TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of suckling - کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل - Book 19 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 19 of Sahih Muslim, with 20 chapters and 84 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

84 Hadith · 20 Chapters
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسَ، فَلَقُوا عَدُوًّا، فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ، وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا، فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 24]، أَيْ: فَهُنَّ لَكُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ
Abu Sa'id al-Khudri (Allah her pleased with him) reported that at the Battle of Hanain Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an army to Autas and encountered the enemy and fought with them. Having overcome them and taken them captives, the Companions of Allah's Messenger (may peace te upon him) seemed to refrain from having intercourse with captive women because of their husbands being polytheists. Then Allah, Most High, sent down regarding that: And women already married, except those whom your right hands possess (iv. 24) (i. e. they were lawful for them when their 'Idda period came to an end).
یزید بن زُرَیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابوعروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل صالح سے ، انہوں نے ابوعلقمہ ہاشمی سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حنین کے دن ( جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کی جانب ایک لشکر بھیجا ، ان کا دشمن سے سامنا ہوا ، انہوں نے ان ( دشمنوں ) سے لڑائی کی ، پھر ان پر غالب آ گئے اور ان میں سے کنیزیں حاصل کر لیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض لوگوں نے ان کے مشرک خاوندوں ( کی موجودگی ) کی بنا پر ان سے مجامعت کرنے میں حرج محسوس کیا ، اس پر اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ۔ " یعنی جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو ( تمہاری لونڈیاں بن جانے کی بنا پر ) وہ تمہارے لیے حلال ہیں
3608
Sahih
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ، حَدَّثَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ سَرِيَّةً، بِمَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْهُنَّ فَحَلَالٌ لَكُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ،
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent a small army. The rest of the hadith is the same except this that he said: Except what your right hands possess out of them are lawful for you; and he did not mention when their 'idda period comes to an end .
عبدالاعلی نے ہمیں سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوخلیل سے روایت کی کہ ابوعلقمہ ہاشمی نے حدیث بیان کی ، انہیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ بھیجا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) یزید بن زریع کی حدیث کے ہم معنی ہے لیکن انہوں نے کہا : سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ، وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ اور انہوں نے " جب ان کی عدت پوری ہو جائے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ ( اس سریہ میں جو کنیزیں ہاتھ آئیں یہ واقعہ ان کے بارے میں ہے
3609
Sahih
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been reported on the authority of AbuSa'id (al-Khudri) (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters and the words are: They took captives (women) on the day of Autas who had their husbands. They were afraid (to have sexual intercourse with them) when this verse was revealed: And women already married except those whom you right hands posses (iv. 24)
شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
3610
Sahih
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
) وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، فَتَخَوَّفُوا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 24
Likewise, the above hadith has been narrated through another chain.
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : اوطاس کے دن صحابہ کو لونڈیاں ملیں جن کے خاوند بھی تھے ، اس پر وہ ( ان سے تعلقات ، قائم کرتے ہوئے ) ڈرے ( کہ یہ گناہ نہ ہو ) اس پر یہ آیت نازل کی گئی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہو جائیں
3611
Sahih
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
Qatada reported a hadith like this with the same chain of transmitters.
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی
3612
Sahih
Chapter: The child is for the bed and suspicion must be avoided
بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنا (ضروری ہے )
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ»، قَالَتْ: فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح: قَوْلَهُ: «يَا عَبْدُ
A'isha (Allah be pleased with her) reported: Sa'd b. Abu Waqqas and Abd b. Zam'a (Allah be pleased with them) disputed with each other over a young boy. Sa'd said: Messenger of Allah, he is the son of my brother 'Utba b. Abu Waqqas as he made it explicit that he was his son. Look at his resemblance. Abd b. Zam'a said Messenger of Allah, he is my brother as he was born on the bed of my father from his slave-girl. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) looked at his resemblance and found a clear resemblance with 'Utba. (But) he said: He is yours O 'Abd (b. Zam'a), for the child is to be attributed to one on whose bed it is born, and stoning for a fornicator. Sauda bint Zam'a, O you should observe veil from him. So he did not see Sauda at all. Muhammad b. Rumh did not make a mention (of the words): O Abd.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے کہا : لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے ، آپ اس کی مشابہت دیکھ لیں ۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ میرا بھائی ہے ، اللہ کے رسول! یہ میرے باپ کی لونڈی سے اسی کے بستر پر پیدا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت دیکھی تو آپ نے واضھ طور پر عتبہ کے ساتھ مشابہت ( بھی ) محسوس کی ، اس کے بعد آپ نے فرمایا : "" عبد! یہ تمہارا ( بھائی ) ہے ۔ ( اس کا سبب یہ ہے کہ ) بچہ صاحب فراش کا ہے ، اور زنا کرنے والے کے لیے پتھر ( ناکامی اور محرومی ) ہے ۔ اور سودہ بنت زمعہ! ( تم ) اس سے پردہ کرو ۔ "" اس کے بعد اس نے کبھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا ۔ اور محمد بن رمح نے آپ کے الفاظ "" يا عبد "" ذکر نہیں کیے
3613
Sahih
Chapter: The child is for the bed and suspicion must be avoided
بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنا (ضروری ہے )
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّ مَعْمَرًا، وَابْنَ عُيَيْنَةَ، فِي حَدِيثِهِمَا «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ»، وَلَمْ يَذْكُرَا: «وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
A hadith like this is narrated on the authority of Ibn 'Uyaiyna and Ma'mar (and the words are): The child is attributed to him on whose bed he is born; but they did not mention this: For a fornicator there is stoning.
