TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-ahkam (judgements). - کتاب حکومت اور قضا کے بیان میں - Book 95 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 95 of Sahih Bukhari, with 51 chapters and 89 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

89 Hadith · 51 Chapters
(26) CHAPTER. The Urafa appointed to look after the people's affairs.
بادشاہ کے سامنے منہ در منہ خوشامد کرنا ، پیٹھ پیچھے اس کو براکہنا منع ہے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّمَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، أَخْبَرَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حِينَ أَذِنَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ فِي عِتْقِ سَبْيِ هَوَازِنَ : إِنِّي لَا أَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ، فَرَجَعَ النَّاسُ ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا .
Narrated `Urwa bin Az-Zubair: Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama told him that when the Muslims were permitted to set free the captives of Hawazin, Allah's Apostle said, I do not know who amongst you has agreed (to it) and who has not. Go back so that your 'Urafa' may submit your decision to us. So the people returned and their 'Urafa' talked to them and then came back to Allah's Apostle and told him that the people had given their consent happily and permitted (their captives to be freed).
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جب مسلمانوں نے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کو اجازت دی تو فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ہے۔ پس واپس جاؤ اور تمہارا معاملہ ہمارے پاس تمہارے نقیب یا چودھری اور تمہارے سردار لائیں۔ چنانچہ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے ذمہ داروں نے ان سے بات کی اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر اطلاع دی کہ لوگوں نے دلی خوشی سے اجازت دے دی ہے۔
7177
Sahih
(26) CHAPTER. The Urafa appointed to look after the people's affairs.
بادشاہ کے سامنے منہ در منہ خوشامد کرنا ، پیٹھ پیچھے اس کو براکہنا منع ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ أُنَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى سُلْطَانِنَا ، فَنَقُولُ لَهُمْ خِلَافَ مَا نَتَكَلَّمُ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمْ ، قَالَ : كُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا .
Narrated Muhammad bin Zaid bin `Abdullah bin `Umar: Some people said to Ibn `Umar, When we enter upon our ruler(s) we say in their praise what is contrary to what we say when we leave them. Ibn `Umar said, We used to consider this as hypocrisy.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، اور ان سے ان کے والد نے کہ کچھ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ہم اپنے حاکموں کے پاس جاتے ہیں اور ان کے حق میں وہ باتیں کہتے ہیں کہ باہر آنے کے بعد ہم اس کے خلاف کہتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم اسے نفاق کہتے تھے۔
7178
Sahih
(26) CHAPTER. The Urafa appointed to look after the people's affairs.
بادشاہ کے سامنے منہ در منہ خوشامد کرنا ، پیٹھ پیچھے اس کو براکہنا منع ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostles said, The worst of all mankind is the double-faced one, who comes to some people with one countenance and to others, with another countenance.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے عراک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدترین وہ شخص دورخا ہے، کسی کے سامنے اس کا ایک رخ ہوتا ہے اور دوسرے کے سامنے دوسرا رخ برتتا ہے۔
7179
Sahih
(28) CHAPTER. Passing a Judgement against an absent person.
ایک طرفہ فیصلہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ هِنْدًا ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَأَحْتَاجُ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ ، قَالَ : خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ .
Narrated `Aisha: Hind (bint `Utba) said to the Prophet Abu Sufyan is a miserly man and I need to take some money of his wealth. The Prophet said, Take reasonably what is sufficient for you and your children
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہند نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ( ان کے شوہر ) ابوسفیان بخیل ہیں اور مجھے ان کے مال میں سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دستور کے مطابق اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو۔
7180
Sahih
(28) CHAPTER. Passing a Judgement against an absent person.
ایک طرفہ فیصلہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَال : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ ، فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ فَأَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ ، فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا ، أَوْ لِيَتْرُكْهَا .
Narrated Um Salama: (the wife of the Prophet) Allah's Apostle heard some people quarreling at the door of his dwelling, so he went out to them and said, I am only a human being, and litigants with cases of dispute come to me, and someone of you may happen to be more eloquent (in presenting his case) than the other, whereby I may consider that he is truthful and pass a judgment in his favor. If ever I pass a judgment in favor of somebody whereby he takes a Muslim's right unjustly, then whatever he takes is nothing but a piece of Fire, and it is up to him to take or leave.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی۔ آپ نے اپنے حجرہ کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو باہر ان کی طرف نکلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور میرے پاس لوگ مقدمے لے کر آتے ہیں۔ ممکن ہے ان میں سے ایک فریق دوسرے فریق سے بولنے میں زیادہ عمدہ ہو اور میں یقین کر لوں کی وہی سچا ہے اور اس طرح اس کے موافق فیصلہ کر دوں۔ پس جس شخص کے لیے بھی میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو وہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے وہ چاہے اسے لے یا چھوڑ دے، میں اس کو درحقیقت دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں۔
7181
Sahih
(28) CHAPTER. Passing a Judgement against an absent person.
