TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-hudud. - کتاب حد اور سزاؤں کے بیان میں - Book 87 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 87 of Sahih Bukhari, with 15 chapters and 30 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

30 Hadith · 15 Chapters
(2) CHAPTER. (The crime of) illegal sexual intercourse and the drinking of alcoholic drinks.
حدود سے بچنے ، زنا شراب نوشی کے بیان میں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمِثْلِهِ إِلَّا النُّهْبَةَ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, When an adulterer commits illegal sexual intercourse, then he is not a believer at the time he is doing it; and when somebody drinks an alcoholic drink, then he is not believer at the time of drinking, and when a thief steals, he is not a believer at the time when he is stealing; and when a robber robs and the people look at him, then he is not a believer at the time of doing it. Abu Huraira in another narration, narrated the same from the Prophet with the exclusion of robbery.
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بھی زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی لوٹنے والا لوٹتا ہے کہ لوگ نظریں اٹھا اٹھا کر اسے دیکھنے لگتے ہیں تو وہ مؤمن نہیں رہتا۔“ اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے بیان کیا ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سوا لفظ «نهبة‏.‏» کے۔
6772
Sahih
(2b) CHAPTER. What is said regarding the beating (lashing) of a drunk.
شراب پینے والے کو مارنے کے بیان میں ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ،حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ ، وَالنِّعَالِ ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet beat a drunk with palm-leaf stalks and shoes. And Abu Bakr gave (such a sinner) forty lashes.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (دوسری سند) ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتے سے مارا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے۔
6773
Sahih
(3) CHAPTER. Whoever ordered that the legal punishment was to be carried out at home.
جس نے گھر میں حد مارنے کا حکم دیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : جِيءَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوْ بِابْنِ النُّعَيْمَانِ شَارِبًا ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ ، قَالَ : فَضَرَبُوهُ ، فَكُنْتُ أَنَا فِيمَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ .
Narrated `Uqba bin Al-Harith: An-Nu`man or the son of An-Nu`man was brought to the Prophet on a charge of drunkenness. So the Prophet ordered all the men present in the house, to beat him. So all of them beat him, and I was also one of them who beat him with shoes.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو شراب کے نشہ میں لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں، انہوں نے مارا عقبہ کہتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس کو جوتوں سے مارا۔
6774
Sahih
(4) CHAPTER. Beating with stalks of date-palm leaves and shoes.
( شراب میں ) چھڑی اور جوتے سے مارنا ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُتِيَ بِنُعَيْمَانَ أَوْ بِابْنِ نُعَيْمَانَ وَهُوَ سَكْرَانُ ، فَشَقَّ عَلَيْهِ ، وَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ ، فَضَرَبُوهُ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ ، وَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ .
Narrated' `Uqba bin Al-Harith: An-Nu`man or the son of An-Nu`man was brought to the Prophet in a state of intoxication. The Prophet felt it hard (was angry) and ordered all those who were present in the house, to beat him. And they beat him, using palm-leaf stalks and shoes, and I was among those who beat him.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعیمان یا ابن نعیمان کو لایا گیا، وہ نشہ میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ناگوار گزرا اور آپ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں۔ چنانچہ لوگوں نے انہیں لکڑی اور جوتوں سے مارا اور میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے مارا تھا۔
6775
Sahih
(4) CHAPTER. Beating with stalks of date-palm leaves and shoes.
( شراب میں ) چھڑی اور جوتے سے مارنا ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ ، بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ .
Narrated Anas: The Prophet lashed a drunk with dateleaf stalks and shoes. And Abu Bakr gave a drunk forty lashes.
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتوں سے مارا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس ( 40 ) کوڑے لگوائے تھے۔
6776
Sahih
(4) CHAPTER. Beating with stalks of date-palm leaves and shoes.
( شراب میں ) چھڑی اور جوتے سے مارنا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ ، قَالَ : اضْرِبُوهُ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَخْزَاكَ اللَّهُ ، قَالَ : لَا تَقُولُوا هَكَذَا ، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ .
Narrated Abu Salama: Abu Huraira said, A man who drank wine was brought to the Prophet. The Prophet said, 'Beat him! Abu Huraira added, So some of us beat him with our hands, and some with their shoes, and some with their garments (by twisting it) like a lash, and then when we finished, someone said to him, 'May Allah disgrace you!' On that the Prophet said, 'Do not say so, for you are helping Satan to overpower him.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے انس نے بیان کیا، ان سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو شراب پیے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے اسے ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو کسی نے کہا کہ اللہ تجھے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کے جملے نہ کہو، اس کے معاملہ میں شیطان کی مدد نہ کر۔
6777
Sahih
(4) CHAPTER. Beating with stalks of date-palm leaves and shoes.
