TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter 0

Chapter 0 of دعاؤں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 0 of 9 · 38 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا فَإِذَا فَرَغْتُمْ فامسحوا بهَا وُجُوهكُم» . رَوَاهُ دَاوُد
ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ اللہ سے سیدھے ہاتھوں سے دعا کیا کرو ، الٹے ہاتھوں سے دعا نہ کیا کرو ، اور جب تم (دعا سے) فارغ ہو جاؤ تو ان (ہاتھوں) کو اپنے چہروں پر پھیر لیا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۵) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۵) * فیہ مجھول و علۃ أخری و للحدیث شواھد ضعیفۃ انظر الحدیث الآتی (۲۲۴۵) ۔
2243
Zaeef
وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعوات الْكَبِير
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارا رب بڑا حیادار ، سخی داتا ہے ، جب بندہ اس کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے تو اسے خالی لوٹاتے ہوئے اسے حیا آتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۵۶) و ابوداؤد (۱۴۷۷) و البیہقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۷ ح ۱۸۰ ، ۱۸۱) و ابن ماجہ (۳۸۶۵) ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۵۶ و قال : حسن غریب) و ابوداؤد (۱۴۸۸) و البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۷ ح ۱۸۰ ۔ ۱۸۱) [و ابن ماجہ : ۳۸۶۵] * جعفر بن میمون ضعفہ الجمھور و تابعہ سلیمان التیمی و ھو مدلس (و زعم الحافظ ابن حجر خلافہ و قولہ مرجوح) و التیمی عنعن ۔
2244
Zaeef
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ لَمْ يَحُطَّهُمَا حَتَّى يمسح بهما وَجهه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا کرتے تھے تو آپ ﷺ انہیں چہرے پر پھیر کر نیچے گرایا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۳۸۵) و الادب المفرد (۶۰۹) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۳۸۵ و قال : غریب) * فیہ حماد بن عیسی : ضعیف (و انظر حدیث : ۲۲۴۳) و ثبت مسح الوجہ فی الدعاء بالراحتین عن ابن عمر و ابن الزبیر رضی اللہ عنھما ، رواہ البخاری فی الادب المفرد (۶۰۹) و سندہ حسن لذاتہ و اخطا من ضعفہ ۔
2245
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ جامع دعائیں کرنا پسند کرتے تھے اور ان کے علاوہ باقی دعائیں چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤ (۱۴۸۲) وصحیحہ ابن حبان (۲۴۱۲) و الحاکم (۱ / ۵۳۹) ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۲) [و صححہ ابن حبان (الموارد : ۲۴۱۲) و الحاکم (۱ / ۵۳۹) و وافقہ الذھبی] ۔
2246
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی شخص کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۹۸۰) و ابوداؤد (۱۵۳۵) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۹۸۰ و قال : غریب و الافریقی یضعف فی الحدیث) و ابوداؤد (۱۵۳۵) * الافریقی ضعیف ۔
2247
Zaeef
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لِي وَقَالَ: «أَشْرِكْنَا يَا أُخَيُّ فِي دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا» . فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِهَا الدُّنْيَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَانْتَهَتْ رِوَايَتُهُ عِنْدَ قَوْلِهِ «لَا تنسنا»
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عمرہ کے لیے نبی ﷺ سے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت عطا کی اور فرمایا :’’ پیارے بھائی ! ہمیں اپنی دعا میں یاد رکھنا اور ہمیں بھول نہ جانا ۔‘‘ آپ ﷺ نے ایسی بات فرمائی جس کے بدلے میں پوری دنیا کا حصول میرے لیے باعث مسرت نہیں ۔ ابوداؤد ، ترمذی ۔ اور امام ترمذی کی روایت ((ولا تنسنا)) کے الفاظ پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۴۹۸) و الترمذی (۳۵۶۲) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۴۹۸) و الترمذی (۳۵۶۲ و قال : حسن صحیح) * فیہ عاصم بن عبداللہ : ضعیف ، ضعفہ جمھور المحدثین و تحقیقھم ھو الراجح ۔
2248
