TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The chapters on legal punishments - حدود کے احکام و مسائل - Book 22 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Book 22 of Sunnan Ibn e Maja, with 38 chapters and 82 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

82 Hadith · 38 Chapters
تین صورتوں کے علاوہ مسلمان کا قتل حرام اور ناجائز ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْقَتْلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِي بِالْقَتْلِ فَلِمَ يَقْتُلُونِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ:‏‏‏‏ رَجُلٌ زَنَى وَهُوَ مُحْصَنٌ فَرُجِمَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ رَجُلٌ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا مُسْلِمَةً وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ.
It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif that: `Uthman bin 'Affan looked at them when they spoke of killing. He said: “Are they kill threatening to kill me? Why would they kill me? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “It is not lawful to shed the blood of a Muslim except in one of three (cases): a man who commits adultery when he is a married person, then he should be stoned; a man who kills a soul not in retaliation for murder; and a man who apostatizes after becoming Muslim.' By Allah (SWT), I never committed adultery either during Ignorance days nor in Islam, and I have never killed a Muslim soul, and I have not apostatized since I became Muslim.”
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان ( بلوائیوں ) کو جھانک کر دیکھا، اور انہیں اپنے قتل کی باتیں کرتے سنا تو فرمایا: یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں، آخر یہ میرا قتل کیوں کریں گے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کسی مسلمان کا قتل تین باتوں میں سے کسی ایک کے بغیر حلال نہیں: ایک ایسا شخص جو شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کرے، تو اسے رجم کیا جائے گا، دوسرا وہ شخص جو کسی مسلمان کو ناحق قتل کر دے، تیسرا وہ شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے پھر جائے ( مرتد ہو جائے ) ، اللہ کی قسم میں نے نہ کبھی جاہلیت میں زنا کیا، اور نہ اسلام میں، نہ میں نے کسی مسلمان کو قتل کیا، اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد ارتداد کا شکار ہوا ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الدیات ۳ (۴۵۰۲)، سنن الترمذی/الفتن ۱ (۲۱۵۸)، سنن النسائی/المحاربة (تحریم الدم)۶ (۴۰۲۴)،(تحفة الأشراف:۹۷۸۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۶۱،۶۲،۶۵،۷۰)، سنن الدارمی/الحدود ۱ (۲۳۴۳)
Explanation
یہ عثمان رضی اللہ عنہ نے حجت قائم کی ان بے رحم باغیوں پر جو آپ کے قتل کے درپے تھے، لیکن انہوں نے اس دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا، اور بڑی بے رحمی کے ساتھ گھر میں گھس کر آپ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، اس وقت آپ روزے سے تھے، اور تلاوت قرآن میں مصروف تھے، «إنا للہ وإنا إلیہ راجعون»۔
2533
Sahih
تین صورتوں کے علاوہ مسلمان کا قتل حرام اور ناجائز ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَحَدُ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ .
It was narrated from 'Abdullah, who is Ibn Mas`ud, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “It is not lawful to shed the blood of a Muslim who bears witness that none has the right to be worshiped but Allah (SWT), and that I am the Messenger of Allah (ﷺ), except in one of three cases: a soul for a soul; a married person who commits adultery, and one who leaves his religion and splits from the Jama`ah.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا جو صرف اللہ کے معبود برحق ہونے، اور میرے اللہ کا رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو، خون کرنا حلال نہیں، البتہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ہو تو حلال ہے: اگر اس نے کسی کی جان ناحق لی ہو، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا مرتکب ہوا ہو، یا اپنے دین ( اسلام ) کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو ( یعنی مرتد ہو گیا ہو ) ، ( تو ان تین صورتوں میں اس کا خون حلال ہے ) ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الدیات ۶ (۶۸۷۶)، صحیح مسلم/القسامة ۶ (۱۶۷۶)، سنن ابی داود/الحدود ۱ (۴۳۵۲)، سنن الترمذی/الدیات ۱۰ (۱۴۰۲)، سنن النسائی/المحاربة ۵ (۴۰۲۱)،(تحفة الأشراف:۹۵۶۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۸۲،۴۲۸،۴۴۴،۴۶۵)، سنن الدارمی/الحدود ۲ (۲۳۴۴)