ایک طرفہ فیصلہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ ، فَقَالَ ابْنُ أَخِي : قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، فَقَالَ : أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ : احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) `Utba bin Abi Waqqas said to his brother Sa`d bin Abi Waqqas, The son of the slave girl of Zam`a is from me, so take him into your custody. So in the year of Conquest of Mecca, Sa`d took him and said. (This is) my brother's son whom my brother has asked me to take into my custody. `Abd bin Zam`a got up before him and said, (He is) my brother and the son of the slave girl of my father, and was born on my father's bed. So they both submitted their case before Allah's Apostle. Sa`d said, O Allah's Apostle! This boy is the son of my brother and he entrusted him to me. `Abd bin Zam`a said, This boy is my brother and the son of the slave girl of my father, and was born on the bed of my father. Allah's Apostle said, The boy is for you, O `Abd bin Zam`a! Then Allah's Apostle further said, The child is for the owner of the bed, and the stone is for the adulterer, He then said to Sauda bint Zam`a, Veil (screen) yourself before him, when he saw the child's resemblance to `Utba. The boy did not see her again till he met Allah.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی ( کا لڑکا ) میرا ہے۔ تم اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ چنانچہ فتح مکہ کے دن سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کے بارے میں انہوں نے وصیت کی تھی، پھر عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ چنانچہ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے بھائی کا لڑکا ہے، انہوں نے مجھے اس کی وصیت کی تھی اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبد بن زمعہ! یہ تمہارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔ پھر آپ نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کرو کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی عتبہ سے مشابہت دیکھ لی تھی۔ چنانچہ اس نے سودہ رضی اللہ عنہا کو موت تک نہیں دیکھا۔
7182
Sahih
(30) CHAPTER. Judgement regarding cases involving wells, etc.
اگر کسی شخص کو حاکم دوسرے مسلمان بھائی کا مال ناحق دلا دے تو اس کو نہ لے کیونکہ حاکم کے فیصلہ سے نہ حرام حلال ہو سکتا ہے نہ حلال حرام ہو سکتا ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَحْلِفُ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, If somebody on the demand of a judge takes an oath to grab (a Muslim's) property and he is liar in it, he will meet Allah Who will be angry with him . So Allah revealed,:-- 'Verily! those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths..' (3.77)
ہم سے اسحاق بن نفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ‘، انہیں منصور اور اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایسی قسم کھائے جو جھوٹی ہو جس کے ذریعہ وہ کسی دوسرے کا مال مار لے تو اللہ سے وہ اس حال میں ملے کا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ( اس کی تصدیق میں ) نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله‏ وأيمانهم ثمنا قليلا» ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کو تھوڑی پونجی کے بدلے خریدتے ہیں“ الآية‏.‏۔
7183
Sahih
(30) CHAPTER. Judgement regarding cases involving wells, etc.
اگر کسی شخص کو حاکم دوسرے مسلمان بھائی کا مال ناحق دلا دے تو اس کو نہ لے کیونکہ حاکم کے فیصلہ سے نہ حرام حلال ہو سکتا ہے نہ حلال حرام ہو سکتا ہے
فَجَاءَ الْأَشْعَثُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُهُمْ ، فَقَالَ : فِيَّ نَزَلَتْ وَفِي رَجُلٍ خَاصَمْتُهُ فِي بِئْرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَلْيَحْلِفْ ، قُلْتُ : إِذًا يَحْلِفُ ، فَنَزَلَتْ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77 .
Al- Ashath came while `Abdullah was narrating (this) to the people. Al-Ashath said, This verse was revealed regarding me and another man with whom I had a quarrel about a well. The Prophet said (to me), Do you have any evidence?' I replied, 'No.' He said, 'Let your opponent take an oath.' I said: I am sure he would take a (false) oath. Thereupon it was revealed: 'Verily! those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant ....' (3.77)۔
اتنے میں اشعث رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ ابھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سے حدیث بیان کر ہی رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور ایک شخص کے بارے میں میرا ان سے کنویں کے بارے میں جھگڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے ) کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فریق مقابل کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ میں نے کہا کہ پھر تو یہ ( جھوٹی ) قسم کھا لے گا۔ چنانچہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله‏» ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد کو“ الخ نازل ہوئی۔
7184
Sahih
(31) CHAPTER. To judge (all) cases involving wealth weather it is much or little in amount, in one and the same.
کنویں اور اس جیسی چیزوں کے مقدمات فیصل کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبَةَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِهِ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ ، فَلَعَلَّ بَعْضًا أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ أَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ وَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا ، أَوْ لِيَدَعْهَا .
Narrated Um Salama: The Prophet heard the voices of some people quarreling near his gate, so he went to them and said, I am only a human being and litigants with cases of disputes come to me, and maybe one of them presents his case eloquently in a more convincing and impressive way than the other, and I give my verdict in his favor thinking he is truthful. So if I give a Muslim's right to another (by mistake), then that (property) is a piece of Fire, which is up to him to take it or leave it.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی، ان سے ان کی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی اور ان کی طرف نکلے۔ پھر ان سے فرمایا کہ میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، میرے پاس لوگ مقدمہ لے کر آتے ہیں، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ عمدہ بولنے والا ہو اور میں اس کے لیے اس حق کا فیصلہ کر دوں اور یہ سمجھوں کہ میں نے فیصلہ صحیح کیا ہے ( حالانکہ وہ صحیح نہ ہو ) تو جس کے لیے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو بلاشبہ یہ فیصلہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے۔
7185
Sahih
(32) CHAPTER. The selling of the people's real or personal estates by the ruler on their behalf.
ناحق مال اڑانے میں جو وعید ہے وہ تھوڑے اور بہت دونوں مالوں کو شامل ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُ ، فَبَاعَهُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِثَمَنِهِ إِلَيْهِ .
Narrated Jabir: The Prophet came to know that one of his companions had given the promise of freeing his slave after his death, but as he had no other property than that slave, the Prophet sold that slave for 800 dirhams and sent the price to him.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک نے اپنے غلام کو مدبر بنا دیا ہے ( کہ ان کی موت کے بعد وہ آزاد ہو جائے گا ) چونکہ ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آٹھ سو درہم میں بیچ دیا اور اس کی قیمت انہیں بھیج دی۔
7186
Sahih
(33) CHAPTER. Whoever does not care slanders made by ignorant people against the Amirs (leaders).