( شراب میں ) چھڑی اور جوتے سے مارنا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، سَمِعْتُ عُمَيْرَ بْنَ سَعِيدٍ النَّخَعِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ حَدًّا عَلَى أَحَدٍ فَيَمُوتَ فَأَجِدَ فِي نَفْسِي ، إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ : فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ يَسُنَّهُ .
Narrated `Ali bin Abi Talib: I would not feel sorry for one who dies because of receiving a legal punishment, except the drunk, for if he should die (when being punished), I would give blood money to his family because no fixed punishment has been ordered by Allah's Apostle for the drunk.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن الحارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمیر بن سعید نخعی سے سنا، کہا کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نہیں پسند کروں گا کہ حد میں کسی کو ایسی سزا دوں کہ وہ مر جائے اور پھر مجھے اس کا رنج ہو، سوا شرابی کے کہ اگر وہ مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کر دوں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی تھی۔
6778
Sahih
(4) CHAPTER. Beating with stalks of date-palm leaves and shoes.
( شراب میں ) چھڑی اور جوتے سے مارنا ۔
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُعَيْدِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ ، فَنَقُومُ إِلَيْهِ بِأَيْدِينَا ، وَنِعَالِنَا ، وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ ، فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ .
Narrated As-Sa'ib bin Yazid: We used to strike the drunks with our hands, shoes, clothes (by twisting it into the shape of lashes) during the lifetime of the Prophet, Abu Bakr and the early part of `Umar's caliphate. But during the last period of `Umar's caliphate, he used to give the drunk forty lashes; and when drunks became mischievous and disobedient, he used to scourge them eighty lashes.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جعید نے، ان سے یزید بن خصیفہ نے، ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں شراب پینے والا ہمارے پاس لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھ، جوتے اور چادریں لے کر کھڑے ہو جاتے ( اور اسے مارتے ) آخر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری دور خلافت میں شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے مارے اور جب ان لوگوں نے مزید سرکشی کی اور فسق و فجور کیا تو ( 80 ) اسی کوڑے مارے۔
6779
Sahih
(5) CHAPTER. Cursing is disliked against the drunkard and the fact that he is not regarded as a non-Muslim.
شراب پینے والا اسلام سے نکل نہیں جاتا نہ اس پر لعنت کرنی چاہئے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ ، وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا ، وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ ، فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : اللَّهُمَّ الْعَنْهُ ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَلْعَنُوهُ ، فَوَاللَّهِ ، مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
Narrated `Umar bin Al-Khattab: During the lifetime of the Prophet there was a man called `Abdullah whose nickname was Donkey, and he used to make Allah's Apostle laugh. The Prophet lashed him because of drinking (alcohol). And one-day he was brought to the Prophet on the same charge and was lashed. On that, a man among the people said, O Allah, curse him ! How frequently he has been brought (to the Prophet on such a charge)! The Prophet said, Do not curse him, for by Allah, I know for he loves Allah and His Apostle.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص، جس کا نام عبداللہ تھا اور «حمار» کے لقب سے پکارے جاتے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شراب پینے پر مارا تھا تو انہیں ایک دن لایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حکم دیا اور انہیں مارا گیا۔ حاضرین میں ایک صاحب نے کہا: اللہ اس پر لعنت کرے! کتنی مرتبہ کہا جا چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو واللہ میں نے اس کے متعلق یہی جانا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔
6780
Sahih
(5) CHAPTER. Cursing is disliked against the drunkard and the fact that he is not regarded as a non-Muslim.
شراب پینے والا اسلام سے نکل نہیں جاتا نہ اس پر لعنت کرنی چاہئے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَكْرَانَ ، فَأَمَرَ بِضَرْبِهِ ، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِيَدِهِ ، وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِنَعْلِهِ ، وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِثَوْبِهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ رَجُلٌ : مَا لَهُ أَخْزَاهُ اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَكُونُوا عَوْنَ الشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ .
Narrated Abu Huraira: A drunk was brought to the Prophet and he ordered him to be beaten (lashed). Some of us beat him with our hands, and some with their shoes, and some with their garments (twisted in the form of a lash). When that drunk had left, a man said, What is wrong with him? May Allah disgrace him! Allah's Apostle said, Do not help Satan against your (Muslim) brother.
