TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5128 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 14 in this chapter
بَاب الظُّلم
ظلم کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: «اتَّقَوُا الظُّلم» . فِي «بَاب الإِنفاق»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم روز قیامت حق داروں کو ان کے حقوق ضرور ادا کرو گے ، حتیٰ کہ سینگوں والی بکری سے سینگوں کے بغیر بکری کو بدلہ دلایا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور جابر ؓ سے مروی حدیث :’’ ظلم سے بچو ۔‘‘ باب الانفاق میں ذکر کی گئی ہے ۔
5128
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۶۰ / ۲۵۸۲) 0 حدیث جابر تقدم (۱۸۶۵) ۔ 6580

Related Chapters

32
1
Chapter: (What Has Been Related) About The One Who Commits Transgression With Charity
باب: زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Rich Person's Procrastination (Paying Debt) Is Oppression
باب: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Being Oppression
باب: ظلم کا بیان
Jam e Tirmazi
4
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
ظلم کو معاف کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
6
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
7
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
Musnad Ahmad
8
(23) CHAPTER. Zulm (wrong) of one kind can be greater or lesser than that of another.
بعض ظلم بعض سے ادنیٰ ہیں
Sahih Bukhari
9
(12) CHAPTER. Procrastination (delay) in repaying debts by a wealthy person is injustice.
ادائیگی میں مالدار کی طرف سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
Sahih Bukhari
10
(1) CHAPTER. Retaliation (on the Day of Judgement) in cases of oppressions.
ظلموں کا بدلہ کس کس طور پر لیا جائے گا
Sahih Bukhari
11
(3) CHAPTER. A Muslim should not oppress another Muslim,nor should be hand him over to an oppressor.
کوئی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم نہ کرے اور نہ کسی ظالم کو اس پر ظلم کرنے دے
Sahih Bukhari
12
(8) CHAPTER. Az-Zulm (oppression) will be a darkness on the day of resurrection.
ظلم ، قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے
Sahih Bukhari
13
(10) CHAPTER. If the oppressed one forgives the oppressor, is it necessary to describe his oppression?
اگر کسی شخص نے دوسرے پر کوئی ظلم کیا ہو اور اس سے معاف کرائے تو کیا اس ظلم کو بیان کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
14
(11) CHAPTER. If the oppressed person forgives the oppressor, he has no right to back out ( of his forgiveness).
جب کسی ظلم کو معاف کر دیا تو پھر واپسی کا مطابہ باقی نہیں رہتا
Sahih Bukhari
15
(13) CHAPTER. The sin of him who usurps the land of others.
اس شخص کا گناہ جس نے کسی کی زمین ظلم سے چھین لی
Sahih Bukhari
16
(9) CHAPTER. Do not be a witness for injustice, if asked for that.
اگر ظلم کی بات پر لوگ گواہ بننا چاہیں تو گواہ نہ بنے
Sahih Bukhari
17
(5) CHAPTER If some people are (re)conciled on illegal basis, their (re)conciliation is rejected.
اگر ظلم کی بات پر صلح کریں تو وہ صلح لغو ہے
Sahih Bukhari
18
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, those who unjustly eat up the property of orphans, they eat up only fire into their bellies, and they will be burnt in the blazing Fire!” (V.4:10)
سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ بیشک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھا جاتے ہیں . . .
Sahih Bukhari
19
(8) CHAPTER. “Surely! Allah wrongs not even of the weight of an atom (or a small ant)...” (V.4:40)
آیت ( ( ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ ) ) الخ کی تفسیر
Sahih Bukhari
20
Chapter: The prohibition of wrongdoing, seizing land unlawfully etc
ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت
Sahih Muslim
21
Chapter: The command to be patient in the face of oppressive rulers and their selfishness
حکام کے ظلم اور ان کےخود کو ترجیع دینے پر صبر کرنے کا حکم
Sahih Muslim
22
Chapter: The Prohibition Of Wronging, Forsaking, Or Despising A Muslim And The Inviolability Of His Blood, Honor And Wealth
باب: مسلمان پر ظلم کرنے، اس کو رسوا کرنے، اس کی تحقیر کرنے اور اس کے خون، اس کی عزت اور اس کے مال کی حرمت
Sahih Muslim
23
Chapter: The Prohibition Of Oppression
ظلم کرنے کی حرمت
Sahih Muslim
24
CHAPTER: Harshness In Takin Jizyah.
باب: جزیہ کے وصول کرنے میں ظلم کرنا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: Regarding the prohibition of wronging others.
