حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَبَاحٌ، وَنَجِيحٌ، وَأَفْلَحُ، وَنَافِعٌ، وَيَسَارٌ .
It was narrated from 'Umar ibn Al-Khattab that the Prophet(ﷺ) said:
If I live- if Allah wills - I will forbid the names Rabah(profit), Najih(saved), Aflah (Successful), Nafi (beneficial) and Yasar(prosperity).
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ «رباح» ( نفع ) ، «نجیح» ( کامیاب ) ، «افلح» ( کامیاب ) ، «نافع» ( فائدہ دینے والا ) اور «یسار» ( آسانی ) ، نام رکھنے سے منع کر دوں گا ۱؎۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الأدب ۶۵ (۲۸۳۵)،(تحفة الأشراف:۱۰۴۲۳، ومصباح الزجاجة:۱۳۰۵)
Explanation
ایک حدیث میں اس ممانعت کی یہ حکمت بیان کی گئی ہے کیونکہ تو کہے گا: کیا وہ یہاں موجود ہے؟ وہ نہیں ہو گا تو (جواب دینے والا) کہے گا نہیں۔ (صحیح مسلم) مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی پوچھے کہ گھر میں نافع ہے اور جواب میں کہا جائے کہ موجود نہیں۔ گویا آپ نے یہ کہا کہ گھر میں فائدہ دینے والا کوئی شخص موجود نہیں، سب نکمے ہیں۔ اگرچہ متکلم کا مقصد یہ نہیں ہو گا، تاہم ظاہری طور پر ایک نامناسب بات بنتی ہے، لہذا ایسے نام رکھنا مکروہ ہے لیکن حرام نہیں
3729
Sahih