حکم ( بیوقوف اور غائب لوگوں کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کو بیچ سکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام بن نحام کے ہاتھ بیچ ڈالا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَطُعِنَ فِي إِمَارَتِهِ ، وَقَالَ : إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمْرَةِ ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَه .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle sent an army unit headed by Usama bin Zaid and the people criticized his leadership. The Prophet said (to the people), If you are criticizing his leadership now, then you used to criticize his father's leadership before. By Allah, he (Usama's father) deserved the leadership and used to be one of the most beloved persons to me, and now his son (Usama) is one of the most beloved persons to me after him. (See Hadith No. 745, Vol. 5)
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنایا لیکن ان کی سرداری پر طعن کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر آج تم ان کی امارت کو مطعون قرار دیتے ہو تو تم نے اس سے پہلے اس کے والد ( زید رضی اللہ عنہ ) کی امارت کو بھی مطعون قرار دیا تھا اور اللہ کی قسم! وہ امارت کے لیے سزاوار تھے اور وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) ان کے بعد سب سے زیادہ مجھے عزیز ہے۔
7187
Sahih
(34) CHAPTER. The one who is the most contentious of enemies; and that is, the most quarrelsome person of the opponents.
الدالخصم کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle said, The most hated person in the sight of Allah, is the most quarrelsome person.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔“
7188
Sahih
(35) CHAPTER. If a judge passes an unjust judgement or a judgement which differs from that of the learned religious men, such a judgement is to be rejected.
جب حاکم کا فیصلہ ظالمانہ ہو یا علماء کے خلاف ہو تو وہ رد کر دیا جائے گا
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدًا . ح ، وحَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا ، فَقَالُوا : صَبَأْنَا صَبَأْنَا ، فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ وَيَأْسِرُ ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ ، فَأَمَرَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَسِيرَهُ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مَرَّتَيْنِ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet sent (an army unit under the command of) Khalid bin Al-Walid to fight against the tribe of Bani Jadhima and those people could not express themselves by saying, Aslamna, but they said, Saba'na! Saba'na! Khalid kept on killing some of them and taking some others as captives, and he gave a captive to everyone of us and ordered everyone of us to kill his captive. I said, By Allah, I shall not kill my captive and none of my companions shall kill his captive! Then we mentioned that to the Prophet and he said, O Allah! I am free from what Khalid bin Al-Walid has done, and repeated it twice.
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کہا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے انہیں سالم نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے نعیم بن حماد نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا ( جب انہیں اسلام کی دعوت دی ) تو وہ «أسلمنا‏.‏» ( ہم اسلام لائے ) کہہ کر اچھی طرح اظہار اسلام نہ کر سکے بلکہ کہنے لگے کہ «صبأنا صبأنا» ( ہم اپنے دین سے پھر گئے، ہم اپنے دین سے پھر گئے ) اس پر خالد رضی اللہ عنہ انہیں قتل اور قید کرنے لگے اور ہم میں سے ہر شخص کو اس کے حصہ کا قیدی دیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ اس پر میں نے کہا کہ واللہ! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ پھر ہم نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں اس سے برات ظاہر کرتا ہوں جو خالد بن ولید نے کیا، دو مرتبہ۔
7189
Sahih
(36) CHAPTER. The Imam (ruler) going to some people to establish peace among them.
امام کسی جماعت کے پاس آئے اور ان میں باہم صلح کرادے
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرٍو ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ ، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَأَقَامَ ، وَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي الصَّلَاةِ ، فَشَقَّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَتَقَدَّمَ فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ ، قَالَ : وَصَفَّحَ الْقَوْمُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْرُغَ ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَلَيْهِ ، الْتَفَتَ ، فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنِ امْضِهْ ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا ، وَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً يَحْمَدُ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ مَشَى الْقَهْقَرَى ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ ؟ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ لِلْقَوْمِ : إِذَا رَابَكُمْ أَمْرٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ .
Narrated Sahl bin Sa`d As-Saidi: There was some quarrel (sighting) among Bani `Amr, and when this news reached the Prophet, he offered the Zuhr prayer and went to establish peace among them. In the meantime the time of `Asr prayer was due, Bilal pronounced the Adhan and then the Iqama for the prayer and requested Abu Bakr (to lead the prayer) and Abu Bakr went forward. The Prophet arrived while Abu Bakr was still praying. He entered the rows of praying people till he stood behind Abu Bakr in the (first) row. The people started clapping, and it was the habit of Abu Bakr that whenever he stood for prayer, he never glanced side-ways till he had finished it, but when Abu Bakr observed that the clapping was not coming to an end, he looked and saw the Prophet standing behind him. The Prophet beckoned him to carry on by waving his hand. Abu Bakr stood there for a while, thanking Allah for the saying of the Prophet and then he retreated, taking his steps backwards. When the Prophet saw that, he went ahead and led the people in prayer. When he finished the prayer, he said, O Abu Bakr! What prevented you from carrying on with the prayer after I beckoned you to do so? Abu Bakr replied, It does not befit the son of Abi Quhafa to lead the Prophet in prayer. Then the Prophet said to the people, If some problem arises during prayers, then the men should say, Subhan Allah!; and the women should clap. (See Hadith No. 652, Vol. 1)
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوحازم المدینی نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں باہم لڑائی ہو گئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی اور ان کے یہاں صلح کرانے کے لیے تشریف لائے۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا ( مدینہ میں ) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی۔ آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز ہی میں تھے ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی صف کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور اس صف میں آ گئے جو ان سے قریب تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو بتانے کے لیے ہاتھ مارے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو ختم کرنے سے پہلے کسی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا رکتا ہی نہیں تو آپ متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ نماز پوری کریں اور آپ نے اس طرح ہاتھ سے اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا اشارہ کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اللہ کی حمد کرنے کے لیے ٹھہرے رہے، پھر آپ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو آپ نے نماز پڑھائی۔ نماز پوری کرنے کے بعد آپ نے فرمایا، ابوبکر! جب میں نے ارشاد کر دیا تھا تو آپ کو نماز پوری پڑھانے میں کیا چیز مانع تھی؟ انہوں نے عرض کیا، ابن ابی قحافہ کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نماز میں ) جب کوئی معاملہ پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہئیے اور عورتوں کو ہاتھ پر ہاتھ مارنا چاہئے۔
7190
Sahih
(37) CHAPTER. It is desirable that a scribe should be honest and wise.
