TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of ar-riqaq (softening of the hearts). - کتاب دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں - Book 82 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 82 of Sahih Bukhari, with 53 chapters and 182 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

182 Hadith · 53 Chapters
(32) CHAPTER. What minor sins should be warded off.
چھوٹے اور حقیر گناہوں سے بھی بچتے رہنا
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعَرِ ، إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُهْلِكَاتِ .
Narrated Ghailan: Anas said You people do (bad) deeds (commit sins) which seem in your eyes as tiny (minute) than hair while we used to consider those (very deeds) during the life-time of the Prophet as destructive sins.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، ان سے غیلان نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ تم ایسے ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں ( تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں سمجھتے ) اور ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاک کر دینے والا سمجھتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ حدیث میں جو لفظ «موبقات» ہے اس کا معنی ہلاک کرنے والے۔
6492
Sahih
(33) CHAPTER. The (results of) deeds done depend upon the last actions. And that one should be afraid of it.
عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے اور خاتمہ سے ڈرتے رہنا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْأَلْهَانِيُّ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ ، وَكَانَ مِنْ أَعْظَمِ الْمُسْلِمِينَ غَنَاءً عَنْهُمْ ، فَقَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ، فَتَبِعَهُ رَجُلٌ فَلَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ ، فَقَالَ : بِذُبَابَةِ سَيْفِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ فَتَحَامَلَ عَلَيْهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَيَعْمَلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا .
Narrated Sa`d bin Sahl As-Sa`idi: The Prophet looked at a man fighting against the pagans and he was one of the most competent persons fighting on behalf of the Muslims. The Prophet said, Let him who wants to look at a man from the dwellers of the (Hell) Fire, look at this (man). Another man followed him and kept on following him till he (the fighter) was injured and, seeking to die quickly, he placed the blade tip of his sword between his breasts and leaned over it till it passed through his shoulders (i.e., committed suicide). The Prophet added, A person may do deeds that seem to the people as the deeds of the people of Paradise while in fact, he is from the dwellers of the (Hell) Fire: and similarly a person may do deeds that seem to the people as the deeds of the people of the (Hell) Fire while in fact, he is from the dwellers of Paradise. Verily, the (results of) deeds done, depend upon the last actions.
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو مشرکین سے جنگ میں مصروف تھا، یہ شخص مسلمانوں کے صاحب مال و دولت لوگوں میں سے تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ کسی جہنمی کو دیکھے تو وہ اس شخص کو دیکھے۔ اس پر ایک صحابی اس شخص کے پیچھے لگ گئے وہ شخص برابر لڑتا رہا اور آخر زخمی ہو گیا۔ پھر اس نے چاہا کہ جلدی مر جائے۔ پس اپنی تلوار ہی کی دھار اپنے سینے کے درمیان رکھ کر اس پر اپنے آپ کو ڈال دیا اور تلوار اس کے شانوں کو چیرتی ہوئی نکل گئی ( اس طرح وہ خودکشی کر کے مر گیا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اعمال کا اعتبار تو خاتمہ پر موقوف ہے۔
6493
Sahih
(34) CHAPTER. Seclusion is better for a believer than to have evil companions.
بری صحبت سے تنہا ئی بہتر ہے
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : رَجُلٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ ، وَمَالِهِ ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ، تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَالنُّعْمَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَوْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ يُونُسُ ، وَابْنُ مُسَافِرٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: A bedouin came to the Prophet and said, O Allah's Apostle! Who is the best of mankind! The Prophet said, A man who strives for Allah's Cause with his life and property, and also a man who lives (all alone) in a mountain path among the mountain paths to worship his Lord and save the people from his evil.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے عطاء بن یزید نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! کون شخص سب سے اچھا ہے؟ فرمایا کہ وہ شخص جس نے اپنی جان اور مال کے ذریعہ جہاد کیا اور وہ شخص جو کسی پہاڑ کی کھوہ میں ٹھہرا ہوا اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس روایت کی متابعت زبیدی، سلیمان بن کثیر اور نعمان نے زہری سے کی۔ اور معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عطاء یا عبیداللہ نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یونس و ابن مسافر اور یحییٰ بن سعید نے ابن شہاب ( زہری ) سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
6494
Sahih
(34) CHAPTER. Seclusion is better for a believer than to have evil companions.