سفیان بن عیینہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ لیکن معمر اور ابن عیینہ کی حدیث میں ہے : " بچہ صاحب فراش کا ہے " اور ان دونوں نے " زانی کے لیے پتھر ہے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے
3614
Sahih
Chapter: The child is for the bed and suspicion must be avoided
بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنا (ضروری ہے )
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The child is to be attributed to one on whose bed he is born, and for a fornicator there is stoning.
معمر نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ( ناکامی اور محرومی ) ہے
3615
Sahih
Chapter: The child is for the bed and suspicion must be avoided
بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنا (ضروری ہے )
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَمَّا ابْنُ مَنْصُورٍ، فَقَالَ: عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَمَّا عَبْدُ الْأَعْلَى، فَقَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَوْ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ زُهَيْرٌ: عَنْ سَعِيدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَحَدُهُمَا - أَوْ كِلَاهُمَا - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، مَرَّةً عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ
A hadith like this is narrated on the authority of Abu Huraira.
سعید بن منصور ، زہیر بن حرب ، عبدالاعلیٰ بن حماد اور عمرو ناقد سب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے خبر دی ۔ ابن منصور نے کہا : سعید نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ عبدالاعلی نے کہا : ابوسلمہ سے یا سعید سے روایت ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ زہیر نے کہا : سعید یا ابوسلمہ نے ان دونوں میں سے ایک نے یا دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ اور عمرو نے ایک بار کہا : ہمیں سفیان نے زہری کے حوالے سے سعید اور ابوسلمہ سے ، اور ایک بار کہا : سعید یا ابوسلمہ سے ، اور ایک بار کہا : سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) جس طرح معمر کی حدیث ہے
3616
Sahih
Chapter: Detecting relationships from physical features
قیافہ شناس بچے کو کسی کی طرف منسوب کرے تو اس (کی بات )پر عمل کرنا
) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْح، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا، تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ
A'isha (Allah be pleased with her) reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) visited me looking pleased as if his face was glistening and said: Did you see that Mujazziz cast a glance at Zaid b. Haritha and Usama b. Zaid, and (then) said: Some (of the features) of their feet are found in the others?
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش میرے پاس تشریف لائے ، آپ کے چہرے ( پیشانی ) کے خطوط چمک رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " تم نے دیکھا نہیں کہ ابھی ابھی ( بنو مدلج کے قیافہ شناس ) مُجزز نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے ، اور کہا ہے : ان قدموں میں سے ایک ( قدم ) دوسرے میں سے ہے ۔ " ( ایک بیٹے کا ہے ، دوسرا باپ کا
3617
Sahih
Chapter: Detecting relationships from physical features
قیافہ شناس بچے کو کسی کی طرف منسوب کرے تو اس (کی بات )پر عمل کرنا
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ، فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا، وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا، وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ
A'isha (Allah be pleased with her) reported: One day Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) visited me looking pleased and he said: 'A'isha, don't you see Mujazziz al-Mudliji? (He) entered (my house) and saw Usama and Zaid with a rug over them covering their heads, but their feet appeared, and (he) said: These feet are related to one another.
سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش میرے پاس تشریف لائے ۔ اور فرمایا : " عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا ، اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا ، ان دونوں پر ایک چادر تھی جس نے ان کے سروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور ان کے پاؤں ننگے تھے تو اس نے کہا : بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے میں سے ہیں
3618
Sahih
Chapter: Detecting relationships from physical features
قیافہ شناس بچے کو کسی کی طرف منسوب کرے تو اس (کی بات )پر عمل کرنا
وَحَدَّثَنَاهُ مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ قَائِفٌ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ، فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ، وَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ
A'isha (Allah be pleased with her) reported: A physiognomist visited (our house) and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was present, and Usama b. Zaid and Zaid b. Haritha were both lying asleep, and he (the physiognomist), said: These feet are related to one another. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was pleased to hear this, and he was happy and informed 'A'isha (Allah be pleased with her) about it.