فیصلہ لکھنے والا امانتدار اور عقلمند ہونا چاہئے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبوُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ لِمَقْتَلِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي ، فَقَالَ : إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ ، قُلْتُ : كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ عُمَرُ : هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ ، قَالَ زَيْدٌ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَإِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ ، لَا نَتَّهِمُكَ ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ ، فَاجْمَعْهُ ، قَالَ زَيْدٌ : فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا كَلَّفَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ ، قُلْتُ : كَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ يَحُثُّ مُرَاجَعَتِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وعُمَرَ ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَيَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ ، وَالرِّقَاعِ ، وَاللِّخَافِ ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ ، فَوَجَدْتُ فِي آخِرِ سُورَةِ التَّوْبَةِ : لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ سورة التوبة آية 128إِلَى آخِرِهَا مَعَ خُزَيْمَةَ ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ ، فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا ، وَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : اللِّخَافُ يَعْنِي : الْخَزَفَ .
Narrated Zaid bin Thabit: Abu Bakr sent for me owing to the large number of casualties in the battle of Al-Yamama, while `Umar was sitting with him. Abu Bakr said (to me), `Umar has come to my and said, 'A great number of Qaris of the Holy Qur'an were killed on the day of the battle of Al-Yamama, and I am afraid that the casualties among the Qaris of the Qur'an may increase on other battle-fields whereby a large part of the Qur'an may be lost. Therefore I consider it advisable that you (Abu Bakr) should have the Qur'an collected.' I said, 'How dare I do something which Allah's Apostle did not do?' `Umar said, By Allah, it is something beneficial.' `Umar kept on pressing me for that till Allah opened my chest for that for which He had opened the chest of `Umar and I had in that matter, the same opinion as `Umar had. Abu Bakr then said to me (Zaid), You are a wise young man and we do not have any suspicion about you, and you used to write the Divine Inspiration for Allah's Apostle. So you should search for the fragmentary scripts of the Qur'an and collect it (in one Book). Zaid further said: By Allah, if Abu Bakr had ordered me to shift a mountain among the mountains from one place to another it would not have been heavier for me than this ordering me to collect the Qur'an. Then I said (to `Umar and Abu Bakr), How can you do something which Allah's Apostle did not do? Abu Bakr said, By Allah, it is something beneficial. Zaid added: So he (Abu Bakr) kept on pressing me for that until Allah opened my chest for that for which He had opened the chests of Abu Bakr and `Umar, and I had in that matter, the same opinion as theirs. So I started compiling the Qur'an by collecting it from the leafless stalks of the date-palm tree and from the pieces of leather and hides and from the stones, and from the chests of men (who had memorized the Qur'an). I found the last verses of Sirat-at-Tauba: ( Verily there has come unto you an Apostle (Muhammad) from amongst yourselves--' (9.128-129) ) from Khuza`ima or Abi Khuza`ima and I added to it the rest of the Sura. The manuscripts of the Qur'an remained with Abu Bakr till Allah took him unto Him. Then it remained with `Umar till Allah took him unto Him, and then with Hafsa bint `Umar.
ہم سے محمد بن عبداللہ ابوثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید بن سابق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ جنگ یمامہ میں بکثرت ( قاری صحابہ کی ) شہادت کی وجہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ عمر میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے قاریوں کا قتل بہت ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ دوسری جنگوں میں بھی اسی طرح وہ شہید کئے جائیں گے اور قرآن اکثر ضائع ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن مجید کو ( کتابی صورت میں ) جمع کرنے کا حکم دیں۔ اس پر میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں کوئی ایسا کام کیسے کر سکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! یہ تو کار خیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں برابر مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اس معاملے میں میرا بھی سینہ کھول دیا جس طرح عمر رضی اللہ عنہ کا تھا اور میں بھی وہی مناسب سمجھنے لگا جسے عمر رضی اللہ عنہ مناسب سمجھتے تھے۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جوان ہو، عقلمند ہو اور ہم تمہیں کسی بارے میں متہم بھی نہیں سمجھتے تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی بھی لکھتے تھے، پس تم اس قرآن مجید ( کی آیات ) کو تلاش کرو اور ایک جگہ جمع کر دو۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ واللہ! اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے کسی پہاڑ کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھنے کا مکلف کرتے تو اس کا بوجھ بھی میں اتنا نہ محسوس کرتا جتنا کہ مجھے قرآن مجید کو جمع کرنے کے حکم سے محسوس ہوا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کس طرح ایسا کام کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ ابوبکر نے کہا کہ واللہ! یہ خیر ہے۔ چنانچہ مجھے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا اور میں بھی وہی مناسب خیال کرنے لگا جسے وہ لوگ مناسب خیال کر رہے تھے۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کی۔ اسے میں کھجور کی چھال، چمڑے وغیرہ کے ٹکڑوں، پتلے پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۔ میں نے سورۃ التوبہ کی آخری آیت «لقد جاءكم رسول من أنفسكم‏» آخر تک خزیمہ یا ابوخزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پائی اور اس کو سورت میں شامل کر لیا۔ ( قرآن مجید کے یہ مرتب ) صحیفے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے جب تک وہ زندہ ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دی پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور آخر وقت تک ان کے پاس رہے۔ جب آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے وفات دی تو وہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ «اللخاف» کے لفظ سے ٹھیکری مراد ہے جسے «خزف‏.‏» کہتے ہیں۔
7191
Sahih
(38) CHAPTER. The writing of a letter by the ruler to his representatives (in the provinces), and by judge to his workers who look after the problems of the people.