Explanation
پس جہاں توحید و رسالت پر ایمان لایا، مسلمان ہو گیا، اب اس کا خون بہانا حرام اور ناجائز ٹھہرا، اگرچہ وہ دوسرے فروعی مسائل میں کتنا ہی اختلاف رکھتا ہو۔ افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس عمدہ قانون کو چھوڑ کر آپس ہی میں اختلاف و تشدد اور لڑائی جھگڑے کا بازار گرم کیا، اور مسلمان مسلمان ہی کو مارنے لگے، اور ان کے بعض جاہل مولوی فتوی دینے لگے کہ فلاں مسلمان اس مسئلہ میں خلاف کرنے سے کافر اور مرتد اور واجب القتل ہو گیا، حالانکہ صحیح حدیث سے صاف ثابت ہے کہ جو توحید اور رسالت کو مانتا ہو وہ مسلمان ہے، اس کا قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں، اب اگر یہ کہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعین زکاۃ کے خلاف جہاد کیا تھا، حالانکہ وہ توحید اور رسالت کو مانتے تھے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ زکاۃ اسلام کا رکن ہے، اور اس کے ساتھ بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ پر صحابہ رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا تھا، جب انہوں نے ان لوگوں سے لڑنا چاہا تھا، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ امام اور خلیفہ وقت تھے، اور ان کی اطاعت بموجب حدیث نبوی واجب تھی اور انہوں نے دلیل لی دوسری احادیث و آیات سے، اب ایسا واجب اطاعت امام اور خلیفہ کون ہے جس کے ماتحت ہو کر تم مسلمانوں سے لڑتے ہو اور ان کو ستاتے ہو، اور بات بات پر مار کاٹ اور زد و کوب اور سب و شتم کا ارتکاب کرتے ہو، بھلا دوران نماز رفع یدین کرنا یا نہ کرنا، آمین زورسے یا آہستہ کہنا، ہاتھ زیر ناف یا ٍسینے پر باندھنا، یہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے لئے مسلمانوں میں فتنہ و فساد ہو؟ اور ان کی عزت اور جان کو داؤ پر لگایا جائے؟ سنت نبوی پر عمل کرنے والوں کے خلاف محاذ آرائی کرنے والوں اور ان کو مارنے پیٹنے والوں کا معاملہ قاتلین عثمان کی طرح ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے ، پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس نکتہ کو سمجھیں اور باہم متحد ہو جائیں، مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ جب وہ آپس میں فروعی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے لڑتے جھگڑتے ہیں تو ان کی اس ناسمجھی پر دشمن کتنا ہنستے اور خوش ہوتے ہیں، برخلاف مسلمانوں کے نصاری میں متعدد فرقے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو جہنمی خیال کرتا ہے، لیکن عیسی علیہ السلام کے ماننے کی وجہ سے سب ایک رہتے ہیں، اور غیر مذہب والوں سے مقابلہ کرتے وقت سب ایک دوسرے کے مددگار اور معاون بن جاتے ہیں، مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے کہ جو کوئی اللہ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، محمد ﷺ کو سچا رسول اور آخری نبی جانے اس آدمی کو اپنا مسلمان بھائی سمجھیں، گو فروعی مسائل میں اختلاف باقی رہے۔مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کا سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی رسی یعنی کتاب و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور آپس میں اختلاف نہ کریں، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَتَفَرَّقُواْ» (سورة آل عمران: 103) سب مل کراللہ کی رسی - یعنی اس کے دین اور کتاب و سنت - کومضبوطی سے تھام لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو ، نیز رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: «تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسكتم بهما كتاب الله و سنة رسوله» میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں یعنی کتاب اللہ و سنت رسول چھوڑی ہیں جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے ۔
2534
Sahih
دین اسلام سے مرتد ہو جانے والے کا حکم
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ .
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever changes his religion, execute him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے دین ( اسلام ) کو بدل ڈالے اسے قتل کر دو ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الجہاد ۱۴۹ (۳۰۱۷)، المرتدین ۲ (۶۹۲۲)، سنن ابی داود/الحدود ۱ (۴۳۵۱)، سنن الترمذی/الحدود ۲۵ (۱۴۵۸)، سنن النسائی/الحدود ۱۱ (۴۰۶۴)،(تحفة الأشراف:۵۹۸۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۸۲،۲۸۳،۳۲۳)
Explanation
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیحین میں ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن میں ان کے پاس گئے، وہاں ایک شخص بندھا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہودی تھا پھر مسلمان ہو گیا، اب پھر یہودی ہو گیا، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق اسے قتل نہ کر دیا جائے، اور مرتد چاہے مرد ہو یا عورت واجب القتل ہے۔ امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے قید کریں گے، یہاں تک کہ دوبارہ دین اسلام میں داخل ہو جائے۔ اور فقہاء کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے مرتد کے ان شبہات کا ازالہ کریں گے جو اس کو اسلام کے بارے میں لاحق ہے، اور تین دن تک قید میں رکھیں گے، اگر اس پر بھی مسلمان نہ ہو تو اس کو قتل کر دیں گے۔
2535
Sahih
دین اسلام سے مرتد ہو جانے والے کا حکم
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ أَشْرَكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا حَتَّى يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ .
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah (SWT) will not accept any good deed from a polytheist who committed polytheism after having become Muslim, until he leaves the polytheists and joins the Muslims.”
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی ایسے مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا جو اسلام لانے کے بعد شرک کرے، الا یہ کہ وہ پھر مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے مل جائے ۱؎۔
Takhreej
سنن النسائی/الزکاة ۱ (۲۴۳۸)،۷۳ (۲۵۶۹)،(تحفة الأشراف:۱۱۳۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۵)
Explanation
یعنی دار الکفر سے دار الاسلام میں آ جائے، مراد وہ دار الکفر ہے جہاں مسلمان اسلام کے ارکان اور عبادات بجا نہ لا سکیں، ایسی جگہ سے ہجرت کرنا فرض ہے اور بعضوں نے کہا: مسلمانوں کی جماعت میں شریک ہونے کا مقصدیہ ہے کہ کافروں کی عادات و اخلاق چھوڑ دے۔
2536
Sahih
حدود کے نفاذ کا بیان
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلَادِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
It was narrated from Ibn `Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Carrying out one of the legal punishments prescribed by Allah (SWT) is better than if it were to rain for forty nights in the land of Allah (SWT), Glorified is He.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی ایک حد کا نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کی زمین پر چالیس رات بارش ہونے سے بہتر ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۷۳۸۱، ومصباح الزجاجة:۸۹۹)
Explanation
جیسے بارش سے خوشحالی آ جاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں۔ ایسے ہی رعایا کی زندگی اسلامی حدود کے نافذ کرنے سے ہوتی ہے، مجرمین کو سزا ہوتی ہے لوگوں کے جان و مال محفوظ رہتے ہیں، اور لوگوں کو راحت حاصل ہوتی ہے۔
2537
Sahih
حدود کے نفاذ کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَظُنُّهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حَدٌّ يُعْمَلُ بِهِ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A legal punishment that is carried out in the land is better for the people of that land than if it were to rain for forty days.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایک حد جو دنیا میں نافذ ہو، اہل زمین کے لیے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ چالیس دن تک بارش ہو ۔
Takhreej
سنن النسائی/قطع السارق ۷ (۴۹۱۹،۴۹۲۰ موقوفاً)،(تحفة الأشراف:۱۴۸۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۶۲،۴۰۲)
2538
Sahih
حدود کے نفاذ کا بیان
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ جَحَدَ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ حَلَّ ضَرْبُ عُنُقِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا سَبِيلَ لِأَحَدٍ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يُصِيبَ حَدًّا، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَامَ عَلَيْهِ .
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah said: “Whoever denies a Verse of the Qur'an, it is permissible to strike his neck (i.e., execute him) Whoever says, Lailaha illallahu wahduhu la sharika lahu, wa anna Muhammadan `abduhu wa rasuluhu (None has the right to be worshiped but Allah (SWT) alone, and Muhammad (ﷺ) is His slave and Messenger), no one has any was of harming him, unless he (does something which) deserves a legal punishment, and it is carried out on him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے، اس کی گردن مارنا حلال ہے، اور جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اس پر زیادتی کرنے کا اب کوئی راستہ باقی نہیں، مگر جب وہ کوئی ایسا کام کر گزرے جس پر حد ہو تو اس پر حد جاری کی جائے گی ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۰۴۲، ومصباح الزجاجة:۹۰۰)
2539
Zaeef
حدود کے نفاذ کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْمَفْلُوجُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَادِقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَلَا تَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ .
It was narrated from `Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Carry out the legal punishments on relatives and strangers, and do not let the fear of blame stop you from carrying out the command of Allah (SWT).”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرو، خواہ کوئی قریبی ہو یا دور کا، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۰۸۷، ومصباح الزجاجة:۹۰۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۳۰)
2540
Sahih
جس پر حد واجب نہیں ہے اس کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ عُرِضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي .
It was narrated that 'Abdul-Malik bin `Umair said: “I heard 'Atiyyah Al-Quradhi say: 'We were presented to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Quraidhah. Those whose pubic hair had grown were killed, and those whose pubic hair had not yet grown were let go. I was one of those whose pubic hair had not yet grown, so I was let go.”
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ قریظہ کے دن ( جب بنی قریظہ کے تمام یہودی قتل کر دیئے گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو جس کے زیر ناف بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا، اور جس کے نہیں اگے تھے اسے ( نابالغ سمجھ کر ) چھوڑ دیا گیا، میں ان لوگوں میں تھا جن کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الحدود ۱۷ (۴۴۰۴)، سنن الترمذی/السیر ۲۹ (۱۵۸۴)، سنن النسائی/الطلاق ۲۰ (۳۴۶۰)، القطع ۱۴ (۴۹۸۴)،(تحفة الأشراف:۹۹۰۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۱۰،۳۸۳،۵/۳۱۲،۳۸۳)
Explanation
عطیہ رضی اللہ عنہ کا تعلق یہود بنی قریظہ سے تھا، غزوہ احزاب کے فوراً بعد اس قبیلے کی غداری اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد اس پر چڑھائی کا واقعہ پیش آیا، اس غزوہ میں عطیہ رضی اللہ عنہ دیگر نابالغ بچوں کے ساتھ قتل ہونے سے بچ گئے، اور بعد میں اسلام قبول کیا، ان کا اسلام اور ان کی اسلامی خدمات بہت اعلیٰ درجے کی ہیں۔
2541
Sahih
جس پر حد واجب نہیں ہے اس کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ.
It was narrated that 'Abdul-Malik bin 'Umair said: “I heard 'Atiyyah Al-Qurazi say: Here I am still among you,'
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی کہتے سنا: تو اب میں تمہارے درمیان ہوں۔
Takhreej
«انظر ما قبلہ
2542
Sahih
جس پر حد واجب نہیں ہے اس کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُجِزْنِي، ‏‏‏‏‏‏وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ نَافِعٌ:‏‏‏‏ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا فَصْلُ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ
It was narrated that Ibn`Umar said: “I was presented to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of Uhud, when I was fourteen years old, but he did not permit me (to fight). I was presented to him on the Day of Khandaq when I was fifteen years old, and he permitted me (to fight).' ”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( غزوہ میں شریک ہونے کی ) اجازت نہیں دی، لیکن جب مجھے آپ کے سامنے غزوہ خندق کے دن پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ نافع کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے عمر بن عبدالعزیز سے ان کے عہد خلافت میں بیان کی تو انہوں نے کہا: یہی نابالغ اور بالغ کی حد ہے۔
Takhreej
حدیث أبي أسامة أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات ۱۸ (۲۶۶۴)، المغازي ۲۹ (۴۰۹۷)،(تحفة الأشراف:۷۸۳۳)، وقد أخرجہ: وحدیث عبد اللہ بن نمیر صحیح مسلم/الإمارہ ۲۳ (۱۸۶۴)،(تحفة الأشراف:۷۹۵۵)، مسند احمد (۲/۱۷)، وحدیث أبي معاویہ تفردبہ ابن ماجہ، تحفة الأشراف:۸۱۱۵)، سنن ابی داود/الخراج ۱۶ (۲۹۵۷)، الحدود ۱۷ (۴۴۰۶)، سنن الترمذی/الأحکام ۲۴ (۱۳۱۶)، الجہاد ۳۱ (۱۷۱۱)، سنن النسائی/الطلا ق۲۰ (۳۴۳۱)، مسند احمد (۲/۱۷)
Explanation
بلوغ کی کئی نشانیاں ہیں: زیر ناف بال اگنا، ڈاڑھی مونچھ کے بال اگنا، احتلام ہونا، پندرہ برس کی عمر کا ہونا۔
2543
Sahih
مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا ثواب اور شکوک و شبہات کی وجہ سے حد ساقط ہو جانے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever covers (the sin of) a Muslim, Allah will cover him (his sin) in this world and in the Hereafter.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۴۹)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر ۱۱ (۲۶۹۹)، سنن ابی داود/الأدب ۶۸ (۴۹۴۶)، سنن الترمذی/الحدود ۳ (۱۴۲۵)، مسند احمد (۲/۲۵۲،۳۲۵،۵۰۰،۵۲۲)، سنن الدارمی/المقدمة ۳۲ (۳۶۰)
2544
Sahih
مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا ثواب اور شکوک و شبہات کی وجہ سے حد ساقط ہو جانے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ادْفَعُوا الْحُدُودَ مَا وَجَدْتُمْ لَهُ مَدْفَعًا .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Ward off the legal punishments as much as you can.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم حدود کو دفع کرو، جہاں تک دفع کرنے کی گنجائش پاؤ ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۹۴۵، ومصباح الزجاجة:۹۰۲)
2545
Zaeef
مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا ثواب اور شکوک و شبہات کی وجہ سے حد ساقط ہو جانے کا بیان
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُمَحِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، ‏‏‏‏‏‏سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَشَفَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، ‏‏‏‏‏‏كَشَفَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ بِهَا فِي بَيْتِهِ .