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے ابن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نشہ میں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا۔ ہم میں سے بعض نے انہیں ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو ایک شخص نے کہا، کیا ہو گیا اسے؟ اللہ اسے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔
6781
Sahih
(6) CHAPTER. The thief while stealing.
چور جب چوری کرتا ہے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, When (a person) an adulterer commits illegal sexual intercourse then he is not a believer at the time he is doing it; and when somebody steals, then he is not a believer at the time he is stealing.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔“
6782
Sahih
(7) CHAPTER. (It is permissible) to curse thieves (generally) without mentioning names.
چور کا نام لئے بغیر اس پر لعنت بھیجنا درست ہے ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ بَيْضُ الْحَدِيدِ ، وَالْحَبْلُ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْهَا مَا يَسْوَى دَرَاهِمَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Allah curses a man who steals an egg and gets his hand cut off, or steals a rope and gets his hands cut off. Al-A`mash said, People used to interpret the Baida as an iron helmet, and they used to think that the rope may cost a few dirhams.
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے چور پر لعنت بھیجی کہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ لیا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اس کا ہاتھ کاٹ لیا جاتا ہے۔ اعمش نے کہا کہ لوگ خیال کرتے تھے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد ایسی رسی سمجھتے تھے جو کئی درہم کی ہو۔
6783
Sahih
(8) CHAPTER. Al-Hudud (legal punishement) are expiation (for the sin one has been punished for).
حد قائم ہونے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ ، فَقَالَ : بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقُوا ، وَلَا تَزْنُوا وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ كُلَّهَا فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ .
Narrated 'Ubada bin As-Samit: We were with the Prophet in a gathering and he said, 'Swear allegiance to me that you will not worship anything besides Allah, Will not steal, and will not commit illegal sexual intercourse. And then (the Prophet) recited the whole Verse (i.e. 60:12). The Prophet added, 'And whoever among you fulfills his pledge, his reward is with Allah; and whoever commits something of such sins and receives the legal punishment for it, that will be considered as the expiation for that sin, and whoever commits something of such sins and Allah screens him, it is up to Allah whether to excuse or punish him.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوادریس خولانی نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے عہد کرو اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے اور زنا نہیں کرو گے اور آپ نے یہ آیت پوری پڑھی ”پس تم میں سے جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے یہاں ہے اور جو شخص ان میں سے غلطی کر گزرا اور اس پر اسے سزا ہوئی تو وہ اس کا کفارہ ہے اور جو شخص ان میں سے کوئی غلطی کر گزرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کر دی تو اگر اللہ چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور اگر چاہے گا تو اس پر عذاب دے گا۔“
6784
Sahih
(9) CHAPTER. A believer is safe except if he transgresses Allah's legal limits or takes others rights.
مسلمان کی پیٹھ محفوظ ہے ہاں جب کوئی حد کا کام کرے تو اس کی پیٹھ پر مار لگا سکتے ہیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : أَلَا أَيُّ شَهْرٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ قَالُوا : أَلَا شَهْرُنَا هَذَا ، قَالَ : أَلَا أَيُّ بَلَدٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ قَالُوا : أَلَا بَلَدُنَا هَذَا ، قَالَ : أَلَا أَيُّ يَوْمٍ تَعْلَمُونَهُ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ قَالُوا : أَلَا يَوْمُنَا هَذَا ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ ، وَأَمْوَالَكُمْ ، وَأَعْرَاضَكُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ، ثَلَاثًا ، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُونَهُ ، أَلَا نَعَمْ ، قَالَ : وَيْحَكُمْ أَوْ وَيْلَكُمْ لَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ .
Narrated `Abdullah: Allah Apostle said in Hajjat-al-Wada`, Which month (of the year) do you think is most sacred? The people said, This current month of ours (the month of Dhull-Hijja). He said, Which town (country) do you think is the most sacred? They said, This city of ours (Mecca). He said, Which day do you think is the most sacred? The people said, This day of ours. He then said, Allah, the Blessed, the Supreme, has made your blood, your property and your honor as sacred as this day of yours in this town of yours, in this month of yours (and such protection cannot be slighted) except rightfully. He then said thrice, Have I conveyed Allah's Message (to you)? The people answered him each time saying, 'Yes. The Prophet added, 'May Allah be merciful to you (or, woe on you)! Do not revert to disbelief after me by cutting the necks of each other.'
مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم عاصم بن محمد نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا ”ہاں تم لوگ کس چیز کو سب سے زیادہ حرمت والی سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی مہینہ کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں، کس شہر کو تم سب سے زیادہ حرمت والا سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے جواب دیا کہ اپنے اسی شہر کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”ہاں، کس دن کو تم سب سے زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی دن کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب فرمایا ”پھر بلاشبہ اللہ نے تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتوں کو حرمت والا قرار دیا ہے، سوا اس کے حق کے، جیسا کہ اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینہ میں ہے۔ ہاں! کیا میں نے تمہیں پہنچا دیا۔“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ہر مرتبہ صحابہ نے جواب دیا کہ جی ہاں، پہنچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”افسوس میرے بعد تم کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔“
6785
Sahih
(10) CHAPTER. To carry out the legal punishment; and to take revenge on those who transgress Allah's limits and boundaries.
حدود قائم کرنا اور اللہ کی حرمتوں کو جو کوئی توڑے اس سے بدلہ لینا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا ، مَا لَمْ يَأْثَمْ ، فَإِذَا كَانَ الْإِثْمُ ، كَانَ أَبْعَدَهُمَا مِنْهُ ، وَاللَّهِ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ قَطُّ ، حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ .
Narrated Aisha: Whenever the Prophet was given an option between two things, he used to select the easier of the tow as long as it was not sinful; but if it was sinful, he would remain far from it. By Allah, he never took revenge for himself concerning any matter that was presented to him, but when Allah's Limits were transgressed, he would take revenge for Allah's Sake.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے، ان سے عقیل نے، ان سے شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان ہی کو پسند کیا، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہو، اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور ہوتے۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ذاتی معاملہ میں کسی سے بدلہ نہیں لیا، البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کے لیے بدلہ لیتے تھے۔
6786
Sahih
(11) CHAPTER. To inflict the legal punishment on the noble and the weak people (impartially).
کوئی بلند مرتبہ شخص ہو یا کم مرتبہ سب پر برابر حد قائم کرنا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ أُسَامَةَ كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُقِيمُونَ الْحَدَّ عَلَى الْوَضِيعِ ، وَيَتْرُكُونَ الشَّرِيفَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ فَعَلَتْ ذَلِكَ ، لَقَطَعْتُ يَدَهَا .
Narrated `Aisha: Usama approached the Prophet on behalf of a woman (who had committed theft). The Prophet said, The people before you were destroyed because they used to inflict the legal punishments on the poor and forgive the rich. By Him in Whose Hand my soul is! If Fatima (the daughter of the Prophet ) did that (i.e. stole), I would cut off her hand.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کی ( جس پر حدی مقدمہ ہونے والا تھا ) سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ وہ کمزوروں پر تو حد قائم کرتے اور بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر فاطمہ ( رضی اللہ عنہا ) نے بھی ( چوری ) کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ لیتا۔
6787
Sahih
(12) CHAPTER. Intercession is not recommended in the matter of legal punishment after the case has been filed with the authorities.
جب حدی مقدمہ حاکم کے پاس پہنچ جائے پھر سفارش کرنا منع ہے بلکہ گناہ عظیم ہے ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمُ الْمَرْأَةُ الْمَخْزُومِيَّةُ الَّتِي سَرَقَتْ ، فَقَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ ، إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا ضَلَّ مَنْ قَبْلَكُمْ ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَتْ ، لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا .
Narrated `Aisha: The Quraish people became very worried about the Makhzumiya lady who had committed theft. They said, Nobody can speak (in favor of the lady) to Allah's Apostle and nobody dares do that except Usama who is the favorite of Allah's Apostle. When Usama spoke to Allah's Apostle about that matter, Allah's Apostle said, Do you intercede (with me) to violate one of the legal punishment of Allah? Then he got up and addressed the people, saying, O people! The nations before you went astray because if a noble person committed theft, they used to leave him, but if a weak person among them committed theft, they used to inflict the legal punishment on him. By Allah, if Fatima, the daughter of Muhammad committed theft, Muhammad will cut off her hand.!