امام کا اپنے نائبوں کو اور قاضی کا اپنے عملہ کو لکھنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى . ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ ، فَأُخْبِرَ مُحَيِّصَةُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ ، فَأَتَى يَهُودَ ، فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ ، قَالُوا : مَا قَتَلْنَاهُ وَاللَّهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ، وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، فَذَهَبَ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ : كَبِّرْ كَبِّرْ ، يُرِيدُ السِّنَّ ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ بِهِ ، فَكُتِبَ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ ، وَمُحَيِّصَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : أَفَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ؟ ، قَالُوا : لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتِ الدَّارَ ، قَالَ سَهْلٌ : فَرَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ .
Narrated Abu Laila bin `Abdullah bin `Abdur-Rahman bin Sahl: Sahl bin Abi Hathma and some great men of his tribe said, `Abdullah bin 'Sahl and Muhaiyisa went out to Khaibar as they were struck with poverty and difficult living conditions. Then Muhaiyisa was informed that `Abdullah had been killed and thrown in a pit or a spring. Muhaiyisa went to the Jews and said, By Allah, you have killed my companion. The Jews said, By Allah, we have not killed him. Muhaiyisa then came back to his people and told them the story. He, his elder brother Huwaiyisa and `Abdur-Rahman bin Sahl came (to the Prophet) and he who had been at Khaibar, proceeded to speak, but the Prophet said to Muhaiyisa, The eldest! The eldest! meaning, Let the eldest of you speak. So Huwaiyisa spoke first and then Muhaiyisa. Allah's Apostle said, The Jews should either pay the blood money of your (deceased) companion or be ready for war. After that Allah's Apostle wrote a letter to the Jews in that respect, and they wrote that they had not killed him. Then Allah's Apostle said to Huwaiyisa, Muhaiyisa and `Abdur-Rahman, Can you take an oath by which you will be entitled to take the blood money? They said, No. He said (to them), Shall we ask the Jews to take an oath before you? They replied, But the Jews are not Muslims. So Allah's Apostle gave them one-hundred she-camels as blood money from himself. Sahl added: When those she-camels were made to enter the house, one of them kicked me with its leg.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن ابی لیلیٰ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابولیلیٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سہل نے، ان سے سہل بن ابی حثمہ نے، انہیں سہل اور ان کی قوم کے بعض دوسرے ذمہ داروں نے خبر دی کہ عبداللہ، سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہم خیبر کی طرف ( کھجور لینے کے لیے ) گئے۔ کیونکہ تنگ دستی میں مبتلا تھے۔ پھر محیصہ کو بتایا گیا کہ عبداللہ کو کسی نے قتل کر کے گڑھے یا کنویں میں ڈال دیا ہے۔ پھر وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا کہ واللہ! تم نے ہی قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: واللہ! ہم نے انہیں نہیں قتل کیا۔ پھر وہ واپس آئے اور اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے ذکر کیا۔ اس کے بعد وہ اور ان کے بھائی حویصہ جو ان سے بڑے تھے اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ آئے، پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنی چاہی کیونکہ آپ ہی خیبر میں موجود تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ بڑے کو آگے کرو، بڑے کو آپ کی مراد عمر کی بڑائی تھی۔ چنانچہ حویصہ نے بات کی، پھر محیصہ نے بھی بات کی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں ورنہ لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس مقدمہ میں لکھا۔ انہوں نے جواب میں یہ لکھا کہ ہم نے انہیں نہیں قتل کیا ہے۔ پھر آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ لوگ قسم کھا کر اپنے شہید ساتھی کے خون کے مستحق ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا کہ نہیں ( کیونکہ جرم کرتے دیکھا نہیں تھا ) پھر آپ نے فرمایا، کیا آپ لوگوں کے بجائے یہودی قسم کھائیں ( کہ انہوں نے قتل نہیں کیا ہے ) ؟ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور وہ جھوٹی قسم کھا سکتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹوں کی دیت ادا کی اور وہ اونٹ گھر میں لائے گئے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
7192
Sahih
(39) CHAPTER. Is ir permissible for a ruler to send one man only to manage certain affairs?
کیا حاکم کیلئے جائز ہے کہ وہ کسی ایک شخص کو معاملات کی دیکھ بھال کیلئے بھیجے
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَا : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَامَ خَصْمُهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ ، فَقَالُوا لِي : عَلَى ابْنِكَ الرَّجْمُ ، فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَارْجُمْهَا ، فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ ، فَرَجَمَهَا .