ابراہیم بن سعد نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک قیافہ شناس آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے ، اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم ( ایک چادر میں ) لیٹے ہوئے تھے تو اس نے کہا : بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے میں سے ہیں ۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی ہوئی اور آپ کو بہت اچھا لگا ، آپ نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی بتائی
3619
Sahih
Chapter: Detecting relationships from physical features
قیافہ شناس بچے کو کسی کی طرف منسوب کرے تو اس (کی بات )پر عمل کرنا
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ: وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا
A hadith like this has been narrated on the authority of Zuhri and Yunus said: Mujazziz was a physiognomist.
یونس ، معمر اور ابن جریج سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ، ان ( لیث ، سفیان اور ابراہیم بھی سعد ) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی اور ( ابن وہب نے ) یونس کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور مجزز ایک قیافہ شاس تھا
3620
Sahih
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِي»
Abd al-Malik b. Abu Bakr b. Abd al-Rahman b. al-Harith b. Hisham reported on the authority of his father from Umm Salama (Allah be pleased with her) that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) married Umm Salama, he stayed with her for three nights, and said: There is no lack of estimation on the part of your husband for you. If you wish I can stay with you for a week, but in case I stay with you for a week, then I shall have to stay for a week with all my wives.
محمد بن ابوبکر نے عبدالملک بن ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے ہاں تین دن قیام کیا اور فرمایا : " اپنے اہل ( شوہر ) کے نزدیک تمہاری قدر و منزلت میں کسی طرح کی کمی نہیں ، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس ( قیام کے لیے ) سات دن رکھ لیتا ہوں اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا
3621
Sahih
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ، قَالَ لَهَا: «لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ، ثُمَّ دُرْتُ»، قَالَتْ: ثَلِّثْ
Ibn Abu Bakr b. Abd al-Rahman reported that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) married Umm Salama and she stayed with him (during the night), and it was dawn, he (the Holy Prophet) said to her: There is no lack of estimation for you on the part of your husband. So if you desire I can spend a week with you, and if you like I may spend three (nights). and then I will visit you in turn. She said: Spend three (nights).
عبداللہ بن ابوبکر نے عبدالملک بن ابوبکر سے ، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہائش پذیر ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : " اپنے شوہر کے سامنے تمہارے مرتبے میں کوئی کمی نہیں ، اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن قیام کروں گا ، اور اگر تم چاہو تو تین دن قیام کروں گا پھر ( باری باری ) سب کے ہاں جانا شروع کروں گا ۔ " ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : آپ تین دن قیام فرمائیں
3622
Sahih
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَخَذَتْ بِثَوْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ شِئْتِ زِدْتُكِ، وَحَاسَبْتُكِ بِهِ، لِلْبِكْرِ سَبْعٌ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ
Abu Bakr b. 'Abd al-Rahman reported that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) married Umm Salama and he visited her, and when he intended to come out, she caught hold of his cloth. whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If you so desire, I can extend the time (of my stay) with you, but then I shall have to calculate the time (that I stay with you and shall have to spend the same time with other wives). For the virgin woman, (her husband has to stay with her) for a week, and for the woman previously married it is three days.
سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالرحمٰن بن حُمَید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالملک بن ابوبکر سے ، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ ان کے پاس گئے ، اس کے بعد آپ نے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے آپ کے کپڑے کو پکڑ لیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو میں مزید تمہارے ہاں قیام کروں گا اور تمہارے ساتھ اس کا حساب رکھوں گا ، کنواری کے لیے سات راتیں ہیں اور ثیبہ ( دوہاجو ) کے لیے تین راتیں ہیں
3623
Sahih
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Humaid.
ابوضمرہ نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
3624
Sahih
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ هَذَا فِيهِ، قَالَ: «إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ، وَأُسَبِّعَ لِنِسَائِي، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِي
Umm Salama (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) married her, and he (the narrator) made mention of so many things in this connection (and one of them was this) that he said: If you desire that I spend a week with you, I shall have to spend a week with my (other) wives, and if spend a week with you, I shall have to spend a week with my (other) wives.