بری صحبت سے تنہا ئی بہتر ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ خَيْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ الْغَنَمُ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ .
Narrated Abu Sa`id: I heard from the Prophet saying, There will come a time upon the people when the best property of a Muslim will be sheep which he will take to the tops of mountains and to the places of rainfall, run away with his religion (in order to save it) from afflictions.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ماجشون نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ایک مسلمان کا سب سے بہتر مال بھیڑیں ہوں گی وہ انہیں لے کر پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں پر چلا جائے گا، اس دن وہ اپنے دین کو لے کر فسادوں سے ڈر کر وہاں سے بھاگ جائے گا۔
6495
Sahih
(35) CHAPTER. The disappearance of Al-Amanah.
( آخر زمانہ میں ) دنیا سے امانت داری کا اٹھ جانا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ، قَالَ : كَيْفَ إِضَاعَتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : إِذَا أُسْنِدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, When honesty is lost, then wait for the Hour. It was asked, How will honesty be lost, O Allah's Apostle? He said, When authority is given to those who do not deserve it, then wait for the Hour.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔“ پوچھا: یا رسول اللہ! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی؟ فرمایا ”جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔“
6496
Sahih
(35) CHAPTER. The disappearance of Al-Amanah.
( آخر زمانہ میں ) دنیا سے امانت داری کا اٹھ جانا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ ، حَدَّثَنَا : أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ ، وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا ، قَالَ : يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ ، فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ ، فَتُقْبَضُ فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ ، فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ ، فَيُقَالُ : إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا ، وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ : مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا رَدَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامُ ، وَإِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا رَدَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ أُبَايِعُ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا ، قَالَ الفِرَبْرِيُّ ، قَال أَبُو جَعْفَرٍ : حَدَّثْتُ أَبَا عَبْد اللَّهِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ عَاصِم ، يَقُولُ : أَبَا عُبَيْدٍ ، يَقُولً : قَالَ الأَصْمَعِيُّ ، وَأَبُو عَمْرٍو ، وَغَيْرُهُمَا ، جَذْرُ قُلُوبِ الرَّجَالِ الْجَذْرُ الأَصْلُ مِنْ كُلِّ شَيءٍ الوَكْتُ أَثَرُ الشَّيْءِ الْيَسِيرُ مِنْهُ ، وَالْمَجْلُ أَثَرُ الْعَمَلِ فِي الكَفِّ إذَا غَلُظَ .
Narrated Hudhaifa: Allah's Apostle narrated to us two narrations, one of which I have seen (happening) and I am waiting for the other. He narrated that honesty was preserved in the roots of the hearts of men (in the beginning) and then they learnt it (honesty) from the Qur'an, and then they learnt it from the (Prophet's) Sunna (tradition). He also told us about its disappearance, saying, A man will go to sleep whereupon honesty will be taken away from his heart, and only its trace will remain, resembling the traces of fire. He then will sleep whereupon the remainder of the honesty will also be taken away (from his heart) and its trace will resemble a blister which is raised over the surface of skin, when an ember touches one's foot; and in fact, this blister does not contain anything. So there will come a day when people will deal in business with each other but there will hardly be any trustworthy persons among them. Then it will be said that in such-and-such a tribe there is such-and-such person who is honest, and a man will be admired for his intelligence, good manners and strength, though indeed he will not have belief equal to a mustard seed in his heart. The narrator added: There came upon me a time when I did not mind dealing with anyone of you, for if he was a Muslim, his religion would prevent him from cheating; and if he was a Christian, his Muslim ruler would prevent him from cheating; but today I cannot deal except with so-and-so and so-and-so. (See Hadith No. 208, Vol. 9)