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid Al-Juhani: A bedouin came and said, O Allah's Apostle! Judge between us according to Allah's Book (Laws). His opponent stood up and said, He has said the truth, so judge between us according to Allah's Laws. The bedouin said, My son was a laborer for this man and committed illegal sexual intercourse with his wife. The people said to me, 'Your son is to be stoned to death,' so I ransomed my son for one hundred sheep and a slave girl. Then I asked the religious learned men and they said to me, 'Your son has to receive one hundred lashes plus one year of exile.' The Prophet said, I shall judge between you according to Allah's Book (Laws)! As for the slave girl and the sheep, it shall be returned to you, and your son shall receive one-hundred lashes and be exiled for one year. O you, Unais! The Prophet addressed some man, Go in the morning to the wife of this man and stone her to death. So Unais went to her the next morning and stoned her to death.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے۔ پھر دوسرے فریق کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی کہا کہ یہ صحیح کہتے ہیں، ہمارا فیصلہ کتاب اللہ سے کر دیجئیے۔ پھر دیہاتی نے کہا میرا لڑکا اس شخص کے یہاں مزدور تھا، پھر اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارے لڑکے کا حکم اسے رجم کرنا ہے لیکن میں نے اپنے لڑکے کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دے دیا۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس ملیں گی اور تیرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہونا ہے اور انیس ( جو ایک صحابی تھے ) سے فرمایا کہ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ اور اسے رجم کرو۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے اور اسے رجم کیا۔
7193
Sahih
(39) CHAPTER. Is ir permissible for a ruler to send one man only to manage certain affairs?
کیا حاکم کیلئے جائز ہے کہ وہ کسی ایک شخص کو معاملات کی دیکھ بھال کیلئے بھیجے
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَا : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَامَ خَصْمُهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ ، فَقَالُوا لِي : عَلَى ابْنِكَ الرَّجْمُ ، فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَارْجُمْهَا ، فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ ، فَرَجَمَهَا .
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid Al-Juhani: A bedouin came and said, O Allah's Apostle! Judge between us according to Allah's Book (Laws). His opponent stood up and said, He has said the truth, so judge between us according to Allah's Laws. The bedouin said, My son was a laborer for this man and committed illegal sexual intercourse with his wife. The people said to me, 'Your son is to be stoned to death,' so I ransomed my son for one hundred sheep and a slave girl. Then I asked the religious learned men and they said to me, 'Your son has to receive one hundred lashes plus one year of exile.' The Prophet said, I shall judge between you according to Allah's Book (Laws)! As for the slave girl and the sheep, it shall be returned to you, and your son shall receive one-hundred lashes and be exiled for one year. O you, Unais! The Prophet addressed some man, Go in the morning to the wife of this man and stone her to death. So Unais went to her the next morning and stoned her to death.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے۔ پھر دوسرے فریق کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی کہا کہ یہ صحیح کہتے ہیں، ہمارا فیصلہ کتاب اللہ سے کر دیجئیے۔ پھر دیہاتی نے کہا میرا لڑکا اس شخص کے یہاں مزدور تھا، پھر اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارے لڑکے کا حکم اسے رجم کرنا ہے لیکن میں نے اپنے لڑکے کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دے دیا۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس ملیں گی اور تیرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہونا ہے اور انیس ( جو ایک صحابی تھے ) سے فرمایا کہ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ اور اسے رجم کرو۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے اور اسے رجم کیا۔
7194
Sahih
(40) CHAPTER. The translators of a ruler; and is it permissible to keep one translator?
حاکم کے سامنے مترجم کا رہنا اور کیا ایک ہی شخص ترجمانی کے لئے کافی ہے ۔
وَقَالَ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَعَلَّمَ كِتَابَ الْيَهُودِ حَتَّى كَتَبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُتُبَهُ وَأَقْرَأْتُهُ كُتُبَهُمْ إِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ ، وَقَالَ عُمَرُ وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعُثْمَانُ مَاذَا تَقُولُ هَذِهِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَاطِبٍ ، فَقُلْتُ تُخْبِرُكَ بِصَاحِبِهَا الَّذِي صَنَعَ بِهَا ، وَقَالَ أَبُو جَمْرَةَ : كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَا بُدَّ لِلْحَاكِمِ مِنْ مُتَرْجِمَيْنِ
Kharija bin Zaid bin Thabit said that Zaid bin Thabit said, The Prophet (saws) ordered me to learn the writing of the Jews. I even wrote letters for the Prophet (saws) (to the Jews) and also read their letters when they wrote to him. And 'Umar said in the presence of 'Ali, 'Abdur-Rahman, and 'Uthman, What is this woman saying? (the woman was non-Arab) 'Abdur-Rahman bin Hatib said: She is informing you about her companion who has committed illegal sexual intercourse with her. Abu Jamra said, I was an interpreter between Ibn 'Abbas and the people. Some people said, A ruler should have two interpreters.
خارجہ بن زید بن ثابت نے اپنے والد زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہودیوں کی تحریر سیکھیں، یہاں تک کہ میں یہودیوں کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط لکھتا تھا اور جب یہودی آپ کو لکھتے تو ان کے خطوط آپ کو پڑھ کر سناتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن حاطب سے پوچھا، اس وقت ان کے پاس علی، عبدالرحمٰن اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے کہ یہ لونڈی کیا کہتی ہے؟ عبدالرحمٰن بن حاطب نے کہا کہ امیرالمؤمنین یہ آپ کو اس کے متعلق بتاتی ہے جس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے۔ ( جو یرغوس نام کا غلام تھا ) اور ابوجمرہ نے کہا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کرتا تھا اور بعض لوگوں ( امام محمد اور امام شافعی ) نے کہا کہ حاکم کے لیے دو ترجموں کا ہونا ضروری ہے۔
7195
Sahih
(40) CHAPTER. The translators of a ruler; and is it permissible to keep one translator?
