TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of the expiation of unfulfilled oaths. - کتاب قسموں کے کفارہ کے بیان میں - Book 85 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 85 of Sahih Bukhari, with 10 chapters and 15 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

15 Hadith · 10 Chapters
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Then for the) expiation (of a deliberate oath) feed ten Masakin (poor persons)…
اور سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُهُ : يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ادْنُ ، فَدَنَوْتُ فَقَالَ : أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ ، أَوْ صَدَقَةٍ ، أَوْ نُسُكٍ ، وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَالنُّسُكُ : شَاةٌ وَالْمَسَاكِينُ : سِتَّةٌ .
Narrated Ka`b bin 'Ujra: I came to the Prophet and he said to me, Come near. So I went near to him and he said, Are your lice troubling you? I replied, Yes. He said, (Shave your head and) make expiation in the form of fasting, Sadaqa (giving in charity), or offering a sacrifice. (The sub-narrator) Aiyub said, Fasting should be for three days, and the Nusuk (sacrifice) is to be a sheep, and the Sadaqa is to be given to six poor persons.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوشہاب عبداللہ بن نافع نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہو جا، میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے سر کے کپڑے تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزے صدقہ یا قربانی کا فدیہ دیدے۔ اور مجھے ابن عون نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ روزے تین دن کے ہوں گے اور قربانی ایک بکری کی اور ( کھانے کے لیے ) چھ مسکین ہوں گے۔
6708
Sahih
(2) CHAPTER. When is expiation due or obligatory upon the rich and the poor? And the Statement of Allah: Allah has already ordained fro you (O men) the dissolution of your oaths. And Allah is your Maula (Lord, Master, Protector) and He is the All-Knower, the All-Wise. (V.66:2)
سورۃ التحریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ فِيهِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، قَالَ : وَمَا شَأْنُكَ ؟ ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : تَسْتَطِيعُ تُعْتِقُ رَقَبَةً ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، وَالْعَرَقُ : الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ ، قَالَ : خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ، قَالَ : أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا ؟ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ .
Narrated Abu Huraira: A man came to the Prophet and said, I am ruined! The Prophet said, What is the matter with you? He said, I had sexual relation with my wife (while I was fasting) in Ramadan. The Prophet said, Have you got enough to manumit a slave? He said, No. The Prophet said, Can you fast for two successive months? The man said, No. The Prophet said, Can you feed sixty poor persons? The man said, No. Then the Prophet said to him, Sit down, and he sat down. Afterwards an 'Irq, i.e., a big basket containing dates was brought to the Prophet and the Prophet said to him, Take this and give it in charity. The man said, To poorer people than we? On that, the Prophet smiled till his premolar teeth became visible, and then told him, Feed your family with it. (See Hadith No. 157, Vol 3)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ان کی زبان سے سنا وہ حمید بن عبدالرحمٰن سے بیان کرتے تھے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ وہ صاحب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ( «عرق» ایک بڑا پیمانہ ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا، کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر ( صدقہ کر دوں ) ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے سامنے کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بچوں ہی کو کھلا دینا۔
6709
Sahih
(3) CHAPTER. The man who helped another person in difficult circumstances to make an expiation (for the latter's fault).
جس نے کفارہ کے ادا کرنے کے لے کسی تنگدست کی مدد کی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ فَقَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ ، قَالَ : وَقَعْتُ بِأَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : تَجِدُ رَقَبَةً ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِعَرَقٍ ، وَالْعَرَقُ : الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : اذْهَبْ بِهَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ، قَالَ : أَعَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا ، ثُمَّ قَالَ : اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ .
Narrated Abu Huraira: A man came to Allah's Apostle and said, I am ruined! The Prophet said to him, What is the matter? He said, I have done a sexual relation with my wife (while fasting) in Ramadan. The Prophet said to him? Can you afford to manumit a slave? He said, No. The Prophet said, Can you fast for two successive months? He said, No. The Prophet said, Can you feed sixty poor persons? He said, No. Then an Ansari man came with an Irq (a big basket full of dates). The Prophet said (to the man), Take this (basket) and give it in charity. That man said, To poorer people than we, O Allah's Apostle? By Him Who has sent you with the Truth! There is no house in between the two mountains (of the city of Medina) poorer than we. So the Prophet said (to him), Go and feed it to your family.