It was narrated from Ibn `Abbas that the Prophet (ﷺ) said: “Whoever conceals the (hidden) fault of his Muslim brother, Allah (SWT) will conceal his faults on the Day of Resurrection. Whoever exposes the fault of his Muslim brother, Allah will expose his faults, until (so that) He shames him, due to it, in his (own) house.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اور جو اپنے مسلمان بھائی کا کوئی عیب فاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کا عیب فاش کرے گا، یہاں تک کہ وہ اسے اس کے گھر میں بھی ذلیل کرے گا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۰۴۳، ومصباح الزجاجة:۹۰۳)
Explanation
یہ تجربہ کی بات ہے کہ جو کوئی اپنے بھائی مسلمان کا عیب اس کو ذلیل کرنے کے لئے ظاہر کرتا ہے وہ اس سے بڑھ کر عیب میں گرفتار ہوتا ہے، اور اس سے بڑھ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
2546
Zaeef
حدود میں سفارش کے حکم کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، ‏‏‏‏‏‏وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَدْ أَعَاذَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَسْرِقَ وَكُلُّ مُسْلِمٍ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذَا .
It was narrated from 'Aishah : that Quraish became concerned about the case of the Makhzumi woman who had stolen, and they said: “Who will speak to the Messenger of Allah (ﷺ) concerning her?” They said: “Who would dare to do that other than Usamah bin Zaid, the beloved of the Messenger of Allah (ﷺ)?” So Usamah spoke to him, and the Messenger of Allah (ﷺ) said, “Are you interceding concerning one of the legal punishments of Allah (SWT)?“ Then he stood up and addressed (the people) and said: “O people! Those who came before you were only destroyed because when one of their nobles stole, they let him off, but when one of the weak people among them stole, they would carry out the punishment on him. By Allah, if Fatimah the daughter of Muhammad were to steal, I would cut off her hand.” (Sahih)(One of the narrators) Muhammad bin Rumh said: “I heard Laith bin Sa'd say: 'Allah(SWT) protected her (Fatimah) from stealing, and every Muslim should say this.'”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، قریش کافی فکرمند ہوئے اور کہا: اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اپنی اس روش کی بناء پر ہلاک ہوئے کہ جب کوئی اعلیٰ خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور حال شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا ( بھی ) ہاتھ کاٹ دیتا ۔ محمد بن رمح ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد کو کہتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چوری کرنے سے محفوظ رکھا اور ہر مسلمان کو ایسا ہی کہنا چاہیئے۔
Takhreej
صحیح البخاری/الشبہات ۸ (۲۶۴۸)، الأنبیاء ۵۴ (۳۴۷۵)، فضائل الصحابة ۱۸ (۳۷۳۲)، المغازي ۵۲ (۴۳۰۴)، الحدود ۱۱ (۶۷۸۷)،۱۲ (۶۷۸۸)،۱۴ (۶۸۰۰)، صحیح مسلم/الحدود ۲ (۱۶۸۸)، سنن ابی داود/الحدود ۴ (۴۳۷۳)، سنن الترمذی/الحدود ۶ (۱۴۳۰)، سنن النسائی/قطع السارق ۵ (۴۹۰۳)،(تحفة الأشراف:۱۶۵۷۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۶۲)، سنن الدارمی/الحدود ۵ ۲۳۴۸)
2547
Sahih
حدود میں سفارش کے حکم کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ تِلْكَ الْقَطِيفَةَ مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمْنَا ذَلِكَ وَكَانَتِ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَجِئْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُكَلِّمُهُ وَقُلْنَا نَحْنُ نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَمِعْنَا لِينَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَتَيْنَا أُسَامَةَ فَقُلْنَا كَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَامَ خَطِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا إِكْثَارُكُمْ عَلَيَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَعَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ نَزَلَتْ بِالَّذِي نَزَلَتْ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا .
It was narrated from 'Aishah bin Mas'ud bin Aswad, that her father said: “When the woman stole the Qatifah from the house of the Messenger of Allah (ﷺ), we regarded that as a serious matter. She was a woman from Quraish. So we came to the Prophet (ﷺ) and spoke to him, and said: 'We will ransom her for forty Uqiyyah.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Purification is better for her.” When we heard the Messenger of Allah (ﷺ) speak so kindly, we went to Usamah and said: 'Speak to the Messenger of Allah (ﷺ) .' When the Messenger of Allah (ﷺ) saw that, he stood up to speak and said: 'How much do you intercede with me concerning one of the legal punishments of Allah (SWT) that has befallen one of the female slaves of Allah (SWT)! By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, if Fatimah the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ) were to do what she has done, Muhammad would cut off her hand.”
مسعود بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اس عورت ( فاطمہ بنت اسود ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے چادر چرائی تو ہمیں اس کی بڑی فکر ہوئی، وہ قریشی عورت تھی، چنانچہ ہم گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا: ہم اس کے فدیہ میں چالیس اوقیہ ادا کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کا پاک کر دیا جانا اس کے حق میں بہتر ہے ، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم گفتگو سنی تو ( امیدیں لگائے ) اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے سلسلے میں ) گفتگو کرو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا ( کہ اسامہ سفارش کر رہے ہیں ) تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: کیا بات ہے تم باربار مجھ سے اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ جو اللہ کی ایک باندی پر ثابت ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر یہ چیز اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ پیش آتی، جو اس کے ساتھ پیش آئی ہے تو محمد اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۲۶۳، ومصباح الزجاجة:۹۰۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۰۹)
2548
Zaeef
زنا کی حد کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِالزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَشِبْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ خَصْمُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ائذَنْ لِي حَتَّى أَقُولَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏الْمِائَةُ الشَّاةُ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ هِشَامٌ:‏‏‏‏ فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
It was narrated that Abu Hurairah, Zaid bin Khalid and Shibl said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and a man came to him and said: 'I adjure you by Allah (SWT) to judge between us according to the Book of Allah (SWT).' His opponent, who was more knowledgeable than him, said: 'Judge between us according to the Book of Allah (SWT), but let me speak first.' He said: 'Speak.' He said: 'My son was a servant of this man, and he committed adultery with his wife, and I ransomed him for one hundred sheep and a servant. I asked some men of knowledge and I was told that my son should be given one hundred lashes and exiled for a year, and that the wife of this man should be stoned.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'By the One in Whose Hand is my soul, I will judge between you according to the Book of Allah (SWT). The one hundred sheep and the servant are to be returned to you and your son is to be given one hundred lashes and exiled for a year. Go tomorrow, O Unais, to the wife of this man and if she admits I then stone her.'”