حاکم کے سامنے مترجم کا رہنا اور کیا ایک ہی شخص ترجمانی کے لئے کافی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، ثُمّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ لِلتُّرْجُمَانِ : قُلْ لَهُ : إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ .
Narrated `Abdullah bin `Abbas: That Abu Sufyan bin Harb told him that Heraclius had called him along with the members of a Quraish caravan and then said to his interpreter, Tell them that I want to ask this (Abu Sufyan) a question, and if he tries to tell me a lie, they should contradict him. Then Abu Sufyan mentioned the whole narration and said that Heraclius said to the inter Peter, Say to him (Abu Sufyan), 'If what you say is true, then he (the Prophet) will take over the place underneath my two feet.'
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی کہ ہرقل نے انہیں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بلا بھیجا، پھر اپنے ترجمان سے کہا، ان سے کہو کہ میں ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اگر یہ مجھ سے جھوٹ بات کہے تو اسے جھٹلا دیں۔ پھر پوری حدیث بیان کی اس سے کہو کہ اگر تمہاری باتیں صحیح ہیں تو وہ شخص اس ملک کا بھی ہو جائے گا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے۔
7196
Sahih

Chapters

51
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “(O you who believe!) Obey Allah and obey the Messenger (Muhammad (p.b.u.h.)) and those of you (Muslims) who are in authority… (V.4:59)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا کہ
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. The (chief) rulers (of all Muslims must be) from the Quraish.
امیر اور سردار اور خلیفہ ہمیشہ قریش قبیلے سے ہونا چاہئے
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The reward of the person who judging according to (the principles of) Al-Hikmah.
جو شخص اللہ کی عطا کردہ حکمت کے ساتھ فیصلہ کرے ۔
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. To listen to and obey one's Imam (Muslim ruler) as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah).
امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے
4 Hadith
05
(5) CHAPTER. If somebody does not seek authority of ruling, then Allah will surely help him (if he is given such authority).
جسے بن مانگے سرداری ملے تو اللہ اس کی مدد کرے گا
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. He who seeks to be a ruler will be held responsible for that (i.e., Allah will not help him in his duty).
جو شخص مانگ کر حکومت لے اس کو اسی کے سپرد کر دیا گیا
3 Hadith
07
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
حکومت اور سرداری کی حرص کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
جو شخص رعیت کا حاکم بنے اور ان کی خیرخواہی نہ کرے اس کا عذاب
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. Whoever puts the people into troubles and difficulties will be put into troubles and difficulties by Allah.
جو شخص بندگان خدا کو ستائے ( مشکل میں پھانسے ) اللہ اس کو ستائے گا ( مشکل میں پھنسائے گا )
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To give judgements and legal opinions on the road.
چلتے چلتے راستہ میں کوئی فیصلہ کرنا اور فتویٰ دینا
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. It is mentioned that there was no gatekeeper for the Prophet (p.b.u.h.).
یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دربان نہیں تھا
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. A governor (of a province, etc.,) who is under can sentence to death a person who deserve such punishement without consulting the Imam.
ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. Can a judge give a judgement or a formal legal opinion while he is in an angry mood?
قاضی کو فیصلہ یا فتویٰ غصہ کی حالت میں دینا درست ہے یا نہیں
3 Hadith
14
(14) CHAPTER. Whosoever thinks that a judge can give judgements for the people according to his knowledge if he is not afraid of being suspected or blamed.
قاضی کا اپنے ذاتی علم کی رو سے معاملات میں فیصلہ دینا درست ہے
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. To bear witness as to the writer of a stamped letter.
مہری خط پر گواہی دینے کا بیان
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. The salaries of rulers and those employed to administer the funds.
حکام اور حکومت کے عاملوں کا تنخواہ لینا
2 Hadith
17
(18) CHAPTER. Whoever gave judgements of Lian in the mosque.
جو مسجد میں فیصلہ کرے یا لعان کرائے
3 Hadith
18
(19) CHAPTER. Whoever passed a judgement in the mosque and when the actual legal punishement was to be put to action,he ordered the guilty person to be taken outside the mosque so that the punishment might be carried out.
حدکا مقدمہ مسجد میں سننا پھر جب حد لگانے کا وقت آئے تو مجرم کو مسجد کے باہر لے جانا
1 Hadith
19
(20) CHAPTER. The advice of the Imam (ruler) to the litigants.
فریقین کو امام کا نصیحت کرنا
1 Hadith
20
(21) CHAPTER. If a judge has to witness in favour of a litigant when he is a judge or he had it before he became a judge (can he pass a judgement in his favour accordingly or should he refer the case to another judge before whom he would bear witness?).
جب حاکم اعلیٰ دو شخصوں کو کسی ایک جگہ ہی کا حاکم مقرر کرے تو انہیں یہ حکم دے کہ وہ مل کر رہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں
2 Hadith
21
(22) CHAPTER. The order of the Wali (chief ruler) sending two Amir (governors) to one place that they should coopertae and agree with each other and should not differ with one another.
حاکم دعوت قبول کر سکتا ہے
1 Hadith
22
(23) CHAPTER. The ruler's acceptance of invitation.
حاکموں کو جو ہدیے تحفے دیئے جائیں ان کا بیان
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The gifts taken by the employees.
آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا
1 Hadith
24
(25) CHAPTER. To appoint the Maula (freed slaves) as judges and officials.
لوگوں کے چودھری یا نقیب بنانا
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. The Urafa appointed to look after the people's affairs.
بادشاہ کے سامنے منہ در منہ خوشامد کرنا ، پیٹھ پیچھے اس کو براکہنا منع ہے
4 Hadith
26
(28) CHAPTER. Passing a Judgement against an absent person.
ایک طرفہ فیصلہ کرنے کا بیان
3 Hadith
27
(30) CHAPTER. Judgement regarding cases involving wells, etc.
اگر کسی شخص کو حاکم دوسرے مسلمان بھائی کا مال ناحق دلا دے تو اس کو نہ لے کیونکہ حاکم کے فیصلہ سے نہ حرام حلال ہو سکتا ہے نہ حلال حرام ہو سکتا ہے
2 Hadith
28
(31) CHAPTER. To judge (all) cases involving wealth weather it is much or little in amount, in one and the same.
کنویں اور اس جیسی چیزوں کے مقدمات فیصل کرنا
1 Hadith
29
(32) CHAPTER. The selling of the people's real or personal estates by the ruler on their behalf.
ناحق مال اڑانے میں جو وعید ہے وہ تھوڑے اور بہت دونوں مالوں کو شامل ہے
1 Hadith
30
(33) CHAPTER. Whoever does not care slanders made by ignorant people against the Amirs (leaders).
حکم ( بیوقوف اور غائب لوگوں کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کو بیچ سکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام بن نحام کے ہاتھ بیچ ڈالا
1 Hadith
31
(34) CHAPTER. The one who is the most contentious of enemies; and that is, the most quarrelsome person of the opponents.
الدالخصم کا بیان
1 Hadith
32
(35) CHAPTER. If a judge passes an unjust judgement or a judgement which differs from that of the learned religious men, such a judgement is to be rejected.
جب حاکم کا فیصلہ ظالمانہ ہو یا علماء کے خلاف ہو تو وہ رد کر دیا جائے گا
1 Hadith
33
(36) CHAPTER. The Imam (ruler) going to some people to establish peace among them.
امام کسی جماعت کے پاس آئے اور ان میں باہم صلح کرادے
1 Hadith
34
(37) CHAPTER. It is desirable that a scribe should be honest and wise.
فیصلہ لکھنے والا امانتدار اور عقلمند ہونا چاہئے
1 Hadith
35
(38) CHAPTER. The writing of a letter by the ruler to his representatives (in the provinces), and by judge to his workers who look after the problems of the people.
امام کا اپنے نائبوں کو اور قاضی کا اپنے عملہ کو لکھنا
1 Hadith
36
(39) CHAPTER. Is ir permissible for a ruler to send one man only to manage certain affairs?
کیا حاکم کیلئے جائز ہے کہ وہ کسی ایک شخص کو معاملات کی دیکھ بھال کیلئے بھیجے
2 Hadith
37
(40) CHAPTER. The translators of a ruler; and is it permissible to keep one translator?
حاکم کے سامنے مترجم کا رہنا اور کیا ایک ہی شخص ترجمانی کے لئے کافی ہے ۔
2 Hadith
38
(41) CHAPTER. The ruler calling his employees to account.
امام کا اپنے عاملوں سے حساب طلب کرنا
1 Hadith
39
(42) CHAPTER. The courtiers and advisers of the Imam (ruler).
امام کا خاص مشیر جسے بطانہ بھی کہتے ہیں یعنی راز دار دوست
1 Hadith
40
(43) CHAPTER. How do the people give the Baia (pledge) to the Imam (ruler).
امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے ؟
9 Hadith
41
(44) CHAPTER. Whosoever gave the Baia (pledge) twice.
جس نے دو مرتبہ بیعت کی
1 Hadith
42
(45) CHAPTER. The giving of the Baia (pledge) by the bedouins.
دیہاتیوں کا اسلام اور جہاد پر بیعت کرنا
1 Hadith
43
(46) CHAPTER. The Baia (pledge) of a child.
نابالغ لڑکے کا بیعت کرنا
1 Hadith
44
(47) CHAPTER. Whoever gave the Baia (pledge) and then cancelled it.
بیعت کرنے کے بعد اس کا فسخ کرانا
1 Hadith
45
(48) CHAPTER. The person who gives the Baia (pledge) to a man just for worldly benefits.
جس نے کسی سے بیعت کی اور مقصد خالص دنیا کمانا ہو اس کی برائی کا بیان
1 Hadith
46
(49) CHAPTER. The Baia (pledge) given by women.
عورتوں سے بیعت لینا
3 Hadith
47
(S0) CHAPTER. Whoever violates a Baia (pledge).
اس کا گناہ جس نے بیت توڑی
1 Hadith
48
(51) CHAPTER. The appointment of a caliph (to succeed another).
ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کر جائے تو کیسا ہے ؟
5 Hadith
49
(51b) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
2 Hadith
50
(52) CHAPTER. The expulsion of quarrelsome people and people accused of something, from houses after having a firm proof against them.
جھگڑا اور فسق وفجور کرنے والوں کو معلوم ہونے کے بعد گھروں سے نکالنا
1 Hadith
51
(53) CHAPTER. Is it legal for the Imam to forbid the criminals and those who commit sin to talk to or visit him, etc.?
کیا امام کے لیے جائز ہے کہ وہ مجرموں اور گنہگاروں کو اپنے ساتھ بات چیت کرنے اور ملاقات وغیرہ کرنے سے روک دے ۔
1 Hadith
No chapter matched that.