ہم سے محمد بن محبوب بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر بن راشد نے، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کوئی غلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ دریافت فرمایا متواتر دو مہینے روزے رکھ سکتے ہو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ دریافت فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک انصاری صحابی «عرق» لے کر حاضر ہوئے، «عرق» ایک پیمانہ ہے، اس میں کھجوریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جا اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کروں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ ان دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا اور اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔
6710
Sahih
(4) CHAPTER. For expiation (of one's oath) one should feed ten poor persons no matter whether they are relatives or not.
کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہدار ہوں یادور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، قَالَ : وَمَا شَأْنُكَ ؟ ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ ، قَالَ : لَا أَجِدُ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ، فَقَالَ : أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا ؟ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا ، ثُمَّ قَالَ : خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ .
Narrated Abu Huraira: A man came to the Prophets and said, I am ruined! The Prophet said, What is the matter with you? He said, I have done a sexual relation with my wife (while fasting) in Ramadan The Prophet said to him, Can you afford to manumit a slave? He said, No. The Prophet said, Can you fast for two successive months? He said, No. The Prophet said, Can you feed sixty poor persons? He said, I have nothing. Later on an Irq (big basket) containing dates was given to the Prophet, and the Prophet said (to him), Take this basket and give it in charity. The man said, To poorer people than we? Indeed, there is nobody between its (i.e., Medina's) two mountains who is poorer than we. The Prophet then said, Take it and feed your family with it.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ دریافت فرمایا، کیا متواتر دو مہینے تم روزے رکھ سکتے ہو؟ کہا کہ نہیں، دریافت فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کیا کہ اس کے لیے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا اور صدقہ کر۔ انہوں نے پوچھا کہ اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ ان دونوں میدان کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اسے لے جا اور اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔
6711
Sahih
(4) CHAPTER. For expiation (of one's oath) one should feed ten poor persons no matter whether they are relatives or not.
کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہدار ہوں یادور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُدًّا وَثُلُثًا بِمُدِّكُمُ الْيَوْمَ ، فَزِيدَ فِيهِ : فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ .
Narrated Al-Ju'aid bin `Abdur-Rahman: As-Sa'ib bin Yazid said, The Sa' at the time of the Prophet was equal to one Mudd plus one-third of a Mudd of your time, and then it was increased in the time of Caliph `Umar bin `Abdul `Aziz.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قاسم بن مالک مزنی نے بیان کیا، کہا ہم سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے زمانہ کے مد سے ایک مد اور تہائی کے برابر ہوتا تھا۔ بعد میں عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں اس میں زیادتی کی گئی۔
6712
Sahih
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
مدینہ منورہ کا صاع ( ایک پیمانہ ) اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد ( ایک پیمانہ ) اور اس میں برکت ، اور بعدمیں بھی اہلمدینہ کو نسلاً بعد نسل جو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان
حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ وَهْوَ سَلْمٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي زَكَاةَ رَمَضَانَ ، بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْمُدِّ الْأَوَّلِ ، وَفِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ ، بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو قُتَيْبَةَ : قَالَ لَنَا مَالِكٌ : مُدُّنَا أَعْظَمُ مِنْ مُدِّكُمْ ، وَلَا نَرَى الْفَضْلَ إِلَّا فِي مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ لِي مَالِكٌ : لَوْ جَاءَكُمْ أَمِيرٌ فَضَرَبَ مُدًّا أَصْغَرَ مِنْ مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تُعْطُونَ ؟ قُلْتُ : كُنَّا نُعْطِي بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَفَلَا تَرَى أَنَّ الْأَمْرَ إِنَّمَا يَعُودُ إِلَى مُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Nafi`: Ibn `Umar used to give the Zakat of Ramadan (Zakat-al-Fitr) according to the Mudd of the Prophet, the first Mudd, and he also used to give things for expiation for oaths according to the Mudd of the Prophet. Abu Qutaiba said, Malik said to us, 'Our Mudd (i.e., of Medina) is better than yours and we do not see any superiority except in the Mudd of the Prophet!' Malik further said, to me, 'If a ruler came to you and fixed a Mudd smaller than the one of the Prophet, by what Mudd would you measure what you give (for expiation or Zakat-al-Fitr?' I replied, 'We would give it according to the Mudd of the Prophet' On that, Malik said, 'Then, don't you see that we have to revert to the Mudd of the Prophet ultimately?'