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور بولا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، اللہ کی کتاب کے مطابق آپ ہمارا فیصلہ کر دیجئیے، اس کا فریق ( مقابل ) جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، بولا: آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق فرمائیے لیکن مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو اس نے بیان کیا کہ میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، میں نے اس کی جانب سے سو بکریاں اور ایک نوکر فدیہ میں دے دیا ہے، پھر میں نے اہل علم میں سے کچھ لوگوں سے پوچھا، تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اس کی بیوی کے لیے رجم یعنی سنگساری کی سزا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تم واپس لے لو، اور تمہارے بیٹے کے لیے سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اے انیس! کل صبح تم اس کی عورت کے پاس جاؤ اور اگر وہ اقبال جرم کر لے تو اسے رجم کر دو ۱؎۔ حدیث کے راوی ہشام کہتے ہیں: انیس صبح کو اس کے ہاں پہنچے، اس نے اقبال جرم کیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الوکالة ۱۳ (۲۳۱۴،۲۳۱۵مختصراً) الصلح ۵ (۲۶۹۵،۲۶۹۶)، الشروط ۹ (۲۷۲۴،۲۷۲۵)، الإیمان ۳ (۶۶۳۳،۶۶۳۴)، الحدود ۲۰ (۶۸۳۵،۶۸۳۶)،۱۶ (۶۸۲۷،۶۸۲۸)،۳۳ (۶۸۵۹،۶۸۶۰)، الأحکام ۳ (۷۱۹۳۴،۷۱۹۴)، الآحاد ۱ (۷۲۵۸،۷۲۶۰)، صحیح مسلم/الحدود ۵ (۱۶۹۷،۱۶۹۸)، سنن ابی داود/الحدود ۲۵ (۴۴۴۵)، سنن الترمذی/الحدود ۸ (۱۴۳۳)، سنن النسائی/آداب القضاة ۲۱ (۴۵۱۲)،(تحفة الأشراف:۳۷۵۵)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود ۱ (۶)، مسند احمد (۴/۱۱۵،۱۱۶)، سنن الدارمی/الحدود ۱۲ (۲۳۶۳)
Explanation
عورت شادی شدہ تھی اس لئے اسے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا، اور لڑکا شادی شدہ نہیں تھا، اس لئے اس کے لئے ایک سال جلا وطنی اور سو کوڑوں کی سزا متعین کی گئی۔
2549
Sahih
زنا کی حد کا بیان
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خُذُوا عَنِّي، ‏‏‏‏‏‏قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا، ‏‏‏‏‏‏الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ سَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ .
It was narrated from `Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Learn from me. Allah (SWT) has ordained for them (women) another way. (If) a virgin (commits illegal sexual intercourse) with a virgin, (the punishment is) one hundred lashes and exile for one year. (If) a Thayyib (commits adultery) with a Thayyib (the punishment is) one hundred lashes and stoning.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دین کے احکام ) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ( جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا ) راہ نکال دی ہے: کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/الحدود ۳ (۱۶۹۰)، سنن ابی داود/الحدود ۲۳ (۴۴۱۵،۴۴۱۶)، سنن الترمذی/الحدود ۸ (۱۴۳۴)،(تحفة الأشراف:۵۰۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۷۵،۵/۳۱۳،۳۱۷،۳۱۸،۳۲۰)، سنن الدارمی/الحدود ۱۹ (۲۳۷۲)
Explanation
محصن (شادی شدہ) زانی اور محصنہ (شادی شدہ) زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں، پھر رجم کا حکم دیا جائے گا، اور اگر کوڑے نہ مارے جائیں اورصرف رجم پر اکتفا کیا جائے تو ایسا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے انیس رضی اللہ عنہ کو اس عورت کے رجم کا حکم دیا، اور کوڑے مارنے کے لئے نہیں فرمایا، اسی طرح آپ ﷺ نے ماعز اسلمی، غامدیہ رضی اللہ عنہما اور یہود کو رجم کا حکم دیا اورکسی کو کوڑے نہیں لگوائے، اسی طرح شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) نے اپنی خلافت میں صرف رجم کیا کوڑے نہیں مارے، بعضوں نے کہا: عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا حکم منسوخ ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس میں سورہ نساء کی آیت کا حوالہ ہے اور سورہ نساء اخیر میں اتری۔ اور حق یہ ہے کہ امام کو اس باب میں اختیار ہے، خواہ کوڑے لگا کر رجم کرے، خواہ رجم ہی پر بس کرے۔
2550
Sahih
بیوی کی لونڈی سے صحبت کے حکم کا بیان
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُتِيَالنُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ بِرَجُلٍ غَشِيَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا أَقْضِي فِيهَا إِلَّا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَذِنَتْ لَهُ رَجَمْتُهُ .