عبدالواحد بن ایمن نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں ( عبدالواحد ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) سے شادی کی ، اور بہت سی باتوں کا ذکر کیا ، ان میں یہ بات بھی تھی : آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو کہ میں تمہارے ہاں سات سات دن قیام کروں ( تو ہو سکتا ہے ) اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا
3625
Sahih
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ، أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا»، قَالَ خَالِدٌ: وَلَوْ قُلْتُ إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: السُّنَّةُ كَذَلِكَ
Anas b. Malik reported: When anyone who has already a wife marries virgin, he should stay with her for seven nights (and then turn to his other wife), but when anyone having a virgin with him (as his wife) marries a woman who has been previously married he should stay with her for three nights. Khalid (one of the narrators) said. If I were to say that it could be directly traced to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). I would have told the truth, but he (Hadrat Anas) said: Such is the tradition.
ہشیم نے ہمیں خالد سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب کوئی دوہاجو جو ( ثیبہ ) کے بعد باکرہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات دن قیام کرے اور جب باکرہ کے بعد کسی ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین دن قیام کرے ۔ خالد نے کہا : اگر میں کہوں کہ انہوں نے اسے مرفوعا بیان کیا ہے ، تو میں سچ کہوں گا لیکن انہوں نے کہا تھا : سنت اسی طرح ہے ۔ ( یہ حدیث کو مرفوع کرنے کے مترادف ہے
3626
Sahih
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا» قَالَ خَالِدٌ: وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Abu Qilaba reported on the authority of Anas: It is the Sunnah to stay with a virgin (after having married her) for a week. Khalid (one of the narrators) said: If wish I can say that it can be traced up to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
سفیان نے ایوب اور خالد حذاء سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : سنت میں سے ہے کہ ( دلہا ) باکرہ کے ہاں سات راتیں قیام کرے ۔ خالد نے کہا : اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں : انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کیا ہے
3627
Sahih

Chapters

20
01
Chapter: Breastfeeding Makes Unlawful What Birth Makes Unlawful.
رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں
3 Hadith
02
Chapter: The prohibition that results from breastfeeding is related to the issue of the male
مرد کے نطفے کی وجہ سے حرمت
10 Hadith
03
Chapter: The daughter of one's brother through breastfeeding is forbidden in marriage
رضاعی بھائی کی بیٹی (سے نکاح کرنا)حرام ہے
5 Hadith
04
Chapter: The prohibition of marriage to one's stepdaughter and the sister of one's wife
ربیبہ (بیوی کے سابقہ شوہر کی بیٹی )اور بیوی کی بہن سے نکاح کرنا حرام ہے
4 Hadith
05
Chapter: One or Two sucks
دودھ کی ایک یا دو چسکیاں
7 Hadith
06
Chapter: Becoming Mahram is established by Five Breastfeedings
پانچ دفعہ دودھ پلانے سے حرمت واقع ہو جاتی ہے
3 Hadith
07
Chapter: Breastfeeding an adult
بڑے کی رضاعت
6 Hadith
08
Chapter: Breastfeeding is because of Hunger (meaning, during infancy)
رضاعت بھوک ہی سے (معتبر )ہے
2 Hadith
09
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
5 Hadith
10
Chapter: The child is for the bed and suspicion must be avoided
بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنا (ضروری ہے )
4 Hadith
11
Chapter: Detecting relationships from physical features
قیافہ شناس بچے کو کسی کی طرف منسوب کرے تو اس (کی بات )پر عمل کرنا
4 Hadith
12
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
7 Hadith
13
Chapter: Dividing one's time among co-wives; The Sunnah is for each one to have one night and one day
بیویوں کے درمیان (باریوں کی )تقسیم ‘سنت یہ ہے کہ ہر بیوی کے لیے دن سمیت ایک رات ہو
1 Hadith
14
Chapter: It is permissible for a wife to give her turn to a co-wife
اپنی باری اپنی سوکن کو ہبہ کرنا جائز ہے
6 Hadith
15
Chapter: It is recommended to marry one who is religiously committed
دیندار عورت سے نکاح کرنا پسندیدہ ہے
2 Hadith
16
Chapter: It is recommended to marry virgins
کنواری سے نکاح کرنا پسندیدہ ہے
6 Hadith
17
Chapter: Advice with regard to women
عور توں کے بار ے میں نصیحت
4 Hadith
18
Chapter: Were it not for Hawa', no female would ever betray her husband
اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے کبھی حیانت نہ کرتی
2 Hadith
19
Chapter: The best temporary joy of this world is a righteous woman
دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے
2 Hadith
20
Chapter: Advice with regard to women
عورتوں کے بارے میں تلقین
1 Hadith
No chapter matched that.