ہم سے منذر بن الولید الجارودی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوقتیبہ، سلم شعیری نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کا فطرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پہلے مد کے وزن سے دیتے تھے اور قسم کا کفارہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ہی دیتے تھے۔ ابوقتیبہ نے اسی سند سے بیان کیا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا کہ ہمارا مد تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہمارے نزدیک ترجیح صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کو ہے۔ اور مجھ سے امام مالک نے بیان کیا کہ اگر ایسا کوئی حاکم آیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے چھوٹا مد مقرر کر دے تو تم کس حساب سے ( صدقہ فطر وغیرہ ) نکا لو گے؟ میں نے عرض کیا کہ ایسی صورت میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کے حساب سے فطرہ نکالا کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ معاملہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے مد کی طرف لوٹتا ہے۔
6713
Sahih
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ کا رشاد ” یعنی قسم کے کفارہ میں ایک غلام کی آزادی “ اور کس طرح کے غلام کی آزادی افضل ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ ، وَصَاعِهِمْ ، وَمُدِّهِمْ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, O Allah! Bestow Your Blessings on their measures, Sa' and Mudd (i.e., of the people of Medina).
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! ان کے «كيل» پیمانے میں ان کے صاع اور ان کے مد میں برکت عطا فرما۔“
6714
Sahih
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “...Or manumit a slave...” (V.5:89) And the manumission of what sort of slave is best?
کفارہ میں مدبر ، ام الولد اور مکاتب اور ولد الزنا کا آزاد کرنا درست ہے اور طاؤس نے کہا کہ مدبر اور ام الولد کا آزاد کرنا کافی ہوگا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً ، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ ، حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, If somebody manumits a Muslim slave, Allah will save from the Fire every part of his body for freeing the corresponding parts of the slave's body, even his private parts will be saved from the Fire) because of freeing the slave's private parts.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے داؤد بن رشید نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ان سے ابوغسان محمد بن مطرف نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے زین العابدین علی بن حسین نے، ان سے سعید ابن مرجانہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک ٹکڑے کے بدلے آزاد کرنے والے کا ایک ایک ٹکڑا جہنم سے آزاد کرے گا۔ یہاں تک کہ غلام کی شرمگاہ کے بدلے آزاد کرنے والے کی شرمگاہ بھی دوزخ سے آزاد ہو جائے گی۔“
6715
Sahih
(7) CHAPTER. What is said about the manumission of Mudabbar, and Umm Walad and a Mukatab for expiation; and the manumission of a bastard.
جب کفارہ میں غلام آزاد کرے گا تو اس کی ولاء کسے حاصل ہو گی ؟
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا لَهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟ ، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، فَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ .
Narrated `Amr: Jabir said: An Ansari man made his slave a Mudabbar and he had no other property than him. When the Prophet heard of that, he said (to his companions), Who wants to buy him (i.e., the slave) for me? Nu'aim bin An-Nahham bought him for eight hundred Dirhams. I heard Jabir saying, That was a coptic slave who died in the same year.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم کو حماد بن زید نے خبر دی، انہیں عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب نے اپنے غلام کو مدبر بنا لیا اور ان کے پاس اس غلام کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا۔ جب اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ مجھ سے اس غلام کو کون خریدتا ہے۔ نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے خرید لیا۔ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ وہ ایک قبطی غلام تھا اور پہلے سال مر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نیلام فرما کر اس رقم سے اسے مکمل آزاد کرا دیا۔
6716
Sahih
(8) CHAPTER. If somebody manumits a slave for expiation (for dissolving oaths etc.), (then) for whom will the slave's Wala be?
اگر کوئی شخص قسم میں انشاءاللہ کہہ لے
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اشْتَرِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ .
Narrated `Aisha: that she intended to buy Barira (a slave girl) and her masters stipulated that they would have her Wala'. When `Aisha mentioned that to the Prophet ; he said, Buy her, for the Wala' is for the one who manumits.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کے، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو ( آزاد کرنے کے لیے ) خریدنا چاہا، تو ان کے پہلے مالکوں نے اپنے لیے ولاء کی شرط لگائی۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی سے ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔
6717
Sahih
(8) CHAPTER. If somebody manumits a slave for expiation (for dissolving oaths etc.), (then) for whom will the slave's Wala be?
اگر کوئی شخص قسم میں انشاءاللہ کہہ لے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ ، مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ ، ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا ، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا ، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا فَحَمَلَنَا ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي ، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ .
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari: I went to Allah's Apostle along with a group of people from (the tribe of) Al-Ash`ari, asking for mounts. The Prophet said, By Allah, I will not give you anything to ride, and I have nothing to mount you on. We stayed there as long as Allah wished, and after that, some camels were brought to the Prophet and he ordered that we be given three camels. When we set out, some of us said to others, Allah will not bless us, as we all went to Allah's Apostle asking him for mounts, and although he had sworn that he would not give us mounts, he did give us. So we returned to the Prophet; and mentioned that to him. He said, I have not provided you with mounts, but Allah has. By Allah, Allah willing, if I ever take an oath, and then see that another is better than the first, I make expiration for my (dissolved) oath, and do what is better and make expiration.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ حاضر ہوا اور آپ سے سواری کے لیے جانور مانگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ پھر جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے اور جب کچھ اونٹ آئے تو تین اونٹ ہمیں دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے بعض نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں اللہ اس میں برکت نہیں دے گا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہمیں سواری کے جانور نہیں دے سکتے اور آپ نے عنایت فرمائے ہیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے جانور کا انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو جب بھی میں کوئی قسم کھا لوں گا اور پھر اس کے سوا اور چیز میں اچھائی ہو گی تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا اور وہی کام کروں گا جس میں اچھائی ہو گی۔
6718
Sahih
(8) CHAPTER. If somebody manumits a slave for expiation (for dissolving oaths etc.), (then) for whom will the slave's Wala be?
اگر کوئی شخص قسم میں انشاءاللہ کہہ لے
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَقَالَ : إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي ، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، أَوْ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفَّرْتُ .
Narrated Hammad: the same narration above (i.e. 709), I make expiation for my dissolved oath, and I do what is better, or do what is better and make expiation.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے (اس روایت میں یہ ترتیب اسی طرح) بیان کی کہ میں قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہ کام کروں گا جس میں اچھائی ہو گی یا ( اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) میں کام وہ کروں گا جس میں اچھائی ہو گی اور کفارہ ادا کر دوں گا۔
6719
Sahih
(8) CHAPTER. If somebody manumits a slave for expiation (for dissolving oaths etc.), (then) for whom will the slave's Wala be?
اگر کوئی شخص قسم میں انشاءاللہ کہہ لے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً كُلٌّ تَلِدُ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي الْمَلَكَ : قُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَنَسِيَ ، فَطَافَ بِهِنَّ ، فَلَمْ تَأْتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ بِوَلَدٍ إِلَّا وَاحِدَةٌ بِشِقِّ غُلَامٍ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَرْوِيهِ ، قَالَ : لَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ ، وَكَانَ دَرَكًا لَهُ فِي حَاجَتِهِ ، وَقَالَ مَرَّةً : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوِ اسْتَثْنَى ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Narrated Abu Huraira: (The Prophet) Solomon said, Tonight I will sleep with (my) ninety wives, each of whom will get a male child who will fight for Allah's Cause. On that, his companion (Sufyan said that his companion was an angel) said to him, Say, If Allah will (Allah willing). But Solomon forgot (to say it). He slept with all his wives, but none of the women gave birth to a child, except one who gave birth to a halfboy. Abu Huraira added: The Prophet said, If Solomon had said, If Allah will (Allah willing), he would not have been unsuccessful in his action, and would have attained what he had desired. Once Abu Huraira added: Allah apostle said, If he had accepted.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حجیر نے، ان سے طاؤس نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ سلیمان علیہ السلام نے کہا تھا کہ آج رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک بچہ جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ ان کے ساتھی سفیان یعنی فرشتے نے ان سے کہا۔ اجی ان شاءاللہ تو کہو لیکن آپ بھول گئے اور پھر تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک بیوی کے سوا جس کے یہاں ناتمام بچہ ہوا تھا کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ نہیں ہوا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ان کی قسم بےکار نہ جاتی اور اپنی ضرورت کو پا لیتے اور ایک مرتبہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر انہوں نے استثناء کر دیا ہوتا۔ اور ہم سے ابوالزناد نے اعرج سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
6720
Sahih
(10) CHAPTER. To make expiation for one's oath before or after dissolving it.