It was narrated that Habib bin Salim said: “A man who had intercourse with the slave woman of his wife was brought to Nu`man bin Bashir. He said: 'I will pass no other judgement than that of the Messenger of Allah (ﷺ) He said: 'If (his wife) had made her lawful for him, then I will give him one hundred lashes, but if she has not given permission, I will stone him.' ”
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی، تو نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، پھر کہا: اگر اس کی عورت نے اسے اس لونڈی کے ساتھ صحبت کرنے کی اجازت دی ہے تو میں اس شخص کو سو کوڑے لگاؤں گا، اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو میں اسے رجم کروں گا ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الحدود ۲۸ (۴۴۵۸،۴۴۵۹)، سنن الترمذی/الحدود ۲۱ (۱۴۵۱)، سنن النسائی/النکاح ۷۰ (۳۳۶۲)،(تحفة الأشراف:۱۱۶۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۲۷۲،۲۷۶،۲۷۷)، سنن الدارمی/الحدود ۲۰ (۲۳۷۴)
2551
Sahih
بیوی کی لونڈی سے صحبت کے حکم کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ فَلَمْ يَحُدَّهُ .
It was narrated from Salamah bin Muhabbiq that: the case of a man who had intercourse with the slave woman of his wife was referred to the Messenger of Allah (ﷺ), and he did not stipulate any legal punishment for him.
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد نافذ نہیں کی ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الحدود ۲۸ (۴۴۶۰،۴۴۶۱)، سنن النسائی/النکاح ۷۰ (۳۳۶۵)،(تحفة الأشراف:۴۵۵۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۷۶،۵/۶)
2552
Sahih

Chapters

38
01
تین صورتوں کے علاوہ مسلمان کا قتل حرام اور ناجائز ہے
2 Hadith
02
دین اسلام سے مرتد ہو جانے والے کا حکم
2 Hadith
03
حدود کے نفاذ کا بیان
4 Hadith
04
جس پر حد واجب نہیں ہے اس کا بیان
3 Hadith
05
مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا ثواب اور شکوک و شبہات کی وجہ سے حد ساقط ہو جانے کا بیان
3 Hadith
06
حدود میں سفارش کے حکم کا بیان
2 Hadith
07
زنا کی حد کا بیان
2 Hadith
08
بیوی کی لونڈی سے صحبت کے حکم کا بیان
2 Hadith
09
زانی کو رجم کرنے کا بیان
3 Hadith
10
یہودی مرد اور عورت کے رجم کا بیان
3 Hadith
11
کوئی عورت فاحشہ معلوم ہو لیکن زنا ثابت نہ ہو تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
12
قوم لوط کے عمل (اغلام بازی) کی سزا کا بیان
3 Hadith
13
محرم یا جانور سے جماع کرنے والے کی حد کا بیان
1 Hadith
14
لونڈیوں پر حد جاری کرنے کا بیان
2 Hadith
15
حد قذف کا بیان
2 Hadith
16
شرابی کی حد کا بیان
3 Hadith
17
باربار شراب پینے والے کی حد کا بیان
2 Hadith
18
بوڑھے اور بیمار کی حد کا بیان
1 Hadith
19
مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کی برائی کا بیان
3 Hadith
20
ڈاکہ ڈالنے، رہزنی کرنے اور ملک میں فساد پھیلانے والوں کی حدود کا بیان
2 Hadith
21
اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا جانے والا شہید ہے
3 Hadith
22
چور کی حد کا بیان
4 Hadith
23
چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکا دینے کا بیان
1 Hadith
24
چور کا اعتراف جرم
1 Hadith
25
غلام چوری کرے تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
26
خائن، لٹیرے اور چھین کر بھاگنے والوں کا حکم
2 Hadith
27
پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا
2 Hadith
28
حرز (محفوظ جگہ) میں سے چرانے کا بیان
2 Hadith
29
چور کو تلقین کرنا کہ تم نے چوری نہ کی ہو گی!۔
1 Hadith
30
مجبور پر حد کے نفاذ کا حکم
1 Hadith
31
مساجد میں حد کا نفاذ منع ہے
2 Hadith
32
تعزیرات (تادیبی سزاؤں) کا بیان
2 Hadith
33
حد کا نفاذ گناہ کا کفارہ ہے
2 Hadith
34
شوہر بیوی کے ساتھ اجنبی مرد کو پائے تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
35
جو کوئی باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرے اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
36
کسی اور کو باپ بتانے اور کسی اور کو مولیٰ بنانے کی برائی کا بیان
3 Hadith
37
غیر خاندان کے آدمی کو خاندان سے نکالنے کا بیان
1 Hadith
38
مخنثوں اور ہیجڑوں کا بیان۔
2 Hadith
No chapter matched that.

Turn any verse into a post or a reel

Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.