حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ يَوْمَ النَّحْرِ يَعْنِي قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ .
It was narrated from Anas bin Malik that a man slaughtered on the Day of Sacrifice, (meaning) before the ‘Eid prayer, and the Prophet (ﷺ) ordered him to do it again.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے قربانی کے دن قربانی کر لی یعنی نماز عید سے پہلے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/العیدین ۲۳ (۹۵۴)، الأضاحي ۴ (۵۵۴۹)،۷ (۵۵۵۴)،۹ (۵۵۵۸)، صحیح مسلم/الأضاحي ۱ (۱۹۶۲)، سنن الترمذی/الأضاحي ۲ (۱۴۹۴)، سنن النسائی/الضحایا ۱۳ (۴۳۹۳)،(تحفة الأشراف:۱۱۴۵۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۱۳،۱۱۷)
Explanation
امام ابن القیم فرماتے ہیں: اس باب میں صریح احادیث وارد ہیں کہ نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہوا جانور کافی نہ ہو گا، خواہ نماز کا وقت آ گیا ہو، یا نہ آ گیا ہو، اور یہی اللہ تعالی کا دین ہے جس کو ہم اختیار کرتے ہیں، اور اس کے خلاف باطل ہے، امام کی نماز عیدگاہ میں ہو یا مسجد میں اگر امام نہ ہو، تو ہر شخص اپنی نماز کے بعد ذبح کرے۔
3151
Sahih