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ان سے زید بن وہب نے، کہا ہم سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں ارشاد فرمائیں۔ ایک کا ظہور تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اترتی ہے۔ پھر قرآن شریف سے، پھر حدیث شریف سے اس کی مضبوطی ہوتی جاتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے اٹھ جانے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ آدمی ایک نیند سوئے گا اور ( اسی میں ) امانت اس کے دل سے ختم ہو گی اور اس بےایمانی کا ہلکا نشان پڑ جائے گا۔ پھر ایک اور نیند لے گا اب اس کا نشان چھالے کی طرح ہو جائے گا جیسے تو پاؤں پر ایک چنگاری لڑھکائے تو ظاہر میں ایک چھالا پھول آتا ہے اس کو پھولا دیکھتا ہے، پر اندر کچھ نہیں ہوتا۔ پھر حال یہ ہو جائے گا کہ صبح اٹھ کر لوگ خرید و فروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت دار نہیں ہو گا، کہا جائے گا کہ بنی فلاں میں ایک امانت دار شخص ہے۔ کسی شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند ہے، کتنا بلند حوصلہ ہے اور کتنا بہادر ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ( امانت ) نہیں ہو گا۔“ ( حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے ایک ایسا وقت بھی گزارا ہے کہ میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ کس سے خرید و فروخت کرتا ہوں۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کو اسلام ( بےایمانی سے ) روکتا تھا۔ اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کا مددگار اسے روکتا تھا لیکن اب میں فلاں اور فلاں کے سوا کسی سے خرید و فروخت ہی نہیں کرتا۔
6497
Sahih
(35) CHAPTER. The disappearance of Al-Amanah.
( آخر زمانہ میں ) دنیا سے امانت داری کا اٹھ جانا
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً .
Narrated `Abdullah bin `Umar: I heard Allah's Apostle saying, People are just like camels, out of one hundred, one can hardly find a single camel suitable to ride.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی سی ہے قریب ہے کہ تو ان میں سے ایک کو بھی سواری کے قابل نہ پائے۔
6498
Sahih
(36) CHAPTER. Showing Off.
ریا اور شہرت طلبی کی مذمت میں
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَقُولُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهُ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَمَّعَ ، سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ يُرَائِي ، يُرَائِي اللَّهُ بِهِ .
Narrated Jundub: The Prophet said, He who lets the people hear of his good deeds intentionally, to win their praise, Allah will let the people know his real intention (on the Day of Resurrection), and he who does good things in public to show off and win the praise of the people, Allah will disclose his real intention (and humiliate him).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، کہا مجھ سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے آپ کے سوا کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چنانچہ میں ان کے قریب پہنچا تو میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( کسی نیک کام کے نتیجہ میں ) جو شہرت کا طالب ہو اللہ تعالیٰ اس کی بدنیتی قیامت کے دن سب کو سنا دے گا۔ اسی طرح جو کوئی لوگوں کو دکھانے کے لیے نیک کام کرے گا اللہ بھی قیامت کے دن اس کو سب لوگوں کو دکھلا دے گا۔
6499
Sahih
(37) CHAPTER. Whoever compelled himself to obey Allah.
جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُعَاذُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ ؟ ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ : أَنْ يَعْبُدُوهُ ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوهُ ؟ ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ .
Narrated Mu`adh bin Jabal: While I was riding behind the Prophet as a companion rider and there was nothing between me and him except the back of the saddle, he said, O Mu`adh! I replied, Labbaik O Allah's Apostle! And Sa`daik! He proceeded for a while and then said, O Mu`adh! I said, Labbaik and Sa`daik, O Allah's Apostle! He then proceeded for another while and said, O Mu`adh bin Jabal! I replied, Labbaik, O Allah's Apostle, and Sa`daik! He said, Do you know what is Allah's right on His slaves? I replied, Allah and His Apostle know better. He said, Allah's right on his slaves is that they should worship Him and not worship anything besides Him. He then proceeded for a while, and again said, O Mu`adh bin Jabal! I replied. Labbaik, O Allah's Apostle, and Sa`daik. He said, Do you know what is (Allah's) slaves' (people's) right on Allah if they did that? I replied, Allah and His Apostle know better. He said, The right of (Allah's) slaves on Allah is that He should not punish them (if they did that).
