مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان

بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ وَقَالَ: «هَذِه الْقبْلَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے تو آپ نے اس کے تمام اطراف میں دعا فرمائی لیکن آپ نے نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ آپ وہاں سے باہر تشریف لے آئے ، پس جب باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا :’’ یہ (کعبہ) قبلہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْهُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ

امام مسلم نے اسے ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دخل الْكَعْبَة وَأُسَامَة بن زيد وبلال وَعُثْمَان بن طَلْحَة الحَجبي فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: جعل عمودا عَن يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةِ ثُمَّ صلى

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ، اسامہ بن زید ، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال بن رباح رضی اللہ عنہم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تو عثمان نے بیت اللہ کا دروازہ بند کر دیا ، آپ ﷺ تھوڑی دیر کے لیے وہاں ٹھہرے ، اور جب باہر تشریف لائے تو میں نے بلال ؓ سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ نے (اندر) کیا کیا ؟ انہوں نے فرمایا : آپ نے ایک ستون اپنے بائیں ، دو ستون اپنے دائیں اور تین ستون اپنے پیچھے کر لیے ، ان دنوں بیت اللہ چھ ستونوں پر تھا ، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَام»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری اس مسجد (مسجد نبوی) میں ایک نماز ، مسجد حرام کے علاوہ ، دیگر مساجد کی ہزار نماز سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین مساجد ، مسجد حرام ، مسجد اقصیٰ اور میری اس مسجد ، کے سوا کسی اور مسجد کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ومنبري على حَوْضِي

ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کا باغیچہ ہے ، اور میرا منبر میرے حوض (کوثر) پر ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قبَاء كل سبت مَا شيا وراكبا فَيصَلي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ ہر ہفتے ، کبھی پیدل اور کبھی سواری پر مسجد قبا تشریف لے جایا کرتے تھے ، اور وہاں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلَاد إِلَى الله أسواقها» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ»

عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر مسجد بناتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’جو شخص صبح و شام جتنی مرتبہ مسجد میں جاتا ہے ، اللہ اس کے لیے اتنی مرتبہ ہی جنت میں ضیافت کا اہتمام فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أجرا من الَّذِي يُصَلِّي ثمَّ ينَام»

ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص جتنی دور سے چل کر نماز پڑھنے آتا ہے تو وہ اسی قدر زیادہ اجر حاصل کرتا ہے ، اور جو شخص نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو وہ اس شخص سے زیادہ اجر حاصل کرتا ہے جو اکیلا نماز پڑھ کر سو جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن جَابر قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ: «بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ» . قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ. فَقَالَ: «يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَاركُم دِيَاركُمْ تكْتب آثَاركُم» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، مسجد (نبوی) کے آس پاس کچھ اراضی خالی ہوئی تو بنوسلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا ، نبی ﷺ کو پتہ چلا تو آپ نے انہیں فرمایا :’’ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم مسجد کے قریب آنا چاہتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! ہمارا ارادہ تو یہی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بنوسلمہ ! اپنے گھروں ہی میں رہو ، تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں ، اپنے گھروں ہی میں رہو ، تمہارے (مسجد کی طرف اٹھنے والے) قدم لکھے جاتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَبْعَة يظلهم الله تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ إِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ وَرجل قلبه مُعَلّق بِالْمَسْجِدِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرجل دَعَتْهُ امْرَأَة ذَات منصب وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سات خوش نصیب ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنا سایہ نصیب فرمائے گا جس روز اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا : عادل حکمران ، وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا ، وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ معلق ہے ، جب مسجد سے نکلتا ہے (تو وہ مسجد سے لاتعلق نہیں رہتا) حتیٰ کہ وہ وہاں لوٹ جاتا ہے ، وہ دو آدمی جو اللہ کی رضا کی خاطر باہم محبت کرتے ہیں ، اسی بنیاد پر اکٹھے ہوتے ہیں ، اور اگر جدا ہوتے ہیں تو بھی اس محبت پر قائم رہتے ہیں ، وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ، وہ آدمی جسے حسب و جمال والی دوشیزہ نے (برائی کی) دعوت دی تو اس نے کہا : میں اللہ سے ڈرتا ہوں ! اور وہ آدمی جس نے جو صدقہ کیا ، اس نے اسے اس قدر مخفی رکھا حتیٰ کہ اس کا بایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَفِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ضِعْفًا وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ فَإِذَا صَلَّى لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ الله ارْحَمْهُ وَلَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ» . وَزَادَ فِي دُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ. مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی جو نماز با جماعت ادا کرتا ہے ، اس کی وہ نماز اس کے گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز سے ، پچیس گنا زیادہ اجر و ثواب رکھتی ہے ، وہ اس لیے کہ جب وہ وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پھر وہ محض نماز ادا کرنے کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کے ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ، پس جب وہ نماز پڑھ کر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں : اے اللہ ! اس پر رحمتیں نازل فرما ، اے اللہ ! اس پر رحم فرما ، اور جب کوئی شخص نماز کے انتظار میں رہتا ہے تو وہ (حکم و ثواب کے لحاظ سے) نماز میں ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ایک روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب وہ مسجد میں آئے اور نماز اسے (مسجد میں) روکے رکھے ۔‘‘ امام مسلم ؒ نے فرشتوں کی دعا میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اے اللہ ! اسے بخش دے ، اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما ، اور جب تک وہ کسی کو تکلیف پہنچائے نہ اس کا وضو ٹوٹے تو فرشتوں کی دعا کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔‘‘

وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ. وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ: الله إِنِّي أَسأَلك من فضلك . رَوَاهُ مُسلم

ابواسید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھے :’’ اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب وہ مسجد سے باہر آئے تو یہ دعا پڑھے :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يجلس»

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ جلس فِيهِ

کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ چاشت کے وقت سفر سے (مدینہ) واپس آیا کرتے تھے ، جب آپ واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے پھر وہاں بیٹھ جاتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِد لم تبن لهَذَا . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ، کسی آدمی کو گمشدہ جانور (یا کوئی بھی چیز ) کے متعلق مسجد میں اعلان کرتے سنے ، تو وہ شخص کہے : اللہ تمہاری وہ چیز تمہیں واپس نہ لوٹائے ، کیونکہ مسجدیں اس لیے تو نہیں بنائی گئیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ»

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اس بدبودار پودے (پیاز ، لہسن وغیرہ) سے کچھ کھا لے تو وہ ہماری مسجد میں نہ آئے ، کیونکہ فرشتے اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں ، جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِد خَطِيئَة وكفارتها دَفنهَا»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے ، اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