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک مخزومی عورت کا معاملہ جس نے چوری کی تھی، قریش کے لوگوں کے لیے اہمیت اختیار کر گیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ میں کون بات کر سکتا ہے اسامہ رضی اللہ عنہ کے سوا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیارے ہیں اور کوئی آپ سے سفارش کی ہمت نہیں کر سکتا؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم اللہ کی حدوں میں سفارش کرنے آئے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا ”اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس لیے گمراہ ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے تھے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا ہاتھ ضرور کاٹ ڈالتے۔
6788
Sahih
(13) CHAPTER. The Statement of Allah: “Cut off (from the wrist joint) the (right) hand of the thief, male or female... (V.5:38)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا اور چور مرد اور چور عورت کا ہاتھ کاٹو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ ، فَصَاعِدًا ، تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَمَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
Narrated `Aisha: The Prophet said, The hand should be cut off for stealing something that is worth a quarter of a Dinar or more.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عمرہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ پر ہاتھ کاٹ لیا جائے گا۔“ اس روایت کی متابعت عبدالرحمٰن بن خالد زہری کے بھتیجے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے کی۔
6789
Sahih
(13) CHAPTER. The Statement of Allah: “Cut off (from the wrist joint) the (right) hand of the thief, male or female... (V.5:38)
چور کی توبہ کا بیان ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ .
Narrated `Aisha: The Prophet said, The hand of a thief should be cut off for stealing a quarter of a Dinar.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عمرہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار پر کاٹ لیا جائے گا۔“
6790
Sahih
(13) CHAPTER. The Statement of Allah: “Cut off (from the wrist joint) the (right) hand of the thief, male or female... (V.5:38)
چور کی توبہ کا بیان ۔
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها ، حَدَّثّتْهُم عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ .
Narrated `Aisha: The Prophet said, The hand should be cut off for stealing a quarter of a Dinar.
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسین نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوتھائی دینار پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
6791
Sahih

Chapters

15
01
(2) CHAPTER. (The crime of) illegal sexual intercourse and the drinking of alcoholic drinks.
حدود سے بچنے ، زنا شراب نوشی کے بیان میں ۔
1 Hadith
02
(2b) CHAPTER. What is said regarding the beating (lashing) of a drunk.
شراب پینے والے کو مارنے کے بیان میں ۔
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. Whoever ordered that the legal punishment was to be carried out at home.
جس نے گھر میں حد مارنے کا حکم دیا ۔
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. Beating with stalks of date-palm leaves and shoes.
( شراب میں ) چھڑی اور جوتے سے مارنا ۔
5 Hadith
05
(5) CHAPTER. Cursing is disliked against the drunkard and the fact that he is not regarded as a non-Muslim.
شراب پینے والا اسلام سے نکل نہیں جاتا نہ اس پر لعنت کرنی چاہئے ۔
2 Hadith
06
(6) CHAPTER. The thief while stealing.
چور جب چوری کرتا ہے ۔
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. (It is permissible) to curse thieves (generally) without mentioning names.
چور کا نام لئے بغیر اس پر لعنت بھیجنا درست ہے ۔
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. Al-Hudud (legal punishement) are expiation (for the sin one has been punished for).
حد قائم ہونے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. A believer is safe except if he transgresses Allah's legal limits or takes others rights.
مسلمان کی پیٹھ محفوظ ہے ہاں جب کوئی حد کا کام کرے تو اس کی پیٹھ پر مار لگا سکتے ہیں ۔
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To carry out the legal punishment; and to take revenge on those who transgress Allah's limits and boundaries.
حدود قائم کرنا اور اللہ کی حرمتوں کو جو کوئی توڑے اس سے بدلہ لینا ۔
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. To inflict the legal punishment on the noble and the weak people (impartially).
کوئی بلند مرتبہ شخص ہو یا کم مرتبہ سب پر برابر حد قائم کرنا ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Intercession is not recommended in the matter of legal punishment after the case has been filed with the authorities.
جب حدی مقدمہ حاکم کے پاس پہنچ جائے پھر سفارش کرنا منع ہے بلکہ گناہ عظیم ہے ۔
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The Statement of Allah: “Cut off (from the wrist joint) the (right) hand of the thief, male or female... (V.5:38)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا اور چور مرد اور چور عورت کا ہاتھ کاٹو ۔
1 Hadith
14
(13) CHAPTER. The Statement of Allah: “Cut off (from the wrist joint) the (right) hand of the thief, male or female... (V.5:38)
چور کی توبہ کا بیان ۔
8 Hadith
15
(13) CHAPTER. The Statement of Allah: “Cut off (from the wrist joint) the (right) hand of the thief, male or female... (V.5:38)
محصن ( شادیشدہ کو زنا کی علت میں ) سنگسار کرنا
4 Hadith
No chapter matched that.