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ سوا کجاوہ کے آخری حصہ کے میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک، یا رسول اللہ! پھر تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے پھر فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! پھر تھوڑی دیر مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے۔ پھر فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا، اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا، اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ! فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ جب بندے یہ کر لیں تو ان کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا کہ بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔
6500
Sahih
(38) CHAPTER. The humility or modesty or lowliness (to lower oneself).
عاجزی کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ ، قَالَ . ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَتْ نَاقَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ ، وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَبَقَهَا ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَقَالُوا : سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ .
Narrated Anas: The Prophet had a she-camel called Al-`Adba' and it was too fast to surpass in speed. There came a bedouin riding a camel of his, and that camel outstripped it (i.e. Al-Aqba'). That result was hard on the Muslims who said sorrowfully, Al- Adba has been outstripped. Allah's Apostle said, It is due from Allah that nothing would be raised high in this world except that He lowers or puts it down.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زبیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو فزاری نے اور ابوخالد احمر نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا ( کوئی جانور دوڑ میں ) اس سے آگے نہیں بڑھ پاتا تھا۔ پھر ایک اعرابی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے آگے بڑھ گیا۔ مسلمانوں پر یہ معاملہ بڑا شاق گزرا اور کہنے لگے کہ افسوس عضباء پیچھے رہ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا ہے کہ جب دنیا میں وہ کسی چیز کو بڑھاتا ہے تو اسے وہ گھٹاتا بھی ہے۔
6501
Sahih
(38) CHAPTER. The humility or modesty or lowliness (to lower oneself).
عاجزی کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ : مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ ، وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Allah said, 'I will declare war against him who shows hostility to a pious worshipper of Mine. And the most beloved things with which My slave comes nearer to Me, is what I have enjoined upon him; and My slave keeps on coming closer to Me through performing Nawafil (praying or doing extra deeds besides what is obligatory) till I love him, so I become his sense of hearing with which he hears, and his sense of sight with which he sees, and his hand with which he grips, and his leg with which he walks; and if he asks Me, I will give him, and if he asks My protection (Refuge), I will protect him; (i.e. give him My Refuge) and I do not hesitate to do anything as I hesitate to take the soul of the believer, for he hates death, and I hate to disappoint him.
مجھ سے محمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے، ان سے عطاء نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ( یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے۔
6502
Sahih
(39) CHAPTER. The saying of the Prophet : “I have been sent, and the Hour (is at hand) as these two (fingers).” And the Statement of Allah: ...And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly! Allah is Able to do all things. (V.16:77)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میں اور قیامت دونوں ایسے نزدیک ہیں جیسے یہ ( کلمہ اور بیچ کی انگلیاں ) نزدیک ہیں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ هَكَذَا ، وَيُشِيرُ بِإِصْبَعَيْهِ فَيَمُدُّ بِهِمَا .
Narrated Sahl: Allah's Apostle said, I have been sent and the Hour (is at hand) as these two, showing his two fingers and sticking (separating) them out.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اور قیامت اتنے نزدیک نزدیک بھیجے گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے اشارہ سے ( اس نزدیکی کو ) بتایا پھر ان دونوں کو پھیلایا۔“
6503
Sahih
(39) CHAPTER. The saying of the Prophet : “I have been sent, and the Hour (is at hand) as these two (fingers).” And the Statement of Allah: ...And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly! Allah is Able to do all things. (V.16:77)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میں اور قیامت دونوں ایسے نزدیک ہیں جیسے یہ ( کلمہ اور بیچ کی انگلیاں ) نزدیک ہیں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ .
Narrated Anas: Allah's Apostle said, I have been sent and the Hour (is at hand) as these two (fingers).
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ اور ابوالتیاح نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اور قیامت ان دونوں ( انگلیوں ) کی طرح ( نزدیک نزدیک ) بھیجے گئے ہیں۔“
6504
Sahih
(39) CHAPTER. The saying of the Prophet : “I have been sent, and the Hour (is at hand) as these two (fingers).” And the Statement of Allah: ...And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly! Allah is Able to do all things. (V.16:77)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میں اور قیامت دونوں ایسے نزدیک ہیں جیسے یہ ( کلمہ اور بیچ کی انگلیاں ) نزدیک ہیں
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ ، يَعْنِي إِصْبَعَيْنِ ، تَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, I have been sent and the Hour (is at hand) as these two (fingers).
مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر بن عیاش نے خبر دی، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اور قیامت ان دو کی طرح بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی مراد دو انگلیوں سے تھی۔“ ابوبکر بن عیاش کے ساتھ اس حدیث کو اسرائیل نے بھی ابوحصین سے روایت کیا ہے۔
6505
Sahih
(40) CHAPTER. The rising of the sun from the west.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَرَآهَا النَّاسُ ، آمَنُوا أَجْمَعُونَ فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا ، فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ وَلَا يَطْوِيَانِهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يَلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أَحَدُكُمْ أُكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The Hour will not be established till the sun rises from the west, and when it rises (from the west) and the people see it, then all of them will believe (in Allah). But that will be the time when 'No good it will do to a soul to believe then. If it believed not before.. ' (6.158) The Hour will be established (so suddenly) that two persons spreading a garment between them will not be able to finish their bargain, nor will they be able to fold it up. The Hour will be established while a man is carrying the milk of his she-camel, but cannot drink it; and the Hour will be established when someone is not able to prepare the tank to water his livestock from it; and the Hour will be established when some of you has raised his food to his mouth but cannot eat it.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک سورج مغرب سے نہ نکلے گا۔ جب سورج مغرب سے نکلے گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے، یہی وہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو گا یا جس نے ایمان کے بعد عمل خیر نہ کیا ہو۔ پس قیامت آ جائے گی اور دو آدمی کپڑا درمیان میں ( خرید و فروخت کے لیے ) پھیلائے ہوئے ہوں گے۔ ابھی خرید و فروخت بھی نہیں ہوئی ہو گی اور نہ انہوں نے اسے لپیٹا ہی ہو گا ( کہ قیامت قائم ہو جائے گی ) اور قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہو گا اور اسے پی بھی نہیں سکے گا اور قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کرا رہا ہو گا اور اس کا پانی بھی نہ پی پائے گا۔ قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور اسے کھانے بھی نہ پائے گا۔“
6506
Sahih
(41) CHAPTER. Whoever loves to meet Allah, Allah (too) loves to meet him.
جو اللہ سے ملاقات کو پسند رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ ، قَالَ : لَيْسَ ذَاكِ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، اخْتَصَرَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَعَمْرٌو ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَقَالَ سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated 'Ubada bin As-Samit: The Prophet said, Who-ever loves to meet Allah, Allah (too) loves to meet him and who-ever hates to meet Allah, Allah (too) hates to meet him . `Aisha, or some of the wives of the Prophet said, But we dislike death. He said: It is not like this, but it is meant that when the time of the death of a believer approaches, he receives the good news of Allah's pleasure with him and His blessings upon him, and so at that time nothing is dearer to him than what is in front of him. He therefore loves the meeting with Allah, and Allah (too) loves the meeting with him. But when the time of the death of a disbeliever approaches, he receives the evil news of Allah's torment and His Requital, whereupon nothing is more hateful to him than what is before him. Therefore, he hates the meeting with Allah, and Allah too, hates the meeting with him.
ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، کہا ہم سے قتادہ نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔“ اور عائشہ رضی اللہ عنہا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے عرض کیا کہ مرنا تو ہم بھی نہیں پسند کرتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ملنے سے موت مراد نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ایماندار آدمی کو جب موت آتی ہے تو اسے اللہ کی خوشنودی اور اس کے یہاں اس کی عزت کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے ( اللہ سے ملاقات اور اس کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے ) ہوتی ہے، اس لیے وہ اللہ سے ملاقات کا خواہشمند ہو جاتا ہے اور اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے، اس وقت کوئی چیز اس کے دل میں اس سے زیادہ ناگوار نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے جا ملنے کو ناپسند کرنے لگتا ہے، پس اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ ابودواؤد طیالسی اور عمرو بن مرزوق نے اس حدیث کو شعبہ سے مختصراً روایت کیا ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے زرارہ بن ابی اوفی نے، ان سے سعد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
6507
Sahih
(41) CHAPTER. Whoever loves to meet Allah, Allah (too) loves to meet him.