قسم کا کفارہ ، قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد دونوں طرح دے سکتا ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ الْقَاسِمِ الْتَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الْحَيِّ ، مِنْ جَرْمٍ إِخَاءٌ وَمَعْرُوفٌ ، قَالَ : فَقُدِّمَ طَعَامٌ ، قَالَ : وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ ، قَالَ : وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى ، قَالَ : فَلَمْ يَدْنُ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : ادْنُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرْتُهُ ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا ، فَقَالَ : ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ ، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ ، قَالَ أَيُّوبُ : أَحْسِبُهُ قَالَ : وَهُوَ غَضْبَانُ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ ، فَقِيلَ : أَيْنَ هَؤُلَاءِ الْأَشْعَرِيُّونَ ، فَأَتَيْنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى ، قَالَ : فَانْدَفَعْنَا ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا ، نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ ، وَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا ، ارْجِعُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْنُذَكِّرْهُ يَمِينَهُ ، فَرَجَعْنَا فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ ، اللَّهِ أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ ، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا ، فَظَنَنَّا أَوْ فَعَرَفْنَا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ ، قَالَ : انْطَلِقُوا ، فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَتَحَلَّلْتُهَا ، تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ الْكُلَيْبِيِّ .
Narrated Zahdam al-Jarmi: We were sitting with Abu Musa Al-Ash'sari, and as there were ties of friendship and mutual favors between us and his tribe. His meal was presented before him and there was chicken meat in it. Among those who were present there was a man from Bani Taimillah having a red complexion as a non-Arab freed slave, and that man did not approach the meal. Abu Musa said to him, Come along! I have seen Allah's Apostle eating of that (i.e., chicken). The man said, I have seen it (chickens) eating something I regarded as dirty, and so I have taken an oath that I shall not eat (its meat) chicken. Abu Musa said, Come along! I will inform you about it (i.e., your oath). Once we went to Allah's Apostle in company with a group of Ash'airiyin, asking him for mounts while he was distributing some camels from the camels of Zakat. (Aiyub said, I think he said that the Prophet was in an angry mood at the time. ) The Prophet said, 'By Allah! I will not give you mounts, and I have nothing to mount you on.' After we had left, some camels of booty were brought to Allah's Apostle and he said, Where are those Ash`ariyin? Where are those Ash`ariyin? So we went (to him) and he gave us five very fat good-looking camels. We mounted them and went away, and then I said to my companions, 'We went to Allah's Apostle to give us mounts, but he took an oath that he would not give us mounts, and then later on he sent for us and gave us mounts, perhaps Allah's Apostle forgot his oath. By Allah, we will never be successful, for we have taken advantage of the fact that Allah's Apostle forgot to fulfill his oath. So let us return to Allah's Apostle to remind him of his oath.' We returned and said, 'O Allah's Apostle! We came to you and asked you for mounts, but you took an oath that you would not give us mounts) but later on you gave us mounts, and we thought or considered that you have forgotten your oath.' The Prophet said, 'Depart, for Allah has given you Mounts. By Allah, Allah willing, if I take an oath and then later find another thing better than that, I do what is better, and make expiation for the oath.'
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے قاسم تمیمی نے، ان سے زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ہمارے قبیلہ اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارگی اور باہمی حسن معاملہ کی روش تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر کھانا لایا گیا اور کھانے میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ حاضرین میں بنی تیم اللہ کا ایک شخص سرخ رنگ کا بھی تھا جیسے مولیٰ ہو۔ بیان کیا کہ وہ شخص کھانے پر نہیں آیا تو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ شریک ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا تھا جب سے اس سے گھن آنے لگی اور اسی وقت میں نے قسم کھا لی کہ کبھی اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ نے کہا: قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاؤں گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کے اونٹوں میں سے تقسیم کر رہے تھے۔ ایوب نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو سواری کے لیے تمہیں دے سکوں۔ بیان کیا کہ پھر ہم واپس آ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے، تو پوچھا گیا کہ اشعریوں کی جماعت کہاں ہے۔ ہم حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دئیے جانے کا حکم دیا۔ بیان کیا کہ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے لیے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ پھر ہمیں بلا بھیجا اور سواری کا جانور عنایت فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں گے۔ واللہ! اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم کے بارے میں غفلت میں رکھا تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ چلو ہم سب آپ کے پاس واپس چلیں اور آپ کو آپ کی قسم یاد دلائیں۔ چنانچہ ہم واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم پہلے آئے تھے اور آپ سے سواری کا جانور مانگا تھا تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے، ہم نے سمجھا کہ آپ اپنی قسم بھول گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ، تمہیں اللہ نے سواری دی ہے، واللہ اگر اللہ نے چاہا تو میں جب بھی کوئی قسم کھا لوں اور پھر دوسری چیز کو اس کے مقابل بہتر سمجھوں تو وہی کروں گا جو بہتر ہو گا اور اپنی قسم توڑ دوں گا۔ اس روایت کی متابعت حماد بن زید نے ایوب سے کی، ان سے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم کلیبی نے۔
6721
Sahih
(10) CHAPTER. To make expiation for one's oath before or after dissolving it.