باب: ظلم و زیادتی اور بغاوت منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
26
Chapter: Emphatic Prohibition against Injustice and Bribery
ظلم اور رشوت پر وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
27
وصیت میں ظلم کرنے کی سزا کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
28
باب: وصیت میں ظلم کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
باب: جو شخص ظلم سے بچنے کے لیے لڑے۔
Sunnan Nisai
30
باب: ظلم میں امیر کی مدد کرنے والے پر وعید کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
باب: ظلم میں امیر کی مدد نہ کرنے والے کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
باب: قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,232
Jam e Tirmazi
2420
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Rights will be given to their due, such that the hornless sheep would get its claim from the horned sheep.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قیامت کے دن ) حقداروں کو ان کا پورا پورا حق دیا جائے گا، یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ لیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر اور عبداللہ بن انیس رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
6580
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنْ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The claimants would get their claims on the Day of Resurrection so much so that the hornless sheep would get its claim from the horned sheep.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن تم سب حقداروں کے حقوق ان کو ادا کرو گے ، حتی کہ اس بکری کا بدلہ بھی جس کے سینگ توڑ دیے گئے ہوں گے ، سینگوں والی بکری سے پورا پورا لیا جائے گا ۔ "
Jam e Tirmazi
211
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ،‏‏‏‏ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ دِينَارٌ.
Jabir bin Abdullah narrated that : Allah's Messenger said: Whoever says, when he hears the call: (Allahumma, rabba hadhihidda 'watit-tammati was Salatilqa'imah, ati Muhammadanil wasilata wal-Fadilata, wab'athhu Maqamun Mahmudan alladhi wa'adtahu) 'O Allah! Lord of this perfect call and established prayer, grant Muhammad Al-Wasilah and Al-Fadilah, and raise him to the praised station that you promised him' - then intercession on the Day of Resurrection is made lawful for him.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اذان سن کر «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته إلا حلت له الشفاعة يوم القيامة» ”اے اللہ! اس کامل دعوت ۱؎ اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب! ( ہمارے نبی ) محمد ( صلی الله علیہ وسلم ) کو وسیلہ ۲؎ اور فضیلت ۳؎ عطا کر، اور انہیں مقام محمود ۴؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے“ کہا تو اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت حلال ہو جائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جابر رضی الله عنہ کی حدیث محمد بن منکدر کے طریق سے حسن غریب ہے، ہم نہیں جانتے کہ شعیب بن ابی حمزہ کے علاوہ کسی اور نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
223
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَبَرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل الْكَحَّالِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏مَرْفُوعٌ هُوَ صَحِيحٌ مُسْنَدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَوْقُوفٌ إِلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُسْنَدْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Buraidah Al-Aslami narrated that : the Prophet said: Give glad tiding to those who walk to the Masajid in the dark; of a complete light on the Day of Resurrection.
بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھیرے میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور ( بھرپور اجالے ) کی بشارت دے دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
359
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ يُقَالُ:‏‏‏‏ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اثْنَانِ، ‏‏‏‏‏‏امْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ . قَالَ هَنَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْصُورٌ:‏‏‏‏ فَسَأَلْنَا عَنْ أَمْرِ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَنَا:‏‏‏‏ إِنَّمَا عَنَى بِهَذَا أَئِمَّةً ظَلَمَةً فَأَمَّا مَنْ أَقَامَ السُّنَّةَ فَإِنَّمَا الْإِثْمُ عَلَى مَنْ كَرِهَهُ.
Amr bin Al-Harith Al-Mustaliq said: It used to be said that the people with the worst punishment [on the Day of Judgment] are two: A woman who disobeyed her husband, and a people's Imam whom they dislike.
عمرو بن حارث بن مصطلق کہتے ہیں: کہا جاتا تھا کہ قیامت کے روز سب سے سخت عذاب دو طرح کے لوگوں کو ہو گا: ایک اس عورت کو جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے، دوسرے اس امام کو جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں۔ منصور کہتے ہیں کہ ہم نے امام کے معاملے میں پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سے مراد ظالم ائمہ ہیں، لیکن جو امام سنت قائم کرے تو گناہ اس پر ہو گا جو اسے ناپسند کرے۔
Jam e Tirmazi
413
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ قَبِيصَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَلَسْتُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي جَلِيسًا صَالِحًا فَحَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلَ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَشْهُورُ هُوَ قَبِيصَةُ بْنُ حُرَيْثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.
Huraith bin Qabisah narrated: I arrived in Al-Madinah and said: 'O Allah! Facilitate me to be in a righteous gathering.' He said: I sat with Abu Hurairah and said: 'Indeed I asked Allah to provide me with a righteous gathering. So narrate a hadith to me which you heard from Allah's Messenger (ﷺ) so that perhaps Allah would cause me to benefit from it.' He said: 'I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: Indeed the first deed by which a servant will be called to account on the Day of Resurrection is his Salat. If it is complete, he is successful and saved, but if it is defective, he has failed and lost. So if something is deficient in his obligatory (prayers) then the Lord, Mighty and Sublime says: 'Look! Are there any voluntary (prayers) for my worshipper?' So with them, what was deficient in his obligatory (prayers) will be completed. Then the rest of his deeds will be treated like that.
حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا: میں نے کہا: اے اللہ مجھے نیک اور صالح ساتھی نصیب فرما، چنانچہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کے پاس بیٹھنا میسر ہو گیا، میں نے ان سے کہا: میں نے اللہ سے دعا مانگی تھی کہ مجھے نیک ساتھی عطا فرما، تو آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جسے آپ نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنی ہو، شاید اللہ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا محاسبہ ہو گا، اگر وہ ٹھیک رہی تو کامیاب ہو گیا، اور اگر وہ خراب نکلی تو وہ ناکام اور نامراد رہا، اور اگر اس کی فرض نمازوں میں کوئی کمی ۱؎ ہو گی تو رب تعالیٰ ( فرشتوں سے ) فرمائے گا: دیکھو، میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نماز ہے؟ چنانچہ فرض نماز کی کمی کی تلافی اس نفل سے کر دی جائے گی، پھر اسی انداز سے سارے اعمال کا محاسبہ ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہے، ۳- حسن کے بعض تلامذہ نے حسن سے اور انہوں نے قبیصہ بن حریث سے اس حدیث کے علاوہ دوسری اور حدیثیں بھی روایت کی ہیں اور مشہور قبیصہ بن حریث ہی ہے ۲؎، یہ حدیث بطریق: «أنس بن حكيم عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی روایت کی گئی ہے، ۴- اس باب میں تمیم داری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
484
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا وَكَتَبَ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ
Abdullah bin Mas'ud narrated that : Allah's Messenger said: The person closest to me on the Day of Judgement is the one who sent the most Salat upon me.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مجھ سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ۱؎ وہ ہو گا جو مجھ پر سب سے زیادہ صلاۃ ( درود ) بھیجے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ”جو مجھ پر ایک بار صلاۃ ( درود ) بھیجتا ہے، اللہ اس پر اس کے بدلے دس بار صلاۃ ( درود ) بھیجتا ہے ۲؎، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ( یہی حدیث آگے آ رہی ہے ) ۔
Jam e Tirmazi
607
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ.
Abdullah bin Busr narrated that : the Prophet said: On the day of Resurrection, my nation will be radiant from prostrating and shining from Wudu.
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میری امت کی پیشانی سجدے سے اور ہاتھ پاؤں وضو سے چمک رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
617
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ التَّمِيمِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَآنِي مُقْبِلًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا لِي لَعَلَّهُ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هُمُ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ:‏‏‏‏ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، ‏‏‏‏‏‏فَحَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا جَاءَتْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ، ‏‏‏‏‏‏تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، ‏‏‏‏‏‏كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ لُعِنَ مَانِعُ الصَّدَقَةِ وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْمُ أَبِي ذَرٍّ جُنْدَبُ بْنُ السَّكَنِ وَيُقَالُ ابْنُ جُنَادَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْأَكْثَرُونَ أَصْحَابُ عَشَرَةِ آلَافٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ مَرْوَزِيٌّ رَجُلٌ صَالِحٌ.
Abu Dharr narrated: I came to the Messenger of Allah while he was sitting in the shade of the Ka'bah. He said: He saw me approaching and he said: 'They are lost on the Day of Judgment! By the Lord of the Ka'bah!' He said: I said t myself: Woe is me! Perhaps something has been revealed about me!' He said: So I said: 'Who are they, and may my father and mother be ransomed for you.' So the Messenger of Allah said: 'They are those who have much, except for who says like this, and this, and this and motioned with his hand to his front, and t his right, and to his left.' Then he said: 'By the One in Whose Hand is my soul! No man will die, leaving a camel or a cow that he did not pay Zakat on, except that it will come on the Day of Judgment larger and fatter than it was, they will tread him under their hooves and butt him with their horns, all of them; such that when the last of them has had a turn, the first returns to him, until he is judged before the people.'
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے آپ نے مجھے آتا دیکھا تو فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! قیامت کے دن یہی لوگ خسارے میں ہوں گے“ ۲؎ میں نے اپنے جی میں کہا: شاید کوئی چیز میرے بارے میں نازل کی گئی ہو۔ میں نے عرض کیا: کون لوگ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی لوگ جو بہت مال والے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایسا ایسا کرے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سے لپ بھر کر اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور اپنے بائیں طرف اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو بھی آدمی اونٹ اور گائے چھوڑ کر مرا اور اس نے اس کی زکاۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے دن وہ اس سے زیادہ بھاری اور موٹے ہو کر آئیں گے جتنا وہ تھے ۳؎ اور اسے اپنی کھروں سے روندیں گے، اور اپنی سینگوں سے ماریں گے، جب ان کا آخری جانور بھی گزر چکے گا تو پھر پہلا لوٹا دیا جائے گا ۴؎ یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ زکاۃ روک لینے والے پر لعنت کی گئی ہے ۵؎، ۴- ( یہ حدیث ) قبیصہ بن ہلب نے اپنے والد ہلب سے روایت کی ہے، نیز جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۵- ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ «الأكثرون» سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس دس ہزار ( درہم یا دینار ) ہوں۔