جو اللہ سے ملاقات کو پسند رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ .
Narrated Abu Musa: The Prophet said, Whoever loves the meeting with Allah, Allah too, loves the meeting with him; and whoever hates the meeting with Allah, Allah too, hates the meeting with him.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔“
6508
Sahih
(41) CHAPTER. Whoever loves to meet Allah, Allah (too) loves to meet him.
جو اللہ سے ملاقات کو پسند رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ في رجال من أهل العلم ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ : إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يُخَيَّرُ ، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ، قُلْتُ : إِذًا لَا يَخْتَارُنَا ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ ، قَالَتْ : فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلُهُ : اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) When Allah's Apostle was in good health, he used to say, No prophet's soul is ever captured unless he is shown his place in Paradise and given the option (to die or survive). So when the death of the Prophet approached and his head was on my thigh, he became unconscious for a while and then he came to his senses and fixed his eyes on the ceiling and said, O Allah (with) the highest companions. (See Qur'an 4:69). I said' Hence he is not going to choose us. And I came to know that it was the application of the narration which he (the Prophet) used to narrate to us. And that was the last statement of the Prophet (before his death) i.e., O Allah! With the highest companions. (See Qur'an 4:69)
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل بن خالد نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے چند علم والوں کے سامنے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ خاصے تندرست تھے فرمایا تھا کسی نبی کی اس وقت تک روح قبض نہیں کی جاتی جب تک جنت میں اس کے رہنے کی جگہ اسے دکھا نہ دی جاتی ہو اور پھر اسے ( دنیا یا آخرت کے لیے ) اختیار دیا جاتا ہے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا تو آپ پر تھوڑی دیر کے لیے غشی چھا گئی، پھر جب آپ کو ہوش آیا تو آپ چھت کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھنے لگے۔ پھر فرمایا «اللهم الرفيق الأعلى» میں نے کہا کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ترجیح نہیں دے سکتے اور میں سمجھ گئی کہ یہ وہی حدیث ہے جو آپ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمائی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے اپنی زبان مبارک سے ادا فرمایا یعنی یہ ارشاد کہ «اللهم الرفيق الأعلى» یعنی یا اللہ! مجھ کو بلند رفیقوں کا ساتھ پسند ہے۔
6509
Sahih
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ ، يَشُكُّ عُمَرُ ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ ، فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ ، ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى ، حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : الْعُلْبَةُ مِنَ الْخَشَبِ ، وَالرَّكْوَةُ مِنَ الْأَدَمِ .
Narrated `Aisha: There was a leather or wood container full of water in front of Allah's Apostle (at the time of his death). He would put his hand into the water and rub his face with it, saying, None has the right to be worshipped but Allah! No doubt, death has its stupors. Then he raised his hand and started saying, (O Allah!) with the highest companions. (See Qur'an 4:69) (and kept on saying it) till he expired and his hand dropped.
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی وفات کے وقت ) آپ کے سامنے ایک بڑا پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں پانی تھا۔ یہ عمر کو شبہ ہوا کہ ہانڈی کا کونڈا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈالتے اور پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرہ پر ملتے اور فرماتے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بلاشبہ موت میں تکلیف ہوتی ہے، پھر آپ اپنا ہاتھ اٹھا کر فرمانے لگے «في الرفيق الأعلى» یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض ہو گئی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا۔
6510
Sahih
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ جُفَاةً يَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَسْأَلُونَهُ مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أَصْغَرِهِمْ ، فَيَقُولُ : إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ ، قَالَ هِشَامٌ : يَعْنِي مَوْتَهُمْ .
Narrated `Aisha: Some rough bedouins used to visit the Prophet and ask him, When will the Hour be? He would look at the youngest of all of them and say, If this should live till he is very old, your Hour (the death of the people addressed) will take place. Hisham said that he meant (by the Hour), their death.