قسم کا کفارہ ، قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد دونوں طرح دے سکتا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ ، أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ ، وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، تَابَعَهُ أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، وَتَابَعَهُ يُونُسُ ، وَسِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَسِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحُمَيْدٌ ، وَقَتَادَةُ ، وَمَنْصُورٌ ، وَهِشَامٌ ، وَالرَّبِيعُ .
Narrated `Abdur-Rahman bin Samura: Allah's Apostle said, (O `Abdur-Rahman!) Do not seek to be a ruler, for, if you are given the authority of ruling without your asking for it, then Allah will help you; but if you are given it by your asking, then you will be held responsible for it (i.e. Allah will not help you ) . And if you take an oath to do something and later on find another thing, better than that, then do what is better and make expiation for (the dissolution of) your oath.
مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر بن فارس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ ابن عون نے خبر دی، انہیں امام حسن بصری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبھی تم حکومت کا عہدہ طلب نہ کرنا کیونکہ اگر بلا مانگے تمہیں یہ مل جائے گا تو اس میں تمہاری منجانب اللہ مدد کی جائے گی، لیکن اگر مانگنے پر ملا تو سارا بوجھ تمہیں پر ڈال دیا جائے گا اور اگر تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کوئی اور بات بہتر نظر آئے تو وہی کرو جو بہتر ہو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔ عثمان بن عمر کے ساتھ اس حدیث کو اشہل بن حاتم نے بھی عبداللہ بن عون سے روایت کیا، اس کو ابوعوانہ اور حاکم نے وصل کیا اور عبداللہ بن عون کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور سماک بن عطیہ اور سماک بن حرب اور حمید اور قتادہ اور منصور اور ہشام اور ربیع نے بھی روایت کیا۔
6722
Sahih

Chapters

10
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Then for the) expiation (of a deliberate oath) feed ten Masakin (poor persons)…
اور سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. When is expiation due or obligatory upon the rich and the poor? And the Statement of Allah: Allah has already ordained fro you (O men) the dissolution of your oaths. And Allah is your Maula (Lord, Master, Protector) and He is the All-Knower, the All-Wise. (V.66:2)
سورۃ التحریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The man who helped another person in difficult circumstances to make an expiation (for the latter's fault).
جس نے کفارہ کے ادا کرنے کے لے کسی تنگدست کی مدد کی
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. For expiation (of one's oath) one should feed ten poor persons no matter whether they are relatives or not.
کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہدار ہوں یادور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
مدینہ منورہ کا صاع ( ایک پیمانہ ) اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد ( ایک پیمانہ ) اور اس میں برکت ، اور بعدمیں بھی اہلمدینہ کو نسلاً بعد نسل جو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان
1 Hadith
06
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ کا رشاد ” یعنی قسم کے کفارہ میں ایک غلام کی آزادی “ اور کس طرح کے غلام کی آزادی افضل ہے
1 Hadith
07
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “...Or manumit a slave...” (V.5:89) And the manumission of what sort of slave is best?
کفارہ میں مدبر ، ام الولد اور مکاتب اور ولد الزنا کا آزاد کرنا درست ہے اور طاؤس نے کہا کہ مدبر اور ام الولد کا آزاد کرنا کافی ہوگا
1 Hadith
08
(7) CHAPTER. What is said about the manumission of Mudabbar, and Umm Walad and a Mukatab for expiation; and the manumission of a bastard.
جب کفارہ میں غلام آزاد کرے گا تو اس کی ولاء کسے حاصل ہو گی ؟
1 Hadith
09
(8) CHAPTER. If somebody manumits a slave for expiation (for dissolving oaths etc.), (then) for whom will the slave's Wala be?
اگر کوئی شخص قسم میں انشاءاللہ کہہ لے
4 Hadith
10
(10) CHAPTER. To make expiation for one's oath before or after dissolving it.
قسم کا کفارہ ، قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد دونوں طرح دے سکتا ہے
2 Hadith
No chapter matched that.