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بعد حِين . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین آدمیوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے ، روزہ دار جب وہ افطار کے وقت دعا کرتا ہے ، عادل بادشاہ اور دعائے مظلوم ، اللہ اس (دعا) کو بادلوں کے اوپر اٹھا لیتا ہے ، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور رب فرماتا ہے : میری عزت کی قسم ! میں ضرور تمہاری مدد کروں گا خواہ کچھ دیر سے ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۹۸) ۔ و ابن ماجہ (۱۷۵۳) و صحیحہ ابن خزیمہ (۱۹۰۱) و ابن حبان (۲۴۰۷ ، ۲۴۰۸) ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۹۸ و قال : ھذا حدیث حسن) [و ابن ماجہ (۱۷۵۲) و صححہ ابن خزیمہ (۱۹۰۱) و ابن حبان (الموارد : ۲۴۰۷ ۔ ۲۴۰۸)] ۔
2249
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٍ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین دعائیں ایسی ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ، والد کی دعا ، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۱۹۰۵) و ابوداؤ (۱۵۳۶) و ابن ماجہ (۳۸۶۲) و صحیحہ ابن حبان (۲۴۰۶) ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۱۹۰۵) و ابوداؤد (۱۵۳۶) و ابن ماجہ (۳۸۶۲) [و صححہ ابن حبان (الموارد : ۲۴۰۶)] ۔
2250
Sahih
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَ نَعله إِذا انْقَطع»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر شخص کو اپنی تمام ضرورتیں اپنے رب سے مانگنی چاہئیں حتیٰ کہ جب اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کے بارے میں بھی اسی سے سوال کرنا چاہیے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۸ / ۶۰۴) ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۸ / ۶۰۴ و قال : غریب) ۔
2251
Sahih
زَادَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ مُرْسَلًا «حَتَّى يَسْأَلَهُ الْمِلْحَ وَحَتَّى يَسْأَلَهُ شِسْعَهُ إِذَا انْقَطع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
اور ثابت بُنانی سے مروی مرسل روایت میں اتنا اضافہ ہے :’’ حتیٰ کہ وہ نمک بھی اس سے مانگے اور حتیٰ کہ جب اس کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اس سے مانگے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۹ / ۳۶۰۴) ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۹ / ۳۶۰۴) و انظر الحدیث السابق (۲۲۵۱) ۔
2252
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرى بياضُ إبطَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ دورانِ دعا اپنے ہاتھ اس قدر بلند فرماتے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۸ ح ۱۸۲) و مسلم و احمد (۳ /۲۵۹)۔
Takhreej
صحیح ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۸ ح ۱۸۲) [و مسلم (۸۹۵) و احمد (۳ / ۲۵۹)] ۔
2253
Sahih
وَعَن سهل بن سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يَجْعَل أصبعيه حذاء مَنْكِبَيْه وَيَدْعُو
سہل بن سعد ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ اپنی ہاتھوں کی انگلیاں کندھوں کے برابر کیا کرتے تھے اور دعا فرماتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۴۰ ح ۱۸۵) و صححہ الحاکم (۱ / ۵۳۵ ، ۵۳۶ ح ۱۹۶۴) و ابوداؤد (۱۱۰۵) ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۴۰ ح ۱۸۵) [و صححہ الحاکم (۱ / ۵۳۵ ح ۵۳۶ ح ۱۹۶۴) و وافقہ الذھبی و اصلہ عند ابی داود (۱۱۰۵) بلفظ آخر و سندہ حسن] ۔
2254
Sahih
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرفع يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَة فِي «الدَّعْوَات الْكَبِير»
سائب بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ دعا کیا کرتے تھے تو آپ ہاتھ اٹھاتے اور پھر اپنے ہاتھ چہرے پر پھیر لیتے تھے ۔ امام بیہقی نے تینوں احادیث ’’ الدعوات الکبیر ‘‘ میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۹ ، ۱۴۰ ح ۱۸۱) و ابوداؤد (۱۴۹۲) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۳۹ ۔ ۱۴۰ ح ۱۸۱) [من حدیث ابی داود و ھذا فی سننہ (۱۴۹۲)] * فیہ حفص بن ھاشم : مجھول ۔
2255
Zaeef
وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ أَوْ نَحْوِهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ وَالِابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: والابتهالُ هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُ
عکرمہ ؒ ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں ، دعا (کا ادب) یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ کندھوں یا تقریباً کندھوں کے برابر اٹھاؤ ، طلبِ مغفرت (کا ادب) یہ ہے کہ تم ایک انگلی (انگشت شہادت) کے ساتھ اشارہ کرو اور تضرع عاجزی یہ ہے تم اپنے دونوں ہاتھ دراز کر دو ۔ اور ایک روایت میں ہے ، فرمایا : تضرع و عاجزی اس طرح ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھ اس قدر بلند کیے اور ہاتھوں کی پشت کو اپنے چہرے کی طرف کیا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۹ ، ۱۴۹۰) ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۴۸۹ ۔ ۱۴۹۰) ۔
2256
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ يَقُولُ: إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ مَا زَادَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا يَعْنِي إِلَى الصَّدْر رَوَاهُ أَحْمد
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے : تمہارا (دعا کے لیے) ہاتھ اٹھانا بدعت ہے ، رسول اللہ ﷺ اس (یعنی) سینے سے اوپر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۶۱ ح ۵۲۶۴) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۶۱ ح ۵۲۶۴) * فیہ بشر بن حرب الندبی : ضعیف ضعفہ الجمھور ۔
2257
Zaeef
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا فَدَعَا لَهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيح
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کسی کو یاد فرماتے تو اس کے لیے دعا فرماتے اور پہلے اپنے لیے کرتے ۔ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۳۸۵) و ابوداؤد (۳۹۸۴)
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۳۳۸۵) [ و ابوداؤد (۳۹۸۴) و اصلہ عند مسلم فی صحیحہ (۲۳۸۰) مطولا] ۔
2258
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عنهُ من السُّوءِ مثلَها قَالُوا: إِذنْ نُكثرُ قَالَ: «الله أَكثر» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو تو اللہ اس وجہ سے تین چیزوں میں سے کوئی ایک اسے عطا فرما دیتا ہے : یا تو اس کی دعا فوراً قبول فرما لیتا ہے یا اسے اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر لیتا ہے یا پھر اس کی مثل تکلیف اس سے دور فرما دیتا ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا ، تب تو ہم زیادہ دعائیں کریں گے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ (دعائیں قبول کرنے میں) بہت زیادہ ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۳ / ۱۸ ح ۱۱۱۵۰) و عبد بن حمید (۹۳۷) و البخاری فی الادب المفرد (۷۱۰) و صححہ الحاکم (۱ / ۴۶۳) ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۳ / ۱۸ ح ۱۱۱۵۰) [و عبد بن حمید (۹۳۷) و البخاری فی الادب المفرد (۷۱۰) و صححہ الحاکم (۱ / ۴۶۳) و وافقہ الذھبی] ۔
2259
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ حَتَّى يَنْتَصِرَ وَدَعْوَةُ الْحَاجِّ حَتَّى يَصْدُرَ وَدَعْوَةُ الْمُجَاهِدِ حَتَّى يَقْعُدَ وَدَعْوَةُ الْمَرِيضِ حَتَّى يَبْرَأَ وَدَعْوَةُ الْأَخِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ . ثُمَّ قَالَ: «وَأَسْرَعُ هَذِهِ الدَّعْوَات إِجَابَة دَعْوَة الْأَخ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
ابن عباس نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پانچ دعائیں ہیں جو قبول کی جاتی ہیں : مظلوم کی دعا حتی کہ وہ انتقام لے لے ، حاجی کی دعا حتیٰ کہ وہ واپس آ جائے ، مجاہد کی دعا حتیٰ کہ وہ (جہاد سے) فارغ ہو جائے ۔ مریض کی دعا حتیٰ کہ وہ صحت یاب ہو جائے اور بھائی کی دعا جو وہ اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کرتا ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ ان دعاؤں میں بھائی کی غائبانہ دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (لم اجدہ و رواہ فی شعب الایمان : ۱۱۲۵ ، نسخۃ محققۃ : ۱۰۸۷) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (لم اجدہ و راوہ فی شعب الایمان : ۱۱۲۵ ، نسخۃ محققۃ : ۱۰۸۷) * فیہ عبدالرحمن بن زید (کذا) و لعلہ عبدالرحیم بن زید العمی کذاب ، رواہ عن ابیہ عن سعید بن جبیر عن ابن عباس بہ و فیہ یونس بن افلح لم اجد من و ثقہ و زید العمی ضعیف مشھور ۔
2260
Zaeef