مجھ سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ چند بدوی جو ننگے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور آپ سے دریافت کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کم عمر والے کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آ جائے گی۔ ہشام نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ( قیامت سے ) ان کی موت تھی۔
6511
Sahih

Chapters

53
01
(1) CHAPTER. Health and leisure (free time for doing good deeds). There is no life worth living except the life in the Hereafter.
صحت اور فراغت کے بیان میں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The example of this world in contrast with the Hereafter.
آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Be in this world as if you were a stranger.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. About hope and hoping too much (for long life and worldly pleasures).
آرزو کی رسی کا دراز ہونا
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. If somebody reaches sixty years of age, he has no right to ask Allah for a new lease of life (to make up for his past shortcomings), for Allah says: ...Did We not give you lives long enough, so that whoever would receive admonition - could receive it? And the warner (of Allah) came to you... (V.35:37)
جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. The deed which is done seeking Allah‘s Countenance (i.e., for the sake of Allah).
ایسا کام جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو
3 Hadith
07
(7) CHAPTER. The warning regarding worldly pleasures, amusements and competing against each other for the enjoyment thereof.
دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا
8 Hadith
08
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “O mankind! Verily the Promise of Allah is true. So let not this present life deceive you, and let not the chief deceiver (Satan) deceive you about Allah. Surely, Satan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy. He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the Blazing Fire.” (V.35:5,6)
اللہ پاک کا سورۃ فاطر میں فرمانا
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The righteous people will depart (die).
صالحین کا گزر جانا
1 Hadith
10
(10) CI-IAPTER. The Fitnah (trial and affliction) of wealth should be warded off.
مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا
6 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Wealth is (like) green sweet (fruit).” And the Statement of Allah: Beautified for men is the love of things they covet: women, children... (V.3:14)
نبی کریم کا یہ فرمان کہ یہ ( دنیا کا ) مال سرسبز میٹھا ہے ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whatever one spends from his money (on good deeds) will be better for him (in the Hereafter).
آدمی جو اللہ کی راہ میں دیدے وہی اس کا اصلی مال ہے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The rich (who do not spend their wealth on good deeds) are infact the poor (i.e., little rewarded).
جو لوگ دنیا میں زیادہ ( مالدار ) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet : “It would not please me to have gold equal to this rnoutain of Uhud.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو تو بھی مجھ کو یہ پسند نہیں
2 Hadith
15
(15) CHAPTER. True riches is self-contentment.
مالدار وہ ہے جس کا دل غنی ہو
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The superiority of being poor.
فقر کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
17
(17) CHAPTER. How the Prophet and his Companions used to live, and how they gave up their interest in the world.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا سے کنارہ کشی کا بیان
5 Hadith
18
(18) CHAPTER. The adoption of a middle course (not to go to extremes), and the regularity of one's deeds.
نیک عمل پر ہمیشگی کرنا اور درمیانی چال چلنا ( نہ کمی ہو نہ زیادتی )
8 Hadith
19
(19) CHAPTER. Hope (that Allah will forgive one's sins and will accept one's good deeds) with fear (of Allah).
اللہ کے خوف کے ساتھ امید بھی رکھنا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
2 Hadith
21
(21) CHAPTER. “...And whosoever puts his trust in Allah, then He (Allah) will suffice him... (V.65:3)
جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ بھی اس کے لئے کافی ہو گا ( الطلاق 3 )
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. What is disliked about Qil and Qal (i.e., sinful and useless talk).
بےفائدہ بات چیت کرنا منع ہے
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. To protect one's tongue (from illegal talk, e.g., laying, abusing or backbiting, etc.).
زبان کی ( غلط باتوں سے ) حفاظت کرنا
5 Hadith
24
(24) CHAPTER. Weeping out of fear of Allah.
اللہ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. To be afraid of Allah.
اللہ سے ڈرنے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. To give up sinful deeds.
گناہوں سے باز رہنے کا بیان
3 Hadith
27
(27) CHAPTER. The saying of the Prophet : “If you knew that which I know, you would laugh little and weep much.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد
2 Hadith
28
(28) CHAPTER. The (Hell) Fire is surrounded by all kinds of desires and passions.
