive one's sins and will accept one's good deeds) with fear (of Allah).
اللہ کے خوف کے ساتھ امید بھی رکھنا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
2 Hadith
21
(21) CHAPTER. “...And whosoever puts his trust in Allah, then He (Allah) will suffice him... (V.65:3)
جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ بھی اس کے لئے کافی ہو گا ( الطلاق 3 )
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. What is disliked about Qil and Qal (i.e., sinful and useless talk).
بےفائدہ بات چیت کرنا منع ہے
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. To protect one's tongue (from illegal talk, e.g., laying, abusing or backbiting, etc.).
زبان کی ( غلط باتوں سے ) حفاظت کرنا
5 Hadith
24
(24) CHAPTER. Weeping out of fear of Allah.
اللہ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. To be afraid of Allah.
اللہ سے ڈرنے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. To give up sinful deeds.
گناہوں سے باز رہنے کا بیان
3 Hadith
27
(27) CHAPTER. The saying of the Prophet : “If you knew that which I know, you would laugh little and weep much.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد
2 Hadith
28
(28) CHAPTER. The (Hell) Fire is surrounded by all kinds of desires and passions.
دوزخ کو خواہشات نفسانی سے ڈھک دیا گیا ہے
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. Paradise is nearer to anyone of you than the Shirak of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی ہے
1 Hadith
30
(29) CHAPTER. Paradise is nearer to anyone of you than the Shirak of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
اسے دیکھنا چاہئے جو نیچے درجہ کا ہے اسے نہیں دیکھنا چاہئے جس کا مرتبہ اس سے اونچاہے
2 Hadith
31
(31) CHAPTER. Whoever intended to do a good deed or a bad deed.
جس نے کسی نیکی یا بدی کا ارادہ کیا اس کا نتیجہ کیا ہے ؟
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. What minor sins should be warded off.
چھوٹے اور حقیر گناہوں سے بھی بچتے رہنا
1 Hadith
33
(33) CHAPTER. The (results of) deeds done depend upon the last actions. And that one should be afraid of it.
عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے اور خاتمہ سے ڈرتے رہنا
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. Seclusion is better for a believer than to have evil companions.
بری صحبت سے تنہا ئی بہتر ہے
2 Hadith
35
(35) CHAPTER. The disappearance of Al-Amanah.
( آخر زمانہ میں ) دنیا سے امانت داری کا اٹھ جانا
3 Hadith
36
(36) CHAPTER. Showing Off.
ریا اور شہرت طلبی کی مذمت میں
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Whoever compelled himself to obey Allah.
جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. The humility or modesty or lowliness (to lower oneself).
عاجزی کرنے کے بیان میں
2 Hadith
39
(39) CHAPTER. The saying of the Prophet : “I have been sent, and the Hour (is at hand) as these two (fingers).” And the Statement of Allah: ...And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly! Allah is Able to do all things. (V.16:77)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میں اور قیامت دونوں ایسے نزدیک ہیں جیسے یہ ( کلمہ اور بیچ کی انگلیاں ) نزدیک ہیں
3 Hadith
40
(40) CHAPTER. The rising of the sun from the west.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
41
(41) CHAPTER. Whoever loves to meet Allah, Allah (too) loves to meet him.
جو اللہ سے ملاقات کو پسند رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے
3 Hadith
42
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
7 Hadith
43
(43) CHAPTER. The blowing of the Trumpet, on the Day of Resurrection.
صور پھونکنے کا بیان
2 Hadith
44
(44) CHAPTER. On the Day of Resurrection, Allah will grasp (or hold) the whole (planet of) earth (in His Hand).
اللہ تعالیٰ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
3 Hadith
45
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
8 Hadith
46
(46) CHAPTER. The Saying (of Allah): ...Verily, the earthquake of the Hour (of judgement) is a terrible thing. (V.22:1)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحج میں ارشاد کہ
1 Hadith
47
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “Think they not that they will be resurrected (for reckoning), on a Great Day. The Day when (all) mankind will stand before the Lord of Al-Alamin (mankind, jinn and all that exists).” (V.83:4-6)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المطففین میں یوں فرمانا کہ
3 Hadith
48
(48) CHAPTER. AI-Qisas (retaliation) on the Day of Resurrection.
قیامت کے دن بدلہ لیا جانا
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. Anybody whose account (record) is questioned will surely be punished.
جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب کیا جائے گا
5 Hadith
50
(50) CHAPTER. Seventy thousand (persons) will enter Paradise without accounts.
جنت میں ستر ہزار آدمی بلاحساب داخل ہوں گے
1 Hadith
51
(50) CHAPTER. Seventy thousand (persons) will enter Paradise without accounts.
جنت و جہنم کا بیان
31 Hadith
52
(52) CHAPTER. As-Sirat is a bridge across the Hell.
صراط ایک پل ہے جو دوزخ پر بنایاگیا ہے
2 Hadith
53
(53) CHAPTER. (What is said) regarding Al-Haud (the Prophet's Tank - Al-Kauthar).
حوضکوثر کے بیان میں
19 Hadith
No chapter matched that.