دوزخ کو خواہشات نفسانی سے ڈھک دیا گیا ہے
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. Paradise is nearer to anyone of you than the Shirak of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی ہے
1 Hadith
30
(29) CHAPTER. Paradise is nearer to anyone of you than the Shirak of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
اسے دیکھنا چاہئے جو نیچے درجہ کا ہے اسے نہیں دیکھنا چاہئے جس کا مرتبہ اس سے اونچاہے
2 Hadith
31
(31) CHAPTER. Whoever intended to do a good deed or a bad deed.
جس نے کسی نیکی یا بدی کا ارادہ کیا اس کا نتیجہ کیا ہے ؟
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. What minor sins should be warded off.
چھوٹے اور حقیر گناہوں سے بھی بچتے رہنا
1 Hadith
33
(33) CHAPTER. The (results of) deeds done depend upon the last actions. And that one should be afraid of it.
عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے اور خاتمہ سے ڈرتے رہنا
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. Seclusion is better for a believer than to have evil companions.
بری صحبت سے تنہا ئی بہتر ہے
2 Hadith
35
(35) CHAPTER. The disappearance of Al-Amanah.
( آخر زمانہ میں ) دنیا سے امانت داری کا اٹھ جانا
3 Hadith
36
(36) CHAPTER. Showing Off.
ریا اور شہرت طلبی کی مذمت میں
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Whoever compelled himself to obey Allah.
جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. The humility or modesty or lowliness (to lower oneself).
عاجزی کرنے کے بیان میں
2 Hadith
39
(39) CHAPTER. The saying of the Prophet : “I have been sent, and the Hour (is at hand) as these two (fingers).” And the Statement of Allah: ...And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly! Allah is Able to do all things. (V.16:77)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میں اور قیامت دونوں ایسے نزدیک ہیں جیسے یہ ( کلمہ اور بیچ کی انگلیاں ) نزدیک ہیں
3 Hadith
40
(40) CHAPTER. The rising of the sun from the west.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
41
(41) CHAPTER. Whoever loves to meet Allah, Allah (too) loves to meet him.
جو اللہ سے ملاقات کو پسند رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے
3 Hadith
42
(42) CHAPTER. The stupors of death.
موت کی سختیوں کا بیان
7 Hadith
43
(43) CHAPTER. The blowing of the Trumpet, on the Day of Resurrection.
صور پھونکنے کا بیان
2 Hadith
44
(44) CHAPTER. On the Day of Resurrection, Allah will grasp (or hold) the whole (planet of) earth (in His Hand).
اللہ تعالیٰ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
3 Hadith
45
(45) CHAPTER. The gathering (on the Day of Resurrection).
حشر کی کیفیت کے بیان میں
8 Hadith
46
(46) CHAPTER. The Saying (of Allah): ...Verily, the earthquake of the Hour (of judgement) is a terrible thing. (V.22:1)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحج میں ارشاد کہ
1 Hadith
47
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “Think they not that they will be resurrected (for reckoning), on a Great Day. The Day when (all) mankind will stand before the Lord of Al-Alamin (mankind, jinn and all that exists).” (V.83:4-6)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المطففین میں یوں فرمانا کہ
3 Hadith
48
(48) CHAPTER. AI-Qisas (retaliation) on the Day of Resurrection.
قیامت کے دن بدلہ لیا جانا
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. Anybody whose account (record) is questioned will surely be punished.
جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب کیا جائے گا
5 Hadith
50
(50) CHAPTER. Seventy thousand (persons) will enter Paradise without accounts.
جنت میں ستر ہزار آدمی بلاحساب داخل ہوں گے
1 Hadith
51
(50) CHAPTER. Seventy thousand (persons) will enter Paradise without accounts.
جنت و جہنم کا بیان
31 Hadith
52
(52) CHAPTER. As-Sirat is a bridge across the Hell.
صراط ایک پل ہے جو دوزخ پر بنایاگیا ہے
2 Hadith
53
(53) CHAPTER. (What is said) regarding Al-Haud (the Prophet's Tank - Al-Kauthar).
حوضکوثر کے بیان میں
19 Hadith
No chapter matched that.